اِشتراکِیت
قوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلومبے سُود نہیں رُوس کی یہ گرمیِ رفتاراندیشہ ہُوا شوخیِ افکار پہ مجبورفرسُودہ طریقوں سے زمانہ ہُوا بیزارانساں کی ہوَس نے جنھیں رکھّا تھا چھُپا کرکھُلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اَسرارقُرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماںاللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردارجو حرفِ ’قُلِ العَفو‘ میں پوشیدہ ہے اب تکاس دَور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!
کارل مارکس کی آواز
یہ علم و حکمت کی مُہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائشنہیں ہے دُنیا کو اب گوارا پُرانے افکار کی نمائشتری کتابوں میں اے حکیمِ معاش رکھّا ہی کیا ہے آخرخطوطِ خم دار کی نمائش، مریز و کج دار کی نمائشجہانِ مغرب کے بُت کدوں میں، کلیسیاؤں میں، مَدرسوں میںہَوس کی خُون ریزیاں چھُپاتی ہے عقلِ عیّار کی نمائش
اِنقلاب
نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و سازِ حیاتخودی کی موت ہے یہ، اور وہ ضمیر کی موتدِلوں میں ولولۂ انقلاب ہے پیداقریب آگئی شاید جہانِ پِیر کی موت!
خوشامد
مَیں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکناربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی رازکر تُو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامددستور نیا، اور نئے دَور کا آغازمعلوم نہیں، ہے یہ خوشامد کہ حقیقتکہہ دے کوئی اُلّو کو اگر ’رات کا شہباز‘!
مناصب
ہُوا ہے بندۂ مومن فسونیِ افرنگاسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نم ناکترے بلند مناصب کی خیر ہو یا ربکہ ان کے واسطے تُو نے کِیا خودی کو ہلاکمگر یہ بات چھُپائے سے چھُپ نہیں سکتیسمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعتِ چالاکشریکِ حُکم غلاموں کو کر نہیں سکتےخریدتے ہیں فقط اُن کا جوہرِ ادراک!
یورپ اور یہود
یہ عیشِ فراواں، یہ حکومت، یہ تجارتدل سِینۂ بے نُور میں محرومِ تسلّیتاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھُویں سےیہ وادیِ اَیمن نہیں شایانِ تجلّیہے نَزع کی حالت میں یہ تہذیبِ جواں مرگشاید ہوں کلیسا کے یہودی متولّی!
نفسیاتِ غلامی
شاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھیخالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہمقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایکہر ایک ہے گو شرحِ معانی میں یگانہبہتر ہے کہ شیروں کو سِکھا دیں رمِ آہُوباقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ،کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامندتاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
بلشویک رُوس
روِش قضائے الہیٰ کی ہے عجیب و غریبخبر نہیں کہ ضمیرِ جہاں میں ہے کیا باتہُوئے ہیں کسرِ چلیپا کے واسطے ماموروہی کہ حفظِ چلیپا کو جانتے تھے نجاتیہ وَحی دہریتِ رُوس پر ہوئی نازلکہ توڑ ڈال کلیسائیوں کے لات و منات!
آج اور کل
وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتاجو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہےوہ قوم نہیں لائقِ ہنگامۂ فرداجس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے!
مشرق
مری نوا سے گریبانِ لالہ چاک ہُوانسیمِ صُبح، چمن کی تلاش میں ہے ابھینہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نُمود اس کیکہ رُوحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھیمری خودی بھی سزا کی ہے مستحق لیکنزمانہ دارو رسَن کی تلاش میں ہے ابھی
سیاستِ افرنگ
تری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگمگر ہیں اس کے پُجاری فقط امیر و رئیسبنایا ایک ہی اِبلیس آگ سے تُو نےبنائے خاک سے اُس نے دو صد ہزار ابلیس!
خواجگی
دَورِ حاضر ہے حقیقت میں وہی عہدِ قدیماہلِ سّجادہ ہیں یا اہلِ سیاست ہیں اماماس میں پِیری کی کرامت ہے نہ مِیری کا ہے زورسینکڑوں صدیوں سے خُوگر ہیں غلامی کے عوامخواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقیپُختہ ہو جاتے ہیں جب خُوئے غلامی میں غلام!
غلاموں کے لیے
حِکمتِ مشرق و مغرب نے سِکھایا ہے مجھےایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیردین ہو، فلسفہ ہو، فَقر ہو، سُلطانی ہوہوتے ہیں پُختہ عقائد کی بِنا پر تعمیرحرف اُس قوم کا بے سوز، عمل زار و زُبوںہو گیا پُختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!
اہلِ مِصر سے
خود ابوالہول نے یہ نکتہ سِکھایا مجھ کووہ ابوالہول کہ ہے صاحبِ اَسرارِ قدیمدفعتہً جس سے بدل جاتی ہے تقدیرِ اُممہے وہ قوّت کہ حریف اس کی نہیں عقلِ حکیمہر زمانے میں دِگر گُوں ہے طبیعت اس کیکبھی شمشیرِ محمدؐ ہے، کبھی چوبِ کِلیمؑ!
ابی سِینیا
(۱۸ اگست ۱۹۳۵ء)
یورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبرہے کتنی زہر ناک ابی سِینیا کی لاش
ہونے کو ہے یہ مُردۂ دیرینہ قاش قاش!
تہذیب کا کمال شرافت کا ہے زوالغارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش
ہر گُرگ کو ہے برّۂ معصوم کی تلاش!
اے وائے آبُروئے کلیسا کا آئِنہروما نے کر دیا سرِ بازار پاش پاش
پیرِ کلیسیا! یہ حقیقت ہے دلخراش!
اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام
لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میںزُناّریوں کو دَیرِ کُہن سے نکال دووہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرارُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دوفکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیّلاتاسلام کو حِجاز و یمن سے نکال دوافغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاجمُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دواہلِ حرم سے اُن کی روایات چھِین لوآہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دواقبالؔ کے نفَس سے ہے لالے کی آگ تیزایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو!
جمعیتِ اقوام مشرق
پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائےدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائےطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینواشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!
سُلطانیِ جاوید
غوّاص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھیلیکن مجھے اعماقِ سیاست سے ہے پرہیزفطرت کو گوارا نہیں سُلطانیِ جاویدہر چند کہ یہ شُعبدہ بازی ہے دل آویزفرہاد کی خارا شکنی زندہ ہے اب تکباقی نہیں دنیا میں مُلوکِیّتِ پرویز!
جمہُوریت
اس راز کو اک مردِ فرنگی نے کِیا فاشہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتےجمہُوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میںبُندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!
یورپ اور سُوریا
فرنگیوں کو عطا خاکِ سُوریا نے کِیانبّیِ عِفّت و غم خواری و کم آزاریصِلہ فرنگ سے آیا ہے سُوریا کے لیےمَے و قِمار و ہجومِ زنانِ بازاری!
مسولینی
(اپنے مشرقی اور مغربی حریفوں سے)
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاجمَیں پھٹکتا ہُوں تو چھَلنی کو بُرا لگتا ہے کیوںہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھَلنی، مَیں چھاجمیرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تمتم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟یہ عجائب شعبدے کس کی مُلوکیّت کے ہیںراجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راجآلِ سِیزر چوبِ نَے کی آبیاری میں رہےاور تم دُنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج!تم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیامتم نے لُوٹی کِشتِ دہقاں، تم نے لُوٹے تخت و تاجپردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشیکل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!
گِلہ
معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تکبیچارہ کسی تاج کا تابِندہ نگیں ہےدہقاں ہے کسی قبر کا اُگلا ہوا مُردہبوسیدہ کفن جس کا ابھی زیرِ زمیں ہےجاں بھی گِرَوِ غیر، بدن بھی گِرَوِ غیرافسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہےیورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُومجھ کو تو گِلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!
اِنتداب
کہاں فرشتۂ تہذیب کی ضرورت ہےنہیں زمانۂ حاضر کو اس میں دُشواریجہاں قِمار نہیں، زن تُنک لباس نہیںجہاں حرام بتاتے ہیں شغلِ مے خواریبدن میں گرچہ ہے اک رُوحِ ناشکیب و عمیقطریقۂ اَب و جد سے نہیں ہے بیزاریجَسوُر و زیرک و پُردم ہے بچّۂ بدوینہیں ہے فیضِ مکاتب کا چشمۂ جارینظروَرانِ فرنگی کا ہے یہی فتویٰوہ سرزمیں مَدنیّت سے ہے ابھی عاری!
لادِین سیاست
جو بات حق ہو، وہ مجھ سے چھُپی نہیں رہتیخدا نے مجھ کو دیا ہے دلِ خبیر و بصیرمری نگاہ میں ہے یہ سیاستِ لا دِیںکنیزِ اہرمن و دُوں نہاد و مُردہ ضمیرہوئی ہے ترکِ کلیسا سے حاکمی آزادفرنگیوں کی سیاست ہے دیوِ بے زنجیرمتاعِ غیر پہ ہوتی ہے جب نظر اس کیتو ہیں ہراولِ لشکر کلِیسیا کے سفیر!
دامِ تہذیب
اقبالؔ کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہےہر ملّتِ مظلوم کا یورپ ہے خریداریہ پِیرِ کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نےبجلی کے چراغوں سے منوّر کیے افکارجلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دلتدبیر سے کھُلتا نہیں یہ عُقدۂ دشوارتُرکانِ ’جفا پیشہ‘ کے پنجے سے نکل کربیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار!
نصیحت
اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسَر سےمنظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیربیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلمبَرّے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیرسِینے میں رہے رازِ ملُوکانہ تو بہترکرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیرتعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کوہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیرتاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزابسونے کا ہمالہ ہو تو مٹّی کا ہے اک ڈھیر!
ایک بحری قزاّق اور سکندر
سکندرصلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میریکہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی!
قزّاقسکندر! حیف، تُو اس کو جواں مردی سمجھتا ہےگوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رُسوائی؟ترا پیشہ ہے سفّاکی، مرا پیشہ ہے سفّاکیکہ ہم قزاّق ہیں دونوں، تو مَیدانی، میں دریائی!
جمعِیّتِ اقوام
بیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہےڈر ہے خَبرِ بد نہ مرے مُنہ سے نکل جائےتقدیر تو مبُرم نظر آتی ہے ولیکنپِیرانِ کلیسا کی دُعا یہ ہے کہ ٹل جائےممکن ہے کہ یہ داشتۂ پِیرکِ افرنگاِبلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے!
شام و فلسطین
رِندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامتپُر ہے مئے گُلرنگ سے ہر شیشہ حلَب کاہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حقہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عَرب کامقصد ہے مُلوکیّتِ انگلِیس کا کچھ اورقصّہ نہیں نارنج کا یا شہد و رُطَب کا
سیاسی پیشوا
اُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سےیہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوندہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان کیجہاں میں ہے صفَتِ عنکبوت ان کی کمندخوشا وہ قافلہ، جس کے امیر کی ہے متاعتخیّلِ ملکوتی و جذبہ ہائے بلند!
نفسیاتِ غلامی
سخت باریک ہیں اَمراضِ اُمَم کے اسبابکھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہیدینِ شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخدیکھتے ہیں فقط اک فلسفۂ رُوباہیہو اگر قُوّتِ فرعون کی در پردہ مُریدقوم کے حق میں ہے لعنت وہ کِلیم اللّٰہی!
غلاموں کی نماز
(تُرکی وفدِ ہلالِ احمر لاہور میں)
کہا مجاہدِ تُرکی نے مجھ سے بعدِ نمازطویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے اماموہ سادہ مردِ مجاہد، وہ مومنِ آزادخبر نہ تھی اُسے کیا چیز ہے نمازِ غلامہزار کام ہیں مردانِ حُر کو دُنیا میںانھی کے ذوقِ عمل سے ہیں اُمتّوں کے نظامبدن غلام کا سوزِ عمل سے ہے محرومکہ ہے مروُر غلاموں کے روز و شب پہ حرامطویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجبّ ہےورائے سجدہ غریبوں کو اَور کیا ہے کامخدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کووہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!
فلسطِینی عرب سے
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغمیں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہےتری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میںفرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہےسُنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوّں کی نجاتخودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!
مشرق و مغرب
یہاں مَرض کا سبب ہے غلامی و تقلیدوہاں مَرض کا سبب ہے نظامِ جمہُورینہ مشرق اس سے بَری ہے، نہ مغرب اس سے بَریجہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رَنجوری
نفسیاتِ حاکمی
(اِصلاحات)
یہ مِہر ہے بے مہریِ صّیاد کا پردہآئی نہ مرے کام مری تازہ صفیریرکھنے لگا مُرجھائے ہوئے پھُول قفَس میںشاید کہ اسیروں کو گوارا ہو اسیری!