ضربِ کلیم · علامہ محمد اقبال

Chapter 5: ادبیات، فنونِ لطیفہ

دِین وہُنر

سرود و شعر و سیاست، کتاب و دِین و ہُنرگُہر ہیں ان کی گِرہ میں تمام یک دانہضمیرِ بندۂ خاکی سے ہے نمود ان کیبلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہاگر خودی کی حفاظت کریں تو عینِ حیاتنہ کر سکیں تو سراپا فسُون و افسانہہُوئی ہے زیرِ فلک اُمتوں کی رُسوائیخودی سے جب اَدب و دِیں ہُوئے ہیں بیگانہ

تخلیق

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمودکہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیداخودی میں ڈُوبنے والوں کے عزم و ہمّت نےاس آبُجو سے کیے بحرِ بے کراں پیداوہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہےجو ہر نفَس سے کرے عُمرِ جاوداں پیداخودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میںہُوا نہ کوئی خُدائی کا رازداں پیداہوائے دشت سے بُوئے رفاقت آتی ہےعجب نہیں ہے کہ ہوں میرے ہم عناں پیدا

جُنوں

زُجاج گر کی دُکاں شاعری و مُلّائیسِتم ہے، خوار پھرے دشت و در میں دیوانہ!کسے خبر کہ جُنوں میں کمال اور بھی ہیںکریں اگر اسے کوہ و کمر سے بیگانہہجومِ مدرسہ بھی سازگار ہے اس کوکہ اس کے واسطے لازم نہیں ہے ویرانہ

اپنے شعر سے

ہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کاتُو ہُوا فاش تو ہیں اب مرے اَسرار بھی فاششُعلے سے ٹُوٹ کے مثلِ شرَر آوارہ نہ رہکر کسی سِینۂ پُر سوز میں خلوَت کی تلاش!

پیرس کی مسجد

مری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھےکہ حق سے یہ حرَمِ مغربی ہے بیگانہحرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نےتنِ حرم میں چھُپا دی ہے رُوحِ بُت خانہیہ بُت کدہ اُنھی غارت گروں کی ہے تعمیردمشق ہاتھ سے جن کے ہُوا ہے ویرانہ

ادبیات

عشق اب پیرویِ عقلِ خدا داد کرےآبُرو کوچۂ جاناں میں نہ برباد کرےکہُنہ پیکر میں نئی رُوح کو آباد کرےیا کُہن رُوح کو تقلید سے آزاد کرے

نگاہ

بہار و قافلۂ لالہ ہائے صحرائیشباب و مستی و ذوق و سُرور و رعنائی!اندھیری رات میں یہ چشمکیں ستاروں کییہ بحر، یہ فَلکِ نیلگوں کی پہنائی!سفر عروسِ قمر کا عماریِ شب میںطلوعِ مِہر و سکُوتِ سپہرِ مینائی!نِگاہ ہو تو بہائے نظارہ کچھ بھی نہیںکہ بیچتی نہیں فطرت جمال و زیبائی

مسجدِ قُوّت الاسلام

ہے مرے سِینۂ بے نُور میں اب کیا باقی’لااِلہ‘ مُردہ و افسُردہ و بے ذوقِ نمودچشمِ فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کوکہ ایازی سے دِگرگُوں ہے مقامِ محمودؔکیوں مسلماں نہ خِجل ہو تری سنگینی سےکہ غلامی سے ہُوا مثلِ زُجاج اس کا وجودہے تری شان کے شایاں اُسی مومن کی نمازجس کی تکبیر میں ہو معرکۂ بود و نبوداب کہاں میرے نفَس میں وہ حرارت، وہ گدازبے تب و تابِ درُوں میری صلوٰۃ اور درُودہے مِری بانگِ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہکیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟

تِیاتَر

تری خودی سے ہے روشن ترا حریمِ وجودحیات کیا ہے، اُسی کا سُرور و سوز و ثباتبلند تر مہ و پرویں سے ہے اُسی کا مقاماُسی کے نُور سے پیدا ہیں تیرے ذات و صفاتحریم تیرا، خودی غیر کی! معاذاللہدوبارہ زندہ نہ کر کاروبارِ لات و مناتیہی کمال ہے تمثیل کا کہ تُو نہ رہےرہا نہ توُ تو نہ سوزِ خودی، نہ سازِ حیات

شُعاعِ اُمِّید

سُورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغامدُنیا ہے عجب چیز، کبھی صبح کبھی شاممُدّت سے تم آوارہ ہو پہنائے فضا میںبڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریِ ایّامنے ریت کے ذرّوں پہ چمکنے میں ہے راحتنے مثلِ صبا طوفِ گل و لالہ میں آرامپھر میرے تجلّی کدۂ دل میں سما جاؤچھوڑو چمَنِستان و بیابان و در و بام

آفاق کے ہر گوشے سے اُٹھتی ہیں شعاعیںبچھڑے ہُوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوشاک شور ہے، مغرب میں اُجالا نہیں ممکنافرنگ مشینوں کے دھُویں سے ہے سیَہ پوشمشرق نہیں گو لذّتِ نظّارہ سے محروملیکن صفَتِ عالمِ لاہُوت ہے خاموشپھر ہم کو اُسی سینۂ روشن میں چھُپا لےاے مہرِ جہاں تاب! نہ کر ہم کو فراموش

اک شوخ کرن، شوخ مثالِ نگہِ حُورآرام سے فارغ، صفَتِ جوہرِ سیماببولی کہ مجھے رُخصتِ تنویر عطا ہوجب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرّہ جہاں تابچھوڑوں گی نہ مَیں ہِند کی تاریک فضا کوجب تک نہ اُٹھیں خواب سے مردانِ گراں خوابخاور کی اُمیدوں کا یہی خاک ہے مرکزاقبالؔ کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیرابچشمِ مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشنیہ خاک کہ ہے جس کا خزَف ریزہ دُرِناباس خاک سے اُٹھّے ہیں وہ غوّاصِ معانیجن کے لیے ہر بحرِ پُر آشوب ہے پایابجس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دِلوں میںمحفل کا وہی ساز ہے بیگانۂ مضراببُت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برَہمنتقدیر کو روتا ہے مسلماں تہِ محرابمشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کرفِطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحَر کر!

اُمِّید

مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہُوںاگرچہ مَیں نہ سپاہی ہُوں نے امیرِ جنُودمجھے خبر نہیں یہ شاعری ہے یا کچھ اورعطا ہُوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرودجبینِ بندۂ حق میں نمود ہے جس کیاُسی جلال سے لبریز ہے ضمیرِ وجودیہ کافری تو نہیں، کافری سے کم بھی نہیںکہ مردِ حق ہو گرفتارِ حاضر و موجودغمیں نہ ہو کہ بہت دَور ہیں ابھی باقینئے ستاروں سے خالی نہیں سِپہرِ کبود

نگاہِ شوق

یہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپناکہ ذرّے ذرّے میں ہے ذوقِ آشکارائیکچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاںنگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائیاسی نگاہ سے محکُوم قوم کے فرزندہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائیاسی نگاہ میں ہے قاہری و جبّاریاسی نگاہ میں ہے دِلبری و رعنائیاسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جُنوں میراسِکھا رہا ہے رہ و رسمِ دشت پیمائینگاہِ شوق میَسّر نہیں اگر تجھ کوترا وجود ہے قلب و نظر کی رُسوائی

اہلِ ہُنر سے

مہر و مہ و مشتری، چند نفس کا فروغعشق سے ہے پائدار تیری خودی کا وجودتیرے حرم کا ضمیر اسود و احمر سے پاکننگ ہے تیرے لیے سُرخ و سپید و کبودتیری خودی کا غیاب معرکۂ ذکر و فکرتیری خودی کا حضور عالمِ شعر و سرودرُوح اگر ہے تری رنجِ غلامی سے زارتیرے ہُنَر کا جہاں دَیر و طواف و سجوداور اگر باخبَر اپنی شرافت سے ہوتیری سِپہ اِنس و جِنّ، تُو ہے امیرِ جُنود!

غزل

دریا میں موتی، اے موجِ بے باکساحل کی سوغات! خاروخس و خاکمیرے شرر میں بجلی کے جوہرلیکن نَیستاں تیرا ہے نم ناکتیرا زمانہ، تاثیر تیریناداں! نہیں یہ تاثیرِ افلاکایسا جُنوں بھی دیکھا ہے میں نےجس نے سِیے ہیں تقدیر کے چاککامِل وہی ہے رِندی کے فن میںمستی ہے جس کی بے منّتِ تاکرکھتا ہے اب تک مَیخانۂ شرقوہ مے کہ جس سے روشن ہو ادراکاہلِ نظر ہیں یورپ سے نومیدان اُمّتوں کے باطن نہیں پاک

وُجود

اے کہ ہے زیرِ فلک مثلِ شرر تیری نمودکون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقاماتِ وجود!گر ہُنَر میں نہیں تعمیرِ خودی کا جوہروائے صُورت گری و شاعری و ناے و سرود!مکتب و مے کدہ جُز درسِ نبودن ندہندبودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود

سرود

آیا کہاں سے نالۂ نَے میں سرورِ مےاصل اس کی نَے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَےدل کیا ہے، اس کی مستی و قُوّت کہاں سے ہےکیوں اس کی اک نگاہ اُلٹتی ہے تختِ کےکیوں اس کی زندگی سے ہے اقوام میں حیاتکیوں اس کے واردات بدلتے ہیں پے بہ پےکیا بات ہے کہ صاحبِ دل کی نگاہ میںجچتی نہیں ہے سلطنتِ روم و شام و رےجس روز دل کی رمز مُغنّی سمجھ گیاسمجھو تمام مرحلہ ہائے ہُنر ہیں طے

نسیم و شبنم

نسیمانجم کی فضا تک نہ ہُوئی میری رسائیکرتی رہی مَیں پیرہنِ لالہ و گُل چاکمجبور ہوئی جاتی ہوں مَیں ترکِ وطن پربے ذوق ہیں بُلبل کی نوا ہائے طرب ناکدونوں سے کِیا ہے تجھے تقدیر نے محرمخاکِ چمن اچھّی کہ سرا پردۂ افلاک!

شبنمکھینچیں نہ اگر تجھ کو چمن کے خس و خاشاکگُلشن بھی ہے اک سِرِّ سرا پردۂ افلاک

اَہرامِ مصر

اس دشتِ جگر تاب کی خاموش فضا میںفطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیراَہرام کی عظمت سے نگُوں سار ہیں افلاککس ہاتھ نے کھینچی اَبدِیّت کی یہ تصویر!فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہُنَر کوصیّاد ہیں مردانِ ہُنر مند کہ نخچیر!

مخلوقاتِ ہُنر

ہے یہ فِردوسِ نظر اہلِ ہُنَر کی تعمیرفاش ہے چشمِ تماشا پہ نہاں خانۂ ذاتنہ خودی ہے، نہ جہانِ سحَر و شام کے دورزندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجاتآہ، وہ کافرِ بیچارہ کہ ہیں اُس کے صنَمعصرِ رفتہ کے وہی ٹُوٹے ہوئے لات و منات!تُو ہے مَیّت، یہ ہُنَر تیرے جنازے کا امامنظر آئی جسے مرقد کے شبستاں میں حیات!

اقبالؔ

فِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔمشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آشحلّاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخراک مرد قلندر نے کِیا رازِ خودی فاش!

فنونِ لطیفہ

اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکنجو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیامقصودِ ہُنَر سوزِ حیاتِ ابدی ہےیہ ایک نفَس یا دو نفَس مثلِ شرَر کیاجس سے دلِ دریا مُتَلاطم نہیں ہوتااے قطرۂ نَیساں وہ صدَف کیا، وہ گُہر کیاشاعر کی نَوا ہو کہ مُغَنّی کا نفَس ہوجس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحَر کیابے معجزہ دُنیا میں اُبھرتی نہیں قومیںجو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہُنر کیا!

صُبحِ چمن

پھُولشاید تو سمجھتی تھی وطن دُور ہے میرااے قاصدِ افلاک! نہیں، دُور نہیں ہے

شبنمہوتا ہے مگر محنت پرواز سے روشنیہ نکتہ کہ گردُوں سے زمیں دُور نہیں ہے

صُبحمانندِ سحَر صحنِ گُلستاں میں قدم رکھآئے تہِ پا گوہرِ شبنم تو نہ ٹُوٹےہو کوہ و بیاباں سے ہم آغوش، و لیکنہاتھوں سے ترے دامنِ افلاک نہ چھُوٹے!

خاقانیؔ

وہ صاحبِ ’تُحفۃالعراقَین،اربابِ نظر کا قُرّۃالعَینہے پردہ شگاف اُس کا اِدراکپردے ہیں تمام چاک در چاکخاموش ہے عالَمِ معانیکہتا نہیں حرفِ ’لن ترانی‘!پُوچھ اس سے یہ خاک داں ہے کیا چیزہنگامۂ این و آں ہے کیا چیزوہ محرمِ عالَمِ مکافاتاک بات میں کہہ گیا ہے سَو بات“خود بوے چنیں جہاں تواں برُدکابلیس بماند و بوالبشر مُرد!”

رومی

غلَط نِگر ہے تری چشمِ نیم باز اب تکترا وجُود ترے واسطے ہے راز اب تکترا نیاز نہیں آشنائے ناز اب تککہ ہے قیام سے خالی تری نماز اب تکگُسَستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تککہ تُو ہے نغمۂ رومیؔ سے بے نیاز اب تک!

جِدّت

دیکھے تُو زمانے کو اگر اپنی نظر سےاَفلاک منوّر ہوں ترے نورِ سحَر سےخورشید کرے کسبِ ضیا تیرے شرر سےظاہر تری تقدیر ہو سِیمائے قمر سےدریا مُتَلاطم ہوں تِری موجِ گُہر سےشرمندہ ہو فطرت ترے اعجازِ ہُنَر سےاغیار کے افکار و تخیّل کی گدائی!کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟

مِرزا بیدلؔ

ہے حقیقت یا مری چشمِ غلَط بیں کا فسادیہ زمیں، یہ دشت، یہ کُہسار، یہ چرخِ کبودکوئی کہتا ہے نہیں ہے، کوئی کہتاہے کہ ہےکیا خبر، ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود!میرزا بیدلؔ نے کس خوبی سے کھولی یہ گرہاہلِ حکمت پر بہت مشکل رہی جس کی کشود!“دل اگر میداشت وسعت بے نشاں بود ایں چمنرنگ مے بیروں نشست از بسکہ مینا تنگ بود”

جلال و جمال

مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافیترے نصیب فلاطُوں کی تیزیِ ادراکمری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائیکہ سر بسجدہ ہیں قُوّت کے سامنے افلاکنہ ہو جلال تو حُسن و جمال بے تاثیرنرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناکمجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگکہ جس کا شُعلہ نہ ہو تُند و سرکش و بے باک!

مُصّور

کس درجہ یہاں عام ہُوئی مرگِ تخیّلہِندی بھی فرنگی کا مقلّد، عجمی بھی!مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دَور کے بہزادکھو بیٹھے ہیں مشرق کا سُرورِ اَزلی بھیمعلوم ہیں اے مردِ ہُنَر تیرے کمالاتصنعت تجھے آتی ہے پُرانی بھی، نئی بھیفطرت کو دِکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تُو نےآئینۂ فطرت میں دِکھا اپنی خودی بھی!

سرودِ حلال

کھُل تو جاتا ہے مُغَنّی کے بم و زیر سے دلنہ رہا زندہ و پائندہ تو کیا دل کی کشود!ہے ابھی سینۂ افلاک میں پنہاں وہ نَواجس کی گرمی سے پِگھل جائے ستاروں کا وجودجس کی تاثیر سے آدم ہو غم و خوف سے پاکاور پیدا ہو ایازی سے مقامِ محمودؔمہ و انجم کا یہ حیرت کدہ باقی نہ رہےتُو رہے اور تِرا زمزمۂ لا موجودجس کو مشروع سمجھتے ہیں فقیہانِ خودیمنتظر ہے کسی مُطرب کا ابھی تک وہ سرود!

سرودِ حرام

نہ میرے ذکر میں ہے صُوفیوں کا سوز و سُرورنہ میرا فکر ہے پیمانۂ ثواب و عذابخدا کرے کہ اُسے اتفاق ہو مجھ سےفقیہِ شہر کہ ہے محرمِ حدیث و کتاباگر نَوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغامحرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و رباب!

فوّارہ

یہ آبجوُ کی روانی، یہ ہمکناریِ خاکمری نگاہ میں ناخُوب ہے یہ نظّارہاُدھر نہ دیکھ، اِدھر دیکھ اے جوانِ عزیزبلند زورِ درُوں سے ہُوا ہے فوّارہ

شاعر

مشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَےشاعر! ترے سینے میں نفَس ہے کہ نہیں ہےتاثیرِ غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرماچھّی نہیں اُس قوم کے حق میں عجمی لَےشیشے کی صُراحی ہو کہ مٹّی کا سبُو ہوشمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری مَےایسی کوئی دُنیا نہیں افلاک کے نیچےبے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تختِ جم و کےہر لحظہ نیا طُور، نئی برقِ تجلّیاللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے!

شعرِ عجَم

ہے شعرِ عجَم گرچہ طرب ناک و دل آویزاس شعر سے ہوتی نہیں شمشیرِ خودی تیزافسُردہ اگر اس کی نَوا سے ہو گُلستاںبہتر ہے کہ خاموش رہے مُرغِ سحَر خیزوہ ضرب اگر کوہ شکن بھی ہو تو کیا ہےجس سے مُتزلزل نہ ہُوئی دولتِ پرویزاقبالؔ یہ ہے خارہ تراشی کا زمانہ’از ہر چہ بآئینہ نمایند بہ پرہیز‘

ہُنَرورانِ ہند

عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیّل ان کاان کے اندیشۂ تاریک میں قوموں کے مزارموت کی نقش گری ان کے صنَم خانوں میںزندگی سے ہُنَر ان برہَمنوں کا بیزارچشمِ آدم سے چھُپاتے ہیں مقاماتِ بلندکرتے ہیں رُوح کو خوابیدہ، بدن کو بیدارہند کے شاعِر و صُورت گر و افسانہ نویسآہ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!

مردِ بزرگ

اُس کی نفرت بھی عمیق، اُس کی محبّت بھی عمیققہر بھی اُس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیقپرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میںہے مگر اُس کی طبیعت کا تقاضا تخلیقانجمن میں بھی میَسّر رہی خلوَت اُس کوشمعِ محفل کی طرح سب سے جُدا، سب کا رفیقمثلِ خورشیدِ سحَر فکر کی تابانی میںبات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیقاُس کا اندازِ نظر اپنے زمانے سے جُدااُس کے احوال سے محرم نہیں پیرانِ طریق

عالَمِ نو

زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیرِ تقدیرخواب میں دیکھتا ہے عالَمِ نَو کی تصویراور جب بانگِ اذاں کرتی ہے بیدار اُسےکرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیربدن اس تازہ جہاں کا ہے اُسی کی کفِ خاکرُوح اس تازہ جہاں کی ہے اُسی کی تکبیر

ایجادِ معانی

ہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا دادکوشش سے کہاں مردِ ہُنَر مند ہے آزاد!خُونِ رگِ معمار کی گرمی سے ہے تعمیرمیخانۂ حافظؔ ہو کہ بُتخانۂ بہزادؔبے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتاروشن شرَرِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!

موسِیقی

وہ نغمہ سردیِ خُونِ غزل سرا کی دلیلکہ جس کو سُن کے ترا چہرہ تاب ناک نہیںنَوا کو کرتا ہے موجِ نفَس سے زہر آلُودوہ نَے نواز کہ جس کا ضمیر پاک نہیںپھِرا میں مشرق و مغرب کے لالہ زاروں میںکسی چمن میں گریبانِ لالہ چاک نہیں

ذوقِ نظر

خودی بلند تھی اُس خُوں گرفتہ چینی کیکہا غریب نے جلاّد سے دمِ تعزیرٹھہرَ ٹھہرَ کہ بہت دِل کشا ہے یہ منظرذرا میں دیکھ تو لوں تاب ناکیِ شمشیر!

شعر

مَیں شعر کے اَسرار سے محرم نہیں لیکنیہ نکتہ ہے، تاریخِ اُمَم جس کی ہے تفصیلوہ شعر کہ پیغامِ حیاتِ اَبدی ہےیا نغمۂ جبریل ہے یا بانگِ سرافیل!

رقص و موسیقی

شعر سے روشن ہے جانِ جبرئیل و اہرمنرقص و موسیقی سے ہے سوز و سُرورِ انجمنفاش یوں کرتا ہے اک چینی حکیم اسرارِ فنشعر گویا رُوحِ موسیقی ہے، رقص اس کا بدن!

ضبط

طریقِ اہلِ دُنیا ہے گِلہ شکوَہ زمانے کانہیں ہے زخم کھا کر آہ کرنا شانِ درویشییہ نکتہ پِیرِ دانا نے مجھے خلوَت میں سمجھایاکہ ہے ضبطِ فغاں شیری، فغاں رُوباہی و میشی!

رقص

چھوڑ یورپ کے لیے رقصِ بدن کے خم و پیچرُوح کے رقص میں ہے ضربِ کِلیم اللّٰہی!صِلہ اُس رقص کا ہے تشنگیِ کام و دہنصِلہ اِس رقص کا درویشی و شاہنشاہی!