ضربِ کلیم · علامہ محمد اقبال

Chapter 3: تعلیم و تربیت

مقصود

(سپنوِزا)نظر حیات پہ رکھتا ہے مردِ دانش مندحیات کیا ہے، حضور و سُرور و نُور و وجود

(فلاطُوں)نگاہ موت پہ رکھتا ہے مردِ دانش مندحیات ہے شبِ تاریک میں شرر کی نمود

حیات و موت نہیں التفات کے لائقفقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

زمانۂ حاضر کا انسان

’عشق ناپید و خرد میگزدش صُورتِ مار‘عقل کو تابعِ فرمانِ نظر کر نہ سکاڈھُونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کااپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکااپنی حِکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایساآج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکاجس نے سورج کی شُعاعوں کو گرفتار کیازندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا!

اقوامِ مشرق

نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کوآنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کورزندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکریہ فرنگی مَدنیّت کہ جو ہے خود لبِ گور!

آگاہی

نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناسنہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے آگاہخودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھاوہی ہے مملکتِ صبح و شام سے آگاہوہی نگاہ کے ناخُوب و خُوب سے محرموہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ

مُصلحینِ مشرق

میں ہُوں نومِید تیرے ساقیانِ سامری فن سےکہ بزمِ خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالینئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و دامن میںپرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی!

مغربی تہذیب

فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیبکہ رُوح اس مَدنِیّت کی رہ سکی نہ عفیفرہے نہ رُوح میں پاکیزگی تو ہے ناپیدضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف

اَسرارِ پیدا

اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتیہو جس کے جوانوں کی خودی صُورتِ فولادناچیز جہانِ مہ و پرویں ترے آگےوہ عالَم مجبور ہے، تُو عالَمِ آزادموجوں کی تپِش کیا ہے، فقط ذوقِ طلب ہےپنہاں جو صَدف میں ہے، وہ دولت ہے خدا دادشاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتاپُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد

سُلطان ٹِیپُو کی وصیّت

تُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبوللیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبولاے جُوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تُند و تیزساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبولکھویا نہ جا صَنم کدۂ کائنات میںمحفل گداز! گرمیِ محفل نہ کر قبولصُبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جِبرئیل نےجو عقل کا غلام ہو، وہ دِل نہ کر قبولباطل دُوئی پسند ہے، حق لا شریک ہےشِرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!

غزل

نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازیکہ خودی سے مَیں نے سِیکھی دوجہاں سے بے نیازیتو مری نظر میں کافر، میں تری نظر میں کافرترا دِیں نفَس شماری، مرا دِیں نفَس گدازیتو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعتکہ موافقِ تدَرواں نہیں دینِ شاہبازیترے دشت و در میں مجھ کو وہ جُنوں نظر نہ آیاکہ سِکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازینہ جُدا رہے نَوا گر تب و تابِ زندگی سےکہ ہلاکیِ اُمَم ہے یہ طریقِ نَے نوازی

بیداری

جس بندۂ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدارشمشیر کی مانند ہے بُرَّندہ و برّاقاُس کی نگہِ شوخ پہ ہوتی ہے نمودارہر ذرّے میں پوشیدہ ہے جو قُوّتِ اشراقاُس مردِ خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کوتُو بندۂ آفاق ہے، وہ صاحبِ آفاقتجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھیوہ پاکیِ فطرت سے ہوا محرمِ اعماق

خودی کی تربیت

خودی کی پرورش و تربیَت پہ ہے موقوفکہ مُشتِ خاک میں پیدا ہو آتشِ ہمہ سوزیہی ہے سِرِّ کلیمی ہر اک زمانے میںہَوائے دشت و شعیب و شبانیِ شب و روز!

آزادیِ فکر

آزادیِ افکار سے ہے اُن کی تباہیرکھتے نہیں جو فکر و تدبّر کا سلیقہہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکارانسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

خودی کی زندگی

خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہینہیں ہے سَنجر و طغرل سے کم شکوہِ فقیرخودی ہو زندہ تو دریائے بے کراں پایابخودی ہو زندہ تو کُہسار پرنیان و حریرنِہنگِ زندہ ہے اپنے مُحیط میں آزادنِہنگِ مُردہ کو موجِ سراب بھی زنجیر!

حکومت

ہے مُریدوں کو تو حق بات گوارا لیکنشیخ و مُلّا کو بُری لگتی ہے درویش کی باتقوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاعِ کرداربحث میں آتا ہے جب فلسفۂ ذات و صفاتگرچہ اس دَیرِ کُہن کا ہے یہ دستورِ قدیمکہ نہیں مے کدہ و ساقی و مِینا کو ثباتقسمتِ بادہ مگر حق ہے اُسی ملّت کاانگبیں جس کے جوانوں کو ہے تلخابِ حیات!

ہندی مکتب

اقبالؔ! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کاموزُوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالاتبہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سےپوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقاماتآزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سالکس درجہ گراں سَیر ہیں محکوم کے اوقات!آزاد کا ہر لحظہ پیامِ اَبدیّتمحکوم کا ہر لحظہ نئی مرگِ مفاجاتآزاد کا اندیشہ حقیقت سے منوّرمحکوم کا اندیشہ گرفتارِ خُرافاتمحکوم کو پِیروں کی کرامات کا سوداہے بندۂ آزاد خود اک زندہ کراماتمحکوم کے حق میں ہے یہی تربِیَت اچھیموسیقی و صُورت گری و علمِ نباتات!

تربیت

زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شےزندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغعلم میں دولت بھی ہے، قُدرت بھی ہے، لذّت بھی ہےایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سُراغاہلِ دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہلِ نظرکیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ!شیخِ مکتب کے طریقوں سے کشادِ دل کہاںکس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چراغ!

خُوب و زِشت

ستارگانِ فضاہائے نیلگوں کی طرحتخیّلات بھی ہیں تابعِ طلوع و غروبجہاں خودی کا بھی ہے صاحبِ فراز و نشیبیہاں بھی معرکہ آرا ہے خُوب سے ناخُوبنمود جس کی فرازِ خودی سے ہو، وہ جمیلجو ہو نشیب میں پیدا، قبیح و نامحبوب!

مرگِ خودی

خودی کی موت سے مغرب کا اندرُوں بے نورخودی کی موت سے مشرق ہے مُبتلائے جُذامخودی کی موت سے رُوحِ عرب ہے بے تب و تاببدن عراق و عَجم کا ہے بے عروق و عظامخودی کی موت سے ہِندی شکستہ بالوں پرقفَس ہُوا ہے حلال اور آشیانہ حرام!خودی کی موت سے پیرِ حرم ہُوا مجبورکہ بیچ کھائے مسلماں کا جامٔہ احرام!

مہمانِ عزیز

پرُ ہے افکار سے ان مَدرسے والوں کا ضمیرخُوب و ناخُوب کی اس دَور میں ہے کس کو تمیز!چاہیے خانۂ دل کی کوئی منزل خالیشاید آجائے کہیں سے کوئی مہمانِ عزیز

عصرِ حاضر

پُختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئیاس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خاممَدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگرچھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظاممُردہ، ’لا دینیِ افکار سے افرنگ میں عشقعقل بے ربطیِ افکار سے مشرق میں غلام!

طالبِ علم

خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دےکہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیںتجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُوکتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں!

امتحان

کہا پہاڑ کی ندّی نے سنگ ریزے سےفتادگی و سر افگندگی تری معراج!ترا یہ حال کہ پامال و درد مند ہے تُومری یہ شان کہ دریا بھی ہے مرا محتاججہاں میں تُو کسی دیوار سے نہ ٹکرایاکسے خبر کہ تُو ہے سنگِ خارہ یا کہ زُجاج!

مدرَسہ

عصرِ حاضر مَلک الموت ہے تیرا، جس نےقبض کی رُوح تری دے کے تجھے فکرِ معاشدل لَرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترازندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوقِ خراشاُس جُنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کِیاجو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراشفیضِ فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشاجس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفّاشمَدرسے نے تری آنکھوں سے چھُپایا جن کوخلوَتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

حکیم نطشہ

حریفِ نکتۂ توحید ہو سکا نہ حکیمنِگاہ چاہیے اسرارِ ’لا اِلہ‘ کے لیےخدنگِ سینۂ گردُوں ہے اُس کا فکرِ بلندکمند اُس کا تخّیل ہے مہرو مہ کے لیےاگرچہ پاک ہے طینت میں راہبی اُس کیترس رہی ہے مگر لذّتِ گُنہ کے لیے

اساتِذہ

مقصد ہو اگر تربَیتِ لعلِ بدخشاںبے سُود ہے بھٹکے ہُوئے خورشید کا پر تُودُنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتارکیا مَدرسہ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دَو!کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامتوہ کُہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پَیرو!

غزل

مِلے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغاندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغمیسّر آتی ہے فُرصت فقط غلاموں کونہیں ہے بندۂ حُر کے لیے جہاں میں فراغفروغِ مغربیاں خِیرہ کر رہا ہے تجھےتری نظر کا نگہباں ہو صاحبِ ’مازاغ‘وہ بزمِ عیش ہے مہمانِ یک نفَس دو نفَسچمک رہے ہیں مثالِ ستارہ جس کے ایاغکِیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتناصبا سے بھی نہ مِلا تجھ کو بُوئے گُل کا سُراغ!

دِین و تعلیم

مجھ کو معلوم ہیں پِیرانِ حرم کے اندازہو نہ اخلاص تو دعوٰئے نظر لاف و گزافاور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیمایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلافاس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہےقوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاففِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہےکبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف

جاوید سے

غارت گر دیں ہے یہ زمانہہے اس کی نہاد کافرانہدربارِ شہنشہی سے خوشترمردانِ خدا کا آستانہلیکن یہ دَورِ ساحری ہےانداز ہیں سب کے جادُوانہسرچشمۂ زندگی ہُوا خشکباقی ہے کہاں مئے شبانہ!خالی اُن سے ہُوا دبِستاںتھی جن کی نگاہ تازیانہجس گھر کا مگر چراغ ہے تُوہے اُس کا مذاق عارفانہجوہر میں ہو ’لااِلہ‘ تو کیا خوفتعلیم ہو گو فرنگیانہشاخِ گُل پر چہک ولیکنکر اپنی خودی میں آشیانہ!وہ بحر ہے آدمی کہ جس کاہر قطرہ ہے بحرِ بیکرانہدہقان اگر نہ ہو تن آساںہر دانہ ہے صد ہزار دانہ“غافل منشیں نہ وقتِ بازی ستوقتِ ہُنر است و کارسازی ست”

سینے میں اگر نہ ہو دلِ گرمرہ جاتی ہے زندگی میں خامینخچیر اگر ہو زِیرک و چُستآتی نہیں کام کُہنہ دامیہے آبِ حیات اسی جہاں میںشرط اس کے لیے ہے تَشنہ کامیغیرت ہے طریقتِ حقیقیغیرت سے ہے فقر کی تمامیاے جانِ پدر! نہیں ہے ممکنشاہیں سے تدرَو کی غلامینایاب نہیں متاعِ گُفتارصد انوریؔ و ہزار جامیؔ!ہے میری بساط کیا جہاں میںبس ایک فغانِ زیر بامیاک صدقِ مقال ہے کہ جس سےمَیں چشمِ جہاں میں ہُوں گرامیاللہ کی دین ہے، جسے دےمیراث نہیں بلند نامیاپنے نورِ نظر سے کیا خوبفرماتے ہیں حضرتِ نظامیؔ“جاے کہ بزرگ بایدت بودفرزندی من نداردت سود”

مومن پہ گراں ہیں یہ شب و روزدِین و دولت، قِمار بازی!ناپید ہے بندۂ عمل مستباقی ہے فقط نفَس درازیہِمّت ہو اگر تو ڈھُونڈ وہ فقرجس فقر کی اصل ہے حجازیاُس فقر سے آدمی میں پیدااللہ کی شانِ بے نیازیکُنِجشک و حمام کے لیے موتہے اُس کا مقام شاہبازیروشن اُس سے خِرد کی آنکھیںبے سُرمۂ بُوعلی و رازیحاصل اُس کا شکوہِ محمودفطرت میں اگر نہ ہو ایازیتیری دُنیا کا یہ سرافیلرکھتا نہیں ذوقِ نَے نوازیہے اس کی نگاہِ عالم آشوبدرپردہ تمام کارسازییہ فقرِ غیُور جس نے پایابے تیغ و سناں ہے مردِ غازیمومن کی اسی میں ہے امیریاللہ سے مانگ یہ فقیری