صُبح
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروزنہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیداوہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجودہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
لا الٰہ الاّ اللہ
خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہخودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہیہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہکِیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودافریب سُود و زیاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہیہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوندبُتانِ وہم و گُماں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّارینہ ہے زماں نہ مکاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہیہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہاگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حُکمِ اذاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
تن بہ تقدیر
اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیمجس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر’تن بہ تقدیر‘ ہے آج اُن کے عمل کا اندازتھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیرتھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُواکہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
مِعراج
دے ولولۂ شوق جسے لذّتِ پروازکر سکتا ہے وہ ذرّہ مہ و مہر کو تاراجمشکل نہیں یارانِ چمن! معرکۂ بازپُر سوز اگر ہو نفَسِ سینۂ دُرّاجناوک ہے مسلماں، ہدَف اس کا ہے ثُریّاہے سِرِّ سرا پردۂ جاں نکتۂ معراجتُو معنیِ وَالنّجم، نہ سمجھا تو عجب کیاہے تیرا مَد و جزْر ابھی چاند کا محتاج
ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام
تُو اپنی خودی اگر نہ کھوتازُناّریِ برگساں نہ ہوتاہیگل کا صدَف گُہر سے خالیہے اُس کا طلِسم سب خیالیمحکم کیسے ہو زندگانیکس طرح خودی ہو لازمانی!آدم کو ثبات کی طلب ہےدستورِ حیات کی طلب ہےدُنیا کی عشا ہو جس سے اِشراقمومن کی اذاں نِدائے آفاقمَیں اصل کا خاص سومناتیآبا مرے لاتی و مناتیتو سیّدِ ہاشمی کی اولادمیری کفِ خاک برہمن زادہے فلسفہ میرے آب و گِل میںپوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میںاقبالؔ اگرچہ بے ہُنر ہےاس کی رگ رگ سے باخبر ہےشُعلہ ہے ترے جُنوں کا بے سوزسُن مجھ سے یہ نکتۂ دل افروزانجامِ خِرد ہے بے حضوریہے فلسفہ زندگی سے دُوریافکار کے نغمہ ہائے بے صوتہیں ذوقِ عمل کے واسطے موتدیں مسلکِ زندگی کی تقویمدیں سِرِّ محمدؐ و براہیمؑ“دل در سخنِ محمدیؐ بنداے پورِ علیؓ ز بوعلی چند!چوں دیدۂ راہ بیں نداریقاید قرشی بہ از بخاری”
زمین و آسماں
ممکن ہے کہ تُو جس کو سمجھتا ہے بہاراںاَوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کاہے سلسلہ احوال کا ہر لحظہ دِگرگُوںاے سالکِ رہ! فکر نہ کر سُود و زیاں کاشاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کیتُو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا!
مسلمان کا زوال
اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجاتجو فقر سے ہے مَیّسر، تونگری سے نہیںاگر جواں ہوں مری قوم کے جسوُر و غیورقلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیںسبب کچھ اور ہے، تُو جس کو خود سمجھتا ہےزوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیںاگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہُواقلندری سے ہُوا ہے، تو نگری سے نہیں
عِلم و عِشق
علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پنعشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظنبندۂ تخمین و ظن! کِرمِ کتابی نہ بنعشق سراپا حضور، علم سراپا حِجاب!
عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائناتعلم مقامِ صفات، عشق تماشائے ذاتعشق سکُون و ثبات، عشق حیات و مماتعلم ہے پیدا سوال، عشق ہے پِنہاں جواب!
عشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و دِیںعشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیںعشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیںعشق سراپا یقیں، اور یقیں فتحِ باب!
شرعِ محبّت میں ہے عشرتِ منزل حرامشورشِ طُوفاں حلال، لذّتِ ساحل حرامعشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرامعلم ہے اِبن الکتاب، عشق ہے اُمّ الکتاب!
اِجتہاد
ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھےنہ کہیں لذّتِ کردار، نہ افکارِ عمیقحلقۂ شوق میں وہ جُرأتِ اندیشہ کہاںآہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیںہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتابکہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
شُکر و شکایت
میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرارکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہُوت سے پیونداک ولولۂ تازہ دیا مَیں نے دلوں کولاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقندتاثیر ہے یہ میرے نفَس کی کہ خزاں میںمُرغانِ سحَر خواں مری صحبت میں ہیں خورسندلیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نےجس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!
ذِکر وفِکر
یہ ہیں سب ایک ہی سالِک کی جُستجو کے مقاموہ جس کی شان میں آیا ہے ’عَلَّم الاسما‘مقامِ ذکر، کمالاتِ رومیؔ و عطّارؔمقامِ فکر، مقالاتِ بوعلیؔسِینامقامِ فکر ہے پیمائشِ زمان و مکاںمقامِ ذکر ہے سُبحانَ ربیّ الاعلیٰ
مُلّائے حَرم
عجَب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہوتری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقامتری نماز میں باقی جلال ہے، نہ جمالتری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
تقدیر
نااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروتہے خوار زمانے میں کبھی جوہرِ ذاتیشاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میںتقدیر نہیں تابعِ منطق نظر آتیہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب کوتاریخِ اُمَم جس کو نہیں ہم سے چھُپاتی’ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کیبُرّاں صفَتِ تیغِ دو پیکر نظر اس کی!‘
توحید
زندہ قُوّت تھی جہاں میں یہی توحید کبھیآج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ عِلم کلامروشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہوخود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقاممَیں نے اے میرِ سِپہ! تیری سِپہ دیکھی ہے’قُلْ ھُوَ اللہ، کی شمشیر سے خالی ہیں نیامآہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہوحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خامقوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہےاس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!
علم اور دین
وہ علم اپنے بُتوں کا ہے آپ ابراہیمکِیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا ندیمزمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایکدلیلِ کم نظَری، قِصّۂ جدید و قدیمچمن میں تربَیتِ غُنچہ ہو نہیں سکتینہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شریکِ نسیموہ علم، کم بصَری جس میں ہمکنار نہیںتجلیاّتِ کلیم و مشاہداتِ حکیم!
ہِندی مسلمان
غدّارِ وطن اس کو بتاتے ہیں برہمنانگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگرپنجاب کے اربابِ نبوّت کی شریعتکہتی ہے کہ یہ مومنِ پارینہ ہے کافرآوازۂ حق اُٹھتا ہے کب اور کِدھر سے’مسکیں وِلَکم ماندہ دریں کشمکش اندر‘!
آزادیِ شمشیر کے اعلان پر
سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نےکیا چیز ہے فولاد کی شمشیرِ جگرداراُس بیت کا یہ مصرعِ اوّل ہے کہ جس میںپوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرارہے فکر مجھے مصرعِ ثانی کی زیادہاللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوارقبضے میں یہ تلوار بھی آجائے تو مومنیا خالدِؓ جانباز ہے یا حیدرؓ کرار
جِہاد
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہےدُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگرلیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثرتیغ و تُفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاںہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبرکافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دلکہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں کی موت مرتعلیم اُس کو چاہیے ترکِ جہاد کیدُنیا کو جس کے پنجۂ خُونیں سے ہو خطرباطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطےیورپ زِرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمرہم پُوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سےمشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شرحق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ باتاسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر!
قُوّت اور دین
اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میںسَو بار ہوئی حضرتِ انساں کی قبا چاکتاریخِ اُمَم کا یہ پیامِ اَزلی ہے’صاحب نظَراں! نشّۂ قُوّت ہے خطرناک،اس سیلِ سبک سیر و زمیںگیر کے آگےعقل و نظَر و عِلم و ہُنر ہیں خس و خاشاکلا دیں ہو تو ہے زہرِ ہلاہلِ سے بھی بڑھ کرہو دِیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تِریاک
فَقر و مُلوکیّت
فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہےضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلبِ سلیماس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سےتازہ ہر عہد میں ہے قصّۂ فرعون و کلیماب ترا دَور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیورکھا گئی رُوحِ فرنگی کو ہوائے زروسِیمعشق و مستی نے کِیا ضبطِ نفَس مجھ پہ حرامکہ گِرہ غُنچے کی کھُلتی نہیں بے موجِ نسیم
اِسلام
رُوح اسلام کی ہے نُورِ خودی، نارِ خودیزندگانی کے لیے نارِ خودی نور و حضوریہی ہر چیز کی تقویم، یہی اصلِ نمودگرچہ اس رُوح کو فِطرت نے رکھا ہے مستورلفظِ ’اسلام، سے یورپ کو اگر کد ہے تو خیردوسرا نام اسی دِین کا ہے ’فقرِ غیور‘!
حیاتِ اَبدی
زندگانی ہے صدَف، قطرۂ نیساں ہے خودیوہ صدَف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکےہو اگر خودنِگر و خودگر و خودگیر خودییہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے
سُلطانی
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہےوہ فقر جس میں ہے بے پردہ روحِ قُرآنیخودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنییہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سُلطانییہی مقام ہے مومن کی قُوّتوں کا عیاراسی مقام سے آدم ہے ظِلّ سُبحانییہ جبر و قہر نہیں ہے، یہ عشق و مستی ہےکہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانیکِیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کوکہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانیمثالِ ماہ چمکتا تھا جس کا داغِ سجودخرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانیہوا حریفِ مہ و آفتاب تُو جس سےرہی نہ تیرے ستاروں میں وہ دُرخشانی
صُوفی سے
تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیامری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیاتخیّلات کی دنیا غریب ہے، لیکنغریب تر ہے حیات و ممات کی دنیاعجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تریبُلا رہی ہے تجھے مُمکنات کی دنیا
اَفرنگ زدہ
ترا وجود سراپا تجلّیِ افرنگکہ تُو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیرمگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالیفقط نیام ہے تُو، زرنگار و بے شمشیر!
تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجودمری نگاہ میں ثابت نہیں وجود تراوجود کیا ہے، فقط جوہرِ خودی کی نمودکر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا
تصوّف
یہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہُوتیحرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیںیہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرورتری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیںیہ عقل، جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکارشریکِ شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیںخِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصلدل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیںعجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میریفروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہِندی اِسلام
ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّتوحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحادوحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازوآتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داداے مردِ خدا! تجھ کو وہ قُوّت نہیں حاصلجا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یادمسکینی و محکومی و نومیدیِ جاویدجس کا یہ تصّوف ہو وہ اسلام کر ایجادمُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازتناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!
غزل
دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہکہ یہی ہے اُمّتوں کے مَرضِ کُہن کا چارہترا بحر پُر سکُوں ہے، یہ سکُوں ہے یا فسُوں ہے؟نہ نَہنگ ہے، نہ طُوفاں، نہ خرابیِ کنارہ!تُو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہےنہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمۂ سحَر نےمری خاکِ پے سِپَر میں جو نِہاں تھا اک شرارہنظر آئے گا اُسی کو یہ جہانِ دوش و فرداجسے آگئی میّسر مری شوخیِ نظارہ
دُنیا
مجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ بوقلمونیوہ چاند، یہ تارا ہے، وہ پتھر، یہ نگیںہےدیتی ہے مری چشمِ بصیرت بھی یہ فتویٰوہ کوہ، یہ دریا ہے، وہ گردُوں، یہ زمیں ہےحق بات کو لیکن میں چھُپا کر نہیں رکھتاتُو ہے، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے، نہیں ہے!
نماز
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میںاگرچہ پِیر ہے آدم، جواں ہیں لات و مناتیہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہےہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
وَحی
عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیںراہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیاتفکر بے نُور ترا، جذبِ عمل بے بنیادسخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیاتخوب و ناخُوب عمل کی ہو گِرہ وا کیونکرگر حیات آپ نہ ہو شارحِ اسرارِ حیات!
شکست
مجاہدانہ حرارت رہی نہ صُوفی میںبہانہ بے عملی کا بنی شرابِ الَستفقیہ شہر بھی رُہبانیت پہ ہے مجبورکہ معرکے ہیں شریعت کے جنگ دست بدستگریز کشمکشِ زندگی سے، مَردوں کیاگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست!
عقل و دِل
ہر خاکی و نُوری پہ حکومت ہے خرد کیباہر نہیں کچھ عقلِ خدا داد کی زد سےعالَم ہے غلام اس کے جلالِ اَزلی کااک دل ہے کہ ہر لحظہ اُلجھتا ہے خرد سے
مستیِ کردار
صُوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوالمُلّا کی شریعت میں فقط مستیِ گُفتارشاعر کی نوا مُردہ و افسُردہ و بے ذوقافکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ بیداروہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کوہو جس کے رگ و پَے میں فقط مستیِ کردار
قَبر
مرقد کا شبستاں بھی اُسے راس نہ آیاآرام قلندر کو تہِ خاک نہیں ہےخاموشیِ افلاک تو ہے قبر میں لیکنبے قیدی و پہنائیِ افلاک نہیں ہے
قلندر کی پہچان
کہتا ہے زمانے سے یہ درویشِ جواں مردجاتا ہے جِدھر بندۂ حق، تُو بھی اُدھر جا!ہنگامے ہیں میرے تری طاقت سے زیادہبچتا ہوا بُنگاہِ قلندر سے گزر جامیں کشتی و ملّاح کا محتاج نہ ہوں گاچڑھتا ہوا دریا ہے اگر تُو تو اُتر جاتوڑا نہیں جادُو مری تکبیر نے تیرا؟ہے تجھ میں مُکر جانے کی جُرأت تو مُکر جا!مہر و مہ و انجم کا محاسِب ہے قلندرایّام کا مَرکب نہیں، راکِب ہے قلندر
فلسفہ
افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوںپوشیدہ نہیں مرد قلندر کی نظر سےمعلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ میں بھیمدت ہوئی گزرا تھا اسی راہ گزر سےالفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں داناغواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سےپیدا ہے فقط حلقہ ارباب جنوں میںوہ عقل کہ پا جاتی ہے شعلے کو شرر سےجس معنی پیچیدہ کی تصدیق کرے دلقیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سےیا مردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتارجو فلسفہ لکھا نہ گیا خون جگر سے
مردانِ خُدا
وہی ہے بندۂ حُر جس کی ضَرب ہے کارینہ وہ کہ حَرب ہے جس کی تمام عیّاریازل سے فطرتِ احرار میں ہیں دوش بدوشقلندری و قبا پوشی و کُلہ داریزمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہےاُنھی کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاریوجود انھی کا طوافِ بُتاں سے ہے آزادیہ تیرے مومن و کافر، تمام زُنّاری!
کافر و مومن
کل ساحلِ دریا پہ کہا مجھ سے خضَر نےتُو ڈھُونڈ رہا ہے سمِ افرنگ کا تریاق؟اک نکتہ مرے پاس ہے شمشیر کی مانندبُرّندہ و صَیقل زدہ و روشن و بَرّاقکافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہےمومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہیں آفاق!
مہدیِ برحق
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوسخاور کے ثوابِت ہوں کہ افرنگ کے سیاّرپیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوںنے جدّتِ گُفتار ہے، نے جدّتِ کردارہیں اہلِ سیاست کے وہی کُہنہ خم و پیچشاعر اسی افلاسِ تخیّل میں گرفتاردُنیا کو ہے اُس مہدیِ برحق کی ضرورتہو جس کی نِگہ زلزلۂ عالمِ افکار
مومن
(دُنیا میں)ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرمرزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومنافلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکشخاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومنجچتے نہیں کنجشک و حمام اس کی نظر میںجِبریل و سرافیل کا صیّاد ہے مومن
(جنّت میں)کہتے ہیں فرشتے کہ دِل آویز ہے مومنحُوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن
محمد علی باب
تھی خوب حضورِ عُلَما باب کی تقریربیچارہ غلَط پڑھتا تھا اعرابِ سمٰوٰاتاس کی غلَطی پر عُلَما تھے مُتَبسّمبولا، تمہیں معلوم نہیں میرے مقاماتاب میری امامت کے تصّدق میں ہیں آزادمحبوس تھے اعراب میں قرآن کے آیات!
تقدیر
(اِبلیس و یَزداں)
اِبلیساے خدائے کُن فکاں! مجھ کو نہ تھا آدم سے بَیرآہ! وہ زندانیِ نزدیک و دُور و دیر و زُودحرفِ ’اِستکبار‘ تیرے سامنے ممکن نہ تھاہاں، مگر تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود
یزداںکب کھُلا تجھ پر یہ راز، انکار سے پہلے کہ بعد؟
اِبلیسبعد، اے تیری تجلّی سے کمالاتِ وجود!
یزداں(فرشتوں کی طرف دیکھ کر)پستیِ فطرت نے سِکھلائی ہے یہ حُجتّ اسےکہتا ہے ’تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود،دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نامظالم اپنے شُعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دُود!
(ماخوذ از محی الدّین ابنِ عربیؒ)
اے رُوحِ محمدؐ
شِیرازہ ہُوا ملّتِ مرحوم کا ابتراب تُو ہی بتا، تیرا مسلمان کِدھر جائے!وہ لذّتِ آشوب نہیں بحرِ عرَب میںپوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کِدھر جائےہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاداس کوہ و بیاباں سے حُدی خوان کِدھر جائےاس راز کو اب فاش کر اے رُوحِ محمدؐآیاتِ الہیٰ کا نگہبان کِدھر جائے!
مَدنِیَّتِ اسلام
بتاؤں تُجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہےیہ ہے نہایتِ اندیشہ و کمالِ جُنوںطلوع ہے صفَتِ آفتاب اس کا غروبیگانہ اور مثالِ زمانہ گُونا گُوں!نہ اس میں عصرِ رواں کی حیا سے بیزارینہ اس میں عہدِ کُہن کے فسانہ و افسوںحقائقِ اَبدی پر اساس ہے اس کییہ زندگی ہے، نہیں ہے طلسمِ افلاطوں!عناصر اس کے ہیں رُوح القُدُس کا ذوقِ جمالعجَم کا حُسنِ طبیعت، عَرب کا سوزِ دُروں!
اِمامت
تُو نے پُوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سےحق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرےہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحقجو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرےموت کے آئِنے میں تجھ کو دکھا کر رُخِ دوستزندگی تیرے لیے اور بھی دُشوار کرےدے کے احساسِ زیاں تیرا لہُو گرما دےفقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرےفتنۂ ملّتِ بیضا ہے امامت اُس کیجو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے!
فَقر و راہبی
کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانیتری نگاہ میں ہے ایک، فقر و رُہبانیسکُوں پرستیِ راہب سے فقر ہے بیزارفقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانیپسند رُوح و بدن کی ہے وا نمود اس کوکہ ہے نہایتِ مومن خودی کی عُریانیوجود صیرفیِ کائنات ہے اُس کااُسے خبر ہے، یہ باقی ہے اور وہ فانیاُسی سے پوچھ کہ پیشِ نگاہ ہے جو کچھجہاں ہے یا کہ فقط رنگ و بو کی طُغیانییہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سےرہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی
غزل
تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرورمیری متاعِ حیات ایک دلِ ناصبور!معجزۂ اہلِ فکر، فلسفۂ پیچ پیچمعجزۂ اہلِ ذکر، مُوسیٰؑ و فرعون و طُورمصلَحۃً کہہ دیا میں نے مسلماں تجھےتیرے نفَس میں نہیں، گرمیِ یُوم النّشورایک زمانے سے ہے چاک گریباں مراتُو ہے ابھی ہوش میں، میرے جُنوں کا قصور!فیضِ نظر کے لیے ضبطِ سخن چاہیےحرفِ پریشاں نہ کہہ اہلِ نظر کے حضورخوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قومعشق ہو جس کا جسُور، فقر ہو جس کا غیور
تسلیم و رِضا
ہر شاخ سے یہ نکتۂ پیچیدہ ہے پیداپَودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کاظُلمت کدۂ خاک پہ شاکر نہیں رہتاہر لحظہ ہے دانے کو جُنوں نشوونَما کافطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہِ عمل بندمقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رِضا کاجُرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہےاے مردِ خدا، مُلکِ خدا تنگ نہیں ہے!
نکتۂ توحید
بیاں میں نکتۂ توحید آ تو سکتا ہےترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیےوہ رمزِ شوق کہ پوشیدہ لااِلہٰ میں ہےطریقِ شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہیےسُرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہےتُو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیےجہاں میں بندۂ حُر کے مشاہدات ہیں کیاتِری نگاہ غلامانہ ہو تو کیا کہیےمقامِ فقر ہے کتنا بلند شاہی سےروِش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے!
اِلہام اور آزادی
ہو بندۂ آزاد اگر صاحبِ اِلہامہے اس کی نِگہ فکر و عمل کے لیے مہمیزاس کے نفَسِ گرم کی تاثیر ہے ایسیہو جاتی ہے خاکِ چَمنِستاں شرر آمیزشاہِیں کی ادا ہوتی ہے بُلبل میں نمودارکس درجہ بدل جاتے ہیں مُرغانِ سحَر خیز!اُس مردِ خود آگاہ و خدامست کی صحبتدیتی ہے گداؤں کو شکوہِ جم و پرویزمحکوم کے اِلہام سے اللہ بچائےغارت گرِ اقوام ہے وہ صُورتِ چنگیز
جان و تن
عقل مُدّت سے ہے اس پیچاک میں اُلجھی ہوئیرُوح کس جوہر سے، خاکِ تِیرہ کس جوہر سے ہےمیری مشکل، مستی و شور و سُرور و درد و داغتیری مشکل، مے سے ہے ساغر کہ مے ساغر سے ہےارتباطِ حرف و معنی، اختلاطِ جان و تنجس طرح اخگر قبا پوش اپنی خاکستر سے ہے!
لاہور و کراچی
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غُیورموت کیا شے ہے، فقط عالَمِ معنی کا سفراُن شہیدوں کی دِیَت اہلِ کلیسا سے نہ مانگقدر و قیمت میں ہے خُوں جن کا حرم سے بڑھ کرآہ! اے مردِ مسلماں تجھے کیا یاد نہیںحرفِ ’لا تَدعُ مَعَ اللہِ الٰھاً آخر‘
نُبوّت
مَیں نہ عارِف، نہ مُجدِّد، نہ محدث،نہ فقیہمجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوّت کا مقامہاں، مگر عالمِ اسلام پہ رکھتا ہوں نظرفاش ہے مجھ پہ ضمیرِ فَلکِ نیلی فامعصرِ حاضر کی شبِ تار میں دیکھی مَیں نےیہ حقیقت کہ ہے روشن صفَتِ ماہِ تمام“وہ نبوّت ہے مسلماں کے لیے برگِ حِشیشجس نبوّت میں نہیں قُوّت و شوکت کا پیام”
آدم
طلسمِ بُود و عدم، جس کا نام ہے آدمخدا کا راز ہے، قادر نہیں ہے جس پہ سخنزمانہ صبحِ ازل سے رہا ہے محوِ سفرمگر یہ اس کی تگ و دَو سے ہو سکا نہ کُہناگر نہ ہو تجھے اُلجھن تو کھول کر کہہ دوں’وجُودِ حضرتِ انساں نہ رُوح ہے نہ بدن،!
مکّہ اور جنیوا
اس دَور میں اقوام کی صُحبت بھی ہُوئی عامپوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدمتفریقِ مِلل حکمتِ افرنگ کا مقصوداسلام کا مقصود فقط ملّتِ آدممکّے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغامجمعیّتِ اقوام کہ جمعیّت آدم!
اے پِیرِ حرم
اے پِیرِ حرم! رسم و رہِ خانقہی چھوڑمقصود سمجھ میری نوائے سَحری کااللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت!دے ان کو سبق خود شکَنی، خود بِگَری کاتُو ان کو سِکھا خارا شگافی کے طریقےمغرب نے سِکھایا انھیں فن شیشہ گری کادِل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامیدارُو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظَری کاکہہ جاتا ہوں مَیں زورِ جُنوں میں ترے اَسرارمجھ کو بھی صِلہ دے مری آشُفتہ سری کا!
مہدی
قوموں کی حیات ان کے تخیّل پہ ہے موقوفیہ ذوق سِکھاتا ہے ادب مُرغِ چمن کومجذوبِ فرنگی نے بہ اندازِ فرنگیمہدی کے تخیّل سے کِیا زندہ وطن کواے وہ کہ تو مہدی کے تخیّل سے ہے بیزارنومید نہ کر آہُوئے مُشکیں سے خُتن کوہو زندہ کفن پوش تو مَیّت اُسے سمجھیںیا چاک کریں مَردکِ ناداں کے کفن کو؟
مردِ مسلمان
ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آنگُفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!قہاّری و غفاّری و قدّوسی و جبروتیہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمانہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکیہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشانیہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومنقاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!قُدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادےدُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزانجس سے جگَرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنمدریاؤں کے دِل جس سے دہَل جائیں، وہ طوفانفطرت کا سرودِ اَزلی اس کے شب و روزآہنگ میں یکتا صفَتِ سورۂ رحمٰنبنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجملے اپنے مقدّر کے ستارے کو تو پہچان!
پنجابی مسلمان
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعتکر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلدتحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتاہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلدتاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دےیہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد
آزادی
ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکےحُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا دادچاہے تو کرے کعبے کو آتش کدۂ پارسچاہے تو کرے اس میں فرنگی صَنم آبادقُرآن کو بازیچۂ تاویل بنا کرچاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجادہے مملکتِ ہند میں اک طُرفہ تماشااسلام ہے محبوس، مسلمان ہے آزاد!
اِشاعتِ اسلام فرنگستان میں
ضمیر اس مَدنِیّت کا دِیں سے ہے خالیفرنگیوں میں اخوّت کا ہے نسَب پہ قیامبلند تر نہیں انگریز کی نگاہوں میںقبولِ دینِ مسیحی سے برہَمن کا مقاماگر قبول کرے، دینِ مصطفیؐ، انگریزسیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام
لا و اِلّا
فضائے نُور میں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پیداسفر خاکی شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہنہادِ زندگی میں ابتدا ’لا‘، انتہا ’اِلّا‘پیامِ موت ہے جب ’لا ہوُا ’اِلاّ‘ سے بیگانہوہ مِلّت رُوح جس کی ’لا ‘سے آگے بڑھ نہیں سکتییقیں جانو، ہُوا لبریز اُس ملّت کا پیمانہ
امُرَائے عرب سے
کرے یہ کافرِ ہندی بھی جُرأتِ گُفتاراگر نہ ہو اُمَرائے عرب کی بے ادبی!یہ نکتہ پہلے سِکھایا گیا کس اُمّت کو؟وصال مُصطفوی، افتراق بُولہَبی!نہیں وجود حدود و ثُغُور سے اس کامحمدِؐ عَربی سے ہے عالمِ عَربی!
احکامِ الٰہی
پابندیِ تقدیر کہ پابندیِ احکام!یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مردِ خرد منداک آن میں سَو بار بدل جاتی ہے تقدیرہے اس کا مُقلِّد ابھی ناخوش، ابھی خُورسندتقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند
موت
لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہےاگر ہو زندہ تو دِل ناصُبور رہتا ہےمہ و ستارہ، مثالِ شرارہ یک دو نفَسمیٔ خودی کا اَبد تک سُرور رہتا ہےفرشتہ موت کا چھُوتا ہے گو بدن تیراترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے!
قُم بِاذنِ اللہ
جہاں اگرچہ دِگر گُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہوہی زمیں، وہی گردُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہکیا نوائے ’انا الحق‘ کو آتشیں جس نےتری رگوں میں وہی خُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہغمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور ترافرنگیوں کا یہ افسُوں ہے، قُم بِاذنِ اللہ