انتخابِ کلامِ ذوق · محمد ابراہیم ذوق

Chapter 1: غزلیات

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سےجانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے

ہم خوب ہیں واقف ترے انداز کمر سےیہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے

پھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سےتو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے

سرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارےاک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے

وہ خلق سے پیش آتے ہیں جو فیض رساں ہیںہیں شاخ ثمر دار میں گل پہلے ثمر سے

حاضر ہیں مرے جذبۂ وحشت کے جلو میںباندھے ہوئے کہسار بھی دامن کو کمر سے

لبریز مئے صاف سے ہوں جام بلوریںزمزم سے ہے مطلب نہ صفا سے نہ حجر سے

اشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم سوئے در یارمقصود رہ کعبہ ہے دریا کے سفر سے

فریاد ستم کش ہے وہ شمشیر کشیدہجس کا نہ رکے وار فلک کی بھی سپر سے

کھلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہکیا جانے کہ آ جائے ہے تو اس میں کدھر سے

اف گرمیٔ وحشت کہ مری ٹھوکروں ہی میںپتھر ہیں پہاڑوں کے اڑے جاتے شرر سے

کچھ رحمت باری سے نہیں دور کہ ساقیروئیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے

میں کشتہ ہوں کس چشم سیہ مست کا یا ربٹپکے ہے جو مستی مری تربت کے شجر سے

نالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتاکیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے

اے ذوقؔ کسی ہمدم دیرینہ کا ملنابہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے


یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے

زال دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ دہرمرد دیں دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے

بڑھتی جاتی ہے جو مشق ستم اس ظالم کیکچھ محبت مری اصلاح مگر دیتی ہے

فائدہ دے ترے بیمار کو کیا خاک دوااب تو اکسیر بھی دیجے تو ضرر دیتی ہے

شمع گھبرا نہ شب غم سے کہ کوئی دم میںتجھ کو کافور سفیدی سحر دیتی ہے

غنچہ ہنستا ہے ترے آگے جو گستاخی سےچٹخنا منہ پہ وہیں باد سحر دیتی ہے

شمع بھی کم نہیں کچھ عشق میں پروانے سےجان دیتا ہے اگر وہ تو یہ سر دیتی ہے

دم بہ دم زخم پہ اک زخم ہے دم لینے کیمجھ کو فرصت نہیں وہ تیغ نظر دیتی ہے

کہتے سنتے نہیں کچھ ہم تو شب ہجر میں پرنالۂ دل کا جواب آہ جگر دیتی ہے

تیرہ بختی مری کرتی ہے پریشاں مجھ کوتہمت اس زلف سیہ فام پہ دھر دیتی ہے

نخل مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم ثمرچشم پانی کی جگہ خون جگر دیتی ہے

دیتی شربت ہے کسے زہر بھری آنکھ تریعین احسان ہے وہ زہر بھی گر دیتی ہے

کوئی غماز نہیں میری طرف سے اے ذوقؔکان اس کے مری فریاد ہی بھر دیتی ہے


وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا

کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کےاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا

کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافردم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا

پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواںجب تک کہ وہ مضموں میں تصرف نہیں کرتا

دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہےدنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا

تا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفیکچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسرآرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا


وقت پیری شباب کی باتیںایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھودل خانہ خراب کی باتیں

واعظا چھوڑ ذکر نعمت خلدکہہ شراب و کباب کی باتیں

مہ جبیں یاد ہیں کہ بھول گئےوہ شب ماہتاب کی باتیں

حرف آیا جو آبرو پہ مریہیں یہ چشم پرآب کی باتیں

سنتے ہیں اس کو چھیڑ چھیڑ کے ہمکس مزے سے عتاب کی باتیں

جام مے منہ سے تو لگا اپنےچھوڑ شرم و حجاب کی باتیں

مجھ کو رسوا کریں گی خوب اے دلیہ تری اضطراب کی باتیں

جاؤ ہوتا ہے اور بھی خفقاںسن کے ناصح جناب کی باتیں

قصۂ زلف یار دل کے لیےہیں عجب پیچ و تاب کی باتیں

ذکر کیا جوش عشق میں اے ذوقؔہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں


اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہےوہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے

ناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہےکیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے

پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیبسچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے

اس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشکہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے

مداح خال روئے بتاں ہوں مجھے خدابخشے تو کیا عجب کہ وہ نکتہ نواز ہے

ڈرتا ہوں خنجر اس کا نہ بہہ جائے ہو کے آبمیرے گلے میں نالۂ آہن گداز ہے

دروازہ مے کدے کا نہ کر بند محتسبظالم خدا سے ڈر کہ در توبہ باز ہے

خانہ خرابیاں دل بیمار غم کی دیکھوہ ہی دوا خراب ہے جو خانہ ساز ہے

شبنم کی جائے گل سے ٹپکتی ہیں شوخیاںگلشن میں کس کی خاک شہیدان ناز ہے

آہ و فغاں نہ کر جو کھلے ذوقؔ دل کا حالہر نالہ اک کلید در گنج راز ہے


تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیںصبر و طاقت کے وہاں پاؤں اکھڑ جاتے ہیں

اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کےخط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں

کیوں نہ لڑوائیں انہیں غیر کہ کرتے ہیں یہیہم نشیں جن کے نصیبے کہیں لڑ جاتے ہیں


سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے

وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردشکہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے

کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتلکہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے

جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کوبے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے


رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ توتجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوںدے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو

اس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کردامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو

چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلفتربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو

اے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنامانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو

یہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغغافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو

ہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہوکیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو

جو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھردروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو

عمر رواں کا توسن چالاک اس لیےتجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو

آوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھااے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو


قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئےجو طلسمات نہ ٹوٹے تھے کبھو ٹوٹ گئے

سیکڑوں کاسہ سر دہر میں مانند حبابکبھو اے چرخ بنے تجھ سے کبھو ٹوٹ گئے

ٹانکے کیا جیب کے پھر بعد رفو ٹوٹ گئےہو کے ناخن کبھی سینے میں فرو ٹوٹ گئے

تو جو کہتا ہے کہ دے غیر کو بھی ساغر مےہاتھ کیا اس کے ہیں اے آئینہ رو ٹوٹ گئے

کیونکے بن کشتیٔ مے کیجیے سیر دریامے کشو زیر بغل اب تو کدو ٹوٹ گئے

دیکھ کر سرمے کی تحریر تری آنکھوں میںکافروں کے بھی ہیں زنار گلو ٹوٹ گئے

صدمۂ غم سے ترے جوں گل بازی افسوسسارے اعضا مرے اے عربدہ جو ٹوٹ گئے

سنگ غیرت سے کئی آئینے اے عہد شکندیکھ کر صاف ترا روئے نکو ٹوٹ گئے

تیر دل سے وہ نکلتے ہیں کوئی جذبۂ شوقنکلے سوفار جو سینے سے گلو ٹوٹ گئے

دل شکستہ ہی رہا بعد فنا بھی میں توکہ مری خاک سے بنتے ہی سبو ٹوٹ گئے

شدت گریہ سے تھا رات یہ اشکوں کا ہجومچشم تر پھر مرے مژگاں کے ہیں مو ٹوٹ گئے

گلشن عشق میں اللہ ہے کیا کثرت باربن ہوا کتنے ہی نخل لب جو ٹوٹ گئے

کہہ بہ تبدیل قوافی غزل اک اور بھی ذوقؔدیکھیں بٹھلائے ہے کس طرح سے تو ٹوٹ گئے


قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیںچشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیں

کرتے اظہار ہیں در پردہ عداوت اپنیوہ مرے آگے جو تعریف عدو کرتے ہیں

دل کا یہ حال ہے پھٹ جائے ہے سو جائے سے اوراگر اک جائے سے ہم اس کو رفو کرتے ہیں

توڑیں اک نالے سے اس کاسۂ گردوں کو مگرنوش ہم اس میں کبھو دل کا لہو کرتے ہیں

قد دل جو کو تمہارے نہیں دیکھا شایدسرکشی اتنی جو سرو لب جو کرتے ہیں


نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں مارا

مال جب اس نے بہت رد و بدل میں ماراہم نے دل اپنا اٹھا اپنی بغل میں مارا

اس لب و چشم سے ہے زندگی و موت اپنیکہ کبھی پل میں جلایا کبھی پل میں مارا

کھینچ کر عشق ستم پیشہ نے شمشیر جفاپہلے اک ہاتھ مجھی پر تھا ازل میں مارا

چرخ بد بیں کی کبھی آنکھ نہ پھوٹی سو بارتیر نالے نے مرے چشم زحل میں مارا

اجل آئی نہ شب ہجر میں اور ہم کو فلکبے اجل تو نے تمنائے اجل میں مارا

عشق کے ہاتھ سے نے قیس نہ فرہاد بچااس کو گر دشت میں تو اس کو جبل میں مارا

دل کو اس کاکل پیچاں سے نہ بل کرنا تھایہ سیہ بخت گیا اپنے ہی بل میں مارا

کون فریاد سنے زلف میں دل کی تو نےہے مسلمان کو کافر کے عمل میں مارا

عرس کی شب بھی مری گور پہ دو پھول نہ لائےپتھر اک گنبد تربت کے کنول میں مارا

آنکھ سے آنکھ ہے لڑتی مجھے ڈر ہے دل کاکہیں یہ جائے نہ اس جنگ و جدل میں مارا

ہم نے جانا تھا جبھی عشق نے مارا اس کوتیشہ فرہاد نے جس وقت جبل میں مارا

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیبذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا


نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگیچلی تھی برچھی کسی پر کسی کے آن لگی

ترا زباں سے ملانا زباں جو یاد آیانہ ہائے ہائے میں تالو سے پھر زبان لگی

کسی کے دل کا سنو حال دل لگا کر تمجو ہووے دل کو تمہارے بھی مہربان لگی

تو وہ ہے ماہ جبیں مثل دیدۂ انجمرہے ہے تیری طرف چشم یک جہان لگی

خدا کرے کہے تجھ سے یہ کچھ خدا لگتیکہ زلف اے بت بدکیشں تیرے کان لگی

اڑائی حرص نے آ کر جہاں میں سب کی خاکنہیں ہے کس کو ہوا زیر آسمان لگی

کسی کی کاوش مژگاں سے آج ساری راتنہیں پلک سے پلک میری ایک آن لگی

تباہ بحر جہاں میں تھی اپنی کشتی عمرسو ٹوٹ پھوٹ کے بارے کنارے آن لگی

تمہارے ہاتھ سے سینے میں دل سے تابہ جگرسنان و خنجر و پیکاں کی ہے دکان لگی

خدنگ یار مرے دل سے کس طرح نکلےکہ اس کے ساتھ ہے اے ذوقؔ میری جان لگی


نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتااے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا

دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتاآسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا

لاکھ دیتا فلک آزار گوارہ تھے مگرایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا

دے دعا وادی پر خار جنوں کو ہر گامداد یہ تیری ہے اے آبلہ پائی دیتا

روش اشک گرا دیں گے نظر سے اک دنہے ان آنکھوں سے یہی مجھ کو دکھائی دیتا

منہ سے بس کرتے کبھی یہ نہ خدا کے بندےگر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا

پنجۂ مہر کو بھی خون شفق میں ہر روزغوطے کیا کیا ہے ترا دست حنائی دیتا

کون گھر آئینے کے آتا اگر وہ گھر میںخاکساری سے نہ جاروب صفائی دیتا

میں ہوں وہ صید کہ پھر دام میں پھنستا جا کرگر قفس سے مجھے صیاد رہائی دیتا

خوگر ناز ہوں کس کس کا کہ مجھے ساغر مےبوسۂ لب نہیں بے چشم نمائی دیتا

دیکھ گر دیکھنا ہے ذوقؔ کہ وہ پردہ نشیںدیدۂ روزن دل سے ہے دکھائی دیتا


نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لیےکہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسماں کے لیے

ہزار لطف ہیں جو ہر ستم میں جاں کے لیےستم شریک ہوا کون آسماں کے لیے

مزے یہ دل کے لیے تھے نہ تھے زباں کے لیےسو ہم نے دل میں مزے سوزش نہاں کے لیے

فروغ عشق سے ہے روشنی جہاں کے لیےیہی چراغ ہے اس تیرہ خاکداں کے لیے

صبا جو آئے خس و خار گلستاں کے لیےقفس میں کیونکہ نہ پھڑکے دل آشیاں کے لیے

دم عروج ہے کیا فکر نردباں کے لیےکمند آہ تو ہے بام آسماں کے لیے

سدا تپش پہ تپش ہے دل تپاں کے لیےہمیشہ غم پہ ہے غم جان ناتواں کے لیے

وبال دوش ہے اس ناتواں کو سر لیکنلگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لیے

بیان درد و محبت جو ہو تو کیونکر ہوزبان دل کے لیے ہے نہ دل زباں کے لیے

مثال نے ہے مرے جب تلک کہ دم میں دمفغاں ہے میرے لیے اور میں فغاں کے لیے

بلند ہووے اگر کوئی میرا شعلۂ آہتو ایک اور ہو خورشید آسماں کے لیے

چلے ہیں دیر کو مدت میں خانقاہ سے ہمشکست توبہ لیے ارمغاں مغاں کے لیے

حجر کے چومنے ہی پر ہے حج کعبہ اگرتو بوسے ہم نے بھی اس سنگ آستاں کے لیے

نہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی کہ یہ شےعصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کے لیے

جو پاس مہر و محبت کہیں یہاں بکتاتو مول لیتے ہم اک اپنے مہرباں کے لیے

خلش سے عشق کی ہے خار پیرہن تن زارہمیشہ اس ترے مجنون ناتواں کے لیے

تپش سے دل کی یہ احوال ہے مرا گویابجائے مغز ہے سیماب استخواں کے لیے

مرے مزار پہ کس وجہ سے نہ برسے نورکہ جان دی ترے روئے عرق فشاں کے لیے

الٰہی کان میں کیا اس صنم نے پھونک دیاکہ ہاتھ دھرتے ہیں کانوں پہ سب اذاں کے لیے

نہیں ہے خانہ بدوشوں کو حاجت ساماںاثاثہ چاہیئے کیا خانۂ کماں کے لیے

نہ دل رہا نہ جگر دونوں جل کے خاک ہوئےرہا ہے سینے میں کیا چشم خوں فشاں کے لیے

نہ لوح گور پہ مستوں کی ہو نہ ہو تعویذجو ہو تو خشت خم مے کوئی نشاں کے لیے

اگر امید نہ ہمسایہ ہو تو خانۂ یاسبہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کے لیے

وہ مول لیتے ہیں جس دم کوئی نئی تلوارلگاتے پہلے مجھی پر ہیں امتحاں کے لیے

صریح چشم سخن گو تری کہے نہ کہےجواب صاف ہے پر طاقت و تواں کے لیے

اشارہ چشم کا تیری یکایک اے قاتلہوا بہانہ مری مرگ ناگہاں کے لیے

رہے ہے ہول کہ برہم نہ ہو مزاج کہیںبجا ہے ہول دل ان کے مزاج داں کے لیے

بنایا آدمی کو ذوقؔ ایک جزو ضعیفاور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لیے


نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سےنکالے پر ہے مثل ماہی تصویر پہلو سے

نہ لے اے ناوک افگن دل کو میرے چیر پہلو سےکہ وہ تو جا چکا ساتھ آہ کے جوں تیر پہلو سے

دل سیپارہ کو لے ٹانک تعویذوں میں ہیکل کےنہ سرکا یہ حمائل اے بت بے پیر پہلو سے

وہ ہوں بے دست و پا بسمل رسائی جب نہ ہاتھ آئیکیا تا پائے قاتل از تہ شمشیر پہلو سے

اسیر زلف دیوانے ہیں دیکھ اے پاسباں شب کودبا کر بیٹھ ان کے پاؤں کی زنجیر پہلو سے

مصور لیلیٰ و مجنوں کی ناکامی پہ حیراں ہیںکبھی بیٹھا نہ مل کر پہلوئے تصویر پہلو سے

یہ دل لب تشنہ تیغ یار کا ہے رات بھر کرتاصدائے العطش جوں نالۂ شب گیر پہلو سے

عجب حسرت کا عالم تھا کہ مجنوں کہتا تھا پیہمچھٹے پہلو مرے محمل کا یا تقدیر پہلو سے

نہ کہنا استخواں ان کو یہ عالم لاغری کا ہےکہ ہے دکھلا رہا میرا دل دلگیر پہلو سے

خیال ابروئے جاناں نہیں اب بھولتا اک دمسپاہی ہے جدا کرتا نہیں شمشیر پہلو سے

تمام اہل سخن بزم سخن میں ذوقؔ حیراں ہیںملا جو قافیہ تو نے کیا تحریر پہلو سے


نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتاکہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا

کہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتاکہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا

ابھی کیا سرد قاتل یہ شہید تفتہ جاں ہوتاکوئی دم شمع مردہ میں بھی ہے باقی دھواں ہوتا

نہ ہوتی دل میں کاوش گر کسی کی نوک مژگاں کیتو کیوں حق میں مرے ہر موئے تن مثل سناں ہوتا

عزا داری میں ہے کس کی یہ چرخ ماتمی جامہکہ حبیب چاک کی صورت ہے خط کہکشاں ہوتا

بگولا گر نہ ہوتا وادئ وحشت میں اے مجنوںتو گنبد ہم سے سرگشتوں کی تربت پر کہاں ہوتا

جو روتا کھول کر دل تنگ نائے دہر میں عاشقتو جوئے کہکشاں میں بھی فلک پر خوں رواں ہوتا

نہ رکھتا گر نہ رکھتا منہ پہ یہ دانا مریض غممگر تیرا میسر بوسۂ خال دہاں ہوتا

ترے خونیں جگر کی خاک پر ہوتا اگر سبزہتو مژگاں کی طرح اس سے بھی پیہم خوں رواں ہوتا

رکاوٹ دل کی اس کافر کے وقت ذبح ظاہر ہےکہ خنجر میری گردن پر ہے رک رک کر رواں ہوتا

نہ کرتا ضبط میں گریہ تو اے ذوقؔ اک گھڑی بھر میںکٹورے کی طرح گھڑیال کے غرق آسماں ہوتا


مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلادہان زخم سے خوں ہو کے حرف آرزو نکلا

مرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالعخدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا

پھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداںاگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا

مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہموہ تھا لبریز غم اس خمکدہ سے جو سبو نکلا

ترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرارہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا

کہیں تجھ کو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈاپھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں سے تو نکلا

خجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یاں تک کہ جب رویاتو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخ رو نکلا

گھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹی سر سوزنمگر تھا دل میں جو کانٹا نہ ہرگز وہ کبھو نکلا

اسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کوجسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نکلا


مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتےکہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے

مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتےمسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے

غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سےمگر زیارت دل کیوں کہ بے وضو کرتے

عجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہمتیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے

اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گےتو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے

سمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصورکہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے

یقیں ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کشاٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے

نہ رہتی یوسف کنعاں کی گرمئ بازارمقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے

چمن بھی دیکھتے گلزار آرزو کی بہارتمہاری باد بہاری میں آرزو کرتے

سراغ عمر گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔتمام عمر گزر جائے جستجو کرتے


مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہےنہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہےنہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے

لوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہےچیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے

رات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ نوازبند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے

قاصد عاشق سودا زدہ کیا لائے جوابجب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے

دیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحبہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے

تیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امیدرات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے

کشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جبکاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے

خاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میںتجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد صبا یاد رہے

گور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دوکوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے

تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیر طوبیٰخلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے

باز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھریاد عاشق کو نہ کیجے گا بھلا یاد رہے

داغ دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگاراچارہ گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے

زخم دل بولے مرے دل کے نمک خواروں سےلو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے

حضرت عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اوریاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے

گر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود بینیبھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے

عالم حسن خدائی ہے بتوں کی اے ذوقؔچل کے بت خانے میں بیٹھو کہ خدا یاد رہے


مار کر تیر جو وہ دلبر جانی مانگےکہہ دو ہم سے نہ کوئی دے کے نشانی مانگے

اے صنم دیکھ کے ہر دم کی تری کم سخنیموت گھبرا کے نہ کیوں یہ خفقانی مانگے

خاک سے تشنۂ دیدار کے سبزہ جو اٹھےتو زباں اپنی نکالے ہوئے پانی مانگے

مار پیچاں تو بلا ہے گا مگر تو اے زلفہے وہ کافر کہ نہ کاٹا ترا پانی مانگے

دہن یار ہو اور مانگے کسی سے دل کووہ جو مانگے تو بانداز نہانی مانگے

دل مرا بوسہ بہ پیغام نہیں ہے ہمدمیار لیتا ہے تو لے اپنی زبانی مانگے

جلوہ اس عالم معنی کا جو دیکھے اے ذوقؔلطف الفاظ نہ بے حسن معانی مانگے


محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوالا ساقیا پیالہ کہ توبہ کا قل ہوا

جن کی نظر چڑھا ترا رخسار آتشیںان کا چراغ گور نہ تا حشر گل ہوا

بندہ نوازیاں تو یہ دیکھو کہ آدمیجزو ضعیف محرم اسرار کل ہوا

دریائے غم سے میرے گزرنے کے واسطےتیغ خمیدہ یار کی لوہے کا پل ہوا

پروانہ بھی تھا گرم تپش پر کھلا نہ رازبلبل کی تنگ حوصلگی تھی کہ غل ہوا

آئی تہی دروں کی نہ ہرگز سمجھ میں باتآوازہ گو بلند مثال دہل ہوا

اس بن رہا چمن میں بھی میں ذوقؔ دل خراشناخن سے تیز تر مجھے ہر برگ گل ہوا


لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے

تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلےبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے

دیوانہ آ کے اور بھی دل کو بنا چلےاک دم تو ٹھہرو اور بھی کیا آئے کیا چلے

ہم لطف سیر باغ جہاں خاک اڑا چلےشوق وصال دل میں لیے یار کا چلے

غیروں کے ساتھ چھوڑ کے تم نقش پا چلےکیا خوب پھول گور پہ میری چڑھا چلے

دکھلا کے مجھ کو نرگس بیمار کیا چلےآوارہ مثل آہوئے صحرا بنا چلے

اے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھارہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے

بل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤںمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے

کیا لے چلے گلی سے تری ہم کو جوں نسیمآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے

افسوس ہے کہ سایہ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلیں وہ جدا چلے

کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیبیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے

قاتل جو تیرے دل میں رکاوٹ نہ ہو تو کیوںرک رک کے میرے حلق پہ خنجر ترا چلے

لے جائیں تیرے کشتے کو جنت میں بھی اگرپھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے

آلودہ چشم میں نہ ہوئی سرمے سے نگاہدیکھا جہاں سے صاف ہی اہل صفا چلے

روز ازل سے زلف معنبر کا ہے اسیرکیا اڑ کے تجھ سے طائر نکہت بھلا چلے

ساتھ اپنے لے کے توسن عمر رواں کو آہہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے

سلجھائیں زلفیں کیا لب دریا پہ آپ نےہر موج مثل مارسیہ تم بنا چلے

دنیا میں جب سے آئے رہا عشق گل رخاںہم اس جہاں میں مثل صبا خاک اڑا چلے

قاتل سے دخل کیا ہے کہ جاں بر ہو اپنا ہوشگر اڑ کے مثل طائر رنگ حنا چلے

فکر قناعت ان کو میسر ہوئی کہاںدنیا سے دل میں لے کے جو حرص و ہوا چلے

اس روئے آتشیں کے تصور میں یاد زلفیعنی غضب ہے آگ لگے اور ہوا چلے

اے ذوقؔ ہے غضب نگہ یار الحفیظوہ کیا بچے کہ جس پہ یہ تیر قضا چلے


لائی حیات آئے قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے

ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمارجو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگےپر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

لیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر عشق سےسن کر فغان قیس بجائے حدی چلے

نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہیدانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے

دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھتم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔاپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے


کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والےان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے

چاہیں گر چارہ جراحت کا محبت والےبیچیں الماس و نمک سنگ جراحت والے

گئے جنت میں اگر سوز محبت والےتو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے

ساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والےصبح محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے متوالے

دختر رز کو نہیں چھیڑتے ہیں متوالےحذر اس فاحشہ سے کرتے ہیں حرمت والے

رہے جوں شیشۂ ساعت وہ مکدر دونوںکبھی مل بھی گئے دو دل جو کدورت والے

کس مرض کی ہیں دوا یہ لب جاں بخش ترےجاں بہ لب ہیں ترے آزار محبت والے

حرص کے پھیلتے ہیں پاؤں بہ قدر وسعتتنگ ہی رہتے ہیں دنیا میں فراغت والے

ہائے رے حسرت دیدار مری ہائے کو بھیلکھتے ہیں ھائے دو چشمی سے کتابت والے

نہیں جز شمع مجاور مری بالین مزارنہیں جز کثرت پروانہ زیارت والے

نہ شکایت ہے کرم کی نہ ستم کی خواہشدیکھ تو ہم بھی ہیں کیا صبر و قناعت والے

کیا تماشا ہے کہ مثل مہ نو اپنا فروغجانتے اپنی حقارت کو ہیں شہرت والے

دل سے کچھ کہتا ہوں میں مجھ سے ہے کچھ کہتا دلدونوں اک حال میں ہیں رنج و مصیبت والے

تو گر آ جائے تو اے درد محبت کی دوامرے ہمدرد ہوں بے درد فضیحت والے

چھوڑ دیتے ہیں قلم جوں قلم آتش بازمری شرح طپش دل کی کتابت والے

کبھی افسوس ہے آتا کبھی رونا آتادل بیمار کے ہیں دو ہی عیادت والے

تو مرے حال سے غافل ہے پر اے غفلت کیشتیرے انداز تغافل نہیں غفلت والے

ہم نے دیکھا ہے جو اس بت میں نہیں کہہ سکتےکہ مبادا کہیں سن پائیں شریعت والے

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔاس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے


کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعدسینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد

کیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئیپھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد

کوئی گھڑی اگر وہ ملایم ہوئے تو کیاکہہ بیٹھیں گے پھر ایک کڑی دو گھڑی کے بعد

اس لعل لب کے ہم نے لیے بوسے اس قدرسب اڑ گئی مسی کی دھڑی دو گھڑی کے بعد

اللہ رے ضعف سینہ سے ہر آہ بے اثرلب تک جو پہنچی بھی تو چڑھی دو گھڑی کے بعد

کل اس سے ہم نے ترک ملاقات کی تو کیاپھر اس بغیر کل نہ پڑی دو گھڑی کے بعد

تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتےساری وہ شیخی ان کی جھڑی دو گھڑی کے بعد

کہتا رہا کچھ اس سے عدو دو گھڑی تلکغماز نے پھر اور جڑی دو گھڑی کے بعد

پروانہ گرد شمع کے شب دو گھڑی رہاپھر دیکھی اس کی خاک پڑی دو گھڑی کے بعد

تو دو گھڑی کا وعدہ نہ کر دیکھ جلد آآنے میں ہوگی دیر بڑی دو گھڑی کے بعد

گو دو گھڑی تک اس نے نہ دیکھا ادھر تو کیاآخر ہمیں سے آنکھ لڑی دو گھڑی کے بعد

کیا جانے دو گھڑی وہ رہے ذوقؔ کس طرحپھر تو نہ ٹھہرے پاؤں گھڑی دو گھڑی کے بعد


کوئی کمر کو تری کچھ جو ہو کمر تو کہےکہ آدمی جو کہے بات سوچ کر تو کہے

مری حقیقت پر درد کو کبھی اس سےبہ آہ و نالہ نہ کہوے بہ چشم تر تو کہے

یہ آرزو ہے جہنم کو بھی کہ آتش عشقمجھے نہ شعلہ گر اپنا کہے شرر تو کہے

بقدر مایہ نہیں گر ہر اک کا رتبہ و نامتو ہاں حباب کو دیکھیں کوئی گہر تو کہے

کہے جو کچھ مجھے ناصح نہیں وہ دیوانہکہ جانتا ہے کہے کا ہو کچھ اثر تو کہے

جل اٹھے شمع کے مانند قصہ خواں کی زباںہمارا قصۂ پرسوز لحظہ بھر تو کہے

صدا ہے خوں میں بھی منصور کے انا الحق کیکہے اگر کوئی توحید اس قدر تو کہے

مجال ہے کہ ترے آگے فتنہ دم مارےکہے گا اور تو کیا پہلے الحذر تو کہے

بنے بلا سے مرا مرغ نامہ بر بھنوراکہ اس کو دیکھ کے وہ منہ سے خوش خبر تو کہے

ہر ایک شعر میں مضمون گریہ ہے میرےمری طرح سے کوئی ذوقؔ شعر تر تو کہے


کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرےاور جو یہ تنگ کریں منہ سے شکایت نہ کرے

عشق کے داغ کو دل مہر نبوت سمجھاڈر ہے کافر کہیں دعوائے نبوت نہ کرے

ہے جراحت کا مری سودۂ الماس علاجفائدہ اس کو کبھی سنگ جراحت نہ کرے

ہر قدم پر مرے اشکوں سے رواں ہے دریاکیا کرے جادہ اگر ترک رفاقت نہ کرے

آج تک خوں سے مرے تر ہے زبان خنجرکیا کرے جب کہ طلب کوئی شہادت نہ کرے

ہے یہ انساں بڑے استاد کا شاگرد رشیدکر سکے کون اگر یہ بھی خلافت نہ کرے

بن جلے شمع کے پروانہ نہیں جل سکتاکیا بڑھے عشق اگر حسن ہی سبقت نہ کرے

پھر چلا مقتل عشاق کی جانب قاتلسر پہ برپا کہیں کشتوں کے قیامت نہ کرے


کسی بیکس کو اے بیداد گر مارا تو کیا ماراجو آپ ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا

نہ مارا آپ کو جو خاک ہو اکسیر بن جاتااگر پارے کو اے اکسیر گر مارا تو کیا مارا

بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارانہنگ و اژدہا و شیر نر مارا تو کیا مارا

خطا تو دل کی تھی قابل بہت سی مار کھانے کےتری زلفوں نے مشکیں باندھ کر مارا تو کیا مارا

نہیں وہ قول کا سچا ہمیشہ قول دے دے کرجو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

تفنگ و تیر تو ظاہر نہ تھا کچھ پاس قاتل کےالٰہی اس نے دل کو تاک کر مارا تو کیا مارا

ہنسی کے ساتھ یاں رونا ہے مثل قلقل میناکسی نے قہقہہ اے بے خبر مارا تو کیا مارا

مرے آنسو ہمیشہ ہیں برنگ لعل غرق خوںجو غوطہ آب میں تو نے گہر مارا تو کیا مارا

جگر دل دونوں پہلو میں ہیں زخمی اس نے کیا جانےادھر مارا تو کیا مارا ادھر مارا تو کیا مارا

گیا شیطان مارا ایک سجدہ کے نہ کرنے میںاگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا

دل سنگین خسرو پر بھی ضرب اے کوہ کن پہنچیاگر تیشہ سر کہسار پر مارا تو کیا مارا

دل بد خواہ میں تھا مارنا یا چشم بدبیں میںفلک پر ذوقؔ تیر آہ گر مارا تو کیا مارا


خوب روکا شکایتوں سے مجھےتو نے مارا عنایتوں سے مجھے

واجب القتل اس نے ٹھہرایاآیتوں سے روایتوں سے مجھے

کہتے کیا کیا ہیں دیکھ تو اغیاریار تیری حمایتوں سے مجھے

کیا غضب ہے کہ دوست تو سمجھےدشمنوں کی رعایتوں سے مجھے

دم گریہ کمی نہ کر اے چشمشوق کم ہے کفایتوں سے مجھے

کمیٔ گریہ نے جلا ماراہوا نقصاں کفایتوں سے مجھے

لے گئی عشق کی ہدایت ذوقؔان کنے سب نہایتوں سے مجھے


خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھےحسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے

بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے جیاب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے

بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی وحشت وگرنہ پہلے توہاتھ کے ناخن بڑھے سر کے ہمارے مو بڑھے

تجھ کو دشمن واں شرارت سے جو بھڑکاتے ہے روزچاہتے ہیں اور شر اے شوخ آتش خو بڑھے

کچھ تپ غم کو گھٹا کیا فائدہ اس سے طبیبروز نسخے میں اگر خرفہ گھٹے کاہو بڑھے

پیشوائی کو غم جاناں کی چشم دل سے ذوقؔجب بڑھے نالہ تو اس سے بیشتر آنسو بڑھے


کون وقت اے وائے گزرا جی کو گھبراتے ہوئےموت آتی ہے اجل کو یاں تلک آتے ہوئے

آتش خورشید سے اٹھتا نہیں دیکھا دھواںآ کھڑے ہو بام پر تم بال سکھلاتے ہوئے

چاک آتا ہے نظر پیراہن صبح بہارکس شہید ناز کو دیکھا ہے کفناتے ہوئے

وہ نہ جاگے رات کو اور ضد سے بخت خفتہ کیبج گیا آخر گجر زنجیر کھڑکاتے ہوئے


کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کرچل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر

طفل اشک ایسا گرا دامان مژگاں چھوڑ کرپھر نہ اٹھا کوچۂ چاک گریباں چھوڑ کر

کیونکہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کرجائے بیضے کو کہاں یہ مرغ پراں چھوڑ کر

جس نے ہو لذت اٹھائی زخم تیغ عشق کیکب وہ مرہم دان کو ڈھونڈے نمک داں چھوڑ کر

صید دل کو کیونکہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تومچھلیاں دست حنائی میں مری جاں چھوڑ کر

سرد مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہےیاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر خراماں چھوڑ کر

دیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑیدل کو اے کافر تری زلف پریشاں چھوڑ کر

اے دل اس کے تیر کے ہم راہ سینے سے نکلورنہ پچھتائے گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر

کیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترےشیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر

سرخی پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترےاٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیح مرجاں چھوڑ کر

پیش خیمہ لے کے نکلا گرد باد دور روہے جو سرگرم سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر

گر خدا دیوے قناعت ماہ دوہفتہ کی طرحدوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر

ساغر دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سےچوکتا ہے کیوں یہ جنس دست گرداں چھوڑ کر

کام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابر کرمورنہ جائے داغ عصیاں میرا داماں چھوڑ کر

پڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جاجانب مضمون طرز تفتہ جاناں چھوڑ کر


کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دےنہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے

بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دےدگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے

گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دےکہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے

ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیرابخدا کے واسطے تیغ ستم کو آب تو دے

تمہارے مطلع ابرو پہ یہ کہے ہے خالکہ ایسا نقطہ کوئی وقت انتخاب تو دے

در قبول ہے درباں نہ بند کر در یاردعائے خیر مری ہونے مستجاب تو دے

کھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ نرگسذرا دکھا تو اسے چشم نیم خواب تو دے

بلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کاتسلی آ کے مجھے وقت اضطراب تو دے

ہوا بگولے میں ہے کشتگان زلف کی خاککہ بعد مرگ بھی معلوم پیچ و تاب تو دے

بلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز جگربجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے

شہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدیٹھہرنے مجھ کو تہ تیغ اضطراب تو دے

شکار بستۂ فتراک کو ترے مقدورہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر رکاب تو دے

دل برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خواروجو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے

نشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرےجو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے

جواب نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ یارجو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے

رکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل ہمت کانہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ حباب تو دے

کہاں بجھی ہے تہ خاک میری آتش دلکہو ہوا سے ہلا دامن سحاب تو دے

خنک دلوں کی اگر آہ سرد دوزخ میںپڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے

کرے گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سےنگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ تاب تو دے

پہنچ رہوں گا سر منزل فنا اے ذوقؔمثال نقش قدم کرنے پا تراب تو دے


کب حق پرست زاہد جنت پرست ہےحوروں پہ مر رہا ہے یہ شہوت پرست ہے

دل صاف ہو تو چاہیئے معنی پرست ہوآئینہ خاک صاف ہے صورت پرست ہے

درویش ہے وہی جو ریاضت میں چست ہوتارک نہیں فقیر بھی راحت پرست ہے

جز زلف سوجھتا نہیں اے مرغ دل تجھےخفاش تو نہیں ہے کہ ظلمت پرست ہے

دولت کی رکھ نہ مار سر گنج سے امیدموذی وہ دے گا کیا کہ جو دولت پرست ہے

عنقا نے گم کیا ہے نشاں نام کے لیےگم گشتہ کون کہتا ہے شہرت پرست ہے

یہ ذوقؔ مے پرست ہے یا ہے صنم پرستکچھ ہے بلا سے لیک محبت پرست ہے


جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جداہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلارہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا

دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافرتو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا

جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضاحروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا

ہے اور علم و ادب مکتب محبت میںکہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا

ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہکہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا

فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تکالٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگرنہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا

کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔکہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا


جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے

زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کامدل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے

ہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ورمنظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے

اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمنہر نے میں بھری آگ نیستاں کے لیے ہے

کچھ بخت سے میرے جو سوا ہے وہ سیاہیباقی ہے تو میری شب ہجراں کے لیے ہے

دیوانہ ہوں میں بھی وہ تماشا کہ مرا ذکرگویا سبق اطفال دبستاں کے لیے ہے

ہے بادہ کشوں کے لیے اک غیب سے تائیدزاہد جو دعا مانگتا باراں کے لیے ہے

چنگل میں ہے موذی کے دل اس چشم کے ہاتھوںگھیرا یہ غضب پنجۂ مژگاں کے لیے ہے

میں کس کی نگاہوں کا ہوں وحشی کہ مری خاکاک کحل بصر چشم غزالاں کے لیے ہے

دل بھی ہے بلا قابل مشق ستم و نازجو تیر ہے اس تودۂ طوفاں کے لیے ہے

نکلے کوئی کیا قید علائق سے کہ اے ذوقؔدر ہی نہیں اس خانۂ زنداں کے لیے ہے


جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کرکیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر

میں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج زنداں چھوڑ کرسیب جنت تک نہ کھاؤں سنگ طفلاں چھوڑ کر

پیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کےکھینچے تو شنگرف سے خون شہیداں چھوڑ کر

میں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرارہ گیا بس منشی قدرت جگہ واں چھوڑ کر

سایۂ سرو چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھےسانپ سا پانی میں اے سرو خراماں چھوڑ کر

ہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر عشقبھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق میزاں چھوڑ کر

اہل جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلکلعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر

شوق ہے اس کو بھی طرز نالۂ عشاق سےدم بدم چھیڑے ہے منہ سے دود قلیاں چھوڑ کر

دل تو لگتے ہی لگے گا حوریان عدن سےباغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر

گھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطےبیٹھے ہیں گھر بار ہم سب خانہ ویراں چھوڑ کر

وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجبروئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخنکون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر


ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہےکیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے

دختر رز نکل کے مینا سےکرتی کیا کیا زباں درازی ہے

خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میںحسن کی یہ ادا طرازی ہے

ہندوئے چشم طاق ابرو میںکیا بنا آن کر نمازی ہے

نذر دیں نفس کش کو دنیا دارواہ کیا تیری بے نیازی ہے

بت طناز ہم سے ہو ناسازکارسازوں کی کارسازی ہے

سچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔمال موذی نصیب غازی ہے


ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سے

دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سےجتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے

ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خواربرستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے

غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاںصف عشاق ہے برہم ابھی سے

اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرےنہیں پر اپنے دم میں دم ابھی سے

بھگو رہوے گا گریہ جیب و دامنرہے ہے آستیں پر نم ابھی سے

تمہارا مجھ کو پاس آبرو تھاوگرنہ اشک جاتے تھم ابھی سے

لگے سیسہ پلانے مجھ کو آنسوکہ ہو بنیاد غم محکم ابھی سے

کہا جانے کو کس نے مینہ کھلے پرکہ چھایا دل پہ ابر غم ابھی سے

نکلتے ہی دم اٹھواتے ہیں مجھ کوہوئے بے زار یوں ہمدم ابھی سے

ابھی دل پر جراحت سو نہ دو سودھرا ہے دوستو مرہم ابھی سے

کیا ہے وعدۂ دیدار کس نےکہ ہے مشتاق اک عالم ابھی سے

مرا جانا مجھے غیروں نے اے ذوقؔکہ پھرتے ہیں خوش و خرم ابھی سے


ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہواک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو

ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہوآئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوالہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو

پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گردبرگ ریزی محبت کا ثمر دیکھتے ہو

بید مجنوں کو ہو جب دیکھتے اے اہل نظرکسی مجنوں کو بھی آشفتہ بسر دیکھتے ہو

شوق دیدار مری نعش پہ آ کر بولاکس کی ہو دیکھتے راہ اور کدھر دیکھتے ہو

لذت ناوک غم ذوقؔ سے ہو پوچھتے کیالب پڑے چاٹتے ہیں زخم جگر دیکھتے ہو


ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کاچشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا

میں جو شہید ہوں لب خندان یار کاکیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا

ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کاپردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا

اس روئے تابناک پہ ہر قطرۂ عرقگویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا

ہے عین وصل میں بھی مری چشم سوئے درلپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا

پہنچے گا تیرے پاس کبوتر سے پیشترمکتوب شوق اڑا کے ترے بے قرار کا

ہو پاک دامنوں کو خلش گر سے کیا خطرکھٹکا نہیں نگاہ کو مژگاں کے خار کا

بجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر خاک بھیہوگا درخت گور پہ میری چنار کا

دیکھ اپنے در گوش کو عارض سے متصلدیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح بہار کا

پوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشکشربت ہے باغ خلد بریں کے انار کا

ہے دل کی داؤ گھات میں مژگاں سے چشم یارہے شوق اس کی ٹٹی کی اوجھل شکار کا

قاصد لکھوں لفافۂ خط کو غبار سےتا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا

اے ذوقؔ ہوش گر ہے تو دنیا سے دور بھاگاس مے کدے میں کام نہیں ہوشیار کا


ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیںشاید اس کو دیکھ کر صل علیٰ کہنے کو ہیں

وصف چشم و وصف لب اس یار کا کہنے کو ہیںآج ہم درس اشارات و شفا کہنے کو ہیں

آج ان سے مدعی کچھ مدعا کہنے کو ہیںپر نہیں معلوم کیا کہویں گے کیا کہنے کو ہیں

جو وہ قد قامت سدا کہنے کو ہیںاور عاشق وصف قد قامت ترا کہنے کو ہیں

پوچھ آ قاتل سے تو وہ کب کرے گا ہم کو قتلآج ہم تاریخ مرگ آپ اے قضا کہنے کو ہیں

میں ترے ہاتھوں کے قرباں واہ کیا مارے ہیں تیرسب دہان زخم منہ سے مرحبا کہنے کو ہیں

وہ جنازے پر مرے کس وقت آئے دیکھناجب کہ اذن عام میرے اقربا کہنے کو ہیں


گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیںبشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں

نہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیںیہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں

وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیںمحبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں

وہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیںہم ان کو دیکھتے ہیں اور جگر کو دیکھتے ہیں

جب اپنے گریہ و سوز جگر کو دیکھتے ہیںسلگتی آگ میں ہم خشک و تر کو دیکھتے ہیں

رفیق جب مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیںتو چارہ گر انہیں وہ چارہ گر کو دیکھتے ہیں

نہ طمطراق کو نے کر و فر کو دیکھتے ہیںہم آدمی کے صفات و سیر کو دیکھتے ہیں

جو رات خواب میں اس فتنہ گر کو دیکھتے ہیںنہ پوچھ ہم جو قیامت سحر کو دیکھتے ہیں

وہ روز ہم کو گزرتا ہے جیسے عید کا دنکبھی جو شکل تمہاری سحر کو دیکھتے ہیں

جہاں کے آئینوں سے دل کا آئینہ ہے جدااس آئینے میں ہم آئینہ گر کو دیکھتے ہیں

بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گرہنر ور اپنے ہی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں


گئیں یاروں سے وہ اگلی ملاقاتوں کی سب رسمیںپڑا جس دن سے دل بس میں ترے اور دل کے ہم بس میں

کبھی ملنا کبھی رہنا الگ مانند مژگاں کےتماشہ کج سرشتوں کا ہے کچھ اخلاص کے بس میں

توقع کیا ہو جینے کی ترے بیمار ہجراں کےنہ جنبش نبض میں جس کی نہ گرمی جس کے ملمس میں

دکھائے چیرہ دستی آہ بالادست گر اپنیتو مارے ہاتھ دامان قیامت چرخ اطلس میں

جو ہے گوشہ نشیں تیرے خیال مست ابرو میںوہ ہے بیت الصنم میں بھی تو ہے بیت المقدس میں

کرے لب آشنا حرف شکایت سے کہاں یہ دمترے محزون بے دم میں ترے مفتون بیکس میں

ہوائے کوے جاناں لے اڑے اس کو تعجب کیاتن لاغر میں ہے جاں اس طرح جس طرح بو خس میں

مجھے ہو کس طرح قول و قسم کا اعتبار ان کےہزاروں دے چکے وہ قول لاکھوں کھا چکے قسمیں

ہوئے سب جمع مضموں ذوقؔ دیوان دو عالم کےحواس خمسہ ہیں انساں کے وہ بند مخمس میں


اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہےلیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے

آنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیےکب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے

ہے سر شہید عشق کا زیب سنان یارصد شکر بارے نخل وفا بارور تو ہے

مانند شمع گریہ ہے کیا شغل طرفہ ترہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے

ہے درد دل میں گر نہیں ہمدرد میرے پاسدل سوز کوئی گر نہیں سوز جگر تو ہے

اے دل ہجوم درد و الم سے نہ تنگ ہوخانہ خراب خوش ہو کہ آباد گھر تو ہے

تربت پہ دل جلوں کی نہیں گر چراغ و گلسینے میں سوزش دل و داغ جگر تو ہے

غائب میں جو کہا سو کہا پھر بھی ہے یہ شکرخاموش ہو گیا وہ مجھے دیکھ کر تو ہے

کشتی بحر غم ہے مرے حق میں تیغ یارکر دیتی ایک دم میں ادھر سے ادھر تو ہے

وہ دل کہ جس میں سوز محبت نہ ہووے ذوقؔبہتر ہے سنگ اس سے کہ اس میں شرر تو ہے


دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میںشمع ہے اک سوزن گم گشتہ اس کاشانہ میں

میں ہوں وہ خشت کہن مدت سے اس ویرانے میںبرسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے خانہ میں

میں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شرابجوش کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں

برق خرمن سوز دانائی ہے نافہمی تریورنہ کیا کیا لہلہاتے کھیت ہیں ہر دانہ میں

کس نزاکت سے ہے دیکھو اتحاد حسن و عشقزلف واں شانے نے کھینچی درد ہے یاں شانہ میں

وحشت و ناآشنائی مستی و بیگانگییا تری آنکھوں میں دیکھی یا ترے دیوانہ میں

عشق کو نشوونما منظور ہے کب ورنہ سبزتخم اشک شمع ہو خاکستر پروانہ میں

ہوش کا دعویٰ ہے بے ہوشوں کو زیر آسماںخم نشیں مثل فلاطوں سب ہیں اس خم خانہ میں

پتھروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے ناحق سیل آبپوچھو کیا لے جائے گا آ کر مرے غم خانہ میں

ایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئےذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانہ میں


دل بچے کیونکر بتوں کی چشم شوخ و شنگ سےاپنا گھر تو سوجھتا ہے سیکڑوں فرسنگ سے

ایک بھی نکلے نہ میری سی فغان دل خراشگرچہ خوں ٹپکے گلوئے مرغ خوش آہنگ سے

چھپ کے بیٹھے گا کہاں تو ہم سے اے رنگیں نواہوگا تو جس رنگ میں مل جائیں گے اس رنگ سے

بل بے باریکی کہ گویا ہر ترا تار سخنجنتری میں کھنچ کے نکلا ہے دہان تنگ سے

اے تغافل کیش جلدی آ کہ تو واقف نہیںاس دل بیتاب و جان مضطرب کے ڈھنگ سے

جوش گریہ سے رہی برسات برسوں پر کبھیاس کی تیغ تیز آلودہ نہ دیکھی زنگ سے

میرے گریے کے اثر سے ہو گئے پتھر بھی آبجھڑتے ہیں جائے شرر پانی کے قطرے سنگ سے

پہلے یہ نیت وضو کی ہے نماز عشق میںدل سے کہہ دیجے کہ دھووے ہاتھ نام و ننگ سے

ذوقؔ زیبا ہے جو ہو ریش سفید شیخ پروسمہ آب بنگ سے مہندی مئے گل رنگ سے


دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھےہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے

ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھےکانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے

پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھےزنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے

تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کوبخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے

اے میرے یاسمن ترے دندان آبدارگلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے

محراب کعبہ جب سے ہے تیرا خم کماںصید حرم سمجھتے ہیں ناوک فگن مجھے

ہے تن میں ریشہ ہائے نئے خشک استخواںکیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف تن مجھے

اے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم بہایاقوت دے یا دے کوئی لعل یمن مجھے

ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگرفانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے

اک سرزمین لالہ بہار و خزاں میں ہوںیکساں ہے داغ تازہ و داغ کہن مجھے

خسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوںشیریں نہ ہووے خون سر کوہ کن مجھے

رخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نےآتا نظر ہے دیدۂ عنقا دہن مجھے

یہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاکاک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے

کوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبرشب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے

دکھلاتا آسماں سے ہے روئے زمیں کی سیراے رشک ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے

رکھتا ہے چشم لطف پہ کس کس ادا کے ساتھدیتا ہے جام ساقی پیماں شکن مجھے

ہے جذب دل درست تو چاہ فراق سےکھینچے گی تیری زلف شکن در شکن مجھے

دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤاس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے

جیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہادل سوجھتا ہے یوں تہ چاہ ذقن مجھے

آ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھاآنکھیں دکھا رہا ہے غرال ختن مجھے

آ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہواصحرائے دل ہوا ہے چمن در چمن مجھے

یا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینہ نظردکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے

آیا ہوں نور لے کے میں بزم سخن میں ذوقؔآنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہل سخن مجھے


دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیاسن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا

بل بے گداز عشق کہ خوں ہو کے دل کے ساتھسینے سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوںکیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

ہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظبیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ گیا

دریائے اشک سے دم تحریر حال دلکشتی کی طرح میرا قلم دان بہہ گیا

یہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پانی کے آبلےنالہ سا ایک سوئے بیابان بہہ گیا

تھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنےسب مول تیرا لعل بدخشان بہہ گیا

کشتی سوار عمر ہوں بحر فنا میں ذوقؔجس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا

تھا ذوقؔ پہلے دہلی میں پنجاب کا سا حسنپر اب وہ پانی کہتے ہیں ملتان بہہ گیا


چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائےبرق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائےان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےان کو کف لا کر ڈرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

سن کے آمد ان کی از خود رفتہ ہو جاتے ہیں ہمپیشوا لینے کو جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

ہم نے اول ہی کہا تھا تو کرے گا ہم کو قتلتیوروں کا تاڑ جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

لطف اٹھانا ہے اگر منظور اس کے ناز کاپہلے اس کا ناز اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

جو سکھایا اپنی قسمت نے وگرنہ اس کو غیرکیا سکھائے گا سکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

دیکھ کر قاتل کو بھر لائے خراش دل میں خوںسچ تو یہ ہے مسکرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

تیر و پیکاں دل میں جتنے تھے دیے ہم نے نکالاپنے ہاتھوں گھر لٹانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

کہہ دو قاصد سے کہ جائے کچھ بہانے سے وہاںگر نہیں آتا بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

خط میں لکھوا کر انہیں بھیجا تو مطلع درد کادرد دل اپنا جتانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

جب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کرجھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

واں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغبات کا ایما سے پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

تیغ تو اوچھی پڑی تھی گر پڑے ہم آپ سےدل کو قاتل کے بڑھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

زخم کو سیتے ہیں سب پر سوزن الماس سےچاک سینے کے سلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

پوچھے ملا سے جسے کرنا ہو سجدہ سہو کاسیکھے گر اپنا بھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

کیا ہوا اے ذوقؔ ہیں جوں مردمک ہم رو سیاہلیکن آنکھوں میں سمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے


چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہےموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے

میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہےیہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے

کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وشبید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے

خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سواہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے

ہو یہ لبیک حرم یا یہ اذان مسجدمے کشو قلقل مینا کی صدا یاد رہے

یاد اس وعدہ فراموش نے غیروں سے بدییاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے

خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذدیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے

دو ورق میں کف حسرت کے دو عالم کا ہے علمسبق عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے

قتل عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نےپر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے

طائر قبلہ نما بن کے کہا دل نے مجھےکہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے گا جا یاد رہے

جب یہ دیں دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتےکاش اس وقت انہیں نام خدا یاد رہے

ہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یادبھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے

محو اتنا بھی نہ ہو عشق بتاں میں اے ذوقؔچاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے


بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہیوہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی

سنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہیپر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی

گو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مریشکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی

کیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہےپاؤں کاٹوں گا انگوٹھا وہ جمائے تو سہی

پارۂ مصحف دل تھے ترے کوچہ میں پڑےآتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی

صاف بے پردہ نہیں ہوتا وہ غرفہ میں نہ ہوروزن در سے کبھی آنکھ لڑائے تو سہی

گہ بڑھاتا ہے گہے مہ کو گھٹاتا ہے فلکپر شب ہجر کو ہم دیکھیں گھٹائے تو سہی

کروں اک نالے سے میں حشر میں برپا سو حشرشور محشر مجھے سوتے سے جگائے تو سہی

گر پڑے تھے کئی اس کوچے میں دل کے ٹکڑےآتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی

تھے تمہیں نکلے جو اس دام بلا سے اے ذوقؔورنہ تھے پیچ میں اس زلف کے آئے تو سہی


برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئیکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی

اس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئیہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی

ناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئیچیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی

صبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہاے دل شامت زدہ شامت لگا کر لے گئی

خون سے فرہاد کے رنگیں ہوا دامان کوہکیوں نہ موج شیر یہ دھبا چھڑا کر لے گئی

تم نے تو چھوڑا ہی تھا اے ہم رہان قافلہلیکن آواز جرس ہم کو جگا کر لے گئی

نوک مژگاں جب ہوئی سینہ فگاروں سے دو چارپارہ ہائے دل سے گلدستہ بنا کر لے گئی

دیکھی کچھ دل کی کشش لیلیٰ کہ ناقے کو ترےسوئے مجنوں آخرش رستہ بھلا کر لے گئی

واہ اے سوز دروں کوچے میں اس کے برق آہرات ہم کو ہر قدم مشعل دکھا کر لے گئی

وہ گئے گھر غیر کے اور یاں ہمیں دم بھر کے بعدبدگمانی ان کے گھر سو گھر پھرا کر لے گئی

جو شہید ناز کوچے میں تمہارے تھا پڑاکیا کہوں تقدیر اسے کیونکر اٹھا کر لے گئی

دشت وحشت میں بگولا تھا کہ دیوانہ تراروح مجنوں بہر استقبال آ کر لے گئی

آگ میں ہے کون گر پڑتا مگر پروانے کوآتش سوز محبت تھی جلا کر لے گئی

اے پری پہلو سے میرے کیا کہوں تیری نگاہدل اڑا کر لے گئی یا پر لگا کر لے گئی

ذوقؔ مر جانے کا تو اپنے کوئی موقع نہ تھاکوئے جاناں میں اجل ناحق لگا کر لے گئی


بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیںہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں

ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیںتو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں

شب وصال کے روز فراق میں کیا کیانصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں

قمر ہی داغ غلامی فقط نہیں رکھتاوہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ہیں

ہم ان کے زور کے قائل ہیں ہیں وہی شہ زورجو عشق میں دل مضطر کو تھام لیتے ہیں

قتیل ناز بتاتے نہیں تجھے قاتلجب ان سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں

ترے اسیر جو صیاد کرتے ہیں فریادتو پھر وہ دم ہی نہیں زیر دام لیتے ہیں

جھکائے ہے سر تسلیم ماہ نو پر وہغرور حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں

ترے خرام کے پیرو ہیں جتنے فتنے ہیںقدم سب آن کے وقت خرام لیتے ہیں

ہمارے ہاتھ سے اے ذوقؔ وقت مے نوشیہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں


باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہےدل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے

کیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہےکہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے

دل کہاں سیر تماشے پہ مرا لگتا ہےجی کے لگ جانے سے جینا بھی برا لگتا ہے

جو حوادث سے زمانے کے گرا پھر نہ اٹھانخل آندھی کا کہیں اکھڑا ہوا لگتا ہے

دل لگانے کا مزا ہے کہ گزک میں اس کےسب کبابوں سے نمک دل پہ سوا لگتا ہے

نہ شب ہجر میں لگتی ہے زباں تالو سےاور نہ پہلو مرا بستر سے ذرا لگتا ہے

ہائے محتاج ہوا مرہم زنگار کا توزخم دل زہر مجھے ہنسنا ترا لگتا ہے

آب خنجر جو ہے زہراب وفاداری کوپانی شاید کہ سر ملک فنا لگتا ہے

قد مجنوں کوئی پہلے سے چھڑی بید کی ہےجب ذرا جھکتا ہے قد پاؤں سے جا لگتا ہے

زرد زاہد ہے تو کیا کھوٹ ابھی ہے دل میںذوقؔ اس زر کو کسوٹی پر کسا لگتا ہے


بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کرایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر

دل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ بھال کراے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر

اترے گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سےخاک دل شکستہ نہ صرف کلال کر

لے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھدل کیا کنارے ہو گیا سب کو سنبھال کر

تصویر ان کی حضرت دل کھینچ لیجے گررکھ دیں گے ہم بھی پاؤں پہ آنکھیں نکال کر

قاتل ہے کس مزے سے نمک پاش زخم دلبسمل ذرا تڑپ کے نمک تو حلال کر

دل کو رفیق عشق میں اپنا سمجھ نہ ذوقؔٹل جائے گا یہ اپنی بلا تجھ پہ ٹال کر


عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھویہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھوزبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

نہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہجو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو

سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہواگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو

پڑے کتاب کے قصوں میں کیا کرو دل صافصفا ہو دل تو بہ از روضۃ الصفا سمجھو

ہنسے جو وہ مرے رونے پہ تو صف مژگاںنہ سمجھو تم اسے دیوار قہقہا سمجھو

نفس کی آمد و شد ہے نماز اہل حیاتجو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھو

تمہاری راہ میں ملتے ہیں خاک میں لاکھوںاس آرزو میں کہ تم اپنا خاک پا سمجھو

دعائیں دیتے ہیں ہم دل سے تیغ قاتل کولب جراحت دل کو لب دعا سمجھو

بہا دیا مرا خوں اس نے اپنے کوچے میںاسی کو یارو دیت سمجھو خوں بہا سمجھو

سمجھ ہے اور تمہاری کہوں میں تم سے کیاتم اپنے دل میں خدا جانے سن کے کیا سمجھو

تمہیں ہے نام سے کیا کام مثل آئینہجو روبرو ہو اسے صورت آشنا سمجھو

زہے نصیب کہ ہنگام مشق تیر ستمہمارے ڈھیر کو تم تو وہ خاک کا سمجھو

نہیں ہے کم زر خالص سے زردی رخسارتم اپنے عشق کو اے ذوقؔ کیمیا سمجھو


اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ

چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے قرارتیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ

کھائے ہے اس مزے سے غم عشق میرا دلجیسے گرسنہ مارے ہے حلوائے تر پہ ہاتھ

خط دے کے چاہتا تھا زبانی بھی کچھ کہےرکھا مگر کسی نے دل نامہ بر پہ ہاتھ

جوں پنج شاخہ تو نہ جلا انگلیاں طبیبرکھ رکھ کے نبض عاشق تفتہ جگر پہ ہاتھ

قاتل یہ کیا ستم ہے کہ اٹھتا نہیں کبھیآ کر مزار کشتۂ تیغ نظر پہ ہاتھ

میں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غباراٹھتا ہوں رکھ کے دوش نسیم سحر پہ ہاتھ

اے شمع ایک چور ہے بادی یہ باد صبحمارے ہے کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ

اے ذوقؔ میں تو بیٹھ گیا دل کو تھام کراس ناز سے کھڑے تھے وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ


اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کیتو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے

خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داںپر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے

پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہمپہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے

شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤںپر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے

ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پربلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے

آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانیجب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے

نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگزہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے

سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریاچڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے

لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیںاور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے

رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تممہر و ماہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے

ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیںیاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملاان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے


آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائیرہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی

مجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصےجب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی

شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سےشکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی

کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گادیتا نہیں مجھے تو اے بے خودی سنائی

کہنے نہ پائے اس سے ساری حقیقت اک دنآدھی کبھی سنائی آدھی کبھی سنائی

صورت دکھائے اپنی دیکھیں وہ کس طرح سےآواز بھی نہ ہم کو جس نے کبھی سنائی

قیمت میں جنس دل کی مانگا جو ذوقؔ بوسہکیا کیا نہ اس نے ہم کو کھوٹی کھری سنائی


آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھاہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا

جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہترجو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا

بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالالیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا

ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنےلینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا

کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فاماژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا

تاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہےلیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا

دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھریہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا

فرقت میں تری تار نفس سینے میں میرےکانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا

اے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقابلکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا

ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبتیہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا

وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہراور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا

ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شاماور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا

جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سےگر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا

القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سےدل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا

ہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرطجوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا


آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہےجان کشتی قضا سے لڑتی ہے

شعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میںشمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے

قسمت اس بت سے جا لڑی اپنیدیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے

شور قلقل یہ کیوں ہے دختر رزکیا کسی پارسا سے لڑتی ہے

نہیں مژگاں کی دو صفیں گویااک بلا اک بلا سے لڑتی ہے

نگۂ ناز اس کی عاشق سےچھوٹ کس کس ادا سے لڑتی ہے

تیرے بیمار کے سر بالیںموت کیا کیا شفا سے لڑتی ہے

زال دنیا نے صلح کی کس دنیہ لڑاکا سدا سے لڑتی ہے

واہ کیا کیا طبیعت اپنی بھیعشق میں ابتدا سے لڑتی ہے

دیکھ اس چشم مست کی شوخیجب کسی پارسا سے لڑتی ہے

تیری شمشیر خوں کے چھینٹوں سےچھینٹے آب بقا سے لڑتی ہے

سچ ہے الحرب خدعۃ اے ذوقؔنگہ اس کی دغا سے لڑتی ہے