یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیںافسوس کرے ہے دل میں کیا کیا راہیںتھے شور جو قہقہ کے سو ان کے بدلےاب شور مچا رہی ہیں جی میں آہیں
اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیاابرو نے کجی کے ڈھب کو پیوستہ کیاآنکھوں نے نگہ نے اور مژہ نے کیا کیاکیفی کیا دیوانہ کیا خستہ کیا
اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھامکھڑے میں عجب حسن کا نقشہ دیکھاایک آن دکھائی ہمیں ہنس کر ایسیجس آن میں کیا کہیں کہ کیا کیا دیکھا
ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیاپیتے ہی نشے کا یہ سرانجام لیامعلوم نہیں جھک گئے یا بیٹھے رہےیا گر پڑے یا کسی نے پھر تھام لیا
رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کواور کرتی ہے شاد باری باری ہم کوکچھ دیر جو کہ تھی ہم نے دل دیتے وقتاب تک ہے اسی کی سرشاری ہم کو
رکھتے ہیں جو ہم چاہ تمہاری دل میںآرام کی ہے امیدواری دل میںتم حکم قرار کو نہ دو گے جب تکالبتہ رہے گی بے قراری دل میں
پس اس کے گئے سپر جو ہم کر سینہدل کرنے کو اس کی جاہ کا گنجینہجب ہم نے کہا دیکھنے آئے ہیں تمہیںسن کر یہ لگا وہ دیکھنے آئنہ
پان اس کے لبوں پہ اس قدر ہے زیباہو رنگ پہ جس کے سرخیٔ لعل فداہر فندق انگشت سے اس دست کو گرگلدستۂ باغ حسن کہیے تو بجا
ناصح نہ سنا سخن مجھے جس تس کےجو تو نے کہا یہ آوے جی میں کس کےکیوں کر نہ ملوں بھلا جی میں اس سے آہدل رہ نہ سکے بغیر دیکھے جس کے
مکھڑے کو جو اس کے ہم نے جا کر دیکھاسنکھ تو نہیں یہ چھپ چھپا کر دیکھاوہ حسن نظر پڑا کہ جس کا ہم نےجب رات ہوئی تو مہ کو چاکر دیکھا
محبوب نے پیرہن میں جب عطر ملااور پان چبا کے اپنے گھر سے وہ چلاہم نے یہ کہا نہ جاؤ باہر اے جاںہے شام قریب ہنس دیا کہہ کے بھلا
کیا حال اب اس سے اپنے دل کا کہئےمنظور نہیں یہ بھی کہ بے جا کہئےمشکل ہے مہینوں میں نہ جاوے جو کہاپھر ملیے جو ایک دم تو کیا کیا کہئے
کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیںاور دل کو ذرا بیٹھ کے بہلاتے ہیںہو تم جو دل آرام تو ہم دیکھ تمہیںاک دم رخ آرام کو تک جاتے ہیں
ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیررک بیٹھے تو ہیں ولے کریں کیا تقریردل ہاتھ سے جاتا ہے بغیر اس سے ملےاب جو نہ پڑیں پاؤں تو پھر کیا تدبیر
ہم دل سے جو چاہتے ہیں اے جان تمہیںبے کل ہوں اگر نہ دیکھیں ایک آن تمہیںتم پاس بٹھاؤ تو ذرا بیٹھیں ہممشکل ہے ہمیں تو اور ہے آسان تمہیں
ہم دیکھ کے تم سے رخ آرام میاںخوش رہتے ہیں دل میں سحر و شام میاںدیوانے تمہارے جب ادا کے ٹھہرےپھر حسن پری سے ہمیں کیا کام میاں
ہوں کیوں نہ بتوں کی ہم کو دل سے چاہیںہیں ناز و ادا میں ان کو کیا کیا راہیںدل لینے کو سینے سے لپٹ کر کیا کیاڈالے ہیں گلے میں پتلی پتلی باہیں
ہے چاہ نے اس کی جب سے کی جا دل میںکیا کیا کہئے جو ہے مہیا دل میںجاتی ہے جدھر نگاہ اللہ اللہآتا ہے نظر عجب تماشا دل میں
گر یار سے ہر روز ملاقات نہیںاور ہو بھی گئی تو پھر مدارات نہیںدل دے چکے اب قدر ہو یا بے قدریجو کچھ ہو سو ہو بس کی تو کچھ بات نہیں
دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوااور چاہ ذقن سے مثل گرداب ہواکی عرض کہ بے قرار دل ہے تو کہااب دل نہ کہو اسے جو سیماب ہوا
اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نےاور پل میں لڑا کے پھر جھکائی اس نےاپنی بے باکی اور حیا کی خوبیتھی ہم کو دکھانی سو دکھائی اس نے
آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیااس دیر سے خجلت نے ہمیں گھیر لیاجب ہم نے کہا کیا یہی عاشق ہے میاںیہ سنتے ہی آئینے سے منہ پھیر لیا