آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیاآنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا
پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیاجب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کوواں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا
کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوںغیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا
اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھیکوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا
جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگیآیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیلمیں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سےمجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا
مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاکگل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا
بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھےمومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا
تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میںبیچارگی سے جان پڑی کس عذاب میں
بے نالہ منہ سے جھڑتے ہیں بے گریہ آنکھ سےاجزائے دل کا حال نہ پوچھ اضطراب میں
چرخ و زمیں میں توبہ کا ملتا نہیں سراغہنگامۂ بہار و ہجوم سحاب میں
اے زہرہ چہرہ دشمن منحوس کو نہ دیکھنالے بہیں گے خون کے اس فتح یاب میں
اتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوںدریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں
فکر مآل سے مے و شاہد رہے عزیزپیری میں موت یاد تھی پیری شباب میں
تم نکلے بہر سیر تو نکلے گا مہر بھیہووے گا اجتماع شب ماہتاب میں
ڈوبی ہجوم اشک سے کشتی زمین کیماہی کو اضطراب ہوا جوش آب میں
کھولا جو دفتر گلہ اپنا زیاں کیاگزری شب وصال ستم کے حساب میں
اے حشر جلد کر تہہ و بالا جہان کویوں کچھ نہ ہو امید تو ہے انقلاب میں
قاتل جفا سے باز نہ آیا وفا سے ہمفتراک میں جو سر ہے تو جاں ہے رکاب میں
بازیچہ کر دیا ستم یار و جور چرخطفلی سے غلغلہ ہے مرا شیخ و شاب میں
مومنؔ یہ عالم اس صنم جاں فزا کا ہےدل لگ گیا جہان سراسر خراب میں
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیںوہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگووہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دمگلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگیتو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھیکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھاسو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئیتو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کاوہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفامیں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا
بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
ذکر اغیار سے ہوا معلومحرف ناصح برا نہیں ہوتا
کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیکجنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
اس نے کیا جانے کیا کیا لے کردل کسی کام کا نہیں ہوتا
امتحاں کیجئے مرا جب تکشوق زور آزما نہیں ہوتا
ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہےتجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا
آہ طول امل ہے روز فزوںگرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
حال دل یار کو لکھوں کیوں کرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
رحم بر خصم جان غیر نہ ہوسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
دامن اس کا جو ہے دراز تو ہودست عاشق رسا نہیں ہوتا
چارۂ دل سوائے صبر نہیںسو تمہارے سوا نہیں ہوتا
کیوں سنے عرض مضطر اے مومنؔصنم آخر خدا نہیں ہوتا
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرااس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصحطرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو
ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلےکم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو
مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہبدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو
محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سےمنظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپکشعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو
دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسواس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو
جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سےجور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرحاٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح
آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میںبنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح
تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرےسب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح
مر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائےکہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح
نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میںکم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح
لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلیقربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح
پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سےآئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح
نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہےکیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح
معشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میںکرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح
ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سےکیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گےفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے
ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گےنیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے
تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوںاور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لےہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے
ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہملاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے
کر کے زخمی تجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیںگر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بسایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے
ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرااس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیںچارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے
منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھیزندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے
تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہےگل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے
غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرمکیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے
داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہیہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے
چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیںایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے
پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگیپھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے
سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنونوہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے
عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔآخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہمپر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم
ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی ہممنہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم
ہم سے نہ بولو تم، اسے کیا کہتے ہیں بھلاانصاف کیجیے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم
بیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتےشاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم
اس کُو میں جا مریں گے مدد اے ہجومِ شوقآج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم
صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیالو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم
بے روئے مثلِ ابر نہ نکلا غبارِ دلکہتے تھے ان کو برقِ تبسم ہنسی سے ہم
ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خارِ راہِ غیرکیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم
کیا گُل کھلے گا دیکھیے ہے فصلِ گُل تو دوراور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم
منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھےبے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم
ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنےہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم
وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دمِ بکامنہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشمِ پری سے ہم
کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشناکیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم
لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیںمومن نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاپر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاتو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تکیہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کچھ غیر سے ہونٹوں میں کہے ہے یہ جو پوچھوتو ووہیں مکرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کب پاس پھٹکنے دوں رقیبوں کو تمہارےپر پاس تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنا دوںپر خوف خدا کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کیا کیا نہ کہے غیر کی گر بات نہ پوچھویہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کیا کہئے نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہسن سن کے وہ چپکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالمبس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
چپکے سے ترے ملنے کا گھر والوں میں تیرےاس واسطے چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ہاں تنگ دہانی کا نہ کرنے کے لیے باتہے عذر پر ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
اے چارہ گرو قابل درماں نہیں یہ دردورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ہر وقت ہے دشنام ہر اک بات میں طعنہپھر اس پہ بھی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کچھ سن کے جو میں چپ ہوں تو تم کہتے ہو بولوسمجھو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
سنتا نہیں وہ ورنہ یہ سرگوشی اغیارکیا مجھ کو گوارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مومنؔ بخدا سحر بیانی کا جبھی تکہر ایک کو دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھےخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
اس پری وش سے لگاتے ہیں مجھےلوگ دیوانہ بناتے ہیں مجھے
یا رب ان کا بھی جنازہ اٹھےیار اس کو سے اٹھاتے ہیں مجھے
ابروئے تیغ سے ایما ہے کہ آقتل کرنے کو بلاتے ہیں مجھے
بے وفائی کا عدو کی ہے گلہلطف میں بھی وہ ستاتے ہیں مجھے
حیرت حسن سے یہ شکل بنیکہ وہ آئینہ دکھاتے ہیں مجھے
پھونک دے آتش دل داغ مرےاس کی خو یاد دلاتے ہیں مجھے
گر کہے غمزہ کسے قتل کروںتو اشارت سے بتاتے ہیں مجھے
میں تو اس زلف کی بو پر غش ہوںچارہ گر مشک سونگھاتے ہیں مجھے
شعلہ رو کہتے ہیں اغیار کو وہاپنے نزدیک جلاتے ہیں مجھے
جاں گئی پر نہ گئی جورکشیبعد مردن بھی دباتے ہیں مجھے
وہ جو کہتے ہیں تجھے آگ لگےمژدۂ وصل سناتے ہیں مجھے
اب یہ صورت ہے کہ اے پردہ نشیںتجھ سے احباب چھپاتے ہیں مجھے
مومنؔ اور دیر خدا خیر کرےطور بے ڈھب نظر آتے ہیں مجھے
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشقسچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دیناوہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیںکہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق
بوالہوس اور لاف جانبازیکھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق
وصل میں احتمال شادی مرگچارہ گر درد بے دوا ہے عشق
سوجھے کیونکر فریب دل داریدشمن آشنا نما ہے عشق
کس ملاحت سرشت کو چاہاتلخ کامی پہ بامزا ہے عشق
ہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنیدل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق
دیکھ حالت مری کہیں کافرنام دوزخ کا کیوں دھرا ہے عشق
دیکھیے کس جگہ ڈبو دے گامیری کشتی کا ناخدا ہے عشق
اب تو دل عشق کا مزا چکھاہم نہ کہتے تھے کیوں برا ہے عشق
آپ مجھ سے نباہیں گے سچ ہےباوفا حسن و بے وفا ہے عشق
میں وہ مجنون وحشت آرا ہوںنام سے میرے بھاگتا ہے عشق
قیس و فرہاد و وامق و مومنؔمر گئے سب ہی کیا وبا ہے عشق
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنامیری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا
اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاںاس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا
دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیںاے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا
دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیبتھا سازگار طالع ناساز دیکھنا
بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دنحال سپہر تفرقہ انداز دیکھنا
مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدمپامال ہو نہ جائے سرافراز دیکھنا
میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کوبے طاقتی پہ سرزنش ناز دیکھنا
ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سےمومنؔ غم مآل کا آغاز دیکھنا
اگر غفلت سے باز آیا جفا کیتلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
مرے آغاز الفت میں ہم افسوساسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی
کبھی انصاف ہے دیکھا نہ دیدارقیامت اکثر اس کو میں رہا کی
فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گرخبر لا دے کوئی تحت الثرا کی
شب وصل عدو کیا کیا جلا ہوںحقیقت کھل گئی روز جزا کی
چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیاگئی برباد سب محنت صبا کی
کشاد دل پہ باندھی ہے کمر آجنہیں ہے خیریت بند قبا کی
کیا جب التفات اس نے ذرا ساپڑی ہم کو حصول مدعا کی
کہا ہے غیر نے تم سے مرا حالکہے دیتی ہے بیباکی ادا کی
تمہیں شور فغاں سے میرے کیا کامخبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی
دیا علم و ہنر حسرت کشی کوفلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی
غم مقصد رسی تا نزع اور ہماب آئی موت بخت نارسا کی
مجھے اے دل تری جلدی نے مارانہیں تقصیر اس دیر آشنا کی
جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھاکہ تو نے کس توقع پر وفا کی
کہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔکہا میں کیا کروں مرضی خدا کی
محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیارحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا
الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میںلو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دیشیریں کو درد تلخی فرہاد آ گیا
ہم چارہ گر کو یوں ہی پنہائیں گے بیڑیاںقابو میں اپنے گر وہ پری زاد آ گیا
دل کو قلق ہے ترک محبت کے بعد بھیاب آسماں کو شکوۂ بیداد آ گیا
وہ بدگماں ہوا جو کہیں شعر میں مرےذکر بتان خلخ و نوشاد آ گیا
تھے بے گناہ جرأت پا بوس تھی ضرورکیا کرتے وہم خجلت جلاد آ گیا
جو ہو چکا یقیں کہ نہیں طاقت وصالدم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آ گیا
ذکر شراب و حور کلام خدا میں دیکھمومنؔ میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آ گیا
عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتاجو ہم نہ ہوتے تو دل نہ ہوتا جو دل نہ ہوتا تو غم نہ ہوتا
ہوئی خجالت سے نفرت افزوں گلے کیے خوب آخریں دموہ کاش اک دم ٹھہر کے آتے کہ میرے لب پر بھی دم نہ ہوتا
پڑا ہی مرنا بس اب تو ہم کو جو اس نے خط پڑھ کے نامہ بر سےکہا کہ گر سچ یہ حال ہوتا تو دفتر اتنا رقم نہ ہوتا
کسی کے جلنے کا دھیان آیا وگرنہ دود فغاں سے میرےاگر ہزاروں سپہر بنتے تمہاری آنکھوں میں نم نہ ہوتا
جو آپ در سے اٹھا نہ دیتے کہیں نہ کرتا میں جبہہ سائیاگرچہ یہ سر نوشت میں تھا تمہارے سر کی قسم نہ ہوتا
وصال کو ہم ترس رہے تھے جو اب ہوا تو مزا نہ پایاعدو کے مرنے کی جب خوشی تھی کہ اس کو رنج و الم نہ ہوتا
جہان تنگ و ہجوم وحشت غرض کہ دم پر بری بنی تھیکہاں میں جاتا نہ جی ٹھہرتا کہیں جو دشت عدم نہ ہوتا
مگر رقیبوں نے سر اٹھایا کہ یہ نہ ہوتا تو بے مروتنظر سے ظاہر حیا نہ ہوتی حیا سے گردن میں خم نہ ہوتا
وہاں ترقی جمال کو ہے یہاں محبت ہے روز افزوںشریک زیبا تھا بوالہوس بھی جو بے وفائی میں کم نہ ہوتا
غلط کہ صانع کو ہو گوارا خراش انگشت ہائے نازکجواب خط کی امید رکھتے جو قول جف القلم نہ ہوتا
یہ بے تکلف پھرا رہی ہے کشش دل عاشقاں کی اس کووگرنہ ایسی نزاکتوں پہ خرام ناز اک قدم نہ ہوتا
وصال تو ہے کہاں میسر مگر خیال وصال ہی میںمزے اڑاتے ہوس نکلتی جو ساتھ انداز رم نہ ہوتا
ہوا مسلماں میں اور ڈر سے نہ درس واعظ کو سن کے مومنؔبنی تھی دوزخ بلا سے بنتی عذاب ہجر صنم نہ ہوتا
اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنامشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا
تاثیر بیقراری ناکام آفریںہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا
دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑےاے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا
مضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیااب ذکر کیا ہے سامع عاقل کو تھامنا
ہو صرصر فغاں سے نہ کیونکر وہ مضطربمشکل ہوا ہے پردۂ محمل کو تھامنا
سیکھے ہیں مجھ سے نالۂ نے آسماں شکنصیاد اب قفس میں عنادل کو تھامنا
یہ زلف خم بہ خم نہ ہو کیا تاب غیر ہےتیرے جنوں زدے کی سلاسل کو تھامنا
اے ہمدم آہ تلخی ہجراں سے دم نہیںگرتا ہے دیکھ جام ہلاہل کو تھامنا
سیماب وار مر گئے ضبط قلق سے ہمکیا قہر ہے طبیعت مائل کو تھامنا
آغوش گور ہو گئی آخر لہولہانآساں نہیں ہے آپ کے بسمل کو تھامنا
سینہ پہ ہاتھ دھرتے ہی کچھ دم پہ بن گئیلو جان کا عذاب ہوا دل کو تھامنا
باقی ہے شوق چاک گریباں ابھی مجھےبس اے رفوگر اپنی انامل کو تھامنا
مت مانگیو امان بتوں سے کہ ہے حراممومنؔ زبان بیہودہ سائل کو تھامنا
غصہ بیگانہ وار ہونا تھابس یہی تجھ سے یار ہونا تھا
کیا شب انتظار ہونا تھاناحق امیدوار ہونا تھا
کیوں نہ ہوتے عزیز غیر تمہیںمیری قسمت میں خوار ہونا تھا
مجھ سے جنت میں وہ صنم نہ ملاحشر اور ایک بار ہونا تھا
گر نہ تھی اے دل اس کے رنج کی تعبکیوں شکایت گزار ہونا تھا
خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتااس کے در کا غبار ہونا تھا
ہرزہ گردی سے ہم ذلیل ہوئےچرخ کا اعتبار ہونا تھا
مرگ شام وصال حرماں ہےصبح دم جاں نثار ہونا تھا
اور سے ہمکنار ہے دشمنآج تو ہمکنار ہونا تھا
شکوۂ دہر پر کہا تم کوآفت روزگار ہونا تھا
چشم بے اختیار جاناں میںکیا مرا اختیار ہونا تھا
صبر کر صبر ہو چکا جو کچھاے دل بے قرار ہونا تھا
کوئے دشمن میں جا پکڑتا کیوںکیا مجھے شرمسار ہونا تھا
وہ نمک پاش بھی نہیں ہوتےیوں ہی دل کو فگار ہونا تھا
خاک میں حیف یہ شراب ملےمحتسب بادہ خوار ہونا تھا
نہ گیا تیر نالہ سوئے رقیبمرغ عرشی شکار ہونا تھا
رات دن بادہ و صنم مومنؔکچھ تو پرہیزگار ہونا تھا
دل قابل محبت جاناں نہیں رہاوہ ولولہ وہ جوش وہ طغیاں نہیں رہا
ٹھنڈا ہے گرم جوشی افسردگی سے جیکیسا اثر کہ نالہ و افغاں نہیں رہا
کرتے ہیں اپنے زخم جگر کو رفو ہم آپکچھ بھی خیال جنبش مژگاں نہیں رہا
دل سختیوں سے آئی طبیعت میں نازکیصبر و تحمل قلق جاں نہیں رہا
غش ہیں کہ بے دماغ ہیں گل پیرہن نمطاز بس دماغ عطر گریباں نہیں رہا
آنکھیں نہ بدلیں شوخ نظر کیوں کے اب کہ میںمفتون لطف نرگس فتاں نہیں رہا
ناکامیوں کا گاہ گلہ گاہ شکر ہےشوق وصال و اندہ ہجراں نہیں رہا
بے تودہ تودہ خاک سبک دوش ہو گئےسر پر جنون عشق کا احساں نہیں رہا
ہر لحظہ مہر جلووں سے ہیں چشم پوشیاںآئینہ زار دیدۂ حیراں نہیں رہا
پھرتے ہیں کیسے پردہ نشینوں سے منہ چھپائےرسوا ہوئے کہ اب غم پنہاں نہیں رہا
آسیب چشم قہر پری طلعتاں نہیںاے انس اک نظر کہ میں انساں نہیں رہا
بے کاری امید سے فرصت ہے رات دنوہ کاروبار حسرت و حرماں نہیں رہا
بے سیر دشت و بادیہ لگنے لگا ہے جیاور اس خراب گھر میں کہ ویراں نہیں رہا
کیا تلخ کامیوں نے لب زخم سی دیئےوہ شور اشتیاق نمکداں نہیں رہا
بے اعتبار ہو گئے ہم ترک عشق سےاز بس کہ پاس وعدہ و پیماں نہیں رہا
نیند آئی ہے فسانۂ گیسو و زلف سےوہم و گمان خواب پریشاں نہیں رہا
کس کام کے رہے جو کسی سے رہا نہ کامسر ہے مگر غرور کا ساماں نہیں رہا
مومنؔ یہ لاف الفت تقویٰ ہے کیوں مگردلی میں کوئی دشمن ایماں نہیں رہا
کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیےدس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے
دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیےعاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے
دل عشق تیرے نذر کیا جان کیونکہ دوںرکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے
قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھےیہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے
لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ ابیہ تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے
آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دےتسکین اضطراب دل زار کے لیے
کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تمہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے
چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدمطرز خرام و شوخی رفتار کے لیے
جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوںاظہار حال چشم گہربار کے لیے
دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثالبوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے
جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھامرتا ہوں زندگانی دشوار کے لیے
مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بتڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے
دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھپالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ
کب تک نبھائیے بت ناآشنا کے ساتھکیجے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ
یاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گل کھلائےآئی چمن سے نکہت گل جب صبا کے ساتھ
مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کیآخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھیہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ
یا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگینکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ
اللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھیاٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ
سو زندگی نثار کروں ایسی موت پریوں روئے زار زار تو اہل عزا کے ساتھ
ہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہےکس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ
مرنے کے بعد بھی وہی آوارگی رہیافسوس جاں گئی نفس نارسا کے ساتھ
دست جنوں نے میرا گریباں سمجھ لیاالجھا ہے ان سے شوخ کے بند قبا کے ساتھ
آتے ہی تیرے چل دیئے سب ورنہ یاس کاکیسا ہجوم تھا دل حسرت فزا کے ساتھ
میں کینے سے بھی خوش ہوں کہ سب یہ تو کہتے ہیںاس فتنہ گر کو لاگ ہے اس مبتلا کے ساتھ
اللہ ری گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کرمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ
مومنؔ وہی غزل پڑھو شب جس سے بزم میںآتی تھی لب پہ جان زہ و حبذا کے ساتھ
مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑدوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ
عاشق تو جانتے ہیں وہ اے دل یہی سہیہر چند بے اثر ہے پر آہ و فغاں نہ چھوڑ
اس طبع نازنیں کو کہاں تاب انفعالجاسوس میرے واسطے اے بد گماں نہ چھوڑ
ناچار دیں گے اور کسی خوب رو کو دلاچھا تو اپنی خوئے بد اے بد زباں نہ چھوڑ
زخمی کیا عدو کو تو مرنا محال ہےقربان جاؤں تیرے مجھے نیم جاں نہ چھوڑ
کچھ کچھ درست ضد سے تری ہو چلے ہیں وہیک چند اور کج روی اے آسماں نہ چھوڑ
جس کوچہ میں گزار صبا کا نہ ہو سکےاے عندلیب اس کے لیے گلستاں نہ چھوڑ
گر پھر بھی اشک آئیں تو جانوں کہ عشق ہےحقہ کا منہ سے غیر کی جانب دھواں نہ چھوڑ
ہوتا ہے اس جحیم میں حاصل وصال جورمومنؔ عجب بہشت ہے دیر مغاں نہ چھوڑ
اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیاناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیا
ضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیااے رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا
یہ ضعف ہے تو دم سے بھی کب تک چلا گیاخود رفتگی کے صدمے سے مجھ کو غش آ گیا
کیا پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کوایسی تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا
کچھ آنکھ بند ہوتے ہی آنکھیں سی کھل گئیںجی اک بلائے جان تھا اچھا ہوا گیا
آنکھیں جو ڈھونڈتی تھیں نگہ ہائے التفاتگم ہونا دل کا وہ مری نظروں سے پا گیا
بوئے سمن سے شاد تھے اغیار بے تمیزاس گل کو اعتبار نسیم و صبا گیا
آہ سحر ہماری فلک سے پھری نہ ہوکیسی ہوا چلی یہ کہ جی سنسنا گیا
آتی نہیں بلائے شب غم نگاہ میںکس مہروش کا جلوہ نظر میں سما گیا
اے جذب دل نہ تھم کہ نہ ٹھہرا وہ شعلہ روآیا تو گرم گرم ولیکن جلا گیا
مجھ خانماں خراب کا لکھا کہ جان کروہ نامہ غیر کا مرے گھر میں گرا گیا
مہندی ملے گا پانوں سے دشمن تو آن کرکیوں میرے تفتہ سینے کو ٹھوکر لگا گیا
بوسہ صنم کی آنکھ کا لیتے ہی جان دیمومنؔ کو یاد کیا حجر الاسود آ گیا
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہاے شب ہجر تیرا کالا منہ
آرزوئے نظارہ تھی تو نےاتنی ہی بات پر چھپایا منہ
دشمنوں سے بگڑ گئی تو بھیدیکھتے ہی مجھے بنایا منہ
بات پوری بھی منہ سے نکلی نہیںآپ نے گالیوں پہ کھولا منہ
ہو گیا راز عشق بے پردہاس نے پردہ سے جو نکالا منہ
شب غم کا بیان کیا کیجئےہے بڑی بات اور چھوٹا منہ
جب کہا یار سے دکھا صورتہنس کے بولا کہ دیکھو اپنا منہ
کس کو خون جگر پلائے گاساغر مے کو کیوں لگایا منہ
پھر گئی آنکھ مثل قبلہ نماجس طرف اس صنم نے پھیرا منہ
گھر میں بیٹھے تھے کچھ اداس سے وہبولے بس دیکھتے ہی میرا منہ
ہم بھی غمگین سے ہیں آج کہیںصبح اٹھے تھے دیکھ تیرا منہ
سنگ اسود نہیں ہے چشم بتاںبوسہ مومنؔ طلب کرے کیا منہ
دیدۂ حیراں نے تماشا کیادیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا
ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیاحوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا
آنکھ نہ لگنے سے شب احباب نےآنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا
مر گئے اس کے لب جاں بخش پرہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا
بجھ گئی اک آہ میں شمع حیاتمجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا
غیر عیادت سے برا مانتےقتل کیا آن کے اچھا کیا
ان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئیمجھ کو مری شرم نے رسوا کیا
زندگیٔ ہجر بھی اک موت تھیمرگ نے کیا کار مسیحا کیا
پان میں یہ رنگ کہاں آپ نےآپ مرے خون کا دعویٰ کیا
جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہےراز مرا صبر نے افشا کیا
کچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیےاس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا
جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہےغیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا
رحم فلک اور مرے حال پرتو نے کرم اے ستم آرا کیا
سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولےمرگ نے کب وعدۂ فردا کیا
دعویٔ تکلیف سے جلاد نےروز جزا قتل پھر اپنا کیا
مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہلو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا
دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدامجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا
وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیاتم سے دشمن کی مبارک باد کیا
کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جیآشیاں اپنا ہوا برباد کیا
نالۂ پیہم سے یاں فرصت نہیںحضرت ناصح کریں ارشاد کیا
ہیں اسیر اس کے جو ہے اپنا اسیرہم نہ سمجھے صید کیا صیاد کیا
شوخ بازاری تھی شیریں بھی مگرورنہ فرق خسرو و فرہاد کیا
نشۂ الفت سے بھولے یار کوسچ ہے ایسی بے خودی میں یاد کیا
نالہ اک دم میں اڑا ڈالے دھوئیںچرخ کیا اور چرخ کی بنیاد کیا
جب مجھے رنج دل آزاری نہ ہوبے وفا پھر حاصل بیداد کیا
پانوں تک پہنچی وہ زلف خم بہ خمسرو کو اب باندھئے آزاد کیا
کیا کروں اللہ سب ہیں بے اثرولولہ کیا نالہ کیا فریاد کیا
ان نصیبوں پر کیا اختر شناسآسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا
روز محشر کی توقع ہے عبثایسی باتوں سے ہو خاطر شاد کیا
گر بہائے خون عاشق ہے وصالانتقام زحمت جلاد کیا
بت کدہ جنت ہے چلیے بے ہراسلب پہ مومنؔ ہرچہ بادا باد کیا
نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگینہ ہائے ہائے میں تالو سے شب زبان لگی
جلا جگر تپ غم سے پھڑکنے جان لگیالٰہی خیر کہ اب آگ پاس آن لگی
گلی میں اس کی نہ پھر آتے ہم تو کیا کرتےطبیعت اپنی نہ جنت کے درمیان لگی
جفائے غیر کا شکوہ تھا تیرا تھا کیا ذکرعبث یہ بات بری تجھ کو بد گمان لگی
ہنسو نہ تم تو مرے حال پر میں ہوں وہ ذلیلکہ جس کی ذلت و خواری سے تم کو شان لگی
کہاں وہ آہ و فغاں دم بھی لے نہیں سکتےہمیں یہ تیری دعائے بد آسمان لگی
میں اور اس کو بلاؤں گا روز وصل میں لواجل بھی کرنے محبت کا امتحان لگی
برنگ صورت بلبل نہیں نوا سنجییہ کیا ہوا کہ چپ اے گلستاں بیان لگی
سدا تمہاری طرف جی لگا ہی رہتا ہےتمہارے واسطے ہے دل کو مہربان لگی
وہ کینہ توز تھا مومنؔ تو دل لگایا کیوںکہو تو کیا تمہیں ایسی بھلی وہ آن لگی
اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کوزندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو
لکھو سلام غیر کے خط میں غلام کوبندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو
اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کویوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو
آتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاسگھبرا نہ جاے دیکھ کہیں اژدحام کو
گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولےمجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو
یاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلککیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو
تیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیںکرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو
گریہ پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہروتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو
سہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دیہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو
اس سے جلا کے غیر کو امید پختگیلگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو
بخت سپید آئینہ داری کرے تو میںدکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو
جب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھپھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو
شاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کےاب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو
مدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آجدیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیامیں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
نہ شادی مرگ ہوں کیوں کر ہے مژدہ قتل دشمن کاکہ گھر میں سے لیے شمشیر وہ روتا نکل آیا
ستم اے گرمی ضبط فغان و آہ چھاتی پرکبھو بس پڑ گیا چھالا کبھو پھوڑا نکل آیا
کیا زنجیر مجھ کو چارہ گر نے کن دنوں میں جبعدو کی قید سے وہ شوخ بے پروا نکل آیا
نکل آیا اگر آنسو تو ظالم مت نکال آنکھیںسنا معذور ہے مضطر نکل آیا نکل آیا
ہمارے خوں بہا کا غیر سے دعویٰ ہے قاتل کویہ بعد انفصال اب اور ہی جھگڑا نکل آیا
ہوئی بلبل ثنا خوان دہان تنگ کس گل کیکہ فروردی میں غنچہ کا منہ اتنا سا نکل آیا
کوئی تیر اس کا دل میں رہ گیا تھا کیا کہ آنکھوں سےابھی رونے میں اک پیکان کا ٹکڑا نکل آیا
دم بسمل یہ کس کے خوف سے ہم پی گئے آنسوکہ ہر زخم بدن سے خون کا دریا نکل آیا
خدنگ یار کے ہم راہ نکلی جان سینے سےیہی ارمان اک مدت سے جی میں تھا نکل آیا
بہت نازاں ہے تو اے قیس پر وحشت دکھاؤں گاکتابوں میں کبھو قصہ جو مومنؔ کا نکل آیا
ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گےہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گے
کیونکر یہ کہیں منت اعدا نہ کریں گےکیا کیا نہ کیا عشق میں کیا کیا نہ کریں گے
ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیںاس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے
کیا نامے میں لکھوں دل وابستہ کا احوالمعلوم ہے پہلے ہی کہ وہ وا نہ کریں گے
غیروں سے شکر لب سخن تلخ بھی تیراہر چند ہلاہل ہو گوارا نہ کریں گے
بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰاچھا بھی کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے
جھنجھلاتے ہو کیا دیجیے اک بوسہ دہن کاہو جائیں گے لب بند تو غوغا نہ کریں گے
دیوار کے گر پڑتے ہی اٹھنے لگے طوفاںاب بیٹھ کے کونے میں بھی رویا نہ کریں گے
گر سامنے اس کے بھی گرے اشک تو دل سےکیوں روز جزا خون کا دعوا نہ کریں گے
کس وقت کیا مردمک چشم کا شکوہاے پردہ نشیں ہم تجھے رسوا نہ کریں گے
ناصح کف افسوس نہ مل چل تجھے کیا کامپامال کریں گے وہ مجھے یا نہ کریں گے
اس کو میں ٹھہرنے نہ دیا جوش قلق نےاغیار سے ہم شکوۂ بے جا نہ کریں گے
گر ذکر وفا سے یہی غصہ ہے تو اب سےگو قتل کا وعدہ ہو تقاضا نہ کریں گے
مومنؔ وہ غزل کہتے ہیں اب جس سے یہ مضمونکھل جائے کہ ترک در بت خانہ کریں گے
الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھبے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ
بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھدم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ
بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتےاٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ
وہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کوکچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ
اس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہےکس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ
آتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میںسینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ
گلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیاکچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ
تھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھیہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ
کوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکےعاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ
اللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کرمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ
صبر وحشت اثر نہ ہو جائےکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے
رشک پیغام ہے عناں کش دلنامہ بر راہبر نہ ہو جائے
دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہغش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے
ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیںزندگی پردۂ در نہ ہو جائے
کثرت سجدہ سے وہ نقش قدمکہیں پامال سر نہ ہو جائے
میرے تغییر رنگ کو مت دیکھتجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے
میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھوکہیں دامان تر نہ ہو جائے
بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوںکہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے
اے قیامت نہ آئیو جب تکوہ مری گور پر نہ ہو جائے
مانع ظلم ہے تغافل یاربخت بد کو خبر نہ ہو جائے
غیر سے بے حجاب ملتے ہوشب عاشق سحر نہ ہو جائے
رشک دشمن کا فائدہ معلوممفت جی کا ضرر نہ ہو جائے
اے دل آہستہ آہ تاب شکندیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے
مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھےوہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شبوہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
واں طعنہ تیر یار یہاں شکوہ زخم ریزباہم تھی کس مزے کی لڑائی تمام شب
رنگیں ہیں خون سر سے وہ ہاتھ آج کل رہےجس ہاتھ میں وہ دست حنائی تمام شب
تالو سے یاں زبان سحر تک نہیں لگیتھا کس کو شغل نغمہ سرائی تمام شب
یک بار دیکھتے ہی مجھے غش جو آ گیابھولے تھے وہ بھی ہوش ربائی تمام شب
مر جاتے کیوں نہ صبح کے ہوتے ہی ہجر میںتکلیف کیسی کیسی اٹھائی تمام شب
گرم جواب شکوۂ جور عدو رہااس شعلہ خو نے جان جلائی تمام شب
کہتا ہے مہروش تمہیں کیوں غیر گر نہیںدن بھر ہمیشہ وصل جدائی تمام شب
دھر پاؤں آستاں پہ کہ اس آرزو میں آہکی ہے کسی نے ناصیہ سائی تمام شب
مومنؔ میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیںان کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب
دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کیہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی
پردہ پوشی ضرور تھی اے چرخکیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی
تشنہ لب ایسے ہم گرے مے پرکہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی
اس کو دشمن سے کیا بچئے وہ چرخجس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی
کون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوںپرسش حال داد خواہ نہ کی
تھا بہت شوق وصل تو نے توکمی اے حسن تابگاہ نہ کی
عشق میں کام کچھ نہیں آتاگر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی
تاب کم ظرف کو کہاں تم نےدشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی
میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کےتم نے اچھا کیا نباہ نہ کی
محتسب یہ ستم غریبوں پرکبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی
گریہ و آہ بے اثر دونوںکس نے کشتی مری تباہ نہ کی
تھا مقدر میں اس سے کم ملناکیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی
دیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دیدمیرے احوال پر نگاہ نہ کی
مومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیففکر آمرزش گناہ نہ کی
ہم سمجھتے ہیں آزمانے کوعذر کچھ چاہیئے ستانے کو
سنگ در سے ترے نکالی آگہم نے دشمن کا گھر جلانے کو
صبح عشرت ہے وہ نہ شام وصالہاے کیا ہو گیا زمانے کو
بوالہوس روئے میرے گریہ پہ ابمنہ کہاں تیرے مسکرانے کو
برق کا آسمان پر ہے دماغپھونک کر میرے آشیانے کو
سنگ سودا جنوں میں لیتے ہیںاپنا ہم مقبرہ بنانے کو
شکوہ ہے غیر کی کدورت کاسو مرے خاک میں ملانے کو
روز محشر بھی ہوش گر آیاجائیں گے ہم شراب خانے کو
سن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدمخوب آیا تھا غم اٹھانے کو
کوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیںآسماں کے ستم اٹھانے کو
نقش پائے رقیب کی محرابنہیں زیبندہ سر جھکانے کو
چل کے کعبے میں سجدہ کر مومنؔچھوڑ اس بت کے آستانے کو
جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میںشوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں
کہتے ہیں تم کو ہوش نہیں اضطراب میںسارے گلے تمام ہوئے اک جواب میں
پھیلی شمیم یار مرے اشک سرخ سےدل کو غضب فشار ہوا پیچ و تاب میں
چین جبیں کو دیکھ کے دل بستہ تر ہواکیسی کشود کار کشاد نقاب میں
ہم کچھ تو بد تھے جب نہ کیا یار نے پسنداے حسرت اس قدر غلطی انتخاب میں
رہتے ہیں جمع کوچۂ جاناں میں خاص و عامآباد ایک گھر ہے جہان خراب میں
آنکھ اس کی پھر گئی تھی دل اپنا بھی پھر گیایہ اور انقلاب ہوا انقلاب میں
بد نام میرے گریۂ رسوا سے ہو چکےاب عذر کیا رہا نگہ بے حجاب میں
مطلب کی جستجو نے یہ کیا حال کر دیاحسرت بھی اب نہیں دل ناکامیاب میں
گویا کہ رو رہا ہوں رقیبوں کی جان کوآتش زبانہ زن ہوئی طوفان آب میں
ناکامیوں سے کام رہا عمر بھر ہمیںپیری میں یاس ہے جو ہوس تھی شباب میں
ہے اختیار یار میں سود و زیاں مگرفاضل تھے ہم جہاں سے قضا کے حساب میں
ناصح ہے عیب جو و دل آزار اس قدرگویا ثواب ہے سخن ناصواب میں
دونوں کا ایک حال ہے یہ مدعا ہو کاشوہ ہی خط اس نے بھیج دیا کیوں جواب میں
تقدیر بھی بری مری تقریر بھی بریبگڑے وہ پرسش سبب اجتناب میں
کیا جلوے یاد آئے کہ اپنی خبر نہیںبے بادہ مست ہوں میں شب ماہتاب میں
ہے منتوں کا وقت شکایت رہی رہیآئے تو ہیں منانے کو وہ پر عتاب میں
تیری جفا نہ ہو تو ہے سب دشمنوں سے امنبدمست غیر محو دل اور بخت خواب میں
پیہم سجود پائے صنم پر دم وداعمومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں
تم بھی رہنے لگے خفا صاحبکہیں سایہ مرا پڑا صاحب
ہے یہ بندہ ہی بے وفا صاحبغیر اور تم بھلے بھلا صاحب
کیوں الجھتے ہو جنبش لب سےخیر ہے میں نے کیا کیا صاحب
کیوں لگے دینے خط آزادیکچھ گنہ بھی غلام کا صاحب
ہائے ری چھیڑ رات سن سن کےحال میرا کہا کہ کیا صاحب
دم آخر بھی تم نہیں آتےبندگی اب کہ میں چلا صاحب
ستم آزار ظلم و جور و جفاجو کیا سو بھلا کیا صاحب
کس سے بگڑے تھے کس پہ غصہ تھارات تم کس پہ تھے خفا صاحب
کس کو دیتے تھے گالیاں لاکھوںکس کا شب ذکر خیر تھا صاحب
نام عشق بتاں نہ لو مومنؔکیجئے بس خدا خدا صاحب
جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانااے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا
پالغز محبت سے مشکل ہے سنبھل جانااس رخ کی صفائی پر اس دل کا بہل جانا
سینہ میں جو دل تڑپا دھر ہی تو دیا دیکھاپھر بھول گیا کیسا میں ہاتھ کا پھل جانا
اتنا تو نہ گھبراؤ راحت یہیں فرماؤگھر میں مرے رہ جاؤ آج اور بھی کل جانا
اے دل وہ جو یاں آیا کیا کیا ہمیں ترسایاتو نے کہیں سکھلایا قابو سے نکل جانا
کیا ایسے سے دعویٰ ہو محشر میں کہ میں نے تونظارۂ قاتل کو احسان اجل جانا
ہے ظلم کرم جتنا تھا فرق پڑا کتنامشکل ہے مزاج اتنا اک بار بدل جانا
حوروں کی ثنا خوانی واعظ یوں ہی کب مانیلے آ کہ ہے نادانی باتوں میں بہل جانا
عشق ان کی بلا جانے عاشق ہوں تو پہچانےلو مجھ کو اطبا نے سودے کا خلل جانا
کیا باتیں بناتا ہے وہ جان جلاتا ہےپانی میں دکھاتا ہے کافور کا جل جانا
مطلب ہے کہ وصلت میں ہے بوالہوس آفت میںاس گرمی صحبت میں اے دل نہ پگھل جانا
دم لینے کی طاقت ہے بیمار محبت ہےاتنا بھی غنیمت ہے مومنؔ کا سنبھل جانا
امتحاں کے لیے جفا کب تکالتفات ستم نما کب تک
غیر ہے بے وفا پہ تم تو کہوہے ارادہ نباہ کا کب تک
جرم معلوم ہے زلیخا کاطعنۂ دست نارسا کب تک
مجھ پہ عاشق نہیں ہے کچھ ظالمصبر آخر کرے وفا کب تک
دیکھیے خاک میں ملاتی ہےنگہ چشم سرمہ سا کب تک
کہیں آنکھیں دکھا چکو مجھ کوجانب غیر دیکھنا کب تک
نہ ملائیں گے وہ نہ آئیں گےجوش لبیک و مرحبا کب تک
ہوش میں آ تو مجھ میں جان نہیںغفلت جرأت آزما کب تک
لے شب وصل غیر بھی کاٹیتو مجھے آزمائے گا کب تک
تم کو خو ہو گئی برائی کیدرگزر کیجیئے بھلا کب تک
مر چلے اب تو اس صنم سے ملیںمومنؔ اندیشۂ خدا کب تک
شوخ کہتا ہے بے حیا جانادیکھو دشمن نے تم کو کیا جانا
شعلۂ دل کو ناز تابش ہےاپنا جلوہ ذرا دکھا جانا
شوق نے دورباش اعدا کواس کی محفل میں مرحبا جانا
اس کے اٹھتے ہی ہم جہاں سے اٹھےکیا قیامت ہے دل کا آ جانا
گھر میں خود رفتگی سے دھوم مچیکیونکے ہو اس تلک مرا جانا
پوچھنا حال یار ہے منظورمیں نے ناصح کا مدعا جانا
مے نہ اتری گلے سے جو اس بنمجھ کو یاروں نے پارسا جانا
شکوہ کرتا ہے بے نیازی کاتو نے مومنؔ بتوں کو کیا جانا
میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائےپر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے
باندھو اب چارہ گرو چلے کہ وہ بھی شایدوصل دشمن کے لیے سوئے مزار آ جائے
کر ذرا اور بھی اے جوش جنوں جنوں خوار و ذلیلمجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے
نام بدبختی عشاق خزاں ہے بلبلتو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے
جیتے جی غیر کو ہو آتش دوزخ کا عذابگر مری نعش پہ وہ شعلہ عذار آ جائے
کلفت ہجر کو کیا روؤں ترے سامنے میںدل جو خالی ہو تو آنکھوں میں غبار آ جائے
محو دل دار ہوں کس طرح نہ ہوں دشمن جاںمجھ پہ جب ناصح بیدرد کو پیار آ جائے
ٹھہر جا جوش تپش ہے تو تڑپنا لیکنچارہ سازوں میں ذرا دم دل زار آ جائے
حسن انجام کا مومنؔ مرے بارے ہے خیالیعنی کہتا ہے وہ کافر کہ تو مارا جائے
ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آجناز کرتی ہے بے قراری آج
اڑ گیا خاک پر غبار اپناہو گئی خاک خاکساری آج
نزع ہے اور روز وعدۂ وصلہے بہر طور دم شماری آج
مانع قتل کیوں ہوا دشمنجان ہی جائے گی ہماری آج
تیرے آتے ہی دم میں دم آیاہو گئی یاس امیدواری آج
کوئی بھیجے ہے دل کو پہلو میںکس نے کی اس سے ہمکناری آج
اس کے شکوہ سے ہے اثر ظاہرکچھ تو کہتی ہے آہ و زاری آج
اک نئی آرزو کا خون ہواہم ہیں اور تازہ سوگواری آج
چھٹ گئے مر کے نیش ہجراں سےکام آئے ہے زخم کاری آج
بیکسی کیوں ہے نعش پر مجمعکیا ہوئی تو مری پیاری آج
بھولے حضرت نصیحت اے ناصحہے کسی کی تو یادگاری آج
مومنؔ اس بت کو دیکھ آہ بھریکیا ہوا لاف دیں داری آجی آج
شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئےکھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے
پوچھا کسی پہ مرتے ہو اور دم نکل گیاہم جان سے عناں بہ عنان صدا گئے
پھیلی وہ بو جو ہم میں نہاں مثل غنچہ تھیجھونکے نسیم کے یہ نیا گل کھلا گئے
اے آب اشک آتش عنصر ہی دیکھناجی ہی گیا اگر نفس شعلہ زا گئے
مجلس میں اس نے پان دیا اپنے ہاتھ سےاغیار سبز بخت تھے ہم زہر کھا گئے
اٹھا نہ ضعف سے گل داغ جنوں کا بوجھقاروں کی طرح ہم بھی زمیں میں سما گئے
غیروں سے ہو وہ پردہ نشیں کیوں نہ بے حجابدم ہائے بے اثر مرے پردہ اٹھا گئے
تھی بد گمانی اب انہیں کیا عشق حور کیجو آ کے مرتے دم مجھے صورت دکھا گئے
تابندہ و جوان تو بخت رقیب تھےہم تیرہ روز کیوں غم ہجراں کو بھا گئے
بے زار زندگانی کا جینا محال تھاوہ بھی ہماری لاش کو ٹھوکر لگا گئے
واعظ کے ذکر مہر قیامت کو کیا کہوںعالم شب وصال کے آنکھوں میں چھا گئے
جس وقت اس دیار سے اغیار بوالہوسبد خوئیوں سے یار کے ہو کر خفا گئے
دنیا ہی سے گیا میں جونہی ناز سے کہااب بھی گمان بد نہ گئے تیرے یا گئے
اے مومنؔ آپ کب سے ہوئے بندۂ بتاںبارے ہمارے دین میں حضرت بھی آ گئے
دیکھ لو شوق نا تمام مراغیر لے جائے ہے پیام مرا
بے اثر ہے فغان خون آلودکیوں نہ ہوئے خراب کام مرا
آتشیں خو سے آرزوئے وصالپک گیا اب خیال خام مرا
دیکھنا کثرت بلا نوشیکاسۂ آسماں ہے جام مرا
رتبہ افتادگی کا دیکھو ہےعرش کے بھی پرے مقام مرا
کس صنم کو چھڑا دیا واعظلے خدا تجھ سے انتقام مرا
ہو کے یوسف جو دل چراتے ہوکون ہو جائے گا غلام مرا
اس لب لعل کی شکایت ہےکیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا
تو نے رسوا کیا مجھے اب تککوئی بھی جانتا تھا نام مرا
زانوئے بت پہ جان دی دیکھامومنؔ انجام و اختتام مرا
بندگی کام آ رہی آخرمیں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا
ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کاطوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا
چھوڑا نہ کچھ بھی سینے میں طغیان اشک نےاپنی ہی فوج ہو گئی لشکر غنیم کا
یاران نو کے واسطے مجھ سے خفا ہوئےتم کو نہیں ہے پاس نیاز قدیم کا
یاد آئی کافروں کو مری آہ سرد کیکیونکہ نہ کانپنے لگے شعلہ جحیم کا
ازبسکہ ثبت نامہ ہے سوز تپ دروںقاصد کا ہاتھ ہے ید بیضا کلیم کا
واعظ کبھی ہلا نہیں کوئے صنم سے میںکیا جانوں کیا ہے مرتبہ عرش عظیم کا
مارا ہے وصل غیر کے شکوہ پہ چاہیئےمدفن جدا جدا مری لاش دو نیم کا
کہتا ہے بات بات پہ کیوں جان کھا گئےگویا کہ پک گیا ہے کلیجہ ندیم کا
واعظ بتوں کو خلد میں لے جائیں گے کہیںہے وعدہ کافروں سے عذاب الیم کا
مومنؔ تجھے تو وہب ہے مومن ہی وہ نہیںجو معتقد نہیں تری طبع سلیم کا
ہوئی تاثیر آہ و زاری کیرہ گئی بات بے قراری کی
شکوۂ دشمنی کریں کس سےواں شکایت ہے دوست داری کی
مبتلائے شب فراق ہوئےضد سے ہم تیرہ روزگاری کی
یاد آئی جو گرمجوشیٔ یاردیدۂ تر نے شعلہ باری کی
کیوں نہ ڈر جاؤں دیکھ کر وہ زلفہے شب ہجر کی سی تاریکی
یاس دیکھو کہ غیر سے کہہ دیبات اپنی امیدواری کی
بس کہ ہے یار کی کمر کا خیالشعر کی سوجھتی ہے باریکی
کر دے روز جزا شب دیجورظلمت اپنی سیاہ کاری کی
تیرے ابرو کی یاد میں ہم نےناخن غم سے دل فگاری کی
قتل دشمن کا ہے ارادہ اسےیہ سزا اپنی جاں نثاری کی
کیا مسلماں ہوئے کہ اے مومنؔحاصل اس بت سے شرمساری کی
راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچاکیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا
اللہ رے نا توانی جب شدت قلق میںبالیں سے سر اٹھایا دیوار تک نہ پہنچا
روتے تو رحم آتا سو اس کے روبرو تواک قطرہ خوں بھی چشم خوں بار تک نہ پہنچا
عاشق سے مت بیاں کر قتل عدو کا مژدہپیغام مرگ ہے یہ بیمار تک نہ پہنچا
بے بخت رنگ خوبی کس کام کا کہ میں توتھا گل ولے کسی کی دستار تک نہ پہنچا
مفت اول سخن میں عاشق نے جان دے دیقاصد بیان تیرا اقرار تک نہ پہنچا
تھی خار راہ تیری مژگاں کی یاد پھر شبتا صبح خواب چشم بیدار تک نہ پہنچا
بخت رسا عدو کے جو چاہے سو کہے ابیک بار یار مجھ تک میں یار تک نہ پہنچا
غیروں سے اس نے ہرگز چھوڑی نہ ہاتھاپائیجب تک اجل کا صدمہ دو چار تک نہ پہنچا
مومنؔ اسی نے مجھ سے دی برتری کسی کوجو پست فہم میرے اشعار تک نہ پہنچا
لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سافلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا
نہ جاؤں گا کبھی جنت میں میں نہ جاؤں گااگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جورکہ آب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا
یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقتدعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا
لگے ان آنکھوں سے ہر وقت اے دل صد چاکترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخمرا سرور ہے گل خندۂ شرر کا سا
یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتامرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا
جنون کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احبابہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا
خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پرنشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا
دل ایسے شوخ کو مومنؔ نے دے دیا کہ وہ ہےمحب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتادم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا
میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کےقاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا
کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تمکیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا
جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سےاپنی طرح اے گردش ایام نکلتا
ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نامتھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا
کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوںناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا
تھی نوحہ زنی دل کی جنازے پہ ضروریشاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا
کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجریہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا
حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہویںبت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا
وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہماراجو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہمارا
یہ کاہ ربا سے بھی ہیں کم اے کشش دلمذکور کچھ ایسا پس چلمن ہے ہمارا
افسوس موئے شمع شب وصل کی مانندجو قہقہہ شادی ہے سو شیون ہے ہمارا
مہتاب کا کیا رنگ کیا دود فغاں نےاحوال شب تار سے روشن ہے ہمارا
دیتا نہیں اس ضعف پہ بھی جوش جنوں چینہر ریگ رواں دشت میں توسن ہے ہمارا
تفریح نہ کیونکر ہو ہوا آ نہیں سکتیگویا در و دیوار نشیمن ہے ہمارا
گر پاس ہے لوگوں کا تو آ جا کہ قلق سےہے لاش کہیں اور کہیں مدفن ہے ہمارا
جذب دل اسے کھینچ کے لائے تو کہاں لائےجو غیر کا گھر ہے وہی مسکن ہے ہمارا
بت خانے سے کعبے کو چلے رشک کے مارےمومنؔ خضر راہ برہمن ہے ہمارا
سودا تھا بلائے جوش پر راتبستر پر بچھائے نشتر رات
بگڑے تھے یہاں وہ آن کر راتبے طور بنی تھی جان پر رات
ہم تا سحر آپ میں نہیں تھےکیا جانے رہے وہ کس کے گھر رات
افسانہ سمجھ کے سو گئے وہکام آئی فغان بے اثر رات
آئینے میں ہو نہ موم جادوسوتے نہیں اب وہ تا سحر رات
تارے آنکھیں جھپک رہے تھےتھا بام پہ کون جلوہ گر رات
اندھیرا پڑا زمانے میں ہائےنے دن کو ہے مہر نے قمر رات
اس لیل و نہار غم نے ماراہے روز سے سیاہ تر رات
کیا پوچھو ہو منکر و نکیر آہبگڑے جو وہ طعن غیر پر رات
یہ بات بڑھی کہ مر گئے ہمموت آئی تھی قصہ مختصر رات
اس گھر میں ہے عیش خلد مومنؔکیا جانے کہاں ہے دن کدھر رات
تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میںہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں
اور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کاخون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں
کیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہوآہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں
خسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کناپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں
بن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہےنغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں
ان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیںسن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں
کیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکےبوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں
پردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیںہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں
رخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہےرخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں
یاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی توبیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں
جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہتو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہ
کہے ہے دیکھ کے رخسار یار آئینہکہ اس صفائی پہ صدقے نثار آئینہ
سیاہ رو نہ کرے ترک الفت گلفاممیں بو الہوس کو دکھاؤں ہزار آئینہ
صفائی دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میںچراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ
سمجھ لیا مگر اس سبز رنگ کو طوطیکہ ہے نظارے کا امیدوار آئینہ
وہ سخت جاں ہوں کہ دکھلائیں گر دم مردنتو توڑ دے کمر کوہسار آئینہ
مقابل اس رخ روشن کے کھل گئی قلعینہ ٹھہرا آگ پہ سیماب وار آئینہ
سما رہے ہیں مگر تیرے نو بہ نو جلوےکہ بن گیا ہے طلسم بہار آئینہ
شکست رنگ پہ مستی میں ہنستے ہیں ہم بھیدکھائیں گے انہیں وقت خمار آئینہ
مجھے تو کہتے ہو مت دیکھ میری جانب تواور آپ دیکھتے ہو بار بار آئینہ
بلا ہے منع وفا نور اڑ گیا ناصحتو لے کے دیکھ تو رنگ عذار آئینہ
سمجھ تو مومنؔ اگر ناروا ہو خود بینیتو دیکھیں کاہے کو پرہیزگار آئینہ