در تہنیت صحت
مزاج شخص جہاں تھا ترے مرض سے سستہوا سو فضل الٰہی سے تندرست و چستخبر جو گرم ہے اب تیرے غسل صحت کیدل شکستہ جہاں تھا وہ خودبخود ہے درسترہے جہاں میں بہت توکہ تاجہاں بھی رہےسلامت ہمہ آفاق در سلامت تست
بطرز منقبت حضرت امام حسینؓ
اللہ کیا جگر تھا جفا میں حسین کاجی ہی گیا ندان رضا میں حسین کااس تشنہ لب کا عرش سے برتر ہے مرتبہخوں تھا سبیل راہ خدا میں حسین کا
مسدس در نعت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم
جرم کی کھو شرمگینی یا رسولاور خاطر کی حزینی یا رسولکھینچوں ہوں نقصان دینی یا رسولتیری رحمت ہے یقینی یا رسولرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
لطف تیرا عام ہے کر مرحمتہے کرم سے تیرے چشم مکرمتمجرم عاجز ہوں کر ٹک تقویتتو ہے صاحب تجھ سے ہے یہ مسئلترحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
کیا سیہ کاری نے منھ کالا کیابات کرنے کا نہیں کچھ منھ رہارحم کر خاک مذلت سے اٹھامیرے عفو جرم کی تخصیص کیارحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
اب ٹھہرتا ٹک نہیں پاے ثباتدستگیری کر کہ پاؤں میں نجاتجرم کیا ہیں میری کتنی مشکلاتہے کفایت ایک تیری التفاترحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
دہر زیر سایۂ لطف عمیمخلق سب وابستۂ خلق عظیمتجھ سے جویاے کرم عاصم اثیمسخت حاجت مند ہیں ہم تو کریمرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
ہو رہے ہیں ہم جو دوزخ کے حطبسر پہ یہ اعمال لائے ہیں غضبرکھتے ہیں چشم عنایت تجھ سے سبتجھ سوا کس سے کہیں احوال ابرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
نیک و بد تیرے ثناخوان ہمملطف تیرا آرزوبخش اممملتفت ہو تو تو کاہے کا ہے غمتو رحیم اور مستحق رحم ہمرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
روؤں ہوں شرم گنہ سے زار زاربے عنایت کچھ نہیں اسلوب کاردل کو جب ہوتا ہے آکر اضطرارزیر لب کہتا ہوں یہ میں بار باررحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
سبز برپا ہوگا جب تیرا نشاںآفتاب حشر میں بہر اماںہووے گی انواع خلقت جمع واںکیوں نہ ہو سائے میں اس کے دوجہاںرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
روسیاہی جرم سے ہے بیشترروسفیدوں میں خجل مجھ کو نہ کرایک کیا آنکھیں ہیں میری ہی ادھرتجھ سے راجی بے بصر اہل نظررحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
کچھ بھی جو ہیں واقف راز و نیازعام تجھ انعام پر کر چشم بازشعر یہ مشہور سب وے دل گدازپڑھتے ہیں جاے دعا بعد از نمازرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
جب تلک تاثیر کا تھا کچھ گماںگہ قرآں خواں میرؔ تھے گہ سبحہ خواںوقت یکساں تو نہیں اے دوستاںاب یہی ہے ہر زماں ورد زباںرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھےاونی سونی بھی مرے آگے اٹھا جاتے تھےمدعی کاہے کو مجلس میں جگہ پاتے تھےچھوتے تھے پاؤں تو پھر سر میں وہیں کھاتے تھےیا تو اب شام و سحر پاس لگے رہتے ہیںکرکے سرگوشی جو کچھ چاہتے ہیں کہتے ہیں
تم کو بھی آٹھ پہر حرف و حکایت ان سےبازو جانو ہو انھیں چشم حمایت ان سےشکر ان کا ہے جو ہے بھی تو شکایت ان سےہو طرح کوئی چلی جا ہے رعایت ان سےہاتھ کاندھے پہ کبھو رکھ کے کھڑے ہوتے ہوکبھی منت کرو ہو ٹک جو لڑے ہوتے ہو
پاس ان کا ہے تمھیں خاطر انھیں کی منظوران سے ملنے میں نہیں کرتے کسی طور قصوران سے اک دن میں کئی بار ملاقات ضروران سے لگ بیٹھتے ہو بھاگتے ہو ہم سے دورجن کا شیوہ ہے حرم زدگی انھیں سے صحبتبندگی کیشوں سے پرخاش خدا کی قدرت
وے جو آزردہ ہوں ٹک بھی تو منانے جاؤمکث کر بیٹھ رہیں گھر تو بلانے جاؤالغرض کرکے ادھر سو سو بہانے جاؤان کو دریا پہ جو سن پاؤ نہانے جاؤہم اگر خاک ملیں منھ پہ نہ بولو چالوہم اگر لوہو لگیں رونے تو ہنس کر ٹالو
ان سے آزار دہی کی مری کنگائش ہےہر دم ان سے مری خوں ریزی کی فرمائش ہےان کی دلجوئی ہے یا چہرے کی آرائش ہےفارغ ان دونوں سے ہوتے ہو تو آسائش ہےدو دو دن مست مئے ناب پڑے سوتے ہورہتے ہو بے مزہ بیدار اگر ہوتے ہو
خوبی رعنائی سے کم تجھ کو بہت فرصت ہےاپنی ترکیب بنانے سے کہاں مہلت ہےچہرہ آرائی شب و روز ہے یہ صورت ہےشانہ و زلف گتھے رہتے ہیں یہ صحبت ہےسرمے سے آنکھ اٹھاوے تو مرا رو دیکھےآرسی چھوڑے تجھے ٹک تو ادھر تو دیکھے
محو کس روز تجھے پاتے تھے رعنائی کاذوق رہتا تھا تجھے کاہے کو خودرائی کاکب کب آنچل رہے تھا ہاتھ میں اکلائی کااتنا دل بستہ نہ تھا جامۂ زیبائی کاسرخ سنجاف نہ لگتی تھی نہ ہوتے تھے چاکخون سے عشق کے ماروں کے یہ دامن تھا پاک
ایسے اوباشوں کی تقلید میں کب تھی تگ و دوتنگ چولی کے نہ رہتا تھا کبھی اتنا گروپاٹ دامن کے نہ ہوتے تھے ترے ساٹھ کے سواب تو ہے قہر جو ڈھیلی ہو کمر ایک بھی جودرزی کانپا ہی کرے ٹھیک نہ جب تک سی لےکاڑھے ناکے میں سوئی کے کرے ٹانکے ڈھیلے
خط بھی آیا پہ مری تیری صفائی نہ ہوئیکس گھڑی آن کے بیٹھے کہ لڑائی نہ ہوئیاپنی سج دیکھنے سے تجھ کو رہائی نہ ہوئیاک بلا جی کی ہوئی تنگ قبائی نہ ہوئیرک گئے دیکھتے دس جا سے ترے مونڈھے چسےچولی مسکی ہوئی سب مہریوں میں پہنچے پھنسے
بند لمبے نہ کبھو اتنے سیے جاتے تھےشانے پر ڈالے ہوئے لچھے سے کب آتے تھےزہ سراسر نہ گریبان میں لگواتے تھےگھیر دامن کا بہت ہوتا تو گھبراتے تھےاب تو پوشاک ہے کچھ تازہ نکالی تم نےطرحداری کی طرح اور ہی ڈالی تم نے
کن دنوں ساتھ کئی یار رکھا کرتے تھےکن شبوں غیر سے یہ پیار رکھا کرتے تھےکس گھڑی ہاتھ میں تلوار رکھا کرتے تھےکس کو یوں میری طرح مار رکھا کرتے تھےمیان سے اب تو لیے آٹھ پہر رہتے ہوگھر سے جب نکلو ہو تب خون ہی کر رہتے ہو
بال واں سنوریں ترے یاں مجھے جی ہی جنجالمیں ملوں خاک میں منظور تجھے اپنی چالہو جگر داغ مرا منھ پہ بنے تیرے خالمہندی پاؤں سے لگے گھل کے رہوں میں پامالسرمہ آنکھوں میں جگہ تیری کرے شام و سحرمطلق احوال مرا تجھ کو نہ ہو مدنظر
تھیں فریب اگلی نگاہیں وے تمھاری بارےدامن و جیب پھٹے یاد میں ان کی سارےشوق کے ہاتھ شب و روز سروں پر مارےچھاتیاں کوٹتے ہی کوٹتے آخر ہارےروئے اتنا کہ جگر میں نہ رہی لوہو کی بونداب سماں وہ ہے کہ دیکھوگے لیاں آنکھیں موند
تنگ اب حد سے زیادہ ہوئے ہیں یاد رہےبس بہت اب ترے اطوار سے ناشاد رہےکب تک اس طور کوئی اے ستم ایجاد رہےدن کو بیداد رہے رات کو فریاد رہےہے قریب اب کہ ترے کوچے سے اٹھ کر جاویںبے حمیت ہی ہمیں کہیو اگر پھر آویں
اک طرف مر رہیں گے جاکے بھلا کیا کریےہر زماں ہر کسو سے حال کہا کیا کریےسر گریبان میں یوں ڈالے رہا کیا کریےمیرؔ کے طور ترا شکوہ لکھا کیا کریےجی نہ نکلا اگر اس میں تو کڑھا کریے گامرثیہ اپنا کہیں بیٹھے کہا کریے
یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھیسرمہ و آئینہ کی اور نظر تجھ کو نہ تھیفکر آراستگی شام و سحر تجھ کو نہ تھیزلف آشفتہ کی سدھ دو دو پہر تجھ کو نہ تھیشانہ تھا نابلد کوچۂ گیسو تیراآئینہ کاہے کو تھا حیرتی رو تیرا
آگہی حسن سے اپنے تجھے زنہار نہ تھیاپنی مستی سے تری آنکھ خبردار نہ تھیپاؤں بے ڈول نہ پڑتا تھا یہ رفتار نہ تھیہر دم اس طور کمر میں ترے تلوار نہ تھیخون یوں کاہے کو کوچے میں ترے ہوتے تھےدل زدے کب تری دیواروں تلے روتے تھے
خواہش دل کی ملا کرتی تھی ہر ساعت دادطبع میں تیرے تصرف تھا ہمیں حد سے زیادمطلقاً تجھ سے نہ مربوط تھے ارباب عنادکاہے کو رہتے تھے کوچے میں ترے شور و فسادطور پر اپنے ترے پاس ہم آجاتے تھےحسب خواہش تجھے ہر شام و سحر پاتے تھے
بند جامے کا جو وا ہوتا تو وا رہتا تھابے تکلف مرے گھر رات کو آ رہتا تھاتھوڑی رنجش میں گلے ہی سے لگا رہتا تھاٹک جدا رہتے تو دیر آنکھ ملا رہتا تھااس قدر قدر نہ تھی اپنی تری آنکھوں میںلعب بازی میں بھی رہتا تھا مری آنکھوں میں
آستینوں میں نہ تھے چاک نہ زہ دامن میںتکمے کاہے کے تئیں لگتے تھے پیراہن میںیہ طرح کب تھی دوپٹے کے تلے چتون میںپھرتے کس روز تھے یوں کپڑے پہن آنگن میںبند ہلتے ہوئے ہر دم نہ کھڑے رہتے تھےپیچ پگڑی کے گلے میں نہ پڑے رہتے تھے
کس دن اتنا تھا پراگندگی مو کا خیالدو دو دن چہرے پہ بکھرے ہی رہا کرتے باللعل جاں بخش نہ رہتے تھے کبھو اتنے لالخوبی خندہ نہ لوگوں کے جیوں کی تھی وبالپان سے شوق نہ تھا کیسا مسی کا مذکورغصے ہوجاتے تھے سن ایسے کسی کا مذکور
تنگ پوشی سے نہ محظوظ تمھیں پاتے تھےتنگ جامے جو سیے جاتے تو گھبراتے تھےمسکی چولی سے نہ تم در پہ کبھو آتے تھےلپٹے دامن سے الٹ گھر ہی میں پھر جاتے تھےیا تو اب کہنی پھٹی مونڈھے چسے رہتے ہیںباہر اندر ہو کہیں بند کسے رہتے ہیں
شوق زینت سے نہ تھا ربط نہ رعنائی سےدل نہ اتنا تھا لگا خوبی مرزائی سےاب تو سو بار کمر بندھتی ہے اکلائی سےدیکھتے رہتے ہو ترکیب سے خود رائی سےروسیہ آئینہ سے تم کو فراغت ہی نہیںسرمۂ تیرہ دروں سے کہیں فرصت ہی نہیں
شانہ اب ہاتھ میں ہے زلف بنا کرتی ہےمسی دانتوں میں کئی بار لگا کرتی ہےپاس سرمے کے سلائی بھی رہا کرتی ہےآنکھ رعنائی پہ اپنی ہی پڑا کرتی ہےجان آنکھوں میں کسی کی ہو نظر تم کو نہیںغش کرے کوئی ستم دیدہ خبر تم کو نہیں
کب گلی کوچوں میں پھرتے تھے لیے تم تلوارپرتلا کاہے کو رہتا تھا گلے کا یوں ہارساتھ خونخوار نہ پھرتے تھے نہ تم تھے خونخواردم میں ناحق کبھو یوں جان نہ رکھتے تھے مارمایۂ فتنہ و پرخاش ہوئے ہو اب توشوخ و شلتاقی و اوباش ہوئے ہو اب تو
پیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھاایک بھی نرگس بیمار کا بیمار نہ تھاجنس اچھی تھی تری لیک خریدار نہ تھاہم سوا کوئی ترا رونق بازار نہ تھاکتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھےآنکھیں یوں موند کے وے جی نہ چلا سکتے تھے
یا تو ہم ہی تھے کہ اب ہم سے نہیں کچھ یاریمفت برباد گئی عزت و حرمت ساریبار خاطر رہے اب ہم کو بھی ہے بیزارییعنی اس شہر سے اٹھ جانے کی ہے تیاریرتبۂ غیر نہیں آنکھوں سے دیکھا جاتاطاقت اب یہ دل بے تاب نہیں ٹک لاتا
کوئی نادیدہ محب سادہ لگا لیں گے ہمسادہ نامرتکب بادہ لگا لیں گے ہمبوس و آغوش کا آمادہ لگا لیں گے ہمبند خودرائی سے آزادہ لگا لیں گے ہماس کو آغوش تمنا میں اب اپنی لیں گےاس سے داد دل ناکام سب اپنی لیں گے
اس کی کھینچیں گے علی الرغم ترے مرزائیاس کو سکھلائیں گے طرز و روش رعنائیمجلسوں میں اسے لاویں گے بصد زیبائیصحبت اے دشمن جاں اس سے اگر بر آئیتو تجھے دیکھیو کس طور کڑھاتے ہیں ہمچھیڑیں کیا رکھتے ہیں کس ڈھب سے ستاتے ہیں ہم
چہرے کو اس کے کر آراستہ دلخواہ کریںآرسی اس کو دکھا حسن سے آگاہ کریںراہ خوبی کی بتاکر اسے گمراہ کریںتو سہی ضد سے ترے ایسا ہی شتاہ کریںکہ تجھے سدھ نہ رہے خوبی و رعنائی کیدھجیاں لے تری اس جامۂ زیبائی کی
دست افشاں ہو تو عزت تری سب ہاتھ سے جائےچشم مکحول کو دکھلائے تو تو آنکھ چھپائےمار ٹھوکر چلے دامن کو تو تو سر نہ ہلائےجس طرف اس کا گذر ہووے تو اودھر کو نہ جائےچھیڑے گالی دے اشارت کرے چشمک مارےعشوہ و غمزہ و انداز بھلادے سارے
زندگانی ہو تجھے ہاتھ سے اس کے دشوارکوئی دن تو بھی پھرے جان سے اپنی بیزارپہنچیں ہر آن میں اس سے تجھے سو سو آزارطنز و تعریض و کنایہ کی رہے اک بوچھارجاکے ٹک سامنے اس کے تو بہت تر آوےعرق شرم میں ڈوبا ہوا سب گھر آوے
دل واسوختہ کو اپنے لیے جاتے ہیںغصے سے خون جگر اپنا پیے جاتے ہیںاپنی جا غیروں کو ناچار دیے جاتے ہیںاب کے یوں جاتے نہیں عہد کیے جاتے ہیںآوے گا تو بھی منانے تو نہ آویں گے ہمجان سے جاویں گے پیماں سے نہ جاویں گے ہم
بازگشت اب کی کسو طرح نہیں ہے منظورگوکہ درپیش ہمیں آوے رہ دور از دورجانا ٹھانا تو پھر آنے کا ہے یھاں کیا مذکورجی سے اپنے بھی گذر جایئے پر تا مقدورمنھ ادھر کریے نہ جس جا سے بنے اٹھ جاناقدر کھو دیوے ہے ہر بار کا جانا آنا
میرؔ اعراض بھی لوگوں نے کیا ہے آگےدل کے واسوز سے لوہو بھی پیا ہے آگےخلق عالم سے کنارہ بھی کیا ہے آگےعزت و وقر بھی برباد دیا ہے آگےپر کنھوں نے نہیں اس ڈھب سے زباں بازی کییہ بھی ظالم ہے کوئی طرز سخن سازی کی
سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہو
سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہویاں بہت رہتے ہو خوش باش کہ واں رہتے ہوان دنوں یاروں کی آنکھوں سے نہاں رہتے ہوخوش رہو میرؔ مری جان جہاں رہتے ہواک طرف بیٹھے ہوئے ہم بھی لہو پیتے ہیںعشق کی جان کو دیتے ہیں دعا جیتے ہیں
دل خوشی ہوتا نہیں سبزے سے یا سنبل سےیعنی اب عشق نہیں مجھ کو خط و کاکل سےہم نشیں داغ کھلے دل پہ مرے سب گل سےآ چمن زار میں گل بازی کروں بلبل سےشاخ گل پر تو وہ ہو اور لب جو پر میںداغ کو دل پہ وہ لے گل کے تئیں رو پر میں
ہے زمیں خشک مرے دیدۂ تر سے نایابشہر و کہسار و بیابان سبھی ہیں شادابہر طرف اشک سے میرے ہیں رواں صد سیلابکام کرتی ہے جہاں تک کہ نظر اب ہے آبہے عبث جیتے جی میرے تجھے بارش کا خیالمیں تو روتا ہوں ترے غم میں علیٰ قدر حال
ریزے الماس کے اور مشت نمک مشک کی بوکس کو یہ سارے بہم پہنچے ہیں ان سے مل تولذت درد سے مقدور ہو جب تک کر خودیکھ زنہار نہ دے مرہم بدرو کو روننگ و ناموس کو مجروحوں کے رکھ مدنظرمنھ بھرائی میں مری جان لے اے زخم جگر
مدتیں گذریں کہ اے شوخ یہ خواری ہے مجھےتجھ سے بے رحم ستمگار سے یاری ہے مجھےروز و شب درد و غم و نالہ و زاری ہے مجھےبلکہ ہر روز کی شب ہجر میں بھاری ہے مجھےاہل دل جان کے رکھتا ہے مجھے عشق بتنگکاشکے دل کے عوض کوئی ملا ہوتا سنگ
عاقبت کا نظر آیا نہ یک آثار ہمیںدل کی بے تابی نے ہرچند رکھا خوار ہمیںحیف صد حیف میسر نہ ہوا یار ہمیںتیرے کوچے میں کہیں سایۂ دیوار ہمیںتاکہ واں نالہ و فریاد کیا کرتے ہماک طرف بیٹھ تجھے یاد کیا کرتے ہم
کب تلک ہاتھ سے خوباں نہ جفاکاری دیںاس وفاداری کے بدلے یہ ہمیں خواری دیںتم کہو کب تئیں ہم داد وفاداری دیںعشق بن جرم جو کچھ ہو تو گنہگاری دیںقصد فریاد ہے گر یار ٹک انصاف کریںپھر وے گو سن کے کدورت سے ہمیں صاف کریں
مت برس خاک پہ عشاق کی ہم کیا کم تھےحرف دیروزہ ہے یہ دیدہ ہمارے یم تھےموج سیلاب سے آنسو کے گئے عالم تھےیعنی اے ابر کسی عہد میں ہم ہی ہم تھےعزم کر رونے کا آبادی سے گر اٹھتے تھےبیٹھ کر دشت میں طوفان ہی کر اٹھتے تھے
کون تھا یاں کہ مجھے دیکھ ندامت رکھےیا مرے سر پہ نصیحت سے قیامت رکھےمیرؔ صدسال خدا تجھ کو سلامت رکھےتو نہ ہووے نہ مجھے کرکے ملامت رکھےورنہ اب تک تو مری خاک بھی ہوجاتی ہوالے گئی ہوتی تبرک کی طرح باد صبا
طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہے
طرز اے رشک چمن اب تری کچھ تازی ہےساتھ غیروں کے مرے حق میں سخن سازی ہےداغ رکھنے کو مرے ان ہی سے گل بازی ہےہمدمی ان سے انھیں سب سے ہم آوازی ہےگوش کر میرے بھی شکوے کی طرف گل کے رنگرکتے رکتے روش غنچہ ہوا ہوں دل تنگ
ایک مدت ہوئی بدنامی و رسوائی ہےبیکسی بے دلی درویشی و تنہائی ہےصبح جب دی ہے دعا گالی تری کھائی ہےابتدا سے مری ذلت تجھے خوش آئی ہےخلق کیا کیا تری بے طوریوں سے کہتی نہیںمیں بھی ناچار ہوں اب منھ میں زباں رہتی نہیں
ملتفت حال پہ رہنا ہے مرے اب موقوفبات گر دن کو کوئی ہوگئی تو شب موقوفاے فریبندہ سخن رابطے کے سب موقوفمہر و الطاف و عنایات و کرم جب موقوفمہربانی سے کبھو کوئی جو ایدھر کی نگاہسو بھی اس طور کہ کیا جانیے کیدھر کی نگاہ
میں جو صحبت میں ہوں بیٹھا تو رکے بولو ہوآنکھیں ایدھر سے جو موندو ہو سو کم کھولو ہونام لیتے ہو کراہت سے مرا جو لو ہولگ چلے غیر تو تابع اسی کے ہو لو ہوروے حرف اس کی طرف چشم حمایت اودھرابرو اودھر کو جھکے لطف و عنایت اودھر
پیار تجھ کو نہ کیا کرتے اگر جانتے ہمکاشکے تیری روش پہلے ہی پہچانتے ہمجھوٹے جھوٹے ترے وعدے نہ کبھو مانتے ہمجی میں اب ٹھانی ہے جو کچھ سو تبھی ٹھانتے ہماس قدر تجھ سے نہ لگ چلتے نہ آتے اس راہتو پری ہوتا تو کرتے نہ تری اور نگاہ
یہ فریبندہ سخن گوش نہ کرتے ہرگزخواہش کنج دہن دل پہ نہ دھرتے ہرگزبے شب وصل دن اس طور نہ بھرتے ہرگزلعل جاں بخش پہ یوں تیرے نہ مرتے ہرگزاتفاقات سے ہو جاتی ملاقات تو خیردل تجرد پہ رکھا جب نہ کوئی یار نہ غیر
عشوہ و ناز و ادا سے کسو کو پھر کیا کامجی نہ بے چین رہا کرتا نہ دل بے آرامہوگیا یوں تو کبھو ہوگیا آپس میں کلامبے رخ و زلف رکن کاہے کو ہر صبح و شامجنس اچھی تری پر گرمی بازار کہاںسرگراں تو تو بہت ہے پہ خریدار کہاں
تجھ سے بے مہر و وفا دل کا لگانا تھا غلطآپ کو حرف غلط رنگ مٹانا تھا غلطخط دے قاصد کو تری اور چلانا تھا غلطآتش غم سے مرا جی کا جلانا تھا غلطاپنی نادانی نہ سمجھے کہ تو کیا نسخہ ہےآدمی بھی کسو دانا کا لکھا نسخہ ہے
غم نہیں تجھ کو مری یاری وفاداری کانہ خیال آوے ہے بندے کی گرفتاری کاطور چھوڑا نہ تنک تونے ستمگاری کاوہی عشوہ ہے شب و روز دل آزاری کاپرسش حال کا بھی مجھ کو نہ ممنوں رکھاہے یہ خاطر کہ حزیں دل کے تئیں خوں رکھا
ترک اخلاص کیا سب سے تجھے پیار کیارحم دل پر نہ کیا جان کو آزار کیاچاہ سے اپنی عبث تجھ کو خبردار کیاکیا کیا ہم نے کہ اس معنی کا اظہار کیاجوکہ الفاظ نہ شایاں تھے سو تو کہنے لگاوجہ بے وجہ تو روپوش ہی اب رہنے لگا
آرسی کی کبھی صورت نہ دکھاتے تجھ کوطرز یہ سرمہ کشی کی نہ سجھاتے تجھ کودلربائی کے نہ انداز بتاتے تجھ کوکیوں بگڑتا تو جو ایسا نہ بناتے تجھ کومستی چشم سے ہوتی نہ اگر تجھ کو خبرایسی ہشیاری سے کرتا نہ تو ایدھر کو نظر
اور مہ پارہ بھی اس شہر میں مشہور ہے اباس کی محبوبی و خوبی ہی کا مذکور ہے ابدیکھنا کچھ ہو اسی کا مجھے منظور ہے ابصرف اس پر کروں گا اپنا جو مقدور ہے اباس کنے ضد سے تری شام و سحر جاؤں گاگھر سے جس دم اٹھوں گا اس کے ہی گھر جاؤں گا
وہ بھی سن شور وفا مجھ سے ملا چاہے ہےمختلط لطف و عنایت سے ہوا چاہے ہےکوئی دن راتوں کو مجھ پاس رہا چاہے ہےکام دل لوں ہوں اسی سے جو خدا چاہے ہےباؤ کا رخ تجھے بتلاؤں دم اس مہ کا بھروںخط تری بندگی کا کاغذ باد اس کا کروں
میں بھی ناچار ہوں تاچند جفائیں یہ سہوںقصد رکھتا ہوں کہ اس شہر میں ہرگز نہ رہوںیا اسی ماہ کنے جا رہوں گو اس میں نہ ہوںخوبیاں اور ترے حسن سلوک اس سے کہوںکیں ترا مہر مری دونوں ہیں اس پر معلوماس کے معلوم ہوئے روے دل اودھر معلوم
پھر تو جی کو میں کروں گا اسی مہ پر قرباںراہ و منزل پہ پھروں گا اسی کے دست افشاںبس بگولا سا ہوا تیرے لیے سرگرداںاس قدر مجھ کو دماغ اب ہے کہاں دل ہے کہاںکہ رہوں بیخود و بے خواب شبوں کو روتاکاش مشتاق ترے منھ کا نہ اتنا ہوتا
اب تو جو کچھ ہو دل اس ساتھ لگا بیٹھوں گااس کے دروازے پہ درویش ہو جا بیٹھوں گاہاتھ واسوختہ ہو تجھ سے اٹھا بیٹھوں گاآؤں گا بھی تو ترے پاس نہ آ بیٹھوں گادور سے ایک نظر کرکے چلا جاؤں گاسو بھی کتنے دنوں پھر کاہے کو میں آؤں گا
لاگ ہے جس سے نئی اس سے رکھوں قیل و قالدل نشیں اس کے کروں خوب طرح کہنہ مقالساری مجلس کے تئیں اس کی کروں واقف حالبعد ازاں ترک کروں کھا کے قسم تیرا خیالپھر کبھو وہم میں بھی گذرے نہ ملنا تیراجب نہ تب در پہ اسی کے رہے ماتھا میرا
لگ چلوں اس سے صبا کی سی طرح شام و سحراس کے پاؤں تلے کی خاک کروں کحل بصرروے گل رنگ سے اس کے نہ اٹھے میری نظرچپکے اس کے لب شیریں سے رہیں دیدۂ تردرہمی حال کی اس گیسوے برہم سے رہےجی کو بے طاقتی اس قد کے چم و خم سے رہے
ناز بیجا ترے دل پھر نہ اٹھاوے ہرگزبات یہ تیری فریبندہ نہ بھاوے ہرگزطرز رفتار تری جی میں نہ آوے ہرگزآنکھ خوبی کی طرف تیری نہ جاوے ہرگزوہ جو سادہ ہے تو پرکار بھی ہوجاوے گااب جو بیگانہ سا ہے یار بھی ہوجاوے گا
فن معشوقی میں تیار کروں گا اس کوشانہ و آئینہ سے یار کروں گا اس کوحسن سے اس کے خبردار کروں گا اس کوضد سے میں تیری بہت پیار کروں گا اس کوفرش رہ دیدۂ نمناک کروں گا واں کےپلکوں سے خار و خسک پاک کروں گا واں کے
ہوگیا مجھ سے جو مانوس تو مرزا ہوگاپوشش تنگ کا مصروف مہیا ہوگاگھیر جامے کا نہ سو گز سے کم اس کا ہوگالپٹے بندوں کا بر و دوش پہ لچھا ہوگاچلتے دامن کے تئیں لگتی رہے گی ٹھوکرہوگا ہنگامہ ادھر نکلے گا جیدھر ہوکر
کس و ناکس اسی مہ پارے کا مفتوں ہوگاایسی سج سے تو اسے دیکھ کے محزوں ہوگارشک سے اس کے ترا حال دگرگوں ہوگادل نازک ترا دھڑکے گا جگر خوں ہوگاشرم سے ہوگا نہ اک آنکھ اٹھانا مشکلبلکہ ہوجاوے گا اس کوچے میں آنا مشکل
طنز و تعریض و کنائے سے بتنگ آوے گاناز کا طور فراموش ہی ہوجاوے گاربط و اخلاص میں ویسا نہ مجھے پاوے گایہ سخن یاد رہے دل میں تو پچھتاوے گاآشنا جتنے ہیں بیگانہ نکل جاویں گےسر جھکائے اسی کی اور چلے آویں گے
اب بھی گر سمجھے تو مجھ کو ہے وہی تجھ سے پیارچھیڑ کا ننگ نہیں تیری نہ گالی کا ہے عاروہی مخلص ہوں قدیمی وہی میں تیرا یاربندگی کیش وفاشیوہ و اخلاص شعارچوٹ مجھ کو بھی تو غیروں کی ملاقات کی ہےچھوڑے یہ تو تو پھر آزردگی کس بات کی ہے
جی نہ تڑپے گا مرا پھر نہ مری چھاتی جلےدل نہ سینے میں مرے شام و سحر کوئی ملےشکوہ ناکی سے زباں منھ میں نہ زنہار ہلےآئے چلتے کہیں سے تو لیے لگ تیرے گلےزور سے بازو پہ اپنے ترے سر کو رکھادست گستاخ پہ لے تیری کمر کو رکھا
بس ہوس کیشوں سے مل مل کے تو بدنام ہوابسکہ راتوں کو رہا شہرۂ ایام ہواکاسہ لیسوں کے گہے مرتکب جام ہواشوخ و شلتاقی و بدوضع و مے آشام ہواطور پر میرے معیشت کوئی دن اچھی ہےایسے بدکار سے صحبت کوئی دن اچھی ہے
آ اگر غیر کے ملنے کی قسم کھاتا ہےمیرؔ بھی حرف درشتانہ سے شرماتا ہےذوق ویسا ہی ہے اس کا تو اسے بھاتا ہےدل کے واسوز سے منھ پر یہ سخن لاتا ہےورنہ مشتاق ہے سو جی سے جگرخستہ تراکشتہ و مردہ ترا رفتہ و دل بستہ ترا
تضمین مطلع خود با مطلع استاد
نہ اسکندر نہ دارا ہے نہ کسریٰ ہے نہ قیصر ہےیہ بیت المال ملک بے وفا بے وارثا گھر ہےجہان کہنہ خلقے را بہ دل داغ ہوس ماندہبیا ساقی کہ ایں ویرانہ از بسیار کس ماندہ
خودبخود کھویا گیا ہے کتنے روزوں سے فقیروہ نہیں ہے اب جو تم نے پیش ازیں دیکھا تھا میرؔدوستاں ظلمے بحال نامرادم رفتہ استداشتم چیزے کہ من بودم زیادم رفتہ است
نہ اپنے در سے مجھے دور کر شتابی سےکہ آہ یھاں تئیں پہنچا ہوں کس خرابی سےز ضعف دست بدیوار دادہ آمدہ امبہر دو گام زمانے ستادہ آمدہ ام
مشہور ہیں عالم میں تو کیا ہیں بھی کہیں ہمالقصہ نہ درپے ہو ہمارے کہ نہیں ہمعنقا سر و برگیم مپرس از فقرا ہیچعالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ
میں رہ گیا تھا لاجرم شکوے سے جب اے مہ ترےتب کی بھلا تب ہی گئی ہنگامہ تھا ہمرہ ترےاکنوں کہ تنہا دیدمت لطف ارنہ آزارے بکنتلخے بگو سنگے بزن تیغے بکش کارے بکن
چمن میں دہر کے ہنستا نہ رہ برنگ گلکہ صبح شاخ پہ یہ بیت پڑھتی تھی بلبلدریں حدیقہ بہار و خزاں ہم آغوش استزمانہ جام بدست و جنازہ بر دوش است
رہے ہم تشنگاں سے ذمے منت یار کے کیسیکہ پھر پانی نہ مانگا ہم لگائی ایک ہی ایسیبامید کسے نگذاشت بے دادش دل ما راخدا اجرے دہد در کشتن ما قاتل ما را
دوری ہی میں طاقت نہ رہی بات کی آخرروزی نہ ہوئی رات ملاقات کی آخرزہر غم ہجر تو بجاں کارگر افتادامید وصال تو بہ عمر دگر افتاد
آشناے کفر و دیں عاشق نہیں ہوتے ہیں میرؔجانتے ہیں طور میرے سب چنانچہ خرد و پیرکعبہ و بت خانہ را بیگانہ می دانیم مایا در دل یا در مے خانہ می دانیم ما
ہے خوش وہ کہ یاں سر بگریباں ہی رہا ہےاس باغ میں وا ہونے کو بدیمن کہا ہےبسیار ز دل تنگی خود غنچہ غمین استغافل کہ شگفتن نفس بازپسین است
متاع دل نہ لے جاؤں جو واپس کیا کروں جاناںخریداری نہ کی تونے رہا میں دیر سرگرداںبسوداے ہوس عمرے دریں بازار گردیدمکنوں گرد سرم گرداں کہ من بسیار گردیدم
حواس و ہوش و خرد جان و دل شکیب و تواںچلے ہیں عزم سفر کرنے سے ترے سب یاںز رفتن تو کسے بازپس نمی ماندتو می روی و دریں شہر کس نمی ماند
کہاں کرنے میں خوں تیزی نہیں کییہیں کچھ ان نے خوں ریزی نہیں کیسرش گردم کہ ہر جا جلوہ گر بودسر بازار او بازار سر بود
اس آستانے کے سگ کے نہیں برابر ہمکہیں زیادہ سخن اپنے منھ سے کیوں کر ہممیان ما و سگ یار فرق بسیار استچرا کہ ما سگ اوئیم و او سگ یار است
محرماں کیا کہوں میں اپنے نوشتے کی بدیبخت نے آہ مری بات تنک کہنے نہ دیدل کہ طومار وفا بود من محزوں راپارہ کردند ندانستہ بتاں مضموں را
کہتے نہیں خلوت میں تو بار دے عالم کویا آئینہ سا ہووے دیدار ترا ہم کوتاچند نہاں باشی جاناں نفسے بنمادیوانہ شدی تنہا خود را بکسے بنما
نہ لاگے وہم جس جا کچھ وہاں ہو قادراندازیہدف ہونا خدنگ جور کا تیرے نہیں بازیز شست صاف اے ابروکماں ازبس خطر دارمتو می بینی بسوے تیر و من فکر دگر دارم
تضمین در مخمس
بیخودانہ ہیں کئی حرف زباں پر کر گوشآج کہتا ہوں کہ ہے خم کدۂ دل میں جوشپاے رفتن تو نہ تھے لیک مجھے تھا کچھ ہوشسرخوش از کوے خرابات گذر کردم دوشبہ طلبگاری ترسا بچۂ بادہ فروش
ہوش و صبر و خرد و دین گئے یہ سارےمیں تھا سو مجھ میں بھی کچھ تھا نہ ستم کے مارےبعد یک چشم زدن پھر جو میں دیکھا بارےپیشم آمد بہ سر کوچہ پری رخسارےکافرے عشوہ گرے زلف چو زنار بدوش
ایک ساعت تو رہا محو نشست و برخاستبارے پھر ٹھہر گیا دل بھی مرا بے کم و کاستدرمیاں جس گھڑی آئے سخن راست بہ راستگفتم ایں کوچہ چہ کویست و ترا خانہ کجاستاے مہ نو خم ابروے ترا حلقہ بگوش
تار اس دشمن ایمان کی زلفوں کے کمندپارسائی کو میں صد جان سے واں پایا بندآنکھیں سختی سے دکھا مجھ کو بہ آواز بلندگفت تسبیح بخاک افگن و زنار ببندسنگ بر سینۂ تقویٰ زن و پیمانہ بنوش
رہیو ہشیار کہ ہے ضعف سے بیگانہ طلبقوت پا ہی تلک رکھتی ہے یارانہ طلبجاکے کر پیر مغاں سے کوئی خم خانہ طلبتوبہ یک سو بنہ و ساغر مستانہ طلبخرقہ بیروں فگن و کسوت رندانہ بپوش
بسکہ نقاد ہیں یاں کھوٹے ہیں سب تیرے کھرےقابل خدمت مستاں نہیں تو رہیو پرےپہلے یہ باتیں ہیں ان پر تو عمل کرلے ارےبعد ازاں سوے من آ تا بتو گویم خبرےراہ بنمایم اگر بر سخنم داری گوش
مجھ کو بھڑکا کے چلا واں سے وہ کافر سرکشپاؤں سے لے کے گئی سر تئیں جلتی آتشہاتھ سے جاتا ہی تھا گو تھی مجھے حالت غشمن برافتادۂ بیہودہ دویدم بہ پیَشتا رسیدم بہ مقامے کہ نہ دیں ماند و نہ ہوش
جاے بے خدشۂ غیرے کہ نہ تھا غیر نمودخط باطل سے لکھا دیکھا ہے واں صفحۂ بودتو بھی واں ہو تو یہی منھ سے نکل جاوے زودمحو گشت از ورق کون و مکاں حرف وجودنہ پری ماند و نہ آدم نہ طیور و نہ وحوش
بے خود و بے خبر و مست مئے صاف الستآتش مے سے برافروختہ کچھ بادہ پرستیک دگر پاؤں کی لغزش کے سبب دست بدستدیدم از دور گروہے ہمہ دیوانہ و مستاز تف بادۂ شوق آمدہ در جوش و خروش
گرچہ ظاہر تھا خراب ان کا ولے سب معمورکاسۂ سر سے ہوئے پھرتے تھے سارے فغفوربے لباس طرب و جامۂ اندوہ سے عوربے دف و مطرب و ساقی ہمہ در عیش و سروربے مے و جام و صراحی ہمہ در نوشانوش
نام و ناموس کا دفتر تھا سب ان کا برہمدیکھ کر پہلے کیا میں نے تامل یک دمپھر جو دیکھا تو مجھے بد کہے گا کیا عالمچوں سر رشتۂ ناموس برفت از دستمخواستم تا خبرے پرسم ازو گفت خموش
عقل رکھتا ہے تو ٹک رہیو ادب کا پابندیاں فراغت ہے دو عالم کی ہر اک جام میں بندیہ وہ جا ہے کہ نہ فردوس ہو اس کے مانندایں خرابات مغان است و درو مستاننداز دم صبح ازل تا بہ قیامت مدہوش
میرؔ ان مستوں میں کوئی نہیں پابستۂ زیستکیونکہ یہ زیست بہت ہووے تو دہ روز کہ بیستجتنے یہ ہست نظر آتے ہیں اب سب ہیں نیستگر ترا نیز بہ ایں فرقہ سر یک رنگی ستدین و دنیا بہ یکے جرعہ چو عصمت بہ فروش
تضمین در مخمس
کیا کہوں مجھ پہ جو گذرے ہے جفاکاری دلدرپئے دشمنی جاں ہے یہی یاری دلایک شب ہو تو کروں شرح غم و زاری دلدوستاں چند کنم نالہ ز بیماری دلکس گرفتار مبادا بہ گرفتاری دل
آتی ہے ایک نہایت ہی جگرسوز صدایعنی پھر رات سے چھاتی میں مری درد اٹھامہر خاموشی جو لب پر ہے مرے اس پہ نہ جااے کہ بر زاری دل می کنی انکار بیاگوش بر سینۂ من نہ بشنو زاری دل
آہ مت پوچھ کہ کیوں ٹپکے ہے ان آنکھوں سے خوںایسے قضیے سے چکوں کاش کہیں مر بھی چکوںمیں مصیبت زدہ حیران ہوں کیا فکر کروںصبر و آرام یکے نیست ازیں ہردو کنوںکہ دریں واقعۂ صعب کند یاری دل
سیل سی پار گذر جاتی تھی آہ سحریاس لیے جان پہ میں کی ہے یہ بیدادگریہو سو ہو اس کو ہنر جانیے یا بے ہنریگر ہمہ نیزہ ببارد کہ من از بے سپریدادم اکنوں جگرے را بہ سپرداری دل
نل دمن لیلی و مجنوں یہ جو ہیں مثنویاںایک مدت رہی ہیں میرے تئیں نوک زباںخود بہ خود کی یہ جگرخواری و بے تابی کہاںخواندہ ام قصۂ عشاق بسے نیست دراںجز جفاکاری دلدار و وفاداری دل
یاں چلے گر کوئی آنکھوں سے بھی تاپا چہ رسدمذہب عشق میں لازم ہے اسے کرنا حدجیتے جی میں تو نہ جاؤں گا عبث مت کر کدکوے تو منزل دل ہاست کسے چوں گذردکہ نیاید بہ زمیں پاے ز بسیاری دل
میرؔ اس دل سے ستم لوگوں پہ کیا کیا نہ ہواکوئی آوارہ کوئی خستہ کوئی جی سے گیاآؤ خاموش ہو کوئی نہیں ہمدرد تراعمر باشد کہ نشاں نیست ز جاے پیداکہ کند با تو دمے شرح دل آزاری دل
تضمین در مثلث
ٹک یہ بھی رکھو سن تم اے ارباب تعلقاوقات خوش آں بود کز اسباب تعلقآزردہ دلے داشتم آنہم دگرے داشت
کیا کہوں میں عاشق و معشوق کا راز و نیازناقہ را میراند لیلیٰ سوے خلوت گاہ نازسارباں در رہ حدی می خواند و مجنوں می گریست
مر ہی جاؤں کسی گلخن میں جو میں غم سے بھرانخل بندی بگلے کن سر تابوت مراکہ بدوران تو از گلشن عالم چیدم
کل تک تو فریبندہ ملاقات تھی پہلیامروز یقیں شد کہ نداری سر اہلیبے چارہ ز لطف تو بدل داشت گمانہا
اے وفاے گل کے عاشق سب میں ہے یہ راز فاشچوں صبا بیہودہ سرگردان ایں گلشن مباشمن چہ گل چیدم کہ عمرے باغبانی کردہ ام
میرؔ اس وادی میں بیدردانہ گذرا تو بہ ذوقگر دلت می داشت شورے چوں جرس در راہ شوقبر کف خاکے کہ طے می گشت جاے نالہ بود
باب ذلت رہوں کہاں تک میرؔبہ کجا سر نہم کہ چوں زنجیرہر درے حلقۂ در دگر است
نالہ بلبل غنچہ غم شمشاد آہ دل فگارباغباں جاروب و گل خمیازہ و من انتظارہر کسے چیزے بیادت در گلستاں می کشد
آئی تھی ملاقات کی راہ اس کے ولے سودتا چشم کنم باز شب وصل سحر بودعمر گذراں بر سر انصاف نیامد
جہاں سے اے کہ تمنا ہے تجھ کو مجھ سے سنیکے بگور غریبان شہر سیرے کنببیں کہ نقش بلاہا چہ باطل افتادہ است
اگرچہ اب دم آخر ہے لیکن اے غم خواربہ ہجر زندہ ام آئینہ پیش من مگذارجدا ز یار بخود روبرو شدن ستم است
ہے بھی جو کوئی یاں سو نہیں کے ہے وہ مانندنیک و بد عالم ہمہ عنقا صفتانندیعنی خبر ازہر کہ گرفتم خبرے بود
عمر گذری ہوچکا آسودگی کا روزگار
عمر گذری ہوچکا آسودگی کا روزگاررنج و محنت کے تئیں آرام سے ہے ننگ و عارمعرکہ ہے یک طرف دونوں ہوئے ہیں سامنےزخم دل کی یہ ہنسی وہ گریۂ بے اختیارمجہلہ ہے گتھ رہے یک طرف ہیں کتنے جو یہصبر سے بے طاقتی دل اور درد بے شمارعاشقی جب کی تھی میں نے تب نہ تھیں یہ خواریاںکیا کہوں کیا کچھ دکھاتا ہے مجھے اب ہجر یارسینہ دیکھو چاک منھ ناخن سے سب نوچا ہواآنکھیں دیکھو ڈوبی خوں میں جی کو دیکھو بے قراراے کہ گفتی عشق را درماں بہ ہجراں کردہ اندکاش می گفتی کہ ہجراں را چہ درماں کردہ اند
اک کنارے وے تو جو ہیں گے زمیں کے زیر یاںخاک پر بسمل پڑے ہیں کیسے کیسے شیر یاںدو قدم پر ہے یہ ہنگامہ ترے کوچے کے بیچآ شتابی کچھ نہیں لگنے کی تجھ کو دیر یاںمنھ پہ کھانے والے تلواروں کے بھوکے موت کےسینکڑوں یک جا ہیں وے جینے سے تھے جو سیر یاںدھڑ نہیں سر ہی پڑا ہے سر نہیں تو دھڑ ہی ہےہیں زیارت کردنی صد کشتۂ شمشیر یاںغم زدے بے خانماں بے وارثے بیکس غریبزخموں کے دامن لے منھ پر ہو رہے ہیں ڈھیر یاںگر تو ہم آئی پئے طوف شہیداں دور نیستگریہ می آید دریں جا راہ چنداں دور نیست
لے لپیٹ ایک آن میں وحشت سے یہ سارا جہاںخاک اڑا ہر ایک دم میں کارواں در کارواںتیرہ کر عالم کو رہ سرمایۂ گرد و غبارچشم ما روشن تو ہو آوارۂ کون و مکاںیمن بخشے طے کیا کرنا زمیں کا تیرے تیںکھینچنا سر کا مبارک ہو تجھے تا آسماںلیکن اتنا بھی برآشفتہ نہ ہوجانا کہیںپیش رو رکھتے ہیں سارے خاطر واماندگاںسو خدا ناکردہ ہم کہتے نہیں اس راہ سےکوئی دم وقفہ کرے یا دیر ہووے تجھ کو یاںیک قدم اے گرد باد دامن صحرا بایستدر قفا ماندہ ست مشت خاک ما تنہا بایست
گرچہ ہجراں میں ترے جاتا تھا جی میرا چلاپر یہ تھا دل میں کہ شاید دیوے تو داد وفاوصل خاطرخواہ تو معلوم تھا میرے تئیںآس دل کو لگ رہی تھی جب تلک تھا میں جداگاہ باشد رحم کو بھی کام فرماوے وہ شوخدیکھ مجھ ناکام کو یک دم کرے ترک جفاایک ساعت پاس بیٹھے درد دل میرا سنےکرکے غم خواری کہے یہ تیرے تیں کیا ہوگیاسو تو یہ سب ہوچکا اے کاشکے ملتا نہ توایسے آجانے کا تیرے کون یاں مشتاق تھاآمدی و حسرت وصل از دلم برداشتیحسرتے بود از وصال آں ہم بہ من نگذاشتی
ہیں خرابے آج جتنے کل یہ تھے لوگوں کے گھرمت بناے خانہ میں منعم رہا کر اس قدرطاق کسریٰ تو سنا ہوگا کہ کیسا تھا محلاب کہیں اس طاق کا کسریٰ کے پیدا ہے اثرگھر کا صاحب تو اڑایا کرکے یکساں خاک سےاینٹ مارے اینٹ سے یہ کچھ ہوا اس گھر اپرخط باطل سے لکھا ہے صفحۂ کون و مکاںکیوں دماغ اپنا جلاتا ہے رہے ہے تو کدھرکیسے کیسے خانوادے خاک میں یاں مل گئےجاے عبرت ہے یہ معمورہ جہاں کا بے خبرہرکجا افتادہ بینی خشت در ویرانہ اےہست فرد دفتر احوال صاحب خانہ اے
کم بہت سننے میں آتا ہے کوئی رنجور ہےیا کسی مجروح کا زخم جگر ناسور ہےروشنی آنکھوں کی ہے منظور ساری خلق کوقوت دل کا جدھر دیکھو تدھر مذکور ہےہم کنے بھی تھے یہ دو آتش کے پرکالے کبھوان سے ہم ایذا جو کھینچی ہے کسے مقدور ہےایک نے مارا چھڑک کر جی سے ہم کو آب داغایک نے جیسا جلایا اب تلک مشہور ہےہم کو حیرانی ہے اس میں جس کو سنتے ہیں اسےان ہی دونوں آفتوں کی پرورش منظور ہےما سرشک گرم و آہ آتشیں دیدیم و بسبہرہ اے کز چشم و دل دیدیم ایں دیدیم و بس
دل نہیں مجھ کو ملا یہ کوئی جی کا ہے وبالگفتنی ہو تو کہوں اے میرؔ میں کچھ اس کا حالخودبخود گھٹتا ہی جاہے آرزو کیا ہے اسےچاہتا ہے سیم و زر یا کوئی دلبر خوش جمالیاد میں میری ہوا ہو کچھ سبب تو ہے بجاعشق بازی مفلسی آزردگی رنج و ملالنے کسو کے گیسو و کاکل کا وابستہ ہوں میںنے کسی کے چاند سے مکھڑے کا مجھ کو ہے خیالکیا کروں ایذاے بے موجب غرض تجھ سے بیاںنے غم و درد جدائی ہے نہ اندوہ وصالنیستم عاشق بظاہر لیک می کاہد دلمعمر بگذشت و نمی دانم چہ می خواہد دلم
میری تو بساط چشم تر ہے
میری تو بساط چشم تر ہےسو نذر ہے اس پہ گر نظر ہےاس دشت میں زندہ ہوں میں جس میںہر گام پہ جان کا خطر ہےگرمی تو کر اے صنم کہ آخرپتھر کے جگر میں بھی شرر ہےپیری میں بھی بوجھ ٹک نہ پکڑازاہد تو تو ہنوز خر ہےمرتا ہوں جو میں تو عیب مت کرعاشق میں تو ایک پھر ہنر ہےکیا ہوتا ہے قتل گہ میں دیکھیںتیری شمشیر میرا سر ہےکہہ تو ہی کہاں تلک کریں صبرہم ہیں دشنہ ہے اور جگر ہےآنے سے ڈرو نہ دل میں میرےخوباں یہ تو تمھارا گھر ہےلبریز گلہ ہوں گرچہ لیکنہونٹھوں پہ نہ حرف کا اثر ہےچپ ہوں گویا ہوں بے زباں میںرکھتا ہوں عجب لب و دہاں میں
تقصیر ہے بوالہوس کی اور مفتمارا جاتا ہوں درمیاں میںاکسا بھی نہ تیغ کھا کے بارےفارغ ہوا دے کے امتحاں میںاے طفل کہے گا بعد میرےمارا کاہے کو یہ جواں میںہوں میں تو چراغ اخیر شب کاکوئی دم کا ہوں میہماں میںدل سوزی مری کر اے صبا ٹکہونے تئیں صبح کے کہاں میںرونے ہی کو روتا ہے گا ناصحپھرتا ہوں ڈبائے خانماں میںکوئی نہیں شہر غم میں میرابے چارہ غریب ہوں گا یاں میںغم کہہ کے رلاتا ہوں میں سب کوتجھ غم میں ہوا ہوں روضہ خواں میںپائی نہ وفا کسی میں دیکھاغربال تمام کر جہاں میںبارے میں یہ سب دیار دیکھاہر کوچے کو بار بار دیکھا
شب ہی عالم میں ہوگئی تھیاپنے دل کا غبار دیکھاآنکھیں گئیں روتے روتے لیکنتونے نہ ادھر کو یار دیکھااب وعدہ نہ کر زیادہ بس ہمجاناں ترا اعتبار دیکھاکہتے تھے یہ ہم نہ کر تمنااے جان امیدوار دیکھادامن میں گرا ہو ٹکڑے ٹکڑےہم نے جی کو فگار دیکھاآنکھوں سے اٹھایا آبلوں کےصحرا میں جدھر کو خار دیکھاپوچھا نہ ہمارے بعد ہم کویارو یہ جہاں کا پیار دیکھامدت تئیں دید کر جہاں کاطرز و وضع و شعار دیکھادیکھا تو ملا نہ کوئی ہم فندیکھے یہاں شیخ اور برہمن
عقل اول کو اک سنا تھانکلا سو معارضے میں کودنآنکھوں میں ٹھہر رہے ہیں آنسوہونٹھوں پہ دھرا رہے ہے شیونشیوہ ہے ہمارا نالہ کرنایاں سے کچھ سیکھ مرغ گلشنتجھ بن نہیں سانس اور کچھ ہےچبھتا ہے جگر میں ہو کے سوزناے برق ادھر نہ آ ہمارےہر خوشے میں شعلوں کے ہیں خرمنہم وے ہیں کہ باغ کر دکھائیںاشک گل گوں سے طرف دامنسختی ایام کی جو کہیےہوویں ابھی موم سنگ و آہنکیا تجھ سے سپہ گری جتاویںگر خود و زرہ نہ ہو نہ جوشنمجروح یہ ہیں گے ہم جو اڑ جائیںبھاگے ابھی جان لے تہمتنایسے تو ہیں پر وفا میں ویسےخوباں تم ہو جفا میں جیسے
پھر جاتے ہیں غیر اس سے ملنےآتے نہیں باز ایسے تیسےہم رستم عشق ہیں گے کیونکرمنھ موڑیں ہزار پانسے سےسرکش نہ ہو زیر چرخ ان نےپامال کیے ہیں کیسے کیسےہے بندہ نواز ظلم مجھ پرہم نالہ نہ کر تو مجھ کو نے سےگو موسم دے خنک ہو مجھ سےدل گرمی ہے مجھ کو زور مے سےٹک دیکھ فلک نے شاہ خوباںکیا کچھ کیا خاندان کے سےسر بیچے سو عشق میں رکھے پاواقف نہیں دل تو یاں کی رے سےہاتھوں میں مرے ہیں داغ خوباںکہتے ہیں کہ اس کنے ہیں پیسےکیا تجھ سے کہوں معاش اپنیبارے گذرے ہے جیسے تیسےرہتا ہے غرض ہمیشہ سوداکوچہ کوچہ ہوا ہوں رسوا
وہ تشنہ دہن ہوں دل جلا ہوںلب چش جس کا نہ ہووے دریاکہتے ہو جسے فلک ہوا ہےمیرے ہی غبار دل سے پیداکھلتا تو سہی کبھی بلا سےدل میرا ہی کاش غنچہ ہوتااب جان سے جانا آرہا ہےموقوف اشارۂ تقاضاہو جس کی خراب عاقبت بھیوہ میں ہوں کہ دین ہے نہ دنیامیں ہوں کہ سرآمد جنوں ہوںمجنوں کو خلیفہ میں کیا تھاوہ خستہ ہوں میں ہی جس کو کہیےرونق افزاے کوہ و صحرایہ کچھ جو کہہ گیا بتاں میںخاطر میں تمھاری بھی کچھ آیایا یوں ہی بکا میں کچھ تو بولوخواہاں ہو تو خامشی ہے یہ کیاسودا نہیں کچھ وگرنہ مجھ کوکرتا ہے کوئی زیان جی کاگر اتنے پہ دل برا ہے میراموقوف کرو خدا ہے میرا
تم کو تو ہے کیا مرے ملے سےپر اس میں بتاں بھلا ہے میرامرنے سے ڈرا نہ مجھ کو قاتلجی دینا تو مدعا ہے میرازنہار حنا کہ اس کے پا پرمدت سے یہ سر لگا ہے میراسودا بہ رضا ہے مل ہر اک سےلگتا صنم اس میں کیا ہے میرایک نیم نگہ سے مول لے چکٹک دیکھ کہ یہ بہا ہے میرامیں ہوں کہ ہلاہل الم سےکٹ کٹ کے جگر گرا ہے میراجاؤ کہ رہو یہ جی جفا سےکچھ ہو شیوہ وفا ہے میراکاکل کو نہ کھول الجھنے کودل زور ہی منچلا ہے میراجوں توں کرکے طپش سے شب کومژگاں پہ جگر رہا ہے میراکل تک تو مرا یہ دل بجا تھااپنا دلخواہ مدعا تھا
تھے جن و ملک جلو میں میریاقبال مرا کوئی بلا تھاتھا روے زمیں پہ شاد و خرمکیا جانوں فلک کے جی میں کیا تھاایسا ہی نہ تھا بتو میں آگےآخر کوئی میرا بھی خدا تھاہوتے جو شہید یک تمناسو سو طرفوں سے خوں بہا تھااک روز چنانچہ ہول دل سےاندوہ تنک مجھے ہوا تھالوہو دیا اپنا دوستوں نےجس جاگہ مرا عرق گرا تھاہوں اب جو بلا میں مبتلا میںبیگانہ ہے جوکہ آشنا تھایہ رنج و بلا و درد و محنتاے واے حواس و صبر و طاقت
ایدھر بھی کبھو ٹک ایک چشمکہم سے بھی ضرور ہے مروتمت فرصت وقت سے ہو غافلآخر کو نہ کھینچے تا خجالتہر آن میں اپنی تربیت کردیتا ہے زمانہ کس کو فرصتغیروں کے رہوگے دیر تک تمہم کو تو سویرے کرکے رخصتکیا تم سے کہیں سلوک ہجراںدل میں نہ رکھی ہمارے حسرتقطرہ تو ہے پر نہ ہاتھ اٹھاؤدریا کو کرے ہے یہ کفایتخالی دل پر کو ہم بھی کرتےافسوس نہ دی اجل نے فرصتبس میرا ہو تو کروں منادیکوئی نہ کرے کہیں محبتگردن ماریں شتابی اس کورکھے جو کسی سے میرؔ الفت
قصد گر امتحان ہے پیارے
قصد گر امتحان ہے پیارےاب تلک نیم جان ہے پیارے
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کریہ ہماری زبان ہے پیارے
چھوڑ جاتے ہیں دل کو تیرے پاسیہ ہمارا نشان ہے پیارے
میر عمدن بھی کوئی مرتا ہےجان ہے تو جہان ہے پیارے