در مدح نواب آصف الدولہ بہادر
ہوا کیے ہیں زبس شکوۂ فلک تحریرسیہ ہے کاغذ مشقی کے رنگ لوح ضمیرکروں نہ شکر جفاہاے آسماں کیوں کرمری خرابی میں ان نے نہ کی کبھو تقصیردیا ہزاروں کو دست ان نے خانہ سازی کادل شکستہ کو میرے کیا نہ ٹک تعمیرجو میں نے چاہا کہ جلد اپنا کام کریے تمامتو روسیاہ نے اس کام میں بھی کی تاخیرسیا تھا چشم طمع کو میں اک سحر اس پرسو جام خون دیا ان نے جاے کاسۂ شیردماغ رفتہ شگفتن سے آشنا نہ ہواکہ اس چمن میں رکھا ان نے غنچۂ دل گیردر قبول سے نومید پہنچی میری دعاپھرایا عرش سے نالے کو میرے بے تاثیرنہ دیکھا صفحۂ عالم کو میں کہ ان نے رکھاہمیشہ اپنا ہی حیران کار جوں تصویربراے یک لب ناں مجھ ضعیف کو ان نےہلال وار کیا سارے شہر میں تشہیرفلک کے شکوے میں تھا میں کہ ہم نشیں بولاکہ اے جوان ستم کشتۂ سپہر پیرغزل نہ لطف کی اک تونے میرؔ صاحب کیسنی نہ ہم نے کوئی آشیانہ سوز صفیریہ سن کے فکر نے کی مطلع غزل کی فکرفلک نے صفحۂ کاغذ پہ جو کیا تحریر
غزل (مطلع ثانی)
ہماری یار سے صحبت ہو کس طرح درگیرگرہ میں نالۂ آتش فشاں سو بے تاثیرسمجھ کے زلف کے کوچہ میں پاؤں رکھیو نسیمکہ نکلی ہے یہیں سے راہ خانۂ زنجیرہزار قافلے یوں مصر سے چلے لیکنکیا نہ ایک نے کنعاں کی سمت کو شب گیرکھلا نہ منھ پہ ہمارے کہ ہے زباں پر آہبہ رنگ خامۂ شنجرف خوں چکاں تقریرجگر ہے رشک کی جا اس شکار کا تیرےکہ صیدگاہ میں پہلے ہی آگیا سرتیرجہاں میں اہل جہاں کو ہو کشمکش بن کیاکہ ایک تنگ قفس اور جس میں اتنے اسیرسفر ہے دور کا درپیش آ ٹک آئینہ روکہ زاد راہ عدم ہو نگاہ وقت اخیرنہیں تو دیر محبت کی رسم سے آگاہکرے ہیں کعبے کے سکاں کی بھی یہاں تکفیرتمام نالہ ہوں اس بن مگرکہ روز نخستکیا تھا تن کا مرے سودۂ جگر سے خمیرغزل کو سن کے کہا ہم نشیں نے تجھ سا شخصبجا ہو خاک ہو گر پیش آستان وزیروہ آستانہ کہ گویا ہے راستوں کی جبیںکرے ہے سجدہ جسے آن کر صغیر و کبیرشرف ہے جس سے یہ اس آستاں کو کیسا ہےوزیر کہیے کہ فرماں روا ہے کوئی امیرغرض جلیس سے شب کو کہ غم شریک جو تھایہ سن کے اے گنہ آمرز اور عذرپذیر
مطلع ثالث
خلل پذیر ہوا ہے دماغ خامۂ میرؔکہ تیری مدح میں کھولا زباں کو کر تقصیرتمام قدرت و آصف صفت سلیماں جاہسوار دولت و گنجینہ بخش و دشمن گیرفلک شکوہ و ستارہ حشم خدیو جہاںترے جلال کو کن لفظوں میں کروں تعبیرزہے یہ حشمت و جاہ و جلال و قدرت و زورکہ تیرے حکم کے آگے ہے سہل امر خطیرترے محرر دفتر کا ہے سدا محتاججہاں میں شہرہ عطارد جو ہے فلک کا دبیرزہے علوے مراتب کہ در پہ بار نہ پائےہزار بار اگر چرخ مارے چرخ اثیر
شریک مشورۂ کارخانۂ عالم
کیا ہے تجھ کو قضا و قدر ہیں تیرے مشیررواں ہو صبح کا گر مرکب ظفرپیکرتو تابہ شام کرے روم و شام تک تسخیرکف سخا کی تری ریزش کرم کے حضورگیا ہے قطرہ زناں شرمگیں ہو ابر مطیرہمم کو تیری بیاں کیا کروں کہ اے ممدوحہوئے ہیں خلق ترے بخشنے کو تاج و سریرکروں میں عرض سو کیا ہفت گنج خسرو کوکہ تیرے بخش دیے کے نہیں ہیں عشر عشیرلکھوں سو کیا ترے خدام کی سخاوت کونہ پاوے وقت دہش رتبۂ قلیل و کثیرثبات حرف کو تیرے قلم کی کیا لکھیےکہے تو خامۂ فولاد سے کیا تحریربرات روزی کسو کی شرف کو دستخط کےپہنچتی ہے تو نہیں مٹتی جوں خط تقدیرنہیں ہے شہر میں نام و نشان منہیاترہی ہے نے کوئی جنگل میں سو براے حصیرمزاج رفع پہ بدعت کے ہو تو پھر نہ اٹھےصداے نے کا تو کیا ذکر ہے قلم کی صریرنسق کو کام تو فرماوے ایک آن اگرتو پھر زمانہ قیامت تلک نہ پاوے تغیرگیا ہے شور ترے عدل کا جو گردوں تککتاں سے آنکھ جھپکتا رہے ہے بدر منیربغیر غمزۂ خوباں رہا نہیں اب ایکجہاں کے پردے پہ اوباش خانہ جنگ و شریرجو چاہے تو کہ رہے فرش چاندنی دن کواٹھا کے تہ کرے پردے ظلام کے شب قیرکرے ہے قطع امید آپ سے ووہیں دشمنسنے ہے مجھ سے تری جب کہ صولت شمشیرجو نکلے میان سے تو نامۂ فنا کہیےکہ پہنچے جس کو اسے مٹنے سے نہیں ہے گزیررہے تو زخم لگا اس کا بہ نہ ہووے مگرفلک زمیں سے ملے تب ہو اندمال پذیرنہیں ہے فیل کہ زربفت پوش کوہ ہے وہکروں شکوہ کو اس کے سو کس روش تسطیررواں رکاب میں ہے آسمان زر گویاستارے جھول کے ایک ایک آفتاب نظیرکمیت خامہ مرے ہاتھ کی ہے ران تلےصفت کروں میں سمند وزیر کی تحریرکسو کی آنکھ نہ پڑ سکتی تھی چھلاوے میںپھرے تھا سطح زمیں پر وہ یوں سپہرمسیرنظر جو ایک مصور کی آگیا جاتےیہ ان نے ریجھ کے چاہا کہ کھینچئے تصویرخیال دور سے دوڑا کے رہ گیا آخرہوا نہ گرد میں گردا بھی اس کا شکل پذیرسن اس قماش کی مدحت کو مت سمجھیو یہکہ ہے غرض خز و دیبا و پرنیان و حریرغرض یہ ہے کہ تری خاک آستان زہےکہ اس کے رتبے کو ہرگز نہ پہنچے پھر اکسیروہ آستاں کہ گدا و غنی کا ہے مسجودبقیہ عمر کرے صرف اس پہ یہ بھی فقیرہمیشہ ساتھ ترے دوستوں کے ہو اقبالترے عدو کی سدا مدبری کرے تدبیر
در مدح نواب آصف الدولہ بہادر
رات کو مطلق نہ تھی یاں جی کو تابآشنا ہوتا نہ تھا آنکھوں سے خوابلوٹتا تھا سوز غم سے آگ میںدل جگر سکتے تھے دونوں جوں کبابہر زماں تھی ساتھ اپنے گفتگوکیا کروں شہر اور میں دونوں خرابتھا کرم شیوہ جنھوں کا اٹھ گئےبیٹھے بیٹھے کھینچئے کب تک عذابجایئے کس کے در اوپر کون ہےملیے کس سے کون ملنے کا ہے بابلے جوانی سے پھرے پیری تلکامتحاں میں آگئے سب شیخ و شابناگہاں مجھ سے لگا کہنے سروشرہگذر سے لطف کی کر کر خطابہے کریم اب بھی وزیر ابن وزیرآصف الدولہ فلک قدر و جنابآسماں رتبہ ہے جس کا آستاںناز کر طالع پہ جو ہو باریاباس کی ہمت سے سخن کیا سر کروںبات کہتے دے در و یاقوت ناباس کے دست و دل کے رشک و شرم سےخون ہے دل کان کا دریا ہے آبجم حشم انجم سپہ گردوں شکوہمرجع خرد و کلاں عالم مآبدست ہمت اس کا گر دربار ہوپانی پانی شرم سے ہووے سحابمال کیا ہے ہفت گنج خسرویاک ہی کو نواب بخشے ہے شتابفخر سام و رستم اس کی بندگیداخل خدام یاں افراسیابجس سحر جرأت سے کھینچی ان نے تیغڈھال رکھے منھ پہ نکلا آفتابرزم کے عرصے میں ہلچل پڑ گئیآسماں کے خیمے کی کانپی طنابمدعی گر کوہ تھا مارا اکھاڑور زمیں تھا بے سکوں پایا شتابخرمن آسا جل گیا انبوہ خصمچل پڑی جو اس کی تیغ برق تابدیو تھے گو معرکے میں بے شمارایک ٹھہرا ہو مقابل کیا حسابزین رکھا جائے مرکب پر اگرراجا پرجا آن کر دابیں رکابزلزلہ پڑ جائے سارے ملک میںملک داروں سے کہیں ہاں سرحسابمطلع ثانی کی اب مائل ہے طبعکفر ہے حرف و سخن سے اجتناب
مطلع ثانی
اے ترے ڈر سے جگر شیروں کے آبدشمنوں کو روبہانہ اضطرابمدعی کی صف ہے کونجوں کی قطارلشکری اس فوج کا ہر اک عقابموج زن جیدھر ہو وہ دریاے فوجبستیاں اس سمت کی جیسے حبابگرد اس لشکر کی گر ہووے بلندپھر زمین و آسماں میں ہے حجابجاوے دشمن جوں سگ پاسوختہوقت گرگ و میش لے منھ پر نقابداوری و منصفی سن دلبراںچھوڑ دیں عشاق پر کرنا عتابرفع بدعت چاہے تو پھر کیا مجالاٹھ سکے جو نغمۂ چنگ و ربابمنع مے ہووے تو پھر قدرت ہے کیاجو گلے سے شیشے کے اترے شراببحر کیا ہے جو کرے تہ سے سوالکوہ تیرے حلم کا کیا دے جوابخوبیاں ہی خوبیاں سر تا قدمتب کیا صانع نے تجھ کو انتخابلطف طبع صاحب مجلس کہوںیا لکھوں پاکیزہ اس صحبت کا دابنکلی مستعمل نہایت ورنہ شبچاندنی کی جاے بچھتی ماہتابگر نہ ہو ممدوح علم ظاہریپر نہیں ہوتی ہے یہ رائے صوابجو کہے تو چاہیے وہ لکھ رکھیںحرف ہر یک تیرے منھ کا ہے کتابکر دعا پر میرؔ اب ختم سخنتو کہے جو کچھ کرے حق مستجابزیردست اس کے رہیں گردن کشاںتا قیامت وہ رہے مالک رقابدوست اس کے جوش زن جیسے محیطخاک بر سر مدعی جیسے سراب
در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ
اک شب کیا تھا یار تری زلف کا خیالاب تک ہے دشمنی میں مری میرا بال بالمیں مر گیا فراق میں پر اب یہ کیا ہے ظلمجیتی گڑی ہے ساتھ مرے حسرت وصالجنبش ہوئی مژہ کو ادھر گر گئی سناںابرو ہلے ترے کہ ادھر کٹ گیا ہلالآیا ہے یاد قیس بہت اب کہ ہوں بتنگاس کے بھلاوے مجھ کو نہیں چھوڑتے غزالخوش وقت ٹک تو ہوں پہ کہیں کا نہیں ہوں پھرآزردہ ہوئے مجھ سے اگر خاطر ملالرنگ اڑ گیا تبھی کہ ہوا تجھ سے چہرہ گلرکھے ہے اب نسیم کی سیلی سے منھ کو لالدوزخ ہے میرے شرم گنہ کے عرق میں غرقلیکن نہیں ہنوز مجھے ٹک بھی انفعالخوش قامتی کو آہ کے کب پہنچتا ہے سروہے یہ تو باغ رنگ شکستہ کا نونہالحیرت بساہی جان کو اپنی تمام عمرٹک چشم آئینہ نے ترا دیکھ کر جمالیک روز بے نقاب ہوا تھا تو صبح کواب تک ہے آفتاب جہاں تاب پر زوالتھی سیر تیرے کوچے میں عشاق کی معاشکتنے شکستہ دل تھے بہت تھے خراب حالجتنے غرض تھے سب کو یقیں تھا کہ مرچکےکوئی نہ تھا کہ جس کو ہو جینے کا احتمالکب تک صفت بتوں کی خدا سے تو خوف کراے طبع رہ نہ اتنی بھی پابند خط و خالپڑھ منقبت یہ شاہ کی جس سے نجات ہووہ شاہ جس کے ایک گدا کو ہے یہ کمالبخشش سے جس کی حرف طلب محو ہوگیاکم اس کے وقت میں ہے بہت نوبت سوالہے معن اس کے مطبخ عالی کا کاسہ لیسدستارخواں کا اس کے ہے حاتم اک آشمالآوے اگر عطا و کرم پر وہ ایک دمخسرو کے ہفت گنج تو پھر کیا ہیں چیز مالکہتا ہوں اب میں مطلع ثانی کہ ہوں بتنگوسعت رکھے ہے بس کہ یہ میدان قیل و قال
مطلع ثانی
اے نائب مصاحب دادار بے ہمالوے مشورت شریک خداوند لایزالتو ہے کہ تیرے عدل کی نظم و نسق کو سناٹھ جائے دفعتہ ہی مزاجوں سے اختلالچاہے خدانخواستہ اس کا اگر تو رغمتو منحرف مقام سے ہو خط اعتدالشاہا ترا غلام ہو ایک اور اک طرفسنگیں ہو فوج دشمن اگر کوہ کی مثالتیر و کماں کو ہاتھ میں لے جب ہو سامنےہے اس کو اپنے زور شجاعت سے یہ کمالجس دم کہ زور بازو سے آکر لگاوے تیرپھوٹیں دوسار ہوویں اگر آہنیں جبالچٹکی سے اس کی ہو کے جدا تیر پر لگائےجو اس کے سامنے ہو اسے اڑ کے لاگے بھالاٹکل سے جس کے سینے میں مارے ہو تیرتخشمنھ دیکھو مدعی جو رکھے اپنے تیں سنبھالپشت عدو کی اور ہو پیکان یوں نمودجیسے کہ سانپ بیٹھے ہے بانبی سے سر نکالبالفرض اس پہ چوٹ کرے آکے مدعیخالی دے اس کے وار کو دیوے زمیں پہ ڈالاس جھوک ہی میں ہاتھ مع تیغ ٹوٹ جائےگردن کٹادے مفت گرے بس کہ ہو نڈھالسنتے تھے وہ مثل سو یہیں ہوتی ہے درستدست شکستہ اپنی ہی گردن کا ہے وبالجو کوہ آہنیں ہوں ترے مدعی شہاتنہا ترا غلام لے تلوار اور ڈھالدو ہاتھ ایسے گڑ کے کرے سب کو دے اکھاڑمارے زمیں پہ جس کو پکڑ کر کمر دوالٹھہرے ورے پرے تو نہایت غریب ہےتحت الثریٰ سے گر نہ پرے جائے بدسگالیوں دیکھ ایک دو کو کنارہ کرے شتابمیدان کارزار سے رستم بہ رنگ زالشیر فلک کو راہ بھلا دیوے وہ دھمکاس زلزلے میں گاو زمیں سیکھ جائے چالمن بعد اور باقی رہیں جتنے کشتنیکر جمع ان کو زور شجاعت سے پیل پالتلوار لے پھرے وہ تو پھر جائے روزگارنعرہ کرے تو تن سے کرے روح انتقالاہل سلاح ترس سے گر گر پڑیں بہتجتنوں کے ہو گلے میں زرہ ان کا ہو یہ حالنعرے سے اس کے لیویں بہت یوں رہ گریزبھاگے ہیں جیسے شیر کی آوازسے شغالحصہ رسد کوئی ہو وہ رکھ جائے ایک تیغگذرے نہ ایک دم بھی کہ قضیہ ہے انفصالزخم اس کے ہاتھ کا جو لگے بہ نہ ہو کبھیمٹ جائے کائنات مگر تب ہو اندمالتر ہوگئی ہے بس کہ لہو میں گل زمیںگر خشک ہووے خاک کہیں بعد ماہ و سالہو پھر گذار باد صبا سے یہ واں کا رنگاڑتا ہے جیسے ہولی کے ایام میں گلالمیلان طبع مطلع ثالث کی اور ہےتا خیر پر قصیدۂ غرا کا ہو مآل
مطلع ثالث
لائق تری صفت کے صفت میری ہے محالآشفتہ طبع شاعر خستہ کی کیا مجالتو وہ در مدینۂ علم علیم ہےجس شخص کو نہ آوے الف بے تے دال ذالآوے تری جناب مقدس میں ایک دمکرتے ہیں واں تو وقف سبھی طرز کے مقالعالم ہو اس قدر کہ بیاں کیا کرے کوئیپھر بحث اس سے عقل فلاطون پر ہے داللیتے ہیں تیرے در سے گدا پوست تخت فقرپاتے ہیں تیرے در سے شہا مکنت و جلالجب تک جیوں میں دل میں مرے آرزو ہے یہہوں سر سے تیرے زائر درگہ کا پائمالپھر بعد مرگ حوض پہ کوثر کے یا علیؓجاگہ مری ہو حشر کی تیری صف نعالجب ہوں میں گرم راہ ترے سائے میں شہاہوجائے سرد آتش دوزخ کی اشتعالجب تک جیے گا محو ثنا ہی رہے گا میرؔہے تیری منقبت سے نپٹ اس کو اشتغالہوئے حرام تیرے محبوں کو درد و غمشمشیر دوستاں پہ ہو خون عدو حلال
در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ
غنچے ہو دل پر آتے ہیں اندوہ اب مدامپہنچے ہے مجھ کو داغ گل جنگ صبح و شاماے کج روش تو نامہ نہ لکھ بھیج مت پیامقاصد کا میرے سیدھی طرح سے تو لے سلامدل میں نہیں ہے قطرۂ خوں آنکھیں ہیں گی ترخالی پڑا ہے شیشۂ مے بھر رہے ہیں جامناکامیوں سے کام رکھا میں تمام عمرگو کام دل حصول نہ ہو مجھ کو کیا ہے کاماے رشک ماہ عید نہ کر انتظارکشمکھڑا دکھادے چاند سا ٹک آکے پشت بامزنجیر پا ہے اس کی تری زلف غالباًمدت ہوئی نسیم نہیں کرتی ابتسامچلتا ہے تو تو جاتے ہیں کتنوں کے جی چلےآ اب کسو کی مان لے موقوف کر خرامآوارگی سے دل ہی کی آسودگی کو چھوڑناموس عافیت کو اڑا کیسا ننگ و نامگر جانتا مژہ کو تری تیغ کیں تو میںدو چار جانیں اور بھی کر لاتا قرض و وامرونے کا تار باندھ تفرج نہیں ہے خوبہے آنسوؤں کا سلک گہر کا سا انتظاماک دم تری گلی میں گیا تھا میں سیر کولبریز بوے خوں سے ہے اب تک مرا مشامصیاد نے اسیر کیا مجھ کو پر عبثمیں ٹک جیا نہ فرط تپیدن سے زیر دامآنکھوں سے اس کی چشم وفا میرؔ ہے غلطوحشی ہیں یہ غزال نہ ہوں گے کسی سے رامچشم طمع کو سی لے ہما تو کہ جیتے جیسرمہ ہوئے ہیں پس کے الم سے مرے عظاماے طبع اتنی ہرزہ درائی جرس کی طرزاس گفتگو کا فائدہ کہہ حاصل کلامیعنی امیر شاہ نجف کی صفت پر آوہ شاہ جس پہ سارے کمالات ہیں تماموہ شاہ ہے کہ بعد نبیؐ کے وہی ہے پھروہ شاہ ہے کہ حق ہے وہی اولیں امامگر چاہے دل گرفتہ جہاں میں نہ ہو کوئیکر دے یہ تنگ غنچۂ پیکاں کو ابتسامورنہ شگفتگی یہ بلاے عظیم ہےچھوڑے نہ زخم سینۂ عاشق تک التیام
مطلع ثانی
شاہا ترے گدا کا ہے مشہور احتشامشاہان سرفراز ہیں سب اس کے پائے نامہو اسپ پر سوار کرے عزم جنگ اگرمیدان کارزار میں ادنیٰ ترا غلامجو لاں کرے جدھر کو رہے اس طرف نہ خاکاڑ جائے خاک ادھر کی جدھر کو پھرے لگامپامال اس قدر ہوں کہ معلوم بھی نہ ہوںافراسیاب کون ہے رستم ہے یاں کدامشمشیر اس کی خرمن اعدا کی ہے جو برقآوے جو اس کے ہاتھ میں یک لحظہ بے نیامہل جائے اور ٹک صف اعدا کی اور کوبے سر ہیں پھر تو مدنظر تک بدن تمامیہ بات میں کہوں ہوں نظر کرکے مایؤلگر آسماں پہ جائے تہ خاک ہے مدامشاہا ترے غلام کے حملے کی کس کو تابگو پہلواں ہزاروں لیے آئے اس پہ ساموہ سام بن نریماں کہ اب تک جہاں کے بیچافسانے اس کے زور کے کرتے ہیں دھوم دھامایک ایک کو زمین میں دے گاڑ اس سمیتتحت الثریٰ کو جائے مع اپنے ازدحامطبقہ زمیں کا جائے اکھڑ اس کے زور سےچنداں عجب نہیں کہ ہوا ہووے تیرہ فاماز بس اڑے ہے خاک جدھر دیکھوں تس طرفجاتے ہیں کورچشم تماشائی ہو عواممطلع کروں ہوں اور بھی موزوں میں اس جگہتا ہو بہ خیر و خوبی قصیدے کا اختتام
مطلع ثالث
اے بعد فوت ختم رسلؐ صاحب اہتماموے اولیں امام و سزاوار احتراماز بس کہ تیرے نقش سے گم ہیں محرماترسام کھینچے خفت اگر چاہے ارتسامعصفور کس شمار میں پر تیرے عدل سےگنتی نہیں ہے باز شکاری کی اعتصامتو ہے کہ تجھ کو ذات خدا سے ہے ربط خاصتو ہے کہ ساری خلق پہ تیرا ہے فیض عامتو ہے کہ تیرے مہر کے سائے میں روز حشرمحفوظ آفتاب قیامت سے ہوں انامہیں سہل تیرے خشم کے آگے خرابیاںمشکل یہ ہے کہ ہووے فلک کا نہ انہدامچاہے تو اعتدال زمانہ ٹک ایک اگرایک ہی ہوا ہے پھر تو جہاں میں علی الدوامچاہے اگر تو یہ کہ نہ روپوش ہووے روزتہ کرکے شب اٹھا ہی رکھے پردۂ ظلامگرمی کرے تنک بھی اعانت تری تو پھرآجائے پختگی پہ مرا یہ خیال خامیعنی کہ دیکھوں حضرت دہلی کی جا نواحمعلوم ہے سواے ترے حاصل کلامہرگز نہ ہو حلال عدو پر ترے خوشیہووے تمام تیرے محبوں پہ غم حرام
در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ
جب سے خورشید ہوا ہے چمن افروز حملرنگ گل جھمکے ہے ہر پات ہرے کے اوجھلوقت وہ ہے کہ زبس شوق سے چشم بلبلخوبی دلکش گل دیکھنے کو ہو احولجوش گل یہ ہے جہاں تک کرے ہے کام نظرلالہ و نرگس و گل سے ہیں بھرے دشت و جبللطف روئیدگی مت پوچھ کہ میں شبہے میں ہوںسبزہ غلطاں ہے لب جو پہ کہ خواب مخملچشم رکھتا ہے تو چل فیض ہوا کو ٹک دیکھنرگس اگتی ہے جہاں بوئی تھی دہقاں نے بصلسیر کر تازگی و خرمی و شادابیخشک بھی شاخ نے اب سبز نکالی کوپلخون خمیازہ کش عاشقی و پنجۂ گلدونوں نکلے ہیں تہ خاک سے اب دست و بغلبرگ گل فیض ہوا کرتا ہے ہر اخگر کوآگ کی گر کہیں سلگا کے رکھے ہیں منقلبیت بحثی کے تئیں مرغ چمن آئے ہزارکسو گلبن کے تلے آپ بھی اب پڑھیے غزل
غزل (مطلع ثانی)
نکلے ہے لالہ زبس چاک کر اب سینۂ تلآتش گل سے جلا کرتا ہے سارا جنگلتیرگی اپنے ستارے کی ہے سب پر روشنآفتاب آوے ہے یاں دن کو جلاکر مشعلآمد گریہ قیامت ہے اگن میں جی کیمارے ڈالے ہے یہ برسات ہماری کی کہلغنچۂ خام کو جوں پھونک سے کھولے ہے طفلیوں بھی کر دیکھا پہ دل عقدہ ہے مالاینحلتو یونہی کھینچے ہے یہ نقش برآب اے منعمکیسی محبوب گئیں صورتیں اس خاک میں رلجنس دل مفت ہے سینے میں عجب کیا ہے جولےغمزے وے دزد ہیں آنکھوں سے چرا لیں کاجلشیخ کے قد کی درازی کے تئیں حال میں دیکھیاد آتا ہے جوانوں کے تئیں رقص جملکودنے کو جو اٹھا سر پہ اٹھالی مجلسدیکھیے بیٹھے جو پھر اونٹ تو بیٹھے کس کلپردے میں دوستی کے میرؔ کا جی تک تو لیامدعی کتنے تھے اس کے یہ محبت بیتلکیا ہیں اندھیر فلک کے کہ نہیں ملتی دادروز خورشید نکلتا ہے جلاکر مشعلجو ہے سو دست بہ دل خاک بسر ہے اس سےمیں بھی نکلوں ہوں سدا منھ پہ کف خاک کو ملموے سر تک تو عدو دیدۂ شور اس کا ہےآج دیکھے کسو سر پر تو اسے چاہے کلپنجۂ خور کو زراندود کیا ان نے جسےمرتعش باندھے ہیں اکثر شعرا بعضے شلسرخ رہتی ہے مژہ خط شعاعی سی ہنوزچشم خورشید سے کھوئی نہ کبھو ان نے سبلدرد سر میں ہے جو موجود ہے دور اس کے میںصبح نکلے ہے سدا ماتھے کو مل کر صندلوقت ہے اپنے نصیری کی مدد کا یا شاہروز و شب رہتی ہے اس موذی ہی سے جنگ و جدل
مطلع ثالث
اے کہ اک تو ہی ہوا عالم اسرار ازلاے کہ سو جان سے عاشق ہے ترا حسن عملتیری وہ ذات مقدس ہے کہ لیتے ہوئے ناممنھ سے ناخواستہ بھی صل علیٰ جائے نکلتیری درگاہ میں جبریل کے پر کیوں نہ جلیںیہیں ہے نور جلالی خدا عزوجلدور ازبس کہ کھنچا عرش سے رتبہ تیراحرف تیرا ہے ترے شیعوں کو وحی منزلمرحبا شاہی تری صل علیٰ جاہ تراکہ ہوا تخت ترا دوش نبی مرسلؐفرش ہونا ترے زائر کا سعادت تھی ولےکیا کرے چادر مہتاب کہ تھی مستعملوہ نخستیں خرد اے عالم اسرار الٰہمانتے جس کو گئے دہر کے کامل اکملآخر اب آکے ترے درس میں نکتہ یہ کھلاناقص محض چلا جائے تھا عقل اولجی میں گذرے بھی تو نکلے ہے ترے درس کے بیچمعنی تازہ سے بدلا ہوا لفظ مہملرفع بدعت پہ جب آوے تری طبع اقدسکیا عجب شعلۂ آواز سے جل جا نرسللقمۂ ظلم نہیں پچتا عدالت میں تریباز نگلی ہوئی چڑیا کے تئیں دے ہے اگلحالت نزع میں گر نام زباں پر ہو ترایک رمق جان حیات ابدی سے ہو بدلبس کہ غالب ہے ترا سعد ستارہ ہے عجبپہنچے گر حشر تلک نوبت شاہی زحلکیا ترے کشف بیاں کرنے کی کہیے تاثیرطبع گوئندہ پہ یاں حال ہوا مستقبلتو غضب ہوئے مبادا کسو اوپر کہ شہامرگ ٹلتی بھی ہے پر ٹلتی نہیں یہ کلولتب ہوا دین محمدؐ کا بہ زور شمشیرتونے برہم کیے جب کتنے ہی ادیان و مللحبذا حق سے یہ نسبت کہ رہی بھی موقوفتجھی پر مصلحت کار خداوند اجلسن کے یہ نظم و نسق دہر میں جو تونے کیاجمع ہوجاتے ہیں شاعر کے حواس مختلکوئی یوں سرکشی سے اپنی کہے کچھ لیکنسجدہ ہی کیجے تجھے یہ ہے ترا قدر و محلجی میں ہے اور بھی مطلع کے تئیں کریے نموددل کو تسکین نہیں بخشتا وصف مجمل
مطلع رابع
اے کہ طاقت ہے زمانے میں تری ضرب مثلپنجۂ زور کے آگے ترے یہ چرخ نبلیک طرف میں نے کیا فرض ترے بندے کودوسری سمت کیا جمع عدو کا دنگلکشتنی مدعی کی اور کی میں کیسے کہوںہر جواں برج سا پھر کوہ کے مانند اچلمیان سے جب کہ گھسیٹی ادھر ان نے تلوارباعث تیرگی چشم تھی وہ برق اچپلدرہمی آگئی یک بار صف اعدا میںایک دو ہاتھ کے چلنے میں پڑی یہ ہلچلتیرگی بخش جہاں بس کہ ہوا سرمۂ گردچشم خورشید فلک پر تھی مثال مکحلرستم و سام جسے فرض کرے تو دل میںنعرہ کر سامنے آواز کیا جب اٹکلکھل گیا دوش سے لے تاکمر اللہ اللہایک ہی زخم ہے دشمن کے گلے کی ہیکلبرہمی کارگہ رزم کی مت پوچھ کہ تھاکوہ پر کوہ فلک پر تھی زمیں دل پر دلجمع ہو آیا تھا اس ایک پر اک جم غفیراکثر اس میں سے گئے مارے کچھ اک بھاگے دہلکرکے سرگوشی جسے پوچھتے ہیں بھاگے ہوئےآتی ہے غیب سے آواز ہوا وہ فیصلیہ ہے یا خالی ہے میدان مگر اس کی تیغاژدہا تھی کہ گئی خلق کو یک دم میں نگلکیا بیاں کیجیے اب لشکر اعدا کی معاشمخرج خوں ہے دہاں زخم کا ہے گا مدخلچھوٹے ہے زخم سے ہر ایک کے فوارۂ خوںہر طرف دشت میں جاری ہے لہو کی جدولسرخ تر چشم شجاعاں میں نظر آتی ہےخون سے مسلخ قصاب کی خاک مقتلکیا لکھوں اسپ سبک سیر کی اس کے تعریفادہم خامہ بھی لکھتے ہوئے جاتا ہے اچھلجب عناں اس کی اچک لیتا ہے اس کا راکبجلدی پویہ میں دکھلاوے ہے کیا کیا چھل بلاس فلک سیر کا میدان مقرر ہے گاتگ و پو کے لیے اثناے ابد اور ازلآگیا اس میں نظر جانا کسو شخص کو تومارتے پل کے گیا اس کو چھلاوا سا چھلقابو پانے کے لیے اس کے سوار اس پہ سداکہتے ہیں مدعی اس اسپ کے تیں ماریے چلراکب اس کا کرے ہے سن کے تبسم یہ باتیعنی ان گیدیوں کے کچھ ہے دماغوں میں خللجان یہ ہے ترے گھوڑے میں کہ تا روز جزاگرد کو اس کے نہ پہنچے گی کبھو اس کی اجلاک مصور نے اسے دیکھ کے دوڑایا خیالدیکھوں اس باد کی مجھ سے بھی سکے شکل نکلسر و سینہ کو کمر تک تو بنایا رکھ ہاتھاڑ گیا صفحۂ کاغذ پہ سے چھوتے ہی کفلآبلے جیسے ستارے ہیں مرے دل کے بیچبس کہ اس چرخ سیہ رو سے رہا ہوں میں جلآج تجھ نیر اعظم کی خلافت کا ہے روزداد دے میری کہ دیکھوں میں اسے مستاصلصاف ہو زنگ دل میرؔ کہ احباب میں ہےواسطے تیرے مخالف کے ہیں تیغیں صیقل
در مدح حضرت امام حسینؓ
فلک کے جور و جفا نے کیا ہے مجھ کو شکارہزار کوس پہ ہے جاے اک تپیدن وارخراب کوہ و بیابان بیکسی ہوں میںبہ رنگ صوت جرس ہر طرف ہے میرا گذاربغیر خوردن خوں کب نہار ٹوٹے ہےسواے گریۂ صبح اب کہاں ہے آب خمارلگیں نہ داغ سو کیوں پھیکے میرے سینے پرنمک نہیں نظر آتا بجز رخ دلدارسو وہ بھی دیکھنا ملتا نہیں ہے گھر بیٹھےمگر ہوں ہند میں رسواے کوچہ و بازارسواے نالۂ جاں سوز کون ہے دل سوزبغیر آہ سحرگاہ کون ہے غم خوارجنوں میں جب سے خوش آیا لباس عریانینہیں ہے دامن صحرا میں تب سے مجھ کو قرارہمیشہ ساتھ ہے دامن سوار لڑکوں کےمگرکہ خاک وفا سے بنا ہے میرا غبارعجب ہے مجھ کو جو تو دیکھنے نہیں آتارہا ہوں ایک تری انکھڑیوں کا میں بیمار
مطلع ثانی
ہوا ہوں جور فلک سے نپٹ ہی زار و نزارپہنچیو یا خلف الصدق حیدر کرارشہا غلام کو تیرے یہ زور بازو ہےکہ وقت جنگ جو لے کر کماں کو ہووے سواراگر پہاڑ ہو دشمن تو اس کے سینے میںکماں سے چھوٹتے ہی تیر بند ہو سوفارلگاوے پھر وہیں دوچار ایسی پے درپےکہ ایک کا ہو نشاں دوسرے کی جاے قرارکرے ہے فخر بہت اوج پر فلک شاہارضا جو ہو تو کروں تیرے روضے کا بستارکہ انفعال ہو لاف و گزاف سے اس کوزمیں ہے صحن کی جس کے یہ گنبد دوارکرے ہے جوہر اول نگاہ جس ساعتتو ایک ہاتھ سے تھانبے ہے سر اپر دستارامام ہر دوجہاں جس کی آستاں کی خاکرکھے ہے رتبۂ کحل جواہر الابصارزہے وہ روضہ جہاں دیدۂ ملک ہیں فرشقدم کو رکھتے ہوئے ان پہ آتے ہیں زواراگر طلوع ہو خورشید سامنے اس کےہر ایک ذرے کو واں کے ہے یہ لب گفتارکوئی کہے کہ یہ کیا شوخ چشم شپر ہےکوئی کہے کہ یہ ہے موش کور ناہموارلیا ہے روز سیہ نے بہت اسے گھبراچلی ہے چھوڑ کے حیراں ہو رخنۂ دیوارشعاع روضے کے قبے کی ہے گی عالمگیرپھرے گا سایۂ شب اب جہاں میں ہوتا خواربہ صانعے کہ یہ نقاشیاں ہیں سب اس کیزمیں ہو یا ہو فلک یا حجر ہوں یا اشجاربہ احمدےؐ کہ نبوت ہوئی ہے اس پر ختمبہ فاطمہؓ کہ وہ ہے بنت سید مختاربہ مرتضےٰؓ کہ ولایت مسخر ان نے کیبہادری ہے غلاموں کی جس کے فن و شعاربہ آں امام کہ کشتہ ہے زہر قاتل کاگرے ہیں لخت دل اس کے زمیں پہ کٹ کے ہزاربہ آں شہید کہ تشنہ لب و شکستہ دلموا ہے دشت بلا میں ہیں اب تلک آثارکہ جب ہلال محرم نمود ہوتا ہےجہاں میں کرتے قیامت ہیں اس کے ماتم داربہ سینہ سوزی داغ و بہ آتش ہجراںبہ آہ سرد سحرگاہی و بہ نالۂ زاربہ سردمہری شیریں بہ کینۂ خسروبہ گرم جوشی فرہاد و سختی کہساربہ عشق دیر بہ طوف حرم بہ سعی تمامبہ لوح مشہد عاشق بہ سوز شمع مزاربہ آب و رنگ گلستاں بہ بیکسی اسیرکہ اس کو کنج قفس میں رہے ہے باد بہاربہ ساغر مئے گلگوں بہ توبۂ سنگیںبہ دل نوازی ساقی بہ ابر دریاباربہ دستگیری چاک و بہ بے قراری جیببہ سینہ کاوی دشنہ بہ زخم دامن داربہ حیرت رخ جاناں بہ چشم واماندہبہ سعی باطل ناخن بہ عقدۂ دل کاربہ قلقل و بہ سبو و بہ لغزش ہر دمبہ مستی مئے ناب و بہ خاطر ہشیاربہ پوچ گوئی و بے تابی و بہ بے خوابیبہ کم زبانی صبر و بہ دیدۂ بیداربہ دیر و برہمن و کفر و یاصنم گوئیبہ شیخ و مسجد و تسبیح و رشتۂ زناربہ سیل خانہ خراب و بہ وادی مجنوںبہ جرگہ جرگہ غزالاں بہ دیدۂ خونباربہ خوشہ خوشہ سرشک و بہ داربست مژہبہ قطرہ قطرہ شراب و بہ جام دست یاربہ ضعف جسم نزار و بہ طاقت سرکشبہ جان عاشق مسکیں کہ یار پر ہے نثاربہ خاک عاشق بے خانماں کہ باد صبانہیں دکھاتی اسے بعد مرگ کوچۂ یاربہ اضطراب چراغ و بہ دشمنی نسیمبہ خاطر دم آخر کہ اس سے ہے بیزاربہ دور گردی رنگ قبول و یاس دعابہ اعتزاز اجابت بہ حلقۂ اذکاربہ خیل خیل خرابی بہ گوشۂ صحرابہ خوش سوادی شہر و بہ قریہ و بہ دیاربہ شوق وصل نگار و بہ جان مایوسیبہ آرزوے ہم آغوشی و بہ بخت کناربہ سینہ کوبی زخم جگر بہ ماتم میرؔبہ جاں کنی گلوگیر و حسرت دیدارقسم ہے میرے تئیں ان تمام قسموں کیکہ تجھ کو علم ہے ان سب کا کیا کروں میں شماریہ آرزو ہے مرے دل میں مدتوں سے شہارہے نہ بعد مرے ہند میں یہ مشت غباراڑا دے اس کو صبا یاں تلک کہ لے پہنچےتجھ آستان کے آگے کہ ہے فلک کرداررہے ہمیشہ ترے دوستوں کے ساتھ اقبالعدو کو تیرے نہ دے فرصت ایک دم ادبار
در مدح بادشاہ جم جاہ، خاور سپاہ، شاہ عالم بادشاہ
جو پہنچی قیامت تو آہ و فغاں ہےمرے ہاتھ میں دامن آسماں ہےکوئی آج سے ہے فلک مدعی کیاہمیشہ مرے حال پر مہرباں ہےکدورت بیاں کیا کروں میں کہے تویہ دل گرد کلفت کا یک کارواں ہےجو روتا بھی ہوں میں غبار دلی سےتو آنسو کا سیلاب ریگ رواں ہےجو دل میں ہے آتا ہے کہنے میں بھی وہزباں میری دل کی مگر ترجماں ہےعجب مخمصے میں ہوں جور فلک سےحوادث کے تیروں کا سینہ نشاں ہےسحر جام خوں ہے جو منھ دھو چکوں ہوںیہ مفلوک ایسے کے گھر میہماں ہےرمق ایک جی ہے سو ایک آدھ دم کااسے قصد اب تک مرا امتحاں ہےاس احوال کا رنگ رو بس ہے شاہدجو دل میں ہے میرے سو منھ پر عیاں ہےیہ شکوہ تھا درپیش مجھ کو کہ ناگہپکاری خرد ہوش تیرا کہاں ہےتو مر جائے گا یوں تو رکتے ہی رکتےکہ اندوہ و غم آفت ناگہاں ہےغزل لطف کر میرؔ صاحب کی کوئیکہ ان کی زباں بیچ سحر بیاں ہےکہا میں نے مطلع غزل کا یہ سن کرکہ ہر طرف سے جس کے لوہو رواں ہے
غزل (مطلع ثانی)
ترے ہاتھ جب تک کہ تیر و کماں ہےشکار زبوں کی بھی خاطرنشاں ہےکہے تو کہ شکل مثالی ہوں اپنیمرا جسم اس لطف سے ناتواں ہےتری اور اے سادہ رو بعد میرےمرا نامہ ننوشتہ ہر استخواں ہےاسیری میں سارا قفس بوے گل سےمعطر ہوا گو دماغ اب کہاں ہےنہ پوچھ اس طلسمات عالم کی صنعتکہ اس آشکارا میں کیا کیا نہاں ہےخوشا مرگ بلبل کہ سائے میں گل کےکہیں مشت پر ہے کہیں آشیاں ہےدرود اس کے تیں دیکھ کر بھیجتے ہیںوہ نوگل بھی صل علیٰ کیا جواں ہےلگے ہے نہ اب عطرداں اس کے منھ کونہ اس بوے خوش سا یہ گل کا دہاں ہےغرور خرابات چل شیخ دیکھیںجو ترسابچہ ہے سو پیر مغاں ہےہے بس شاہد حال رنگ شکستہجو دل میں ہے میرے سو منھ پر عیاں ہےنہ کہہ خانوادے تھے یاں کیسے کیسےخرابہ ہی ہے جب تلک یہ جہاں ہےدم امتحاں میرؔ ہم کیا کریں گےہماری گرہ میں تو اک نیم جاں ہےچل اے طبع مشتاق وصف بتاں پرکہ غم ان کا دل میں مرے یک جہاں ہےیہی شغل ہیں خوب پیش فقیراںکہ ذکر خدا ہے کہ وصف بتاں ہےنہ جا اس کے خاموش رہنے پہ بلبلزباں غنچۂ گل کے زیر زباں ہےنہ دے جان شیریں کو تلخی سے ناحقتری محنت اے کوہکن رائیگاں ہےمیں پس ماندۂ قافلہ دل جلا ہوںکہے تو کہ یہ آتش کارواں ہےجو ہو راہ گم گشتہ یاں ہوکے جاوےکہ مجھ پاس یک داغ دل سوز یھاں ہےسموم آوے ہے سایۂ برگ گل میںمگر خاک مرغ چمن پرفشاں ہےمری آہ کیا برچھیاں مارتی ہےدل شب سے ہر دم صدا الاماں ہےجگر پر جو ہیں داغ ہجراں پریشاںیہ گویا خزاں دیدہ اک گلستاں ہےرخ زرد پر اشک سرخ آگئے ہیںادھر بھی اک ابر بہاری سماں ہےخط و زلف و کاکل میں دل جاکے الجھانہ سمجھا یہ ناداں کہ ہندوستاں ہےچمن زار عالم کی خوبی پہ مت جادل اس بے ثباتی پہ خندہ زناں ہےکہ یک رنگ یاں کا نہیں ہے قراریبہار آئی ایدھر کہ فصل خزاں ہےحقارت سے مت دیکھ یہ پھوٹی گوریںکہ ہر اک فلاں بن فلاں بن فلاں ہےخیال اور مت کر کہ مجھ میں نہیں کچھمری جاں ترا وہم ہے یا گماں ہےاٹھی رسم صوم و صلوٰۃ اس کے دیکھےخرابی یہ مسجد پہ جو ہے ازاں ہےگریباں کفن کا تو رہنے دے ثابتمری خاک سے کیوں تو دامن کشاں ہےرگ گل رگ جاں کمر سے نہیں ہےتو کہتا ہے کیا یاں سخن درمیاں ہےخط کنج لب گوشۂ چشم و کاکلرہے شاد وہ غم زدہ دل جہاں ہےنہیں فرصت واشدن اس چمن میںگل اس غم سے اپنا گریباں دراں ہےبہت ہرزہ خواں ہے گا اے میرؔ تو بھیوظیفہ ترا کیا یہ ذکر بتاں ہےجو مرکوز خاطر ہے اس پر بھی آجافراغت کا عرصہ یہی اک زماں ہےسن اے ہم نشیں شخص غائب کی خاطریہ مطلع کہ مطلب سے جو تواماں ہے
مطلع ثالث
قلم چل ابھی چلتی تیری زباں ہےکہ پھر بات کہنے کی فرصت کہاں ہےولیکن تجاوز نہ ہووے ادب سےکہ ممدوح اب شاہ ہندوستاں ہےدماغ اب نہیں ہے جو تمہید کریےکہ کل رات ہے اور یہ داستاں ہےبھٹئی تیری کیجے یہ دل چاہتا ہےترے شکر نعمت میں قاصر زباں ہےترا عہد یک سرخوشی ہے جو ہے بھیگنہگار سا یک غم مہوشاں ہےترے یاں ہے سب راستی و درستیمگر ما صدق سچ کا یہ خانداں ہےزیارت کیے صدق آتا ہے جس کیترا جبہۂ راستاں آستاں ہےلکھے کیا شہا کوئی ہمت کو تیریجہاں صبح اس خوان پر میہماں ہےزیادہ ہو یہ وسعت رزق تیریکہ مشرق سے تا غرب دستار خواں ہےکرے ہم سری کیا وہ خورشید اوپرفلک پاس کیا ہے یہی ایک ناں ہےترے ہاتھ کی ریزش جود آگےخجالت سے یہ ابر قطرہ زناں ہےتجھے مرجع کل کیا ہے جہاں کاترا دست ہے فرق خرد و کلاں ہےولی نعمتا عدل سے تیرے اب یاںکتاں تھا سو مہ ہے جو مہ تھا کتاں ہےترے ہوش کے آگے ہے طفل ناداںاگرچہ یہ پیر خرد کارداں ہےسن اے خامہ آ مطلع چارمیں لکھکہ ممدوح کے زور کا اب بیاں ہے
مطلع رابع
ترے زور بازو کی طاقت عیاں ہےکہ بز جس کی قوت سے شیر ژیاں ہےترے زور کا سکہ ہے اس چمن میںگل اشرفی غنچۂ مہرگاں ہےترا ہاتھ پڑ جائے گر رستم اوپرجہاں میں وہ مشہور کیا پہلواں ہےاٹھاتا نہیں اس کو سن کوئی گردنوہ اس عرصے میں ایک سنگ گراں ہےتو یوں پھینک دے جیسے سنگ فلاخنجہاں جاکے گڑ جائے سنگ نشاں ہےکہ جو کوئی اس راہ نکلے سو دیکھےیہ افسانہ ہر شہر کا ارمغاں ہےثنا کے ترے عرصے میں کریے جولاںکمیت قلم ہاتھ کے زیر راں ہےاچک لے جہاں باگ کیا کیا مزے ہیںیہ نام خدا اسپ کیا خوش عناں ہےسبک سیر کی تیرے کیا کہیے جلدیپھر اس فربہی پر کہ تخت رواں ہےازل سے ابد تک ہے جولاں گہ اس کیقدم ایک یاں اک قدم اس کا واں ہےجو اس میں سوار اس کا چاہے کہ ڈپٹےارادے میں اس کے ابھی حرف ہاں ہےنہ پہنچے وہ ہونٹوں تلک اس کے ہرگزکہ یہ بادپیما کہاں کا کہاں ہےجو میدان میں جنگ کے ہو یہ اشہبتو گھوڑا نہ کہیو کہ پیل دماں ہےلگے گر کہیں ٹاپ طبق زمیں پرفلک صدمے سے آں سوے لامکاں ہےدعا پر کروں ختم اب یہ قصیدہکہاں تک کہوں تو چنیں ہے چناں ہےرہے وقت ایسا ہی روز جزا تککہ جو دوست تیرا ہے تو شادماں ہےتری عمر ہو میرے طول امل سیکرم کا سا سررشتہ اک تیری ہاں ہے
در شکایت نفاق یاران زماں
جہاں میں کون ہے جس کو کسی سے الفت ہےخراب کوچہ و بازار یاں محبت ہےنفاق خانہ برانداز بسکہ ہے رائجدل اتفاق کا زیر غبار کلفت ہےباتفاق اگر دو عزیز مل بیٹھیںزبان مردم بد سے انھوں پر آفت ہےکروں میں ہجو اگر روز ایسے عالم کیبجا ہے ان سے کہ میرے تئیں شکایت ہےدروغ گوئی سے دو آشنا لڑا دیناکہاں کی رسم ہے یہ گر یہی مروت ہےتو چھوڑ شہر کی یہ تنگنا نکل جاویںکہ گوشہ ہاے بیاباں میں بسکہ وسعت ہےنہ دیکھوں منھ میں انھوں کا اگر ہوں آئینہاسی لیے تو مرے دل نشین عزلت ہےکہوں میں مطلع ثانی کہ طور یاراں سےدل شکستہ مرا تنگ اب نہایت ہے
مطلع ثانی
منھوں پہ صاف ہیں لیکن نہ حفظ غیبت ہےمثال آئینہ دیکھے ہی کی یہ ملت ہےاگر سخن کی مرے رشک ان کی ہے جاں سوزوگر دلوں میں انھوں کے غرور دولت ہےحریف میرے یہ ان باتوں سے نہیں ہوتےکہ راہ راست پہ ہوں میں انھیں ضلالت ہےسخن کی خوبی کے میدان کا ہوں میں رستممقابلے کو مرے ان میں کس کی طاقت ہےرہا غرور زر و مال ان کا اب باقیسو ان کا ہونے کو روکش مری شرافت ہےبہ خالقے کہ زمیں اور آسماں کی بنانظر میں سب کی اسی کا ظہور قدرت ہےبہ احمدے کہ بلا میم اس کو کہتے ہیںاسی کی شرق سے لے تا بہ غرب امت ہےبہ مرتضےٰ کہ پیمبرؐ سے اس کو ہے خویشیبہ فاطمہ کہ کنیز اس کی ایک عصمت ہےبہ آں امام کہ قسمت میں اس کی زہر ہوابہ آں حسین کہ وہ بیکس شہادت ہےبہ ذوالفقار کہ وقت نبرد غازی کےزباں میں نام سے اس کے ہوئی یہ حالت ہےکہ گر وہ بات کہے صف میں کافروں کی جاتو سر کو تن پہ خوارج کے کب یہ فرصت ہےکہ ایک دم میں نہ پیوند ہو جدا اس کاملے نہ خاک میں جب تک کہاں فراغت ہےکہوں میں مطلع ثالث کہے ہے ہاتف غیبکہ تیرے صدق کی شاہد تری ہی ہمت ہے
مطلع ثالث
بہ زلف یار کہ مجھ پر اسی سے شامت ہےبہ زہرمار جو جینے میں کچھ حلاوت ہےبہ ذوق وصل کہ اک دم نہیں ہے مجھ کو قراربہ اضطراب کہ وہ خانہ زاد فرقت ہےبہ سوز شمع کہ جلتی ہے وہ بھی میری طرحبہ انجمن کہ وہ کثرت میں رشک خلوت ہےبہ انتظار کہ آنکھیں سفید اس میں ہوئیںبہ نور شمع کہ وہ پائمال حیرت ہےبہ طوف کعبہ کہ بے سعی واں نہیں ہے گذاربہ عشق دیر کہ واں برہمن سعادت ہےبہ غربتے کہ ہے دوری راہ اس میں رفیقبہ منزلے کہ پہنچنا وہاں قیامت ہےبہ طاقتے کہ اسے ضعف سے ہے ربط قدیمبہ خاطرے کہ وہ منت کش مصیبت ہےبہ مشہدے کہ چراغ اس کا چشم آہو ہوبہ چشمکے کہ وہ خوں ریز اہل حسرت ہےبہ ہمتے کہ نہ دیکھا ہو ان نے خست کوبہ خستے کہ سراپا عدوے ہمت ہےبہ زورقے کہ جو وہ نوح کی پناہ ہوئیبہ ملتے کہ وہ طوفاں سے غرق خجلت ہےبہ محنتے کہ وہ آزردہ ہوئے راحت سےبہ راحتے کہ حقیقت میں رنج و محنت ہےبہ عزتے کہ جو سنتی ہو نام ذلت کابہ ذلتے کہ وہ کہتی ہو کیسی عزت ہےقسم ہے میرے تئیں ان تمام قسموں کیجو میں نے کچھ بھی کہا ہو یہ مجھ پہ تہمت ہےجو کچھ کہا ہے کنھوں نے غلط کہا ہے گاکسو سے رنجش بیجا نہ میری طینت ہےاگر یہ عذر ہو مقبول تو تو خیر ارنہحریف ہونے کا میرے نتیجہ خفت ہےکہاں تلک میں کروں اس نفاق کا شکوہخموشی اب تو ہے اولیٰ کہ اس میں راحت ہے