انتخابِ کلامِ میر · میر تقی میر

Chapter 5: مراثی

کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسیناناموس کو نے گھر ہے نہ در ہائے حسینااعوان ترے جو تھے انھیں کھا گئی تلوارانصار ترے سب گئے مر ہائے حسیناواماندہ ترے کہتے ہیں سر دیکھ کے تیراہم کیونکے کریں عمر بسر ہائے حسینامدت تئیں کر یاد زمانے کو ترے ہمروتے رہیں گے آٹھ پہر ہائے حسیناہم شام کو قیدی ہوچلے دیکھیے بارےہوتی ہے یہ شب کیونکے سحر ہائے حسیناتجھ بن کمریں ٹوٹی ہی جاتی ہیں اگرچندہم باندھتے ہیں کس کے کمر ہائے حسینادل سوختگی اپنی کی کیا شرح کریں ہائےآنسو تو ہوئے جیسے شرر ہائے حسیناجوں نقش قدم خاک میں ہم ملتے ہیں تجھ بنپیدا نہیں کچھ تیرا اثر ہائے حسینامنظور نجابت نہ شرافت نہ سیادتاب عیب ہوئے سارے ہنر ہائے حسیناوارث نہیں جو پانی دے تم پیاسے موؤں کوباقی ہے سو بیمار پسر ہائے حسیناتیرا ہی جگر تھا کہ ستم تونے یہ دیکھےسب ٹکڑے ہوئے تیرے جگر ہائے حسینااس دشت میں یہ منفعت آکر کے اٹھائیتو کھینچ گیا جی کا ضرر ہائے حسیناجز جور و ستم کچھ نہیں دیتا ہے دکھائیجاتی ہے جدھر اپنی نظر ہائے حسیناکیا خانہ خرابی کا بیاں کرتے ترے ساتھاٹھتے ہی ترے لٹ گیا گھر ہائے حسینالالا کے بٹھاتے ہیں ہمیں راہگذر میںتو جی سے گیا ہے جو گذر ہائے حسینااکبر کو کہ اصغر کو کہ قاسم کو کڑھیں ہمکیا خاک برابر ہیں گہر ہائے حسیناایسا تو گیا اٹھ کے کہاں گھر سے کہ ہم تکپھر آئی نہ کچھ خیرخبر ہائے حسینانے سایہ جہاں بیٹھیے نے سر پہ ہے چادرہے حال نہایت ہی بتر ہائے حسیناہم دست تلطف کے ترے اٹھتے ہی سارےہر خس کے ہوئے دست نگر ہائے حسینااس قوم سیہ رو نے زیادہ دہنی سےکچھ کسر میں چھوڑی نہ کسر ہائے حسیناکیا اکبر و قاسم ہیں سبھی حلق بریدہیہ پودے عجب لائے ثمر ہائے حسینابے خوف و خطر لوٹتے ہیں گھر کو مخالفتو ہو تو ترا ہووے بھی ڈر ہائے حسیناہر سمت کو سر مارتے جنگل میں پھریں ہیںاب جا کے تجھے ڈھونڈیں کدھر ہائے حسیناٹھہرے ہے کوئی جن و ملک تیری جگہ پریہ صبر نہ تھا حد بشر ہائے حسینالب خشک عزیز اپنے جو سب مارے پڑے ہیںہر لحظہ مژہ ہوتی ہے تر ہائے حسیناکیا کیا نہ اذیت ہمیں دیتے ہیں گزندےحیدر نہیں جس کا ہو خطر ہائے حسیناانواع ستم دیکھتے ہیں تیرے موئے پرکھول آنکھ ٹک انصاف تو کر ہائے حسیناآگے بھی کہیں میرؔ جو کچھ بات رہی ہوہے لب پہ یہی شام و سحر ہائے حسینا

الوداع اے افتخار نوع انساں الوداعبادشاہ کم سپاہ اہل ایماں الوداعاے تمناے دل زہراے بیکس ہے دریغوے ستم کشتہ علی کے خواہش جاں الوداعہوگئے پانی جگر حسرت سے جب تونے کہاخشک لب اہل حرم سے ہو کے گریاں الوداعمر گیا محروم سب چیزوں سے تس پر بھی گئےساتھ تیری جان کے صدگونہ حرماں الوداعیوں چمن کر کن نے دکھلایا ہے آگے معرکہسرخ تھی سب تیرے خوں سے خاک میداں الوداعاے برنگ خاک یکسر داغ تجھ پر صد صلوٰۃوے بسان گیسواں خاطرپریشاں الوداعمرگ اصغر میں ہوا ہنگامہ برپا حشر کاتونے رو کر جو کہا اے طفل ناداں الوداعکھانے پینے کی رہی کیا قید تجھ پر ہے ستماے عزیز اس مجلس دوناں کے مہماں الوداعہائے رخصت تیری یوں کیونکر ہوئی ہے اتفاقدشت تو بے آب سب یہ سر پہ طوفاں الوداعخوبی تیرے دم سے تھی اے خانہ ساز دیں درودگھر تو پھر سب ہوگیا اک دم میں ویراں الوداعمر گئے بیٹے بھتیجے سب ترے تصویر سےہوگیا تو حال میں اپنے ہی حیراں الوداعنقل کیا اب بے سر و سامانی تیری کیجیےاے نہ تن پر سر نہ سر کو تیرے ساماں الوداععورتیں بیکس گئیں سو لب پر ان کے ہائے واےکہہ گئے آگے ہی سب انصار و اعواں الوداعپاس پیکر کے کھڑی کلثوم لب پر الفراقساتھ سر کے کہتی زینب خاک افشاں الوداعخاک میں بھی دفن ہونا تیری قسمت میں نہ تھااے تمام اندوہ کم انبوہ سلطاں الوداعتو مسافر ہوگیا دوگام چل کر اے حسینشہربانو گئی بیاباں در بیاباں الوداعایک بیٹا بیکس و بیمار سو کیا کیا کرےزاری و فریاد و آہ و شور و افغاں الوداعمرثیہ تو میرؔ تو کہتا ہی تھا پر اب کے یہکیا کہی ہے ہائے اے نمناک مژگاں الوداع

دکھ سے ترے کیا کلامیا امام یا حسینلیجیے کس منھ سے نامیا امام یا حسینہائے رے تیرا جگر یاور و خویش و پسرقتل ہوئے بالتمامیا امام یا حسینقہر ستم ہے غضب ساحل دریا پہ سبمارے گئے تشنہ کامیا امام یا حسینلاش تری پیچھے ہو آگے پڑھیں سب نمازپھر کہیں تجھ کو امامیا امام یا حسینہوتے ہیں ٹکڑے جگر لوگ جو حسرت کے ساتھکہتے ہیں ہنگام شامیا امام یا حسینتو تن تنہا ادھر اور ہزاروں ادھرایک پہ یہ ازدحامیا امام یا حسینبندی ہوئے اہل بیت مارے پھرے یاں کے واںجن کو نہ جاے مقامیا امام یا حسینراہ چلا کیسی تو جس میں قیامت رہیسر پہ ترے گام گامیا امام یا حسینخاص کر ایک ایک کو ذبح کیا ظلم سےقتل تھا یا قتل عامیا امام یا حسینملتا ہے اس طور بھی خاک میں یک بارگیوہ حشم و احتشامیا امام یا حسینقہر و قیامت غضب کہتے ہوئے نکلے سبپر دگیان خیامیا امام یا حسینمردم عزت طلب خوار ہوئے دشت میںکون کرے احترامیا امام یا حسینکوئی نہ پیچھے رہا جو کرے ٹک وارثیپہلے ہوا سب کا کامیا امام یا حسینچھوٹے بڑے سامنے مر گئے ہوکر کھڑےخوب ہوا اختتامیا امام یا حسینجن و ملک آدمی سب کو کریں قتل اگرہو نہ ترا انتقامیا امام یا حسینداغ ہوئی جان میرؔ کیا کہے اب وہ فقیرغیر درود و سلامیا امام یا حسین


فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہاگیا قاسم جسے سب نے سراہاکوئی دن شہ نے جوں توں کر نباہاعجائب سانحہ گذرا الٰہافآہا ثم آہا ثم آہا

موئے یار و برادر اس کے پیارےسو ہوکر تشنہ لب دریا کنارےتماشائی تھے لوگ امت کے سارےکہیں سو کیا کہیں ہم غم کے مارےفآہا ثم آہا ثم آہا

کہے وہ اے کماں داراں سواراںپیاسے مارے میرے دوستداراںجواب اس کا یہ تھا منصف ہو یاراںنہ دیجے پانی کریے تیرباراںفآہا ثم آہا ثم آہا

عزیز ایسا کہ جو مہمان ہووےتصدق اس پہ کی گر جان ہووےنہ اس کے سر پہ یہ طوفان ہووےکہ قطرہ آب کو حیران ہووےفآہا ثم آہا ثم آہا

نپٹ اوقات کے تیں تنگ آیابہت کچھ دل کا دل ہی میں سمایاسخن ہرگز زباں اوپر نہ لایاکہا سو یہ کہ کیا کہیے خدایافآہا ثم آہا ثم آہا

بڑے بیٹے سے بیٹھا ہاتھ دھو کررہا چھوٹے کو چپکے چپکے رو کرلگی چھاتی میں غم کی زور ٹھوکرکہے کیا غیر ازیں دل تنگ ہو کرفآہا ثم آہا ثم آہا

برابر خاک سے تاج شہی تھاجو کچھ ٹھانا تھا جی میں سو سہی تھاثبات پا وہیں سر میں وہی تھااگر لب پر کچھ آتا تھا یہی تھافآہا ثم آہا ثم آہا

کس و کو یک طرف سب اس کے بیکساکیلا خود ہزاروں میں گیا پھنسرہا نومید ہو جب وہ خدارسکہ یعنی ہوچکے اپنے تو اب بسفآہا ثم آہا ثم آہا

پھر اس کو پڑ گئی جی ہی کی آکرکسو جانب نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرکوئی ہوتا تو کچھ کہتا بلاکرسو نے خویش و پسر نے یار و یاورفآہا ثم آہا ثم آہا

ستم کیسا اٹھایا گھر لٹایاسبھوں کی مرگ کے دیکھے قضایارہا کھویا گیا سا سر کٹایاکہے غم جس سے ٹک سو وہ نہ پایافآہا ثم آہا ثم آہا

رضاے حق کا مرتے تک تھا جویالگی چپ ایسی تھا تصویر گویابھر آیا جی بہت لیکن نہ رویاغرض بے آبی نے سب گھر ڈبویافآہا ثم آہا ثم آہا

نہ پوچھو جس دم اس کا خوں بہا تھاستم خنجر کا گردن نے سہا تھاطرف قبلے کے منھ کر جھک رہا تھاکہا سو یہ دم آخر کہا تھافآہا ثم آہا ثم آہا

رہا عابد سو اس پر یہ مصیبتبدن میں زور تپ سے کچھ نہ طاقتنگہ میں ناامیدی تنگ حالتلبوں پر صدہزار افسوس و حسرتفآہا ثم آہا ثم آہا

کہو کس کس کا اس کے نام لیجےموئے سب بھانجے بھائی بھتیجےرہا تھا یہ سو اس کو بندی کیجےبندھے وے ہاتھ جن پر بوسہ دیجےفآہا ثم آہا ثم آہا

مہار اونٹوں کی اس کے ہاتھ میں تھیگلے میں طوق جس سے تھی غشی سیقدم رکھتا تو جاتا تھا چلا جیجگر اس کا ہی تھا چھاتی اسی کیفآہا ثم آہا ثم آہا

اسیر و خستہ دل بے زور و زر تھاکٹا سر باپ کا پیش نظر تھانہ یاور تھا نہ داور تھا نہ گھر تھاقیامت تھی غضب تھا شور و شر تھافآہا ثم آہا ثم آہا

کھنچا آیا پدرمردہ ستم کشضعیف و ناتواں صدگونہ غم کشیتیم و بیکس و حیراں الم کشیہی کہتا تھا ہوتا بھی جو دم کشفآہا ثم آہا ثم آہا

ادھر کلثوم کا نالیدن زارادھر زینب کی غم سے چشم خونبارسکینہ باپ کو روتی تھی ہر بارکرے کیا لاعلاجی اور بیمارفآہا ثم آہا ثم آہا

ہوا لاشے پہ شہ کے جو گذاراتن بے سر زمیں پر کر نظارہکرے کیا قافلہ ناچار ساراکہا سب نے نہان و آشکارافآہا ثم آہا ثم آہا

نہ لکھ بس میرؔ بے طوری ایامسر اس صبح سعادت کا چلا شامگیا وہ جمع بھی ناچار ناکامنظر کر کہتے تھے سو بار ہر گامفآہا ثم آہا ثم آہا


حسین ابن علی عالی نسب تھاسزاے عزت و باب ادب تھاجفا و جور کا شائستہ کب تھاسلوک اسلامیوں سے یہ عجب تھاکہ اس مہمان کی عزت نہ کیجےضیافت یک طرف پانی نہ دیجے

کسو کافر سے ایسا ہو نہ کردارہوا اسلامیوں سے جو بہ اصرارکجی رفتار کی تلخی گفتارتس اوپر کھینچ کر ہر اک نے تلواربہت بے ڈول اس پر آزمائیعلی کے منھ سے کچھ بھی شرم آئی

محمدؐ جس کی سب امت کہاویںاسی کی آل لوہو میں ڈباویںعلی سن کر جسے سب سر جھکاویںاسی کے گھر کو بن پانی بہاویںزہے اسلام نادر لوگ خوش دورعجب آئیں عجب ایماں عجب طور

اسے ماریں جسے دیں کی امامتنہ ہووے پھر کسو کو کچھ ندامتکریں برپا ستم سے اک قیامتعلاوہ اس پہ تشنیع و ملامتحیا مطلق نہ غارت سے کسو کونہ بہرہ کچھ مروت سے کسو کو

اسے بیکس جو پایا مار ڈالارکھا میداں میں سر کو نیزہ بالاپسر کو کانپتا گھر سے نکالابٹھائیں عورتیں رستے پہ لا لانہ کچھ کی دل دہی زین العبا کینہ کچھ روے محمدؐ سے حیا کی

علی کے تیں موا جانا سبھوں نےمحمدؐ کو نہ کچھ مانا سبھوں نےبرا شبیر کا ٹھانا سبھوں نےکیا اس گھر کو ویرانہ سبھوں نےرہا تنکا سا عابد کشمکش میںحرم کے لوگ بے حالی سے غش میں

علی اکبر کہ تھا شکل محمدؐطرف اس ایک سے ہوتے تھے صد صداٹھائے ان نے جس دم زخم بے حدلگا منھ کر نجف کو کہنے کاے جدستم ہے شور ہے جور و جفا ہےسمجھ میں کچھ نہیں آتا یہ کیا ہے

پڑی تھی دھوپ میں وہ لاش مظلومکسو کا دل تنک ہوتا نہ تھا موماسیری اور غارت کی مچی دھومتردد شہ کے لے جانے کا معلومرہا تھا عابدیں سو زار و بیمارنہ جس کی کچھ دوا نے جس کا تیمار

زناں مویہ کناں سب خاک بر سرکہیں تھیں رو مدینے کی طرف کرکہ منصف ہو ٹک اے ختم پیمبرؐمصیبت کس قدر ہے آل اوپرکہیں کس سے کوئی حاکم نہیں ہےنہ تو ہے نے امیرالمومنیں ہے

ریاست کے لیے شبیر مارابھلا یوں اس کی تھی تقدیر ماراسبھوں کو کیوں ہے بے تقصیر ماراعلی اصغر کے پھر کیوں تیر ماراچھنائیں عورتوں کی کیوں ردائیںروا کاہے کو رکھیں یہ جفائیں

چلا سر کٹ کے اس جان جہاں کاگرا ہے خاک پر خوں ہر جواں کاہوا ستھراؤ یوں خرد و کلاں کامقرر لوٹنا ہے خانماں کاکسو ملت میں ایسا بھی ہوا ہےنیا وارث ہمارا ہی موا ہے

سکینہ کا گنہ کیا ہے بتاویںپدر مردہ کو کس خاطر کڑھاویںکہاں فریاد لے کر آہ جاویںکسے یہ ماجرا سارا سناویںجفا ہر لحظہ ہم سب پر نئی ہےحیا اک رسم تھی سو اٹھ گئی ہے

حسن تو تھا خلیفہ جس کو ماراگنہ قاسم کا کیا جو اس کو ماراکہوں میں کب تلک کس کس کو ماراستم سے جور سے جس تس کو مارارہا وارث نہ غیر از عابدیں کےپڑے ہیں خاک میں ارکان دیں کے

سو ٹپکے ہے لہو اس کے سخن سےبندھے ہیں ہاتھ دونوں اک رسن سےہوا ہے آپ اسیر آکر وطن سےپدر محروم ہے اب تک کفن سےکہاں مہلت کہ شہ کے تیں اٹھاویںنہیں فرصت کہ ٹک رو کر بھی جاویں

جلے خیمے لٹا گھر بار ساراہوا کنبہ سبھی بندی ہماراجوان و پیر سب کو تشنہ مارااگرچہ یہ تھا دریا کا کنارہپہ قطرہ آب کا در و گہر تھاکہ لب خشکی سے ہر اک چشم تر تھا

کرے عابد کہاں تک غم گساریجسے بیماری و تن کی نزاریکھنچی ہے دور تک اپنی یہ خواریاٹھانا پاؤں کا اس پر ہے بھاریہو ایسے حال میں کیونکر دلاساکرے کس کس کی دلداری وہ پاس آ

کہے زینب تھی زہرا سے کہ مادرکرے گا کون اب ہم سوں کا آدرپڑا ہے خاک میں بے سر برادرلیے جاتے ہیں چھینے سر کی چادرکہاں لے جاؤں بھائی کو اٹھا کراڑاؤں خاک کس کے آگے جا کر

ہمیں بازار میں لاکر بٹھایاکیا پامال ایسا سر اٹھایاتسلی کو بھی کوئی ٹک نہ آیاکفن جی سے گیوں نے بھی نہ پایاستم پر ہے ستم یہ جور پر جورزمانہ ہوگیا پل مارتے اور

سکینہ جب کرے ہے باپ کو یادقیامت ایک ہو جاتی ہے بنیاداٹھے ہے ہم اسیروں میں جو فریادتو یہ کرتے ہیں ظلم ایک اور ایجادتقید رہروی کا سخت ہوئےخشن سن سن کے ہر بدبخت ہوئے

نہیں آتا میسر لاش اٹھاناکہ ہے درپیش یاں سے جلد جاناکرے ہے عابدیں گر کچھ بہانہاٹھاتے ہیں گے اس پر تازیانہکہاں مقدور یہ اس ناتواں کاکہ ہووے پیشرو اس کارواں کا

نظر میں باپ کا سر ہے سناں پرپڑے ہے آنکھ لوٹے کارواں پربنی ہے آن کر ہر گام جاں پرمصائب ہیں غرض اس ناتواں پرابھی میداں میں دس جاگہ گھرا ہےچلا جاتا نہیں پر رہگرا ہے

جو رکتا ہے بہت تو رو اٹھے ہےجو گرتا ہے تو طاقت کھو اٹھے ہےکہے ہے یوں تو شور اک ہو اٹھے ہےکہ دیکھوں باپ کب تک سو اٹھے ہےسر رہ قافلہ ہے کوئی بولوکہ دو رخصت اسے ٹک آنکھ کھولو

ہوئے سب شام کو آخر روانہکہ جن کو ٹھور تھی نے کچھ ٹھکانابہت بیدردیوں پر تھا زمانہکچھ آگے شرح و بسط اچھا نہ جاناقلم کو میرؔ میں نے توڑ ڈالاسر اپنا پتھروں سے پھوڑ ڈالا


حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارانکلا تھا مدینے سے ناموس لیے سارااس چرخ سیہ رو نے اک فتنے کو سنکارااس ظلم رسیدہ کو کن سختیوں سے ماراکرتا تھا وہ آنکھوں سے خون جگر افشانیدریا کے کنارے پر پایا نہ تنک پانی

اس قوم کو تھی اس سے اک دشمنی جانیاس مرتبہ بے برگی اس درجہ نواخوانیوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانیمہمان عزیز ایسا تس کی ہو یہ مہمانیکھانے کو جراحت تھے پینے کے تئیں خوں تھاسب ساتھ کے لوگوں کا احوال دگرگوں تھا

سب چل بسے ہمراہی اس وادی ویراں میںکوئی نہ رہا اس کے انصار میں اعواں میںنونیزہ چڑھا پانی اس ظلم نمایاں میںپر پانی نہ دیکھا تھا جز دیدۂ گریاں میںآخر کو سفر اپنا ناچار ہو ٹھہرایاکیا کیا نہ خیال اس کو پھر جاتے ہوئے آیا

ناموس کے بے جاگہ اس آن اترنے کاہمراہیوں کے جی سے ناچار گذرنے کاگھر بار کے جلنے کا فرزندوں کے مرنے کاانصاف ستم ہرگز یاروں کے نہ کرنے کاسو دادگری کی واں سب رسم اٹھا دی تھیآزار رسانی کی تاکید و منادی تھی

اس ہمسر بے وارث اندوہ کی ماری کااس دختر بے مشفق نادان بچاری کااس جمع پریشاں کی اوقات گذاری کااس خانہ خرابی کا بیٹے کی نزاری کامرنے کو نہ تھا جی پر ناچار موا آخرسر جس لیے دھنتا تھا پھر سو ہی ہوا آخر

خیموں کو جلاتے تھے آشوب اٹھاتے تھےشمشیریں علم کرتے بے وسوسہ آتے تھےلے جاتے تھے واں سے جو تنکے کو بھی پاتے تھےجاروب کر اس گھر کو سب خاک اڑاتے تھےاحمدؐ کا نہ پاس ان کو حیدر کا نہ اندیشہتھا جور و ستم شیوہ بیدادگری پیشہ

جب وہ شہ بے لشکر میداں میں گیا ماراگھربار جلا یکسر ناموس لٹا ساراسر آپڑی عابد کے سو بیکس و بیچارہبے طاقت و بے ہمدم بے یاور و بے یاراحیران سلوک ان کا کرتا تھا نظر سب پرسو آنسو پلک پر تھے سو نالۂ دل لب پر

تھے خیمہ نشیں جتنے بے پردہ سو ہو بیٹھےپھر سر کی ردائیں بھی اس دشت میں کھو بیٹھےبرباد گئی عزت ناموس کو رو بیٹھےاس درد کو وہ پہنچے اس طرح سے جو بیٹھےوارث کے موئے کوئی کرتا نہیں بیدادیاس ظلم کے ہوں جاکر کس کے کنے فریادی

اس راہ کے چلنے کی کیا اچھی علامت تھیآنے کی مدینے سے ہر اک کو ندامت تھیہر حرف تھا اک طعنہ ہر بات ملامت تھیفریاد سکینہ سے ہر گام قیامت تھیجب رونے وہ لگتی تھی کلثوم موئی جاتیزینب گلے سے لگ کر کچھ غش ہی ہوئی جاتی

کوئی نہ رہا جس کو ہو کچھ غم دلداریغیروں سے دل آزاری اپنوں سے یہ کچھ خواریعابد کی وہ بیماری وہ بیکسی بے یاریہو شہ کے اٹھانے کی کس طرح سے تیاریاسباب نہیں مطلق وارث نہیں ہے کوئییاں بات نہیں سنتے یک سو رہی دلجوئی

فرصت نہیں ہے اتنی جو دم بھی لیا جاوےتاکید میں چلنے کی کیا فکر کیا جاوےکیونکرکے نہ عابد پھر پانی سا ہوا جاوےپیاسا ہو قبیلہ سب یوں جس کا لٹا جاوےکیا کیا نہ پدر مردہ بے طاقتی کرتا ہےہر آن میں گرتا ہے ہر گام پہ مرتا ہے

انواع ستم ہیں گے بے تاب و تواں اوپراقسام جفا ہیں گے دل خستہ جواں اوپرکچھ طعن نہیں تنہا ہر اک کی زباں اوپرسر باپ کا بھی آگے جاتا تھا سناں اوپراس سخت مصیبت پر کس دل کو شکیب آوےپتھر کا جگر ہو تو یاں آب ہو بہہ جاوے

قسمت میں تھا قاسم کے افسوس جواں مرنادولھن کے تئیں اس کے سب عمر تھا دکھ بھرنااکبر کے نہ طالع تھے جو گور میں ہو دھرناکانوں نہ سنا ہرگز اصغر کا سخن کرناارمان جو دل میں تھے دل ہی میں رہے سارےکیا وقت برا آیا بے وقت گئے مارے

ناگہ نظر زینب میداں کی طرف آئیاک لاش میں بھائی کے پیکر کی طرح پائیبے تاب ہوئی ازبس آخر گری چلائیرو رو کے لگی کہنے کچھ وجہ بھی اے بھائیمنھ ٹک جو ترا ایدھر ہوتا نہیں ہے ہرگزمردے پہ ترے کوئی روتا نہیں ہے ہرگز

کیا تجھ پہ ہوا ثابت جو لوٹ لیا سب گھرکیا تونے کیا جس سے دشمن ہے یہ سب لشکرکیا جرم ہوا سرزد جو سر نہیں ہے تن پرجو پردگی ہے کیوں ہے بے پردہ و بے چادرکچھ بول سبب کیا تھا کیوں تیرے تئیں ماراناموس بیاباں میں کاہے کو ہے آوارہ

وہ خانۂ دولت ہے اب غیرت ویرانہبرباد گیا سارا اسباب امیرانہہیں پردہ نشیں اکثر رستے میں فقیرانہچلنا ہمیں آیا ہے درپیش اسیرانہمردے کو ترے ہم جو چھوڑے ہوئے جاتے ہیںافراط خجالت سے ہر دم موئے جاتے ہیں

اس پیکر مردہ سے کر دل کے تئیں خالیناچار گئی آگے بے وارث و بے والیپھر حد سے ہوئی افزوں بیچارگی بدحالیتونے بھی قلم اپنے یاں ہاتھ سے گر ڈالیتو میرؔ کیا اچھا لکھنے کا نہ تھا شایاںننوشتہ ہی بہتر ہے ایسا غم بے پایاں


بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یارجاویں گے مارے آنکھوں کے آگے سب ایک بارناچار اپنے مرنے کا ہوگا امیدوارہے آج رات اور یہ مہمان روزگارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

یک دم کہ تیری ہستی میں ہوجائے گا غضبسادات مارے جائیں گے دریا پہ تشنہ لببرسوں فلک کے رونے کا پھر ہے یہی سببمت آ عدم سے عالم ہستی میں زینہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

ماریں گے تیر شام کے نامرد سارے لوگدیویں گے ساتھ اس کا جنھوں نے لیا ہے جوگتا حشر خلق پہنے رہے گی لباس سوگہوگا جہاں جوان سیہ پوش و سوگوارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

اکبر مرے گا جان سے قاسم بھی جائے گاعباس دل جہان سے اپنا اٹھائے گااصغر بغل میں باپ کے اک تیر کھائے گاشائستہ ایسے جور کا وہ طفل شیرخوارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

اے کاش کوئی روز شب تیغ شب رہےتا اور بھی جہاں میں وہ عالی نسب رہےلیکن عزیز جس کے مریں سب وہ کب رہےبے چارہ سینہ خستہ و بے یار و بے دیارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

ذات مقدس ابن علی کی ہے مغتنماک دم میں اس کے ہوویں الٰہی ہزار دمکیا شب رہے تو ہووے ہے ایام میں سے کمآتا ہے کون عالم خاکی میں بار بارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

کاکل میں تیرے فتنے ہیں ہر اک شکن کے ساتھہنگامہ کب رہا ہے ترے دم زدن کے ساتھرہ کوئی دن عدم ہی میں رنج و محن کے ساتھیہ بات دونوں جمع میں رکھتی ہے اشتہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

جلوے میں تیرے سیکڑوں جلووں کی ہے فنایعنی سحر پہ آنا قیامت کا ہے رہادن ہوگیا کہ سبط نبی مرنے کو چلاساتھ اپنے دے چکا ہے تلف ہونے کا قرارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

آب فرات پر تو یہ شب دن نہ ہو کبھیخوں ریز ورنہ ہونے لگے گا بہم ابھیسید تڑپ کے پیاس سے مر جائیں گے سبھیپیغمبر خدا ہی کا پروردۂ کنارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

دن شب کو کس امید کے اوپر کرے بھلاجو جانتا ہو یہ کہ ستم ہوگا برملانکلے گی تیغ جور کٹے گا مرا گلااے واے دل میں اپنے لیے حسرتیں ہزارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

ایسا نہ ہو کہیں کہ نکل آوے آفتابجو وہ غیور مرنے میں اپنے کرے شتابدے بیٹھے سر کو معرکے میں کھا کے پیچ و تابتر خوں میں دونوں گیسو ہوں تن پر پڑے غبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

جس دم خط شعاعی ہوئے رونق زمیںافگار ہوگی نیزۂ خطی سے وہ جبیںہوویں گے جمع پیادے سوار آن کر وہیںہوگا جدا وہ گھوڑے سے مجروح بے شمارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

لوہو جبیں کے زخم سے جاوے گا کرکے جوشفرق مبارک اس کے میں مطلق نہ ہوگا ہوشسجدے میں ہو رہے گا جھکا سر کے تیں خموشآنے کا اپنے آپ میں کھینچے گا انتظارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

خورشید کی بلند نہ ہو تیغ خوں فشاںہے درمیاں نبیؐ کے نواسے کا پاے جاںایسا اگر ہوا تو قیامت ہوئی عیاںوہ حلق تشنہ ہوگا تہ تیغ آبدارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

روشن ہوا جو روز تو اندھیر ہے ندانمیداں میں صاف ہو کے کھڑا دے چکے گا جانناموس کی پھر اس کے نہ عزت ہے کچھ نہ شاناک شش جہت سے ہوگی بلا آن کر دوچارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

پھر بعد قتل اس کے غضب ایک ہے یہ اوربختی چرخ راہ چلے گا انھوں کے طورشیوہ جفا شعار ستم طرز جن کی جورعابد کے دست بستہ میں دی جائے گی مہارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

مردان اہل بیت جو ہوں گے مریں گے سباس کے اثاث بیت کو غارت کریں گے سبناموس کے جو لوگ ہیں سو دکھ بھریں گے سبان قیدیوں کی لوہو میں ہووے گی رہگذارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

خورشید سا سر اس کا سناں پر چڑھائیں گےعالم کو دن دیے ہی سیہ کر دکھائیں گےبیٹے کے تیں سوار پیادہ چلائیں گےہوگا عنان دل پہ نہ کچھ اس کا اختیارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

پیکر میں ایک کشتہ کے ہوگی نہ نیم جاںخیل و حشم کا اس کے نہ پاویں گے کچھ نشاںشوکت کہاں سر اس کا کہاں جاہ وہ کہاںیہ جاے اعتبار ہے کیا یاں کا اعتبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

صاحب موئے اسیر ہوئے شام جائیں گےسر کو جھکائے شرم سے ہر گام جائیں گےناچار رنج کھینچتے ناکام جائیں گےلطف خداے عزوجل کے امیدوارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

لازم ہے خونچکاں روش گفتگو سے شرمکر اس نمود کرنے کی ٹک آرزو سے شرمتجھ کو مگر نہیں ہے محمدؐ کے رو سے شرمبے خانمان و بے دل و بے خویش و بے تبارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

راہ رضا میں عاقبت کار سر گیاایسی گھڑی چلا کہ مدینے نہ پھر گیاجوں آفتاب جانب شام آکے گھر گیاخاطرشکستہ غم زدہ آزردہ دل فگارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید

آثار دکھ کے ہیں در و دیوار سے عیاںچھایا ہے غم زمین سے لے تا بہ آسماںکچھ میرؔ ہی کے چہرے پہ آنسو نہیں رواںآیا ہے ابر شام سے روتا ہی زار زارفردا حسین می شود از دہر ناامیداے صبح دل سیہ بہ چہ رو می شوی سفید


پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمامپھر کیا یہ ماجرا ہے کہ ہوگئی ہے صبح شامپھر کیا ہے یہ غبار کہ اٹھتے ہیں دل سے جوشپھر کیا یہ مجہلہ ہے کہ حیراں ہیں خاص و عامپھر کیا ہے یہ فتور کہ ہے شور ہر طرفپھر کیا یہ حشر ہے کہ جہاں میں ہے دھوم دھامپھر کیا ہے یہ خیال سر دور چرخ میںجس سے نہیں زمین کے مرکز کا اک مقامپھر کیسا واقعہ ہے کہ یہ زلزلہ ہے یاںبرہم ہوا سا دیکھتے ہیں دہر کا نظامکس کا کیا ہے تازہ حوادث نے ایسا خوںہر صبح آفتاب پیے ہے لہو کا جامپہنچا نہیں ہے وعدۂ محشر ابھی مگرجبریل کہہ کے صل علیٰ جس کا لے ہے نامزہرا کے دل کا لخت محمدؐ کا نورعیناسلامیوں کے ظلم سے مارا گیا حسین

کاش اس گھڑی زمیں پہ گرا ہوتا آسماںکاش اس گھڑی جہاں سے گیا ہوتا یہ جہاںتھا بال بال اس کا رگ جان مصطفےٰؐتر کرتے خوں میں کاشکے حوروں کے گیسواںجن و ملک تمام کیے ہوتے قتل کاشچھوڑا نہ ہوتا کاشکے انسان کا نشاںسیلی نسیم مرگ کی لگتی گلوں کے تیںغنچہ ہوا ہے آخر موسم کا وہ دہاںاللہ رے حسین ستم کشتہ کا جگرفارغ ہوا خدا کے تئیں دے کے امتحاںیارب جواب داور محشر کہے گا کیابولے گا جب کہ حلق بریدہ سے یہ جواںکیا محشریں اٹھیں گی الٰہی جو حشر کوہوگا یہ کشتہ ساتھ محمدؐ کے ہو رواںروح القدس نہ سامنے ہوگا رسولؐ کےہوگا حسین روبرو زہرا ملول کے

سیراب جس کے خوں سے ہے میدان کربلاسو تشنہ لب موا ہے وہ مہمان کربلاسینے کے تیں چراتے ہیں سب حاملان عرشسر کھینچے ہے جب آہ غریبان کربلایہ شاہ دیں شہید ہوا ہوگا جس گھڑیدیوان حشر ہووے گا دیوان کربلااے چرخ پیر آل پیمبر ہے سرخ پوشصلواۃ بر حسین و جوانان کربلازہراب تیغ ظلم سروں سے گذر گیایک شہر غرق خوں ہے بیابان کربلالب تشنگی حسین کو یہ تھی نہ ہو سکاطوفان نوح قطرۂ طوفان کربلاروپوش ہو فلک کہ قیامت ہے جس گھڑیبے پردہ ہوں گی خیمہ نشینان کربلاکتنے کہ جن کا نام سنے بھیجئے درودافسوس ہے کہ موے پریشاں کریں نمود

غافل نہ رہ سپہر کہ فتنہ بپا ہوانکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہواجس کے طناب تھے رگ جاں جبرئیل کےسو خیمہ کربلا میں رہا ہے گڑا ہواہے ظلم جا ہے ماتمیان حسین کاہر نالہ لامکاں کے پرے تک چلا ہواہے سربرہنہ مویہ کناں بضعۃ الرسولحیراں ہیں قدسیاں کہ یہ کیا ماجرا ہوامحمل نشین عترت پیغمبر خداہیں سب شترسوار نمایاں یہ کیا ہواکیا چال ہے فلک کہ سر بیکس حسیناس قافلے سے جا ہے سناں پر جدا ہواتحریر اس گھڑی کی فغاں خامے سے نہ ہوبے سر کی لاش پر جو سر حرف وا ہوابے تاب و بے قرار اسیر ستم ملولفریاد کرکے سارے پکارے کہ یا رسولؐ

بے سر جو یہ بدن ہے تمھارا حسین ہےبیکس غریب ظلم کا مارا حسین ہےناموس خاندان نبوت جو شام کولے اپنے سر کے ساتھ سدھارا حسین ہےاس لشکر شکستہ ستم دیدہ کا تماماب جس کی لاش پر ہے گذارا حسین ہےمردہ پر اس کے آؤ کہ عابد تو ہے اسیرآخر یہ بے کفن وہی پیارا حسین ہےصد طعن ہر سخن میں ہیں جن کے سو غیر ہیںجس کو نہیں ہے بات کا یارا حسین ہےرہتی تھی جس کی تیری بغل جلوہ گاہ نازسو یہ کیے جہاں سے کنارہ حسین ہےدلجوئی سکینہ میں ہم سب ہیں اہل بیتپر یہ کرے ہے جس کو اشارہ حسین ہےسو سر تو اس کا نیزہ پہ ہے دھڑ ہے یوں خرابکس منھ سے دے وہ ظلم رسیدہ اسے جواب

ہم یا رسولؐ شام کو جاتے ہیں خوار و زارمارا گیا حسین پھرا ہم سے روزگارمیداں میں تن سے دست و بغل ہورہے ہیں زخمہوتی نہیں ہے لاش نبی زادہ یک کنارجز ابر کون ہے کہ جو رووے حسین پرنالاں نہیں ہے اس پہ کوئی غیر کوہسارہے اب جو یادگار جوانان اہل بیتہے بار ذمہ اس کو گلا اپنا طوق داریعنی یہ عابدیں کی اسیری و بیکسیرکھتا نہیں ہے غیر رسن کوئی دستیارانصاف دادگر تھا یہی ہم سے جو کیاخاک امام ہی پہ نکالا یہ سب غبارمایوس ہو یہ کہہ کے اسیران اہل بیتواں سے ہوئے روانہ جو روتے دلوں کو مارآندھی چلی کہ تیرہ جہاں ووہیں ہوگیااک ابر سامنے سے اٹھا زور رو گیا

دو گام چل کے پھر کیا زہرا کے تیں خطابکہہ تشنگی حسین کی دریا کیے کبابیعنی بتول جیتے جو ہیں سو تو ہیں اسیران جان سے گئے ہوؤں کی مٹی ہے خرابہر نالہ خونچکاں تو ہے جنت کو نامہ برپر کیا لکھا ہے یہ کہ نہیں پہنچتا جوابمارا پڑا ہے ساقی کوثر کا نورچشمسو تشنہ کام ہو کے یہ کہتا تھا آب آبہے روز بد کہ نیزے پہ جا ہے سر حسیناندھیر ہے کہ شام کو جاتا ہے آفتابگیسو کہ ریشہ جن کا ترے خون دل میں تھاژولیدہ ہیں گے باد پریشاں سے کھا کے تاببے آب دشت بیچ تباہی ہے یہ جہازطوفاں ہے یہ کہ بیٹھ گئے خیمے جوں حبابیا بضعۃ الرسول سبھی کی ہے الوداعناموس خاندان نبی کی ہے الوداع

یک بار پھر علی کی طرف سب نے کی نداعابد انھوں میں خاصۃً کرکے ہائے ہابولا کہ جد پاک بیاں تجھ سے کیا کروںامت نے آگ دی کہ نبیؐ ہی کا گھر جلاگھر کی خرابی عرض کروں یاکہ اپنا حالیا وہ کہوں حسین کا پایا جو خوں بہایعنی گرانی طوق کی جس سے رکے ہے دمہو چاک سینہ کاش کہ آوے تنک ہوایہ سن نہاد دہر سے بھڑکی اک آگ تندہر یک زبانہ جس کا پرے عرش سے گیانوری و ناری آدمی حیوان اور طیران سب کو ایک آن میں بھسمنت کر دیاآیا ہمارے وہم پریشاں خیال میںلپٹے ہیں جا کے شعلے بہ دامان کبریاہر ایک کو ہے درد جگرسوز یوں نصیباللہ کو بھی کہتے ہیں شہ رگ سے ہے قریب

ہم سب ہیں اب تو غربتی دشت خوفناکملتی نہیں ہے سر کے اپر ڈالنے کو خاککیونکر دکھاویں روضے کو ہم تیرے اپنے دلاے کاشکے قضا نے کیے ہوتے سینے چاکوہ گھر کہ جو رہا حرم کبریا کے رشکدی شامیوں نے آگ گئے شعلے تا سماکناموس احمدی کو دیا غیروں نے ببادتیرا ملاحظہ نہ کیا نے نبیؐ کا باکیہ اک جوان کشتہ جسے چھوڑ آئے ہمآلودہ خاک و خون میں جس کا تھا جسم پاکتھا یہ حسین جس کا محمدؐ تھا نازکشناچار آفتاب سے اب اس کو ہے تپاکدل بھر رہے ہیں دانۂ انگور کی طرحاس داربست سبز فلک سے لگی ہے تاکیعنی شتاب قہر الٰہی نزول ہوروح معاویہ بھی تنک تو ملول ہو

یہ کہہ کے جد پاک سے جو وہ جواں گرابے طاقتی سے تپ کی امام زماں گرایہ سن کے مضطرب ہوئی روح وصی پاکصدمے سے جس کے نعرے کے قصر جناں گراماتم کی طرح اور فلک نے نئی رکھیجب آگے اہل بیت کے وہ ناتواں گرااک شور نوحہ رو بہ بیابان پھر ہواجس سے ہوا گمان کہ یہ آسماں گراہر اک نے بے قرار ہو یہ شور سے کہاگرنے کی جا نہ تھی یہ تو عابد کہاں گراوحشت عجب طرح کی نمودار ہوگئیجس وقت خاک رہ پہ وہ جان جہاں گراوحشی جو تھے غزال گئے چوکڑی کو بھولطائر جو قدس کا تھا مع آشیاں گراآیا بحال بارے اٹھا دل جلا کر آہالقصہ شام کی لی چراغ نبی نے راہ

اے چرخ کیا کہوں کہ ستمگار کیا کیادیکھا کیا تو خانۂ حیدر جلا کیایہ داد تھی کہ قتل کر ابن علی کے تیںابن معاویہ کے تئیں بادشا کیاکس طرح اپنی جاے رہا تو ستم شعارگردن پہ جب حسین کے خنجر چلا کیامسجد میں خون گرنے سے بدتر تھا یہ عملسجدہ امام دیں نے لہو میں ادا کیاکیا کیا دکھایا آنکھ مندے پر حسین نےباقی رہے ہوؤں پہ ستم ہی رہا کیاکیا ناخن ہلال سے سر کو کھجائے گاعقدہ جو اہل بیت کے دل کا نہ وا کیاظالم ستم ہے حشر کو حلق بریدہ سےاس کشتۂ ستم نے اگر کچھ گلہ کیابے تابی ایک داور محشر کو آئے گیتیرے سبب یہ خلق بھی بخشی نہ جائے گی

خاموش میرؔ لب نہ کریں اب سخن سے سازچپ رہ خدا کو مان کہیں اے زباں درازہر حرف تیرے منھ سے نکلتا ہے شعلہ زنسینے میں دوستوں کے ہوا جا ہے دل گدازکیا ظلم ہے کہ قتل ہوا ہو امام وقتاور اس کی لاش بے کفن اوپر نہ ہو نمازخاموش میرؔ شمع رسالت کی بجھ گئیباد شمال ظلم نے کی صبح ترکتازخاموش میرؔ بس یہ جگرسوز غم نہ کہہگریہ کے ہم تو لخت جگر کرتے ہیں نیازخاموش میرؔ آتش غم ہے زبانہ کشلگ جائے گا جگر کو کوئی داغ آہ بازخاموش میرؔ بولنے کی جا نہیں ہے یہویرانے میں پڑا رہا کہتے ہیں گنج رازخاموش میرؔ کرتی ہے دل چاک تیری باتصلواۃ بر حسین کہ ہوگی تری نجات


اس گل باغ امامت کے ہیں پھولآبیاری جن کی کرتی تھی بتولسو تن نازک پہ اس کے خاک دھولدیدنی ہے رنگ صحبت یا رسولؐ

نوگل اس گلزار کے مرجھا گئےپودھے پامالی میں سارے آگئےجور کے آرے شجر سب کھا گئےجاے گلبن سبز و خرم ہیں ببول

شامیوں کے ظلم سے ہوکر ہلاکان نے جانی نہ کسو کی مشت خاکدھوپ میں جلتا رہا وہ جسم پاکسایہ پرور کو گئے تم اپنے بھول

اب نہیں ہے برگ و بار و بر کا نامخار غنچے ہو رہے ہیں گام گامسیر کر ٹک جور کے تیشوں کا کامکچھ نہ چھوڑا کیا فروع و کیا اصول

پھر گئی کیا آہ یک باری ہوااڑ گئے سب طائران خوش نواکیا زمانے نے ستم رکھا رواجاے بلبل زاغ بیٹھے پھول پھول

ظالماں پژمردہ گل سب کر گئےخار و خس سے گلستاں اب بھر گئےآدمی کی جنس یعنی مرگئےباغ جنگل ہو گیا پھرتے ہیں غول

الغرض میداں میں شہ مارا گیادار و دستہ قتل ہو سارا گیاعابدیں کا یاور و یارا گیاکرتے ہیں کیا کیا فضولی اب فضول

دیکھ ناچار ان نے کی کیا کیا گئییار و یاور موت سب کو آگئیبیٹے اور بھائی سبھوں کو کھا گئیکس قدر تیغ ستم بھی تھی اکول

جس کا نانا رحمت للعالمیںباپ جس کا وہ امیرالمومنیںخود امام برحق دین مبیںتس کو ماریں یہ ظلوم و یہ جہول

پھر وہ مارا جائے یوں بیکس غریبنے کوئی جس کا رہے یار و حبیبکیونکے ہووے مشت خاک اس کو نصیبفاتحہ دے کون آکر کیسے پھول

داد چاہیں کیا شہ مقبول کیلاش لے جاویں کہاں مقتول کیاصل ہے معلوم اس مجہول کیہے جو حاکم رد خلق و ناقبول

نوزدہ سالہ پسر اک رشک ماہلوٹتا تھا خاک و خوں میں پیش شاہہو جہاں کیونکر نہ آنکھوں میں سیاہاس جگرپارے کے تیں برچھی کی ہول

اک پسر شش ماہہ لاگا جس کے تیرخوں ہوا جس سے دل برنا و پیرہوگا جس کا پارۂ دل وہ صغیراس کے دل میں کیسی اٹھتی ہوگی سول

لوٹ کرتے ہیں تو کچھ تقصیر پرغیر یوں آتے تھے خرد و پیر پرجیسے جاتے ہیں کھٹن جاگیر پرگھر نبیؐ کا ان کی گویا تھی تیول

زور دکھلانے کا کچھ حاصل نہ تھاقافیہ یہ مرثیہ قابل نہ تھاغم سے پھر مجھ کو دماغ و دل نہ تھاورنہ دیتا بات کو میں اور طول

تھا غرض شاداب کیا یہ گلستاںپھول گل تھے رنگ رنگ اس میں عیاںآگئی یک بار اس پر یوں خزاںکل جو تھے غنچے ہوئے ہو کر ملول

یہ چمن جو سبز با خرم رہاخوبی و رونق ہی کا ہمدم رہاہر گل و بوٹے پر اک عالم رہاحظ روحی اس سے ہوتا تھا حصول

ہوگیا ہے سو وہ اب ماتم کا گھرجھڑ پڑے اس کے گل تر خاک پردیکھیے اودھر تو خوں ہووے نظردرد و غم بن کچھ نہیں ہوتا وصول

درد دل اے میرؔ کب تک بس خموشہوگیا احباب کو تو درد گوشکشتہ ہیں اس واقعے کے اہل ہوشمردہ ہیں اس سانحے کے ذی عقول


چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کاجو آرزوے جاں تھا پیغمبر خدا کامذبوح دار و دستہ سب خنجر جفا کارہتا کوئی تو ہوتا غم اس کے کچھ عزا کا

آگے ہی مر گئے تھے اس کے جو تھے ہوادارماتم لے کون بیٹھے کون اس کا ہو عزاداراک عابدیں سو اس کی ایذا کے سب رواداربیمار تس کے اوپر محتاج وہ دوا کا

بھائی نہ تھا کہ روتا مردے پہ ٹک کھڑا ہواکبر نہ تھا کہ اس کو واں گور اور گڑھا ہوقاسم نہ تھا کہ جس کا دل داغ ہوگیا ہووہ جان کر موا تھا احوال یہ چچا کا

وارث نہ غیر عابد سو مبتلا بلا میںگردن میں طوق اس کے زنجیر اس کے پا میںاک شور سا ہو اٹھتا رونے کا جب نسا میںمنھ دیکھ دیکھ روتا ہمشیر اور ما کا

کڑھنا بنا نہ اس پر دلخواہ عورتوں کومہلت کہاں کہ کہتے اپنی مصیبتوں کووارث موئے اٹھایا کیا کیا اذیتوں کورونا ہر ایک کو تھا اسباب میں ردا کا

خیمے کیے جلاکر سب خاک کے برابراہل حرم کے سر پر معجر نہ ایک چادرپرسش کو کام کھنچتا ہوتا جو کوئی داوراس طور گھر کو لوٹا دیتے ہیں جیسے ڈاکا

جور و ستم کی آندھی شدت سے آہ آئیگلزار رشک وادی اک دم میں کر دکھائیخاشاک و خار و خس نے واں سہل راہ پائیہوتا تھا جس چمن میں مشکل گذر صبا کا

ایسے ثبات پا سے مرنا بہت ہے مشکلسو سو سیاہ دل تھے ایک ایک کے مقابلرحمت برآں جواناں لعنت بہ جمع باطلمر تو گئے وے سید پر کر گئے ہیں ساکا

آیا تھا کس گھڑی کا جو پھر نہ گھر گیا وہسر دے سر جہاں سے آخر گذر گیا وہیعنی کہ ہوکے بیکس ناچار مر گیا وہٹھہرا رکھا تھا ان نے چارہ یہ انتہا کا

تیر و سناں کی بارش کرتا رہا نظارہدیکھا نہ آنکھ اٹھاکر کنبہ موا بھی سارابیٹے موئے تو ان نے زنہار دم نہ ماراکیا کیا ستم اٹھائے پر راضی تھا رضا کا

جا سے گیا نہ اپنی ووہیں رہا شکیباکیا حوصلہ تھا یارب کیسا دل و جگر تھامرنا سبھوں کا دیکھا ان نے خموش یک جابولا نہ غیر ازیں کچھ چارہ نہیں قضا کا

نو گل چمن کے اپنے مرجھائے ان نے پائےاشجار سرکشیدہ اکھڑے نظر میں آئےپودھے جو تھے سو پھل سب حلق بریدہ لائےپھر جانا خوب دیکھا یکبارگی ہوا کا

غربت کی سختی دیکھو اس بے وطن کو دیکھوگرم آفتاب میں پھر سیر بدن کو دیکھوعابد کے ہاتھ دیکھو یارو رسن کو دیکھونے پاس مصطفےٰؐ کا نے خوف مرتضےٰؓ کا

احمد کو سرکشی سے بالفرض وَی نہ مانوحیدر کو بے تہی سے کچھ بھی نہ دل میں جانوکلثوم اور یہ دھومیں دشت اور شہربانوانصاف کوئی پوچھے تھا کون سی یہ جا کا

بہنوں کو پیٹنے کی مطلق ملی نہ فرصتبیٹے کو راہ چلنا اس پر کہ تھی نہ طاقتحلواے مرگ کیسا کیسی رسوم میتہر ایک مبتلا تھا درد و غم و بلا کا

بابا حسین کہہ کر روتی تھی جب سکینہدل چاک ہوتے تھے سب پھٹتا تھا سن کے سینہکہتا تھا ناملائم کیا کیا ہر اک کمینہحرف تسلی کیسے مذکور کیا وفا کا

پرخار وہ بیاباں کثرت سے تنگ آیابندی کیا سبھوں کو ماتم وہ یوں اٹھایابے محمل اشتروں پر عورات کو بٹھایاپھر راہ ضیق ایسی جیسے سوئی کا ناکا

یہ خونچکاں فسانہ رکھتا نہیں ہے پایاںمہماں عزیز ایسا تعظیم کا جو شایاںاس پر یہ جور بے حد ایسی جفا نمایاںہے داغ سب کے دل پر اس طرفہ ماجرا کا

وہ کنج زار صحرا پھر چہل روزہ مدتکچھ بولیے نہ اس جا یہ ہے خدا کی قدرتجب عابدیں نے پائی اس قید سے فراغتتب آکے جسم گاڑا اس سب کے پیشوا کا

القصہ شامیوں نے کیا کیا جفا عیاں کیچادر تلک نہ چھوڑی ان ظلم دیدگاں کیپوشیدہ کیا رہا ہے حاجت جو ہو بیاں کیکہا شرح و بسط کریے اس خارجی ادا کا

آیت حجاب کی تھی شانوں میں جن کی نازلسر ننگے پابرہنہ لائے انھوں کو جاہلحق میرؔ یہ ہے تھے وے مردود سارے باطلپردہ اٹھا دیا تھا اس قوم نے حیا کا


آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کیرخصت ہے سحر عترت والاے نبی کیکٹ جائے گی سب آل رسول عربی کیبرہم ہی ہوئی جان لو صحبت یہ کبھی کی

جب اس شہ مظلوم سے تلوار چلے گیگرد اٹھ کے سوے چرخ ستمگار چلے گیپاؤں کے تلے سے زمیں یک بار چلے گیاٹھ جائے گی تہ انس و ملک جن و پری کی

لیکن جو مقدر ہے شہ دین کا ہوناآزار دلی کھینچنا اس جان کو کھونااحباب جو ہیں ان کو قیامت تئیں روناکس طرح ظفر ہووے نہ اس قوم دنی کی

بے ڈول نظر آتی ہیں اعدا کی نگاہیںہے جاے تعجب جو مروت کو نباہیںغالب ہے کہ یہ خوبی شبیر نہ چاہیںسن لیجو کہ ان لوگوں نے سادات کشی کی

ہووے گا نمودار سحر کا جو ستارہہوگا تبھی سے شام کے لوگوں کا گذارامیداں میں نکل صاف یہ شہ جائے گا ماراساتھ اس کے اجل آئے گی یک بار سبھی کی

ہرگز نہ ملے گا کسو کو ایک دم آبکیا خرد و کلاں پیاس سے ہوجائیں گے بے تابتڑپیں گے پڑے خاک میں کیا کیا گہر نابدریا پہ یہ آفت پڑے گی تشنہ لبی کی

اکبر کے تڑپنے کے تئیں دیکھے گا مظلوممرنا کرے گا گود میں اصغر کا بھی معلومسن لیوے گا قاسم کی ہلاکی کی پڑی دھوملے جائے گا سب مرتے ہوئے جی ہی میں جی کی

گذرے گی جو کچھ سر کے اپر سب وہ سہے گابیٹوں میں بھتیجوں میں کوئی کم ہی رہے گاجو وارثی کر باپ کی اک بات کہے گااوقات نے دیکھوگے بہت اس سے کمی کی

برپا کریں گے حشر عجب خیموں میں جاکرلے جائیں گے پھر سر کے تئیں نیزہ چڑھا کرلاویں گے بلا اک حرم شاہ میں آکردلجوئی نہ عابد کی تسلی نہ کسی کی

چھینیں گے ردائیں سر سکان حرم سےکچھ کہہ نہ سکے گا کوئی واں فرط الم سےدرگوش سکینہ کا اتاریں گے ستم سےدلداری کرے گا نہ کوئی باپ موئی کی

محجوب نہ ہوگا کوئی شبیر کے رو سےہوگا وہ پڑا خاک میں آلودہ لہو سےکیا زین عبا آنکھ ملاوے گا کسو سےکچھ چشم کسو سے نہ جسے دادرسی کی

جس جا کہ پڑا خاک میں ہوگا وہ تن پاکہووے گی کھڑی مویہ کناں زینب غمناککلثوم اڑاوے گی کھڑی ہوکے بہت خاکپرسش نہ کرے گا کوئی اس خاک ملی کی

اصغر کے لیے بانو المناک پھرے گیآنکھوں سے لہو روتی جگرچاک پھرے گیفریادکناں منھ پہ ملے خاک پھرے گیسننے کے نہیں بات کو اس جان جلی کی

پاس احمد مختار کا کرنے کے نہیں کچھرو حیدر کرار کا کرنے کے نہیں کچھغم عابد بیمار کا کرنے کے نہیں کچھکیا دیکھیو اس قوم نے دنیاطلبی کی

بے صرفہ چلے آویں گے غارت کے بہانےلے جائیں گے لوگوں کے تئیں پاؤں چلانےدیکھوگے کہ اس جمع سراپاے جفا نےوارث کے موئے پر بھی جفا میں نہ کمی کی

خوش ہوویں گے دیکھیں گے اسیروں کو جو مغمومدم لینے نہ دیویں گے جو ہو ماتم مظلومانصاف کروگے تو تمھیں ہووے گا معلومان بدگہروں نے کوئی بھی بات بھلی کی

القصہ وے سب شام کی جانب کو چلیں گےدل اور جگر آتش کربت سے جلیں گےکم فرصتی وقت سے ٹک دم بھی نہ لیں گےسن لیجو کہ عابد نے بلا رنج کشی کی

یک چند جدا جا کے وہ رنجور رہے گابے گور و کفن یہ تن پرنور رہے گاہر جاے بہم میرؔ یہ مذکور رہے گاکیا سمجھے تھے وے لوگ جو یہ بے ادبی کی


ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئیایدھر تھے ہفتاد و دو تن یہ اودھر ساری خدائی ہوئیصاف نکل کر جیسے گیا یہ گھر کی ساری صفائی ہوئیچارہ کیا ہے خواہش حق سے کب رہتی ہے آئی ہوئی

تھی وہ ختم رسلؐ کی امت یہ بھی اس کا نواسا تھاچشم وفاداری رکھتا تھا ایک جگہ کا باسا تھاسو وے سب دریا پر اترے ایک یہی واں پیاسا تھادیکھو ان اندھے لوگوں سے کیسی دیدہ درائی ہوئی

ہائے کنھوں نے یہ بھی نہ پوچھا کیا ہے گنا ان لوگوں کاثابت کچھ تو کیا چاہے ہے حال برا ان لوگوں کاقتل ہوا پھر کس خاطر سردار بھلا ان لوگوں کایہ جو مسافر آ اترے تھے کاہے کو ان پہ چڑھائی ہوئی

آنکھ ملا کر کہہ تو فلک پر کیسی نظر تھی تاروں کیجانیں کھپیاں گردنیں کٹیاں بھوکے پیاسے بچاروں کیسرور دیں یوں خاک میں لوٹیں عزت ہو یوں خواروں کیچتر گرایا کس کا ظالم کس کے ہائے دہائی ہوئی

کہیے طول جو حد رکھے کچھ ظلم و ستم کے ہاتھوں کاکیسا ٹھہرا سبط نبی پر قدغن تھا سب باتوں کادن کا کھانا ترک ہوا تھا منع تھا سونا راتوں کاپانی سید پینے نہ پاویں چاروں اور منائی ہوئی

کیا داور محشر کو کہے گا سر رفتہ کر گوش اس کاحیدر صفدر باپ ستم کش نانا احمدؐ تھا جس کاظلم سے اس کو کیوں مارا یہ مجرم ایسا تھا کس کاقہر ہے جو دکھلاوے گا پیشانی پہ برچھی کھائی ہوئی

کھانا پینا ترک کیے پر اس کو یہ غم کھانے پڑےبیٹے بھتیجے بھائی سب کے سر ناچار کٹانے پڑےہائے رے اس غربت پر اس کو کیا کیا ظلم اٹھانے پڑےجان کھپی ناموس لٹی گھر بار گیا رسوائی ہوئی

جب بولیں ہیں لوگ حرم کے چھاتی پھٹ پھٹ جاوے ہےایک کھڑی تھانبے ہے عابد ایک اسے سمجھاوے ہےایک طرف مچلی ہے سکینہ زینب اس کو مناوے ہےبابا بن وہ روٹھی جو ہے سو منتی نہیں ہے منائی ہوئی

جل کے جگر ہے راکھ کی ڈھیری اور توا ہر چھاتی ہےجوش غبار ملال اٹھے پر آندھی سی اک آتی ہےپات اور بن ہیں جیسے سوکھے جانیں اڑا لے جاتی ہےپہنچے ہے تا عرش اعظم خاک ہماری اڑائی ہوئی

ایک بہن کہتی تھی یوں گھر بار ترا کیوں لوٹ لیاکوئی نہ چھوڑا پیچھے جیتا ہائے یہ کیا ستھراؤ کیاکنبہ مر کر ڈھیر ہوا آخر کو تونے جی بھی دیابارے تقصیر ایسی سزا کی کیا تجھ سے اے بھائی ہوئی

ایک کہے تھی نوشہ قاسم کیسا بیاہ رچایا تھاکیا ساعت تھی نحس وہ جس میں بیاہنے کو تو آیا تھالگ گئی چپ ہے ایکا ایکی اتنی ہی کیا لایا تھامنھ بولے ہے اب تک تیرے ہاتھ کی مہندی لگائی ہوئی

نیگ کی جس کو رسم تھی اس سے کہتی تھی وہ رو رو کررسمیں کتنی باقی تھیں جو یاں سے چلا غمگیں ہوکرجاتے ہی آنکھیں مند گئیں شب کو کیا نہ اٹھا تھا تو سوکرایک نگاہ حسرت ہی کیا سہرے کی میرے بندھائی ہوئی

کوئی کہے تھی شبیہ اکبر آنکھوں میں کیونکر اب آوےنقشہ اس کا نقش جو ہے خاطر صفحہ سے کیا جاوےدل کی تڑپ اب جا ہی چکی ہے جان تسلی کیا پاوےجلوہ گری پھر کرتی ہے کوئی صورت ایسی مٹائی ہوئی

ظلم اٹھایا جی بھی کھپایا سر کو کٹایا چھاتی جلیپیاسا جی سے گیا دریا پر منت پھر اک خس کی نہ لیشہ جو غیور تھا سوچا جی میں اس جینے سے موت بھلیہاتھ پسارے کون کسی سے شاہی نہیں یہ گدائی ہوئی

ایک کہے تھی کوئی ہمارے چھٹکارے کی طرح نہیںظلم و ستم ہے جور و جفا ہے رحم کسو میں ہے بھی کہیںظاہر ہے رفتار فلک سے رکھا ہم کو اسیر یہیںقید حیات سے نکلا کوئی جو بارے اس کی رہائی ہوئی

کوئی کہے تھی تونے شاہا جتنے ان سے جور سہےیار و یاور خویش و برادر سارے آکر ٹھور رہےخاک تھے جوکہ انھوں نے اٹھ کر منھ پر کیا کیا حرف کہےہائے رے کیونکر دل میں تیرے ایسے غموں کی سمائی ہوئی

ایک کہے تھی ظلم و ستم پوشیدہ نہیں جو کریے بیاںسب پیدا ہیں ان سے جو یہ مارے پڑے ہیں پیر و جواںبھوکے پیاسے اکبر و قاسم خستہ جگر خود شاہ زماںمنھ پہ سبھوں کے نمایاں ہے تلوار ستم کی کھائی ہوئی

کوئی کسو ملت میں یارو ایسا ستم بھی کرتا ہےسبط نبی فرزند علی کا ناچاری سے مرتا ہےدل تو چاہے ہے جینے کو پر موت پہ جی کو دھرتا ہےکیا سمجھے تھے شامی کوئی ایسی جن سے برائی ہوئی

کیا سمجھی یہ قوم سیہ رو کیا ان نے یہ خیال کیازہر حسن کو دے کر مارا حیدر کا وہ حال کیااب جو حسین رہا تھا بیکس تس کو یوں پامال کیااول سے لے تا آخر کیا ان لوگوں سے بھلائی ہوئی

حال عابد کچھ مت پوچھو ایک تو تھا بیمار و نزاردوسرے کنبہ اس کا سارا جور و ستم سے ڈالا مارتیسرے آفت آکر ایسی ٹوٹ پڑی ہے ایک ہی بارچوتھے ایسے حال میں اس کو ویسے پدر سے جدائی ہوئی

قصہ کوتہ میرؔ کہاں تک آل عبا کے دکھ سنیےرویئے کڑھیے ماتم کریے کوٹیے چھاتی سر دھنیےجیسے کباب بروے آتش جلیے شام و سحر بھنیےچپ رہ ظالم خوب نہیں اب آگے بات بڑھائی ہوئی


کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلااحوال زار شاہ شہیدان کربلاباآنکہ تھا فرات پہ میدان کربلاپیاسا ہوا ہلاک وہ مہمان کربلا

انصاف کی نہ ایک نے کی چشم نیم بازکھولے ستم کے ہاتھ زبانیں کیاں درازقتل امام مقصد و تیاری نمازبدتر تھے کافروں سے مسلمان کربلا

سیلاب تھا بلا کا ہر اک سمت گرم جوشفریاد بیکساں کی طرف کم کسو کے گوشآل نبی تمام ہوئی خوں سے سرخ پوشصلواۃ بر حسین و جوانان کربلا

انواع جور مدعی ایجاد کر گئےتخت و کلاہ احمدی برباد کر گئےکیا تیرہ روز شامی بھی بیداد کر گئےپایا زبون مور سلیمان کربلا

منصف تھے ہائے کتنے دروں تیرہ اہل شامخوش تشنہ لب جنھوں نے کیا کشتن امامفخر بشر کا نور دل و دیدہ تشنہ کامسیراب وحش و طائر و حیوان کربلا

یارب نہ تھا سپہر پہ اس وقت کوئی بھی کیاجب سر پہ اہل بیت کے تھی اس قدر جفاہوتا کوئی تو دیکھتا ہی سر کو ٹک جھکاتا لامکاں تھا شور غریبان کربلا

نوک سناں پہ رکھ کے چلے لے سر امامناموس کے جو لوگ تھے بندی ہوئے تمامٹکڑے جگر کے ہوتے تھے کرتا تھا جب کلامبے خانماں وہ جمع پریشان کربلا

بیٹے بھتیجے اس کے جواں مارے سب پڑےہو ٹکڑے ٹکڑے سامنے بیکس بہت لڑےفرصت نہ اتنی دی کہ کوئی خاک میں گڑےپوشیدہ کیا ہے ظلم نمایان کربلا

سر اس کا کٹ کے نیزے پہ جس دم رکھا گیانونیزہ پانی چڑھ کے جیوں کو ڈبا گیاہرچند بوند پانی کی کوئی نہ پا گیالیکن خدا کا قہر تھا طوفان کربلا

تھی عابدیں کے لب پہ شکایت یہ خونچکاںکاے چرخ آہ کیونکے نبھے گا یہ کارواںیہ سب ہیں زیربار الم میں ہوں ناتواںطے کس طرح سے کریے بیابان کربلا

مشفق پدر تو رخت سفر کر گیا ہے باربھائی کو اس سے آگے ہی دشمن گئے تھے مارہوں میں برہنہ پا سو مرض سے نحیف و زارپھر ہر قدم پہ خار مغیلان کربلا

ہے تودہ تودہ لاشوں پہ جن کی یہ خاک دھولسب یہ شگفتہ رو تھے نگاہوں میں جیسے پھولمنھ دیکھ ان کے کہتے تھے صلواۃ بر رسولؐگلزار تھی یہ وادی ویران کربلا

اب سب ہی خاک و خون میں وے ہیں اٹے پڑےاشجار و نونہال ہیں سارے کٹے پڑےدل ہیں فگار سینے ہیں سب کے پھٹے پڑےمسلخ سے کم نہیں یہ گلستان کربلا

جل جل کے ایک ایک سے اس کا تھا یہ خطابکاے قوم بس بہت ہوئی اب کم ہے جی میں تابپہلو سے میرے ہے جگر دشت بھی کبابرکھ ہاتھ دیکھ سینۂ بریان کربلا

یہ آگے جانتے نہ تھے دیکھیں گے یہ ستمخون پدر گرے گا زمیں پر رکیں گے دماندوہ و درد و رنج و الم اب ہے اور ہمخرد و کلاں ہیں کشتۂ احسان کربلا

موقوف ہوگی غم کشی یہ جب نہ ہوں گا میںمدت تلک مصیبتیں اپنی کہوں گا میںجیتا رہوں گا جب تئیں روتا رہوں گا میںاب تھم چکے یہ دیدۂ گریان کربلا

زینب کے لب سے حرف نکلتے تھے شکوہ ناکآشفتہ مو وہ سر میں کھڑی ڈالتی تھی خاککہتی تھی تا سپہر مگر اے خداے پاکجاتے نہیں یہ نالہ و افغان کربلا

شاید غبار رکھتی ہیں چشمان مہر و ماہاحوال پر ہمارے نہیں مطلقاً نگاہپردہ رہے جو گر پڑے گردون روسیاہہیں سربرہنہ خاک نشینان کربلا

باد شمال ظلم ادھر کو جو آگئیایک ایک کرکے دین کی شمعیں بجھا گئیدل داغ سارے کر گئی سینے جلا گئیسب اڑ گئی وہ خوبی ایوان کربلا

پیٹے ہیں ہم حسین کو جو کھول کھول بالکیا خاطروں سے جاتے رہیں گے ہمارے حالاشجار بید کے جو ہیں سو سالہاے سالدیویں گے یاد یہ سر عریان کربلا

کرتے جو نوحہ لاشوں پہ ہم جمع آ ہوئےآنکھوں سے دل کے ٹکڑے گرے بال وا ہوئےبے جا ہمارے شور سے وحشی بجا ہوئےدیواں ہوا ہے حشر کا دیوان کربلا

اس لوٹے کاروان کا دیکھے کوئی گذاریہ سانحہ ہوا ہے زمانے کا یادگارعترت نبیؐ کی اونٹوں پہ ہے ننگے سر سوارسجاد نالہ کش ہے حدی خوان کربلا

وارث کے پیچھے جانیں گئیں وسوسوں سے ہائےکیا طرحیں چرخ کرتے ہیں ہم بیکسوں سے ہائےکیسی کمی اٹھائی ہے ہم نے خسوں سے ہائےکس سے کہیں یہ درد فراوان کربلا

ناگہ نگہ جو لاش پہ قاسم کی جا پڑیساعت وہ گذری اہل حرم پر بہت کڑیماں اس کی سر کو پیٹتی کہتی تھی یہ کھڑیہے دیدنی یہ نوشہ بے جان کربلا

چن چن کے دشمنوں نے عزیزوں کے کاٹے سرمارا پڑا رئیس تلف ہوگئے پسرسر پر نہ عورتوں کے ردا تھی نہ ان کو گھرآئی نہ کام ہمت مردان کربلا

آیا جو شاہ یاں تو یہیں کا یہیں رہاانواع جور و ظلم و ستم جان پر سہاآخر کو خون اس کا اسی خاک پر بہانکلا نہ پھر وہ یوسف زندان کربلا

آنکھوں کو جس کی رہ میں بچھایا کیے ہیں ہممنت سے جس کے ناز اٹھایا کیے ہیں ہممسند پہ جس کو ناز کی پایا کیے ہیں ہمسو خاک میں پڑا ہے وہ سلطان کربلا

یہ مردمی تو دیکھو کہ دریا بہا کیاخیمہ کھڑا کنارے پر اس کے رہا کیاشہ بہر طفل پانی ہی پانی کہا کیاپیاسا موا ندان وہ نادان کربلا

بالفرض دشمنوں نے نہ کی اس طرف نظرکینہ سے ہونٹ سوکھے ہمارے نہ چاہے تراک ابر بھی نہ آن کے برسا تنک ادھرتا آسماں تھی شورش عطشان کربلا

کلثوم یوں تھی لاش پہ بھائی کی حرف زنسر کیا ہوا کہ خاک میں پامال ہے بدنپھر وجہ کیا کہ اب نہیں ملتا تجھے کفناے بادشاہ بے سر و سامان کربلا

ہم کچھ کریں جو فکر سو قدرت نہیں ہمیںماتم میں تیرے بیٹھیں سو فرصت نہیں ہمیںمیت کی رسمیں کرتے سو مہلت نہیں ہمیںرسوائی کر رہے ہیں نگہبان کربلا

مہمانی ہم مسافروں کی کیا رہی ہے یاںلخت دل و جگر تھے جو مارے پڑے جواںجانا نہ ہم نے یاں کا دم آب و پارہ ناںدیکھی سو اب یہ نعمت الوان کربلا

اس خاک پر اترتے نہ فرصت تجھے رہیدرپیش ہر قدم پہ قیامت تجھے رہیبے ڈولیوں سے یاں کی کدورت تجھے رہیشائستگی مگر نہ تھی شایان کربلا

ہو دلخوشی کسو کو تو ہو بھی شگفتہ روشادی ہو جان کو تو کرے ہنس کے گفتگوتھی رونے کی جگہ کہ بخود ہم نہ تھے نہ تولب ہاے زخم تھے لب خندان کربلا

ہفتم سے آب و دانہ کا قدغن ہوا تھا یاںجز ذکر تیغ تیز کچھ آیا نہ درمیاںسادات کشتہ جانتے ہیں یا انھوں کی جاںجو دیکھ کر موئے ہیں یہ حرمان کربلا

کروبیوں کے گوش مگر کر تھے اس گھڑیجس وقت کشت و خون کی یاں دھوم تھی پڑیصف عورتوں کی لاشوں پہ چلاتی تھی کھڑیمحشر بہ بر تھا ہر دل نالان کربلا

یاں سے نہیں چلے ہیں ہم ایسے ہو پائمالجو خاطروں سے اپنے فراموش ہو یہ حالاب جاچکی دلوں سے یہ حیرانی و ملالرہیے گا زندگی تئیں حیران کربلا

القصہ پیٹ روکے گئے آگے وے اسیردل چاک سر میں خاک جواں اور خرد و پیربس تو بھی اپنے ہاتھ سے رکھ کر قلم کو میرؔکہہ باد سے کہ ہووے گل افشان کربلا

بعد از نماز و سجدہ کرے در پہ التماسکاے شاہ بندہ پرور و قدر گداشناسمقصود میرؔ یہ ہے کہ اب ترک کر لباسجوں زائران چاک گریبان کربلا

ہندوستاں سے قطرہ زن آوے چلا ہوامانند ابر چند پھرے دل بھرا ہواتو ملتفت ہوا کہ یہ مطلب روا ہوادیوے گا پھر نہ ہاتھ سے دامان کربلا


نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوستنہ چھوڑا پیچھے جیتا کوئی اے دوسترہیں نالاں نہ کیونکر مثل نے دوستستم گذرا غضب ہے دوست ہے دوست

کہاں آیا تو اپنے پاؤں چل کرجہاں سر یوں دیا آخر کو جل کرکہیں سو کیا کہیں اب ہاتھ مل کریہی کہتے ہیں سب ہے دوست ہے دوست

ہوئے درپے سبھی ناموس و جاں کےتھے اسلامی ترے دشمن کہاں کےبکھر جاتے ہیں جی پیر و جواں کےکہیں ہیں لڑکے جب ہے دوست ہے دوست

فلک کی چال کینے کی نہ سمجھاہوا پامال تو نقش قدم ساگیا سر کیوں کبھو تونے تو اس جانہ رکھا پا کڈھب ہے دوست ہے دوست

وطن سب کا عرب مدت کا باساامام دیں محمدؐ کا نواساموا آنکھوں کے آگے سب کے پیاساعجب بل صد عجب ہے دوست ہے دوست

جنھوں سے تھی امید مہربانیدریغ ان سب نے رکھا تجھ سے پانیہوئی دریا پہ مشکل زندگانیموا تو تشنہ لب ہے دوست ہے دوست

ہوئی نانا کی امت دشمن جاںرہا تو دیر خاک و خوں میں غلطاںرہی دیں داری و اسلام و ایماںنہ عزت نے ادب ہے دوست ہے دوست

سبب ہو تو کہے کوئی موالیکہاں کی دشمنی تجھ سے نکالینہیں مرنا ترا حسرت سے خالیگیا جی بے سبب ہے دوست ہے دوست

بھتیجے بھائی بیٹے تیرے پیارےگئے ناچار ہوکر جی سے مارےترے حصے میں کیا آئے تھے سارےغم و رنج و تعب ہے دوست ہے دوست

اٹھائے تونے کیا کیا رنج و محنتگیا لے یاں سے کیسی کیسی حسرتیہ گر ایام پر پڑتی مصیبتتو دن ہوجاتے شب ہے دوست ہے دوست

وطن سے ہائے کر کر رہ گرائیمصیبت دیکھی یا ایذا اٹھائیگیا جی سے ولے تونے نہ پائیزمیں بھی یک وجب ہے دوست ہے دوست

سنی ہے مرگ ایسی بھی بہت کمرکے جاتے ہیں جی ہر لحظہ ہر دمکہیں کیا با ہزار افسوس و غم ہمکہا کرتے ہیں اب ہے دوست ہے دوست

غیور ایسا نہ کوئی ہم نے پایاجگر حسرت نے پانی کر دکھایاموا لب خشک پر لب پر نہ لایاکبھو حرف طلب ہے دوست ہے دوست

ترے اندوہ کہنے میں نہ آئےکڑوڑوں لاکھوں غم جی میں سمائےیہی افسوس کر سب کہنے پائےعجم سے تا عرب ہے دوست ہے دوست

ترے ماتم کے جب پڑتے ہیں اسبابنہیں رہتی جیوں میں مطلقاً تابجگر پھٹتے ہیں کس حسرت سے احبابکہیں ہیں زیر لب ہے دوست ہے دوست

کہوں یہ واقعہ آگے تو غم ہودلوں کو میرؔ صدگونہ الم ہوموا جس طرح وہ ثابت قدم ہومرے یوں کوئی کب ہے دوست ہے دوست


کیا گردوں نے فتنے کو اشارہبلا کو کربلا میں لا اتاراہوا آخر طلب سید ہمارالٹا ناموس پیغمبرؐ کا سارا

مروت شامیوں سے بن نہ آئیہوئی یہ چشم و روے بے وفائیستم کی تیغ سب نے آزمائیحسین ابن علی کو جس سے مارا

رہا جو عابدیں سو زار و بیماراٹھانا یک قدم کا جس پہ دشواربلا کا مبتلا غم کا گرفتارغریب و بیکس و بے یار و یارا

خطاب اس کا تھا ہر دم آسماں کوکہ ہم بے طالعوں غم دیدگاں کودکھایا تونے تیرہ کر جہاں کومگر رکھتے نہ تھے ہم سب ستارہ

فلک تونے عجب چوپڑ بچھائیسمجھ میں چال تیری کچھ نہ آئیامام دیں نے جاں بازی لگائیموا لیکن نہ اپنے جی کو ہارا

چلا وہ قافلہ لوٹا ہوا سبانھوں کا پیش رو عابد جسے تبکوئی روتا کسو کے نالہ بر لبکسو کی زندگانی ناگوارا

پڑی راہ اس طرف اس کارواں کیجہاں لاشیں پڑی تھیں کشتگاں کیہر اک نے خونچکاں لب سے فغاں کیہوا آشوب محشر آشکارا

کوئی رو رو کے زہرا کو پکاریکہ دیکھو خوار ہے اولاد سارینہیں لیتیں خبر جو تم ہماریہوا شاید جگر پتھر تمھارا

کیا ہے چرخ نے ناشاد ہم کودیا ہے اس طرح برباد ہم کونہیں کرتیں جو مطلق یاد ہم کومگر تم نے ہمیں دل سے بسارا

ضرورت ہے کہ ہو ٹک تم بھی آگہمصیبت پڑ گئی ہے ہم پہ ناگہہمارا حال ہے رونے کی جاگہکرے امت کھڑی ہوکر نظارہ

جگر ہم سب کے اس غم سے پھٹے ہیںشجر اس باغ کے سارے کٹے ہیںگل و بوٹے بھی ماٹی میں اٹے ہیںجفا کا ہر طرف چلتا ہے آرا

نہیں بھائی بھتیجوں کا ٹھکانامیسر سب کو آیا جی سے جاناکسو کا تن ہے تیروں کا نشانہکسو کا سر ہوا ہے چارپارہ

جہاں ہم کو اسیروں کا کوا ہےہمارا تشنہ لب صاحب موا ہےستم آگے کہیں ایسا ہوا ہےٹک اک انصاف سے دیکھو خدارا

فرات اوپر کسو کا تھا کنایہکہ اے بے تہ نہ تھا کیا اتنا پایہحسین ابن علی پیاسا کھپایاگیا تو بیچ میں سے کر کنارہ

کوئی رو رو کے کہتی تھی زمیں سےکہ تجھ کو بھی کدورت تھی ہمیں سےاگر تو چاک ہو جاتی یہیں سےنہ ہوسکتا ترے اوپر گذارا

حسین آکر نہ اس جا خیمہ کرتانہ اس کا دار و دستہ کٹ کے مرتانہ سر اس کا کوئی نیزے پہ دھرتانہ ہوتی خاک میداں خوں سے گارا

نہ پھرتا اس طرح ہم سے زمانہنہ ہوتے شام کو ہم یوں روانہنہ لگتا عابدیں کو تازیانہنہ ہوتی حشر دنیا میں دوبارہ

کوئی بے تاب تھی اور کوئی مضطرنہ تھی اک پردگی کے سر پہ معجرہوا روے سخن سوے پیمبرؐکہ زین العابدیں رو کر پکارا

گلے میں طوق کرتا ہے گرانیہوئی ہے سخت مشکل زندگانیکہوں کس سے غم و درد نہانینہیں اس درد کا مجھ پاس چارہ

رہے ہیں ہم جو پیچھے کشمکش ہےتنوں کو رنج ہے جانوں کو غش ہےموا قرباں ہو جو اس پر وہ خوش ہےنہ تھا جینے میں ایسے اس کا وارا

نہیں جلتا ہے ہم پر دل کسی کانہیں رکھتے ہیں پاس اب تجھ نبیؐ کارہا تھا رو کچھ اک ابن علی کاسو اپنے ساتھ سر کے لے سدھارا

وہ سید کشتۂ شمشیر نامردپڑا ہے خاک میں جس پر منوں گردعلی کا نورعین و نازپروردتمھاری آنکھوں کی پتلی کا تارا

نہیں فرصت کہ سونپوں خاک کے تیںتسلی دوں دل غمناک کے تیںمگر سونپوں خداے پاک کے تیںکہ وارث کون ہے اس بن ہمارا

گیا وہ قافلہ آخر سوے شامدلوں پر داغ و ناامید و ناکامولیکن عابد بیمار ہر گامجگر کرتا تھا مثل سنگ خارا

بھلی غم سے نہیں ہے گرم جوشیکروں میرؔ اختیار اب میں خموشیکہوں کیا شامیوں کی چشم پوشیدعا گفتند آں مردم حیا را


کہانی رات تھی آل نبی کیمراد جان زہرا دل جلی کیمصیبت دیدگی ابن علی کیگئی سن نیند یک باری سبھی کی

پدر شاہ ولا اور اس کا نانامحمدؐ جس کو دو عالم نے جانافلک نے خاک کو یک عمر چھاناتب اس محبوب نے جلوہ گری کی

کہ اک تھا بادشا مغرب زمیں میںعلم تھا اہل ایمان و یقیں میںامامت تھی اسے احمدؐ کے دیں میںدر اس کا سجدہ گہ تھی ہر ولی کی

تمامی جود تھا سب دست ہمتسراپا دل ہمہ تن تھا مروتسراسر جرأت و یک لخت غیرتدیا سر پر نہ ان نے آشتی کی

مزاج اس کا نہایت ہی کڑا تھاسر رہ طور پر اپنے کھڑا تھاگذار کارواں اپنا پڑا تھانگہ ان نے ادھر اک سرسری کی

خیال اس کو کیا ہر اک نے مفترکہا سب نے اسے خود راے خود سرگلہ سن کر کیا ان نے سخن سرکہ رسم اپنی نہیں کبر و منی کی

نہ اس کو کبر سمجھو کبریا ہےہمیں یہ مرتبہ حق نے دیا ہےتکبر ترک ہم سب نے کیا ہےرہ و رسم اپنے ہاں ہے بیکسی کی

جو ہوں پامال تو ہم دم نہ ماریںہمارے جسم ہیں گویا مزاریںہم اپنی قدر کو کیوں کر بساریںکہ ہے خاک اصل طینت آدمی کی

ولے وہ مالک ملک حقیقترہا تھا بیٹھ کر ترک خلافتاباً جداً جنھوں نے کی خصومتانھوں نے ابتدا پھر بے تہی کی

یہ شہ تھا کم سپہ ساتھ ان کے لشکریہ بیکس اور وہ مغرور و مفترادھر اسباب ظاہر جمع یکسرفقط اک اس کنے ہمت شہی کی

لگے آزار پر پہنچانے آزارلے آئے بیچ میں بیعت کی گفتارکھنچی پرخاش کو آخر یہ تکرارنہ اک گمرہ نے اس کی ہمرہی کی

غم و رنج و الم جب دیکھے وافرکہا مجھ کو نہ دیں گے چین کافرہوا آخر مدینہ سے مسافربراے خواہش دل مدعی کی

کہ یاں جاتا نہ تھا اس کا ستم پیشتدارک بھی ہوا جاتا تھا کم بیشاگرچہ مرگ حیدر سے تھا دل ریشحسن کے غم نے کیا کم کوتہی کی

وطن مالوف کو القصہ چھوڑانبیؐ کی گور سے ناچار توڑازمانے نے یکایک منھ کو موڑانہ یک دم آسماں نے ہمدمی کی

چلا راضی رضاے مالک اوپرعمل کر کل شئی ہالک اوپرکہا پھر رہ میں جو ہو سالک اوپرخدا سے چشم رکھے یاوری کی

پس از طیِّ منازل کوفہ آیابھروسا جس کا تھا خوب آزمایااسے دشمن سے بھی کچھ آگے پایامروت دیکھ لی سب اس دنی کی

ہوا دشت بلا کو جب روانہپھرا حد سے زیادہ پھر زمانہملا اس کو وہاں پانی نہ دانہفلک نے اس کی مہمانی بڑی کی

مخالف جوق جوق اودھر سے دھائےسنان و تیغ و خنجر لے کے آئےعزیزوں نے گلے اپنے کٹائےنہ پوچھو شامیوں نے جو بدی کی

بھتیجے بھائی بیٹے سارے مارےجلائے آگ دے کر خیمے سارےموئے ناچار ہو اکثر بچارےبہت اوقات نے اس سے کمی کی

ہوئے اکبر ہم اصغر دونوں بھائیگیا قاسم تھی جس کی کدخدائیمروت ظالموں سے بن نہ آئیتسلی بھی نہ ٹک آکر کبھی کی

گلے اصغر کو بہتیرا لگایالیے خیمے تلک ہاتھوں میں آیاولے اس کو نہ جینے والا پایابہت دلجوئی کی اس رفتنی کی

پھر اس مظلوم کو بھی مار ڈالاکیا سر معرکہ میں نیزہ بالانہ چھوڑا اک کفن کا دینے والارہا عابد سو اس سے کیا بھلی کی

نکالا کانپتا اس ناتواں کوچلے لے شام لوٹے کارواں کوکیا غارت سب اسباب زناں کوہر اک واحد کی خوش بے چادری کی

نکالیں عورتیں بے روئیاں کرنہ چھوڑا پردگی کے سر پہ معجربٹھائیں اشتروں پر تس کے اوپرقطار اونٹوں کی رستے پر کھڑی کی

زمام اونٹوں کی لے کر ہاتھ میں دیمراعات اس کی بیماری کی یہ کیچلاچل کہتے کہتے جان بھی لیپدر مردہ کی کیا کیا دلبری کی

وہ کہتا تھا پدر منھ تیں جو پھیراسبھوں نے مجھ کو کھینچا اور گھیرانہ نکلا آہ مرغ روح میراکہوں کس سے اس اپنی بے پری کی

تمامی دار و دستہ کٹ کے مرناسر آگے باپ کا نیزے پہ دھرناحرم کے لوگ بے ناموس کرناوہی جانے یہ جن نے غم کشی کی

بس اب سو میرؔ رکھ لے ٹک زباں کویہیں سے چھوڑ دے اس داستاں کورلاوے گا کہاں تک مردماں کونہیں طاقت رہی مژگاں تری کی


نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسیندم ایک اور ہے اب میہماں امام حسینچراغ آخر شب ہے گا یاں امام حسینسحر نمود ہوئی پر کہاں امام حسین

فلک نکالی نئی گردش اب کے اے خوں خوارکہ قتل ہوتے ہیں ابن علی کے خویش و تبارہوئی ہے اول مہ میں کچھ اور لیل و نہارگھٹے ہے بدر نمط ہر زماں امام حسین

سفر مدینے سے گویا کہ تھا بلا کا سراقدم جو راہ میں رکھا تو ہائے پھر نہ پھراملا نہ قطرۂ آب اور لوہو اس کا گراہوا تھا کس گھڑی واں سے رواں امام حسین

نبیؐ نے برسوں تئیں جس کا ناز اٹھایا تھاعلیؓ نے آنکھوں پہ مدت جسے بٹھایا تھاجسے کہ مہد میں جبریل نے جھلایا تھاوہ خاک و خون میں اب ہے طپاں امام حسین

مصیبت اس کے تئیں طرفہ پیش آئی ہےاکیلا دشت میں ہے پیاس ہے لڑائی ہےنہ کوئی یار ہے نے خویش ہے نہ بھائی ہےرہا ہے بیکس و بے مہرباں امام حسین

تمام شکل نبیؐ ہی کا تھا علی اکبراسی کو دیکھتے مشتاق روے پیغمبرؐہوا برابر خاک سیہ وہ گوہر تردیا ہے ہاتھ سے کیسا جواں امام حسین

فرات خاک سر اس کے کہ جس کا ایسا آبکہ جس سے موجیں اٹھیں با ہزار پیچ و تابتمام بادیہ کے وحش و طیر ہوں سیرابدکھاوے تشنہ لبی سے زباں امام حسین

بھتیجا یوسف ثانی تھا جس کو کھو بیٹھابغل میں اصغر ناداں کو لا کے رو بیٹھاحشم خدم سبھی سے ناامید ہو بیٹھامحل رحم تھا بے خانماں امام حسین

پیاس حد سے زیادہ تھی ہائے دم نہ لیاتمام آب کا خنجر کی ایک گھونٹ کیارضا میں مر ہی گیا آنکھ موند کر نہ جیاشہید تیغ ستم پیشگاں امام حسین

کوئی نہ دادگر و دادرس جو دیوے دادستم اس ایک پہ واں ہورہا تھا حد سے زیادبلند چاروں طرف سے ہوئی تھی تیغ عنادتلف دریغ ہوا درمیاں امام حسین

ہوا جو قتل شہ کم سپاہ دیں مہجورپڑا تھا خاک کے اوپر نپٹ ہی بے دستورجگر کے ٹکڑے پڑے لعل پارہ سے تھے حضورگیا ہے دیکھ کے کیسا سماں امام حسین

کہوں سو شام کے لوگوں کی کیا مروت کوپھر ان کے آنکھ چھپانے کو یا قساوت کوچلے ہیں قبلہ کو رو کرکے سب عبادت کوہوا ہے ذبح ابھی ناتواں امام حسین

عجب عبادت حق پر تھے مستعد ناسازشتاب قتل نبی زادہ بیچ کر غمازنماز کرنے کو دوڑے تھے سب یہ کیسی نمازپڑا تھا خاک میں خوں میں عیاں امام حسین

سر آفتاب کا دیں کے کیا روانۂ شامکفن بغیر رکھی خاک و خوں میں لاش امامپھرا کی مضطرب الحال روح خیرانامپڑا تھا بے سر و ساماں جہاں امام حسین

جھڑے کٹے یہ گل و بوٹے سارے دل افروزپسر برادر و قاسم دلوں میں جن کے سوزگیا تو جان سے پر خوب سیر کی دس روزچمن میں اپنے بہار خزاں امام حسین

کہیں تھے عترت احمد کے دل جلے رو روچراغ اب نہ رہا گھر میں عابدیں بن سووہ قیدی شام کو جاتا ہے دیکھیے کیا ہوگیا ہے ہم سے تو دامن فشاں امام حسین

ہوا جو لاشۂ مظلوم پر سے ہوکے گذارقیامت ایک ہوئی عترت نبی سے دوچارپکارا دیکھتے ہی رو کے عابد بیماررہا تھا ایک میں تیرا نشاں امام حسین

عناں ہے ابلق ایام کی فلک کے ہاتھکہوں سو کیا کہوں بنتی نہیں ہے کوئی باتیہ کاش جان سبک کھوئی ہوتی تیرے ساتھگلے میں طوق ہے میرے گراں امام حسین

مژہ میں لخت جگر اپنے میں پروتا ہوںکباب آتش غیرت کے بیچ ہوتا ہوںحرم کے لوگوں کو میں دیکھ دیکھ روتا ہوںپھر اس پہ ان کی یہ آہ و فغاں امام حسین

پڑا جلے ہے ترا لاشہ دھوپ میں مظلوماسیر کرکے مجھے لے چلی ہے قوم شومکفن کی فکر جو کرجاؤں تیری سو معلومہو آفتاب ترا سایہ باں امام حسین

خدا کو سونپ کے اس بے کفن کو وہ بے دلگیا یہ کہہ کے کہ بابا ہے سخت یہ مشکلجرس کے طرز میں نالاں ہوں ساتھ تا منزلگیا ہے چھوڑ کے تو کارواں امام حسین

فلک نے کی نہ مدد اب بھی ان غریبوں کیخراب ہوتی نہ مٹی جو بے نصیبوں کیتسلی ہوتی رہی باقی ناشکیبوں کیہوا نہ زیر زمیں بھی نہاں امام حسین

خبر بھی ہے تجھے کس کا لہو پیا ہے تیںچراغ خانۂ حیدر بجھا دیا ہے تیںکرے گا نفع نہ محشر کو جو کیا ہے تیںگیا ہے کھینچ کے جی کا زیاں امام حسین

قیامت ایک نمودار ہوگی محشر کوسخن میں لاویں گے جب اس جوان بے سر کوعجب نہیں ہے جو بے تابی آوے داور کوکرے گا گر یہ مصیبت بیاں امام حسین

تمھارے لطف سے خاطر میں میرؔ کے ہے نہاںکہ روز حشر کو ہووے رکاب ہی میں رواںصف نعال جوانان کربلا ہو جہاںملے اسے بھی اسی جا مکاں امام حسین


قاسم کی شادی اس دم رچائیجس دم کہ شہ سے کچھ بن نہ آئیدلہن سمیں نے ایسی بنائیوہ بزم جن نے ساری رلائی

بھائی نہ تھے جو ہوتے براتیبزم عروسی رونق بھی پاتیسو تو جلائی ہر اک نے چھاتیآگے ہی جا جا گردن کٹائی

دولھا اگر تھا ظاہر نویلالیکن نہایت بیکس اکیلابابا کا مرنا اس طور جھیلاطاقت سے آگے ایذا اٹھائی

دل کے الم سے رخ زرد جوں زرآنسو کا سہرا چہرے کے اوپرجوں پارۂ ابر رومال سب ترغم کی نہ دل میں مطلق سمائی

بابا موا تھا ہو کرکے مسمومشفقت عنایت غیروں سے معلوماب جو چچا ہے سو بھی ہے مظلومڈھونڈے ہے اپنے غم سے رہائی

دولھا گدازاں ہووے نہ کس مسنے کوئی غم خوار نے کوئی مونسدولہن جلے تھی جوں شمع مجلسایسی لگن تھی یہ کب دھرائی

دلہن کو روتی لاکر بٹھایادولھا بھی کڑھتا پاس اس کے آیامرآت و مصحف لاکر دکھایااک دم بھی فرصت ہرگز نہ پائی

چاہا مبارز دشمن نے آکرغیرت سے طاقت مطلق نہ لاکراٹھتے ہی واں سے جی کو چلا کرسر پر اٹھائی ساری لڑائی

اک زخم سا زخم آخر اٹھایادیکھا چچا نے طاقت نہ لایاگھوڑے سے گرتے چھاتی لگایانازک وہ پیکر بے جان پائی

مر جو گیا وہ جا الضرورتکچھ اور ہوگئی مجلس کی صورتبڑھتی چلی پھر دل کی کدورتاس پر کہ گھر کی سب تھی صفائی

آرائش بزم کیا کہیے بارےآہوں کے شعلے گل ریز سارےگرتے تھے آنسو جیسے ستارےچھوٹے تھی منھ پر سب کے ہوائی

کس پردگی کے معجر بہ سر تھاسینے میں کس کے اس دم جگر تھابزم عروسی ماتم کا گھر تھااچرج ہوئی ہے یہ کدخدائی

القصہ اکثر بیکس بچارےجور و ستم سے دشمن نے مارےباقی جو ہیں اب کتنے دکھارےپانی کی ان کو ہے گی منائی

اصغر پیاسا مرنے لگا جبمردم حرم کے گریاں ہوئے سبلاچار ہو شہ آپھی اٹھا تباک چلو پانی کرنے گدائی

لائے سو اس کو خوں میں ڈبو کرایسے گہر کو یوں بیٹھے کھو کررکھا جو سب میں گودی سے رو کرچھوٹے بڑے کی چھاتی بھر آئی

گردن کٹائی اکبر نے جب کیتر چشم ہے گی ہر خشک لب کیعالم سیہ ہے آنکھوں میں سب کیدیتا نہیں کچھ اس بن دکھائی

اس واقعے نے شہ کو کھپایاآتش نے غم کی سینہ جلایاخود کو بخود پھر ہرگز نہ پایادشوار کاٹی اس کی جدائی

افراط غم سے بس تنگ آکرجینے سے بیٹھا دل کو اٹھاکروعدے پہ آخر میداں میں جاکرخنجر کے کارن ضربت اٹھائی

واماندگاں سب کہتے تھے رو رووارث نہیں اب جز عابدیں سوبیمار ایسا دیکھیں تو کیا ہوپھر لاعلاجی پھر بے دوائی

سر دے کے شہ تو چھوٹا الم سےعزت تھی ساری اس کے ہی دم سےوابستہ خواری اب ہے گی ہم سےموت اس کی آئی ہم کو نہ آئی

تھی چشم ہم کو جن سے وفا کیآخر انھوں نے ایسی جفا کییارب برائی ہم نے وہ کیا کیکرتی نہیں جو امت بھلائی

اپنا کیا تھا حیدر نے جس کوجانی خصومت ہم سے ہے وس کوہم غم زدہ اب دیں دوش کس کوکی آشنا نے یہ بے وفائی

چھوڑا مدینہ جس کے بھروسےنیکی نہ دیکھی اس زشت خو سےمارے گئے مل اس مردہ شو سےبیٹے بھتیجے خویش اور بھائی

دنیا کی خاطر دیں ان نے چھوڑاابن علی سے سر رشتہ توڑایک بار ادھر سے منھ اپنا موڑاتھا آشنا سو نکلا دغائی

تالیف جس کی کی تھی نبیؐ نےایذا اٹھائی اس سے علیؓ نےبیٹے سے اس کے اب ہم سبھی نےیہ آگ گھر کو ان نے لگائی

جانوں سے مارا خیمہ جلایاپانی کے بدلے لوہو چٹایاسر اس کے اوپر کٹوا منگوایاناموس ساری شہ کی لٹائی

غربت میں مارا لاکر وطن سےمحروم رکھا تس پر کفن سےہاتھ اک پسر کے باندھے رسن سےکی ناتواں پر زورآزمائی

اہل حرم کو لوٹا لٹایاہر پردگی کو سب میں پھرایااونٹوں کے اوپر ظاہر بٹھایاخوش کی ہماری یہ بے ردائی

اب شام کو ہم جاتے ہیں سارےشب کر دکھایا دن کو ہمارےکیا پیش آوے واں پہنچے بارےطالع میں اپنے ہے نارسائی

جاتے تھے کہتے یوں وے گرفتارنے کوئی ہمدم نے کوئی غم خوارآگے سبھوں کے عابد ہو بیمارچوٹ ان کے دل پر ہر گام کھائی

پامال کریے اس کام جاں کودیجے ریاست سگ زادگاں کوچپ میرؔ نالاں رکھ لے زباں کوکہیے سو کیا اب یہ بھی خدائی


چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتاماتم کدہ ہوا ہے جہاں وامصیبتامردوں کی جنس سینہ زناں وامصیبتانسواں تمام مویہ کناں وامصیبتا

کیا واردات ہے کہ عزا چاروں اور ہےکیا سانحہ ہوا ہے کہ عالم میں شور ہےکیسا ہے غم کہ سینہ زنی سب میں زور ہےناخن کے چہروں پر ہیں نشاں وامصیبتا

دیکھے ہیں تار و تیرہ زمان و زمن کے تیںشہری گئے ہیں نعرہ زناں سارے بن کے تیںمردوں کے ہاتھ پہنچے ہیں جیب و کفن کے تیںزندہ ہوئے ہیں جامہ دراں وامصیبتا

اندھیر شامیوں کے ستم سے بڑا ہواسر ہے سناں پہ شاہ کا تن ہے پڑا ہواخورشید ایک نیزے پر آکر کھڑا ہوامحشر ہوئی جہاں میں عیاں وامصیبتا

کیا دل میں حسرتیں لیے یاں سے گیا امامقاسم کا کام کیونکے ہوا دفعتہ تمامکس منھ سے کوئی اصغر ناداں کا لیوے ناماکبر گیا ہے کیسا جواں وامصیبتا

ناگاہ اس چمن میں چلی ایسی باد سختجڑ پیڑ سے اکھاڑ دیے جن نے سب درختنوباوگاں نے بار کیا ہے سفر کا رختغنچہ ہوئے گلوں کے دہاں وامصیبتا

آکر وطن سے ابن علی جان سے گیااہل حرم پھرے ہیں بیاباں میں بے رداعابد چلا ہے ہاتھ بندھے وا محمداؐزینب ہے سر پہ خاک فشاں وامصیبتا

بے چارے ہیں غریب ہیں بے خانماں ہیں سببے وارث اور بیکس و بے مہرباں ہیں سبہر گام گرم نالہ و آہ و فغاں ہیں سبنے گھر نہ در نہ جا نہ مکاں وامصیبتا

مرتے حسین کے وہ زمانہ نہیں رہاجو ہے سو مدعی ہے یگانہ نہیں رہاناموس احمدی کو ٹھکانا نہیں رہافریاد لے کے جائیں کہاں وامصیبتا

بے سر پڑے ہیں حدنظر تک تمام تنکھینچے ہیں خاک و خوں میں جوانوں کے پیرہنسب خارزار ریختن خوں سے ہے چمنکچھ اور ہوگیا ہے سماں وامصیبتا

زہرا نے دودھ جس کے تئیں مہر سے دیاحیدر نے جس کو سر پہ رکھا جب تلک جیاآغوش میں نبیؐ نے جسے پرورش کیاسر اس کا اور نوک سناں وامصیبتا

جس کے لیے سپہر رہا برسوں چرخ زنجس کے سبب نمود میں آیا زمیں زمنسو سر کہیں نواسے کا اس کے کہیں بدنپھر خاک میں ہوا نہ نہاں وامصیبتا

بھائی بھتیجے آگئے تیغ ستم تلےخنجر رکھا گیا شہ مظلوم کے گلےہرچند سر ہے نیزے پہ خورشید سا ولےتاریک ہے زمین و زماں وامصیبتا

بیٹا جو اک رہا ہے بہت ناتواں ہے وہکرتا تو ہے نمود سی لیکن کہاں ہے وہدبلے پنے سے جسم کے اپنے بجاں ہے وہتس پر کہیں ہیں چل تو دواں وامصیبتا

ہاتھوں سے اس کے کچھ نہیں بن آتی کیا کرےناموس چھوڑ دشت میں کس طرح سے مرےجیتا رہے تو ضعف میں کیوں کر یہ دکھ بھرےگردن میں طوق ایک گراں وامصیبتا

کہتے ہیں اس پہ باپ کا منھ سے نہ نام لےباندھے ہیں ہاتھ دل کے تئیں تانہ تھام لےکس طرح اس سلوک کا وہ انتقام لےاس کو نہ زور کچھ نہ تواں وامصیبتا

دیکھے ہے ماں بہن کو تو روتا ہے زار زاررسی سے ہاتھ دونوں بندھے کف میں اک مہارگرد یتیمی منھ پہ جگر بے پدر فگارناچار ساتھ سب کے رواں وامصیبتا

اس واقعے سے بانو پہ سختی کمال ہےیہ ظلم یہ ستم یہ خرابی حال ہےلب پر ہزار رنگ گلے لیک لال ہےگویا نہیں ہے منھ میں زباں وامصیبتا

اس ایک کے لبوں پہ شکایت ہے خونچکاںاس دوسری کے نوحے سے پرشور ہے جہاںالقصہ بے حسین قیامت ہے درمیاںکیا کیا کریں ہیں بہنیں بیاں وامصیبتا

بیٹی یہی کہے ہے کہ بابا کب آئے گاکب کا گیا ہے کب تئیں تشریف لائے گاشاید یہ حرف جان ہی کے ساتھ جائے گاکڑھنے سے اس کے ہے یہ عیاں وامصیبتا

وحشی ہی فرط غم سے نہیں دشت میں اداسجاتے نہیں طیور بھی میرؔ آشیاں کے پاسکیا مرد و زن ہر ایک کے مفقود ہیں حواسماتم زدہ ہیں خرد و کلاں وامصیبتا


ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیاشیوہ ستم کا تیرہ دلوں کو سکھا دیاخیمہ انھوں نے ابن علی کا جلا دیاپردہ سا رہ گیا تھا کچھ اک سو اٹھا دیا

کیا تونے آنکھیں موندلیں اے تیرے سر پہ خاکماں اس کی فاطمہ گئی عالم سے دردناکباپ اس کا بوتراب ہوا کوفے میں ہلاکبھائی حسن کو زہر پلا کر سلا دیا

ہے نقش وہ جو کھینچ گیا ہے کدورتیںبیٹا بھتیجا دونوں تھے گویا کہ مورتیںتھیں آب و رنگ صفحۂ عالم وہ صورتیںسو بات کہتے تونے انھوں کو مٹا دیا

آزار تیرے جور سے انواع پا گیایاقوت پارے خاک میں اپنے ملا گیاکیا کیا زیاں حسین جہاں میں اٹھا گیاناموس دی بہ باد جدا سر جدا دیا

مرنا حسین کا ہے فلک یوں نہ جائے گاحلق بریدہ سے جو وہ عرصے میں آئے گاہر گام ایک تازہ قیامت اٹھائے گایہ وہ نہ ہو کہ خون کیا پھر دبا دیا

آنکھوں میں اس کی ہو نہ جہاں کس طرح سیاہکیا سوجھے اس کو چہرے پہ کس کے کرے نگاہاکبر اندھیرے گھر کا اجالا تھا اس کے آہباد ستم نے تس کو دیا سا بجھا دیا

اصغر کو خیمہ گاہ سے لایا تھا تشنہ کامسو کام ایک تیر میں اس کا ہوا تمامپانی کا پھر حسین نے ہرگز لیا نہ نامدیکھا کہ طفل شیر کو لوہو چٹا دیا

ہمدم جو تھے حسین کے مارے گئے سبھییاری کی یاوری کی نہ مہلت کسو کو دیعباس جس سے بازو امامت کا تھا قویتیغ جفا سے بازو ہی اس کا کٹا دیا

قاسم چراغ بھائی کا آیا بتنگ ہوکہنے لگا کہ میرے تئیں حکم جنگ ہوتاچند زندگانی وبال اور ننگ ہوافسردگی کہاں تئیں جیسے بجھا دیا

بولا چچا کہ دل میں جو کرتا ہوں میں تمیزپاتا ہوں اپنے بیٹوں سے بھی تیرے تیں عزیزتیرے عوض جہاں کو اگر دیں تو کیا ہے چیزہونے نے تیرے بھائی کے غم کو بھلا دیا

دل تنگ دیکھتا ہوں تو لاچار میں تجھےورنہ نہ دیکھوں بیکس و بے یار میں تجھےاس آگ میں نہ جانے دوں زنہار میں تجھےمت جان کو جلا تجھے کٹے لگا دیا

اس ماجرے کو گرچہ دیا اس جواں نے طولپر بات اس کی آگے چچا کے نہ ہوئی قبولجب دیکھا مدعا نہیں ہوتا ہے یوں حصولبازو سے کھول باپ کا اپنے لکھا دیا

پوچھا کہ کیا ہے یہ تو کہا کیجیے نظرلکھ دے گیا تھا مجھ کو دم مرگ یہ پدرپڑھتے ہی اس کے خون ہوا غم سے سب جگرمغموم ہو کے فرق مبارک جھکا دیا

اس میں لکھا تھا یہ کہ سن اے مایۂ حیاتمیں تو موا پہ یاد رہے تجھ کو میری باتایسا نہ کیجیوکہ کہے سن کے کائناتابن حسن نے ساتھ چچا کا بھلا دیا

القصہ پڑھ کے ساتھ بھتیجے کے تیں لیااہل حرم کو خیمے میں جا ایک جا کیااک جامہ بیش قیمتی اپنا اسے دیارو رو نکاح بیٹی کا اس سے پڑھا دیا

رسمیں ہنوز باقی تھیں جو آئی اک صداکاے سیدو مگر نہیں تم میں کوئی رہاحاضر براے جنگ ہو قاسم جو اٹھ چلاچلنے نے ایسے اس کے سبھوں کو رلا دیا

آیا دلھن سے حشر کا وعدہ جو درمیاںکہنے لگی کہ ڈھونڈھوں تو واں پاؤں میں کہاںبولا کہ پیش فاطمہ بولی کہ کچھ نشاںچاک آستیں کا ہاتھ اٹھا کر دکھا دیا

نکلا جو خیمہ گاہ سے یہ مستعدکاراک ابر سامنے سے اٹھا اس کے فتنہ بارتیروں کی بارش اس سے تھی یا تیغ آبدارطوفاں ہوا کہ اس کو یکایک ڈبا دیا

صرفہ کیا نہ شہ نے بھی پھر اپنی جان کاسینہ کے تیں سپر کیا تیغ و سنان کاجو تاج سر تھا فرق شہان جہان کااس طرح تونے خاک میں اس کو ملا دیا

پر بیکسانہ جی سے گیا ہے وہ بے وطنیار و رفیق سب کے ہیں بے سر پڑے بدنکوئی نہیں رہا ہے کہ دیوے اسے کفنسب دار و دستہ کاٹ کے اس کا گرا دیا

کیا کیں تھا اہل شام کو اس آفتاب سےکرتے رہے مضائقہ اک چلو آب سےآخر کیا حجاب نہ کچھ بوتراب سےسر کاٹ کر غریب کا نیزے چڑھا دیا

خیمہ جہاں تھا اس کا ہوئے خیمہ گاہ خصماسباب عترتوں کا گئی لے سپاہ خصمتن اس کے دوستوں کے ہوئے فرش راہ خصمظلم و ستم سے مار کے سب کو بچھادیا

مظلوم سیدوں کا نہ ثابت ہوا گناہآل نبی کا پاس کیا خوب واہ واہمارا جہاں کہ وھاں نہ ملا قطرہ آب آہلوہو سے ان پیاسوں کے دریا بہا دیا

ناموس خاندان نبوت گئی ببادگھر بار لوٹ لے گئے اعداے بدنہادواماندگاں پہ حد سے تعدی ہوئی زیادان بیکسوں کا واہ رے انصاف کیا دیا

احوال عابدیں سے کریں ہم سو کیا مقالآگے ہی تھا بدن کا مرض سے تباہ حالقیدی جو راہ جاتے ہوا اور پائمالناموس کی خرابی نے دونا سکھا دیا

غیرت رہا تھا جو حرم کبریا کی گھرباشندگاں کو واں کے نکالا برہنہ سرجاویں ادب سے جس کے کنے ہاتھ باندھ کراس عابدیں کا ہاتھ رسن سے بندھا دیا

ناچار جس طرح سے گیا وہ نہ کوئی جائےدیکھا جو کچھ کہ ان نے کسو کو نہ حق دکھائےآیا جو اس نزار سے ایوبؑ سے نہ آئےہر ہر قدم پہ ضعف بدن نے اڑا دیا

کیا کچھ کیا نہ تونے فلک اس کے باب میںزنداں میں اہل بیت رہے پیچ و تاب میںبیٹی نے اس کی دیکھا اسے واں جو خواب میںاس واقعے کی دھوم نے دشمن جگا دیا

شورش کی وجہ سن کے برا اپنے دل میں ماناٹھ بیٹھ روسیاہ نے سوتے سے اس ہی آنرکھ کر سر بریدہ کو کسوایا ایک خوانسربستہ پھر وہ خوان اسے واں منگا دیا

کھولا جو خوان کو تو ہر اک نیم جاں ہوئیازبسکہ گرم نالہ و آہ و فغاں ہوئیچلائی بیٹی ایسی کہ محشر عیاں ہوئیجی کو غم پدر میں پھر ان نے کھپا دیا

کیا چال تھی سپہر جو تیں اختیار کیبنیاد کھود ڈالی حرم کے جدار کیکچھ فکر ہے تجھے بھی سرانجام کار کیظالم کسے بگاڑ کے کس کو بنا دیا

گھر پر علیؓ کے ایسی مصیبت تھی جب پڑیہر پردگی نکل کے ہوئی بے ردا کھڑیکیدھر تھے تیرے دیدۂ مہر و مہ اس گھڑیمل کر زمیں سے تونے نہ ان کو چھپا دیا

اس کم سپہ کو خصم سے آخر لڑا رکھالاشے کو اس کے خاک میں بے سر پڑا رکھاسقف منقش اپنی کو تونے کھڑا رکھاگھر اہل بیت ختم رسلؐ کا بٹھا دیا

خس کے لیے کوئی بھی الٹ دیوے ہے پہاڑکس جا خزف کے واسطے دیں ہیں گہر کو گاڑگلبن کو بہر خار کہاں ڈالے ہیں اکھاڑویرانہ گھر علی کا کیا کعبہ ڈھا دیا

بس میرؔ اب تو خامۂ آتش زباں کو تھامسوز جگر سے تیرے جلے جا ہیں دل تماممانند شمع کشتہ خموشی سے کر کلامکیا کہیے گردش فلکی نے رجھا دیا


سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایاکنبے کو ووں کھپایا گھر بار یوں لٹایاسر باپ کا کٹایا تھا سر پہ جس کا سایہلاشے کو اس کے تس پر یوں دھوپ میں جلایا

رخصت نہ تھی کہ مردہ اس کا اٹھا کے جاوےمہلت نہ تھی کہ گھر کے لوگوں کے تیں چھپاوےفرصت نہ تھی کہ رسمیں میت کی کرنے پاوےہر گام ضعف تن نے سو مرتبہ گرایا

گھر کی طرف جو دیکھا سو لٹتے گھر کو دیکھابھائی میں دم نہ دیکھا بے سر پدر کو دیکھادیکھا جدھر نہ اپنا کوئی ادھر کو دیکھاہوتا کوئی تو کہتا تو پرسے کو نہ آیا

آغشتہ خاک و خوں میں جو تھے ہوئے پڑے تھےجوں اشک یار و یاور سارے چوئے پڑے تھےمشفق پدر برادر دونوں موئے پڑے تھےشفقت نہ کی کنھوں نے احوال تو دکھایا

نے کوئی یار جانی نے لطف کچھ زبانیکھانا ملا نہ پانی کاہے کی زندگانیغیروں کی سرگرانی پھر اپنی ناتوانیطاقت نہ تھی بدن میں پر کیا ستم اٹھایا

قوت نہ پاؤں سر میں حیراں غم پدر میںباقی نہ کچھ جگر میں نومیدی سی نظر میںدشمن تمام گھر میں ناموس رہگذر میںغیرت نے دل جلایا خجلت نے جاں کھپایا

کہتا تھا یوں وہ مہموم غم میں سبھوں کے مغمومعمو موا ہو مسموم مقتول جد مرحومبابا کفن سے محروم میں ہوں اسیر مظلومدو ہاتھ جو کھلے تھے سو ان کو بھی بندھایا

کیا تپ نے تن میں چھوڑا خوں جملگی نچوڑاخالی پدر کا گھوڑا دکھلاویں غیر کوڑادل جیسے پکا پھوڑا ہر دم ہو تھوڑا تھوڑاپرخار بادیہ میں ننگے قدم چلایا

حالت تھی اضطراری اک دل میں بے قراریآنکھوں سے اشک جاری ہونٹوں پہ آہ و زاریوہ جسم کی نزاری دکھ اس طرح کا بھاریجب آنکھ اٹھا کے دیکھا تب ایک داغ کھایا

بیمار وہ گراں تھا ازبسکہ ناتواں تھاآرام اسے کہاں تھا ساتھ ایک کارواں تھاغم کا کبھو بیاں تھا روتا کبھوں رواں تھاکیا رسم رحم یکسر واں اٹھ گئی تھی آیا

اصغر موا بچارا اکبر سو ووں سدھاراقاسم کو جی سے مارا بابا کا سر اتاراقوم و قبیلہ سارا یوں کر گیا کنارہپانی دیا نہ قطرہ دریاے خوں بہایا

جامہ گلے میں آبی لب خشک دل کبابیگھر بار کی خرابی اندوہ بے حسابیپھر سب کی پرعتابی چلنے کی یہ شتابینے باپ کو اٹھایا نے بھائی کو گڑایا

وہ انکسار اس کا کوئی نہ یار اس کادل سب نزار اس کا جی بے قرار اس کاجنگل گذار اس کا چھوٹا دیار اس کاکر رحم پاس اس کے کنبہ تنک بلایا

ہر طرف شور و شر تھا درپیش اسے سفر تھاآگے سر پدر تھا لٹتا ادھر کو گھر تھاصبر آہ کس قدر تھا اللہ کیا جگر تھایہ کچھ ستم اٹھایا پر منھ پہ کچھ نہ آیا

لاشوں پہ ہو نکلنا ناچار پاؤں چلناسینے میں جی کا جلنا شرمندگی سے گلنارہ رہ کے ہاتھ ملنا حیرت سے لب نہ ہلنادل تو ہوا تھا خوں سب یہ غم کہاں سمایا

جاہ و حشم کو رووے ناز و نعم کو رووےبابا کے دم کو رووے اہل حرم کو رووےفرط الم کو رووے یا چشم نم کو رووےغم نے جدا کھپایا تپ نے جدا سکھایا

بیماری بے دوائی بختوں کی نارسائیبابا رہا نہ بھائی ان سب کو موت آئییاروں کی بے وفائی لوگوں کی بے روائیاسباب کی کمی نے بہتیرا ہے کڑھایا

جو تھا سو واں کمینہ اس کا کہاں قرینہہر اک کو اس سے کینہ دشوار اس کا جیناہر گام لوہو پینا آ آگیا پسینہپھر جسم کے مرض نے جی کو بہت گھٹایا

بابا کی جستجو میں ملنے کی آرزو میںاک حزن گفتگو میں اک درد مو بہ مو میںطوق گراں گلو میں پھر سر پہ ایسی دھومیںاس خاک میں ملے کو کیا خاک میں ملایا

قوت کوئی جتاوے باتیں کوئی بتاوےکوڑا کوئی دکھاوے کڑیاں کوئی سناوےوہ آنکھ کیا ملاوے رونا چلا ہی آوےبے چارے ناتواں پر کیا زور آزمایا

پلکیں رہیں نہ کیوں تر آنکھیں نہ لاوے کیوں بھروہ دشت اور وہ در پھر اس پہ سیکڑوں ڈرپیدا نہ ہووے رہبر کھویا نہ جاوے کیوں کربیکس کھنچا جو آیا سر باپ کا نہ پایا

جنگل میں آ اترنا بابا کا مفت مرناتنہائی کا گذرنا درد اپنا سب بسرنادکھ اس طرح کا بھرنا ناچار صبر کرنابندہ تھا وہ بھی لیکن کیا ظرف تھا خدایا

القصہ لوگ سارے جی سے گئے بچارےبیٹے بھتیجے پیارے شہ کے تمام مارےتاچند کڑھیے بارے دکھ کھینچ کھینچ ہارےان شہریوں نے مر کر جنگل وہ سب بسایا

باقی اسیر تھے سب فریاد و نالہ برلبمت پوچھنا کوئی اب تھا دن سیاہ جوں شبہے میرؔ بات بے ڈھب خاموشی ہی ہے انسبان قیدیوں کو کن نے ہو ملتفت چھڑایا


وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہنبولے شہ رو نہ بس اب اے مری غم خوار بہنکیا کروں جان کے دینے میں ہوں ناچار بہناب رہا روز قیامت ہی پہ دیدار بہن

جن عزیزوں نے مرے ساتھ کیا تھا اک جوگدیکھتے دیکھتے ہی چل بسے سارے وے لوگلطف اس جینے کا کچھ ہے کہ رکھا کریے سوگہوجے کس کس کے لیے آہ عزادار بہن

ساتھ والا نہ کوئی ہووے رہوں میں صد حیفبن حریفوں کے یہ خم خانہ ہے سارا بے کیفپھر جو بازو تھے وے سب ہیں علف خنجر و سیفقاسم اکبر کے تئیں کھا گئی تلوار بہن

ساتھ جو ایسا ہو تیار تو رہتا ہے کوئیواسطے جائے یہ پھر جور بھی سہتا ہے کوئیاس جگہ جز سخن مرگ بھی کہتا ہے کوئیہو تنک تو ہی مری منصف گفتار بہن

ہاتھ سے بیٹوں بھتیجوں کو نہ یوں دے جاتابیکسانہ رفقا کے نہ گلے کٹواتاکس و کو ساتھ لیے کاہے کو یاں میں آتاعلم اگر ہوتا کہ یہ دشت ہے خوں خوار بہن

آتش غم سے درونہ ہی نہیں جلتا ہےدل بھی سینے میں مرے جیسے کوئی ملتا ہےگھر کے ویرانے کی کچھ شرح میں لب ہلتا ہےورنہ حیرت نے کیا ہے مجھے دیوار بہن

حیف وہ جن کنھوں نے ساتھ نہ یاروں کا کیاپھر وہ ہے ہے کہ اکیلا برے احوال جیاپاس ان کا ہے ضروری جنھوں نے جان دیادور ان سے ہے مجھے زندگی دشوار بہن

ہر دم ایک آگ نئی جلتی ہے میں بھنتا ہوںناکسی اپنی نظر کرتا ہوں سر دھنتا ہوںمنھ پہ کیا کیا مرے وے کہتے ہیں میں سنتا ہوںہم زبانی سے جنھوں کی تھی مجھے عار بہن

بالش ناز سے جس کے تئیں لگتا تھا ننگاب اسی سر کے تئیں پاتے ہیں شائستۂ سنگپھول رہتے تھے بھرے جس میں ہمیشہ صد رنگاسی دامن سے گتھے رہتے ہیں اب خار بہن

ہائے یہ وقت نہیں طاقت دل کھونے کاکڑھیو تب جب تجھے غم ہو نہ مرے ہونے کاابھی کیا رووے ہے آگے ہے سماں رونے کایاد آؤں گا بہت میں جگرافگار بہن

خاک میں اپنے جگرپارے پڑے پاتا ہوںرنگ صحبت سے کھڑا خون جگر کھاتا ہوںجی میں جو کچھ ہے سوجی ہی میں لیے جاتا ہوںوقت ہے تنگ مناسب نہیں اظہار بہن

خوش نہ اس خستگی حال سے گڑتا پوتااپنے دل کے لہو سے خاک بھرا منھ دھوتاآج کے دن جو سلامت مرے سر پر ہوتادیکھتا یوں نہ مجھے حیدر کرار بہن

آشنا کون کہوں جس سے یہ حال مستورعقل سے دور ہے مرنے کے قریب اب مذکوردرد دل اپنا سناتا اسے سب میں مجبورہوتا دنیا میں اگر احمد مختار بہن

چشم انصاف کہاں جس سے نظر آوے حالکس کے اس طرح ہوئے خویش و برادر پامالتو ہی مجھ ظلم رسیدہ سے ہو سرگرم مقالابھی اکبر تھا بھلا خوں کا سزاوار بہن

جور کے تیر کا اصغر کا گلا تھا قابلقاسم ایسا تھا کہ مارا پڑے ہوکر گھائلمیں ہوں ایسا کہ مرے درپئے خوں ہوں جاہلعالم الغیب ہی جانے ہے یہ اسرار بہن

میں تو جانا تھا کہ یہ قوم تشہدگو ہےاور احمد کا تمناے دل و جاں تو ہےیہ نہ جانا کہ ہر اک تیرہ دروں بدخو ہےجی سے ماریں گے مجھے کرکے گرفتار بہن

آنکھ ان لوگوں کی آتی ہے نظر مجھ کو بریدیکھیو سر کے تئیں کاٹیں گے لے لے کے چھریپھر بھی تو ان کے دلوں سے نہیں جانے کی پریسر کٹے پر بھی رکھیں گے یہ سروکار بہن

غم شریک آج پدر ہے نہ کوئی بھائی ہےسو طرح کی ہے جفا اور یہ تنہائی ہےسر پہ کیا جانیے کیوں ایسی بلا آئی ہےپاؤں تو کج ہے مرا یاں نہیں زنہار بہن

مجھ کو جائے ہی بنے گرچہ نہیں ہے دل خواہسر کٹے ساتھ کے جتنے ہیں کھڑے ہیں سر راہدل غم دیدہ میں کیا کیا ہے مرے کیونکر آہفرصت کم میں کہوں یہ غم بسیار بہن

ہاتھ سے تم بھی سر رشتۂ تسکیں کو نہ دوسخت کر جی کے تئیں بیٹھو نہ روؤ نہ کڑھوہوسکے تو دل سجاد کو اب ہاتھ میں لوچھوڑتا ہوں میں اسے بیکس و بیمار بہن

ایک تو تپ اسے رہتی ہی نہایت ہے حقیردوسرے جاتے رہے جان سے سب خرد و پیرتیسرے مرگ پدر سخت کرے گی دل گیرمار ہی ڈالے ہے آزار پر آزار بہن

وقت نزدیک ہے اب جیسے مرے جانے کایہی صورت ہے تو میں منھ نہیں دکھلانے کاقابو بنتا ہے کہاں یاں تئیں پھر آنے کاہیں سب اسباب مرے مرنے کے تیار بہن

جس گھڑی تن سے مری جان جدا ہووے گیدن کی ہوجاوے گی شب تیرہ ہوا ہووے گیدرہمی برہمی سے حشر بپا ہووے گیاس قیامت میں سکینہ سے خبردار بہن

ہے وہ ناداں نہ کہیں خوف اثر کر جاوےدیکھ کر گھر کے تئیں لٹتے ہوئے ڈر جاوےیا مجھے یاد کرے سر کو پٹک مرجاوےکرتی رہیو مرے پیچھے اسے ٹک پیار بہن

شہربانو کو نہ ٹک پاس سے ہلنے دیجوفرط اندوہ سے دل اس کا سمھلنے دیجوغم کی ماری کو نہ جنگل میں نکلنے دیجواس کے سب اہل جنوں کے سے ہیں اطوار بہن

مجھ سے دل بستگی رکھتی ہے وہ شومردہ بہتکم جو آتا ہوں تو ہو جاتی ہے افسردہ بہتسن کے مرنے کو مرے ہوگی دل آزردہ بہتپونچھیو اس کے بہت دیدۂ خونبار بہن

یہ سخن بھائی نے کہہ منھ جو کیا اودھر کوسر سے زینب نے اٹھا پھینک دیا معجر کودیکھتی تھی کبھی بھائی کو کبھی گھر در کوچھپ گیا آنکھ سے جب رہ گئی من مار بہن

کیا کہوں میرؔ سنا جن نے جگر اس کا جلاجب وہ نومید ہو یوں کہنے لگی تاب نہ لاتو جو اک بار اٹھا یاں سے تو مرنے ہی چلااب پکارے گی اخی کہہ کسے ہر بار بہن


نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوالاشہ ہے آفتاب میں اس کا پڑا ہواعابد اسیر ہو کے چلا ہے بندھا ہواناموس ساتھ قافلہ جیسے لٹا ہوا

بیمار و زار پاؤں میں طاقت تنک نہیںمرگ پدر کے غم سے فراغت تنک نہیںپھر جور اہل شام سے فرصت تنک نہیںجاتا ہے جی قدم قدم اوپر چلا ہوا

ناموس کو جو دیکھے ہے حال خراب سےآنکھیں نہیں کسو سے ملاتا حجاب سےجس وقت گر پڑے ہے کہیں اضطراب سےرہ جا ہے دیر دیر تلک پھر گرا ہوا

جاتا ہے سوے شام دن اپنا سیاہ کرگرتا ہے گام گام پر اک دل سے آہ کرمانند آفتاب قیامت نگاہ کرسر کو پدر کے راہ میں نیزے چڑھا ہوا

اس لشکر شکستہ و خستہ کا ایک بارمیداں میں کارزار کے ہوکر ہوا گذاردیکھا جو خاک و خوں میں کٹا سر وہ تاجدارکہنے لگا ہر ایک کہ اے شہ یہ کیا ہوا

کل تک تو بزم ناز کا مسندنشیں تھا تواسلامیوں کی رونق ایمان و دیں تھا تومسجود خلق و قبلۂ اہل یقیں تھا توہنگامہ تیرے سر پہ یہ کیسا بپا ہوا

امت نے کیوں نبیؐ کی کیا تجھ کو یوں ہلاکتھا کیا سبب کہ بستر راحت ہوئی ہے خاککچھ وجہ بھی کہ دھوپ میں جلتا ہے جسم پاکرویت علیؓ کی جاتی رہی کیا بلا ہوا

اکبر جو تھا شبیہ محمدؐ سو ووں گیااصغر تڑپ کے تشنہ دہانی سے یوں گیاجانے کو اپنے آپ تو جانے ہے جوں گیاگھر کا ترے گئے پہ عجب ماجرا ہوا

خیموں پہ تیرے دوڑ پڑے ناگہاں کئیاسباب میں ردا نہ ہمارے کنے رہیبے پردہ ہوکے ہم نے ہر اک کی جفا سہیعابد ضعیف در تئیں آیا کھنچا ہوا

ارمان کیسے کیسے گئے ساتھ لے جواںہر لحظہ ایک ماتم تازہ رہا ہے یاںشادی اگر رچی تھی تو اس طرح اپنے ہاںقاسم شہید آن کے جوں کدخدا ہوا

اعوان یوں تلف ہوئے کٹتی ہے جیسے گھاسانصار اس طرح کٹے وحشی ہوں جوں اداساسباب ظاہری نہ رہا کچھ کسو کے پاسوابستہ تھا جو کوئی ترا سو گدا ہوا

کیوں غرق خون ہوکے ہمیں تو ڈبو گیاکیوں ہم سے بے علاقہ و فارغ سا ہوگیامیداں میں کارزار کے کیا آکے سوگیاآیا نہ پھر جو گھر کی طرف تو گیا ہوا

آتے بھی ہیں جو اٹھتے ہیں اپنے مکان سےدل تنگ ہوکے جاتے بھی ہیں پر نہ جان سےتو اٹھ کے جو گیا سو گیا پھر جہان سےکیا جانے تو کہ گھر پہ ترے پیچھے کیا ہوا

فرزند و زن اسیر ہوئے ٹک تو آنکھ کھولخیمے گرے پڑے ہیں کھڑے غول کے ہیں غولحیرت سے ہم تو چپ ہیں بھلا تو تنک تو بولاک شور ہے جو منھ مندے تو ہے پڑا ہوا

غارت علی العموم تھی تھا حکم قتل عاممارے گئے چنانچہ ترے اقربا تمامواماندگاں چلے ہیں اسیرانہ سوے شامہے اک چراغ خانہ سو جاوے بجھا ہوا

یعنی وہ سخت سست ہے بیمار عابدیںتس پر بندھا ہے جیسے گنہگار عابدیںناموس کو جو دیکھے ہے یوں خوار عابدیںگریاں برنگ ابر ہے آگے کھڑا ہوا

روتی ہے جب سکینہ تو روتا ہے زار زارآخر کو گر پڑے ہے وہ بے تاب ڈاڑھ مارجاتی ہے چھوٹ ہاتھ سے اونٹوں کی گر مہارکیا کیا سنے ہے غیروں سے چھاتی جلا ہوا

کیا کہیے تیرے غم سے جگر ہو گیا گدازتجھ پیشوا کی لاش کو ہے خاک و خوں سے سازکر ذبح تجھ کو دوڑے ہیں شامی پئے نمازخوب ان سے تیرا حق امامت ادا ہوا

سینے تمام داغ ہیں دل میں ہیں آبلےہرگز نہ اس چمن میں گل آرزو کھلےجی چاہتا تھا مسند عزت تجھے ملےسو ہم نے تجھ کو خاک میں دیکھا ملا ہوا

بیگانگی نہ طبع میں تھی تیرے اس قدرسو بار تجھ سے ہوتے تھے آپس میں حرف سرکیا ہوگیا کہ تجھ کو ادھر اب نہیں نظریا وہ تپاک تھا کہ یہ ناآشنا ہوا

آزردہ ہم میں کس سے ہے تو کیا ملال ہےوہ کون تیرا باعث رنج و نکال ہےرنجش ہی کا دماغ میں اب تک خیال ہےجاتا ہے ہم سبھوں سے ترا سر جدا ہوا

کچھ گرم رو نہیں ہے سناں پر ترا ہی سرہم پر بھی تیرے پیچھے ہے درپیش اک سفرکیا بے مروتی ہے بھلا منھ تو کر ادھریہ قافلہ بھی سر سے ہے تیرے لگا ہوا

اس واقعے کے بعد بھی تھا دل میں یہ خیالماتم رکھیں گے دیر بہت کھینچیں گے ملالگاڑیں گے تیری لاش بصد عزت و جلالسو خاک میں بھی تجھ کو نہ دیکھا چھپا ہوا

چاہا ترے محبوں کا ہرگز ہوا نہ آہبے آب یہ جہاز ہوا دشت میں تباہدریا بہے لہو کے جہاں تک گئی نگاہدشمن کے حسب خواہش دل مدعا ہوا

کیا نقل کریے حالت دشوار بعد جنگدم بھی لیا گیا نہ ہوا کام ایسا تنگالقصہ زندگانی ہوئی ہم سبھوں کو ننگتو کوئی دم جو آگے گیا تھا بھلا ہوا

خیمے جلے اسیر ہوئے دیر تک گھرےلوٹے گئے ردائیں گئیں مضطرب پھرےکیا کیا نہ پیش آیا ہمیں جاتے ہی ترےپوشیدہ کیا ہے یہ جو ستم برملا ہوا

برباد اس طرح سے نہیں جاتے گھر کہیںملتے نہیں ہیں خاک میں یوں در تر کہیںچلتی نہیں ہے تیغ جفا اس قدر کہیںجو تن نظر پڑے ہے تو ہے سر کٹا ہوا

کیا ظلم ہے کہ ابن علی تشنہ لب مرےاور اس کی لاش کو نہ کوئی قبر میں دھرےآب حیات پانی جنھوں کا بھرا کرےسو نام اس گروہ کا وارث موا ہوا

عمر دراز جان کی اپنی ہوئی وبالاتنا نہ جیتے ہم تو نہ یہ کھینچتے ملالدیکھا علی کے بیٹے کو اس طرح پائمالجس کا نہ نام لیں وہ سنا بادشا ہوا

کہتے تھے ہم حسین کو دیکھیں گے بادشاہگرد اس کی رہ کی جائے گی تا چرخ رو سیاہسو اس کو خاک و خون میں دیکھا طپیدہ آہتڑپے بہت ولے نہ ہمارا کہا ہوا

تھے لاش سے یہ حرف جگرسوز درمیاںجو مانع درنگ ہوئے جورپیشگاںناچار واں سے گریہ کناں سب ہوئے رواںاس کارواں کا عابد نالاں درا ہوا

ہرچند شاعری میں نہیں ہے تری نظیراس فن کے پہلوانوں نے مانا تجھی کو میرؔپر ان دنوں ہوا ہے بہت تو ضعیف و پیرکہنے لگا جو مرثیہ اکثر بجا ہوا


دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسینناموس اپنے ساتھ لیے سب اٹھا حسینلوگوں نے یہ کہا بھی کہ یاں سے نہ جا حسینلیکن گیا حسین سو جی سے گیا حسین

رکھتے ہی پاؤں رہ میں بلا سے ہوا دوچارفتنے کا ہر چہار طرف سے اٹھا غبارہر گام گرچہ آتے تھے درپیش غم ہزارلیکن نہ دیکھتا تھا تنک سر اٹھا حسین

طے کرکے مرحلوں کو گیا کوفے کے قریبپیماں سے اپنے پھر گئے وے سارے بے نصیببدعہدی ان کی دیکھ کے آگے چلا غریبتھا ساتھ اک ثبات کے پر وہ نہ تھا حسین

ناچار ہو کے کوچ کیا اس مقام سےکاوش کی طرح پڑتی چلی اہل شام سےسر کھینچتی تھی تازہ بلا گام گام سےتاآنکہ رفتہ رفتہ گیا کربلا حسین

واں پہنچتے ہی اور زمانے کا رنگ تھااک جمع روسیاہ مہیاے جنگ تھاہر طعن تھا سنان و ہر اک حرف سنگ تھاکنبے سمیت اپنے وہیں گھر گیا حسین

تھی چشم خیر جن سے نظر آئے ان کے بیرگل پھول سارے سوکھ گئے پانی کے بغیردو روز اپنے باغ میں کی ان نے خوب سیرکیا کیا نہ رنگ دیکھ کے یاں سے گیا حسین

احوال بیکسی کے ہو نظارگی موئےانصار کھینچ پیاس کی لاچارگی موئےپیادے سوار جتنے تھے یک بارگی موئےمرگ ان سبھوں کی دیکھتا تھا چپ کھڑا حسین

بیٹا جوان ایک نظر سے چلا گیااک گودی میں جو تھا سو وہ چھاتی جلا گیاقاسم کہ دی تھی بیٹی جسے وہ جدا گیااوقات تنگ ہوگئی تنہا رہا حسین

کیا کیا ستم نہ قلب المناک پر سہےدریا لہو کے آنکھوں کے آگے سے ہو بہےتا نقش یہ زمانے میں مدت تئیں رہےمیداں میں صاف ہو کے کھڑا مر مٹا حسین

سیلاب اس کے خون سے اس خاک پر بہاانصاف کر کنھوں نے نہ افسوس ہی کہاوارث نہ کوئی عابد بیمار بن رہاسو وہ ضعیف و مضطرب و لب پہ وا حسین

نیزے پہ سر پدر کا مقابل نظر کے تھاآشوب لوٹ مار کا اطراف گھر کے تھامنھ غم کا دل کی اور کہ جانب جگر کے تھاکہتا تھا میرے حق میں یہ کیا کر گیا حسین

پڑتی نہیں ہے چہرۂ پرنور پر نگاہعالم تمام آنکھ میں میری ہوا سیاہچھاتی کے اپنے داغ دکھاؤں کسے کہ آہروپوش جا کے مجھ سے کہاں تو ہوا حسین

میں ناتوان و ساتھ مرے ایک کارواںتس پر کہیں ہیں راہ چلا چل دواں دواںمیں درد دل کو جا کے الٰہی کہوں کہاںہوتا تو کان رکھ کے یہ سنتا بتھا حسین

جیدھر نگاہ جاتی ہے دشمن ہی ہیں کھڑےاعوان دوست جتنے تھے سب ہیں موئے پڑےپھر ہم اسیر ہیں سو بہم جیسے ہیں لڑےہر ایک چلنے پائے مصیبت سے کیا حسین

جاتا ہے قافلہ جو کہیں کو تو جمع ہونے ایک ہے کہیں تو کہیں مر رہے ہیں دوہمراہیوں کا حال کہوں کیا ہے گومگوجاتا ہے تجھ رئیس کا سر یوں جدا حسین

نے بھائی نے بھتیجے نہ بیٹے نہ اپنے لوگمارے گئے تمام غم ان کے ہیں جی کے روگپرسے کو کون پوچھے گا جو لیجیے بھی سوگکنبہ تو تیرے آگے ہی سب ہوچکا حسین

اے اس شکستہ حال کے خستہ جگر پدرکیا کہہ کے تجھ کو روئیے خوں ہوگئے جگربیکس تو ہوکے مرتے ہیں سب پر نہ اس قدرمردے پہ تیرے منع ہے کرنا بکا حسین

نازل جنھوں کی شان میں تھی آیۂ حجابسر ان کے ہیں برہنہ منھوں پر نہیں نقابپردہ کریں سو کاہے کا جنگل میں ہیں خرابچھوڑی نہیں ہے ایک کے سر پر ردا حسین

کیا جانتے تھے ہم کہ یہ ایسا ستائیں گےگھر بار کو علی کے کھڑے ہو لٹائیں گےسبط نبی کے سر کے تئیں یوں کٹائیں گےاسلامیوں سے ہم کو گماں یہ نہ تھا حسین

بیگانہ وار تو اے شہ کم سپہ گیاچلتے ہوئے کسو سے نہ اک حرف کہہ گیاناچار تیرے منھ کو ہر اک دیکھ رہ گیاصد رنگ تجھ سے رکھتے ہیں ہم سب گلہ حسین

خیمے جلے اسیر ہوئے گھر لٹا گیاچھوٹا جو ایک مرنے کے تیں سو بندھا گیابے آبی میں جہاز یہ ڈوبا بہا گیاتیرے گئے نہ کوئی رہا آشنا حسین

بیٹھے جو ہیں سو بال کھلے پیٹتے ہیں سرناموس کو جگہ جو ملی ہے سو رہگذرپتھر کے لاؤں جاکے کہاں سے دل و جگرجو ایسے ظلم دیکھوں کھڑا برملا حسین

جنگل میں سربرہنہ بہت خوار ہم ہوئےزنجیر طوق جیسے گنہگار ہم ہوئےپھر اور ظلم کے جو سزاوار ہم ہوئےمرنا ترا تھا ہم پہ یہ تھوڑی جفا حسین

ہوتی ہیں وہ جفائیں جو کرتے نہیں ہیں گبرہر آن ہم اسیروں پہ ہے قہر اور جبرچارہ نہیں رہا ہے ہمیں غیر شکر و صبربد حال تونے چاہا ہے یوں تو بھلا حسین

انصاف کر کہ غم کے ہوں تاچند پائمالشرمندگی ہے زندگی یہ جان ہے وبالمرنا خدا سے چاہتے ہیں ہم خراب حالپر کیا کریں قبول نہ ہو جو دعا حسین

باہر تھا یہ سلوک تو تیرا قیاس سےپھر ان سے جو کہ جیتے ہوں تیری ہی آس سےاک بار تو تو ایسا گیا اٹھ کے پاس سےہوتا ہے جیسے کوئی کسو سے خفا حسین

درپیش اپنے آئی ہے اب طرفہ راہ ایکہر ہر قدم جگر سے نکلتی ہے آہ ایکہرگز ادھر کو کرتے نہیں وے نگاہ ایکجن مردماں سے رکھتے تھے چشم وفا حسین

اس درد دیں کو دیکھ جگر ہوگئے گدازسبط نبی پہ دست ستم کر چکے درازافسوس ہے نہ باندھ کے صف وے پڑھیں نمازلوہو میں اپنے سجدہ کرے تو ادا حسین

خوں ہوگئی دلوں میں ہوس تیری چاہ کیکہتے تھے گرد کحل کریں تجھ سپاہ کیتن پر ترے سو دیکھی منوں خاک راہ کیکانوں سنا نہ ہم نے تجھے بادشا حسین

مجھ بن رہا نہیں ہے کوئی وارثوں میں مردسو میں کروں ہوں دم بدم اک دل سے آہ سردبیمار و زار ایک تو میں تھا ہی پھر یہ دردعارض ہوا ہے میرے تئیں لا دوا حسین

اس طور چاہتا ہے کوئی جینے کو کہیںوارث نہیں شفیق نہیں لطف کچھ نہیںہر اک کو آرزو ہے کہ مر جایئے یہیںلیکن نہیں پہنچتی ہماری قضا حسین

جیسی تھی زندگی میں ہمیں تجھ سے بندگیغالب کہ تابہ حشر عقیدہ رہے یہیصورت ہو کوئی جاتی نہیں اپنی پیرویاب سر ترا ہمارا ہوا پیشوا حسین

لے سب اسیر شام کی جانب کو ہیں رواںناچار ان کے ساتھ ہوں میں زار و ناتواںکر جاؤں تیری فکر سو فرصت مجھے کہاںحافظ نگاہبان ہے تیرا خدا حسین

اشجار تیرے باغ کے یک بارگی کٹےگل اور بوٹے جور کے آروں سے سب چھٹےآہیں کریں کہاں تئیں سینے تو سب پھٹےکچھ اور ہوگئی ہے یکایک ہوا حسین

مردہ کہیں پڑا ہے کہیں سر کہیں ہے پاہر گام پر ہے ایک جواں جان سے گیاالقصہ پاؤں رکھنے کو ملتی نہیں ہے جاجنگل تمام مرنے سے تیرے بسا حسین

بنتا نہیں غرض یہ کہ تجھ کو اٹھا کے جائیںافسوس تجھ سے شخص سے منھ کو چھپا کے جائیںتدبیر کیا کریں کہ کھڑے ہو گڑا کے جائیںسنتا نہیں ہے کوئی ہمارا کہا حسین

جانے میں جی سے تیرے بہت آئے ہم بتنگعائد ہوئے ہزاروں طرح کے ادھر کو ننگکچھ زندگی کا ڈھنگ بھی ہے مت کرے درنگپاس اپنے ٹک ہمیں بھی شتابی بلا حسین

بندی ہوئے چلے ہیں کسو اور بے نصیبسجاد دست بستہ بھی ہمراہ ہے غریبوقت وداع پہنچا ہے آکر بہت قریبدے تجھ کو خواب مرگ سے کوئی جگا حسین

دو حرف تیرے منھ کے بھی تا سن کے جایئےدل کو نہیں قرار تسلی تو پایئےکیا جانیے کہ اب یہاں پھر کیونکے آیئےبیدرد روزگار تو ہم سے پھرا حسین

آگے گیا یہ کہہ کے اسیروں کا قافلہباتوں کا لاعلاج یہیں چھوڑ سلسلہبس میرؔ تو بھی چپ ہو ہوا دل تو آبلہمر رہ زباں دراز کہیں کہہ کے یاحسین


سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسینرکھو ادھر کو بھی ٹک گوش از براے حسینجہاں سے واسطے امت کے جی سے جائے حسینہزار حیف کہ امت نہ ہو فداے حسین

حسین آکے مدینے سے خانماں سے گیاحسین تشنہ گرسنہ ہو اس جہاں سے گیاحسین بیکس و بے یار اپنی جاں سے گیاجگر ہو سنگ کا سننے کو ماجراے حسین

حسین بے دل و غمناک بے وطن بھی ہواحسین جی سے گیا ٹکڑے سب بدن بھی ہواحسین کو نہ ہوئی گور بے کفن بھی ہواحسین کو کوئی کیا کہہ کے روئے ہائے حسین

حسین کا سا جگر کن نے یاں کیا ہے کہوکسو نے جی کے تئیں اس طرح دیا ہے کہوکوئی تو خون جگر جن نے یوں پیا ہے کہوحسین جانے ہے یا جانے ہے خداے حسین

جبیں پہ زخم لگا چشمہ چشمہ خون بہاخیال آئے بہت جی میں لیک کچھ نہ کہاجھکا کے سر کے تئیں سجدے میں رہا سو رہاجفا کی تیغ تھی مرآت حق نماے حسین

جو تعزیے کی ہو مجلس بکا کرو یاروغم حسین میں چپکے رہا کرو یاروبجاے چشم بھی اب گوش وا کرو یاروکہ سرگذشت کہے ہے سر جداے حسین

حسین کشتہ ہوں تیرے ثبات پا کا ہائےحسین تو ہی تھا شائستہ اپنی جا کا ہائےترا ہی کام اٹھانا تھا اس بلا کا ہائےکیا ہے ایسا جگر کن نے تجھ سواے حسین

کہیں عزا کہیں آنکھوں کو چشمہ ساں ہیں جوشتمام خلق میں انواع ہیں گے جوش و خروشجہان قدس کے باشندگاں ہیں نیلی پوشنہیں ہیں ہم ہی فقط کشتۂ وفاے حسین

جراحتوں سے تھا یاقوت رنگ خوں جاریحسین ہائے تری اٹھ گئی سبھا ساریلڑی سی ٹوٹ گئی موتیوں کی یک باریملے ہیں خاک میں کیا لعل پارہ ہاے حسین

کیا حسین کا برباد خانماں ساراپسر حسین کا کس ظلم سے جواں ماراحسین آپ مرا بیکسانہ بے چارہحسین رونے کی جاگہ ہے ہائے ہائے حسین

حسین جان سے اپنی گیا نہ دم ماراہزار حیف کہ اس کو بصد ستم مارااسی کا دل تھا جو اس راہ میں قدم مارارضاے حق ہے جو کچھ تھی وہی رضاے حسین

حسین دل زدہ نے صبر سا کیا ہے صبرہوا ہے تشنہ لبی سے قیامت اس پر جبرہزار حیف نہ صحرا سے اٹھ کے برسا ابردریغ پانی نہ دریا کنارے پائے حسین

غضب ہوا ہے ان اسلامیان بے دیں سےحسین قتل ہوا سر جدا کیا کیں سےنکالے اس کے جنازے کو کون تزئیں سےہوا اسیر پسر جو رہا بجاے حسین

مندیں حسین کی آنکھیں کہا بلا آئیتمام فوج مخالف کی اس طرح دھائیجفا رہے ہوئے لوگوں کو کیسی دکھلائیجلائے خیمے لٹائی حرم سراے حسین

حرم کے لوگ معزز تھے موپریشاں سببرہنہ پا و سر اونٹوں پہ تھے نمایاں سببرشتہ سوختہ اس واقعے سے حیراں سبزباں پہ ہائے حسین اور لب پہ ہائے حسین

کوئی تھی نوحے کی سرگرم غم کش و ناشادکسو کے دل سے نکلتی تھی خونچکاں فریادسکینہ روتی تھی ہر لحظہ باپ کو کر یادرہے نہ رکھے کسو کے مگر منائے حسین

کوئی کہے تھی کہ اکبر کو مر نہ جانا تھانہ جنگ گاہ میں عباس کو بلانا تھاچچا کے ساتھ نہ قاسم کو آہ آنا تھاکوئی رہا نہ جسے ہم کو سونپ جائے حسین

کوئی کہے تھی کہ ہے عابدیں بہت بیماربدن تو شدت تپ سے ہے اس کا زار و نزارکرے ہے اس پہ بھی دلجوئی ہووے ہے جو خوارولے سکینہ کی خاطر کہاں سے لائے حسین

کوئی کہے تھی کہ اب اک یہی ہے نام خداسواے اس کے جو دیکھو تو کوئی بھی نہ رہازناں اسیر ہوئیں مرد ایک ایک مواکہاں حسین کے گذرے ہیں اقرباے حسین

عزیز و خویش و پسر لگ گئے کنارے سبستم سے ظلم سے یعنی گئے ہیں مارے سبغریق خون کے دریا میں ہیں بچارے سبکوئی نگاہ نہ چڑھتا تھا آشناے حسین

کوئی کہے تھی کہا ہوگا شہ نے کیا کہیےیہی ہے مصلحت اب تو کہ جور ہی سہیےگلے کو رکھ کے تہ تیغ چپکے مر رہیےنہ مقتضی ہوئی کہنے کی کچھ حیاے حسین

کوئی کہے تھی کہ ایسا نہ ہوئے گا کوئیہر ایک بات میں تھی تابعوں سے خوش گوئیسلوک اس کے کریں یاد یا کہ دلجوئیکہیں تو کیا کہیں کس منھ سے ہو ثناے حسین

سیاہ کاسہ فلک کو مگر تھا سودا کچھکہ ان نے ٹک نہ کی اس میہماں کی پروا کچھادھر کو موذی کریں زہرمار کیا کیا کچھسواے غصہ و غم اور کچھ نہ کھائے حسین

کوئی کہے تھی کہ غارت ہوا ہمارا گھرملا ہے خاک میں شہ بازگوں ہوا افسرحرم کے لوگ جو ہیں سو اسیر و گرم سفررہے تو رووے کھڑی لے کوئی عزاے حسین

بہن سے کہتی تھی رو رو کے زینب اے کلثومچلا تھا بھائی مدینے سے کیسے وقت شومشتابی راہ جو کرتا تھا قطع تھا معلومکہ سر کے مارے ہی جانا تھا مدعاے حسین

کبھی کہے تھی زمانہ الٹ گیا اک بارنہ اس چمن میں رہے کچھ نہال نے تھے خارخزاں نے لوٹے ہیں کیا پات پات کر گلزارہوا اب اوروں کی ہے یاں کہ اب ہواے حسین

کوئی کہے تھی کہ یہ بھی خدا کی باتیں ہیںکبھو کے دن بڑے ہیں یا کبھو کی راتیں ہیںنشان کھوئے وہی دشمنوں کی گھاتیں ہیںنگوں پڑا ہے سر خاک پر لواے حسین

کوئی یہ کہتی تھی وہ وقت آگیا دیکھوامام وقت گلے کو کٹا گیا دیکھوجراحت ایسی سر اوپر اٹھا گیا دیکھوکہ سر رہا نہ جو سجدے کو پھر جھکائے حسین

وہ ابتدا ہے محمدؐ گلے لگاتا تھاعلیؓ عزیز بہت رکھ کے سر چڑھاتا تھاسو کربلا میں سر اس کا سناں پہ جاتا تھادکھائی چرخ نے اس طور انتہاے حسین

یہ کہہ کے شام کی جانب ہوئے اسیر رواںقلم کی میرؔ نے بے تاب ہوکے رکھ لی زباںکہ آگے خوب نہ تھا ایسے واقعے کا بیاںشفیع حشر میں بس ہے اسے ولاے حسین


ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانیکی آل پیمبر سے جو دشمنی جانیبے آبی میں کشتی تھی شبیر کی طوفانیدریا کے کنارے پر اس کو نہ ملا پانی

کیا گوہر تر لا کر کس گھاٹ اتارا ہےلب خشک جگر ٹکڑے بے یاور و یارا ہےسب خویش و پسر بھائی ایک ایک کو مارا ہےہے قہر نہ پانی پر یہ پیاس کی طغیانی

انواع ستم گذرے بہتوں کو جواں ماراجو جاکے گھرا تنہا میداں میں عیاں ماراانصار کو یاں مارا اعوان کو واں ماراعباس کی بے جانی اصغر کی وہ نادانی

بازو نہ رہا کوئی اس درد کا کیا چارہکیا لطف ہے جینے کا کنبہ مرے جب ساراپھر دیدہ و دانستہ اپنے ہی تئیں ماراسب شہر بیابانی گھر بار کی ویرانی

یہ حشر میں احمد کو منھ کیونکے دکھائیں گےکیا سامنے حیدر کے رولے کے پھر آئیں گےدیکھیں گے جو زہرا کو کیا بات بنائیں گےاے واہ ری دیں داری اللہ ری خداخوانی

کیا شام کے لوگوں نے فتنے کو جگایا ہےاولاد کو حیدر کی سب جن نے سلایا ہےیہ جور یہودوں سے کس دور میں آیا ہےاس طور سے پیش آئے کب کفری و نصرانی

آنکھیں جو مندیں شہ کی آشوب سا اک آیااسباب گیا سارا خیمے کو جلا پایاعریاں سر و بے چادر نسواں نہ جنھیں سایہاس جمع میں یک باری کیا آئی پریشانی

غارت ہوا ناگاہے اسباب امیرانہمردم حرم شہ کے نکلے ہو فقیرانہعابد کے تئیں لائے میداں میں اسیرانہوہ یوسف ثانی تھا جیسے کہ ہو زندانی

دل سینے میں صد پارہ بے طاقت و بے چارہناموس بیاباں میں یک شہر تھے آوارہسر باپ کا نیزے پر کرتا تھا جو نظارہچاہے تھا کہ ناخن سے نوچوں سر و پیشانی

پر دست نہ تھا اس کو تھے ہاتھ رسن بستہرہ جاتا تھا سر دھن کر ناکام جگرخستہکہتا تھا پدر مر کر تو تو ہوا وارستہمجھ قیدی کی مشکل کی آساں نہیں آسانی

لاشوں کی طرف ہوکر نکلے جو اساریٰ سبخون جگر آنکھوں میں فریاد تھی زیر لبکرتی ہے نظر یک سو تو دیکھے ہے کیا زینبہے بھائی کے پیکر کو اس خاک میں غلطانی

گر خاک میں چلائی کیا جرم ہوا بھائیجو سر کو کٹا تونے ہموار کی تنہائیکر سیر چمن اپنا آفت عجب اک آئیکیا باد خزاں نے کی جنگل میں گل افشانی

نو رستہ نہال اس کے یک دست چھٹے ہیں گےاشجار سر و بن سے دیکھو تو کٹے ہیں گےگل پھولے چڑھے چڑھ کر ماٹی میں اٹے ہیں گےاس رنگ کی دیکھی ہے خاموشی و حیرانی

یاں آن کے جانا تھا ہوگی تری عزت بھیحیدر کا خلف ہے تو ہے تجھ کو امامت بھیخاطر کریں گے تیری بھیجیں گے اقامت بھیسو قوم سیہ دل نے کیا خوب کی مہمانی

کیوں تاج شہی تیرا ہے خاک برابر یوںکیوں مارے گئے تیرے سب خویش و برادر یوںکیوں سرکے تئیں رکھا لے نیزے کے اوپر یوںبرباد کیا بارے کیوں تخت سلیمانی

پرگرد بیاباں میں آوارہ ہوئے ازبسبے چارہ و بے وارث بے جا و مکاں بیکسجا بیٹھیں کہیں چھپ کر اپنا جو چلے کچھ بسکیا دیکھی ہے رسوائی کیا خاک ہے یاں چھانی

احمد نہیں ہے جس کو یہ حال دکھاویں ہمحیدر نہیں جس پاس اب روتے ہوئے جاویں ہمعباس نہیں جس کو اس وقت بلاویں ہمتو تھا سو مٹا تیرا ہنگامۂ سلطانی

ہے زندگی کچھ یہ بھی تھی موت بھلی اس سےسر کب تئیں یوں ماریں فریاد کریں کس سےاکبر کہ توقع تھی ہم سب کے تئیں جس سےبے وقت گیا مارا سو وہ نبی ثانی

قاسم کی طرف گاہے پڑتی تھی نظر جاکراس مخمصے میں شاید امداد کرے آکرسر دے گیا سو آگے تہ بات کی کچھ پاکرعشرت نہ جوانی کی اس دل زدہ نے جانی

ہم شام کو جاتے ہیں فرصت نہیں ہے ہم کوبے طاقتی سے مطلق طاقت نہیں ہے ہم کوتاکید سے چلنے کی مہلت نہیں ہے ہم کوآنکھوں سے کریں ورنہ سب تیری نگہبانی

یہ کہہ کے گئے آگے روتے ہوئے غم دیدہاب تو بھی قلم رکھ دے اے میرؔ ستم دیدہبس گریہ سے خامے کے کاغذ تو ہے نم دیدہدیوانگی کر اس جا یھاں عقل ہے دیوانی


آیا محرم غمگیں رہا کرابن علی کا ماتم رکھا کرشیون جہاں ہو رو روز جاکرآخر نبیؐ کے منھ سے حیا کر

صرف خزاں ہے باغ امامتاچھی نہیں کچھ یاں کی علامتہر گل کے سر پر ہے اک قیامتپیراہن اپنا تو بھی قبا کر

کھنچ جا علی کی اولاد کی اورنزدیک سب کے ہے یہ طرف زورسن کربلا کا ہنگامہ و شورغم سے کماں ساں ہر دم نوا کر

مٹی میں بوٹے اٹنے لگے ہیںاشجار سارے کٹنے لگے ہیںگل پھول جو ہیں چھٹنے لگے ہیںجوں ابر تو بھی رو دل لگا کر

شبیر و احمد نانا نواساجس کی نہ خاطر نے کچھ دلاساہفتم سے رکھا اس کو پیاساآخر موا وہ گردن کٹا کر

بابا نہ تھا جو چھاتی لگاتابھائی نہ تھا جو ہمت بندھاتابیٹا نہ تھا جو لاشیں اٹھاتامرنا بنا سو بیکس ہو آکر

پتھر جگر تھا اس شیشہ جاں کادیکھا اجڑنا ووں خانماں کامرنا اٹھایا بیٹے جواں کاکیا کیا گیا آہ سختی اٹھا کر

نانا کی امت برگشتہ ساریرکھتا تو کس سے امیدواریعابد رہا ہے تس کو نزاریگھر سونپ جاتا کس کو بلا کر

القصہ آنکھیں اس کی مندیں جبخیموں میں محشر برپا ہوئی تبفریاد و افغاں کرنے لگے سبمویہ کناں تھے مو سر کے وا کر

اس حال میں آ خیمہ جلایااسباب ظاہر لوٹا لٹایااس گھر کا ماتم یوں کر اٹھایایک جا کیے سب میداں میں لاکر

وہ ناتوانی زین العبا کیوہ دھوم گھر پر جور و جفا کیبے صرفہ اشیا کیا کیا لٹا کیتس پر ستم یہ اس کو دکھا کر

وے دست کجیاں وہ کج پلاسیاہل حرم کی وہ بے لباسیپھر ظالموں کی ناحق شناسیسینے جلائے باتیں سنا کر

سمجھے نہ کچھ ہم اے چرخ جاہلویسے گلے کو شمشیر قاتلبھائی کو اس کے زہر ہلاہلبیٹے کو لایا یوں تو بندھا کر

ناموس اس کے بے سیرتوں میںدولت سرا وہ بے دولتوں میںوے اہل غیرت بے غیرتوں میںکیسا رہا تو آنکھیں چھپا کر

اکبر جواں کو ہاتھوں سے کھویااصغر پیاسا گودی میں سویاآنکھیں نہ اس دم تیری تھیں گویاجس دم گیا وہ خوں میں نہا کر

نو نیزہ پانی گو چڑھ رہا تھالشکر تو اس کا پیاسا موا تھاانصاف ظالم یہ آہ کیا تھانیزہ چڑھایا سر پھر جدا کر

خاک سیہ سے ہو یوں برابروہ شہ جو سب سے رتبے میں برترطالع جو اس کے کسریٰ و قیصرخادم سکے ہو یا ہووے چاکر

عابد کو آزار اور ناتوانیپھر اس کو مطلق دانہ نہ پانینے کوئی غم خوار نے یار جانیکس سے کہے ٹک میری دوا کر

بھائی کو دیکھے رو رو سکینہجن کی نظر سے جل جائے سینہپھر ڈر سے ان کے جن کو تھا کینہرہ جائیں آنکھیں دونوں ملا کر

قاسم کی شادی ویسے رچائیلوہو سے مہندی بھر کر لگائیجوں شمع دلہن روتی بنائیآخر موا وہ چھاتی جلا کر

جو پردگی تھے بے پردہ آئےخرگاہ خیمے سارے جلائےبیٹے بھتیجے سب وو کٹائےکیا کیا گیا وہ آزار پا کر

دیکھا ترا ڈھب سب سے نرالاروکش علی کا کس کو نکالاکرلے حکومت اس کا حوالہلیجے ریاست اس سے چھنا کر

گھر کی علی کے ویسی خرابیاہل ستم کی وہ کامیابیکر فکر غافل اپنی شتابیکس کو بگاڑا کس کو بنا کر

مدت تلک کی ہرزہ درائیشہرت ہوئی پر ذلت اٹھائیبس میرؔ کب تک پیری بھی آئیاب مرثیہ ہی اکثر کہا کر


گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہابن علی کو جن نے اس گھاٹ لا اتارادریا کے خاک سر پر جو کر رہا کنارہدنیا سے خشک لب یہ سید گیا ہمارا

کر بند سب کا پانی پھر آگ آ لگائیچھاتی مسافروں کی سو رنگ سے جلائیگھٹنے کی بات یاں کی کس مرتبہ بڑھائیکیا کیا ہوئی چڑھائی کیا کیا دیا اتارا

سید کے آنکھ مندتے کچھ اور تھا زمانہعابد رہا سو اس کو موجود ہی نہ جاناناموس احمدی کی عزت نہ کی نہ ماناگھر بار لوٹ سارا ان کو کیا اساریٰ

وارث یہی رہا تھا بے چارہ دل شکستہسو درمیاں کھڑا تھا ناچار دست بستہکیا وارثی کرے وہ دل چاک سینہ خستہیاری گر و نہ یاور جس کا نہ یار و یارا

تھے لوگ سب حرم کے جوں بید سربرہنہان میں سکینہ جیسے خورشید سر برہنہتھی شہر بانو یکسر نومید سربرہنہنوحے سے جس کے جنگل تھا زلزلے میں سارا

خاک سیاہ سے تھا قوم و قبیلہ یکساںمنھ نوچتی تھی زینب کلثوم موپریشاںقاسم کی ماں بچاری اس واقعے سے حیراںمرنا تھا زندگی پر ان سب کے تیں گوارا

کہتی تھی خوب دیکھی بیٹے کی کدخدائیکیا دھوم ہورہی تھی جس دم برات آئیکون آوے ہو براتی سب مر گئے تھے بھائییا دولھا آن اترا یا مرنے کو سدھارا

شادی رچی ہے ایسی کاہے کو کوئی آگےدولھا کے دست و پا میں لوہو کی مہندی لاگےبزم عروسی میں سے ہم روتے کڑھتے بھاگےنوشہ کا گھوڑا کہیے یا اس کے تیں کنوارا

اس جمع کا تھا ازبس احوال اضطراریتھی فرط درد و غم سے ہر اک کو بے قراریمنھ آسماں کی جانب کلثوم کر پکاریکاے چرخ ہم سبھوں کا کیا جل گیا ستارہ

شہ آفتاب جو تھا اس پر زوال آیاسر پر رہا نہ اس کے ختم رسلؐ کا سایہاکبر نے چاند سا منھ وو خاک میں چھپایااصغر تھا طفل ہالہ بے وقت اس کو مارا

ہے عابدیں جو باقی بیمار و ناتواں ہےدرپیش پھر سفر ہے ساتھ اس کے کارواں ہےدلجوئی سکینہ کیا ہوسکے عیاں ہےشور اک اٹھا جو ان نے بابا کے تیں پکارا

دادا کی اور منھ کر رویا یہ کہہ کے پوتاکاے جد پاک سایہ تیرا جو سر پہ ہوتاتو جان اپنی اکبر یوں رائیگاں نہ کھوتاہم پر ستم نہ ہوتا اس طرح آشکارا

کاہے کو یہ قیامت سر پر ہمارے ہوتیپھوپھی نہ سر کو اپنے یوں پیٹ پیٹ روتیروتی بلکتی پھرتی اس طور سے نہ پوتیغلطاں نہ خاک و خوں میں ہوتا حسین پیارا

شش ماہہ طفل اصغر ایسا ستم نہ سہتایہ سہل باتیں ہم کو ہر اک نہ منھ پہ کہتاجوش و خروش سے یوں دریاے خوں نہ بہتالوہو سے اقربا کے ہوتی نہ خاک گارا

اب یانصیب میں نے سر پر بلا اٹھائیمشکل گذار اس میں گو راہ پیش آئیکریے بیاں سو کس سے بابا رہا نہ بھائییا ہے نظر خدا پر یا آسرا تمھارا

اس طرز گفتگو کر چپکا ہوا وہ مغمومناگفتہ میرؔ بہتر آگے جو کچھ ہے معلومروتا چلا جو واں سے خاطرشکستہ مظلوماحوال دیکھ اس کا مشکل ہوا گذارا


امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسیناتو سبط تھا اس کا کہ گنہگار حسینابے ہیچ لیا جی سے تجھے مار حسینایہ دیں ہے تو ہم پہنیں گے زنار حسینا

یوں اہل حرم کہتے ہیں وارث نہیں سر پرجو تیرے تلف ہوگئے آباد رہے گھررکھتے تھے توقع کہ جواں سال ہے اکبرسو کھا گئی اس کو بھی وہ تلوار حسینا

اصغر نہ ہوا تھا ابھی امید کی جاگہتھا طفل نہ تھا نیک و بد دہر سے آگہسو اس کو بھی اک تیر لگا آن کے ناگہسجاد جو باقی ہے سو بیمار حسینا

قاسم پہ کبھی اپنی نظر پڑتی تھی جاکرکہتے تھے اسے سونپے گا شہ ہم کو بلاکرسو آگے ہی تجھ سے وہ گیا سر کو کٹاکرکیا روئیے کوئی نہیں غم خوار حسینا

ہر چند کہ یاں سے وہ بہت دور مکاں تھاپر ترک وطن کرتے ہی ہنگامہ عیاں تھاتو آن اترتا تھا جہاں اور سماں تھابے ڈھب تھی تبھی چرخ کی رفتار حسینا

گریاں در و دیوار تھے ہنگام سفر کےہم چشم تھے پاؤں کے اثر دیدۂ تر کےدامن میں ترے دست زناں لوگ تھے گھر کےکچھ خوب نہ تھے پہلے ہی آثار حسینا

یاں تو تھا اگرچند بہت مردم کم سےپر بادیہ آباد ہوا تیرے قدم سےاب تو ہے جہاں واں تئیں بے فاصلہ ہم سےسرہاے بریدہ کا ہے بازار حسینا

کیا خویش و برادر ترے کیا یاور و انصارآگے ہی ترے کر گئے سب رخت سفر بارگھر لوٹ لیا سارا نہ آدم ہے نہ یک تارہو کون سیہ پوش و عزادار حسینا

وارث جو کوئی ہو تو لگے اس کے جگر کوجلنا نہ سکے دیکھ وہ اس طرح سے گھر کویوں خوش نہ کرے لوگوں کی عریانی سر کوسو غیرخدا کون ہے ستار حسینا

میدان کی سب خاک کو ہم چھان کے دیکھاتب لاشہ ترا دیر میں پہچان کے دیکھاسو جسم کو بے سر ترے اب آن کے دیکھاجی ہی میں رہی خواہش دیدار حسینا

یوں خاک ملے خوں میں ترا سامنے سوناپھر طاقت رفتار کا پاؤں میں نہ ہوناکہیے بھی جو بیٹے کے تئیں ایک ہو روناہیں اس کو تو آزار پر آزار حسینا

مرنا ہو میسر تو کریں ہم تگ و دو بھیہوں اپنوں کی باتیں تو سنی جاتی ہیں سو بھیپتھر بھی کیا دل کے تئیں ہم نے پہ تو بھیاٹھتی نہیں یہ سختی گفتار حسینا

کیا قہر ہے ہر پیر و جواں خستہ پڑا ہوبیٹا جو رہا ہو سو بندھے ہاتھ کھڑا ہوتو قتل ہوئے پر بھی زمیں میں نہ گڑا ہوہم ایسے ستم کے ہوں سزاوار حسینا

آنکھوں کے مندے تیرے ستم سخت ہوا ہےسر ننگے ہیں سب کون سا پردہ وہ رہا ہےناموس نبیؐ قید ہو لوگوں میں کھڑا ہےدے کھینچ کوئی بیچ میں دیوار حسینا

لیتے ہیں ترا نام جو سب شور و بکا کرپوچھے ہے سکینہ تجھے ہر ایک سے آکردلجوئی کرے کون اسے پاس بلاکرہم ایک مصیبت میں گرفتار حسینا

کیوں بیٹے بھتیجے سبھی یوں جاویں نہ مارےکس طور تلف ہوویں طرفدار نہ سارےتوسرپہ سلامت رہے کیونکرکے ہمارےہونا تو ہمیں دشت میں تھا خوار حسینا

یہ جور کسو مذہب و ملت میں نہ دیکھایہ طور جو دیکھا کسو صحبت میں نہ دیکھایہ حال کسو کی بھی ہزیمت میں نہ دیکھامارے بھی پڑا کرتے ہیں سردار حسینا

کس واسطے سب روے زمیں لال ہوا ہےکاہے کو ترے باغ کا یہ حال ہوا ہےکیوں خون ترا خاک سا پامال ہوا ہےتھا تو تو سبھوں کا گل دستار حسینا

کیا حال کہے یاں کے کوئی جور و جفا کاخوں بسکہ گرا خاک کے اوپر شہدا کااٹھ سیر تو کر تو بھی تنک رنگ ہوا کاہر خار و خس دشت ہے گلزار حسینا

رنج ایک جو ہووے تو ہر اک اس کو اٹھا لےجی کوئی سنبھالے کہ سکینہ کو سنبھالےتو کاشکے اب سب کے تئیں پاس بلا لےاس جینے سے ہم آئے ہیں بیزار حسینا

جوں ہم لٹے دشمن کو بھی حق یوں ہی لٹاوےپردے کے تئیں اس کے بھی یک بار اٹھاوےکاہے سے کوئی منھ کے تئیں آہ چھپاوےچھوٹا نہیں ہے گھر میں تو اک تار حسینا

نقصان ہوا تیرے تئیں جان کا عائدکچھ سمجھے نہ اس قوم سیہ رو کے عقائدپھر کاٹے لیے جاتے ہیں سر کو جو یہ شایدہے تجھ سے ابھی ان کو سروکار حسینا

کیا کہیے ترے مر گئے عزت ہے نہ آدرسر پر نہ رہا معجر و چھوٹی نہیں چادرنے یار نہ داور نہ کوئی خویش و برادرکس سے کریں ہم درد دل اظہار حسینا

میداں میں عزیزوں کے لہو دیکھے ہیں جاریکس طرح سے موقوف کریں نالہ و زاریکرتے ہیں بہت ضبط پہ جوں ابر بہاریتھمتے نہیں یہ دیدۂ خوں بار حسینا

کہتے تھے ادھر کو نہ کسی طرح پڑے راہسو آئے چلے سیدھے یہیں خواہش اللہتقدیر کا سمجھا نہ گیا ہم سے فریب آہکچھ ہووے ہی گا اس میں بھی اسرار حسینا

یہ آتش غم کس سے کہیں جا کہ بجھادےشعلے سے جو اٹھتے ہیں جگر میں سے بٹھادےیوں جلتے رہیں کب تئیں ہم سب کو جلادےکاش آکے کوئی ابر شرربار حسینا

انواع ستم ہم نے ترے پیچھے سہا ہےکچھ تو بھی تو کہہ کاہے کو منھ موند رہا ہےبے رحم کسی شخص نے کیا تجھ سے کہا ہےمت بولیو ان لوگوں سے زنہار حسینا

اس بگڑے ہوئے حال کا مشکل ہے سنورناکیا نقل کریں خوب ہے اس جینے سے مرناجن لوگوں سے تھا ننگ ہمیں بات کا کرنااب ان کو سخن ہم سے ہوا عار حسینا

سب حال کہیں تنگی وقت آہ جو رہ دےتجھ پاس رہیں فرصت اگر روز سیہ دےاب تو ہی کچھ اس باب میں سجاد سے کہہ دےہم شام کے جانے کو ہیں تیار حسینا

بے طاقتی و ضعف بدن گرچہ عیاں ہےناچار ولے ساتھ ہمارے وہ رواں ہےانصاف سے ٹک دیکھے سو وہ چشم کہاں ہےعابد کے کف پا و سر خار حسینا

ہوتا نہیں اب منھ پہ یہاں خاک ملے کچھتسکیں ہو دلوں کو جو زباں تیری ہلے کچھسرکیں نہ قدم گاہ سے اپنا جو چلے کچھجاتے ہیں تجھے چھوڑ کے ناچار حسینا

ماتم بھی ترا کریے جو فرصت دے زمانہعزت سے ترا خاک سے بن آوے اٹھاناسو ہم نے تو دل کھول کے رونا بھی نہ جاناوقفہ نہیں دیتے یہ ستمگار حسینا

یہ حرف تھے جو شور ہوا چلنے کا ناگاہپھر میرؔ وہ قیدی بھی گئے واں سے بھر اک آہہر غم زدہ کے لب پہ چلے جاتے ہوئے راہآتا تھا ہر اک گام کئی بار حسینا


فلک قتل سبط پیمبر ہے کلیہ ہنگامہ ہونا مقرر ہے کلسحر شام تیرہ سے بدتر ہے کلبلا کل مکل ہے کہ محشر ہے کل

کہاں ہوگا افسر سر شہ کہاںیہ خیمہ کہاں اور خرگہ کہاںجو کچھ ہے حشم آج سو یہ کہاںنہ حاکم نہ یاور نہ داور ہے کل

نہ ہوگا کوئی جو کرے داوریرہے گی وہ لاش اس زمیں پر پڑینگہبان ہوگا خداے قویمصیبت عجیب ایک اس پر ہے کل

نہ ہوگا کوئی یار و انصار آہنہ خویش و برادر نہ رتبہ نہ جاہمرے گا بہت ہوکے بیکس وہ شاہنہ قاسم نہ اکبر نہ اصغر ہے کل

جو بازو ہیں جاویں گے سب دے کے جاںنظر جس کے اوپر کرے سو کہاںستم ہوگا چاروں طرف سے عیاںنہ احمدؐ معاون نہ حیدر ہے کل

نہ عباس ہوگا نہ ہوگا علمکہ ہاتھ اس کا بازو سے ہوگا قلمرہیں گے جو پیچھے کسان حرمسو ان کو نہ جاگہ نہ گھر در ہے کل

سر شہ نہ ہوگا یہ اسرار ہےکسان حرم اور بازار ہےرہے گا جو سجاد بیمار ہےسو اس کو نہ دارو نہ بستر ہے کل

معزز حرم کے رہیں گے جو لوگپریشاں پھریں گے گرفتار سوگاسیری و غارت سے چالوں کو روگنہ پردہ انھوں کو نہ چادر ہے کل

جہاں جاے عبرت ہے کیا اعتبارہمیشہ نہیں ایک کا اختیارشکست شہ دیں سے ہے آشکارنہ وہ کوکبہ ہے نہ لشکر ہے کل

دم آب ہووے گا نایاب وھاںنہ کنبہ قبیلہ نہ احباب وھاںنہ دولت سرا وہ نہ اسباب وھاںنہ ساماں نہ سر ہے نہ سرور ہے کل

تن نازنیں ہوگا گھائل تمامبلا ہوگا اس ایک پر ازدحامجبیں سے بہے گا لہو لعل فامگلوے مبارک پہ خنجر ہے کل

بچے گا جو بیٹا سو ہوگا اسیرعزیز حرم سب بحال تغیربکا کرتے ہیں ہوں گے صغیر و کبیرکہاں ایسی غارت سے وہ گھر ہے کل

سکینہ کہے گی پدر کیا ہواکرے دل دہی جو گلے سے لگانہ کلثوم کے پاس ہوگی ردانہ زینب کے تارک پہ معجر ہے کل

قیامت ہے اودھر کو ہوگا گذارجدھر اس طرح کا ہوا کارزارنظر آوے گی لاش شہ ایک بارنہ ہوگا وہ ساماں نہ وہ سر ہے کل

فلک حال پر تیرے روتے ہیں آہکہاں ہوں گے یہ دیدۂ مہر و ماہجہاں ان کی آنکھوں میں ہوگا سیاہکرے سوجھتا تو تو بہتر ہے کل

نہ ہووے گا سادات میں مرد ایکمگر عابدیں زار اور زرد ایکزمیں سے اٹھے گی سیہ گرد ایکسپہر بریں تک مکدر ہے کل

سر شہ سناں پر رکھا جاوے گالٹا قافلہ بھی چلا جاوے گابس اب مت لکھے کیا لکھا جاوے گازمانہ ہی اے میرؔ دیگر ہے کل


خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماںایک قطرہ آب کو ابن علی دیتا ہے جاںبھائی بیٹے اس کے مارے جاتے ہیں کیا کیا جواںکھول چشم مہر و مہ پھر وقت ملتا ہے کہاں

آنکھیں ہیں طالع ستارے پر نہیں تجھ کو نظرہاتھ دھلوا ایسے مہماں کے سعادت جان کرہو سکے تو صرف کر مقدور اس کا پانی بھرآگیا ہے ساقی کوثر کا نورچشم یاں

جان سے جب ہاتھ دھو بیٹھے گا یہ تب کیا حصولفائدہ جو تشنہ لب دریا کنارے ہو ملولاب بھی ہے وقت مروت شاد کر روح رسولؐورنہ اس خورشید کے ڈوبے سیہ ہوگا جہاں

گھر سیاہ اپنے کریں گے اس عزا میں سب امیراس کے ماتم میں بہت سے لوگ ہوویں گے فقیرسینہ کوبی کرتے کوچوں میں پھریں گے خرد و پیرعورتیں بے تاب نکلیں گی گھروں سے موفشاں

گریہ و زاری پہ رکھیں گے خردمنداں اساسجامۂ آبی مقرر ہوگا ہر اک کا لباسناخنوں سے لوگوں کے چہرے نچیں گے بے قیاسپتھروں سے سر کو دے دے ماریں گے خرد و کلاں

جمع نسواں موپریشاں سینہ کوباں دل کباباپنے کاکل کی طرح غصے سے سب پرپیچ و تابیک دل و غم بے حد و یک جان و رنجش بے حسابایک لب سو شوروشیں نوحے ہزاروں یک زباں

نعل سینوں پر جڑیں گے اور سر پھوڑیں گے لوگکھینچیں گے کتنے الف داغ اور کتنے لیں گے جوگدیر اس ماتم سرا میں رکھیں گے اس شہ کا سوگحلقہ حلقہ لوگ ہوں گے نوحہ ہوگا درمیاں

سود اپنا دیکھ کر اقدام کر خدمت کے بیچنیک نامی سے ہو تا مشہور تو خلقت کے بیچہو شریک رنج اس کا یعنی اس محنت کے بیچورنہ کیا ہے نفع کھینچے گا جو یہ جی کا زیاں

کر مروت رنج و غم سے اس مسافر کو نکالحاصل اس دم کیا ہے جس دم قطع ہو جاویں نہالگل جھڑیں بوٹے کٹیں غنچے ہوں یکسر پائمالخاک سی اس باغ کی دیوے اڑا باد خزاں

یعنی اس کے اقربا خویش و پسر مر جائیں گےتنگ ہو ناچار سر میدان میں کٹوائیں گےناتواں سجاد ہی کو سب کی جاگہ پائیں گےسو گلے میں اس کے طوق آہنیں ہوگا گراں

یار و انصار اس کے مارے جائیں گے یک بارگیہوگی اس جمع معزز میں عجب آوارگیاترے گا گھوڑے سے وہ زخمی بصد بے چارگیہوگا سر نیزے پہ جوں خورشید حشر اس کا عیاں

قافلہ لوٹا ہوا ناچار ہوگا گرم راہڈبڈبائیں سب کی آنکھیں زیر لب فریاد و آہدل شکستہ دست بستہ جان کی حالت تباہآگے آگے عابدیں بے یاور و بے مہرباں

موند کر آنکھیں جو یہ سید گیا جی سے گذرتو فسانہ یہ رہا جب تک کہ ہے نوع بشرعاقبت سے کچھ نہیں اس کام کی تجھ کو خبرتا قیامت چشم پوشی تیری ہووے گی بیاں

ماتمی سارے کہیں گے اے فلک یہ کیا کیاکنبہ اس کا مار کر سارا اسے تنہا کیاپھر یہ ہنگامہ سر بیکس پہ کیا برپا کیاجس سے وہ جی دے گیا ہے غم کدہ یہ خاکداں

الغرض شاکی رہیں گے تعزیہ دار اماممرثیہ میں میرؔ کے تیرے گلے ہوں گے تمامکرتے شیون منھ تری جانب کریں گے خاص و عامدیکھیں گے تیری طرف سر پیٹتے پیر و جواں


تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہےدرود اے دوستاں شائستۂ اولاد حیدر ہےنیاز اے حق پرستاں لائق شبیر و شبر ہےسلام اے مومناں ایسے جو ہوں ہر لحظہ ان پر ہے

محمدؐ جس کا نانا اس کو بیکس کرکے سب ماریںپدر ساقی کوثر جس کا اس کو تشنہ لب ماریںسبب جو بخشش عالم کا اس کو بے سبب ماریںحرم کا جو ہے عزت دار سو محتاج چادر ہے

ورق الٹا فلک نے یوں کہ دم میں مٹ گیا سب گھرچنانچہ اب سخن ہر پردگی کے ہے یہی لب پرعبارت گھر جنھوں سے تھا سو یارب کیا ہوئے یکسرنہ سرور ہے نہ قاسم ہے نہ اصغر ہے نہ اکبر ہے

شہ ہر دوجہاں زیرنگیں معروف اور نامیامام عارف و عامی نبیؐ کے دین کا حامیسر اس صبح سعادت کا سناں پر لے چلے شامیکہاں حیدر کہ جو دیکھے وہی یہ نازپرور ہے

ستم جو دیکھتا تھا ہر زماں ان جورکیشاں سےکہے تھا عابد بیکس غم و اندوہ پنہاں سےکہوں امیدگاہا تجھ سے کیا حال پریشاں سےنگہ میں یاس ہر دم ہے لبوں پر شیون اکثر ہے

بہت دلجوئی امت میں تھا صرف توانائیسو وہ امت ہمارے آج کے دن خوب کام آئیکیا گھر بار غارت مار ڈالے بیٹے اور بھائیخرابی آل کی دیکھے محمدؐ آہ کیدھر ہے

جگر ٹکڑے ہوا ہے کب تلک یہ سختیاں دیکھیںنکلتی آنکھ سے یاقوت کی سی تختیاں دیکھیںتس اوپر شام کے لوگوں کی یہ بدبختیاں دیکھیںبلا لے پاس اپنے جلد ہم کو بھی تو بہتر ہے

کوئی کہتی تھی اے شہ یہ ستم کیا ہم پہ ہوتا ہےنہیں کوئی پونچھتا آنسو گروہ اک غم سے روتا ہےتو کن نیندوں سحر سے قتل گہ میں آج سوتا ہےہمارا شام کی جانب کو لے جانا مقرر ہے

مخاطب کرکے زہرا کو کوئی یوں غم سناتی تھیکہ تو اے مادر مشفق سبھوں کے ناز اٹھاتی تھیبگڑتا ٹک کسی کا حال تو ووہیں بناتی تھیتوجہ آج کیدھر ہے نہایت حال ابتر ہے

سروں کا تاج تھا جو شہ ہوا ہے خاک سے یکساںترا جو خانۂ دولت تھا سو یکسر ہوا ویراںپھریں ہیں سربرہنہ عورتیں جنگل میں سرگرداںجدھر جاتے ہیں مضطر ہو ادھر دشمن کا لشکر ہے

عجائب درہمی آئی ہے اس جمع پریشاں میںقیامت کا سا ہنگامہ ہے برپا اک بیاباں میںتری اس چین سے کیونکر لگی ہے آنکھ میداں میںبلا ہے فتنہ ہے آشوب ہے اک شور ہے شر ہے

علی کی اور روے حرف جو ہوتا تھا نسواں کاجگر پانی ہوا جاتا تھا سن کر انس اور جاں کاکہ کہتی تھیں ہوا کیا دست تیرے لطف و احساں کاسروں پر پنجۂ خورشید ہے جو سایہ گستر ہے

غبار دل نہ ہو کیونکر بلند آفت رسیدوں کانظر آتا نہیں زیر زمیں ہونا شہیدوں کاکھلے گا کس طرح دل وائے ہم محنت کشیدوں کازمیں سے آسماں تک دیکھتے ہیں تو مکدر ہے

جہاں تاریک ہے بیٹے بھتیجے مر گئے سارےرفیق ایک ایک گن کر دشمنوں نے جان سے مارےجفائیں سہتے سہتے بازماندے شاہ کے ہارےچراغ اک نیم کشتہ سا ہے باقی سو بھی مضطر ہے

کبھی لیتا ہے چھاتی کوٹ منھ کر کر مدینے کوکبھو دل تنگ ہوکر نوچ لے ہے زور سینے کورہے کیونکر نہ وہ ہموار دل کے لوہو پینے کونہ جس کا کوئی ہمدم ہے نہ یاری گر نہ یاور ہے

نہیں ان کلفتوں کی تاب لائی جاتی اب ہم سےلپٹ سی ہونٹ کو لگنے لگی ہے گرمی دم سےدرونے جل گئے شاید ہمارے آتش غم سےٹپکتا آنکھ سے آنسو جو ہے گویا کہ اخگر ہے

کسے آتا ہے باور اب جو کہیے شہ یہ ایسا تھاترا اقبال جیسا چاہیے کل تک تو ویسا تھاسحر کو کچھ نہ تھا گویا تجھے دن آج کیسا تھانہ قدر و منزلت وہ ہے نہ وہ سر ہے نہ افسر ہے

نہ مانع جو ہوئے آنے کے تیرے یاں ہوا خواہاںنہ روکا جو مزاحم ہو کسو نے کھینچ کر داماںمگر آگہ نہ تھا کوئی کہ ہر ہر گام اوپر یاںسناں ہے تیر ہے تلوار ہے برچھی ہے خنجر ہے

قیامت سختیاں دیکھیں ہوا احوال دل برہمتوقع رحم کی کس سے رکھیں برگشتہ ہے عالمنہیں کرتا مصیبت پر ہماری کوئی مژگاں نممروت یاں نہیں ہے رسم دل ہر اک کا پتھر ہے

موئے پر وارثوں کے رسم تھی آگے ترحم کینہ استخفاف و استہزا و تعریض و تبسم کیدلوں میں لہر سی آتی ہے فریاد و تظلم کیسو عادل ہی نہ یاں کوئی نہ حاکم ہے نہ داور ہے

گئے یوں دل کو خاکی کرکے وے سب ظلم کے مارےبلا کے مبتلا دشت غم و کربت کے آوارےچلے جاتے تھے رہ اور کہتے جاتے تھے یہی سارےکہ کیا چارہ ہے بے چاروں کا گریوں ہی مقدر ہے

جو کچھ اے میرؔ آگے چل کے پیش آیا انھیں مت کہہکہاں تک نوحہ و زاری کرے گا ہرگہ وبے گہیہیں سے رنگ تیرے دل کا پیدا ہے بس اب چپ رہکہ جو آنسو گرے ہے آنکھ سے یاقوت احمر ہے


محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلالقیامت رہیں گے دلوں پر ملالکیا تھا جو ماتم بہت پر کے سالسو آئے نہیں اب تلک جی بحال

بہت چھاتی کوٹی تھی لے لے کے سنگلہو رو کے لائے تھے چہروں پہ رنگجو ویسا ہی اب کے بھی غم کا ہے ڈھنگتو ہو جائے گی زندگانی وبال

الف داغ کھینچے کہیں جائیں گےکہیں نعل سینوں پہ جڑوائیں گےبہت لوہو روتے ہوئے آئیں گےبہت سینہ کوبی سے ہوں گے نڈھال

نہوں سے بہت چہرے ہوں گے فگارپھریں گے بہت روتے نالاں و زاربہت اپنا شیون کریں گے شعاراٹھیں گے سروں پر بہت خاک ڈال

عزیزوں کے احوال ہوں گے بتربرہنہ سر آویں گے اکثر نظرسیہ ہوں گے ہر کو و برزن میں گھرپریشاں کریں گی زناں سر کے بال

جواں اپنے جامے کریں گے سیاہپھریں گے گریباں پھٹے دل تباہگذارے کی رستوں میں ہوگی نہ راہرکھیں گے جو روضے گھروں سے نکال

بجاویں گے جھانجھیں اڑاویں گے خاککریں گے بہت نالۂ دردناکلہو ہوں گے دل سب جگر ہوں گے چاکرہیں گے نہوں کے نچے چہرے لال

زناں موپریشاں دوانوں کے رنگلیے سینہ کوبی کو ہاتھوں میں سنگکشادہ رخ و زندگانی سے تنگعجب خستہ حالی عجائب مقال

زباں پر حسنؓ زیر لب واحسینؓکہے ایک یہ ہوگیا کیا حسینؓاٹھے گی کوئی کہہ کے جو یاحسینؓتو سامع سروں کے تئیں لیں گے ڈال

عجب حال ہوگا جو لڑکے تمامپکاریں گے ہے دوست ہے دوست شامکہے گا کوئی غم سے گر یا امامتو ہوگا بکا مسجدوں میں کمال

دہل کی صدا چکچکی کا وہ شورقیامت سی رکھیں گے ہر چار اورجواں چھاتیاں اپنی کوٹیں گے زورمنھ اپنے کو پیٹیں گے پیرانہ سال

بہم لے کے آئیں گے ماتم کے تیںسیہ خانہ کر دیں گے عالم کے تیںبیاں کرکے روئیں گے اس غم کے تیںجو دل کو کلیجے کو لے ہے نکال

کریں گے سیہ خانہ اہل عزابناویں گے شہروں میں دشت بلاجہاں ایک ہووے گا ماتم سراگریں گے جو آنسو تو خوں کی مثال

گہ ماتم آوے گی نعش اک بنیسو ہووے گی تیروں کے مارے چھنیلگے گی غضب ہونے سینہ زنیجیوں میں نہ مرنے کا ہوگا خیال

پڑھیں گے کوئی مرثیہ میرؔ کادلوں میں کرے کام جو تیر کاپھٹے گا جگر کودک و پیر کانپٹ خونچکاں ہوگی وہ قیل و قال

ستم شامیوں کے کریں گے بیاںکہ ان میں پھنسا تھا امام زماںہوا ہائے کیا ظلم اس پر عیاںگیا تشنہ لب جی سے وہ خوش خصال

جواں اک پسر اس کا مارا گیارفیقوں کا سب زور و یارا گیاکھپی جان گھربار سارا گیاسزا اس جفا کے محمدؐ کی آل

سیہ خاک سے آپ یکساں ہواپس از قتل گھر بار ویراں ہواوہ جمع معزز پریشاں ہوارہا عابدیں سو گرفتارحال

لگی آگ خیمے جلے سربسرہوئے لوگ ناموس کے دربدرنہ وارث نہ صاحب نہ جاگہ نہ گھرملا خاک میں جاہ و مال و منال

اسیر بلا مردمان حرمپدر مردہ سجاد ننگے قدمنہ پہنچی مرض میں دوا بھی بہمنہ اپنا کوئی جو کرے مشت مال

چلا تپ میں آیا کھنچا ناتواںہوا ساتھ اہل حرم کے رواںپھر اس پر تقید چلا چل دواںقدم گرچہ رکھتا تھا اپنا سنبھال

ولے ضعف سے تن سنبھلتا نہ تھاتمنا تھی پر جی نکلتا نہ تھاکھڑا کیونکے ہو بس تو چلتا نہ تھازمانے کی ٹیڑھی نہایت ہے چال

بندھے ہاتھ جن میں شتر کی زمامنظر سوے اہل حرم گام گامگرا ناتوانی سے جو وہ امامپریشاں ہوا اس جماعت کا حال

اٹھا بی بیوں میں سے یک بار شورکہ ٹک دیکھ عابد ہماری بھی اورنہ وارث ہے تجھ بن نہ کچھ ہم میں زورستم ہے قضا گر تجھے دیوے ٹال

ہوا کشتگاں پر جو ہو کر گذارقیامت ہوئی قیدیوں سے دوچارلگی کہنے ہر ایک رو رو کے زارکہ اے شہ ہوا کیا وہ جاہ و جلال

ترے ساتھ کل تک تو اسباب تھاترا در ادب کرنے کا باب تھانہ یہ خاک یوں بستر خواب تھانہ ہوتی تھی حرف و سخن کی مجال

سو ہنگامہ ہے تیرے پیکر پر آجبلا شور ہے کچھ کٹے سر پر آجقیامت ہوئی ہے ادھر گھر پر آجکھنچے آئے ہیں ہم کھلے سر کے بال

تری پاسبانی تھی فخرملکتو خورشید تھا تیری جا تھی فلکتو پہنچا ہے کیوں خاک تیرہ تلکترے سر پہ آیا ہے کیوں یہ زوال

عزیز آہ تیرے جو تھے کٹ گئےمچی غارت ایسی کہ ہم لٹ گئےردائیں گئیں رک گئے گھٹ گئےیہ اب حال ہے دیکھیں کیا ہو مآل

ترے باغ میں کیا خزاں آگئیجہاں تک تھی سرسبزی سو کھا گئیگل و برگ جنگل میں پھیلا گئیشجر کٹ گئے چھٹ گئے سب نہال

برادر پسر رنج سے لٹ گئےرفیق اور بازو ترے کٹ گئےجگر درد و غم کھینچتے پھٹ گئےبیاں کریے کس کس کا حسن و جمال

نظر کر ہمارے بھی آشفتہ موتنک دیکھ عابد کا طوق گلوکسے ایسے جینے کی تھی آرزوترے ہجر میں کاش ہوتے وصال

ہمیں شام کا اب سفر پیش ہےتری بیکسی سے جگر ریش ہےنہ بیٹا ہے بیٹھا نہ اب خویش ہےاٹھانا ترا خاک سے ہے محال

نہ احوال کا کوئی عالم ہے یاںنہ داور نہ یاور نہ حاکم ہے یاںنہ تو ہے نہ اکبر نہ قاسم ہے یاںکریں داد دل کا سو کس سے سوال

جگرچاک دل خستہ روتے اسیریہ کہہ کر گئے سب بہ حال فقیرنہ لکھ بیکسی ان کی اب آگے میرؔہنوز ان پہ روتے ہیں دشت و جبال


تمامی حجت کی خاطر اماملگا کہنے رو کر سوے اہل شامکہ اے قوم یہ طفل اصغر بناممرے ہے مری گود میں تشنہ کام

نہ کوئی مرا یار و یاور رہانہ قاسم رہا ہے نہ اکبر رہاجسے دیکھتا ہوں سو وہ مر رہامرے اقربا تم نے مارے تمام

یہ پیمان کرتا ہوں میں تم سے ابکہ ناموس اپنے اٹھاؤں گا سبکسو اور جاؤں گا چھوڑا عربحبش ہند اپنا کروں گا مقام

نہ دعویٰ کروں گا قیامت کو بھیکیا پیشکش میں امامت کو بھیگوارا کیا سب ملامت کو بھینہ یاں کی مصیبت کا واں لوں گا نام

کس و کو کو اپنے لیے جاؤں گانبیؐ کا نواسا نہ کہلاؤں گاجو قسمت میں ہوگا سو واں کھاؤں گابدل ڈالوں گا اپنا حیدر کا نام

مسافرعرب نام رکھوں گا میںکسو سے نہ کچھ کام رکھوں گا میںقدم آگے ہر گام رکھوں گا میںکہیں کر رہوں گا سحر اپنی شام

ادھر سے ادھر ہی کروں گا سفرنہ جانے گا کوئی چلا ہے کدھرکروں گا وطن کی نہ جانب نظرکیا میں مدینے کو یاں سے سلام

رفیق اور یاور ہوئے سب تلفہوا تیغ کا میرا کنبہ علفنہ سجاد بن کوئی اب ہے خلفسو اس خستہ کو تپ رہے ہے مدام

امام اپنا گو مجھ کو مت جانو تمعلی کے نہ رتبے کو پہچانو تمخدا کو تو اے قوم ٹک مانو تمکہ بندے کے ہاتھ آوے پانی کا جام

گئے خویش و فرزند سب دردناکہوئے میرے بھائی جگر سینہ چاکرہا میں سو ہوں مستعد ہلاکگیا خاک میں مل مرا احتشام

گرے کٹ کے یک لخت لخت جگرگئے مارے یعنی عزیز و پسرلڑائی تلک جمع تھے وے گہرلڑی ٹوٹی اب وہ گیا انتظام

ستم جو کیا تم نے ہم نے سہامرے اقربا میں نہ کوئی رہاکمینوں نے کیا کیا نہ منھ پر کہارہا کچھ نہ جب پھر کیا احترام

خرابے سے بدتر ہوا میرا باغگئے پھول گل مجھ کو دکھلا کے داغکیا خوش نوا طائروں نے فراغنپٹ شور زاغاں سے ہے دھوم دھام

مروت کرو ٹک دم آب دوکہ تسکین دل ہووے اس طفل کومرا کینہ اس بے خبر سے نہ لونہ اس سے رکھو کچھ غم انتقام

سنی سب نے یہ خونچکاں گفتگوسروں کو کیا شرم سے ٹک فرومگر اک سیہ کار ہو روبرولگا کہنے کیا ہے یہ طول کلام

کہاں بات کرنے کی فرصت ہے یاںدم آب موقوف بیعت ہے یاںہے مہلت جو کچھ ہے غنیمت ہے یاںہمیں قتل و غارت کا ہے اہتمام

نہ باتیں کر اتنی لڑائی ہے ابیزید اور عمر کی دہائی ہے اببہم سب نے سوگند کھائی ہے ابکہ دیں آب تو ہم پہ کھانا حرام

اگر آب ہو جائے سارا جہاںنہ معلوم ہو کچھ زمیں کا نشاںتجھے بوند پانی نہ دیں اے جواںمگر تو اطاعت کرے لاکلام

یہ سن رکھ کہ ہم لوگ ہیں لشکرینہ جانیں ہیں دیں کو نہ پیغمبریہمیں کوئی کچھ دے کرے سروریاشارت کرے تو کریں قتل عام

بس اب گفتگو وقت فرصت نہیںلڑائی ہے یاں کوئی صحبت نہیںبہت آب پر تیری قسمت نہیںیہی منھ پہ کہنا یہی ہے پیام

روایت ہے واں اک فرنگی بھی تھاہوا گوش زد اس کے یہ ماجراسبھوں سے مخاطب ہو ان نے کہایہ ہے کون اے مردم زشت فام

کہا ایک نے برگزیدہ ہے یہمحمدؐ کا نور دودیدہ ہے یہہوا کیا جو آفت رسیدہ ہے یہعلی کا ہے فرزند خود ہے امام

وہ بولا کہ اے قوم جاہل ہو تمشریر و سیہ کار و باطل ہو تمسب اس شخص کے خوں کے مائل ہو تمکہو جس کو فرزند خیر انام

نبی زادہ ہے تشنگی سے نڈھالتمھیں اس کے جی مارنے کا خیالعتاب اس پہ کرتا ہے ہر بدخصالخطاب اس سے کرتا ہے اب ہرکدام

زہے دین و آئین و خلق و ادبعجب اے محمدپرستاں عجبسب اس کے پئے خون ہو بے سببسبب جس کے دیں کا تمھارے قیام

اہانت ہو عیسیٰ کے خر کی جہاںکریں لوہو نصرانی اپنا رواںرہے تیغ خوں خوار ہی درمیاںنہ ہو واں کا جس دم تلک انہدام

کیا ہے عمل تم نے وہ اختیارنہ جس کو کریں کافران تتاررہے گا ستم یہ بہت یادگارہوئے ہو سزاوار طعن دوام

عبث دیں کو برباد تم نے کیامحمدؐ کے منھ سے نہ کی کچھ حیاکسو سے بھی دنیا کرے ہے وفاطمع تم سیہ باطنوں کی ہے خام

ہوا واقعہ پھر سو جانیں ہیں سبستم گذرا ایسا کہاں اور کبقیامت غضب قہر رنج و تعبہوا بیکسانہ تمام اس کا کام

اٹھایا جبیں پر جو زخم سناںہوا خاک پر خون ازبس رواںجھکا پشت زیں سے امام زماںگئی چھوٹ مرکب کی کف سے لگام

غش آیا لہو جو بہت سا گیاجھکا یعنی سجدے کا مائل ہواسر و تن ہوئے اتفاقاً جدانہ چالیس دن تک ہوا التیام

مندی آنکھ شہ کی ہوا طور اورستمگار کرنے لگے جور اورگیا وہ زمانہ ہوا دور اورگیا سوے سجاد وہ ازدحام

لگا آگ خیمے جلانے لگےپدرمردہ کو کھینچ لانے لگےستائے ہوؤں کو ستانے لگےکھلے سر گئے مردمان خیام

جگر میں بھری آگ آنکھوں میں آبمرض سے بدن کے تعب کی نہ تابقدم کانپتے راہ چلنا شتاببندھے ہاتھ میں اشتروں کی زمام

نظر سوے اہل حرم دم بدمبہت باپ کے مرنے کا دل میں غممصیبت بہت جان میں تاب کمدکھ اس کا کہیں میرؔ کیا ہم غلام