یکسو یہ کہ عیش و کامرانی کرتےیا خوب طرح سے زندگانی کرتےسگ کا نہ ہوا ہمیں تو رتبہ حاصلتا کوچے کی اس کے پاسبانی کرتے
یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سےجس روز کہ ہم جائیں گے اس عالم سےاس روز کھلے گی صاف سب پر یہ باتاس بزم کی رونق تھی ہمارے دم سے
ہیں گوکہ سبھی تمھاری پیاری باتیںپر جی سے نہ جائیں گی تمھاری باتیںآنکھیں ہیں ادھر روے سخن اور طرفیاروں کی نظر میں ہیں یہ ساری باتیں
ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کےرہتے تھے گلے ہزار نیچے لب کےاس موسم گل میں میرؔ دیکھیں کیا ہوہے جان کو بے کلی نہایت اب کے
ہم میرؔ سے کہتے ہیں نہ تو رویا کرہنس کھیل کے ٹک چین سے بھی سویا کرپایا نہیں جانے کا وہ در نایابکڑھ کڑھ کے عبث جان کو مت کھویا کر
ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوبمتروک جہاں ہم ہیں وہ سب کا محبوبہم ممکن اسے وجوب کا ہے رتبہہے کچھ بھی مناسبت کا باہم اسلوب
ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیںوہ طرز کلام اس ادا کی باتیںدیکھیں قرآں میں فال غیروں کے لیےکیا ان سے کہیں یہ ہیں خدا کی باتیں
ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیرپر بات مری سن کہ نہیں بے تاثیرتسبیح بہ کف پھرنے سے کیا کام چلےمنکے کی طرح دل نہ پھرے جب تک میرؔ
ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گیپر ہم جو گلہ کریں تو خامی ہے گیبندے ہیں ترے کیونکے کریں سرتابیخدمت تیری ہمیں غلامی ہے گی
ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھےہر آن ستاتا ہے کھپاتا ہے مجھےکل میں جو کہا رنج سے حاصل میرےبولا ترا آزار خوش آتا ہے مجھے
ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذریہر شام نئی ایک مصیبت گذریپامال کدورت ہی رہا یاں دن راتیوں خاک میں ملتے مجھ کو مدت گذری
ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نےخونابہ کشی مدام کی ہے ہم نےیہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمرمر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے
ہر روز نیا ایک تماشا دیکھاہر کوچے میں سو جوان رعنا دیکھادلی تھی طلسمات کہ ہر جاگہ میرؔان آنکھوں سے ہم نے آہ کیا کیا دیکھا
ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخراسباب گیا جینے کا سارا آخرنے تاب رہی نہ صبر و یارا آخرآخر کو ہوا کام ہمارا آخر
کیسا احساں ہے خلق عالم کرناپھر عالم ہستی میں مکرم کرناتھا کار کرم ہی اے کریم مطلقناچیز کف خاک کو آدم کرنا
کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیںپھر ہم سے جنوں میں ضعف سے دم ہی نہیںاک عمر چلی گئی جفاے شب و روزاب وہ تو نہیں شام و سحر ہم ہی نہیں
کیا کیا اے عاشقی ستایا تونےکیسا کیسا ہمیں کھپایا تونےاول کے سلوک میں کہیں کا نہ رکھاآخر کو ٹھکانے ہی لگایا تونے
کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرےدیکھا یہ بھی کہ سب کی نظروں سے گرےچپ ایسے ہیں گویا کہ نہیں منھ میں زباںجب نام ترا لیں تو زباں اپنی پھرے
کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہےجو دل زدگاں پہ یہ جفا ہوتی ہےیہ کیا کہ سجود میں نہ دیکھا بگڑےاک وقت نماز بھی قضا ہوتی ہے
کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلےٹکڑے جو ہوئے جگر کے ٹوٹے نکلےچھاتی جو پھٹی ندان جلتے جلتےاس میں کے پھپھولے سارے پھوٹے نکلے
کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارےدن عمر کے میرے غم میں گذرے سارےرنج و ضعف و بلا اذیت محنتپنپا ہی نہ میں تو ان دکھوں کے مارے
کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہلپایا ہم نے اسے نہایت ہی سہلایسوں سے نہیں مزاج اپنا مانوسوحشی بے طور بد زبان و نااہل
کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاریجو اس بت سنگ دل سے کی تھی یاریبیمار بھلا کوئی بھی ہووے اس کاپرہیز کرے جس سے خدائی ساری
کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤںروؤں تو زمیں سے آسماں تک روؤںجوں ابر جہاں جہاں بھرا ہوں غم سےشائستہ ہوں رونے کا جہاں تک روؤں
کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخرخوبی نہ رہی نہ میرزائی آخررونق نہ رہی غبار خط سے منھ پراس سبزقدم نے خاک اڑائی آخر
کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیربینش نہیں رکھتے کیا جواں ہوں کیا پیراندھے ہیں جہاں کے لوگ سارے اے میرؔسوجھے نہ جسے اسے یہ کہتے ہیں بصیر
کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھےبے ہیچ ہر اک بات پہ لڑ بھی بیٹھےحاصل کہ ہماری تیری ہرگز نہ بنیسو سو طرحوں سے ہم بگڑ بھی بیٹھے
کو عمر کہ اب فکر امیری کریےبن آوے تو اندیشۂ پیری کریےآگے مرنے سے خاک ہوجے اے میرؔیعنی کہ کوئی روز فقیری کریے
کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیںان روزوں نہیں پاتے کہیں اپنے تئیںاب جی تو بہت بتنگ آیا اے کاشجاویں ہم چھوڑ کر یہیں اپنے تئیں
کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داریاٹھ جائیں گے یہ بیٹھے ہوئے یک باریکیا آنکھوں کو کھولا ہے تنک کانوں کو کھولافسانہ ہے پل مارتے مجلس ساری
کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتاکاہے کو ہمیں یہ جان بھاری ہوتادلخواہ ملاپ ہوتا تو تو ملتےاے کاشکے عشق اختیاری ہوتا
وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیےوہ بات نہیں رہی کہ چپکے رہیےجب جی ہی چلا میرؔ تو صرفہ کیا ہےبے صرفہ جو کچھ کہ منھ میں آئے کہیے
وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارےاس شوخ کی تمکیں نے تو جی ہی مارےبالوں میں چھپا منھ نہ کبھو یوں پوچھاکہہ میرؔ گئی ہے رات کیوں کر بارے
میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطرسو یاری بخت سے ہیں بار خاطرووں خاک میں آپ کو ملاکر اولآخر کو ہوئے ہیں یوں غبار خاطر
میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھوجی یوں ہی گیا وہ آ پھرا بھی نہ کبھوچپ جس کے لیے لگ گئی ایسی ان کوان نے کچھ زیر لب کہا بھی نہ کبھو
ملیے اس شخص سے جو آدم ہووےناز اس کو کمال پر بہت کم ہووےہو گرم سخن تو گرد آوے یک خلقخاموش رہے تو ایک عالم ہووے
ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہےجی تن میں رہا ہے سو وبال اپنا ہےآزار بہت کھینچے ہیں اس بن دل نےہجراں ہی شاید کہ وصال اپنا ہے
مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھامیخانے میں جوش بادہ نوشاں دیکھااک گوشۂ عافیت جہاں میں ہم نےدیکھا تو محلۂ خموشاں دیکھا
مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراکدامان بلند ابر نمط رکھ تو پاکہے عاریتی جامۂ ہستی تیراہشیار کہ اس پر نہ پڑے گرد و خاک
مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہےخاطر پہ جہاں جہاں ملال آتا ہےوے ووں گئے جان یوں چلی جاتی ہے آہرہ رہ کے ہمیں یہی خیال آتا ہے
محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگاہنگامہ سب اک لپٹ میں برہم ہوگاتکلیف بہشت کاش مجھ کو نہ کریںورنہ وہ باغ بھی جہنم ہوگا
مت مال کسی کا یار تل کر رکھناتو داؤ نہ یاں بہت سا جل کر رکھناآیا تو قمارخانۂ عشق میں توسربازی ہے یاں قدم سنبھل کر رکھنا
لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہےاک ہی تلوار میں صفائی کی ہےاس کوچے کی راہ نعش میری جاوےواں میرؔ بہت میں نے گدائی کی ہے
گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیمکہتے ہیں اسے شافی و کافی و حکیموہ غیر کرم بندے کے حق میں نہ کرےیہ بابت مکرمت ہے اللہ کریم
گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیںمرآت بدن نماے وحدت ہم ہیںبے اپنے نمود اس کی اتنی معلوممعنی محبوب ہے تو صورت ہم ہیں
گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجےیا آگے سخن اور حکایت کیجےخوب اتنی تو مجھ پر اب رعایت کیجےدل میرا مرے تئیں عنایت کیجے
طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نےآشوب بلا آنکھوں دکھائے تو نےرونے سے ترے رو سی چلی آئی ایکیہ دو دریا کہاں سے پائے تو نے
طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیروہ سر میں نشہ نہیں ہوئے ہیں اب پیراب کی روزوں میں یہ سنا ہے ہم نےمیخانے میں بیٹھے معتکف ہوکر میرؔ
شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کاآیا دل داغ کر گیا جس تس کااس سے ناگاہ ایک بجلی چمکیکیا جانیے ان نے گھر جلایا کس کا
سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیےہر حرف پہ افسوس سے سر کو دھنیےکیا کیا اب سانجھ سے کہے گا تا صبحآؤ ٹک میرؔ کی کہانی سنیے
زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایاجاے دنداں کو ہم نے خالی پایاآنکھوں کی بصارت میں تفاوت آیاپیری نے عجب سماں ہمیں دکھلایا
روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کرجاتی ہے نسیم و گل کی نکہت جوں کرپیری آندھی سی میرؔ ناگہ آئیہم برگ خزاں سے اس میں ٹھہریں کیوں کر
رنجش کی کوئی اس کی روایت نہ سنیبے صرفہ کسو وقت حکایت نہ سنیتھا میرؔ عجب فقیر صابر شاکرہم نے اس سے کبھو شکایت نہ سنی
راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیےمائل دل کو تنک قضا پر رکھیےبندوں سے تو کچھ کام نہ نکلا اے میرؔسب کچھ موقوف اب خدا پر رکھیے
دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہےدق آگئے ہیں جی سے بھی یہ زحمت ہےکہتے تھے کہ میرؔ بے وفا ہم کو نہ جانکی خوب وفا تم نے تمھیں رحمت ہے
دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیںکب آپ میں آکے کوئی پاتا ہے ہمیںہرگز وہ کمر وہم میں گذری نہ کبھورہ رہ کے یہی خیال آتا ہے ہمیں
دل غم سے ہوا گداز سارا اللہغیرت نے ہمیں عشق کی مارا اللہہے نسبت خاص تجھ سے ہر اک کے تئیںکہتے ہیں چنانچہ سب ہمارا اللہ
دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زردحسرت سے گلے لگنے کی چھاتی میں ہے دردتنہائی و بیکسی و صحراگردیآنکھوں میں تمام آب منھ پر سب گرد
دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتےہم ہو ہی چکے دکھوں کو بھرتے بھرتےاے مایۂ زندگی ستم ہے نہ اگربھر آنکھ تجھے دیکھیں نہ مرتے مرتے
دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خوابآرام خوش آتا ہے سہاتی ہے خوابمیں غم زدہ کیا اپنے دنوں کو روؤںمیری تو جہاں شب ہوئی جاتی ہے خواب
دل جان جگر آہ جلائے کیا کیادرد و غم و آزار کھنچائے کیا کیاان آنکھوں نے کی ہے ترک مردم داریدیکھیں تو ہمیں عشق دکھائے کیا کیا
دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تابیاں تجھ کو توقع ہے کہ لاتا ہے جوابواں ان نے شراب پی کے مستی میں میرؔکر کھائے بھی نامہ بر کبوتر کے کباب
درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارےغفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارےآتے ہیں نظر جاتے یہ سارے اسبابسوجھے گی کبھو بھی آہ تجھ کو پیارے
دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نےدل مرگ سے آشنا کیا ہے میں نےتھا چشمۂ آب زندگانی نزدیکپر خاک سے اس کو بھر دیا ہے میں نے
حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیراہمراز و انیس وقت و ہمدم تیراجوں عکس ترے سامنے اکثر وہ ہوجوں آئینہ منھ تکا کریں ہم تیرا
حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارےکیا پوچھتے ہو مرتے ہیں عاشق سارےمشہور ہے عشق نے لڑائی ماریاس پر کہ گئے لوگ سب اس کے مارے
حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہمحو صورت بھی ہوں میں معنی آگاہباغ عالم کو چشم کم سے مت دیکھکیا کیا ہیں رنگ یھاں بھی اللہ اللہ
حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشیرکھتی نہیں اعتبار یاری خویشیتوفیق رفیق ہو تو سب کرکے ترکہے جی میں کہ یک چند کریں درویشی
چپکے رہنا نہ میرؔ دل میں ٹھانوبولو چالو کہا ہمارا مانویک حرف نہ کہہ سکوگے وقت رفتنچلنے کو زبان کے غنیمت جانو
چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سےکیا حرف و سخن عیب ہے کچھ محرم سےآخر کو رکے رہتے جنوں ہوتا ہےاے میرؔ کوئی بات کیا کر ہم سے
جس وقت شروع یہ حکایت ہوگیرنجیدگی یک دگر نہایت ہوگیاحوال وفا کا اپنے ہرگز مجھ سےمت پوچھ کہ کہنے میں شکایت ہوگی
جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازکپاکیزہ تری طبع و خو ہے نازکبلبل نے سمجھ کے کیا تجھے نسبت دیگل سے تو ہزار پردہ تو ہے نازک
جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوسجو ہم نے کہا سو وہ نہ مانا افسوستب آنے میں دیر کی قیامت اب سوآیا نزدیک جی کا جانا افسوس
تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگااندیشۂ رزق کم کبھو بھی ہوگاکھانے کو دیا ہے آج حق نے تجھ کوکل بھی دیوے گا کل جو تو بھی ہوگا
تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نےخرقہ برسوں گلے میں ڈالا ہم نےاب آخر عمر میرؔ مے کی خاطرسجادہ گرو رکھنے نکالا ہم نے
تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کوپھر جنی کہے کوئی سیانا مجھ کوسر میرا لگا ہے نقش پا سے تیرےسجدے کو خدا کے بھی بجانا مجھ کو
تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگاشائستۂ صدستم وفا سے ہوگاکر ترک ملاقات بتاں کعبے چلان سے ہوگا سو اب خدا سے ہوگا
پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کامعراج ہے کمترین پایہ اس کاسایہ جو اسے نہ تھا یہ باعث ہے گاکل حشر کو سب پہ ہوگا سایہ اس کا
پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گاجی اور منغض اپنا کرتا ہے گاسب مل کے چلو بارے اسے سمجھاویںافسوس کہ وہ جوان مرتا ہے گا
پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہشرکھتی نہیں حد اہل وفا کی خواہشجاتے ہیں چلے جی ہی بتوں کی خاطرمعلوم نہیں کیا ہے خدا کی خواہش
پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کروہووے گی قیامت اک شتابی نہ کروعالم عالم بسے ہے خلق عالمبرباد نہ دو ابھی خرابی نہ کرو
پرپیچ بہت ہے شکن زلف سیاہوارفتہ نہ رہ اس کا دلا بے گہ و گاہدیوانگی کرنے کی جگہ بھی ٹک دیکھجا ملتی ہے یہ کوچۂ زنجیر میں راہ
بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگوغفلت کب تک کہے ہمارے لاگوچلنے سے خبر دے ہے سفیدی مو کیہونے آئی ہے صبح اب تو جاگو
بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئےکعبے کی طرف مزاج لائے نہ گئےطور مسجد کو برہمن کیا جانےیاں مدت عمر میں ہم آئے نہ گئے
اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونےشکل اپنی بگاڑ کر کڑھایا تونےجی میں نہ ترے حال نہ منھ پر کچھ رنگاپنا یہ حال کیا بنایا تونے
اے تازہ نہال عاشقی کے مالییہ تونے طرح ناز کی کیسی ڈالیسب تجھ سے جہاں بھرا ہے تس کے اوپردیکھیں ہیں کہ جاے ہے گی تیری خالی
ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہویا سیر بہار باغ و وادی کی ہوپژمردہ کلی کے رنگ اس گلشن میںغالب ہے یہی کہ نامرادی کی ہو
اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتےہر نالے سے اپنے دل خراشی کرتےآتے جو کبھو ادھر کو سنتے اس کوہم گریے سے اپنے آبپاشی کرتے
اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئییعنی کہ اجل میری شتابی آئیبکھرا جاتا ہے ناتوانی سے جیعاشق نہ ہوئے کہ اک خرابی آئی
اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میںایام جوانی کے کٹے عشرت میںپیری میں جز افسوس کیا کیا جائےیک بارہ کمی ہی آگئی طاقت میں
اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریشٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویشہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجےپھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش
اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میںاب درد لگا رہنے ہمارے دل میںکچھ حال نہیں رہا ہے دل میں اپنےکیا جانیے وہ کیا ہے تمھارے دل میں
اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیںظاہر تقویٰ کو کس سبب کرتے ہیںدکھلانے کو لوگوں کے دنوں کی ہے صلوٰۃپیش انجم نماز شب کرتے ہیں
افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئیدل جس کو دیا ان نے نہ کی دلجوئیجھنجھلا کے گلا چھری سے کاٹا آخرجھل ایسی بھی عشق میں کرے ہے کوئی
اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔمنھ دیکھو کہ شکل یار کھینچے گا میرؔبیٹھا ہے بنانے اس کی چشم مے گوںنقاش بہت خمار کھینچے گا میرؔ
اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتےکاہے کو غم و الم سے روتے رہتےسب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبالبہتر تھا یہی کہ ووہیں سوتے رہتے
اترا تھا غریبانہ کنارے آکرلب خشک موا سو نورچشم حیدرتر حلق دم آب سے اس کا نہ ہوااے آب فرات خاک تیرے سر پر
ابرو سے مہ نو نے کہاں خم ماراہونٹوں سے ترے لعل نے کب دم مارازلفوں کو تری ہم بھی پریشاں دیکھیںاک جمع کو ان دونوں نے برہم مارا
اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگےپر سوچ کے غفلت کے تئیں روؤگےکیا خواب گراں پہ میل روز و شب ہےجاگو ٹک میرؔ پھر بہت سوؤگے
اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزاراب ورد وظائف سے کیا استغفارعقدے نہ کھلے دل کے بسان تسبیحاسماے الٰہی بھی پڑھے سو سو بار
اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیںمنھ خون جگر سے دم بدم دھوتے ہیںیعنی کہ ہر اک جاے پہ جوں ابر بہارعالم عالم جہاں جہاں روتے ہیں
آب حیواں نہیں گوارا ہم کوکس گھاٹ محبت نے اتارا ہم کودریا دریا تھا شوق بوسہ لیکنجاں بخش لب یار نے مارا ہم کو
آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کوکرتے نہ سنا ہم پہ تاسف تم کومرتے ہیں ہم اور منھ چھپاتے ہو تمہم سے اب تک بھی ہے تکلف تم کو
تم تو اے مہربان انوٹھے نکلےجب آن کے پاس بیٹھے روٹھے نکلےکیا کہیے وفا ایک بھی وعدہ نہ کیایہ سچ ہے کہ تم بہت جھوٹے نکلے
اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتےکاہے کو غم الم سے روتے رہتےسب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبالبہتر تھا یہی کہ وہیں سوتے رہتے