انتخابِ کلامِ میر · میر تقی میر

Chapter 2: مثنویاں

کپی کا بچہ

تھا کپی کا بچہ اک درویش پاسباش و بود اس کی تھی مجھ دل ریش پاساس قلندر نے بہ حسب احتیاجبیچنے اس کو نکالا لاعلاجمیں نے اس کو ایک جا دلوا دیامول ٹھہرا تھا جو کچھ سو لا دیابوزنہ یا کوئی تحفہ دہر کاعزت افزا بندرابن شہر کانام منوا اس کا اب مشہور ہےشوخی اس کی ہر کہیں مذکور ہےہے ہنومانی نسب یہ باب دیدقابل وصف اس کے حضرت بوحمیدہے جو لکھو بندری مشہور اباس کی جد مادری تھی بوالعجباس کے پردادا نے ہے یہ حرف دیایک دم لابہ میں لنکا پھونک دیایک چنچل ہے بلاے روزگارہاتھ رہ جائے تو پا سرگرم کارہے تو بچہ سا ولیکن دور ہےپست اس کی جست کا لنگور ہےکیا کوئی انداز شوخی کا کہےہو معلق زن تو آدم تک رہےاچپلاہٹ اس کی سب معلوم ہےمعرکوں میں چوک کے اک دھوم ہےہوتے ہیں قراد کب دیکھے سے سیراچپلی اس کی رہے ہے یاد دیرحرکتیں دلکش ہیں سب انداز خوبپر ضروری ہے کہ ہاتھوں میں ہو چوبورنہ بوٹا سا جو قد ہے جھاڑ ہےکٹکھنا نچنا ہے کپڑے پھاڑ ہےلونڈی باندی سب کو اس سے احترازڈر سے اکثر بیبیوں کے دل گدازیہ جو چاہے چھوٹے تو تدبیر کیارسی ڈوری لوہے کی زنجیر کیاربط اسے جس سے ہے اس سے ربط ہےمار کھانے پر بھی اس کو ضبط ہےجب وہ چھوٹے شور و ہنگامے رہیںاب تو چھوٹا اب تو چھوٹا سب کہیںچھوٹتا ہے گر پڑے کوئی بجوگبندروں سے ناچتے پھرتے ہیں لوگہوتے ہیں اس جنس میں بھی ذی خردآدم و حیواں میں یہ برزخ ہیں بدطنز ہے یہ بات اگرچہ ہے کہیجو کرے انسان تو بوزینہ بھیلیکن اس جاگہ تو صادق ہے یہ قولسارے اس کے آدمی کے سے ہیں ڈولہے تماشا آئینے کے روبروعکس سے اپنے اسے ہے گفتگودیکھنا جھک جھک کے اس کا ہو نہ ضبطآرسی بندر کا ہے مشہور ربطگاہ بوسہ گاہ غرغر بولناگاہ آنکھیں موندنا گہ کھولناآگے تھا اک بوزنہ شطرنج بازچال سے اس کی نکلتا امتیازکہنہ قرادوں سے ہم کو یاد ہےیہ اسی فتان کا داماد ہےجان دیں بندر اگر دیکھیں چنےرہتے ہیں چانول پڑے اس کے کنےآنکھ کب دوڑے ہے اس کی ہر طرفہے یہ اپنے نوع کا فخر و شرفالغرض منوا عبارت جاں سے ہےنام اس دلکش کا منوا یاں سے ہےخوش رہے منوا تو خوش احوال میرؔورنہ آدم ہے جوانی میں بھی پیردہر میں یارب نہ یہ محزوں رہےجس کا منوا ہے اسے میموں رہے

موہنی بلی

ایک بلی موہنی تھا اس کا نامان نے میرے گھر کیا آکر قیامایک دو سے ہوگئی الفت گزیںکم بہت جانے لگی اٹھ کر کہیںربط پھر پیدا کیا میرے بھی ساتھدیکھتی رہنے لگی میرا ہی ہاتھآئے ہے مجھ پاس یہ اٹھ کر سویرگربۂ زرد فلک نکلے ہے دیریعنی وقت گرگ و میش آئے ہے پاسپھر مرا پہروں کیا ہے ان نے پاسچھیچھڑا ٹکڑا جو کچھ پایا کرےفقر میرا دیکھ کر کھایا کرےبختوں سے ٹوٹا ہے چھینکا بھی اگران نے اودھر کی نہیں مطلق نظردخل کیا ہے جھانکے یہ چھینکے کی اورٹکڑے کو دیکھے نہ گو بھوکی ہو زوراس مروت پیشہ سے کیا ہے گلہخوف سے آپھی گہے چوہا ملاایک بلی کچھ گئی تھی آکے چکھیہ لڑی تو منھ پہ پنجہ اپنے رکھبرسوں یاد آوے گی یہ پاکیزہ خوآگے آئی ہی نہیں چلتے کبھولانگھی ہو جو گھر سے جاتے تد رہوںچلتے چھینکا ہو کبھو تو کچھ کہوںتھی جو ظاہر جوں کڑاہی تیرہ رنگپر تماشا کردنی تھے اس کے ڈھنگشوق میں ہمسائیاں اس کے رہیںجو گئی بھی ٹک تو مانگے سے کہیںپھرنے کو تو پھرتی کیا دلی نہ تھیپر جلے پاؤں کی یہ بلی نہ تھیرفتہ رفتہ کوٹھوں پر جانے لگیپہروں پہروں میں یہ پھر آنے لگیحاملہ ہوکر کئی بچے دیےایک دو بھی سو نہ ان میں سے جیےمتصل ایسا ہوا جو اتفاقمرگ ان بچوں کی گذری سب پہ شاقحفظ اس کی کوکھ کا لازم ہواجھاڑے پھونکے کا ہر اک عازم ہوانذریں مانیں نقش لائے ڈھونڈھ کرنیل کے ڈوروں میں باندھے پیٹ پرچھیچھڑوں میں بعضوں نے افسوں لکھےبعضوں نے تعویذ لے کر خوں لکھےبی بلائی سے بہت کی التجاگربۂ محراب سے چاہی دعاگوشت کی چیلوں کو پھینکیں بوٹیاںماش کی موٹی پکائیں روٹیاںلڑکیاں بٹھلائیاں کھاٹوں تلےاس طرح جوں دبکی بلی کم ہلےدیتے ٹکڑا منھ کو ہر اک کھولتےاور بولی بلیوں کی بولتےصدقے اترے چھیچھڑے جو ڈھیر ڈھیرگربۂ لاوہ نے کھائے ہو کے سیرکیں مناجاتیں دل شب لاتعدگربۂ زاہد سے بھی چاہی مددبوہریرہ کے تئیں مانا بہتبلیوں کو بھی دیا کھانا بہتمدح جس بلی کی کرتا تھا عبیدتھی دعاگوئی میں وہ بے مکر و شیدخواجہ عصمت کرتے تھے طاعت جہاںایک بلی بیٹھی تھی آکر وہاںصبح دم ہوتی وہی گرم سجودگہ قیام اس کے تئیں تھا گہ قعودچاہی ہمت اس سے اٹھ کر ہر سحرکچھ تو باطن نے کیا اس کے اثرپانچ بچے اس نے اس نوبت دیےبارے سب وے قدرت حق سے جیےکیوں نہ ایسی ہووے امداد سترگبی بلائی بوہریرہ سب بزرگاک توجہ رکھے تھے ظاہر کی اورآرزو بر لائے یہ باطن کی زوراپنی ماں کے رات دن سینے لگےپانچوں بچے دودھ کچھ پینے لگےدودھ کتنا جو کہ بس ہو سب کے تیںمیں بھی منگوانے لگا کچھ شب کے تیںدودھ پی کر گائے بکری کا چلےروز و شب لوگوں کی آنکھوں کے تلےدیر میں میں نے جو یہ ٹک غور کیبلیاں پانچوں ہیں یہ اک طور کیدو مہینے تک بہت تھی احتیاطکتے بلی سب سے موقوف اختلاطکوئی کتا آگیا ایدھر اگرلوگ دوڑے شیر سے منھ پھاڑ کردر سے نکلیں سب ہوئے بازی کے گرمزرد زرد ان کی دمیں منھ نرم نرملچھے ریشم کے سے چندیں رنگ خالکچھ سفید و کچھ سیہ کچھ زرد و لالآ نکلتی تھیں جدھر یہ پانچ چاروہ طرف ہوجاتی تھی باغ و بہارایک عالم عاشق و بے تاب تھاان کی خاطر بے خور و بے خواب تھالے گئے ایک ایک کر سب تین تومنی مانی رہ گئیں مجھ پاس دومنی کی پھر ایک صاحب نے پسندتھی بھی نازک ایسی ہی طالع بلندمانی کچھ بھاری تھی نکلی بردباررہ گئی یاں فقر کو کر اختیاربوریے پر میرے اس کی خواب گاہدل سے میرے خاص اس کو ایک راہمیں نہ ہوں تو راہ دیکھے کچھ نہ کھائےجان پاوے سن مری آواز پاےسب سے آگے آن پہنچے در تلکدیکھے میرے پاؤں سے لے سر تلکآنکھ سے معلوم ہو مشتاق ہےبلی یا اعجوبۂ آفاق ہےبلیاں ہوتی ہیں اچھی ہر کہیںیہ تماشا سا ہے بلی تو نہیںگردرو باندھے تو چہرہ حور کاچاندنی میں ہو تو بکا نور کاگرم شوخی ہو اگر یہ مثل برقبجلی میں اس میں نہ کچھ کرسکیے فرقیا پری اس پردے میں ہے جلوہ گراٹھتی اودھر سے نہیں ہرگز نظرکیسی ہی بلی ولایت کی ہو زورخوب دیکھو تو ہے اس کے صدقے حورربط ہے اپنے بھی جی کو اس کے ساتھبیٹھے ہے تو پیٹھ پر میرا ہے ہاتھایک دن جاکر کہیں ٹک سو گئیمانی مانی سارے گھر میں ہوگئیبلی کا ہوتا نہیں اسلوب یہہے کبودی چشم یک محبوب یہدیکھے جس دم یک ذرا کوئی اس کو گھورچشم شور آفتاب اس دم ہو کورحسن کیا کیا مانی کے کریے بیاںسو جہاں جب تک یہ ہووے درمیاںخوبی منی کی نہ کوئی کہہ سکےدیکھے اس کو تو نہ اس بن رہ سکےداغ گلزاری سے اس کے تازہ باغاس زمان تیرہ کی چشم و چراغکیا دماغ اعلیٰ طبیعت کیا نفیسکیا مصاحب بے بدل کیسی جلیسیہ نفاست یہ لطافت یہ تمیزآنکھ دوڑے ہی نہ ہو کیسی ہی چیزاس کو گر کعبے میں یہ ہو شوخ و چستہے کبوتر مارنا واں کا درستچوہا چڑیاں ان نے کچھ کھایا نہیںحج کو جانا اس کے تیں آیا نہیںحب ہرہ جوکہ ہے ایمان میںہے اسی بلی کی شاید شان میںتھا بہت منی کا جننا آرزوسو جنی دو بلیاں ہیں ماہ روخال ہیں ان پر بھی ماں کے سے عیاںپر وہ خوبی اور محبوبی کہاںموہنی اور سوہنی ہے ان کا نامپھرتی ہیں پھندنا سی دونوں صبح و شامنیلے دھاگے گردنوں میں ہیں پڑےلوگ آنکھوں میں ہی رہتے ہیں کھڑےحفظ ابھی بلوں سے ان کا ہے ضروررہیو ان دونوں سے چشم شور دوردیکھے ان کی اور جو ٹک کرکے خشمکاڑھ کر دیں بلیوں کو اس کی چشمقصہ کوتہ موہنی آگے موئییک قیامت جان پر اس بن ہوئیصبر بن چارہ نہ تھا آخر کیابلی ماروں میں اسے گڑوا دیاشاد وہ جس کے رہیں قائم مقاموائے اس پر جس کسو کا لیں نہ نام

مورنامہ

دشت سے بستی میں آیا ایک مورزور تھا واں حسن کا رانی کے شوراڑ کے گھر راجا کے پہنچا بے قراردیکھ اس کو ہوگیا حیران کارجاذبہ تھا حسن کا اس کے کمالجانور بھی ہوگیا محو جمالتھی نگہ رخسار پر حیرت کے ساتھچشم تھی رفتار پر الفت کے ساتھگر خرام ناز سے جی لے گئیخوش نگاہی جان تازہ دے گئیخستۂ انداز اس کا ہر بشررفتہ اس کے ناز کا ہر جانوردیکھتا تھا سیر میں جلوہ گریجا نشینہ میں جو بیٹھی وہ پریروبرو جاکر ہوا وہ بھی کھڑاٹک ٹھہر کر مضطرب ہو گر پڑااضطراب عشق نے تاثیر کیدل دہی کرنے اٹھی دل گیر کیپیار سے کہنے لگی مت ہو اداسپاس رہ میرے کروں گی میں بھی پاستو ہے وحشی اس قدر مانوس ہےانس انساں کو نہ ہو افسوس ہےہے مزاج اپنے پرائے سے نفوربھاگوں ہوں مانند وحشی سب سے دورپاس رہنے سے ترے ہے دل خوشیہے بلا اس بال و پر میں دلکشیاس کشش کی تھی نہ مجھ کو کچھ خبرہوش اڑا کر لے گئی یہ مشت پراب تو دل بھی لگ گیا ہے تیرے ساتھیک بیک سب سے اٹھایا میں نے ہاتھپاس رہ کر پاس ظاہر ہے ضرورآوے راجا گھر میں تو پھر دور دوروہ مبادا ربط سے ہو بدگماںدوستی ہو جاوے تیری خصم جاںرنگ رنگ اس عشق کے ہیں گے سلوکرنگ ہردم بدلے ہے کین ملوکرنگ صحبت دیکھ کر رنگ اور لائےاس کو چسپاں اختلاطی خوش نہ آئےدل ہی راجا کا جو بدبر ہو تو پھرترک ہی کرنا پڑے دونوں کو سردل بلاے بد ہے جو چاہے کرےکچھ نہیں پروا اسے کوئی مرےدل نہ ہوتا تو نہ جاتی دل کی تابدل بدن میں ایک ہے خانہ خرابدل سے کیسے کیسے گھر ویراں ہوئےلوگ کیا کیا بے سر و ساماں ہوئےدل اچٹے شہ فقیری کر گئےجنگلوں میں شہر سے جا مر گئےمرغ گلشن دل لگی آئے بگیربے کلی سے اس کے ظاہر ہیں اسیردل نہ ہوتا کاشکے اجسام میںکرنی تھی ایسی عطا اجرام میںکرتے تا معلوم قدر عافیتہوتی اس عالم کی بھی ایسی ہی گتمختلط رہنے سے بعد ازچند روزشور بدنامی اٹھا اک سینہ سوزکھل گئی غماز لوگوں کی زباںسب پہ ظاہر ہوگیا راز نہاںکان راجا کے بھرے دشمن ہوابدگمان و بدبر و بدظن ہواکار ظن بد کھنچا اک طول کوسمجھا نامعقول وہ معقول کواب یوں ہی کرتا ہے ظاہرداریاںورنہ ہیں کینہ کی باتیں ساریاںدھوم رسوائی کی ہوئی اقران میںکسر شاں اس کی ہوئی اعیان میںآنا جانا گھر میں کا اب ہوچکاپاس ربط و رابطہ سب ہوچکابدگمانی سے ہوا ہے کینہ ورزہے نمودار آنکھ سے خصمی کی طرزگھر میں لاتے ہیں کبھو تو گھیر کربات کہتا ہے تو منھ کو پھیر کرراہ میں ہے یا کبھو پھر جائے ہےپھر گیا تو دیر میں پھر آئے ہےچار سو چھوٹے ہوئے جاسوس ہیںہم دگر کے درپئے ناموس ہیںمصلحت ہے دور رہ ٹک آج کلاس میں شاید مٹ بھی جاوے کل مکلسر پہ لایا ہے بلا آفت کا ربطجی بچے ہیں شوق کا گر ہووے ضبطدل لگی تو اک خدا کا ہے غضباس سے پھر یارب ہے لب پر روز و شبدل گرفتہ دل شکستہ دل زدہان نے مارے مرد کیا کارآمدہبے دلاں بے دل رہے تو خوب ہےتن بدن میں ایسے اک آشوب ہےدل کے جائے ہی ملے ہے امتیازاہل دل کہتے ہیں جو ہو دل گدازدل بلاے جاں ہے اے طاؤس ہائےاس کے پہلو سے ہے لب پر ہائے وائےہے گی یہ دل بستگی خانہ خرابدربدر پھرنے کا کر دیوے ہے بابخانہ ویرانی نہیں میری ہی ابہے خرابی جہاں کا دل سبباپنے تو گھر بار کا ہے ہی فسوسگھر ترا بھی ویسے ہے بار خروسکیا اڑایا ہے تجھے اے مشت پرخاک سے لے کر گیا افلاک پرواں سے پٹکے دیکھیے کیونکر تجھےساتھ آوارہ کرے کیدھر مجھےسن کھڑا طاؤس سب سنتا رہادرد و غم سے دیر سر دھنتا رہابے زبانی تھی نہ کچھ کہنا بناچپکے ہی آزردہ دل رہنا بناحزن کے ساتھ اک حزیں آواز کیگرتے پڑتے دوقدم پرواز کیدیر سر دیوار سے مارا کیاصبر سے ناچار پھر چارہ کیاپاس سے کچھ دور ہی رہنے لگاجور ہجر یار کے سہنے لگابے دل و آزردہ گاہے ہے کھڑاسر جھکائے گاہ یک سو ہے پڑامضطرب ہو شور کرتا ہے گہےدل پہ رکھ دیتا ہے سر تا ٹک رہےدور دور اس سے پھرے الفت کے ساتھپھر کے دیکھے اس طرف حسرت کے ساتھآوے راجا یا نہ آوے یہ گیاصبر کرنا اس کو اس بن ہے بنانوشکیبی دل لگی پر ہے عذابجی ملے ڈالے ہیں غم کے پیچ و تابعشق و بے صبری بہت مشکل ہے کاممرگ عاشق کا ہے یہ بھی ایک نامجی کے گھبرائے ہوا تھا پرفشاںطاقت پرواز اس میں تھی کہاںفرط دل تنگی سے ہوکر دل گرااک پرافشانی میں سر کے بل گراپاؤں میں نے زور تھا نے سر میں شورناتواں طاؤس تھا مانند موردوڑی محبوبہ یہ اس کا حال دیکھرہ سکی نہ عاشقانہ چال دیکھاشک ریزاں سر پہ اس کے رو رکھاخوف طعن خلق کا یک سو رکھاہو تسلی جاتے بارے رہ گیاجان کا بھی ڈر کنارے رہ گیاچشم وا ہونے لگی اس زار سےکی نظر رانی کے منھ پر پیار سےسب لگے کہنے کہ اب تو یہ جیاجان رفتہ نے منھ ایدھر پھر کیاہوگئی چتون بھی اس کی اب درستپانی چھڑکو تاکہ ہووے گرم و چستچھرچھراوے پانی چھڑکے بال و پراڑچلا رانی کا کہنا یاد کرکی نظر جاتے ادھر الفت بھریالفت ایسی جوکہ ہو حسرت بھریاس نظر سے رانی نے بھی رو دیاہوش سر سے صبر دل سے کھو دیاروتے روتے خواب گہ میں جا گریپھر نہ اس گھر میں کوئی دن آ پھرییہ گیا ہو پرفشاں دیوار پربیٹھا لیکن منھ ادھر سے پھیر کرلوگ تا جانیں کہ یہ بھی ہے اداسپھر نہ آوے شاید اب رانی کے پاسواں سے اڑ کر ایک کوٹھے پر گیاگم ہوا واں ایسا جیسے مر گیایاں کھلی نمام لوگوں کی زباںکہتے تھے راجا سے جا کیا کیا نہاںاختلاط ان دونوں کا ظاہر کیااس حقیقت کا اسے ماہر کیاوہ تو کافر آگے ہی تھا سنگ دلاور ان کے کہنے سے ہو تنگ دلکہہ اٹھا میں فکر میں ہوں آج کلصاف دیتا ہوں مٹا سارا خللجان سے ماروں گا میں اس مور کوپھر نہ سنیے گا کبھی اس شور کوہے یہی ہنگامہ آرا جانورقطع کے شایاں تھے اس کے بال و پرتا نہ آتا شہر میں یہ دشت سےباز رہتا ایسے سیر و گشت سےیوز کاش اس کو کوئی کرتا شکارشیربچہ اس کو رکھتا کوئی مارچشم سے ہردم پڑا ٹپکے ہے زہراس کی چتون ہے بلاے شہر و دہرکج خرامی کا ہے فتنہ پیش خیزچلنا اس کا جوں چلے شمشیر تیزمت اسے حیوان صاحب جانیوبدبلا اس کو کہیں تو مانیورقص سے ہنگامہ پردازی کرےپرفشاں ہو تو بداندازی کرےبولے تو آواز اس کی دل خراشکرم خوار و مار خوار و بدمعاشرانی تھی ناقص جو خود مائل ہوئیمفت لعن و طعن کی قائل ہوئیبن ملے اس کے رہے ہے وہ اداسمیں کھڑا رہنے نہ دوں اپنے تو پاسگھر میں آکر ان نے جو کی بود و باشتھی اسے خانہ خرابی کی تلاشرانی نے جو منھ لگایا سر چڑھاقدر سے مقدار سے آگے بڑھاپاؤں پھیلا گھر کا مالک ہوگیااس روش سے اپنا ہالک ہوگیااب نہ کریے اس کے تیں جب تک ہلاکگھر نہیں ہوتا نظر آتا ہے پاکاس میں گو رانی بھی جاوے جان سےوہ بھی خوش ہو میری کسر شان سےفکر میں طاؤس کی راجا رہامنھ پہ رانی کے نہ ہرگز کچھ کہاکی تسلی اور تا کھاکر فریبہو شکیبا کوئی دن یہ ناشکیبقصہ کوتہ اڑ گیا یاں سے جو مورمنھ چھپا ایسا گیا جیسے کہ چورکس طرف جاتا رہا ہو پرفشاںکچھ نہ پیدا پھر ہوا اس کا نشاںکچھ خبر اس کی نہیں کیدھر گیایاں کہیں جیتا ہے وہ یا مر گیایہ تاسف رانی کا جی کھا گیادل جو اس کا گل تھا سو مرجھا گیاکس سے پوچھے کس کنے جاکر کہےجوں خزاں کا پھول مرجھائی رہےکیا بہار عشق کے دیکھے ہے رنگزرد اس کا ہے گل تر دل ہے تنگآنکھیں اس کی دو گل عنبر عجبسو خبر کی راہ پر وا روز و شبآوے جو کوئی منھ اس کا تک رہےدیکھیں حیرانی اسے کب تک رہےوہ تو گم گشتہ کہیں پیدا نہیںیاں تسلی یہ دل شیدا نہیںبے کلی اس گل کو رہتی ہے کمالرنگ اڑے ہے مور کا کرتے خیالہوش سر سے جائے ہے پرواز کرہوتی ہے بے خود حزیں آواز کرغش پڑی رہتی ہے اس اوسیر میںپھر بحال آتی ہے ٹک تو دیر میںدل کی حالت ہے وہی اندوہ میںوہم لے جاتا ہے دشت و کوہ میںکہتی رہتی تھی کہ اے باد سحرلا کبھو طاؤس کی مجھ کو خبرجی اسے ڈھونڈے ہے پر پاتی نہیںاڑتی سی بھی یاں خبر آتی نہیںدل انھیں دو طرحوں میں ٹھہرے صبایا اسے لا یا مجھے واں لے کے جاناقبول عشق ہوں میں تو ملولاس طرف آتی ہے گر باد قبولسن کے میرا حال ہوجاتی ہے سنگرم رفتن ہوتی ہے پھر سر کو دھنکام اس سے بھی نکلتا کچھ نہیںمجھ کو وہ ناکام چھوڑے ہے یہیںآئے ہے جو اس طرف باد دبورکچھ کچھ اس سے بھی کہا ہے بالضروران غموں کا کچھ نہ دے کر وہ جوابسر جھکائے یاں سے نکلے ہے شتابباد صرصر سے بھی درد دل کہاسرسری سا ان نے بھی کچھ سن لیاجھکڑ آیا اس سے بھی تھی گفتگوپھر نہ ایدھر رو کیا ان نے کبھولگ چلے ہے مجھ سے گر رنگ ہواگرم ہوکر اس سے میں کیا کیا کہاکہتے کہتے میں ہوئی یوں ہی سبککی نہ ان باؤں نے تسکیں دل کی ٹکبے قراری دل کی میرے ہے وہیدرہمی ہے حال کی سو ہے یہیصبر ہوسکتا نہیں میں کیا کروںکب تلک بے طاقتی سے دن بھروںجی تو ٹک آتے ہی آتے رک گیاتن بدن آتش سے غم کی پھک گیابے قراری سے کہوں کیا اے صباجو نہ کہنا تھا سو تجھ سے میں کہاصبح کو جو آنکلتی ہے نسیماس سے بھی ہے درمیاں حال سقیموہ بھی کچھ کرتی نہیں دل کی دواسن کے سب ہوجاتی ہے ووہیں ہواجذب عشق اس جانور کا ہے بلامجھ کو برگ خشک سا دے ہے اڑاجی کھنچا جاتا ہے میرا اس طرفکر رہے گا جاذبہ اس کا تلفآپ کو کھویا گیا پر مجھ کو بھیکر گیا کھویا گیا سا چلتے ہیرات دن آرام اب مجھ کو نہیںخواب و خور سے کام اب مجھ کو نہیںچت چڑھے گلہاے بال و پر ہیں ابچپ کہ بلبل میں ہوں نالاں روز و شبدرہمی حال طاؤس اب سنوعشق ہے تم کو بھی تو ٹک سر دھنویاں سے وہ واسوختہ اڑتا گیادیر اس کا منھ ادھر مڑتا گیاپھر نہ ظاہر کچھ ہوا کیدھر گیاوادی آبادی کہیں جا مر گیاالغرض اک بن میں جا پنہاں رہادل جو آگے ہی گیا تھا یاں رہاآب و دانے کی نہ کرتا تھا تلاشدل ہی کے غم سے کیا کرتا معاشسرنگوں افتادہ رہتا دیر دیرغم سے محبوبہ کے ہی ہوتا تھا سیرحیرتی عشق واں رہتا رہےآتی جاتی باؤ سے کہتا رہےجائے تو رانی سے کہیو واشگافپھیکے خط کے حرف سا مٹتا ہوں صافکیا لکھوں میں تو نہیں دست و قلمپھر نہیں ہے محرم آلام و غماب تلک جیتا تو ہوں پر زندگیدور تجھ سے ہوگئی شرمندگیآنکھیں رہتی ہیں لگی تیری ہی اورکرتا ہوں اندھا سا میں فریاد و شورشور و فریاد آہ دونوں بے اثرتجھ تلک پہنچیں تو دے مجھ کو خبرصبر ٹک کرتا نہیں میں ناصبوراب کھنچا ہے کام بیتابی کا دورباؤ اودھر کی جو آتی ہے کبھومنھ ادھر کرتی نہیں بیگانہ خویاں سے جز صرصر کوئی جاتا نہیںسرسری بھی پھر ادھر آتا نہیںاڑ کے پہنچوں کس طرح تیرے کنےسست بال و پر دل و جاں انمنےشوق ہردم کھینچے ہے اودھر مجھےہے نصیبوں میں تو دیکھوں گا تجھےکوئی جھکڑ آنکلتا ہے کبھودیر اس سے رہتی ہے یہ گفتگوکہیو جو ہو اس طرف تیرا گذرمور اک جنگل میں کرتا تھا بسرسر میں اس کے عشق کا سا شور ہےمضطرب دن رات نالاں زور ہےزارنالی سے طیور اس دشت کےترک کرنے پر ہیں سیر و گشت کےشور سے ہوتا ہے جب وہ نالہ کشطائر اس جنگل کے کر جاتے ہیں غشاب کوئی اس راہ سے جاتا نہیںجانکلتا ہے تو پھر آتا نہیںصبح اس کے نالوں سے ہے دھوم دھامطائروں کا شام تک ہے ازدحامشور کرتے کرتے پھاٹا ہے گلااب جو نالے کرتا ہے سو تلملاپاؤں پر پھیلاکے جب کھینچے ہے دمآہوان دشت کر جاتے ہیں رمروکے درندہ کسو کے کب رکےخاک کے نیچے گزندہ جا چھپےشور الحاصل ہے اس کا چار سوشہر و دہ میں اب یہی ہے گفتگوراو راجا سب کے ہاں مذکور ہےمور کا سررفتہ پر مشہور ہےرفتہ رفتہ یہ خبر یاں آگئیرانی بھی سن گن کہیں سے پا گئیآئی دل میں فکر جاں طاؤس کیکشتہ مردہ ہوگئی افسوس کیکین راجا کا خیال آیا اسےکیا کہوں کیا کیا ملال آیا اسےگر پڑی غش کر گئی مرجھا گئیناگہاں مانند گل کمھلا گئیکیا خبر آئی کہ وہ تھی بے خبرچوٹ کیسی پڑگئی تھی جان پربات منھ سے کچھ نکلتی ہی نہ تھیدیر گذری تھی سنبھلتی ہی نہ تھیکھل گئیں آنکھیں جو دل پر تھا بہتکیا کرے ہاتھوں تلے رکھا بہتہر طرف کی حسرت آلودہ نگاہلب پہ آئی ناتواں سینے سے آہآہ کر پوچھا کہ راجا ہیں کہاںان کے کینے سے مجھے ہے خوف جاںیہ خبر ان کو نہ پہنچی ہووے کاشوے تو جی ماریں گے اس کا کر تلاشبدگمانی کا کھنچا ہے دور کاممور کا لیتا نہیں کینے سے ناممجھ پہ بھی اس جرم سے آیا غضبکشت و خوں کے سب ہیں درپے اس سببیہ لگائی لاگ سے لوگوں نے آگگھر جلاتی رہتی ہے آگے سے لاگدیکھیے کیا درمیاں آوے سلوکآگ ہے بھڑکی ہوئی کین ملوکلوگوں کی پھر اشتعالک دم بدمقہر ہے بیداد ہے ظلم و ستمآج کل سے یہ تو آئی ہے خبرجب نہ تب ہیں گوش راجا کے ادھرکلول ایسے جان پر سے کیا ٹلےکیا عجب آنکھیں ملے پاؤں تلےہم کو پاتا ہے چھری پاتا نہیںکب پئے خوں ریز یاں آتا نہیںدشمنی کی بات ہی کچھ اور ہےنے ترحم ہے نہ مطلق غور ہےجانور کا انس کچھ ثابت نہیںانس انساں کی سی یہ تہمت نہیںغیرت اپنی بھی نہیں ہے مقتضیجیتی رہتی عشق کی ہو تہمتیزندگانی کیا ہے جب غیرت گئیمفت ذلت ہوگئی عزت گئیجب تلک آئی نہیں جیتے ہیں ہملوہو اپنا ہر زماں پیتے ہیں ہمجو مخاطب تھا کہا ان نے کہ ہاںاس خبر کا اب نہیں اودھم کہاںسن کے راجا نے کہا یہ اس کی دھومدامداروں کو بلا کاے قوم شوملو خبر ہے کس طرف وہ خارزارآپ جاؤں گا ادھر بہر شکارگوکہ ہو وہ بادیہ پر شر و شورراہ چلتے ہوں عصا سے مار و مورہر طرف راجا کے پہنچے دامدارہو تلاشی تا کدھر ہے دشت خارصیدپیشہ وے گئے ہر چار اوردیکھیں کس جنگل میں ہے وہ مورشورکس بیاباں میں ہے اس کی بود و باشکون سے ہے دشت و بر میں بدمعاشراہ میں ان سب کو یہ آئی خبرجس بیاباں میں ہے وہ تفتہ جگرخار کا جنگل نہیں ہے دشت مارروز روشن میں بھی ہے تیرہ و تاردم کش اژدر نکلے ہے گر سیر کودور سے کھینچے ہے وحش و طیر کوجلتے ہیں آتش زبانی سے بہتپتلے ہوجاتے ہیں پانی سے بہتیعنی دم سے طیر ہوتے ہیں گدازہے زبانہ آگ کا اس کی درازایسے ایسے سو پھریں ہیں واں سداجن کی وحش و طیر ہے اکثر غذااور بھی رہتے ہیں واں اقسام مارگھر انھوں کے ہیں اسی جنگل کے غارہے عجب ماروں میں مور آکر رہےمار بھی پھر کیسے اژدر اژدہےمرغ کر جاتے ہیں مرغ انداز دسکیا کریں اک مور کے کھانے سے بسمار کھاجا مور کا ہے یاں کے مارمور دس دس کھا گئے ہیں ایک بارگرد ہے اس دشت کے کوہ گراںاس سے اژدر جھانکے ہے پیدا نہاںجانور اڑتے جو ڈھب پر آگئےچار چار ایک ایک ان کو کھا گئےہے زمانے سے بھی دھیمی ان کی چالجن کے ہیں کیڑے مکوڑے پائمالجیب کو اپنی گزوں تک دیں ہیں طولخشت و سنگ و خاک تک کھاویں اکولان کے چاٹے دشت میں کم ہیں درختچٹ کیے ہیں کوہ تک کے سنگ سختماریے پتھرچٹے مشہور ہیںریزہ دنداں ان کے پتھر چور ہیںقدرت حق سے رہا ہے ان میں مورپھر قیامت کا سا اس کے سر میں شورمور کیا چوری چھپے آیا ہے یاںعشق کا اعجاز اسے لایا ہے یاںفتنہ در سر عشق کے یہ کام ہیںمور اژدر رانی راجا نام ہیںعشق ہے ہنگامہ ساز شور و شرقصے قضیے عشق سے ہیں مختصردشت ماراں خاک ہوگا جل جلااژدہے مر جائیں گے سب تلملابھیڑ لے کر ساتھ راجا آئے گاکل مکل میں مور مارا جائے گاخاک میں مل جائے گا کوہ گراںخاک سی اڑ جائے گی آخر کو واںرانی ہوگی فرط غیرت سے ستیجانور کے عشق کی ہے تہمتیطعن مردم سے ہوئی ہے بسکہ تنگزندگی کو جانتی ہے اپنا ننگرفتہ رفتہ راجا کا گھر جائے گاعشق کام ان پردوں میں کر جائے گالے گئے القصہ جاسوساں خبرجیتے مرتے پہنچے کچھ راجا کے گھرکی حقیقت اس جگہ کی تب بیاںحال واں کا ہوگیا سب پر عیاںراہ کی مشکل گذاری سب کہیسننے والے لوگوں کو حیرت رہیجنگلوں میں خارزاری نقل کیراہ واں نکلی نہ ہرگز عقل کیدشت ہر یک خارزار لق و دقپاؤں چلتے چلتے جاسوسوں کے شقسختی سنگستاں کی بیش از بیش تھیسالکوں کی واں کف پا ریش تھیغنچہ غنچہ اک بیاباں میں تھے خارغیر گل خار وھاں برگ اور نہ بارپاؤں ریگستاں میں تا زانو جلےراہ سر کے بھل کوئی کیوں کر چلےگرم تر اک دشت میں تھا آفتابسایہ واں پیدا نہ تھا نے قطرہ آبتشنگی سے کیا عجب ہے غش بھی ہوآب تو واں تھا نہ جو لب چش بھی ہوشہری اس کے شور سے یکسر تھے داغنکلے تھے دس بیس ہم بہر سراغپھرتے پھرتے جنگلوں میں تھک گئےکتنوں کے تیں شیر و اژدر بھک گئےچلتے چلتے دور تک آئے نکلپڑ گئے تھے آبلے تلووں میں چلاور ابھی جنگل بڑے درپیش ہیںپاؤں دونوں شل ہیں تلوے ریش ہیںدیکھیے ہوتا ہے واں کیونکر نباہہے بہت مشکل گذر کانٹوں سے راہہر قدم خطرہ کہ ہیں شیر و پلنگاس پہ سر ماریں کہ رہ پرخار و سنگپھر تراکم چار سو اشجار کاپھر ہراس اس میں گڑھے کا غار کاہاتھی ارنے خوک کی واں باش و بودکرگدن کی دھوم سے اکثر نمودہیں بیاباں مہلکی یہ تو سبھیزندگی کیونکر کرے واں آدمیقافلہ جاسوسوں کا اودھر چلاآدھا پر واں سو گیا گذرا کھپازندگی سے جمع یہ مایوس ہےہر خطرگہ خانۂ جاسوس ہےکیا کرے جو رزق یوں مقسوم ہےواں ملے مرنا جہاں معلوم ہےکچھ ہو دشت مار تک جانا ہمیںمور کی واں سے خبر لانا ہمیںآب و دانہ لے چلا ہے اب تو واںآب و دانہ کچھ نہیں ملتا جہاںدیکھیے جانا ہو کیونکر اتفاقبھوکوں مرنا راہ چلنے میں ہے شاقسوچ کر آپس میں وے آگے گئےدن گئے تھے رات بھی جاگے گئےراہ میں دو چار فاقے بھی کیےکتنے ان میں سے موئے کتنے جیےطے ہوئے وے دشت جوں ہی ہولناکدشت ماراں پہنچے کچھ بے خوف و باکدیکھی اس کے ناحیہ میں ایک دھومتھا چرندوں کا درندوں کا ہجومجمع رہتے تھے طیور دشت بھیصبح سے تھی ترک سیر و گشت بھیشور بیتابی سے بعضے تھے دہمسن کے نالے بعضے کر جاتے تھے رمحزن سے ہوتا ہے جس دم نالہ کشپاس ہی کچھ جانور کرتے ہیں غشدیکھ وا منقار اس کی رحم کرکچھ نہ کچھ رکھ دیتے منھ میں جانورکوئی دانہ بوند پانی گھاس پاتکاٹتا تھا اس طرح دن اور راتیا رکا تو سست سی پرواز کیاس بیاباں میں حزیں آواز کیکچھ اڑا بیتاب کچھ رکنے لگاسنگریزے کنکری چکنے لگاگر کہیں دوچار دانے پا گیاشکر کر اپنی زباں میں کھا گیاجو کسو تالاب سے پانی پیاآسماں کی اور منھ اپنا کیاتو نہ دے تو یعنی مجھ کو کون دےپرشکستہ کی خبر یوں کون لےسن کے راجا یہ خبر شاداں ہواخشمگیں تر خانہ آباداں ہواحکم کش لوگوں سے اپنے یہ کہادیر اس موذی کے غم میں میں رہااب یہ مژدہ لائے ہیں جاسوس جاان بنوں میں ایک بن میں وہ بھی تھامجھ کو جانا اس طرف کا ہے اہمکھا گیا ہے جان اس دشمن کا غملوگ میرے گرچہ ہیں حاضریراقپھر رکھو کچھ اور بھی بہر یساقجنگ حیوانات سے ہے بیشترہیں طرف اژدر نمر شیراں شتریہ لڑائی طول کو گر کھنچ گئیہمت مردانہ سنیو ہچ گئیہے لڑائی سخت کوہستان کیپھر بہم حیوان اور انسان کیمنھ پسارے اژدہے ہیں گرم جنگکھینچ کر نگلے ہیں دم سے خشت و سنگآئے ہاتھی بھی اتر گر کوہ سےہوسکے گا پھر نہ کچھ انبوہ سےہوگیا باراہ سد راہ گرلیویں گے جاکر نفر راہ دگرہو اگر جاموش دشتی سے مصافتو کوئی دم ہی کو ہے میدان صافکرگدن آکر اگر ہوگا طرفتو الٹ دیوے گا کوئی صف کی صفمنھ چڑھیں گے اس کے مردم کم بہتاک طرف ہو جاوے گا عالم بہتہوگئی گر خرس سے استادگیدرمیاں آجائے گی افتادگیمنھ اگر گرگ بغل زن آگیادیکھیو پیٹھ اک جہاں دکھلا گیایوز و گرگ و شیر اگر آجائیں گےبددلوں کی فوج کو کھا جائیں گےمست ہاتھی ہوگئے چہرہ اگرمنھ چھپا لیں گے سپاہی بیشترسامنے ہوگا اگر مار سیاہسامنے اس کے نہ ہووے گی سپاہگرم کیں اژدر کوئی گر آگیاکھا گیا چٹ کر گیا جیتا گیالوگ رکھو الغرض صاحب جگرپہنچیں سر پر مدعی کے بیشترجدول ان کی تیغ کی جاری رہےان کی تردستی سے وہ عاری رہےساتھ راجا کے گیا جم غفیرہم صغیر و ہم جوان و ہم کبیرراوراجا ساتھ جب سارے گئےکچھ نہ بولے شرم کے مارے گئےمنزلیں طے ہوکے آئے دشت و دراترے واں جا لوگ لشکر سربسربھڑکی آتش عشق کی جنگل جلےدوں لگا وہ طائر و اژدر چلےآگ پھیلی ان بنوں میں دور تکجل گئے حیواں کئی لنگور تکمار و اژدر اژدہے بھلسے گئےشیر و گرگ و کرگدن جھلسے گئےجل گیا طاؤس بھی اس آگ میںجی گئے بہتیرے دل کی لاگ میںمور کا مردہ گیا راجا کے پاساور جھلسے بھلسے طائر بے حواسپھر پڑی جو آگ سب لشکر جلااور راجا کا بھی اودھر گھر جلایعنی رانی نے سنی جو یہ خبرآتش غم سے جلا اس کا جگرکھینچ آہ سرد یہ کہنے لگیعشق کی بھی آگ کیا بہنے لگیبن جلا کر بستیوں میں آلگیپھیل کر یاں دل جگر کو جالگیجمع کر خاشاک و خار و خس شتابجل گئی دے آگ وہ بھی بس شتابکیا لگی تھی دل کو رانی جل گئیخاک ہوکر خاک ہی میں رل گئیعشق ہی کی ہیں یہ تازہ کاریاںعشق نے پردے میں جانیں ماریاںمور کے بدلے جلایا دشت مارمار و اژدر جل گئے چندیں ہزارجل کے لشکر ہوگیا تھا بے چراغیہ خبر سن ہوگیا راجا بھی داغعشق سے کیا میرؔ اتنی گفت و گوخاک اڑا دی عشق نے ہر چار سودرمیاں نے کوہ نے انبوہ ہےرانی کا راجا کا اب اندوہ ہےطائر و طاؤس و حیواں اژدہےسب کھپے کیا عشق کی کوئی کہےیہ فسانہ رہ گیا عالم کے بیچبازماندہ ان کے ہیں سب غم کے بیچ

معاملات عشق

کچھ حقیقت نہ پوچھو کیا ہے عشقحق اگر سمجھو تو خدا ہے عشقعشق ہی عشق ہے نہیں ہے کچھعشق بن تم کہو کہیں ہے کچھعشق تھا جو رسول ہو آیاان نے پیغام عشق پہنچایاعشق حق ہے کہیں نبی ہے کہیںہے محمدؐ کہیں علیؓ ہے کہیںعشق عالی جناب رکھتا ہےجبرئیل و کتاب رکھتا ہےعشق حاضر ہے عشق غائب ہےعشق ہی مظہر عجائب ہےعشق کیا کیا مصیبتیں لایاروز کو رات کرکے دکھلایاعشق میں لوگ زہر کھاتے ہیںعشق سے رنگ سبز پاتے ہیںعشق سر تا قدم امید ہوازیر تیغ ستم شہید ہوامجھ سے مت پوچھ یہ کنھیں ہے عشقعشق ہے ان ہی کو جنھیں ہے عشقعشق سے رنگ زرد ہوتا ہےعشق سے دل میں درد ہوتا ہےرہتے ہیں عشق ہی میں مژگاں تریہیں دیکھی ہیں آنکھیں آتے بھرعشق ہی کا خراب ہے کنعاںعشق ہے ایک خانہ آباداںعشق لایا ہے آفتیں کیا کیااس سے آئیں قیامتیں کیا کیاقیس کیا رنج کھینچ کھینچ مواسر پہ فرہاد کے سنا جو ہواعشق نے چھاتیاں جلائی ہیںآگیں کس کس جگہ لگائی ہیںعشق میں ایک جی کو کھو بیٹھےایک آنکھوں کو روکے رو بیٹھےایکوں کا جیب تا بہ دامن چاکایک ڈالے ہے سر کے اوپر خاکشان ارفع ہیں جن کی خوار ہیں یاںعقل والے جنوں شعار ہیں یاںخستۂ عشق کچھ نہ میرؔ ہوئےبادشہ عشق میں فقیر ہوئےکوئی دل تنگ ہو کنویں میں گراکوئی ڈوبا کوئی گیا نہ پھراجب پتنگا ہوا تھا اس سے داغتب دیا جی کو ان نے پیش چراغعشق کی فاختہ ستم کش ہےعشق سے عندلیب دم کش ہےعشق باعث ہوا وطن چھوٹےمرغ پکڑے گئے چمن چھوٹےمایۂ درد و رنج سب ہے عشقمتصل رونے کا سبب ہے عشقپڑ گئے دل جگر میں آخر چھیدکچھ نہ پایا کنھوں نے عشق کا بھیداپنی تیغ ستم جو اینچے عشقجامے بہتوں کے خوں میں کھینچے عشقعشق سے قمری ہے حریف سرومہ سے آنکھیں لڑا رہا ہے تدروعشق کے دل فگار سارے ہیںان نے کیا کیا جوان مارے ہیںکہیں حق ناحق ان نے خون کیےکہیں سر پر کھڑا ہے تیغ لیےکوئی محو گزاف ہیں اس سےکہیں میدان صاف ہیں اس سےاس سے یک جمع نے لیا ہے جوگایک فرقے کا ہے یہ جی کا روگایک کے لب پہ آہ ہے اس سےایک کا دن سیاہ ہے اس سےایک کا شیوہ اس سے نالہ کشیایک کو بے دمی ہے جیسے غشیایک ناشاد زندگانی سےایکوں کے دل گداز پانی سےایک کے پھول گل پہ نالے ہیںایک کے جان ہی کے لالے ہیںایک نے کوہ اس سے توڑ دیےایک تنکا کر ان نے چھوڑ دیےچپ لگی ہے کسو کو اس کے سبببند رہتے نہیں کسو کے لبکوئی باتیں کرے ہے شوق کے ساتھکوئی چپکا ہوا ہے ذوق کے ساتھہے تواجد کسی کو حال کہیںکہیں نقصان ہے کمال کہیںایک محو لباس عریانیایک سرگرم دامن افشانیکسو کا ذکر کوئی ذاکر ہےکوئی صابر ہے کوئی شاکر ہےکہیں وسعت کہیں ہے تنگ اوقاتعشق کے ہیں گے مختلف حالاتسیر قابل ہیں اس کے دیوانےسننے کے گوں ہیں اس کے افسانےوصل میں جن کے دل رہیں بے جافصل ہو تو انھوں کا حال ہو کیااس بلا سے مجھے بھی کام ہواعاشق زار میرا نام ہواقصہ میرا بھی سانحہ ہے عجبکس پہ گذرا ہے یہ ستم یہ غضب

معاملۂ اول

ایک صاحب سے جی لگا میراان کے عشووں نے دل ٹھگا میراابتدا میں تو یہ رہی صحبتنام سے ان کے تھی مجھے الفتخوبی ان کی جو سب کہا کرتےگوش میرے ادھر رہا کرتےبخت برگشتہ پھر جو یار ہوئےاک طرح مجھ سے وے دوچار ہوئےکیا کہوں طرز دیکھنے کی آہدل جگر سے گذر گئی وہ نگاہچپکے منھ ان کا دیکھ رہتا میںجی میں کیا کیا یہ کچھ نہ کہتا میںوے تو ہر چند اپنے طور کے تھےپر تصرف میں ایک اور کے تھےکرتے ظاہر میں احتیاط بہتمجھ سے بھی رکھتے اختلاط بہتبات کی طرز میری ہی بھاتیمیری آزردگی نہ خوش آتیپیار چتون سے پھر نکلنے لگادیکھنا دل کو میرے ملنے لگاکہیں دیکھوں تو بات دیر کہیںبے دماغ اور بے گمان رہیںکچھ کچھ آزار مجھ کو دینے لگےقسم اقسام مجھ سے لینے لگےمیں جو کھاتا قسم تو ہو برہمکہنے لگتے کہ کیا گدا کی قسمایک دو دن میں بعد رفع ملاللطف سے پوچھتے کہو کچھ حالجو گذرتی تھی مجھ پہ میں کہتایا کوئی اشک آنکھ سے بہتادیکھ کر روتے آپ بھی روتےدل دہی کرتے جب تلک سوتے

معاملۂ دوم

ایک مدت تلک یہ صحبت تھیکبھو الفت کبھو یہ کلفت تھیرفتہ رفتہ سلوک بیچ آیاہاتھ پاؤں کو اپنے لگوایاگاہ بے گاہ پاؤں پھیلاتےمیری آنکھوں سے تلوے ملواتےچل کر آتے تھے جب کبھو ایدھرپاؤں رکھتے تھے میری آنکھوں پردیکھنے میں تو پائمالی تھیحسن سے چال یہ نہ خالی تھیجلتی چھاتی تو ہوتا میں سائلکہ ٹک اے سرو ہو ادھر مائلکف پا رکھیے یاں تو احساں ہےتیرے پاؤں تلے مری جاں ہےہنس کے سینے پہ پاؤں رکھ دیتےدل مرا یوں بھی ہاتھ میں لیتےکیا کہوں کیسا قد بالا ہےقالب آرزو میں ڈھالا ہےایک جاگہ سے ایک جاگہ خوبپیکر نازک اس کے سب محبوبموے سر ایسے جی بھی کریے نیازبل ہی کھایا کرے یہ عمر درازاس کے کاکل سے حرف سر نہ کروکاکل صبح پر نظر نہ کروکچھ بھی نسبت ہے تم کو سودا ہےکالے کوسوں کی بات کا کیا ہےاس کی زلفوں میں دل گئے نہ پھرےرہے سنبل کے پیچ پاچ دھرےاس جبیں سے ہے دل کی کب جاذبصبح صادق کے دعوے ہیں کاذبویسی بھوئیں کشیدہ بھی ہیں کہیںیہ کمانیں کسو سے کھنچتی نہیںپھری پلکوں کی اور سب کی نگاہچشم پر میری تیری چشم سیاہکہوں چتون کے دیکھنے کے طوراس قیامت پہ وہ قیامت اورسطح رخسار آئینے سے صافجو نہ ٹھہرے نگہ تو رکھیے معافلطف بینی کا فہم ہے دشوارایک باریک بینی ہے درکارکیا جھمکتا ہے ہائے رنگ قبولجیسے مکھڑا گلاب کا سا پھولہے دہن تنگی سے سخن کوتاہکچھ نکلتی نہیں سخن کی راہاس سے گل کیا چنے کوئی ہمدمغنچۂ ناشگفتہ سے بھی کمبرگ گل سے زباں ہے نازک ترپھول جھڑتے ہیں بات بات اوپرکیا کہوں کم ہیں ایسے شیریں گووہ زباں کاش میرے منھ میں ہودم بدم سوے گوش اشارۂ صبحگوہر گوش یا ستارۂ صبحجب بناگوش ان نے دکھلایاصبح کا سا سماں نظر آیاان لبوں کا مزا لیا سو بھانتتس کے اوپر ہمارا بھی ہے دانتتم نہ گل برگ و لعل ناب کہوبات جب تک نہ ٹھہرے چپکے رہوکوئی جاں بخش یوں کہے سو کہےہم تو مرتے ہی ان لبوں پہ رہےکنج لب آرزوے جان و دلآگے چلنا نگاہ کو مشکلان لبوں سے جو کوئی کام رکھےقند و مصری کو کیوں نہ نام رکھےجو حلاوت انھوں کی کہیے ابہم دگر سے جدا نہ ہوویں لبجب وے کھاتے ہیں بیڑۂ پاں کورو نہیں دیتے لعل و مرجاں کوایسی ہوتی نہیں ہے سرخ لبیرنگ گویا ٹپک پڑے گا ابھیہو تبسم سے لعل کا دل خوںہنستے دیکھا تھا سو مجھے ہے جنوںنہیں دیکھے مسی ملے دنداںبرق ابر سیہ ہے تب خنداںکیسے کیسے چمکتی ہے بے تہجگ ہنسائی کرے ہے اپنی یہبو اگر کیجے اس زنخ کا سیبجائے سر سے جنون کا آسیبرہے گردن میں ان کی میرا ہاتھیہ تو یارب ہے میرے جی کے ساتھبس چلے تو گلے لگا ہی رہوںتیغ سے پھر جدا کریں تو نہ ہوںاس میں ہرچند جی کا نقصاں ہےمدعا اختلاط چسپاں ہےخوش و پرکار کب پری ان سیاور ہو تو کہاں ہے ہم جنسیدیکھے ازبس برآمدہ سینےایسا معلوم دل جو یوں چھینےکیا نظرگاہ کی کروں خوبینظریں اٹھتی نہیں یہ محبوبیشانہ و دست و ساعد و بازودلکشی میں تمام یک پہلواس کے تو پہلو سے میں ہوکے جدادرد پہلو سے تنگ دل ہی رہاہائے اس سے خدا جدا نہ کرےدور اس سے جیوں خدا نہ کرےیوں نہیں سرخ اس کی ہر انگشتڈوبی ہیں میرے خون میں یک مشتوہ کف دست راحت جاں ہےکاش سینے پہ رکھ دے غم یاں ہےکیا بیاں خوبی شکم کو کرےدیکھنے سے کبھو نہ پیٹ بھرےصدر کے ناحیے سے لے تا نافچپ کی جاگہ ہے کیونکے کہیے صافاس سے پھر آگے غنچۂ گل ہےیاں سخن بابت تامل ہےپردے میں بھی جو کچھ کہا جاوےآپ سے تو نہ ٹک رہا جاوےگئی نظروں سے وہ کمر باریکہو نہ آنکھوں میں کیوں جہاں تاریکاور کیا دل زدے کو بات آوےکہیں یارب شتاب ہاتھ آوےنازکی اس میاں کی کیا کہیےبنے تو ہاتھوں میں لیے رہیےٹک اگر لچکے تو قیامت ہےپھر قیامت تلک ندامت ہےکیوں پڑی ران پر نظر تا ساقاس بن اب زندگی ہوئی ہے شاقپاے جاناں سے گفتگو ہے ابخاک میں ملنے کا یہی ہے ڈھبوہ قدم کاش فرق سر پر ہوساق سیمیں مری کمر پر ہووہ کف پا قریب ہو میرےٹھوکر اس کی نصیب ہو میرےپنڈلی نازک ہے شاخ سنبل کیپشت پا پنکھڑی سی ہے گل کییوں نصیبوں سے ہو حنا کا ناؤںورنہ ڈوبے ہیں میرے خوں سے پاؤںناخن پا حنائی ہیں ایسےبرگ گل پاے سرو ہوں جیسےہو خراماں تو اس طرف نگہیںگل کفش اس کی لوگ دیکھ رہیںگل و بلبل سبھی تماشائیآگئے جس طرف بہار آئیرنگ رفتار دیکھ مجنوں ہوطرز گفتار جیسے افسوں ہوسر سے پاؤں تلک وہ محبوبیساتھ ان خوبیوں کے یہ خوبیکہ بہت دل ہے آشناے رحمدردمندوں کو جانے جاے رحماب جو ثابت ہوئی ہے میری چاہاس کو مدنظر ہے مجھ سے نباہطعن و تعریض بیچ میں آئےکچھ نہ خاطر میں وہ مجھے لائےرستے میں اک طرف وفا کے لیےچلے جاتے ہیں مجھ پہ لطف کیےنہیں آزار کی رواداریمہرورزی ہے یا وفاداریپر جو معشوقی آب و گل میں ہےچھیڑ رکھنے کا شوق دل میں ہےمیں کروں تو کہیں خوش آتا ہےتیرا آزار جی سے بھاتا ہےخواہ ناخواہ وہ نہیں منظورکہ رہے دل شدہ مرا رنجوریہ بھی شوخی سے ہے گہے گاہےپر اس انداز سے کہ جی چاہے

معاملۂ سوم

ایک دن فرش پر تھا میرا ہاتھباتیں کرتے تھے وے بھی میرے ساتھپاؤں سے ایک انگلی مل ڈالیلطف سے درد وہ نہ تھا خالیدرد سے کی جو میں نے بے تابیدست نازک سے دیر تک دابییاد آتے ہیں ایسے لطف جو ابگذرے ہیں جان غم زدہ پہ غضبتن بدن دیکھ جی نہ رہتا تھامیں جو گستاخ ہوکے کہتا تھاکہ یہ جاگہ تم اس فقیر کو دومتبسم ہو کہتے وے یہ لویہ بھی کیا کیا خیال رکھتے ہیںآرزوے محال رکھتے ہیںپھر گھڑی بھر میں کہتے ہو نہ ملولمار کھانے کی باتیں سب ہیں قبولجب سلوک ان کا یاد آتا ہےکیا کہوں جی ہی بھول جاتا ہے

معاملۂ چہارم

ایک دن پان وے چباتے تھےسرخ لب ان کے مجھ کو بھاتے تھےکہہ اٹھا میں اگر اگال مجھےمنھ سے دو تو کرو نہال مجھےبولے یوں ہی ہے میں کہا ہاں سچجھوٹا کھاتے ہیں میٹھے کی لالچہنس کے اس وقت مجھ کو ٹال دیاپھر اسی رنگ سے اگال دیاایسی صدرنگ مہربانی تھیتب سیہ رو کی زندگانی تھیاب کے سے رنگ گر فلک لاتاخاک کے رنگ میں مجھے پاتا

معاملۂ پنجم

منقبت ایک مجھ سے کہوایاجس کا میں نے صلہ انھیں پایاپھر وہی کرتے میں جو کچھ کہتاایک پردہ سا بیچ میں رہتادوستی رابطہ وفا اخلاصساتھ میرے تھا ان کو رابطہ خاصمیں تقاضائی ملنے کا رہتامختلط ہونے کو سدا کہتامیری تسکیں تھی ہر زماں منظورآپ بھی کرتے ملنے کا مذکوروصل کے وعدے ہی رہا کرتےآج کل رات دن کہا کرتےدل تو تھا رحم آشنا ازبسکڑھتے تھے جان کر مجھے بے کسجانتے تھے کہ ہے یہ دل دادہسید خستہ خاک افتادہدیکھتے مجھ کو جو پریشاں دلکہتے اے میرؔ کچھ نہیں حاصلدیکھ ٹک تو ہی تیرا حال ہے کیاجانے دے اب بھی یہ خیال ہے کیاآفت جاں ہے دوستی کرناکب تلک گھٹ کے اس طرح مرنامیں جو دیوانہ ان کے رو کا تھاشیفتہ پیچ دار مو کا تھاکچھ نہ سمجھی گئی کہن ان کیاب جدائی جو ہے کٹھن ان کییاد کرتا ہوں اور روتا ہوںوعدہ بن ہی ہلاک ہوتا ہوں

معاملۂ ششم

گل روؤں بن جگر ہے داغ کبابگیسوؤں بن ہے جی کو پیچ و تابصورت ان کی خیال میں ہردمخواب میں جو ہوں وہ مژہ باہممیں تو بستر پہ دل شکستہ اداسچاند سا منھ انھوں کا تکیے پاسمیں بچھونے پہ بے خود و بے خوابایک پیکر پری کا سا ہم خوابفرش پر پاؤں یہ غبار آلودان میں وے دونوں پا نگارآلودمیں تو افتادہ محو عجز و نیازبازو میرے کسو کی بالش نازجلتی آنکھوں کنے گل رخسارجس پہ کچھ بکھرے موے عنبربارپاس منھ کے وے لال تر نازکدست گستاخ پر کمر نازکفرش اس گل بدن سے سب بویاپھول میں نے بچھائے تھے گویاشب کٹی صورت خیالی سےدن کو ہوں میں شکستہ حالی سےگرچہ روزانہ بھی تصور تھالیکن اندوہ سے مکدر تھاکہیں تصویر سی نظر آئیکہیں منھ پھیر جیسے شرمائیکبھی دل ان کے روومو میں رہےکبھی ملنے کی آرزو میں رہےصورت حال اور کچھ ہر دمگاہ لب خشک گاہ مژگاں نممیں بھی مقدور تک وفا کی ہےجان غمناک پر جفا کی ہےبرسوں تک میں پھرا ہوں سرگرداںروز و شب دونوں تھے مجھے یکساںنے فقط جان سے جہاں سے گیازن و فرزند خانماں سے گیاکیچ پانی ہو مینھ ہو یا برساتروز روشن ہو یا اندھیری راتان تلک میرے تیں پہنچ رہنابیٹھے منھ دیکھنا نہ کچھ کہناآشنا یار سارے بیگانےکہ ہوئے میرؔ جی تو دیوانےرشتۂ ربط انھوں نے توڑ دیاملنا جلنا سبھوں نے چھوڑ دیانظر آتے نہیں ہیں مدت سےانس پیدا کیا ہے وحشت سےصبح ہوتے ہی گھر سے چلتے ہیںجیسے کھوئے گئے نکلتے ہیںچلتے جاتے ہیں دیکھتے ہی راہپر کہیں کی کہیں پڑے ہے نگاہمل گیا جو کوئی تو بچ نکلےسڑی خبطی دوانے سچ نکلےشوق سے ان کے حال دیگرگوںپارہ پارہ دل و جگر سب خوںرنگ ہر دم مزاج کا کچھ اورکل کا کچھ اور آج کا کچھ اورکیا بیاں کریے بے قراری کاذکر کیا حال اضطراری کاجی پڑا ترسے ساتھ سونے کودل پریشان جمع ہونے کوپاس ان کے رہوں تو دل کو قرارپھر نہ ٹھہرے ٹک ایک کریے ہزارگئی برباد عزت ان کے لیےجلف لوگوں نے منھ پہ طعنے دیےگھورے پر سے جو اٹھ نہ سکتے تھےوے بھی کناس پوچ بکتے تھےسفر آیا جو ان کے تیں درپیشساتھ اس رنج میں بھی تھا درویشکیا کہوں جو اذیتیں دیکھیںہر قدم پر قیامتیں دیکھیںجو پڑھے گا تسنگ نامہ یاںہوگی ساری حقیقت اس پہ عیاںیاں نہ تفصیل کرنے کا تھا مقامکہ محبت سے یاں ہے حرف کلام

معاملۂ ہفتم

بارے کچھ بڑھ گیا ہمارا ربطہوسکا پھر نہ دو طرف سے ضبطتب ہوا بیچ سے یہ رفع حجابجب بدن میں رہی نہ مطلق تابایک دن ہم وے متصل بیٹھےاپنے دل خواہ دونوں مل بیٹھےشوق کا سب کہا قبول ہوایعنی مقصود دل حصول ہواواسطے جس کے تھا میں آوارہہاتھ آئی مرے وہ مہ پارہگہ گہے دست دی ہم آغوشیہم سری ہم کناری ہم دوشیچند روز اس طرح رہی صحبتپیار اخلاص رابطہ الفتکچھ کہوں جو انھوں کی ہو تقصیرنارسائی تھی طالعوں کی میرؔہوگئے بخت اپنے برگشتہپھر کیا آسماں نے سرگشتہبات ایسی ہی اتفاق پڑیکہ ہوئی سر پہ فرقت آن کھڑیلگی کہنے کہ مصلحت ہے یہکتنے روزوں جدا تو مجھ سے رہیوں بھی آتا ہے عشق میں درپیشکہ نشان بلا ہوں الفت کیشمیں اٹھایا نہیں ہے تجھ سے ہاتھکڑھیو مت تو ہے میری جان کے ساتھاس جدائی کا مجھ کو بھی غم ہےکیا کروں آبرو مقدم ہےمیں کہوں کیا مجھے نہ اپنا ہوشجیسے تصویر سامنے خاموشآنسو آنکھوں میں پر پیے جاؤںوے کہیں کچھ تو ہاں کیے جاؤںان سے رخصت ہوئے جو بعد شامتیرہ دیکھا جہان کو ہر گامدل ٹھہرتا نہ تھا ملالت تھیجان کو رفتگی کی حالت تھییوں ہوا ان کے کوچے سے آناجیسے ہووے جہان سے جانااب جو گھر میں ہوں تو فسردہ ساچارپائی پہ ہوں تو مردہ ساجی انھوں میں فسردہ قالب یاںمتحرک ہو کیا تن بے جاںحال دل کا کہوں جو ہمدم ہوکروں پیغام کچھ جو محرم ہوجی میں کچھ آیا رو کے بیٹھ رہادل زدہ چپکا ہوکے بیٹھ رہاکوئی آیا جو واں سے جی آیاسو نہ آیا کبھی کبھی آیادیکھیے چند یوں رہیں گے جداچاہے ہے کیا ہمارے حق میں خداخون دل کب تلک پئیں گے ہمرنگ یہ ہے تو کیا جئیں گے ہمآہ کیا کیا بیاں کروں خوبیدل دہی حال پرسی محبوبیتند ہوکر نہ بات کو کہناملتفت حال زار پر رہنالطف مبذول حال پر ہر آنتازہ ہر دم مروت و احسانلب سے جاں بخش حرف سے دل جولطف سے پوچھنا کہ خوش ہے تویاد کر روؤں ان کی کون سی باتکس طرح کاٹوں ہجر کے اوقاتملنا ان سے ہو پھر گھٹے غم بھیآئے جیتوں میں جانیے ہم بھیمدت ہجر اگر تمام ہوئیورنہ اپنی تو صبح شام ہوئی

مرثیۂ خروس کہ در خانۂ فقیر بود

کئی برس سے ہمارے کنے تھا ایک خروسخروس عرش کی اولاد سے ولے افسوسپھرا جو اس سے یکایک زمانۂ کج بازقضا نے اس کو کیا ایک بار مرغ اندازدیا کرے وہ اذاں دونوں وقت صبح و شامبجا ہے مرغ مصلی رکھیں گر اس کا نامنہیں ہے مرغ چمن میں جہاں کے ایسا آجبہ رنگ کلۂ تاج خروس سر پر تاججو بیٹھے جھانپے میں پرواز پر سے مرغ خیالکھڑا ہو دھوپ میں تو رشک مرغ زریں بالکبھو جو صحن میں گھر کے وہ اشرف الطیارپھرا ہے کیس کو ڈالے تو مرغ آتش خوارنہ بطخیں ہیں ثناگستری میں اس کی مدامبزرگ داشت کریں مرغ سبزوار تمامرہا ہمیشہ سے وہ مرغ مستعد جنگطرف نہ اس کے ہوئے بچگی میں قاز و کلنگجب ان نے گانٹھ کے اک لات حلق پر ماریشتردلی کی شترمرغ نے کئی بارینہ اس کے سامنے کوئی کھڑا رہا مرغاحواصل اس سے بگڑتا تو تھا وہ کیا مرغابجز کنارہ نہ سیمرغ کو بنا چارہکہ فیل مرغ کو بکری کی طرح سے ماراہمیشہ گربہ و سگ سے تھی روک ٹوک اسےجہاں سے لے گئی آخر یہ نوک چوک اسےخصومت اس کی تھی یک مادہ سگ سے شام و سحرکبھو وہ لات اسے مارتا کبھو شہپرقضا جو پہنچی تھی نزدیک وہ بھی جھنجھلائیحریف ہوکے دلیرانہ سامنے آئییہ بہبہا تھا نہ سمجھا ادا کو کینے کیلگائی سامنے ہوتے ہی ایک سینے کیہلائی ان نے بھی گردن لگی کہیں بے کلکہ ایک دم میں گئی آہ اس کی گردن ڈھلجھکا جو خاک کی جانب کو کیس بے جاں کازمیں پہ تاج گرا ہدہد سلیماں کاہوا کے مرغ ہوئے داغ اس کے ماتم سےسیاہ پوش رہے طائر حرم غم سےوہاں جو نوحۂ مرغان قدس باز ہواکہ مرغ قبلہ نما کا بھی دل گداز ہواقفس کے مرغ نے سن ترک آب و دانہ کیاطیور نے بھی نہ پھر قصد آشیانہ کیاہوا زبسکہ پراگندہ یہ غم جاں سوزاداس رہنے لگے سارے مرغ دست آموزخروس عرش ہی اس بن نہیں ہے سینہ فگارہزار مرغ کا اب گھر خروس پر ہے بارزمانہ جب تئیں ہے اس کے درد کے مارےرہیں گے خاک فشاں مرغ خانگی سارےخموش میرؔ تجھی کو نہیں یہ رنج و تعبکباب آتش غم میں ہیں مرغ و ماہی سب

شکار نامۂ دوم

مکرر ہے نواب کو قصد صیدبیابان پہناور اب ہوں گے قیدرواں بحر لشکر ہوا موج موجگئی چشم خورشید تک گرد فوجبحار و صحاری پہ ہے عرصہ تنگمگر یاں سراسیمہ ہیں واں پلنگپہن بیٹھے ہیں شیر ببری لباسکریں لوگ شاید فقیری کا پاسچکارے ہرن دونوں اندیشہ منددلوں میں ہراس کمان و کمندکہیں گرگ وادی کو فکر گریزنظر ایدھر اودھر کرے شیر تیزبنوں میں ہے آشوب کوہوں میں ڈربیاباں وطن سارے گرم سفرکہیں امن ہو تو کہوں واں گئےنکل آکھروں سے پریشاں گئےاسد کی نہ شیرانہ ہنکار ہےنہ کفتار کو تاب رفتار ہےجہاں کے تہاں فکر میں ہیں کھڑےکہ دنگل سے جنگل میں کیا بن پڑےہوا دود باروت سے تیرہ رنگصداے تفنگ و صداے تفنگوحوش و ستوراں کو وحشت غضبہوا ہیں کھڑکتے ہی پتے کے سبہزاروں ہی بندوق ہر دم چلےہوا ہی میں پنچھی پکھیرو جلےگئے بادخور آسماں میں پلٹکلنگوں کی صف باز نے دی الٹاڑے ہاتھ دوچار جرے کہاںرہے مرغ آبی جہاں کے تہاںپر تیر جس دم کشادہ ہوئےبزے صید حد سے زیادہ ہوئےبنوں میں مچی دھوم سی آکے دھومجہاں دیکھیے ہے قیامت ہجومکہیں ارنے مارے غضنفر کہیںکہیں ہاتھی نکلا ہے اژدر کہیںپڑے مست ہاتھی جو تھے من چلےسن اس شور کو چھوڑ کر بن چلےنہ تیرہ ہے روز گوزنان و گورکہ شیروں کو بھی قشعریرہ ہے زورلب آب جاکر جو کھیلے شکاراسد واں کے تھے کودک نے سوارہوئے قرقرے صید ہو ہو کے ڈھیرہوا میں سے بھاگا عقاب دلیرزغن ان بنوں میں نہ پائی گئینہ تغدار کی لاش اٹھائی گئیہوا ہے یہی تو یہ ہونی نہیںکہ ہو خاد آکر سیہ یاں کہیںجگر کیا کہ پرزن ہو اس بن میں زاغیہ زہرہ نہیں رکھتے کوہی کلاغشترمرغ سیمرغ ازبس ہراسنہیں آتے کوہ شمالی کے پاسغزل کہہ کہ ہے میرؔ لطف ہوابیاباں خوش آئندہ و خوش فضا

غزل

سبزہ ہے آبجو ہے فصل بہار بھی ہےسرگرم جلوہ دیکھو پہلو میں یار بھی ہے

یہ تو نہیں کہ ہم پر ہر دم ہے بے دماغیآنکھیں دکھاتے ہیں تو چتون میں پیار بھی ہے

گل ہم کنار ہوگا ہنس کر کبھو چمن میںپر کم بغل ہے بلبل اس کو قرار بھی ہے

ہوں وعدہ گاہ میں تو پر میں ہی جانتا ہوںکچھ اضطراب بھی ہے کچھ انتظار بھی ہے

جوں موج ہم بغل ہوں نایاب اس گہر سےدریا کی سیر بھی ہے بوس و کنار بھی ہے

ہم جبریوں سے کیا ہو بے دست و پا و عاجزکہنے کو کہتے ہیں تو کچھ اختیار بھی ہے

کون اس بھبھوکے سا ہے دیکھو نہ ٹک بھی تو وہشمع و چراغ و شعلہ برق و شرار بھی ہے

جانا مسلم آیا اس خاکداں سے گو پھرمشکل گذر ہے رستہ گرد و غبار بھی ہے

دل تنگ میرؔ کیوں ہے ہمرہ وزیر کے تودریا فضا ہوا ہے سیر و شکار بھی ہے

اٹھا فوج میں سے یہ گرد و غبارکہ منھ پر تھا خورشید آئینہ وارفلک کہرے سے تھا دھواں سا نمودسماں شب کا رکھتا تھا ملک شہودزمیں تھی سو تھی فرش بالاے آبتحلحل سے مطلق نہ رکھتی تھی تابنہ پوچھو کہ لوگوں کا کیا حال تھاجو رکھے قدم واں تو بھونچال تھاروندے لگے چلنے تیزی سے چالہوا مذہب شیعیاں اعتزالکسی ڈھب سے جوں توں کے چلنا ہواعجب مہلکے سے نکلنا ہوااتر لوگ دریا سے آگے گئےہزبران خونخوار بھاگے گئےپلنگان مردم در ایسے ڈرےکہ جاتے ہیں کوہوں کے چھوڑے درےبیاباں میں مرنا کہاں سر دھریںنہ لیں راہ بر عرب کیا کریںغزل میرؔ یاں کہہ اگر ہو دماغرکے دل ہمارے بھی ہوں باغ باغ

غزل

تھی باد بھی آنے کی چمن میں نہ روادارپر کیجیے کیا گل کی صبا بھی ہے ہوادار

شائستۂ دیدن ہے مرے یار کی صحبتوہ صاحب ناخواہ ہے بندہ ہے وفادار

کیا خوب ہو کیا زشت ہو رو دیوے ہے سب کواس عرصہ میں آئینہ کو دیکھا ہے ہوادار

کس طور سے یک رنگ ہوں یے عاشق و معشوقہے گل کنے زر بلبل بے برگ ہے نادار

کیا بیکسی سے میرؔ نے رحلت کی جہاں سےرویا نہ کوئی اس پہ نہ کوئی ہے عزادار

بنوں میں پھرا کرتے ہیں ہم تو دیرنہیں بولتے ڈر سے غرندہ شیررہے تھے جو فیلان مست آن کرگئے کجلی بن یاں سے ڈر مان کرجو ان میں سے آکر لڑا پھر دیاسو کٹھ بندھنوں سے ہوا فیل پاگریوے کہیں تھے بلند اور پستپھر اڑتے تھے واں جیسے پیلان مستبہی تیغ نواب اس طور سےبہے جدول تیز جس طور سےبہت رہ گئے زیر شمشیر و تیربہت آئے لشکر میں ہو کر اسیرلدے ہاتھیوں پر جو ہوکر شکارہوئیں بوجھ سے پشت فیلاں فگارکیے گم جو گینڈے نے اپنے حواسکھڑا ہو رہا آکے بھینسوں کے پاسکہ بھینس اس کو بھی جان کر لشکریچلے جائیں صرصر نمط سرسرینہ چھوڑا ہے طیر ایک عصفور تکنہ وحشی کپی اور لنگور تکلگے جاکے شاہین دستور یوںپڑے بکریوں میں کہن گرگ جیوںکلنگ ایسے بازوں سے آئے ستوہکہ کابل سے آگے گئے صد کروہنہیں قوچ سرزن نہ ایل نہ رنگہوئے قید یا صید کیا بے درنگغضب کرگئے جرے نواب کےاڑا کھا گئے خیل سرخاب کےنہ لگ لگ نہ تیتر رہا دشت میںنہ غم خوارک آیا نظر گشت میںسبھوں میں جو تھے قاز و سارس سرسہوئے صید یوں جن پہ آیا ترسحواصل کو ہوتا اگر حوصلہتو گرتا نہ کھیتوں میں ہو دہ دلہکہیں سارے طاؤس مرتے گئےادھر لوگ افسوس کرتے گئےکہیں جی اٹھی تھی زمیں بعد مرگنہال اس کے خوش قد بسیار برگنہ بستی سے صحرا تلک سبز تھےنظر جائے جس جا تلک سبز تھےہوا دلکش و ہر طرف سبزہ زارکہ سرسوں نے کی تھی قیامت بہارکھڑے لوگ محو تماشا تھے واںکہ کہنے لگی بلبل خوش زباںکہ خاطر جنوں سے نہ رکھتے نچنتخبر بھی ہے تم کو کہ آئی بسنتیہ عہد جنوں ہے جنوں کیجیےجگر کو غزل کہتے خوں کیجیے

غزل

بلبل کے بولنے سے آزار دل نے پایاکیا کہہ گئی کہ ہم کو سنتے ہی غش سا آیا

نخچیرگہ میں اس کے جاتا نہیں ہے کوئیہم کو تو شوق مفرط واں کا لگا کے لایا

انواع رنج ہم نے کھینچے تھے عاشقی میںپر ہجر کے الم نے چنگا بہت بنایا

صوفی صاف مشرب بے ہوش و بے خرد ہیںمستی نے اس نگہ کی مجلس کے تیں چھکایا

مہر و وفا و الفت کرتے تھے لوگ باہمرحمت خدا کی تم نے اس رسم کو اٹھایا

سر مارے تو پری کو ایسی روش نہ آئےکس ناز سے زمیں پر پڑتا ہے اس کا سایا

یہ جانتا تو ہرگز بازار میں نہ جاتایوسفؑ کے طور میں بھی سستا بہت بکایا

غیرت سے عاشقی کے جاتا نہیں ہوں میں تووہ خود بہ خود ہی آوے کاش اس طرف خدایا

معشوق تو ہے پر وہ اوباش کج روش ہےکیا کہیے میرؔ جی سے دل کو کہاں لگایا

کسو ایسے جنگل میں جانا ہواکہ مشکل قدم کا اٹھانا ہوانظر گرد لشکر پہ تھی دم بہ دمنہ تھا واں کے ضیغم کو کچھ اور غمکوئی ارسلاں بھیجتا گر رسولتو شاید کہ الحاح ہوتی قبولسو وے خوں گرفتہ تو بھولے ہوئےبہت اپنے زوروں پہ پھولے ہوئےچلے ہر طرف اب جو آکر تفنگنہ اوقات صلح و نہ ہنگام جنگلگی آگ جنگل میں چارہ گیابن آئی نہ کچھ مفت مارا گیاہوا چہرہ کوئی تو جوں شیر سنگنہ شیری دلیری نہ چہرے پہ رنگلگی گولی پڑنے نہ پھر چل سکانہ جاگہ سے اکسا نہ ٹک ہل سکاچلے ہم جو بہڑاچ سے پیشترہوئے صید دریا کے واں بیشتربھرے فرط ہی سے تو دیہات شہرکہے تو کہ سوتے رہے رود و نہرگھٹے گولیوں سے مگر بے شماررہے سونس گھڑیال چندیں ہزارجو کچھ زخم پانی میں لے کر گئےوہیں ہو کے ناسور مر مر گئےلگا کہنے باخہ سر اپنا جھکاکہ پانی تو جالوں سے سارا رکااگر جایئے تہ کو دھنس جایئےوگر گاڑیے سر تو پھنس جایئےعجب مخمصہ ہے بچے کیونکے جانیہی موت ہے سوجھتی ہے ندانجواب اس کا گھڑیال نے یوں دیاگھڑی ایک دو کا ہے قصہ رہاپڑی سر پہ بجتی ہے فرصت نہیںپہر اس کو کھنچتے ہیں اب کیا کہیںتحمل ہو کچھ بھی تو تدبیر ہوکریں کیا اگر یوں ہی تقدیر ہوکوئی دشت یک دست نے زار تھارکھے واں قدم پاؤں افگار تھایہی سینک یا کانس پانی کی گھاسزمین و ہوا آب و آتش اداسکہیں دوں لگی ہے تمامی ہے دودکہیں دو شجر ہیں سو کیا بدنمودنہ پتہ نہ شاخیں نہ کچھ ان کو بارسراپا ہے خشک و زبوں زرد و زارنہ سائے سے ان کے کوئی بہرہ مندنہ دیکھا چرندہ نہ آیا پرندسیاہی نہ ہرنوں کی ڈاروں نے کینہ چشمک کہیں سے چکاروں نے کیکہیں لپٹے آپس میں دو چار نےکہیں ہاتھی آیا کہیں شیر نےکہیں سرپتا سر پہ تھا جیسے تیغروندوں کے پاؤں پہ آیا دریغنہ بلبل غزل خواں نہ طیروں کا شورسبھی دیکھتے میرؔ کے منھ کی اورسو ان نے غزل سست سی یہ کہیولے دل کو لوگوں کے لگتی رہی

غزل

ذوق شکار اس کو ہے اتنا کہ حد نہیںکس اس کے تیغ کش پہ ملک کو حسد نہیں

خالی پڑے ہیں صید سے وادی و کوہساررہنے دو وحش و طیر کو اب دام و دد نہیں

بے جد و کد جو اس سے ملاقات ہو تو ہوتم کد سے دیکھو ہو کہ ہمیں اس کی کد نہیں

کچھ اور شے ہے خوب جو دیکھو رخ نگارہرچند گل بھی تازہ کھلا اتنا بد نہیں

اس بیکسی سے کون جہاں میں موا کہ میںجز داغ سینہ آج چراغ لحد نہیں

کیا سرو و گل سے ہووے تسلی کہ اہل شوقگل منھ نہیں ہے یار کا سرو اس کا قد نہیں

بے سوز دل کنھوں نے کہا ریختہ تو کیاگفتار خام پیش عزیزاں سند نہیں

سو بار مست کعبے میں پکڑے گئے ہیں ہمرسوائی کے طریق کے کچھ نابلد نہیں

لطف سخن بھی پیری میں رہتا نہیں ہے میرؔاب شعر ہم پڑھیں ہیں تو وہ شد و مد نہیں

کسو ایسے بن سے نکلنا ہواکہ کوسوں تلک اس میں چلنا ہواکشیدہ قد اس بن کے سارے درختچمن کے سے نوباوگاں سبز بختبرابر برابر کھڑے سر بہ سرپھرے دیر اودھر کو جاکر نظرپرے چل کے آیا تراکم بہتحواس اس میں جاکر ہوئے گم بہتکہیں راہ نکلی تو چلتے پڑےرہے پال و پرتل بہت واں کھڑےکہ شاخوں نے جھک جھک ملائے تھے سربہت آگے جا جا کے آئے تھے پھروہی راہ درپیش و کثرت ہوئیقیامت کے اوپر قیامت ہوئیسروں پر ادھر توپ آئی چلیپڑی تھی ادھر لوگوں میں کھلبلیکہیں اسپ و اشتر کہیں فیل مستزمیں ہر سر گام بالا و پستگذر جس طرح اس طرح سے کیاروندوں نے خون جگر ہی پیاوہیں بیچ آیا میانہ مراکوئی دیکھتا رنج اٹھانا مراسواری سے مجھ کو ندامت ہوئیکہ چاروں طرف سے ملامت ہوئیلگے کہنے آیا فرنگی کہاںکہ چوپالے کی رسم چھوڑے ہے یاںجسے دیکھو چار ان نے رکھ کر کہارلگا ہونے ہر صبح اس پر سوارچلو ہی چلو ہے کہ بچ جائیوکہ چوپالے کے پاس تم آئیوروندے ادھر کے ادھر ہیں خرابیہ جاتے ہیں مجرے کو بھاگے شتابچڑھے چار کے کاندھے جیتے ہی جیلیا اٹکل اس سودے میں نفع بھیکہ گھوڑے دیے چھوڑ یک بارگیمیانوں میں کرتے ہیں آوارگینہ اس حال سے اہل دفتر خبرتوجہ نہ عمدوں کی کچھ ہے ادھروگرنہ ہو قدغن کہ اب اہل کارنہ رہنے دیں لشکر میں ڈولی سوارنہ مانیں تو چوپالے دیویں الٹابھی گھوڑے لیں ڈپٹیں ایک ہی ڈپٹکرو میرؔ بحر اور اب اختیارمگر اس سے نکلیں در آبدار

غزل

جوجو ظلم کیے ہیں تم نے سو سو ہم نے اٹھائے ہیںداغ جگر پہ جلائے ہیں چھاتی پہ جراحت کھائے ہیں

تیغ دریغ نہیں ہے اس کی بسمل گہ میں کسو سے بھیہیں تو شکار لاغر ہم پر ایک امید پر آئے ہیں

ٹل کر سامنے یوں بھی اب جو تیر ترازو ہو اس کاکیا کیا لوہو پی کر دل کو اس پلے پر لائے ہیں

خم سے لگی میخانہ کے دیوار بھی اپنے گھر کی ہےلطف پیر مغاں سے عجب کیا ہم آخر ہمسائے ہیں

شوق غم میں بے صبری ہے آہ کسو کو کیا کہیےاچھے اپنے جی کو ہم نے آپ ہی روگ لگائے ہیں

محو سخن ہم فکر سخن میں رفتہ ہی بیٹھے رہتے ہیںآپ کو جب کھویا ہے ہم نے تب یہ گوہر پائے ہیں

دیکھیں طرف ہے کون سی جس سے تیغ ناز بلند کرےہم نے بھی تو اس ہی جہت سے فرق نیاز جھکائے ہیں

تب تھے سپاہی اب ہیں جوگی آہ جوانی یوں کاٹیایسی تھوڑی رات میں ہم نے کیا کیا سوانگ بنائے ہیں

کس کو ایسی بے خبری تھی جس کے بولے تو چونکاسو ٹھوکر نے ان پلکوں کی کتنے فتنے جگائے ہیں

کون وہ ایسا ظالم تھا استاد فن عیاری کااتنے سن میں جن نے تجھ کو ایسے فریب سکھائے ہیں

میرؔ مقدس آدمی ہیں تھے سبحہ بہ کف میخانے میںصبح جو ہم بھی جا نکلے تو دیکھ کے کیا شرمائے ہیں

کیا ایک نالے سے ہم نے گذرہوئی قائم اس جا پہ حشر دگرگرے گاڑی چھکڑے پیادے سوارکہ مقصد تھا سب کا عبور ایک بارگذارا جو فیلوں کا پہلا ہواملا خاک میں آب چہلا ہواکمر تک لگے پھنسنے دلدل کے بیچکہ نالے کا پانی تھا یک دست کیچپھنسے گاؤ اشتر گرے بارخرہوئے اسپ و اشتر بھی زیر و زبراگرچند باندھے تھے وہ جسر خامہوئے ایک ریلے میں دونوں تمامنہ دیکھے تھے آگے کبھو یہ سمیںولیکن خدا نے اتارا ہمیںسلامت رہا اپنا اسباب سبرہے لوگ لشکر کے کرتے عجبچلے واں سے آگے بنڈیلا ملاکیا ان نے ایک ایک کو دہ دلہعجب راہ پرخوف مشکل گزارنہ ہوتے تھے معلوم ہاتھی سوارخطر شیر کا شور بنگاہ کاتعب واں کے جانے کا غم راہ کاکہ جا و زمیں کچھ ہویدا نہ تھیکہیں اس میں پگڈنڈی پیدا نہ تھیگڑھے غار پاؤں کی لغزش بلاچلی باؤ تو نے کی لرزش بلاصدا برگ نے کی نہایت مہیبطریق عجیب و مسافر غریبجنوں پیشہ وہ دشت وحشت شعارکہ فیل اس کے طفلان بازی مدارکہیں پانی آیا سو حالت خرابکہ تھا زیر کاہ اس میں ہر جاے آبنہ ہاتھی نہ اسباب اپنے کنےیہی اک میانہ بنے سو بنےچنانچہ گئے راوتی کے کنارنہ ربط آشنائی کسو سے نہ پیارکھڑے ہم رہے ہاتھ پر رکھ کے ہاتھکریں پار جانے کی کس منھ سے باتکہار اک میانے میں اپنے دیےپھر اس کے جو تھے چاروں ہم نے لیےچڑھ ان کے سر آں روے دریا ہوئےہوئے پانی پانی کہ رسوا ہوئےنہ جانا کہ آتا ہے کس کا قدمکہ صید بیاباں گئے کرکے رمگوزن ایک دو مار لائے کبھواڑے باز جرے کہیں ایک سونہ صید ایک دیکھا بھرے لاکھ رنگغزل میرؔ نے بھی کہی اور ڈھنگ

غزل

اک درج موتیوں کے عوض ہاتھ آگیایوسفؑ ہزار حیف کہ سستا بکا گیا

جانا نہ تھا سرہانے سے مجھ مختصر کے ہائےکیا وقت رہ گیا تھا کہ وہ منھ چھپا گیا

آشفتہ سر ہیں سرو و گریباں دریدہ گلبیٹھا کہاں چمن میں کہ فتنہ اٹھا گیا

گل برگ سے بھرے تھے کہے تو کنار و جیبکیا کیا سمیں نہ گریۂ خونیں دکھا گیا

خط بھیج کے بھی شوق کی باتیں چلی گئیںقاصد کے پیچھے دور تلک میں لگا گیا

روتا ہوں یوں کہ برسے ہے شدت سے جیسے مینھجوں ابر میرے دل پہ غم عشق چھا گیا

جو نقش روزگار کے صفحے سے محو ہوصورت پذیر پھر نہیں ہوتا مٹا گیا

ہستی مری کہ ہیچ تھی میں منفعل رہااس شرم سے ندان زمیں میں سما گیا

داغ دل خراب شبوں کو جلے ہے میرؔعشق اس خرابے میں بھی چراغ اک جلا گیا

چلے صبح گہ دامن کوہ کوتماشاکناں فوج و انبوہ کودرختوں میں چلنا تو دشوار تھاولے راستہ بھی قدم وار تھاگزارا ہوا یوں ہی اک آدھ کوسپٹیلے پہ ہنگامہ آرا تھی اوسنیستاں میں چھپتا تھا گھوڑے سواراگر ہو تو واں شیر کا ہو شکارنہ رہتے تھے سو شیر شرزہ بھی واںنہ ہاتھی کے پاؤں کا پایا نشاںعجب کشمکش درمیاں آگئیبہیر اک بلا تھی جہاں آگئینہ ہلنے کی جاگہ نہ چلنے کو راہسروں پر کھڑے اسپ و فیل سپاہخطر فیل دشتی کا ہر ہر قدمگئے شیر کے ہر قدم پر قدمکنار آب کے لوگ اترے تمامہوئے دامن کوہ میں کچھ مقامسر کوہ کیونکر نہ ہو چرخ ساےکہ نواب واں سیر کرنے کو جائےرہے آب پر فرش چوکی و تختخہے رود کوہ و زہے ان کے بختہمارا تو جانے کو چاہا نہ جیکہ تھے پیر ہم واں ہوا خوب تھیرہی منعقد بزم تھا ناچ راگنہ ہو کچھ تو کیونکر ہو یہ دل کی لاگکہی اور ہی بحر میں یہ غزلمگر میرؔ کو ہے دماغی خلل

غزل

کر لطف عارض مت چھپا عاشق سے اے یار اس قدریک جان کو یہ عارضے یک دل کو افکار اس قدر

جو کچھ ہے سو دل کے سبب غم غصہ و رنج و تعبتھے چاہنے سے پیشتر کاہے کو بیمار اس قدر

ہر دم جو اس کے ابرواں جنبش میں ہیں کانپے ہے جاںیعنی ہیں آنکھیں جھپتیاں چلتی ہے تلوار اس قدر

شب نالہ و زاری رہے دن خستگی خواری رہےوہ دل نہیں باقی رہا کھینچے جو آزار اس قدر

وے دل زدے ہیں خستہ جاں مر جاتے ہیں جو ناگہاںورنہ قضا کس شخص کی پہنچی ہے یک بار اس قدر

طرے سے طراری کرے مستی میں ہشیاری کرےآیا نظر اب تک نہیں طرار و عیار اس قدر

الفت کہاں کلفت ہے یاں یہ بھی عجب صحبت ہے میاںبیزار وہ اس مرتبہ جس سے ہمیں پیار اس قدر

تم آگے کب تھے بدگماں سب حجت و یکسر زباںاب اک سخن پر مہرباں کرتے ہو تکرار اس قدر

آنکھیں کھلی ہیں میرؔ کی جب دیکھو تب آئینہ ساںآدم نہیں ہوتے کہیں مشتاق دیدار اس قدر

بہا سنگ ریزوں پہ اس رنگ آبکہ قدر ان کی جوں قدر یاقوت نابلیے عمدے ہاتھوں میں دیکھیں بہارکہ ہر شے کا ہے وقت لیل و نہاراسی آب کا رابتی یاں ہے نامہمیں ساتھ اس کے ہے ربط تمامکنارے کنارے اسی کے ہے راہچلے جاتے ہیں جو نہ ہووے پناہجہاں تک ہے آب و خور اب جائیں گےسمیں دیکھیں گے جو نظر آئیں گےجبل سے ہوئے ظاہر آثار آببرسنے لگا قطرہ قطرہ سحابہمیں پر نہیں کچھ ہوا کا ستمکہیں گرگ وادی کو بھی ہے یہ غمکہیں ایسے سکڑے ہیں حیوان دشتکہ ٹکڑے کرو تو نہ ہوں گرم گشتنہ نکلے ہے ہاتھی نہ بولے ہے شیرکوئی یوز پکڑا ہے سو بعد دیراسد یک طرف یوز یک سو رہےعجب یہ ہے باندھے گئے اژدہےنہ پوچھو کھنچا دور کار شکارنہ اب دشت و در میں نمر ہے نہ مارشکارافگناں راہ کرتے تھے طےملے جاتے تھے خاک میں دشت نےنہ ببروں کو جنگل میں طاقت رہینہ مگروں کو پانی میں فرصت رہیاسد مارے جاتے تھے سگ کی مثالبندھے آتے تھے یوز و گرگ و غزالملا ایک چقر اگر یا گڑھاتو کثرت سے نو نیزہ پانی چڑھابہت مشکلوں سے کیا ہے عبورکہ یک گام راہ اور سو سو فتورغزل بحر کامل میں تہ دار کہہکہ اڑ جائے میرؔ اس بحیرے کی تہ

غزل

نہ دماغ ہے کہ کسو سے ہم کریں گفتگو غم یار میںنہ فراغ ہے کہ فقیروں سے ملیں جا کے دلی دیار میں

نہ چمن میں جاتے رہا ہے دل نہ بنوں میں پھرنے لگا ہے دلوہی بے کلی رہی جان کو رہے سیر میں نہ شکار میں

کہے کون صید رمیدہ سے کہ ادھر بھی پھر کے نظر کرےکہ نقاب الٹے سوار ہے ترے پیچھے کوئی غبار میں

ترے شام خط کے قریب کی جو صفا میں دیکھی میں خوبیاںنہ سمیں پہ گل میں نظر پڑے نہ یہ رنگ صبح بہار میں

کوئی شعلہ ہے کہ شرارہ ہے کہ ہوا ہے یہ کہ ستارہ ہےیہی دل جو لے کے گڑیں گے ہم تو لگے گی آگ مزار میں

جھکی کچھ کہ جی میں چبھی سبھی ہلی ٹک کہ دل میں کھبی سبھییہ جو لاگ پلکوں میں اس کے ہے نہ چھری میں ہے نہ کٹار میں

مرے ایک دل میں جو غم یہ ہے سو فزوں ہے میرے شمار سےنہ تو دس میں یہ نہ پچاس میں نہ تو سو میں یہ نہ ہزار میں

بڑے جانور خوار کیا کیا ہوئےبندھے پاے فیلاں سے رسوا ہوئےبہت نالے کھولے پکھالے گئےبحیروں سے روہو نکالے گئےمگر کی پس از مرگ عزت ہوئیکہ ہاتھی پہ چڑھنے کی رخصت ہوئیکشف کا ہوا ہے یہ اوصاف ابکہ جھینگوں نے کی شرح کشاف ابنہ تیتر بٹیر اور کبوتر ملادیے باز جروں کو سارے کھلاکہیں بحری پانی میں یوں جا لگےکہ پنجوں میں بے صید ادھر آ لگےہوا میں سے یوں کر اتارے کلنگکہ بازوں نے چڑیا سے مارے کلنگکسو اور ارنوں کو دیکھا کھڑےکہے تو بیاباں میں ہاتھی پڑےجگر کرکے جاتے تھے مردان کارتو وہ ایک دو کر ہی لاتے شکاروگرنہ بشر کا نہ مقدور تھاقریب اس کے جانا بہت دور تھانہ ان چارشانوں کا روکش ہے شیرنہ سو فیل دوچار رکھتے ہیں گھیرمددگار تھے حضرت زندہ پیلپکڑ لاتے تھے لوگ تب ژندہ پیلبحیرہ نہ دریاے اعظم سے کماٹھا کرتے تھے لجے لطمے بہمہر اک موج اس کی سمندر کی لہرکنارے پہ گرداب غرقاب قہریہی جنگل اس جھیل کے آس پاسدرختوں کا انبوہ نے کا اگاساسی بن میں شیر اور یوز و پلنگاسی بن میں گور و گوزن اور رنگاسی بن میں ہاتھی وہیں کرگدنوہیں قوچ سرزن اسی میں ہرناسی بن میں لنگور بندر بھی تھےوہیں ایک دو ہم قلندر بھی تھےاسی بن میں پاڑھا وہیں نیل گاؤاسی بن میں یہ صیدبندی کا چاؤاسی بن میں تھے حضرت بوحمیداسی بن میں نسناس ان کے مریداسی بن میں تھے خوک جاموش رنگکیا اس سوربن نے لوگوں کو تنگاسی بن میں رہنا اسی بن میں راہوہیں شام کا حسن لطف پگاہاسی بن میں وہ جھیل گہری بہتہوئے صید بری و بحری بہتوہیں مچھلی بکتی تھی دمڑی کی سیرولیکن نہ کھاتا تھا ہو کوئی سیرکہ اس آب کا ہضم دشوار تھاکہ جوں آب شمشیر دم دار تھاشغال اور خرگوش جی سے گئےشکاری سگ ان کو اچک لے گئےغزل سے لگا ہے بہت میرؔ دلکہ اس مثنوی میں کہیں متصل

غزل

ہے گی طلب شرط یاں کچھ تو کیا چاہیےبیٹھے نہیں بنتی میاں کچھ تو کیا چاہیے

عشق میں اے ہمرہاں کچھ تو کیا چاہیےگریہ و شور و فغاں کچھ تو کیا چاہیے

ہاتھ رکھے ہاتھ پر بیٹھے ہو کیا بے خبرچلنے کو ہے کارواں کچھ تو کیا چاہیے

میں جو کہا تنگ ہوں مار مروں کیا کروںوہ بھی لگا کہنے ہاں کچھ تو کیا چاہیے

سون کسے رہنے کی کس نے بدی ہے بھلالطف و غضب مہرباں کچھ تو کیا چاہیے

کام اب اپنا ہے یاں کندن جاں ہر زماںکیا کریں ہم ناتواں کچھ تو کیا چاہیے

کیا کروں دل خوں کروں شعر ہی موزوں کروںچلتی ہے اب تک زباں کچھ تو کیا چاہیے

ہو نہ سکے گر نماز دل کی طرف کر نیازوقت گیا پھر کہاں کچھ تو کیا چاہیے

چاہوں کسو سے دعا دل کی کروں اب دوانفع ہو پھر یا زیاں کچھ تو کیا چاہیے

عمر گئی لغو سب وقت بہت کم ہے ابکچھ نہ کیا ہائے میاں کچھ تو کیا چاہیے

یہ تو نہیں دوستی ہم سے جو تم کو رہیپاس دل دوستاں کچھ تو کیا چاہیے

تونے کماں کی ہے زہ پر ہوں نہ یوں صید میںمیری بھی خاطر نشاں کچھ تو کیا چاہیے

میرؔ نہیں پیر تم کاہلی اللہ رےنام خدا ہو جواں کچھ تو کیا چاہیے

کنارے پہ تھی اس کے اک گل زمیںسراسر ہری جوں زمردنگیںجہاں تک نظر جائے شاداب تھیکہ یک دست واقع لب آب تھیوہیں خیمے سب کے ہوئے تھے کھڑےوہیں دام رہتے تھے اکثر پڑےنواڑوں کی سیر اس میں ہر شام گہوہی سیرگاہ و وہی دام گہوہیں صید ہوں مرغ و ماہی تماممقام ایسے ہوویں تو کریے مقامہوا خیمہ آکر جو نواب کافلک ساے تھا فرق اس آب کاہوا ہوتا واں کاش دو آب رزہوئے جیسے شائستۂ سیر نزعجب ڈھب سے کی روشنی صد عجبکہ دیں چھوڑ ناویں دیے بھر کے سبجدا ہوویں تو غنچہ غنچہ چراغملے جیسے عاشق کی چھاتی کے داغورے روشنی شعلہ انگیز نارپرے سطح پانی کا آئینہ وارہوئیں کشتیاں کچھ ورے سے پرےچراغوں سے موجوں کے کوچے بھرےحبابوں میں تھی جو چراغوں کی تابحبابی تھا آئینہ سب سطح آبنمودار چرخ پر انجم تھی شبدیوں سے وہ پھیلاؤ پانی کا سبغرض روشنی کی عجب کچھ تھی لاگلگا دی ہے گویاکہ پانی میں آگغزل میرؔ کوئی کہا چاہیےکسو تو زمیں پر رہا چاہیے

غزل

کب آوے گا کیا جانے وہ سروقامتہمارے تو سر پر ابھی ہے قیامت

نماز سفر ہے اشارت اسی سےکہ تھوڑا بہت یاں ہے وقت اقامت

رہا رابطہ غارت دل تلک بسنہیں اب تو بندے سے صاحب سلامت

گریباں کو گل چاک کرنے لگیں گےکھلے رکھ گلستاں میں بند قبا مت

اٹھاکر نہ یک زخم شمشیر اس کاغزال حرم نے اٹھائی ملامت

بگڑتی ہے صورت علاقے سے دل کےکسو بے وفا سے دل اپنا لگا مت

کوئی فصل گل میں بھی توبہ کرے ہےرہے گی ہمیں دیر اس کی ندامت

کہیں دل کی لاگیں لگیں چھپتیاں ہیںکہ چہرے کی زردی بڑی ہے علامت

گئی سو گئی پیشتر تھی جوانیرہ عشق میں میرؔ آئندہ جا مت

زمانے میں ہے رسم کہنے کی کچھامید اس سے ہے نام رہنے کی کچھکسو سے ہوئی شاہنامے کی فکرکہ محمود کا لوگ کرتے ہیں ذکرگیا شاجہاں نامہ کہہ کر کلیمدل شاعراں رشک سے ہے دونیمکنھوں نے کہی عشق کی داستاںہوا کوئی کہانی سے ہم داستاںپئے آصف الدولہ میں نے بھی میرؔکہے صیدنامے بہت بے نظیرمگر نام نامی یہ مشہور ہوگئے پر بھی لوگوں میں مذکور ہوزہے آصف الدولۂ دادگرسخنورنواز اور عاشق ہنردہش سے جہاں اس کے رونق پذیروزیر ابن دستور ابن وزیرکریمی کرے تو جہاں در جہاںکف جود خورشید سا زرفشاںسراپاے احساں تمامی ہممہمہ تن مروت سراسر کرمہمیشہ رہے گرم سیروشکاریہ حرف و حکایت بھی ہے یادگارقفاے غزل اک رباعی کہوسخن آگے موقوف چپکے رہوبہت کچھ کہا ہے کرو میرؔ بسکہ اللہ بس اور باقی ہوسجواہر تو کیا کیا دکھایا گیاخریدار لیکن نہ پایا گیامتاع ہنر پھیر لے کر چلوبہت لکھنؤ میں رہے گھر چلو

غزل

کرو تامل کہ حال ہم میں رہا نہیں ہے غموں کے مارےجو کچھ بھروسا جنھوں پہ تھا سو شکیب و تاب و تواں سدھارے

ہوئے ہیں غائر قیامت اب تو گئے جگر تک گئے ہیں دل تکجو ٹک بھی دیکھے وہ غور سے تو جراحت اس کو دکھائیں سارے

ہماری آنکھیں بہی ہیں اتنی کہ اب ہے دریا محیط عالمکہیں کہیں جو رہیں ہیں مردم سو بیٹھے ہیں وے کیے کنارے

کریں تحمل سو کاہے پر ہم مدام بے خود ہمیشہ غش ہےگئی ہے طاقت دلوں سے شاید نہیں ہے آیا جگر ہمارے

کبھو سروں پر ہے تیغ نالہ کبھو سنان فغاں جگر پرکسو سے کہنے کا کچھ بھی حاصل گئے ہیں جوں توں کے وقت بارے

بھری تھی آتش کہاں کی یارب دل و جگر میں کہ نصف شب کولگا جو رونے تو جاے آنسو مری مژہ سے گرے شرارے

قبول عشق و محبت اتنا ہوا ہے اے میرؔ سیر قابلمدام جاتے دکھائی دوں ہوں کبھو نہ ان نے کہا کہ آرے

رباعی

چلنے کو ہوئے بادیے سے ہم جو کڑےمل چلنے کے اتفاق بہتیرے پڑےمجنوں نے کہا تھا میں بھی آتا ہوں میرؔآیا نہ رہے راہ میں ہم دیر کھڑے

شکار نامۂ اول

چلا آصف الدولہ بہر شکارنہاد بیاباں سے اٹھا غبارروانہ ہوئی فوج دریا کے رنگلگا کانپنے ڈر سے شیر و پلنگطیور آشیانوں سے جانے لگےوحوش اپنی جانیں چھپانے لگےسن آواز شیران نر ڈر گئےپلنگ و نمر خوف سے مر گئےجہاں ببر آیا نظر صید تھابیاباں اسی پہن سے قید تھاگئے مست ہاتھی مکانوں کو چھوڑدیے پنجۂ شیر نلیوں سے توڑنہ دیکھا نہ ہم نے سنا یہ شکارکہ بکری سا ہاتھی کو لیتے ہیں مارپلنگان صحرا کے دل خوں کیےنہنگان دریا ہوئے مرجیےکہاں سہل مارے گئے نرہ شیرلگے بکریوں کو پکڑتے بھی دیرہوئے لشکری جب کہ سرگرم گشتمقید ہوئے مست فیلان دشتگئے جانور دشت خالی رہےبیابان جھاڑے گئے توکہےعجب تر ہے یہ صید کرنے کا ڈھنگکہ چو رنگ ہاتھی ہوئے بے د رنگنہ چیتل نہ پاڑھا نہ ارنا نہ شیرہوئے گولیاں کھا کے یک لخت ڈھیردرندوں کا پیدا نہ نام و نشاںنہ شیر ژیان و نہ پیل دماںکبھو فیل دشتی نہ جکڑے گئےنہ یوں بھیڑ بکری سے پکڑے گئےسنا جس طرف فیل دشتی کا میلرواں فوج ادھر کو ہوئی سیل سیلاگر ٹک بھی اٹکا تو مارا گیاپڑے سینکڑوں پھاند چارا گیاوگر سرکشی سے کی استادگیتو پیش آئی اک طرفہ افتادگیپہاڑ ایک ہاتھی مقابل ہوابزور آمد و شد کا حائل ہواجٹے دونوں وے دیو میدان میںاٹھا شور محشر بیابان میںجہاں دونوں فیلوں کی تھی سرزنیشتر مرغ سے واں نہ ہو پر زنیجو اس مار کھانے پہ اکڑا رہاکئی روز رسوں سے جکڑا رہارہے کس طرح پھٹ گیا تھا جگرموا دوپہر میں لہو موت کرمگر سرکشی سے نہ اپنی ہٹانہ میدان میں ٹک دبا ٹک گھٹااشارہ ہوا اس کے چورنگ کاسبھوں کو ارادہ ہوا جنگ کابرسنے لگا مینھ تیروں کا زورہوا فیل باراں کا جنگل میں شورلگی پڑنے بجلی سی تیغ سپاہپریشان ہو جیسے ابر سیاہنہایت وہ ہاتھی ہوا لخت لختگرا یوں کہ جیوں پارۂ کوہ سخترکھا لاکے لشکر میں اثناے راہسر اس کا کٹا جیسے برج سیاہرہے کہتے اس دن عجب سب ہے یہسر فیل ہے یا سر شب ہے یہاگر دیو ہیں سرگرانی کے ساتھنہ اس تیرگی و کلانی کے ساتھدماں خشم گیں جیسے آتش یہ تھامگر فیل سر دیو سرکش یہ تھاگوزن اور ہرنوں کی کیا دیجے شرحگئے شیر مارے سو کتوں کی طرحگیا دشت در دشت شور شکارہوئے گرگ آہو کے اوپر سوارہرن جھانگیوں میں رہے گھومتےکھپے فیل بیلوں ہی میں جھومتےبرابر رہے گور و شیر ژیاںبرابر تھا دونوں کو وسواس جاںگئے پیشتر چھوڑ نخچیرگہشغالوں کی روباہ بازی تھی یہاس اوقات سے جوکہ بے ہوش تھےبہیروبنہ کے وے خرگوش تھےاگر ریچھ نکلا تو تھا سو بہ سوبہت مضطرب تھا وہ آشفتہ موقلندر سپاہی پئے جاں ہوئےلیے اس کو سر در گریباں ہوئےعلف آب گوں تیغ کا پھر ہواکہیں پاؤں اس کے کہیں سر ہواموئے اس طرح حضرت بوحمیدکہ جوں ہوتے ہیں گے بڑے سے پلیدگرے پشت سوے فلک خاک پراک انبوہ تھا جسم ناپاک پرگئے لادنے فیل پر لشکرییہی ذات تھی لائق برتریکروں صید ماہی کا کیا میں بیاںکہ فیلوں پہ تھے تودہ تودہ رواںپڑے سینکڑوں دام تالاب میںنہ چھوٹی تنک خاک اس آب میںنہ تیتر نہ طاؤس صحرا کے بیچنہ ماہی نہ مرغابی دریا کے بیچرہے گوشت ہی پکتے ہر صبح و شامجواں کھاگئے مرغ و ماہی تمامہوا حائل راہ بحر عمیقکہ ہو وہم ساحل پہ جس کے غریققریب آکے اتری یہ خائف تھی فوجکہ بے ڈول اٹھتی تھی ہر ایک موجمہیب اور آلودۂ خاک و آببعینہ پھٹی آنکھ تھا ہر حبابغضب لجہ خیزی بلاجوش پرتلاطم قیامت لیے دوش پرچلے بس تو کچھ کوئی چارہ کرےمگر دیکھ ہی کر کنارہ کرےتردد میں ہر اک کہ ہوں کیونکے پارکنارے پہ سرگشتہ گرداب واررواں آب ایسی روانی کے ساتھکہ جوں رفتگی ہو جوانی کے ساتھلگے پاؤں چلنے جہاں شور تھاکہ کم آب میں بھی بڑا زور تھاتامل سے اقبال نواب دیکھتوقف کیا پہلے تو آب دیکھپھر اس پار جاکر اشارہ کیاکہ لشکر نے ووہیں گزارہ کیاشباشب اترنے لگے لشکرینہ جوش آب کا وہ نہ ویسی تریوہ سوتا جگاتا تھا جس کا خطراٹھا شور سے فوج کے چونک کرنشہ اس کے سر سے اتر سا گیاچڑھائی سے لشکر کی ڈر سا گیاکچھ اک ناویں لے کچھ شجر کاٹ کرشتابی سے دریا کے تیں پاٹ کراترنے لگا لشکر بیکراںکراں تا کراں تھی یہ محشر عیاںسلامت ہوا پار سب ازدحامرہے دنگ خضر علیہ السلامشکار اس کنارے بھی تھا بیشترہوئے صید یاں کے جگر ریش ترگئے ارنے مارے سو مانند فیلہوا خون جنگل میں ان کا سبیلرہے گور راتوں کے تیں جاگتےگئے ببر کوسوں تلک بھاگتےپکڑ لائے چیتے گوزن اور گورعصا سے چلے راہ یاں مار و موربہت ہم نے دیکھے وزیر و شہاںشکار ایسے دستور سے تھا کہاںنمک خوار مجھ سے تو ہیں گے ہزارپہ میرا بھی ہونا ہے یھاں یادگارغرض میرؔ تا دور چرخ بلندرہے آصف الدولہ اقبال مندکرے اس کا اقبال ہر لحظہ کامشکار اس کے دشمن رہیں صبح و شامغزل میرؔ کوئی کہا چاہیےٹک اس بھی زمیں پر رہا چاہیے

غزل

ہم وحشیوں پہ کچھ ہو کاہے کو یار ہے تواے ترک صیدپیشہ کس کا شکار ہے تو

پہنچی قریب شاید نخچیرگاہ اس کیجوں صید خوں گرفتہ دل بے قرار ہے تو

دل تجھ تلک رسائی مشکل ہے چشم تر سےعسرالعبور کیسے دریا کے پار ہے تو

شہری ہیں اس کی آنکھیں کیا تجھ کو ان سے نسبتاے آہوے بیاباں اچھا گنوار ہے تو

کیا صبح جلوہ گر ہو خوبی کے آگے تیریاے گل دم تبسم باغ و بہار ہے تو

یھاں دو قدم بھی چلنا بن سر دیے نہ ہووےاے راہ عشق کتنی مشکل گذار ہے تو

لیتا ہے تجھ سے عبرت جو کوئی دیکھتا ہےکیا میرؔ اس گلی میں بے اعتبار ہے تو

باز قدم رنجہ فرمودن آصف الدولہ بہادر روز دیگر براے شکار

چلا پھر بھی نواب گردوں شکاراسد باؤ کے گھوڑے پر ہو سوارروانہ ہوئی فوج دریا مثالنہنگوں کی اب کھینچی جاوے گی کھالگیا شور تا آسمان بریںہوئی گرد افواج گردوں قریںزمیں ہوگئی جاے خوف و خطرفلک کو لگے دیکھنے شیرنرچڑھا بسکہ دریاے فوج گراںاتر ہاتھیوں کی گئیں مستیاںدبی چپ لگا چلنے بھیڑوں کی چالپریشاں ہے گرگ بغل زن کا حالپلنگوں نے کہسار سے راہ لینہنگوں نے دریا کی جا تھاہ لیبحیرے جو تھے دام سے چھا گئےکشف نیچے ڈھالوں کے گھبرا گئےدرندے پرندے چرندے کھپےگزندوں کے منھ گرد نیچے ڈھپےتلف جانور ہیں جہاں کے تہاںگوزن اور گور اور آہو کہاںرہے گور یک شاخ و یک سو غزالتزلزل میں ہیں کیا شجر کیا نہالشغال اور روباہ و خرگوش سےنہیں بحث کچھ یہ ہیں بے ہوش سےکوئی شور سن سن کے گھبرائے ہےکوئی کان ڈالے چلا جائے ہےکوئی ڈھونڈتا ہے بیاباں میں جھاڑکوئی چاہے ہے پھاند جاؤں پہاڑکہ شاید یہ اودھر نہ ہو کل مکلکوئی دن جیے اس بلا سے نکلپھرے مضطرب ہو کے شیر غریںکہ بیشوں میں تھی یا کماں یا کمیںنکلتا ہے کفتار پر بے حواسہزبر جگرخوار سب ہیں اداسکیا کام ڈرتے گئے پھٹ جگربن آئی ہی مر مر رہیں ہیں نمراگر خرس تھا مفتر و بدمعاشلگا موش خانے کی کرنے تلاشوگر ببر ہے پیش و پس ہے نگاہنہیں سوجھتی بے حواسی سے راہمبادا شکاری سگان رکابگریں آکے مجھ تک بھی پہنچیں شتابہوا آب زہرہ وہ شیری گئیجگر ڈر سے ہے خوں دلیری گئیہوئی صیدبندی کی جنگل میں دھومگرے فیل جیسے گھٹا آوے جھومبیاباں میں چھایا ہے کیا ابر مرگبرستی ہے گولی بسان تگرگلڑائی نہیں ہوں جو مصروف جنگاڑیں رنجکیں اڑتے دشمن کے رنگجو آتا ہے پلٹن کو کچھ ولولہچلے ہے کوئی توپ ہے زلزلہاگر جاے تھی اس کی کوہ گراںگیا شیر پھنکے بھی جاگہ سے یھاںنہ دل مرد ہے ببر و گرم شتابدل شیر برفی بھی ڈر سے ہے آبنہ رنجک کے اڑنے کا اچھا ہے طورہوا آن ہی میں زمانہ کچھ اورہوئی گرم آتش زنی سے ہوارکھا آب میں جا کے لگ لگ نے پامحیط آب گیروں کے تھے مردکارموئے مالک الحزن چندیں ہزاربہت دام پانی کی جانب جھکےکھڑے رہ گئے رود کیا کیا رکےٹھٹک سونس گھڑیال رہ رہ گئےمگرمچھ نہ جانے کدھر بہہ گئےنہ قشقل نہ سلی نہ سرخاب ہےتمام ان کے لوہو سے سرخ آب ہےعجب روغن قاز ملتے تھے یارکہ قازوں کو لیتے ہوا میں سے مارمنگاتے تھے بطخ کی چربی ظریفسو وہ چربی اب پھینک دیں ہیں حریفہوئے کتنے اقسام ماہی شکارنہ آوے قسم کھائے بن اعتبارمگر مرگ ماہی تھی جالوں کے بیچکہ یوں مچھلیاں سب نکالیں الیچنہ ارنب ہے جنگل میں نے سوسمارکوئی بدوی کیا کھاوے پروردگارکلنگوں کی الٹی گئی صف کی صفہوئے بیچ میں قرقرے بھی تلفنہ سبزے گئے سبزہ کھا کھا کے چیتبزے ویسے ہی آئے کھیتوں میں کھیتبٹیر اور تیتر کا ہے کیا شمارکہ باز آگئے جرے کرتے شکارہوا زرد سبزک بہت دل میں ڈرنمدمو ہوا گرد سے شانہ سرخطرناک تھا دشت کیا کہیے موردبا یوں پھرے جیسے دبتا ہے چورنہ پاڑھا نہ نیلا نہ چیتل کوئیبنوں میں جو دوں تھی گئی جل کویکوئی میرؔ صاحب غزل یاں کہوپر ایسی کہ ویسی کسی سے نہ ہو

غزل

کیا کشت و خوں پہ ان دنوں میلان یار ہےہر جاے پوچھتا ہے کہ یاں کچھ شکار ہے

جاتا ہے اس کشندے کی جانب چلا ہواصید ازل رسیدہ ہے دل بے قرار ہے

آنکھیں جو میری باز ہیں جوں صید بسملیاس ترک صیدبند کا یہ انتظار ہے

عزت جو اس گلی میں ہے اپنی نہ پوچھیےجب جایئے تو خشم ہے گالی ہے مار ہے

جانیں چلی گئیں ہیں بہت قلب گاہ سےتو رہ کے جا کہ راہ ابھی پرغبار ہے

ہے زلف و روے یار سے ہر لحظہ بحث یھاںیہ وجہ ہے کہ شعر مرا پیچدار ہے

کم اختلاطی کا ہے گلہ یار سے عبثکس کشتۂ وفا سے بہت اس کو پیار ہے

گل گل شگفتگی ہے ترے چہرے سے عیاںکچھ آج میری جان قیامت بہار ہے

کیا میرؔ تم کو گریۂ شب سے ہے گفتگوطوفان میری پلکوں کا سردرکنار ہے

نشیب و فراز بیاباں کو سنجو ذی ہوش ہیں وے تو ہوتے ہیں سنچڑھو آسماں پر جو آوے چڑھاؤپھر اترو تو تحت الثریٰ ہی کو جاؤجو اس میں کہیں ہووے لغزش تو خیرکہ درپیش ہے اور عالم کی سیرزمیں ضیق ازبس ہوئی یک بہ یکنہ پھیلا سکا پاؤں گزپا تنکملے پر سے پر تھے ہوا میں کلنگکہ چلنے لگے یاں سے تیر و تفنگقیامت تھی آفت تھی ہر ایک چوٹلگے جس کے پھرتا وہیں لوٹ پوٹہوئے خون اس جمع کے بے درنگہوا کا ہوا اور اک دم میں رنگنہ پر تھا نہ پرزا نہ بازو نہ پاکنھوں نے بھی پوچھا نہ یوں تھا یہ کیانہ زردی کو دیکھا نہ پایا کبودنکالا ہے لوگوں نے پانی سے دودسپہ کی بلا ترک تازی رہینہ سارس کی وہ سرفرازی رہیکماں دار مردم سے چارہ گیاکسو کھیت پر مفت مارا گیانہ جو فیل دشتی کی مستی گئیوہیں مٹ گیا اس کی ہستی گئیسنانوں کی نوکوں پہ پھر بٹ گیاوہ کوہ گراں سنگ سب پھٹ گیابہت جانور چھوڑ آکھر گئےلگی دوں بہت جل گئے مر گئےاگر بن ہے گویا بنا ہے اسےکرے قصد واں کا تو کیوں کر گھسےمگر زور سے کچھ نکلتا ہے کامبہت رنج کھینچے سے چلتا ہے کامخریدار دستار سرخار بنزمیں پر رکھو پاؤں کانٹوں کو چنکئی گام یوں راہ چلنا پڑےپھر اس دامگہ سے نکلنا پڑےتو آگے بیابان پرخار ہےکہیں جھاڑ بوٹا کہیں غار ہےاگر اس میں پانی نظر پڑ گیاکنارے پہ اس کے یہ چڑھ کر گیاہوا حال اپنا پریشاں بہتپھرے مضطرب اور حیراں بہتترائی جو واں سے گذرنا ہواکہاروں کے سر چڑھ اترنا ہوابیابان وحشت اثر پرخطریہی ڈر ہے ڈر کیا ادھر کیا ادھرجہاں تک نظر جائے سوکھی ہے کانساگر سبزہ بھی تھا تو تھوہڑ کا بانسکہیں دل رکے بند ہوجائے دملکھوں کیا نیستاں ہی تھے یک قلمچلے باؤ دن کو تو ہو سائیں سائیںپڑے رات تو پھر کرے بھائیں بھائیںنہ سبزہ نہ کھیتی نہ آب رواںکوئی شیر غراں کہ پیل دماںسو وہ شیر مارا گیا مثل سگوہ ہاتھی پکڑ لائے بے تاز و تگکوئی دشت ایسا کہ تھا سبزہ زارہوا دلکش و جرگہ جرگہ شکاراگر آہوگیری کا ہوتا نہ عیبتو وہ ہم بھی رکھ لیتے بے شک و ریبمسطح زمیں میل در میل تھینہ دریاچہ تھا کوئی نے جھیل تھیاگر آگیا رودخانہ کہیںنہ دلخواہ تھا واں سے جانا کہیںبڑا لطف تھا سیر میں گشت میںنہ تھی دخت رز حیف اس دشت میںہوا اک جبل سامنے سے سیاہاسی کی طرف کو پڑی سب کی راہعجب لطف کا تھا وہ کوہ گراںکہ صد چشمہ کا اس میں پانی رواںشجر سبز و پتھر بہت صاف تھےسبھی جیسے الماس شفاف تھےہوا ایک ابر اس جبل سے بلندہوا پر بچھے اس کے یزدی پرندپہر دن سے بارش لگی ہونے زوررہا ساری وہ رات طوفاں کا شورہوئے خیمے پانی کے اوپر حبابسب اسباب لوگوں کا تھا زیر آبنہ پوچھ اور اسباب مردم کا حالنہ چادر رہی خشک نے کوئی پالقنات اور تنبو بسر سب گئےکھڑے تھے جو کندے اتر سب گئےبھرا پانی لشکر میں پھیلا ہوااگر فرش بستر تھا تھیلا ہواہوا سرد ازبس ہوئی ایک بارکلیجوں کے ہوتی تھی برچھی سی پارپھرے باد سے لوگ منھ ڈھانپتےجگر چھاتیوں میں رہے کانپتےرہا ایسی سردی میں کیدھر شکارہوئے لوگ خیموں کے اندر شکاربہت پیر جب جی کو تجنے لگےجوانوں کے بھی دانت بجنے لگےتہ میغ خورشید پنہاں ہوانہ دیکھا مگر روے جاناں ہوابہت اسپ و اشتر موئے پاؤں پیٹنکالا انھیں خیمہ گہ سے گھسیٹغزل میرؔ یاں کوئی موزوں کروتامل کرو دل جگر خوں کرو

غزل

وہ دل شکار آن جو نکلا شکار کوانداز یک نگاہ سے مارا ہزار کو

چلنا پڑے ہے رکھ کے قدم تیغ تیز پرکس ڈھب سے کاٹیں اس رہ مشکل گذار کو

اڑنے لگے ہے باد میں تو جاں گزا ہے پھرخجلت ہی اس کی زلف سے ہے تیر مار کو

سو بار منھ چڑھاتے ہو کچھ بولتے نہیںیہ بات کیا چڑھو ہو کہے اپنی بار کو

آتا نہیں نظر کہ حصول امید ہوکیا تھام تھام رکھیے دل بے قرار کو

جیتے رہے تو اس سے ہم آغوش ہوں گے ہملبریز گل سے دیکھیں گے جیب و کنار کو

کیا سمجھے خوبی میری خراش جبیں کی تواس کام کو دکھا کسی استاد کار کو

ایسے ستم کیے کہ گیا جی سے میں ندانٹک منصفی سے دیکھو پھر انصاف یار کو

بولا کہ مجھ کو کرتی ہے بدنام گور میرؔہے خوب اگر مٹاوے کوئی اس مزار کو

کسو بن میں ارنوں کا پاکر نشاںلگی جانے ہر صبح فوج گراںمقابل ہوا آکے جوں فیل مستاگر فیل تھا تو ہوا اس کا پستغضب ہے خدا کا کوئی اس کے چوٹاگر اسپ اشتر ہے تو لوٹ پوٹنہ خوک اس کی جنگل میں گھیرے ہے راہنہ شیر اس کی جانب کرے ہے نگاہبڑی دیر جنگل میں دوڑا پھرالیا زیر بندوق آخر گرالگی بہنے شمشیر جدول شعارلگے قیمہ کرنے جوانان کاربہت ایسے مارے بہت کٹ گئےنظر کرکے ہیئت جگر پھٹ گئےکسو بن میں رونق نہ پائی گئیپھر اس پر جو ایسی اوائی گئیجگر واں کے شیروں کے پھٹ پھٹ گئےبیابان سے کرگدن ہٹ گئےنہ فیلوں میں سدھ بدھ نہ شیروں میں زورنہ چیتوں کو جاگہ نہ گوروں کو گورنہ بوٹی کو چھوڑا نہ باقی ہے جھاڑپہاڑوں کو راہوں سے ڈالا اکھاڑپرندہ جہاں پر نہ سکتا تھا مارہوا رہکلے توپ کا واں گذارنکل شیر جنگل سے حیراں ہوئےاڑاہے جو تھے صاف میداں ہوئےجہاں چلتے پھرتے نہ تھے مار و مورچلے پہروں واں تیر بندوق زورشغال اور خرگوش و ہم روبہاںشکاری سگوں نے کیے نوش جاںہوا پر جو تھے مرغ پرواز میںگرے سینکڑوں ایک آواز میںبہت جانور کھا گئے کر کبابہوئے آشیانے ہزاروں خرابحواصل تھا کیا جو کہوں تھا کہیںکہ تعداد کشتوں کی پاتے نہیںبہت مضطرب جھانگیوں میں پھرےسلامت نہ آخر گئے برسرےانھوں ہی میں سیمرغ بھی تھا مگرکہ پر مارتا ہی نہیں کوہ پرنہیں فیل مرغ اور شتر مرغ ابکہ بعضوں کے طعموں کے کام آئے سبکسو بن میں تھے نیستاں اور کانسچلے راہ واں لے نہ سکتے تھے سانسبرس مینھ دو دن میں کھل بھی گیاولیکن ہے کہرا لطیفہ نیاکہ اندھیر تھا جیسے ظاہر ہو دودہوئے ہونٹھ سردی سے سب کے کبودبلا دھوم سے کوئی گھبرا پڑےجنھیں دیکھو وے کانپتے ہیں کھڑےہوا سرد ہوکر گئی جان ماراٹھایا بڑا لطف سیر و شکاردل اس دود تیرہ سے گھبرا گیاکہیں آگ دیکھی تو جی آگیایہی چال تھی ایک دو چار کوسہوا ٹھنڈی ٹھنڈی پڑی ایسی اوسکسو کوہ کے پاس نکلی جو راہگئی کوہ کی تیغ تک کم نگاہبلندی تھی اس کوہ کی تا فلکنگہ جاتے ہی جاتے جاتی تھی تھکنہ اس رنگ سے صید ہوں گے کہیںہوئی خون کے رنگ رنگیں زمیںجہاں دام اور دد کی تھی بود و باشلگے چوک لوگوں نے کی واں معاشہوا ایک جنگل میں آکر گذرکسو کو نہ تھی واں کسو کی خبرتراکم قیامت تھا اشجار کاستم پھر ہواے ستمگار کاکہ اس مرتبہ بارد و سرد تھیہوئے سن مگر برف پرورد تھیکوئی خاربن حائل رہ ہواپھٹے پیرہن ہوش سب تہ ہوادرختان بے برگ و بر بدنمانہ اک شاخ پر مرغ رنگیں نوابہت سر ملائے بہم تھے شجرولیکن نہ پایا کنھوں نے ثمرنہ قمری ہوئی نالہ پرداز ٹکنہ بلبل کی واں آئی آواز ٹکیہی کل مکل تھی یہی کشمکشپھرے مارتے سر کو دیوانہ وشدرختوں کے انبوہ سے رک گئےچلے اتنے جھک کے کہ ہم جھک گئےاگر شاخ جاگہ سے اپنی ہلیتو کانٹے سی ہم رہرواں پر چلیجو اس دشت میں تھا کوئی صید بھیسو آگے ہی وہ ہوگیا قید بھیرہائی ہی مقصود تھی واں سے یارپڑی اپنی سب کو کہاں کا شکارکہوں کیا کہ یکسر تھے اس میں قلمچلے روسیہ اور سو سو بہمنہ چھوٹی تھی جاگہ قدم وار بھینہ اٹھتا تھا اک نالۂ زار بھیکہ دل کو کسو کے لگے جوں خدنگہوئے ایسے سنسان جنگل میں تنگنکلنا ہوا کھینچ کر یہ عذابملا بیشتر ایک تہ دار آبرواں تھا کسو کی طرف تند و تیزہوا اس کے چلنے کی تھی پیش خیزحباب اس کا چشمک زناں موج پرکہ یوں گرم جاتے ہیں اہل نظرطلبگار کرتے نہیں سادگینہ ہو جوں گہر ایسی استادگیکنارے پہ اس کے اترنا ہوادوبالا ہوئی ٹھنڈ مرنا ہوانہ رکھتے تھے جوں رند مفلس لباسنہ ان سے ہوا اپنے جامے کا پاسغزل کہنے کی یہ بھی جا خوب ہےجو اچھی ہو موزوں تو کیا خوب ہے

غزل

حیف اس شکارپیشہ کو ہم سے خبر نہیںہم ہیں شکار خستہ ہمارے جگر نہیں

ہم خاک منھ سے مل کے پھرے جیسے آرسیافسوس ہے کہ روے دل یار ادھر نہیں

آنکھیں نکال اس کے قدم کے تلے رکھیںتو بھی ہمارے حال پہ اس کو نظر نہیں

کیا کیجے جو نہ کیجیے انداز دام کاگلزار کے تو قابل پرواز پر نہیں

نکلی پڑے ہے میان سے کاہے کو ہر گھڑیلاگ اس کی تیغ تیز کو ہم سے اگر نہیں

سر رکھ کے اس کی تیغ تلے مرچکو شتابیاں پاؤں پیٹ پیٹ کے مرنا ہنر نہیں

آنکھیں ہیں اس کی راہ پہ جوں نقش پا ہزارپر میرؔ اس کو کچھ سر سیر و سفر نہیں

لیے کتنے روزوں میں نانک مٹےجواں اس سے آگے بھی جاکر ڈٹےنہنگ اس طرف کے بحاروں کے سنپلنگ ان بنوں سے چلے سر کو دھنغریب اشتلم جنگلوں میں رہانہ جھانکا ادھر کوہ سے اژدہاگیا سینکڑوں کوس شور شکاررہے ٹھور حیوان یکجا ہزارچلا باز چھاتی کو کھولے جہاںپرندہ رہا وہم کا بے گماںزمیں گرد جرہ ہے کیا تیز بالرکھا جن نے اٹھتے ہی مرغ خیالفلک سیر شاہیں کی پرواز دیکھلگے جوں نگہ جا کے انداز دیکھنہ جھاڑا گیا نسر طائر سے سرگھٹا کرگس چرخ چھوٹا نہ پررواں جس گھڑی ہوتی فوج گراںبہیروبنہ ہر طرف سے عیاںزمیں پر قدم کوئی کیوں کر دھرےبیاباں فراخی سے تنگی کرےکوئی شعبہ آیا اگر درمیاںہوا اور لشکر سے محشر عیاںبلندی و پستی تھی اتنی کڈھبکہ گاہے زمیں گہ فلک پر تھے سبکوئی نالا کھولا اگر آگیاتو اپنا کیا پھر کوئی پاگیاگرے یاں رہے یاں یہی چال تھیجہاں در جہاں خلق پامال تھیہوا دن تو یوں کھینچتے رنج شامگئی رات چوروں کے ڈر میں تمامکہے ہے کوئی کون آتا ہے یہپکارے کوئی کون جاتا ہے یہلگے آنکھ کپڑوں کے تیں زور ہوپھر آرام سے رات کو سو رہوہوا خیمہ گہ دامن کوہ سبرہا آکے نواب واں تین شبقریب ایک مٹیاپہاڑی تھی واںلگا اس سے کم کم تھا آب رواںپہاڑی کہ تودہ کہوں خاک کاکہ انبار تھا خار و خاشاک کامحاذی تھا اس کوہ کے ایک دشتکہ دشوار تھا اس میں آدم کا گشتہوا بد بہت اور پانی لگےقدم راہ چلتے ہوئے ڈگمگےچلے باؤ تو ایک موحش ہے شوررکھے پاؤں دامن کو کھینچے بہ زورفقط خاربن کیا کپڑپھاڑ تھاکہ بوٹا بھی واں جھاڑجھنکاڑ تھاچلو ہی چلو ہے یہ چلتے نہیںکہ اشجار آگے سے ٹلتے نہیںنہ ٹوٹیں نہ سرکیں نہ کاٹے کٹیںمگر پچھلے پاؤں ہی رہ رہ ہٹیںکہیں ہاتھی آیا ہے بھڑکا ہے اونٹکھڑے لوگ پیتے ہیں لوہو کے گھونٹکہیں ہیں گے انفار سرگرم جنگکرے ٹٹو پرتل کا عرصہ ہے تنگقیامت نمودار ہر ہر قدمچلے کوئی کیا رکھ کے سر بر قدمکہیں بچ کے نکلے کہیں جھک چلےکہیں مضطرب تھے کہیں رک چلےاسی طور منزل کو کر قطع راہپہنچتے رہے ہم بحال تباہشجر جمع تھے کچھ تہ کوہ بھیفرود آیا اس جا یہ انبوہ بھیزمیں اونچی نیچی خشونت بہتاسی سے تھی واں کم سکونت بہتولیکن وہی خاک زشت و پلشتہوئی بود آدم سے رشک بہشتہوئی بیلچوں سے برابر زمیںچمن سے بھی شاداب وہ سرزمیںوہ پانی جو چلتا نہ تھا ڈھنگ سےکہ تھا رہ گرا سرزناں سنگ سےصفا اور خوبی میں کچھ بڑھ گیاکئی ہاتھ مقدار سے چڑھ گیاغزل اس زمیں پر بھی کہنی ہے میرؔدل اپنا ہے لطف سخن کا اسیر

غزل

وہ کماں ابرو اگر در پے ہوا ہے میرؔ کےترکش ان پلکوں کا ہے بالاے ترکش تیر کے

یوں تو کہتا ہے گلے کا تو مرے تعویذ ہےپر نہیں آثار ظاہر یار کی تسخیر کے

میں بھی زنجیری رہا ہوں دیر گلشن کے قریبپہنچے ہوں گے دور تک نالے مری زنجیر کے

خون ہی دست حنائی سے کیا کرتے ہو تملو کبھو ٹک ہاتھ میں دل کو کسو دل گیر کے

بندہ و صاحب میں نسبت ہے ولے نازک بہتمعترف رہتے ہیں عاشق اپنی ہی تقصیر کے

اور بھی وہ رشک خور کچھ اب خنک ملنے لگامعتقد ہم کیا ہوں آہ صبح کی تاثیر کے

روے دلکش وہ خدا جانے کہ کس سے کھنچ گیامیرؔ ہم عاشق رہے ہیں ایسی ہی تصویر کے

پہاڑی سے لشکر چلا سوے کوہچلے بس تو کریے سیہ روے کوہپڑی وادی سوختہ بیچ میںکہیں آب میں تھے کہیں کیچ میںنیستان سے ہے خرابہ کڈھنگپٹیلے سے عرصہ نہایت ہے تنگشجر جنگل ایسے تھے انبوہ سےکہ ان میں سے جانا ہو اندوہ سےکہیں بید کے برگ خنجرگزارکہیں پا نہ رکھنے دیں سرتیز خارتنک دو درختوں کے اودھر ہوئےنیستان پھرتے ہی پھرتے موئےاگر بید آئے تو بن بیدبافنہ آئے نظر دور تک راہ صافاگر بانس تھے واں تو تھے دشت دشتکہ دشوار تھا دو قدم کا بھی گشتہمیں چار نالے اترنے پڑےکنارے پہ دو دو گھڑی تھے کھڑےرہا ہر قدم گرنے ہی کا خطرچلے دو قدم راہ پائی اگربہت لوگ دشت قلم کو گئےبہت اسپ و اشتر عدم کو گئےلگی ہاتھ فیلان دشتی کی راہولے ڈر نہ ہو فیل کوئی سیاہنہ ہاتھی ملا کوئی بارے نہ شیرہوئی خیر گو طے ہوئی راہ دیرشجر سرکشیدہ بہت کیا کہوںجو دیکھوں تو پگڑی سنبھالے رہوںچنار ان درختوں کے تھے پائمالسفیدار رکھتے تھے حکم نہالاگر کوئی دریاچہ آتا ہے بیچتو لوگوں کے روندوں سے ہوتا ہے کیچتل کوہ رفعت نمودار ہوگیا آمد و شد میں ہموار ہوکوئی گل زمیں ایسی آئی نظرکہ عالم نے اودھر لگائی نظرکہیں سبزۂ تر سے جی جا لگےکہیں سرسوں پھولے دلوں کو ٹھگےنہ تھا پر گل زرد دامان کوہیہی رنگ تھا تا گریبان کوہفضا دلکشا آب یکسر صفاشجر خوش نما نرم نرمک ہواچکارے بہت مارے کہسار میںدو رستہ بکا گوشت بازار میںیہ انبوہ اشجار تا شش کروہپھر آگے بیاباں وہ ہے اور کوہکناروں میں اس کے کہیں کوئی کھیتوگرنہ یہی سنگ بے رتبہ ریتنہ سبزہ کہیں تھا نہ آب رواںنہ دامن میں اس کے چکارا دواںدکھائی نہ دیتا تھا خوش قد نہالسیاہی پکڑتے تھے چشم غزالوہی جنگلہ دوطرف بدنمودمقام اس طرح کے بھی ہیں یادبودنہ پھولی تھی سرسوں نہ کچھ تھی بہارنہ ظاہر میں اس کے کہیں لالہ زارنہ چشمک زناں دور نزدیک پھولنہ نرمی سے آتی تھی باد قبولچلے باد ایسے کہ جھکڑ رہےہوا اور پانی میں پھکڑ رہےادھر باد کا شور ادھر آب کاشب و روز مذکور کیا خواب کاادھر کے تئیں ایک تھا آبشاروہ البتہ شایان سیر و شکاروہیں ایک دم تھا دلوں کا لگاؤاڑانے نہ دے جو حواسوں کو باؤسو اپنے تئیں تو نہ تھا کچھ دماغکہ حال اپنا جیسا تھا بجھتا چراغبہت شعبۂ کوہ مشہور تھازبانوں پہ لوگوں کے مذکور تھاقدم رکھ جو نواب وھاں تک گیاسر اس شعبہ کا آسماں تک گیاکڈھب وہ جگہ سیرگہ ہوگئیحضور اس کے فردوس تہ ہوگئیہوا خیمہ استادہ ایسی جگہکہ آنے لگی دیر واں سے نگہرواں دوطرف اس کے ایک آب کمکہ دل کا لیے جائے سب زنگ غمجہاں تک نظر کیجے مدنظرہوا موج زن کوہ کے تا کمرنظر والوں کے جی بھی ڈھلنے لگےگرفتہ دل اس جاے کھلنے لگےوہ پانی چلا واں سے دریا ہوارواں گرم تر سوے صحرا ہوابہا دامن کوہ میں سنگ پرکیا سنگ ریزوں کو بھی رنگ پرکہ لوگ ان کو ہاتھوں میں رکھنے لگےجواہر کے رنگوں پرکھنے لگےکراڑوں کا کیا عظم کیجے بیاںبرابر کھڑے تھے دو کوہ گراںانھیں میں سے تھی راہ اس آب کیوہیں بھیڑ رہتی تھی احباب کیہوئے دامن کوہ میں کچھ مقامسفر کی بھی مدت ہو شاید تمامکوئی روز گھاٹی کی بھی سیر ہےسبھوں کی ہے معلوم پھر خیر ہےجو اس میں کسو شیر کا دیں نشاںنظر آئے یا کوئی پیل دماںتو اور ایک دو دن کی ہوتی ہے دیروہ ہاتھی بندھے کہیے گا یا وہ شیرشکار ایسا دیکھا ہے اس بار کاکہ جھاڑا ہوا دشت و کہسار کاکوئی دیکھے کب تک پہاڑ اور جھاڑٹلے چھاتی پر سے کہیں یہ پہاڑغرض ہے وزیر جہاں ارجمندرئیس کلاں کار عالم پسنددر اس کا ہے باب سجود سراںرہیں حکم کش اس کے زور آوراںسدا وہ رہے یوں ہی دشمن شکارجہاں میں سخن ہے مرا یادگاربہانے نہ کر میرؔ اب شاخ شاخغزل کہہ زمیں گوکہ ہے سنگلاخ

غزل

نہیں خوں بستگی سے چشم تر بندجراحت نے کیے ہیں چشم پر بند

گیا ہے وہ سو دل کھلتا نہیں ہےپڑا ہے ایک مدت سے یہ گھر بند

کریں ہیں شوق گل خوں دل میں ناچاراسیران شکستہ بال و پربند

گئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کےاب آنکھیں رہتی ہیں دو دو پہر بند

بہت ہے یار کا کم بولنا بھینہیں چنداں ہم ان باتوں کے در بند

سبھوں سے آرسی کے مثل وا ہوکسو کے منھ پہ دروازہ نہ کر بند

ہمارے ہاتھ خنجر سے کرو قطعنہ کھلوایا کبھو اس کا کمربند

رکے ہے یار آنکھیں ہی دکھا کرہم اس کے ان دنوں میں ہیں نظربند

نہ خط آتا ہے اودھر سے نہ قاصدلکھوں کیا مدتوں سے ہے خبر بند

غزل کا قافیہ تغئیر کر میرؔہنر کچھ اس زمیں میں میرؔ کر بند

غزل

جگرخوں کن ہیں خوبان حنابنددل ان کے دست رنگیں کا ہے پابند

گرہ بند قبا میں دے ہمیں دیکھہوا کیا آہ باغ دلکشا بند

رکھ آہ سرد ہی سے گرم جوشیرکے ہے دل جو ہوتی ہے ہوا بند

ہمیں سے کیا وہ جادوگر نہ بولےکسو دشمن نے اس کا منھ کیا بند

نہیں تھمتا ہے اب پلکوں سے رونابہت خاشاک سے دریا رہا بند

ہمیں منظور ہر صورت میں ہے دیدکھلی ہو چشم جوں آئینہ یا بند

نہیں کام آتی اتنی تیزگامیسمند عمر ہوتا کاش جا بند

زبردستوں کی کشتی ہوگئی پاکنکالا عشق زورآور نے کیا بند

یہی انداز باندھے ہیں یہی نازقیامت میرؔ صاحب ہیں ادابند

شعلۂ عشق

محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نورنہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہورمحبت مسبب محبت سببمحبت سے آتے ہیں کار عجبمحبت بن اس جا نہ آیا کوئیمحبت سے خالی نہ پایا کوئیمحبت ہی اس کارخانے میں ہےمحبت سے سب کچھ زمانے میں ہےمحبت سے کس کو ہوا ہے فراغمحبت نے کیا کیا دکھائے ہیں داغمحبت اگر کارپرداز ہودلوں کے تئیں سوز سے ساز ہومحبت ہے آب رخ کار دلمحبت ہے گرمی آزار دلمحبت عجب خواب خوں ریز ہےمحبت بلاے دل آویز ہےمحبت کی ہیں کارپردازیاںکہ عاشق سے ہوتی ہیں جانبازیاںمحبت کی آتش سے اخگر ہے دلمحبت نہ ہووے تو پتھر ہے دلمحبت کو ہے اس گلستاں میں راہکلی کے دل تنگ میں بھی ہے چاہمحبت ہی سے دل کو رو بیٹھیےمحبت میں جی مفت کھو بیٹھیےمحبت لگاتی ہے پانی میں آگمحبت سے ہے تیغ و گردن میں لاگمحبت سے ہے انتظام جہاںمحبت سے گردش میں ہے آسماںمحبت سے روتے گئے یار خوںمحبت سے ہو ہو گیا ہے جنوںمحبت سے آتا ہے جو کچھ کہومحبت سے ہو جو وہ ہرگز نہ ہومحبت سے پروانہ آتش بجاںمحبت سے بلبل ہے گرم فغاںاسی آگ سے شمع کو ہے گدازاسی کے لیے گل ہے سرگرم نازمحبت ہی ہے تحت سے تا بہ فوقزمیں آسماں سب ہیں لبریز شوقمحبت سے یاروں کے ہیں رنگ زرددلوں میں محبت سے اٹھتے ہیں دردگیا قیس ناشاد اس عشق میںکھپی جان فرہاد اس عشق میںہوئی اس سے شیریں کی حالت تباہکیا اس سے لیلیٰ نے خیمہ سیاہسنا ہوگا وامق پہ جو کچھ ہوانل اس عشق میں کس طرح سے مواجو عذرا پہ گذرا سو مشہور ہےدمن کا بھی احوال مذکور ہےستم اس بلا کے ہی سہتے گئےسب اس عشق کو عشق کہتے گئےاس آتش سے گرمی ہے خورشید میںیہی ذرے کی جان نومید میںاسی سے دل ماہ ہے داغ دارکتاں کا جگر ہے سراسر فگارنئے اس کے چرچے حکایت سنیگہے شکر گاہے شکایت سنیاسی سے قیامت ہے ہر چار اوراسی فتنہ گر کا ہے عالم میں شورکوئی شہر ایسا نہ دیکھا کہ واںنہ ہو اس سے آشوب محشر عیاںکب اس عشق نے تازہ کاری نہ کیکہاں خون سے غازہ کاری نہ کیزمانے میں ایسا نہیں تازہ کارغرض ہے یہ اعجوبۂ روزگار

آغاز قصہ

عجب کام پٹنے میں اس سے ہواعجب اہل عالم کو جس سے ہواکہ واں اک جواں تھا پرس رام نامخوش اندام و خوش قامت و خوش خرامجوانی کے گلشن کا وہ آب و رنگگلستاں پہ کام اس کی خوبی سے تنگجدھر نکلے رنگیں ادائی کے ساتھچلے جائیں جی خوش نمائی کے ساتھکھلے بال چلتا تھا وہ سرو نازقدم بوس کو آتی عمر درازجدھر کو وہ ٹک گرم رفتار ہوقیامت ادھر سے نمودار ہونگہ گرم اس کی جدھر جا لڑیکہے تو کہ اودھر کو بجلی پڑیوہ کافر بھویں ہوویں مائل جہاںکریں سجدہ اس جا پہ اسلامیاںنگہ تیغ مجروح جس کے پڑےپلک سیل جوں دل میں جاکر گڑےسیہ چشم اس کے دو بدمست تھےنگاہوں سے شمشیر در دست تھےرخ اس کا کہاں اور مہ و خور کہاںتفاوت زمیں آسماں کا ہے یاںدو لب لعل کو جن سے شرمندگیدم حرف سرمایۂ زندگیدہن کی جو تنگی نظر کیجیےتو آگے سخن مختصر کیجیےنہ ہم تم زنخ دیکھ حیراں رہیںسبھی دست زیر زنخداں رہیںسراپا میں اس کے جہاں دیکھیےوہیں روے مقصود جاں دیکھیےخراماں نکلتا وہ جس راہ سےقیامت تھی واں نالہ و آہ سےفدا اس پہ جی جان ہر ایک کاکہ مقصود دل تھا بد و نیک کاکئی گرد و پیش اس کے وارفتگاںکئی ایدھر اودھر جگر تفتگاںبہت رفتگان اداے کلامبہت مبتلاے بلاے خرامکوئی کشتۂ شوق رفتار کاکوئی نیم جاں ذوق دیدار کاکوئی والۂ خندۂ برق وشکسو کے تئیں جنبش لب سے غشکسو کی نظر میں کمر کی لچککسو کے جگر میں پلک کی کسککوئی حیرتی طرز گفتار کےکوئی آرزوکش بروبار کےکوئی زلف سے اس کی مجنوں رہےکسو کا تبسم سے دل خوں رہےکوئی دل ستم کشتۂ یک نگاہکوئی جان ہونٹھوں پہ موقوف آہکسو پر فسوں گردش چشم کاکسو پر غضب غمزہ و خشم کاکوئی دست بر دل کوئی بے قرارکوئی بے خبر کوئی بے اختیارانھوں میں سے اک عاشق زار تھااس آفت کو اس سے سروکار تھامحبت میں تھا جذب کامل اسےمراد دل اپنی تھی حاصل اسےشب و روز ہم بستر کام دلہمیشہ ہم آغوش آرام دلدم اس کے میں یاں تک تو تاثیر تھیکہ صحبت اس آتش سے درگیر تھیبہم ربط چسپاں بہم اختلاطنہ کم ہوتی گرمی نہ کم اختلاطمرو کوئی غم سے کوئی ہو ہلاکوہ شعلہ اسی خس سے رکھتا تپاککہاں حسن میں تھا وفا کا یہ پاسیہ سنیے کہ ہے گا خلاف قیاسبہت سے بہت اس کا مالوف تھااسی کی تسلی سے مصروف تھاکہ ناگہ وہ دلبر ہوا کدخدارہا اپنے عاشق سے چندے جدازن و شو سے اخلاص باہم ہوااس آشفتہ سے رابطہ کم ہوانگاہیں بہم دل میں کاوش کریںسخن سے وفائیں تراوش کریںہوا ربط چسپاں بہم اس قدرکہ دشوار اٹھے ہم دگر سے نظررہیں دونوں دست و بغل روز و شبکبھو منھ پہ منھ ہو کبھو لب پہ لبوفا نے جو تکلیف کی ایک روزگیا اپنے عاشق کے وہ دل فروزکئی دن میں جاکر جو اس سے ملاکیا اس نے حد سے زیادہ گلہکہ اے نازنیں آہ کن نے کہاکہ تو حال سے میرے غافل رہامگر سد رہ تھا کسو کا فریبملا کوئی تجھ سے بھی دشمن شکیبکوئی زلف زنجیر پا ہوگئیکہ مسدود راہ وفا ہوگئیطرح کس کی چتون کی دل میں کھبیجگر میں پلک شوخ کس کی چبھیکسو چشم نے تجھ کو جادو کیامرے جام عشرت کو لوہو کیاکہا ان نے تھی کدخدائی مرینہ تھی بے سبب یہ جدائی مریرکھ اب مجھ کو معذور ناچار ہوںمحبت کا میں نوگرفتار ہوںنہ فرصت مجھے صبح ہے اب نہ شامطرف اس کے ہے دل کو میل تماماسے بھی مرے ساتھ اخلاص ہےدلوں کو بہم رابطہ خاص ہےاسے مجھ سے ہے نسبت عاشقیوہ رہتی ہے بے طاقت عاشقینہیں اس کو یک لحظہ تاب فراقجدائی مری اس پہ گذرے ہے شاقنکلتا ہوں گھر سے جو میں ایک آنتو پاتا ہوں جاکر اسے نیم جاننہ دیکھے جو مجھ کو تو مر جائے وہوہیں جی سے اپنے گذر جائے وہجو پہنچے مری جھونٹھ اسے بدخبرتو کر بیٹھے سچ اپنے جی کا ضررغرض اس کو تاب و تحمل نہیںشکیبائی ہجر بالکل نہیںیہ سن کر کہا اس دل افگار نےستم کشتۂ دوری یار نےکہ مجھ کو نہیں تیری باتیں قبولیہ مکر زناں ہیں تو ان پر نہ بھولوفا کن نے ان ناقصوں میں سے کیموا شوے کس کا کہ وہ پھر نہ جییہ ظاہر میں ہر چند ہوں رشک ماہولیکن ہیں باطن میں مار سیاہخدا مکر سے ان کے دے ہے خبرنہیں ان سے کوئی فریبندہ ترجہاں میں فریب ان کا مشہور ہےزبانوں پہ مکر ان کا مذکور ہےپئے امتحاں عاقبت یک نفرمقرر ہوا تاکہ جا اس کے گھرکہے غرق دریا ہوا پرس رامہوئی زندگانی کی صبح اس کی شامگیا تھا نہانے کو وقت سحرسو ڈوبا وہ خورشید روشن گہرکیا موج دریا نے سر سے گذاراٹھا طبع نازک سے اس کے غباروہ گیسو جو بکھرے تھے بالاے آبسو اب موج دریا کو ہے پیچ و تابپھرے تھیں جو وے انکھڑیاں آب میںسو وے گردشیں اب ہیں گرداب میںتمنا میں تھے جس کے سب دل فگارسو دریا کو اب ہے وہ بوس و کنارنہ سمجھا وہ نافہم اسرار عشقنہ سوچا وہ ناتجربہ کار عشقکہا غرق دریا ہوا پرس رامہوا کام اس رشک مہ کا تمامکہے تو کہ موجوں کو تھا انتظارکہ دست و بغل ہوگئیں ایک بارگیا بیٹھ پانی میں ایسا شتابکہ گویا لب آب کا تھا حبابکنارے پہ دریا کے اک شور ہےبحال خراب ایک جمہور ہےگرے ہیں کئی آشنا آب میںکئی آتش غم سے ہیں تاب میںکوئی سر پہ اس غم سے ڈالے ہے خاککسی نے کیا ہے گریباں کو چاکہمیں داغ وہ در تر دے گیابہت آب یہ ماجرا لے گیاسنا اس کی ہمسر نے جب یہ سخنہوا موج زن بحر رنج و محننگہ اک طرف در کے مایوس کیدم سرد کھینچا گیا ڈوب جیوہی بے خودی رخصت جان تھیوہ اک دم کی گویا کہ مہمان تھیگری ہو کے بے جان وہ دردمندہوا شور نوحے کا گھر سے بلندموئی غم میں اس جملہ تن ناز کےگئی جان ہمرہ سخن ساز کےوہ آیا جو تھا دل پریشاں گیاکہ اس واقعے سے پشیماں گیاخبر لے گیا اس کنے زودترجو تھا درپئے امتحاں بے خبرکہ وہ رشک مہ امتحاں دے گئیمحبت کے ناموس کو لے گئیموا سن پرس رام کے تیں موئیمرے اک سخن میں قیامت ہوئیاگرچہ نہ کچھ ان نے منھ سے کہادیا جی ولے جی اسی میں رہایہ سن کر وہ نافہم حیراں ہواخجالت میں سر در گریباں ہواگیا ہوش سن کر پرس رام کادوانہ ہوا عشق کے کام کااٹھا بے خود و بے خرد بے حواسگرا آکے اس پیکر مردہ پاسلگا کہنے اے مایۂ زندگیمجھے منھ سے تیرے ہے شرمندگیکیا جلد رخت سفر تونے بارنہ میرا کیا آہ ٹک انتظارنہ میری سنی کچھ نہ اپنی کہیمرے تیرے دونوں کے جی میں رہیزمیں پر سے آخر اٹھایا اسےلب آب جاکر جلایا اسےجب آگ اس کے پیکر پہ سب چھا گئیمحبت عجب داغ دکھلا گئییہ سرگرم فریاد و زاری ہوالہو اس کی آنکھوں سے جاری ہواجگر غم میں یک لخت خوں ہوگیارکا دل کہ آخر جنوں ہوگیاگئے ہوش و صبر اس کے یک بارگیطبیعت میں آئی اک آوارگیسراسیمگی سے بگولا ہواپھرے اس طرح جیسے بھولا ہوانہ جی کو تسلی نہ دل کو قرارکف غم میں سررشتۂ اختیارکبھو یاد کر اس کو نالاں رہےکبھو ٹک جو بھولے تو حیراں رہےکبھو یاں کبھو واں بحال خرابوہی بے قراری وہی اضطرابرہے گھر تو آشوب گہ وہ گلیچمن میں جو لے جائیں تو بے کلیکبھو متصل ہونٹھ پر آہ سردکبھو دست بر دل کہ دل میں ہے دردہوئی رفتہ رفتہ جو وحشت زیادلگا بھاگنے سب سے وہ نامرادکچھ اپنے بد و نیک کی سدھ نہیںنکل جائے تنہا کہیں کا کہیںکبھو جاکے صحرا سے لاویں اسےکبھو روتے دریا پہ پاویں اسےکبھو خاک ملتا ہے منھ پر کھڑاکہیں ہے خرابی میں بے سدھ پڑاسر شام اک روز دریا گیاہوئی رات واں سے نہ آیا گیاکنارے پہ رہتا تھا اک دام داررہا رات اس کے یہ قرب و جوارکہا اس کی عورت نے اس رات کونہیں تجھ سے جی چاہتا بات کوتجھے فکر کچھ اب ہماری نہیںتو جاتا نہیں شام کو اب کہیںترا شب کو دریا میں پڑتا تھا دامتو چلتا تھا بارے معیشت کا کامتو جاتا نہیں شب کو جس روز سےمعیشت ہے اندوہ جاں سوز سےنہیں طاقت صبر ہم کو تنکبہت دیر ملتا ہے نان و نمکوہ بولا کہ میں بھی پریشان ہوںبہت تنگ دستی سے حیران ہوںکہوں کیا کئی روز سے شام کواٹھاتا ہوں میں اس سبب دام کوکہ یک شعلۂ تند پرپیچ و تابفلک سے اترتا ہے نزدیک آبکوئی دم تو رہتا ہے سرگرم گشتکبھی سوے دریا کبھی سوے دشتٹھہرتا جو ہے پھر کنارے پہ واںکہے ہے پرس رام تو ہے کہاںیہ آتش مرے دل کی کیونکر بجھےعدم میں بھی میں نے نہ پایا تجھےکیا عشق نے مجھ کو آتش کا بابنہ چھڑکا مری آگ پر تونے آبگیا وہ یہ کہہ کر سوے آسماںرہے ہے مجھے رات دن خوف جاںسنا حال شعلے کا صیاد سےدھواں اک اٹھا جان ناشاد سےہوا شعلۂ شوق دل سے بلندرہا لوٹتا آگ میں جوں سپندگئی رات جوں توں ہوئی صبح جبزیادہ ہوئی عشق کی تاب و تبمحبت نے کی اشتعالک کہ وہسراسیمہ آیا چلا اس جگہجہاں سے اٹھی تھی یہ آتش سلگپھر اس کے جگر کو لگی گھر کو لگتبسم کناں واں یہ ان نے کہاکہ کلفت میں غم کی بہت میں رہاچلو سیرگشتی کو ہنگام شبلب آب خالی کریں دل کو سبہوا سو ہوا یوں ہی تقدیر تھیجہاں سوز الفت کی تاثیر تھینہ ہوتے جو دل گیر یاں متصلنہ ہوتی یہ آتش کبھو مشتعلکیاں عقل کی ان نے باتیں جو واںوہ عاشق جو تھا درپئے امتحاںلگا کہنے یہ آرزو تھی مجھےکہ اک روز ہشیار دیکھوں تجھےسو یہ دن خدا نے دکھایا مجھےسخن تیرے منھ کا سنایا مجھےندامت سے ہوں تنگ شاہد ہیں سبگرفتار ہوں میں بحال عجبنہ خجلت سے رو ہے جو کچھ میں کہوںنہ قدرت اجل پر کہ مر بھی رہوںنہ تقدیر کا میں نے سمجھا فریبنہ جانا کہ اتنی ہے وہ ناشکیبہوا اک سخن میں مرے یہ غضبخرابی کا تیری ہوا میں سببکروں گا زمانے میں جب تک معاشرہوں گا اسی درد سے دل خراشمقرر کیا ہے کئی دن سے یہکہ آئندہ رہیے تری خاک رہ

جو اس میں ہے خوش تو تو ہوں میں بھی ساتھرہیں گے لب آب ہی آج راتدل پر کو خالی کریں گے بہمپھریں گے ترے ساتھ خوش کوئی دمہوئے عاقبت سوے دریا رواںنہ پیدا کسو پر یہ راز نہاںکہ اک آگ سلگی ہے واں یک کنارمحبت کمیں میں ہے سرگرم کارکسو اشتعالک کی ہے منتظرجہاں سر کو کھینچا قیامت ہے پھرہوئے ناؤ پر شام گہ جب سوارکہا ان نے یاں ایک ہے دام دارجہاں قفل ہو راہ دریا تو وھاںکفایت ہے اس کی کلید زباںاسے ساتھ لو تو بھلی بات ہےکہ دریا میں پھرنا ہے اور رات ہےلیا آخرالامر ہمرہ اسےبٹھایا قریب اپنے کہہ کہہ اسےتنک دور چل کر کیا یہ سوالمجھے ہے ترے حرف شب کا خیالکہاں شعلۂ سرکش آتا ہے یاںکدھر پیچ و تاب آکے کھاتا ہے یاںکہاں لے ہے دریا پہ اک دم قرارکدھر مضطرب ہو کرے ہے گذارٹھہرتا ہے کس جا وہ آتش فگنطرف کون سے ہو ہے گرم سخنیہ صیاد سے تھا ہی محو سراغجگر آتش شوق رکھتی تھی داغکہ ہوکر فروغ اک سوے آسماںتڑپنے لگا جیسے آتش بجاںکوئی دم میں دریا پہ آیا فرودہوا نیزہ بالا سبھوں کو نمودلب آب وہ شعلۂ جاں گدازتڑپ کر بہت بازبان درازپکارا کہاں ہے پرس رام تومحبت کا ٹک دیکھ انجام توکہ میں جملہ تن آتش تیز ہوںدل گرم سے شعلہ انگیز ہوںبھڑکتی ہے جب آگ دل کی مرےلب آب اتروں ہوں غم میں ترےمگر سوزش دل ہو کم آب سےبجھے جی مرا اس تب و تاب سےسو یہ آب رکھتا ہے روغن کا کامکیا عشق نے آہ دشمن کا کامیہ بے تاب سن کر ہوا بے قرارسفینے سے اترا بصد اضطرارہوا ہمدم اس آتش انگیز سےکہا اس بلاے دل آویز سےکہ میں ہوں پرس رام خانہ خرابمرا دل بھی اس آگ سے ہے کبابمرے بھی جگر میں یہی سوز ہےیہی مجھ کو جلنا شب و روز ہےمحبت تری برق خرمن ہوئیتری دوستی جی کی دشمن ہوئیسخن مختصر کچھ وہ شعلہ چلاکچھ اک اپنی جاگہ سے یہ دل جلابہم گرم جوشی سے یک جا ہوئےکہ گذری تھی مدت بھی تنہا ہوئےوہ شعلہ رہا ایک جا مشتعلکہے تو تسلی ہوئے جان و دلیکایک بھڑک کر وہ جلنے لگاپھر ایدھر ادھر پھرنے چلنے لگاکیا پاس پانی کے آکر صعودرہی روشنی سی کوئی دم نمودپھر آگے کسو پر نہ پیدا ہوانہ جانا کہ وہ شعلہ پھر کیا ہواخبردار ہو اہل کشتی تماملگے کہنے باہم نہیں پرس راماٹھے ڈھونڈنے ہوکے سب ناصبورکنارے پہ دریا کے نزدیک و دورنہ پایا کہیں اس کو حیراں ہوئےنہایت ہی خاطر پریشاں ہوئےوہ صیاد بولا کہ دوں میں نشاںگیا تھا سوے شعلہ یہ نوجواںیہ اور آگ دونوں ہوئے ہم سخنوہ شعلہ ہوا اس پہ آتش فگنیہ جوشش تو یاں سے تھی مدنظرپھر آگے نہیں اس کی مجھ کو خبرنہ ہو آتش غم سے پہلے ہی داغچلو اس طرف کو جو نکلے سراغگئے مضطرب حال سارے رواںتڑپتا تھا وہ شعلہ آکر جہاںتلاش اس کی کی اور لے لے کے نامپکارے بہت پر کہاں پرس راممحبت نے ایسا کھپایا اسےکہ ہرگز کنھوں نے نہ پایا اسےیقینی ہوا یہ کہ وہ تیز آگاسی نیم کشتہ سے رکھتی تھی لاگلپٹ اس کو شعلہ ہی وہ لے گیاعجب طور کا داغ یہ دے گیاپھرے خوار ہو ہو کے ناچار سبکسی کو تحیر کسی کو عجبکوئی منفعل ساتھ آنے سے تھاکوئی بر لب آب جانے سے تھاخصوصاً وہ عاشق ہوا پرخجلندامت ہوئی یہ جسے متصلنہ تھا اگلی خجلت ہی سے روے حرفہوا دوسرا ماجراے شگرفتفکر کے دریا میں ڈوبا ہواکنارے پہ بیٹھا تھا روتا ہواکہ پوچھیں گے جو اس کے واماندگاںتو یہ واقعہ کیا کروں گا بیاںکہوں کیونکے یک بار وہ جل گیاکف خاک ہو خاک میں رل گیاکھنچی جرم کو بے گناہی مریہوئی شہر میں روسیاہی مریوہ شعلہ جلاتا مجھے کاش کےلیے ساتھ جاتا مجھے کاش کے

مقولۂ شاعر

اگر ہے یہ قصہ بھی حیرت فزاولے میرؔ یہ عشق ہے بدبلابہت جی جلائے ہیں اس عشق نےبہت گھر لٹائے ہیں اس عشق نےفسانوں سے اس کے لبالب ہے دہرجلائے ہیں اس تند آتش نے شہرمحبت نہ ہو کاش مخلوق کونہ چھوڑے یہ عاشق نہ معشوق کو

ساقی نامہ

ہے قابل حمد وہ سراندازجو سب میں ہوا ہے جلوہ پردازاس کو مئے حسن نے چھکایاہستی کا نشہ اسی سے آیاپی ان نے شراب خودپرستیطاری ہوئی اس پہ زور مستیوہ مست شراب ناز ہے فردخورشید ہے اس کا جام پروردہے گردش چشم اس سے افسوںپھر جائے ہے جس کے ساتھ گردوںظلمت ہے دوئی کی تجھ سے احولآخر ہے وہی وہی ہے اولعالم ہے قرابۂ مئے خامہے دور سپہر گردش جاممشہور جہاں جو کیف و کم ہےبے نشہ جو ہووے تو ستم ہےوہ مست نیاز ہے حرم میںوہ رفتۂ ناز ہے صنم میںہے آب رخ زمانہ اس سےروشن ہے تمام خانہ اس سےمینا میں جو سرکشی ہے وہ ہےصہبا میں جو دلکشی ہے وہ ہےشمشاد ہے سرفراز اس سےگل دیدۂ نیم باز اس سےخوگر اسے نازپیشگی ہےوہ ہے کہ جسے ہمیشگی ہےعکس اس کا پڑا ہے جام مے میںآتی ہے صدا اسی کی نے میںہے جلوہ گری میں یاں بصد نازوہ مست گزارہ و سراندازسو رنگ ہیں اس کے یاد رکھ توہر جلوہ سے دل کو شاد رکھ توعالم میں جو کچھ نمود میں ہےہر لحظہ اسے سجود میں ہےکر یاد اسی کو اور مے پیجیتا رہے کوئی دن تو خوش جیاب روے سخن چمن کو کریےمیناے دل اور مے سے بھریےآئی ہے بہار مے گساراںپھولے ہیں چمن میں گل ہزاراںآئی ہے بہار و ہر خیاباںہے لطف ہوا سے گل بہ داماںآئی ہے بہار زہدکیشاںہے توبۂ بادہ دل پریشاںآئی ہے بہار مرغ گلزارکرتا ہے نواے سینہ افگارلایا ہے بہ زور اس کا نالہمجھ کو بھی براے سیر لالہساقی جو کروں میں بے ادائیمعذور رکھ اب بہار آئیگل باد صبا کے تا کمر ہےدامان بلند ابر تر ہےغنچہ کی گلابیاں بھری ہیںتکلیف کی منتظر دھری ہیںظالم مئے ناب دے ہوا ہےیک جرعہ شراب دے ہوا ہےہر سر میں ہے شور فصل دے کاجھمکے ہے ہوا سے رنگ مے کااطراف چمن کھلا ہے لالہہر پھول شراب کا ہے پیالہآیا ہے چمن پہ ابر جوشاںآب رخ کار سبزپوشاںتحریک نسیم دم بہ دم ہےتکلیف ہواے گل ستم ہےابروں نے بھی کی ہے مے پرستیاٹھتے ہیں بصد سیاہ مستیبوندوں کا جو لگ رہا ہے جھمکارنگ گل و لالہ زور چمکاہے گل کی ہوا سبو کشی میںبلبل کا دماغ بوکشی میںہر شاخ ہے شوخ جام در دستنرگس ہے کسو کی نرگس مستہے رنگ ہوا کا آفتابیجھومیں ہیں نہال جوں شرابیہے سرو جوان نشہ در سرلوٹے ہے روش پہ سبزۂ ترچشمک کرے ہے حباب جو کایعنی کہ ہے دور اب سبو کاساقی قدحے کہ ذوق مل ہےمطرب غزلے کہ فصل گل ہے

غزل

شب وہ جو پیے شراب نکلاجانا یہ کہ آفتاب نکلا

قربان پیالۂ مئے نابجس سے کہ ترا حجاب نکلا

تجھ بن جو پیا تھا قرط مے کاآنکھوں سے ہو خون ناب نکلا

مستی میں شراب کی جو دیکھاعالم یہ تمام خواب نکلا

شیخ آتے تو مے کدے میں آیاپر ہو کے بہت خراب نکلا

یک جرعہ شراب ہی میں واعظہر مسخرگی کا باب نکلا

تھا غیرت بادہ عکس گل سےجس جوے چمن سے آب نکلا

ہو صرف شراب کاش ساقییہ شیشۂ عمر ہے جو باقیبے ساغر مے خنک ہے جینارکھتا ہے شگوں شراب پینالا بادۂ کہنہ سال نو ہےسجادہ بھی بابت گرو ہےدروازۂ مے کدہ کھلا ہےہر پیر و جواں کو الصلا ہےاینڈے ہے ہر ایک مست جوں تاکلیتے نہیں نام دامن پاکہر مغبچہ فتنہ زیر سر ہےہر گوشے میں عالم دگر ہےمستی نگاہ عقل دشمنخوبی خرام مرد افگنکہتے گئے صاحب کراماتہم ہی نہیں قابل خراباتجو لوگ کہ اس جگہ سے اٹھےکب حلقہ و خانقہ سے اٹھےیاں پیتے ہیں جام بے خودی کاہے دور تمام بے خودی کامستی سے ہر ایک صبح صد بارخورشید کا سر ہے اور دیوارہے قابل سیر خرقہ پوشاںدریا دلی شراب نوشاںان لوگوں کی ہر کمینہ صف میںکشتی ہے شہ و گدا کی کف میںہر کوچے میں رہتی تھی منادیتا رسم خردوری اٹھا دیاز خود شدن اک مقام ہے گاوہ مرتبہ یاں مدام ہے گاہرچند ہے دور پر کہاں تکاک لغزش پا میں یاں سے واں تکبے خود ہو کہ یہ حجاب اٹھےدل یاں سے کہیں شتاب اٹھےپہنچیں ہیں فنا کو بے خودی سےپاتے ہیں خدا کو بے خودی سےپی جرعہ و ہوش کو دعا کہہہر بادہ فروش کو دعا کہہوشش میں ہے بادۂ کہن سالعبرت ہو جسے خوش اس کا احوالاب دل میں مرے بھی جوش آیااب وقت وداع ہوش آیاکھینچوں میں کہاں تلک دم سردساقی وہ شراب شعلہ پروردوہ داروے درد بے حضوراںوہ مایۂ نور چشم کوراںسرمایۂ عمر جاودانییعنی وہی آب زندگانیوہ میوۂ خوش رسیدہ بارےوہ عیش دل گزیدہ بارےآئینۂ حسن خودپسنداںزینت دہ عنبریں کمنداںوہ رنگ رخ بہار یعنیوہ بادۂ خوش گوار یعنییاقوت گداز دادۂ عشقیعنی وہی جام بادۂ عشقوہ لطف ہوا وہ سیر مہتابوہ شعلۂ غوطہ خورد در آبوہ کام دل سبو بدوشاںیعنی کہ وہی شراب جوشاںوہ موجب دل خوشی کہاں ہےوہ داروے بے ہشی کہاں ہےوہ جس کی طرف کو ہے تہ دلیعنی وہی ماہ شیشہ منزلوہ آتش تیز آب آمیزوہ عربدہ جو وہ فتنہ انگیزوہ مقصد جان ناامیداںوہ روسیہی روسفیداںوہ رونق کارگاہ شیشہوہ شوکت بارگاہ شیشہوہ جس سے ہے توبہ موپریشاںوہ جس سے ہو گفتگو پریشاںوہ دامن خشک جس سے جل جائےثابت قدموں کا پاؤں چل جائےوہ سرخی چشم خوب رویاںاسباب خرابی نکویاںوہ دلبر خودسر و شلائیںوہ رہزن راہ دین و آئیںوہ جس سے غبار دل سے دھوؤںمینا کے گلے سے لگ کے روؤںمستی کی مجھے بھی خواہشیں ہیںاس عقل سے دل کو کاہشیں ہیںلا اس کو جو آستین جھاڑوںپھر ہاتھ چلے تو جیب پھاڑوںبے ہوش شراب ناب رہیےیوں تا بہ کجا کباب رہیےہے مستی بے خودی ضروریکھل جائے مقام بے شعوریدل غم سے بھرا ہے زور میراتا عرش گیا ہے شور میراہے دل میں کہ گل کی اور رو ہوشیشہ ہو بغل میں اور تو ہوہر گام پہ لغزش قدم ہوتکلیف شراب دم بہ دم ہوجب سجدہ کناں ہوں صبح خیزاںجب کاکل صبح ہو پریشاںجب نکلے ستارۂ سحرگہکر نعرۂ الصبوح یک رہہے ذوق شراب صبح گاہیبے لطف نہیں ہے روسیاہیجب ہووے نشہ ترنگ آوےمستی مجھے باغ میں لٹاوےشیشہ مرے منھ کو تو لگاوےکر ایسی نگاہ جو چھکاوےجب بے خودی تمام آوےسر پر مرے ہوش رو کے جاوےرخصت ہے تجھے کہ میں نہ ہوں گابے ہوش و خرد ہی پھر رہوں گابیٹھا تو کروں گا شکر تیراہو ورنہ قبول عذر میرا

مقولۂ شاعر

کیا میرؔ شراب تونے پی ہےبیہودہ یہ گفتگو جو کی ہےیا آب سیہ ترے قلم نےیہ تجھ سے عجب کیا ہے ہم نےتو کاہے کو اتنا ہرزہ گو تھاکب در گرو شراب تو تھابس مے سے زباں کو اب نہ تر کرمستی سخن پہ ٹک نظر کرہے نشۂ سامعہ دوبالاپھر حرف نہ جائے گا سنبھالا

دریاے عشق

عشق ہے تازہ کار و تازہ خیالہر جگہ اس کی اک نئی ہے چالدل میں جاکر کہیں تو درد ہواکہیں سینے میں آہ سرد ہواکہیں آنکھوں سے خون ہوکے بہاکہیں سر میں جنون ہو کے رہاکہیں رونا ہوا ندامت کاکہیں ہنسنا ہوا جراحت کاگہ نمک اس کو داغ کا پایاگہ پتنگا چراغ کا پایاواں طپیدن ہوا جگر کے بیچیاں تبسم ہے زخم تر کے بیچکہیں آنسو کی یہ سرایت ہےکہیں یہ خوں چکاں حکایت ہےتھا کسی دل میں نالۂ جاں کاہہے کسو لب پہ ناتواں اک آہتھا کسو کی پلک کی نم ناکیہے کسو خاطروں کی غم ناکیکہیں باعث ہے دل کی تنگی کاکہیں موجب شکستہ رنگی کاکہیں اندوہ جان آگہ تھاسوزش سینہ ایک جاگہ تھاکہیں عشاق کی نیاز ہواکہیں اندوہ جاں گداز ہواہے کہیں دل جگر کی بے تابیتھا کسو مضطرب کی بے خوابیکسو چہرے کا رنگ زرد ہواکسو محمل کی رہ کی گرد ہواطور پر جا کے شعلہ پیشہ رہابے ستوں میں شرار تیشہ رہاکہیں نے بست کو لگائی آگکہیں تیغ و گلو میں رکھی لاگکبھو افغان مرغ گلشن تھاکبھو قمری کا طوق گردن تھاکسو مسلخ میں جا قنارہ ہواکوئی دل ہو کے پارہ پارہ ہواایک عالم میں دردمندی کیایک محفل میں جا سپندی کیایک دل سے اٹھے ہے ہوکر دودایک لب پر سخن ہے خون آلوداک زمانے میں دل کی خواہش تھااک سمیں میں جگر کی کاہش تھاکہیں بیٹھے ہے جی میں ہوکر چاہکہیں رہتا ہے قتل تک ہمراہخارخار دل غریباں ہےانتظار بلانصیباں ہےکہیں شیون ہے اہل ماتم کاکہیں نوحہ ہے جان پر غم کاآرزو تھا امیدواروں کیدردمندی جگر فگاروں کینمک زخم سینہ ریشاں ہےنگہ یاس مہرکیشاں ہےحسرت آلود آہ تھا یہ کہیںشوق کی یک نگاہ تھا یہ کہیںکشش اس کی ہے ایک اعجوبہڈوبا عاشق تو یار بھی ڈوباکوئی محروم وصل یاں سے گیاکہ نہ یار اس کا پھر جہاں سے گیاکام میں اپنے عشق پکا ہےہاں یہ نیرنگ ساز یکہ ہےجس کو ہو اس کی التفات نصیبہے وہ مہمان چندروزہ غریبایسی تقریب ڈھونڈھ لاتا ہےکہ وہ ناچار جی سے جاتا ہے

آغاز قصۂ جاں گداز

ایک جا اک جوان رعنا تھالالہ رخسار و سروبالا تھاعشق رکھتا تھا اس کی چھاتی گرمدل وہ رکھتا تھا موم سے بھی نرمشوق تھا اس کو صورت خوش سےانس رکھتا تھا وضع دل کش سےتھا طرح دار آپ بھی لیکنرہ نہ سکتا تھا اچھی صورت بنکوئی ترکیب اگر نظر آتیصورت حال اور ہو جاتیدیکھتا گر وہ کوئی خوش پرکاررہتا خمیازہ کش ہی لیل و نہارزلف ہوتی کسو کی گر برہمدیکھتے اس کے حال کو درہمدیکھتا گر کہیں وہ چشم سیاہدل سے بے اختیار کرتا آہسر میں تھا شور شوق دل میں تھاعشق ہی اس کے آب و گل میں تھاالغرض وہ جوان خوش اسلوبناشکیبا رہے تھا بے محبوبایک دن بے کلی سے گھبرایاسیر کرنے کو باغ میں آیاکسو گل پاس وہ صنم ٹھہراکہیں سبزے میں ایک دم ٹھہرااک خیابان میں سے ہو نکلاایک سائے تلے سے رو نکلانہ تسلی ہوا دل بے تابنہ تھما چشم تر سے خون نابدل کی واشد سے بے توقع ہوہر شجر کے تلے بہت سا رودیکھ گلشن کو ناامیدانہمنھ کیا ان نے جانب خانہدل کے رکنے کا اس کو اک غم تھاراہ چلنے میں خیال درہم تھاناگہ اس کوچہ سے گذار ہواآفت تازہ سے دوچار ہواایک غرفے سے ایک مہ پارہتھی طرف اس کے گرم نظارہپڑ گئی اس پہ اک نظر اس کیپھر نہ آئی اسے خبر اس کیتھی نظر یاکہ جی کی آفت تھیوہ نظر ہی وداع طاقت تھیہوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھصبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھبے قراری نے کج ادائی کیتاب و طاقت نے بے وفائی کیمنھ جو اس کا طرف سے اس کے پھرامضطرب ہوکے خاک پر یہ گراوہ تو رکھتی نہ تھی خیال اس کابے طرح ہووے گوکہ حال اس کاجھاڑ دامن کے تیں وہ مہ پارہاٹھ گئی سامنے سے یک بارہوہ گئی اس کے سر بلا آئیخاک میں مل گئی وہ رعنائیدل پہ کرنے لگا طپیدن نازرنگ چہرے سے کر چلا پروازہاتھ جانے لگا گریباں تکچاک کے پھیلے پاؤں داماں تکطبع نے اک جنوں کیا پیدااشک نے رنگ خوں کیا پیداسوزش دل نے جی میں جاگہ کیداغ نے آ جگر کو آتش دیبستر خاک پر گرا وہ زاردرد کا گھر ہوا دل بیمارخاطر افگار خار خار ہوئیجاں تمناکش نگار ہوئیاس کے منھ پر پڑی جو اس کی نگاہناامیدی کے ساتھ ہی سر کی آہخو ہوئی نالۂ حزیں کے ساتھرابطہ آہ آتشیں کے ساتھہونٹھ سوکھے تو خون ناب ملاخواب و خور دونوں کو جواب ملاخلق اس کی ہوئی تماشائیپر نہ وہ دیکھنے کبھو آئیکچھ کہا گر کسو نے شفقت سےرو دیا ان نے ایک حسرت سےجاکے اس کے قریب در بیٹھاقصد مرنے کا اپنے کر بیٹھادل نہ سمجھا کہ اضطراب کیاشوق نے کام کو خراب کیاجوکہ سمجھے تھے اس کو دیوانہرحم کرتے تھے آشنایانہعاشق اس کو کسو کا جان گئےسب برا اس ادا کو مان گئےکیونکہ باہم معاش تھی سب کیایک جا بود و باش تھی سب کیوارث اس کے بھی بدگمان ہوئےدرپئے دشمنی جان ہوئےمشورت تھی کہ مار ہی ڈالیںدفعتہً اس بلا کے تیں ٹالیںپھر یہ ٹھہری کہ ہوں گے ہم بدنامسن کے آخر کہیں گے خاص و عامکیا گنہ تھا کہ یہ جواں ماراکن نے مارا اسے کہاں ماراہووے یہ خون خفتہ گر بیدارکھینچنی ہووے خفت بسیارکیجیے ایک ڈھب سے اس کو تنگتا نہ عائد ہو اپنی جانب ننگتہمت خبط رکھیے اس کے سرکیجیے سنگ سار اس کو پھردے کے دیوانہ اس جواں کو قرارہوگئے سارے درپئے آزارایک نے سخت کہہ کے تنگ کیاایک نے آکے زیر سنگ کیاایک آیا تو ہاتھ میں شمشیرایک بولا کہ اب ہے کیا تاخیرکی اشارت کہ کودکان شہرآئے لبریز غصہ و پرقہرگرچہ ہنگامہ اس کے سر پر تھالیک روے دل اس کا اودھر تھامحو تھا اس کے یہ خیال کے بیچتھا گرفتار اپنے حال کے بیچہونٹھ پر حسن کا بیاں اس کاتھا سر و سنگ آستاں اس کاایک دم آہ سرد بھر اٹھنانالۂ گرم گاہ کر اٹھناجی میں کہتا کہ آہ مشکل ہےاس طرف یک نگاہ مشکل ہےدوست کو میرے نام سے ہے ننگدشمنوں سے ہے جی پہ عرصہ تنگچشم تر سے لہو بہا کرتاصبح کی باد سے کہا کرتاکاے نسیم سحر یہ اس سے کہہمت تغافل کر اور غافل رہان بلاؤں میں کوئی کیونکے جیےجان پر آ بنی ہے تیرے لیےجان دوں تیرے واسطے سو توآنکھ اٹھاکر ادھر نہ دیکھے کبھورفتہ رفتہ ہوا ہوں سودائیدور پہنچی ہے میری رسوائینام کو بھی ترے نہ جانا آہتجھ سے کیونکر سخن کی نکلے راہناامیدانہ گر کروں ہوں نگاہدیکھتا ہوں ہزار روز سیاہسخت مشکل ہے سخت ہے بیدادایک میں خوں گرفتہ سو جلادکوئی مشفق نہیں کہ ہووے شفیقبیکسی بن نہیں ہے کوئی رفیقنالہ ہوتا ہے گر کبھی دلجوگریہ آنکھوں سے پونچھتا ہے روآہ جو ہمدمی سی کرتی ہےاب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہےچشم رکھتا ہے وصل کی یہ دلجی ہے اس سے اسیر آب و گلورنہ ترکیب یہ کہاں ہوتیصورت اک معنی نہاں ہوتیاب ٹھہرتا نہیں ہے پاے ثباتایک میں اور کتنے تصدیعاتسنگ باراں سے سخت ہوں دل تنگشیشۂ دل نہیں ہے پارۂ سنگمحرم یک نگاہ بیش نہیںکم ہے سینے میں جاکہ ریش نہیںکیونکے کہیے کہ تو نہیں آگاہاک قیامت بپا ہے یاں سر راہکچھ چھپا تو نہیں رہا یہ رازاک جہاں اس سے ہے خبر پردازپس تغافل ہوا ترحم کرگوش دل جانب تظلم کرکون کہتا ہے رہ نہ محو نازپر نہ اتنا کہ جی سے جائے نیازان بلاؤں پہ ان نے صبر کیااختیار اپنے جی پہ جبر کیااس طرف کا نہ دیکھنا چھوڑااس کے اندوہ سے نہ منھ موڑااور یہ ماجرا ہوا مشہورشور رسوائیوں کا پہنچا دوردیکھ کر اس کو بے خور و بے خوابجانا ہر اک نے عاشق بے تابمنھ پر اس کے جو رنگ خون نہیںعشق ہے اس کو یہ جنون نہیںہے نگاہ اس کی جس طرف مائلاس طرف ہی گیا ہے اس کا دلجب ہوا ذکر اقل و اکثر میںچاہ ثابت ہوئی اسے گھر میںعشق بے پردہ جب فسانہ ہوامضطرب کدخداے خانہ ہواگھر میں جا بہر دفع رسوائیبیٹھ کر مشورت یہ ٹھہرائییاں سے یہ غیرت مہ تاباںجا کے چندے کہیں رہے پنہاںشب محافے میں اس کو کرکے سوارساتھ دے ایک دایۂ غدارپار دریا کے جلد رخصت کیاس طرح فکر رفع تہمت کیگھر تھا اک آشنا کا مدنگاہواں ہو روپوش تا یہ غیرت ماہہووے جب اس بلا سے خاطر جمعنورافزاے خانہ ہو جوں شمعگھر سے باہر محافہ جو نکلااس جواں ہی کے پاس ہو نکلاطپش دل سے ہو کے یہ آگاہہو لیا ساتھ اس کے بھر کر آہواں کے رہنے سے اس کو کام نہ تھاوہ گلی اس کا کچھ مقام نہ تھاجس سے جی کو کمال ہو الفتجس سے دل کی درست ہو نسبتجنبش اس کی پلک کو گرداں ہودل میں یاں کاوش نمایاں ہوواں اگر موشکست کا ہو بابیاں رگ جاں کو ہووے پیچ و تابواں اگر پاؤں میں لگے ہے خاردل سے یاں سر نکالے ہے یک باریار کو درد چشم اگر ہووےچشم عاشق لہو میں تر ہووےچاک دامن میں واں پئے زینتیاں گریباں ہے چاک گل کی صفتواں دہن تنگ یاں ہے دل تنگیحسن اور عشق میں ہے یک رنگیدست افشاں وہ پاے کوباں یہتھا محافے کے ساتھ گرم رہقطرہ زن اشک سا وہ راہ تمامدرپئے یار تھا وہ بے آرامہر قدم تھا زبان پر جاریخواب ہے یاکہ ہے یہ بیداریہمسری اس کی تھی میسر کبہے مجھے بخت واژگوں سے عجبشوق مفرط نے بے تہی کی سختنوشکیبی نے دل سے باندھا رخترفتہ رفتہ سخن ہوئے نالےاڑنے لاگے جگر کے پرکالےاضطراب دلی نے زور کیاان نے بے اختیار شور کیادل کے غم کو زبان پر لایاآفت تازہ جان پر لایاکاے جفا پیشہ و تغافل کیشاک نظر سے زیاں نہیں کچھ بیشمنھ چھپایا ہے تونے اس پر بھینگہ التفات ایدھر بھیصبر کس کس بلا سے کر گذروںچارہ اس بن نہیں کہ مر گذروںمنزل وصل دور میں کم پاتجھ کو اس مرتبے میں استغناہے تو نزدیک دل سے اے طنازلیک تجھ تک سفر ہے دور درازناز نے یک نفس نہ رخصت دیآئینے نے تجھے نہ فرصت دیتو تو واں زلف کو بنایا کیجان یاں پیچ و تاب کھایا کیتجھ کو تھی اپنے خال رخ پہ نگاہدل مرا مبتلاے داغ سیاہتجھ کو مدنظر تھی اپنی چالمیں ستم کش ہوا کیا پامالبستر خواب پر تجھے آراممجھ کو خمیازہ کھینچنے سے کامواں لب لعل تیرے خنداں تھےیاں فشردہ جگر پہ دنداں تھےناز و خوبی نے دل دیا نہ تجھےرحم سے آشنا کیا نہ تجھےاب تغافل نہ کر تلطف کرحال پر میرے ٹک تاسف کرگوش زد دایہ کے ہوئے یہ سخنتھی وہ استاد کار حیلہ و فنپاس اس کو بلا تسلی کیوعدۂ وصل سے تشفی کیکاے ستم دیدۂ غم دوریہوچکا اب زمان مہجوریزار نالی نہ کر شکیبا ہوعشق کا راز تا نہ رسوا ہودل قوی رکھ نہ جی کو کاہش دےچل کوئی دم کو داد خواہش دےسخت دل تنگ تھی یہ غیرت ماہقطع تجھ بن نہ ہوسکی تھی راہگرچہ یہ حسن اتفاق سے ہےاس کی بھی جذب اشتیاق سے ہےتیرے آنے سے دل کشادہ ہوانشۂ دوستی زیادہ ہوابزم عشرت کریں گے باہم سازہوجو اب اپنے دوست کا دم سازدے کر اس کو فریب ساتھ لیادل عاشق کو اپنے ہاتھ لیالیک در پردہ ان نے یہ ٹھانیکیجیے اس سے خصمی جانییہ تو دل تفتۂ محبت تھاسخت وارفتۂ محبت تھاوقت نزدیک تھا جو آپہنچاتا سر آب پا بہ پا پہنچاآب کیسا کہ بحر تھا ذخارتند و مواج و تیرہ و تہ دارموج کا ہر کنایہ طوفاں پرمارے چشمک حباب عماں پرہم کنار بلا ہر اک گردابلجہ سرمایہ بخش تیرہ سحابگذر موج جب نہ تب دیکھاساحل اس کا نہ خشک لب دیکھاکشتی اک آن کر ہوئی موجودہو فلک سے ہلال جیسے نمودکی کنارے پہ لاکے استادہتھا محافہ رکوب آمادہاس سفینے میں جلد جا پہنچایہ بھی واں ساتھ ہی لگا پہنچابیچ دریا میں دایہ نے جاکرکفش اس گل کی اس کو دکھلاکرپھینکی پانی کی سطح پر اک باراور بولی کہ او جگرافگارحیف تیرے نگار کی پاپوشموج دریا سے ہووے ہم آغوشغیرت عشق ہے تو لا اس کوچھوڑ مت یوں برہنہ پا اس کواس طرف اس کے تیں اترنا ہےاس نواحی کی سیر کرنا ہےپاؤں اس کے جو ہیں نگار آلودظلم ہے ہوویں گر غبارآلودجس کف پا کو رنگ گل ہو بارمنصفی ہے کہ خار سے ہو فگاران پہ نرمی میں گل سے ہوں جو پرےآبلہ چشم کو سیاہ کرےیہ روا ہے تو اپنے حال پہ رومفت ناموس عشق کو مت کھوجی اگر تھا عزیز اے ناکامکیوں عبث عشق کو کیا بدنامسن کے یہ حرف دایۂ مکاردل سے اس کے گیا شکیب و قراربے خبر کار عشق کی تہ سےجست کی ان نے اپنی جاگہ سےتھا سفینے میں یا کہ دریا میںموج زنجیر ہوگئی پا میںکھنچ گیا قعر کو یہ گوہر نابتھی کشش عشق کی مگر تہ آبکہتے ہیں ڈوبتے اچھلتے ہیںلیکن ایسے کوئی نکلتے ہیںڈوبے جو یوں کہیں وہ جا نکلےغرق دریاے عشق کیا نکلےعشق نے آہ کھو دیا اس کوآخر آخر ڈبو دیا اس کوجب کہ دریا میں ڈوب کر وہ جواںکھو گیا گوہر گرامی جاںدایۂ حیلہ گر ہوئی دل شادواں سے کشتی چلی بہ رنگ بادخارخار دلی سے فارغ ہولے گئی پار اس گل نو کویہ نہ سمجھی کہ عشق آفت ہےفتنہ سازی میں اک قیامت ہےخاک ہو کیوں نہ عاشق بے دلکام سے اپنے یہ نہیں غافلوصل جیتے نہ ہو میسر اگرلادے معشوق کو یہ تربت پریاں سے عاشق اگر گئے ناشادخاک خوباں بھی ان نے دی بربادقصہ کوتاہ بعد یک ہفتہآئی وہ رشک مہ زخود رفتہکہنے لاگی کہ اب تو اے دایہہوگیا غرق وہ فرومایہاب تو وہ ننگ درمیاں سے گیاآرزومند اس جہاں سے گیاتھے جو ہنگامے اس کے حد سے زیادساتھ اس کے گئے وہ شور و فسادشور فتنے تھے اس تلک سارےاب تو بدنامیاں نہیں بارےدل تڑپتا ہے متصل میرامرغ بسمل ہے یاکہ دل میراوحشت طبع اب تو افزوں ہےحال جی کا مرے دگرگوں ہےبے دماغی کمال ہوتی ہےجان تن کے وبال ہوتی ہےدل کوئی دم میں خون ہووے گاآج کل میں جنون ہووے گابے کلی جی کو تاب دیتی ہےطاقت دل جواب دیتی ہےجی میں آتا ہے ہوں بیابانیپر کہوں ہوں کہ ہے یہ نادانیمصلحت ہے کہ مجھ کو لے چل گھرایک دو دم رہیں گے دریا پرگاہ باشد کہ دل مرا وا ہوورنہ کیا جانیے کہ پھر کیا ہودایہ بولی کہ اے سراپا نازحسن کا در پہ تیرے روے نیازاب تو میں فتنے کو سلایا ہےاس بلا کے تئیں بٹھایا ہےکون مانع ہے گھر کے چلنے کاسد رہ کون ہے نکلنے کاہو محافے میں دل خوشی سے سوارشاد شاداں کر آب سے تو گذاردل سے اپنے پدر کے غم کم کرمادر مہرباں کو خرم کرکر ملاقات ہمدموں سے توگرم بازی ہو محرموں سے تویہ نہ سوچی کہ بدبلا ہے عشقگھات میں اپنی لگ رہا ہے عشقجس کسو سے یہ پیار رکھتا ہےعاقبت اس کو مار رکھتا ہےجذب سے اپنے جب کرے ہے کامعاشق مردہ سے بھی لے ہے کامصبح گاہاں وہ غیرت خورشیداس جگہ سے رواں ہوئی نومیدپہنچی نصف النہار دریا پرروئی بے اختیار دریا پرحد سے افزوں جو بے قرار ہوئیدایہ کشتی میں لے سوار ہوئیحرف زن یوں ہوئی کہ اے دایہیاں گرا تھا کہاں وہ کم مایہموج سے تھا کدھر کو ہم آغوشتھا تلاطم سے کس طرف ہم دوشتجھ کو آیا نظر کہاں آکرپھر جو ڈوبا تو کس جگہ جاکرمجھ کو دیجو نشان اس جا کامیں بھی دیکھوں خروش دریا کاہوں میں ناآشناے سیر آبناشناساے موجہ و گردابلجہ کیا لطمہ کس کو کہتے ہیںگھر میں ہم نام سنتے رہتے ہیںہیں میسر کہاں یہ سیر عبوراتفاقی ہیں اس طرح کے امورمکر میں گرچہ دایہ تھی کامللیک تہ سے سخن کے تھی غافلیہ نہ سمجھی کہ ہے فریب عشقہے یہ مہ پارہ ناشکیب عشقبیچ دریا کے جا کہا یہ حرفیاں ہوا تھا وہ ماجراے شگرفیاں وہ بیٹھا حباب کے مانندپھر نہ تھا کچھ سراب کے مانندسنتے ہی یہ کہاں کہاں کر کرگر پڑی قصد ترک جاں کر کرموج ہر اک کمند شوق تھی آہلپٹی اس کو بہ رنگ مار سیاہدام گستر دہ عشق تھا تہ آبجس کے حلقے تمام تھے گردابحسن موجوں میں یوں نظر آوےنور مہتاب جیسے لہراوےتھیں وہ اس کی حنائی انگشتاںغیرت افزاے پنجۂ مرجاںسر پہ جس دم کہ آب ہو کے بہاسطح پانی کا آئینہ سا رہاکشش عشق آخر اس مہ کولے گئی کھینچتی ہوئی تہ کوکودے غواص و آشنا سارےتابہ مقدور دست و پا مارےکھینچ کر کوفت سب ہوئے بیتابنہ لگا ہاتھ وہ در نایابجا ہم آغوش مردہ یار ہوئیتہ میں دریا کے ہم کنار ہوئیپاک کی زندگی کی آلائشہو کے دست و بغل کی آسائشسر پٹکتی جو گھر گئی دایہآفت اک لے گئی نئی دایہاب و عم مادر و برادر سبخاک افشان و آہ و نالہ بہ لبدار و دستہ تمام اس گل کاترک آئین کر تحمل کاسوے دریا رواں ہوئے گریاںآتش غم سے دل جگر بریاںخلق یک جا ہوئی کنارے پرحشر برپا ہوئی کنارے پردام داروں سے سب نے کام لیاآخر ان کو اسیر دام کیانکلے باہم ولے موئے نکلےدونوں دست و بغل ہوئے نکلےربط چسپاں بہم ہویدا تھامر گئے پر بھی شوق پیدا تھاایک کا ہاتھ ایک کی بالیںایک کے لب سے ایک کو تسکیںجو نظر ان کو آن کرتے تھےایک قالب گمان کرتے تھےکیا لکھوں مل رہے وہ وصلی وارہم دگر سے جدا ہوئے دشوارکیوں نہ دشوار ہووے ان کا فصلجان دے دے ہوا ہو جن کا وصلحیرت کار عشق سے مردمشکل تصویر آپ میں تھے گم

مقولۂ شاعر

میرؔ اب شاعری کو کر موقوفعشق ہے ایک فتنۂ معروفقدرت اپنی جہاں دکھاتا ہےاس سے جو تو کہے سو آتا ہےکتنی وسعت ترے بیاں میں ہےکتنی طاقت تری زباں میں ہےلب پہ اب مہر خامشی بہتریاں سخن کی فرامشی بہتر

در ہجو نااہل مسمیٰ بہ زبان زد عالم

سنیو اے اہل سخن بعد از سلامچھیڑتا ہے مجھ کو اک تخم حرامپر نہیں مرغی کا گرم طیر ہےوہم میں شہباز کا ہم سیر ہےکام مجھ کو کچھ نہیں ہے اور سےبلکہ اس بھی طرز سے اس طور سےشاعری کو میری ہوگے جانتےتم چنانچہ سب مجھے ہو مانتےمیں ہمیشہ سے رہا ہوں باوقارکن دنوں تھا ہجو کا کرنا شعارگر کنھوں نے کچھ کہا میں چپ رہاہجو اس کی ہوگئی اس کا کہاکیا ہوا گر چاند پر پھینکے ہیں خاکپڑتی ہے ان سب کے منھ پر میں ہوں پاکرہیو شاہد کچھ نہیں میرا گناہمدعی بے ہیچ ہے یہ روسیاہتھا تحمل مجھ کو میں درویش تھادردمند و عاشق و دل ریش تھاپر کروں کیا لاعلاجی سی ہے ابغصے کے مارے چڑھی ہے مجھ کو تبایسے کتنے ہیں جو اب شاعر بنےمدتوں یہ لونڈے آئے مجھ کنےایک باتوں سے مری آدم ہوااک نظر سے شہرۂ عالم ہواایک نے دیواں کی میرے نقل لیاس دوانے کی کنھوں نے عقل لیایک میرے طرز پر کہنے لگادوسرا پیرو مرا رہنے لگاسارے عالم میں ہوں میں چھایا ہوامستند ہے میرا فرمایا ہوادور سے کرتا ہوں بیٹھا سب کی دیدکوئی سر کھینچو ہے میرا مستفیدکوئی بے تہ گو نہ جانے میری قدرپائیں ہے پائین آخر صدر صدرہے گی شخصیت خدا کی اور سےہاتھ کب آوے بزرگی زور سےایک لچا دے جو اک عمدہ کو بھوگتو اسے کیا کچھ طرف جانیں گے لوگجو بڑے ہیں وے ہی آخر ہیں بڑےایسے لچے بہت پھرتے ہیں پڑےشہر میں آیا میں بعد از بست سالگم تھا یاں سررشتۂ قال و مقالکسب جو کرتے تھے یہ فن شریفان میں سے کوئی نہ تھا میرا حریفکتنے اک نو مشق تھے گرم سخنسو بچارے آپھی ناآگاہ فنمدعی میرا ہوا یہ بے ہنرمردۂ صدسال سا بے نور ترکاسہ لیس و مایۂ خبث و حسودقلیۂ دہ روز سے بھی بدنمودآتے اچھا ہے جو اس کو روک دوورنہ منھ دیکھو تو ووہیں اوک دوباپ اس کا سخت ناداں نادرستکوڑے کی سی گندی بلی قاق و سستایک جا آیا شترقد گھر گیاواں شتر غمزہ سا مجھ سے کر گیارہ گیا میں پی کے لوہو کا سا گھونٹیعنی دیکھوں بیٹھے ہے کس کل یہ اونٹاس تحمل پر نہ کی مطلق نظرخار پہلو کا ہوا ہر جا لچرجب لگا ہے ناچنے مستی سے خوبتب لیا میں نے قلم کے زیر چوبمستی اس کی ساری اب جھڑ جائے گیدھوم ساری گلیوں میں پڑ جائے گیجب بڑوں سے مار ناہموار کھائیںکج خرامی سے تب اپنی باز آئیںراہ سیدھا ہو کے چلتا ہے بلےاونٹ جب آیا پہاڑوں کے تلےاونٹ کی خلقت پہ ہے قدرت کو نازاس کی خلقت کم ہے کیا اے بے نیازہیئت اس کی مضحکہ ہے سوانگ ہےجید عوج ابن عنق کی ٹانگ ہےسر کے تیں اس کے جو دیکھوں کر نگاہبانس پر اک اوندھی ہانڈی ہے سیاہتیرہ رو مضحک سراپا زور ہےدم اگر ہووے تو پھر لنگور ہےشکل و صورت دیکھ کر حیراں رہوبے گماں سب مل کے لگ لگ ہی کہوبیٹھے تو بیٹھا ہے گویا بوتیمارآتے جاتے جاویں اس کو جوتی مارچال جب چلنے لگے سر جھاڑ کرپاؤں کو پہلے رکھے منھ پھاڑ کربال و پر رکھتا نہیں بے پا و سرورنہ تھا یہ بھی عجائب جانورایک دن بیٹھے تھے یاں ذات شریفوارد اس دن ہوگئے کتنے ظریفایک بولا دیکھ کر حیران ہویہ جزائر کا کوئی حیوان ہویاں تو ایسا جانور دیکھا نہیںسر کہیں ہے پاؤں اس کے ہیں کہیںایک کے آیا مکوڑا وہم میںایک کے مور سواری فہم میںایک نے ہنس کر دیا اس کو ڈھکیلاور بولا اے تری قدرت کے کھیلکیسا اعجوبہ نیا پہنچا ہے یاںچونچ ہو تو ہے شتر مرغ کلاںایک بولا کرکے چشمک میری اورواہ صاحب جانور پالا ہے زورایک دن باہر تو ہو لے کر کھڑےیہ اچنبھے یوں نہیں رہتے پڑےجائے اس وحشی کا ٹک وسواس بھیچوک بھی ہے پاس یہ نسناس بھیاس کو یاروں نے غرض کیا کیا کہالیک یہ خر نامشخص ہی رہایہ جو ہے موشک دوان و شور چشمموش دشتی چہرہ و شب کور چشمبے سبب سرگرم کیں پیہم ہوامستحق لعنت عالم ہواچل قلم اب ہے ارادہ جنگ کاپاس کب تک کیجے نام و ننگ کایاں زبردستوں کو دعویٰ کھا گیایہ چھپارستم کہاں سے آگیاناقباحت فہم کو دعویٰ پڑاہو کے تنکا سا پہاڑوں سے اڑاہاتھی کی ٹکر کو ہاتھی ہی اٹھائےچیونٹی کا کیا جگر جو منھ پر آئےجنگ ہاتھی کی ہو گو اس کو ہوسپر اسے ہے موت کا ریلا ہی بسایک دھکے میں کہاں وہ کامنیپودنے کی سی ہے اس کی ضامنیمیں نے پاس اس کا کیا حد سے زیادپر کمی کرتا ہے یہ ابن زیادقبلہ کہتے کہتے ہاجی ہوگیاپاس ظاہر چھوڑ پاجی ہوگیارشک شہرت سے مرے مرنے لگامیری عزت کا حسد کرنے لگالگ گئی چپ اس کو میرے شور سےیہ نہ سمجھا ہے خدا کی اور سےیہ قبول خاطر و لطف سخندے ہے کب سب کو خداے ذوالمننایک دو ہی ہوتے ہیں خوش طرز و طوراب چنانچہ میرؔ و مرزاؔ کا ہے دورخصمی وہ کریے کہ ہو معقول خلقنے انھوں سے جو کہ ہوں مقبول خلقدشمنی تھی اس کو مجھ سے کیا ضرورحیف ایسی عقل لعنت یہ شعورہوں جو میں پرتوفگن تو ہے یہ کیاخور کے آگے ذرہ کب ٹھہرا رہاخون دل آشام ہیں جو صبح و شاموے بھی لیتے ہیں ادب سے میرا نامیہ مری رہ کا نہ حائل ہوسکےیہ موئی جوں کیا مقابل ہوسکےمیں نے الٹی اجگروں کی دم میں صفادھ موئی سی چھپکلی کیا ہو طرفرکھتی ہے میری شرافت اشتہارگو یہ ناسید کہے ہے کیا چمارہجو کی جو ان نے میں کیا دب گیابھونکنے پر سگ کے ہاتھی کب گیاننگ ہے میری توجہ اس طرفحیف ہے میلان دریا سوے کفدار و دستہ سے ہے اس کے مجھ کو شرمتب تو میں باتیں کروں ہوں نرم نرمان عزیزوں کا نہایت پاس ہےورنہ یہ ملعون کیا کناس ہےجو نہ سمجھا تیغ خامے کی ہے پاسکاٹوں گا یوں جس طرح کٹتی ہے گھاسجب سے لے آیا قدم اپنا یہ شومتب سے ویراں ہوگئی یہ مرزبومایک بدیمنی ہی ہے گی بوم میںلطف وہ پاتے ہیں ہم اس شوم میںدیدنی ہے قدرت رب ودودایسی اچرج کم ہی ہوتی ہے نمودکیا کمی ہے یہ جو عزت کم کرےگو نہ شیطاں سجدۂ آدم کرےکرتی ہے تعظیم میری کائناتلعنت اس پر ہوتی ہے دن اور راتیا بلا ہے یہ سمج خایہ گزکمیرے دتکارے گئے جھٹ سے دبکمیری ہیبت سے نکل جاتا ہے موتدشمنی کی ان نے اپنی ماں کی چوتبیت کہنا چاہتا ہے سو ہنرشاعری سمجھا تھا کیا خالہ کا گھرنامبارک ہی نہیں سادہ بھی ہےالو ہے اور الو کی مادہ بھی ہےعقل سے کس طرح ہووے بہرہ ورہے کسو حافظ کا نطفہ پاچہ خرپر وہ حافظ جو ہو قرآں خوان قبراس سے لیں کار تلاوت گو بہ جبرجھڑ گیا ہووے دماغ اس کا تمامپڑھتے پڑھتے شور سے ہر صبح و شاموہ خرف جورو سے جا یکجا ہواایسا الو ماخرا پیدا ہوادیکھ کر ان کی خرامی پاے سروایک کوے نے کی تقلید تدروکود کر چلنے لگا آخر کو راہاپنی بھی رفتار بھولا رو سیاہکاشکے ہوویں مخدر شیخ و شابپھٹے سے منھ جو پکارے کا ہے بابگوکہ یہ لچپن کرے کیا مال ہےآگے میرے جھانٹ کا سا بال ہےچاہوں گا جب پھینک ہی دوں گا اکھاڑایسی پشمیں سیکڑوں ڈالی ہیں جھاڑبدنمائی اس کی ہے بے ساختہکیا ہے یاں میش بچہ انداختہدیکھ اسے یاد آوے قدرت کاملہکیا بلا ہے مادہ خوک حاملہگرگ گردن خوک چشم و غوک سرغول صحرائی کا بچہ ہے مگرچار سکھیاں کہہ کے شاعر ہوگیااس فن مشکل کا ماہر ہوگیاباپ کو ان نے بنا رکھا ہے اوتہیں کہاں ایسے سعادت مند پوتکم ہوا ہے گا جو اس کا زور پاجانتا ہے اس کو پیری کا عصاکچھ نہیں معلوم اس کو سر کارتب تو ٹھہرایا ہے اس کو رازداراس زنازادے نے جو لب وا کیاپہلے ماں کا راز ہی رسوا کیاایک دن سب کے تئیں جلوا دیےیار ماں کے باپ کو دکھلا دیےپھر حقیقی باپ سے جاکر ملااس مجازی کا کیا اس سے گلہپیسے اس کے کھاکے جب کٹا ہوایاں کسی تقریب آ پیدا ہواتب سے روز و شب اسی کے ساتھ ہےاس خرف کی ڈاڑھی اس کے ہاتھ ہےبس قلم نفریں ہے میری بس اسےہے دماغ بحث پاجی اب کسےرکھ زباں کیدھر گیا تیرا مزاجپوچ گو بہتیرے پھرتے ہیں پواج

در ہجو عاقل نام، ناکسے کہ بہ سگاں انسے تمام داشت

اک جو لچر کو رزق کی وسعت سی ہوگئیتنگی کی حوصلے نے تو رجعت سی ہوگئیکتوں کے ساتھ کھانے لگا کتوں سے معاشچچڑی کی طرح شام و سحر کتوں کی تلاشپاکیزگی طبع و لطافت وہ برطرفکتا بغل میں مارے لگا پھرنے ہر طرفدتکارو کتے کو تو لہو اپنا وہ پیےہے اس کی استخواں شکنی کتوں کے لیےیا جھوٹے ہاتھ کتے کو مارا نہ تھا کبھییا کتوں سے چٹایا ہے اب اپنے منھ کو بھیآیا جو ایک روز وہ بے تہ چلا ہواکتا ازار اس کے سے نکلا بندھا ہوایک سگ گزیدہ کی سی طرح جھومنے لگاپھر کھول اس کے منھ کے تئیں چومنے لگاایسی بھی ہم نے دیکھی نہیں کتوں کی ہوسگردن میں اپنے ڈالے پھرے روز و شب مرسٹکڑا ہوجس کے ہاتھ میں یہ اس کا یار ہےجیسے سگ سراے سگ ہر سوار ہےکتوں کی جستجو میں ہوا روڑا باٹ کادھوبی کا کتا ہے کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کاتھکتا ہے پھر جو کرتے ہوئے دوڑ اور دھپاڑلیتا ہے بے دماغ ہو لوگوں کے کپڑے پھاڑجو ہڈیوں پہ لڑتا رہا ہو بسان سگہو آدمیت اس کو بھلا کس مقام لگانساں کو انس کتے سے اتنا ہوا ہے کبناپاک اس کو جانے ہیں پاکیزہ لوگ سباصحاب کہف کا بھی جو سگ ہو تو ہے وہ سگنجم الدیں کے بھی کتے کو کتا کہے ہے جگکر سگ تخلص اپنا جو آیا بروے کاراکراہ سگ لوند سے کرنے لگا دیاررہتے نہیں نفور تو سگ بان بے شعورکھاتے میں وہ بھی کہتے ہیں کتے کو دور دورکیا جانیے کہ یہ گہہ سگ کیا متاع ہےبازار میں جو دیکھے ہے سگ کو سماع ہےآدم گری اڑا رکھی حرف و سخن گیادیکھا جو خوب تو سگ دیوانہ بن گیادم لابہ جو دبے تو لگے کرنے بدخصالدوڑے وگرنہ کاٹنے کو کتے کی مثالکم بخت یک غریب جو مردہ سا پائے یہمرگھٹ کے کتے کی سی طرح پھاڑ کھائے یہور مدعی ہو ٹک بھی قوی دل قوی نصیبپھر آگے اس کے سوکھی سی بلی ہے یہ غریبرہتا ہے سخت شیفتہ کتوں کے بال کاپلا یہ ہے کہے تو کسی کتے وال کاکتوں کی لے کے زرد و سیاہ و سپید پشمکس کس طرح سے دیکھتا ہے داب داب چشمکتوں کے شوق میں جو یہ آتش ہے زیر پاکہنا ہے اس کو اب سگ پاسوختہ بجااس کی پلیدی شہرۂ ہر شہر ہی رہیکتے کے کاٹے کی سی اسے لہر ہی رہیدلی میں تین کتیاں کہیں لے کے پالیاںہمسایوں کی جنھوں کے لیے کھائیں گالیاںوہ مرگئیں تو دیر رہا روتا غم زدہپشتی کے پیچھے پھر نہ ہنسا ٹک ستم زدہلونگی کا گرم غم جو رہا سوکھ نخ ہوابرفی کی تعزیت میں سگ روے یخ ہوابلی جو پالتا تو بھلا ایک بات تھیآئیں میں اس کی دوستی ایماں کے ساتھ تھیتوراں کے لوگ ہوویں کہ ہوں اہل اصفہاںکتا تو کشتنی ہے سب اسلامیوں کے ہاںجس کو خدا خراب کرے پھر وہ کیا کرےکیوں کر زباں نکالے نہ جوں سگ پھرا کرےآواز دے دے کتوں کو توڑے ہے اپنی جانمر جائے گا یہ بھونکتے ہی بھونکتے ندانہے بسکہ سگ پرست مرے گا جو یہ دنیتوشے میں اس کے ہوگا نہ کچھ غیر سگ کنیکتوں کے پیچھے پھرتا ہے گلیوں میں ڈور ہویہ سب ہے اس لیے کہ ہر اک جاے شور ہواس وضع ساختہ کے ہوں احمق فریفتہبہرہ ہے جن کو عقل سے وے کیوں ہوں شیفتہہے اس طرح کے معرکہ گیروں سے پر جہاںبہتیرے ایسے کتے نچاتے پھرے ہیں یاں

در ہجو شخصے ہیچمداں کہ دعواے ہمہ دانی داشت

اس چرخ بے مدار کے کیا کیا کروں گلےمیرے جگر میں جیسے ستارے ہیں آبلےتنکا سا ان نے جور و جفا کر سکھا دیاپھر تس پہ میرے رونے نے مجھ کو بہا دیااس مجمع کمال کے گھر لے گیا بہ زورجس کو تمام فنوں میں گویاکہ تھا عبورتوحید گر کہے تو وہ حق حق بہت کرےایسا بکے کہ بات تصوف میں ڈال دےمصروف علم صرف کا تھا ایک اس سے حرفپوچھو جو اسم آلہ سے تو بول اٹھے کہ ظرفیہ سن کے تم ہنسو ہو تو وہ روکے ایک بارکہنے لگے کہ اپنا یہ صیغہ نہیں ہے یارکرتا ہو بحث نحو میں جس دم وہ مارگیرہر نحو کا ہے لفظ فقط حرف بارگیرموضوع اپنا جانتا منطق کو تس اپرمحمول ابتدا ہی کو کہتا تھا بے خبروصف حذاقت اس کا بیاں کیجیے تو کیاتجویز کرتا دیکھ کے مبطون کو سنافن بیاں میں کیسا ہے تشبیہ کس سے دوںعالم کنایہ اس سے کیا ہے میں کیا کہوںپوچھو مجاز کی جو حقیقت ہو لاعلاجکہنے لگے کہ رات سے پھیکا ملا مزاجاور لفظ بھی مزاج ہے ناداں نہ ہے مجازمعنی کہے تو اس کے کہے قصۂ درازپھر معنی پوچھے حکمت و خلط و مزاج کےانواع یوں بیاں کرے اس کے علاج کےاس کی دوائیں کتنی مقرر ہیں طب کے بیچتعریض ایک ان میں ہے یعنی سیاہ کیچاس کا ضماد کرتے ہیں دوچار روز تکپھر استعارہ دیویں ہیں تھوڑا کہ جائے پکہذیان معنی اس کا ہوا برطرف جہاںپھر وہ مجاز مرسل اسے صبر کر وہاںاجمالی معنی یہ کہے آخر کو یہ کہاتفصیل کرنے کا تو دماغ اب نہیں رہاعلم معانی سے جو کیا ایک دن سوالکہنے لگا حقیقت عقلی تو ہے محاللیکن مجاز عقلی کو نادان یاد رکھیاں کون پوچھتا ہے دل اپنے کو شاد رکھہے اب فصاحت اور بلاغت سو جانے دےیہ دونوں عیب شعر میں اپنے نہ آنے دےاک دن سوال علم قوافی سے میں کیاکہنے لگا کہ قید نہیں اس میں مطلقاتم آب قافیہ نہ کرو لفظ خاک کایا آتش اور باد کا زنجیر و تاک کالیکن مغائرہ ہو مقرر ردیف میںآتا ہے یہ کچھ اپنے تو ذہن شریف میںپھر شعر وصل و ہجر کے موزون تم کروعرصہ ہوا وسیع جو اب چاہو سو کہودعویٰ بتاؤں کیا ہے انھیں فن شعر کامعنی جو قافیہ کے کوئی پوچھتا تھا آبے علم کرتا قافیہ تنگ اس کی جان پردے مارتا تھا ہاتھوں کو وہ اپنی ران پرکہتا تھا ہائے ہائے مرے بعد ہوگا کیاان احمقوں کے جینے کے پیچھے تو مر گیاپھر تربیت سے ان کی مجھے فائدہ بھلاٹوٹے ہے بکتے بکتے انھوں کے لیے گلامرجاؤں گا تو گور پہ میری نہ آئیں گےدو کوزے آب کے بھی یہ ہرگز نہ لائیں گےلیکن مجھے تو بخل نہیں ہے سنا عزیزسنیو تو گوش دل سے اگر ہے تجھے تمیزایماں اشارہ رہنے دے کہتا ہوں اب صریحاول ہی لفظ کا نہیں ہے قافیہ صحیحمیں جو سنا ہے کافیہ ہے چھوٹے کاف سےپس پڑھنا تو غلط ہوا اب اس کا قاف سےاور اس میں ایک نکتہ بھی کرتا ہوں میں بیاںپھر بولا ہائے ہائے نہیں کوئی قدرداںورنہ مرے دہن کو جواہر سے پر کرےیہ لعل اگلوں ہوں میں مجھے سر اپر دھرےبارے وہ نکتہ یہ ہے لگا کہنے کر خطابہے ایک علم جفر میں بھی کافیہ کتابتصحیح صرف ہوچکی اب معنی اس کے سنورنہ لگے ہے ذہن میں ان معنیوں کو گھناستادوں سے سنا تھا جو میں نے نہیں ہے یاداور اب جہاں کے بیچ نہیں کوئی اوستادہر اک سے پوچھنے کو نہیں چاہتا ہے جیلائق نہیں جو پوچھیے اب قافیہ روییہ کہہ کے بولا آپ ہی کہنے کا کیا حصولاس معنی کو کہے یہ مرے کیجیو قبولاس شخص کا جو حدث ہے سو یہ ہے میرے یارہرچند اس کو گوز شتر جانے سب دیارپر دید کر کہوں ہوں بنابر میں احتیاطحرف غلط کا تانہ ہو معنی سے اختلاطیا پھل ہے وہ سنا کا جو لگتا ہے جھاڑ میںیا کاہ خشک ہے جو اگے ہے پہاڑ میںگر پوچھتا کوئی کہ کسے کہتے ہیں رویکہتا روی غلط ہے مجھے یاد ہے ردیپھر جاکے کھول جد کی اپنے کتاب کوکہتا مرے قیاس میں آتا ہے ہو نہ ہواغلب کہ اے عزیز وہ جنگل کی ہے جڑیہوتی ہے جس کی بیل ببولوں اپر پڑیاک دن بدیع میں جو اسے امتحاں کیااک بار باز سامنے اس نے دہاں کیاکر جمع قلب مستوی و قلب بعض کوکہنے لگا کہ عکس ہے اکثر کہاں ہے دوحالانکہ تین صنعتیں کی جاتیاں بیاںاور ایک سمجھا ان کے تئیں ایسے ہیں کہاںپوچھا جو اس سے معنی ایہام کے تئیںدینے لگا نشاں مجھے اک نام کے تئیںیعنی تھا ایک وقت میں اک پہلوان زوردو انگلیوں سے ان نے اکھاڑے تھے شاخ گوربہرام گور اس ہی کو کہتے ہیں سب عوامدرگور یہ تمام کہ کتنے ہیں ناتمامتجنیس کا سوال کیا اس سے ایک روزکہنے لگا اس اسپ کو کہتے ہیں جو ہو یوزنادان تونے اسپ مجنس نہیں سنامشتق اسی سے جانے ہے جو ہے پڑھا گنالاتے جہاں ہیں شعر میں تجنیس شاعراںمذکور ان سے ہوتے ہیں گھوڑوں کے وصف واںمیں نے کہا کہ کہتے ہیں تم کو عروض داںبحر رمل کی مجھ سے حقیقت کرو بیاںبولا کہ تیری عقل سے آتا ہے بس عجبدریا کا ایک نام ہے پھر کیا کہوں سببپھر میں کیا سوال بصد انکسار و عجزبحر طویل بحر مدید اور بحر رجزان میں جو ہے گا فاصلہ مجھ کو بتایئےکامل سے مل کے حیف ہے ناقص جو جایئےبولا کہ تجھ کو عقل نہیں تاکجا کہوںیوں تربیت میں تجھ سے کی میں کب تلک رہوںیہ تینوں رودخانے ہیں دہر بسیط میںملتے ہیں رفتہ رفتہ سبھی جا محیط میںپھر آپھی آپ بولا کہ اک اور افادہ سنگر قابل اپنے ہونے کی دل میں رکھے ہے دھنبحر طویل ایک ہے دریا بہت بڑابحر خفیف ایک ہے پاس اس کے آبناتمثیل اس کی ڈھونڈنے اب جایئے کہاںجمنا کے پاس جیسے ہے ہینڈن تمھارے ہاںتشریح میں بھی ایک تھا وہ تلخ بے مثالہر استخواں کو کہنے لگا نیم کی ہے چھالتاریخ داں تھا قطع نظر سب کمال کےکرتا سخن ضرور ہے نبیوں کے حال کےکہنے لگا تمھارے پیمبر کے عہد میںتاریخ میں جو دیکھا تو عیسیٰ تھا مہد میںیکبارگی غصا اٹھے دجال کے اپرپھر تب سے مجھ کو علم نہیں ہے کہ ہیں کدھرعلم نجوم میں بھی بڑا تھا اسے کمالشاید کہ اس ستارے کا ہے گا حمل وبالاک دن کیا سوال شہان سلف سے میںپرویز کے انھوں میں خصوصاً خلف سے میںاس نے کہا کہ خوب کہا طرفہ نقل ہےرکھتا ہے حافظہ میں اسے جس کو عقل ہےامرد تھا ایک ان دنوں شیریں تھا اس کا نامیہ اس کی دشمنی میں ہوا یوں ہی تلخ کامیہ سن کے مارا خسرو پرویز نے اسےبے دم کیا ہے خنجر تبریز نے اسےہے ماجرا یہی جو کہے کوئی کیا ہے کہہاور شعر جو زباں سے پڑھا اپنی سو ہے یہاز آب زر بہ خنجر شیرویہ نقش بودکیں را نسب بہ تیشۂ فرہاد می رسدگنتا تھا خوب آپ کو علم حساب میںلیکن بیاں وہ کرتا نہیں جو کتاب میںکہتا تھا جفت پانچ کا ہوتا ہے کر شمارگر دیکھیے تو اس کو وہ ہووے ہزار بارپھر طرفہ ہے یہ کہتا اگر ہے نہ چار طاقپس کیوں لکھا لغت میں عناصر کو چار طاقعلم لغت میں عمر بھی اس کی ہوئی تھی صرفکرتا سوال اس سے جو جاکر میں ایک حرفمثلاً کہا کہ نخل ہے کیا اس کو کر بیاںوہ در جواب اس کے وہیں کھول کر زباںبولا کہ اک جزیرۂ سمت فرنگ کومارا تھا ان فرنگیوں نے اس نہنگ کواب خاک سے نہنگ کی واں اک نہال ہےشیر و پلنگ کا وہ سدا پائمال ہےاس کے ثمر کو بعض تو کہتے ہیں تاڑ پھلبے مغزوں کا جو فرقہ ہے کہتا ہے ناریلکہتا ہے کوئی مکہ کا خرما ہے اس کا بیجاک کہتے ہیں فرنگ میں ہے ایک بادلیججس کی صدا سے گوش صدف بحر میں ہے کرصدمہ سے جس کے ٹوٹ گئی کوہ کی کمریہ کچھ لکھا ہے ساری لغت کی کتابوں میںزبدہ ضریری شرح وقایہ کے بابوں میںتحقیق اپنی یہ ہے کہ ہے نخل اصل حرفتصحیف ہوگئے سے جو ہوتا ہے خ سے خرفوہ نخل کیا کہ جانور و چارپایہ ہےدم اتنی لمبی ہے کہ وہی سر کا سایہ ہےسوداگر اس سے بار کریں ہیں چنار کواس پر بناتے ہیں گے رہوں میں منار کوسر کے میں اس کے بالوں کا بھی کرتے ہیں اچاراس ہی کو کہتے ہیں گے مدائن میں سوسماریہ کہہ کے آپھی بولا بآں ریش اور فشآتا ہے جوکہ اپنے تئیں سو ہے پیش کشکرتا تھا شہ کمانی میں اپنے تئیں دخیلزاغ کماں کو دیکھ کے کہتا کہ ہے یہ چیلدعویٰ تھا علم تیر میں اس کو بہت بڑاپر لے کے لیس ہاتھ میں ہوتا جو وہ کھڑاپھر دیکھ بھال اس کو وہ کہتا کہ مجھ کو بھیمعلوم کیا ہے خوب ولیکن یہ ہے وہیجب سوکھتا ہے اس کی سلاخوں کا کر خمیرچاکوں اپر کمھار بناتے ہیں لیس و تیرغرہ تھا ڈھولک اپنی بجانے پہ اور کبھوآتا جو کوئی ہاتھ میں لے اس کے روبرواس پر لگا ٹکور تعجب سے پھر شتابکہتا روئی بھری ہے بہت اس میں داب دابآواز خوش کی اس کی گلوسوزی میں نہ بولگاتا تو باجتا تھا گلا جیسے پھوٹا ڈھوللکڑی بھی پھینکتا تھا بہت خوب سج سے وہہوتا تھا کج بہت جو کھڑا ہوتا دھج سے وہشاگرد اس کا پوچھتا گر اس سے آن کرمونڈھے اپر لگاتے ہیں جو وار تان کراس کو اگر کہیں تو کہیں کیا وہ سر اٹھاکہتا کڑک وہی ہے جو تجھ کو دیا بتاتھا گھوڑے کا بھی خوب مبصر وہ خر ولیکاک میرے مہربان تھے گھوڑا تھا ان کا ایکگھوڑے کی آنکھ پر تھی رسولی پہ گندہ تررہتی تھی اس کمیت کی وہ حائل نظرتشریف لائے ذات شریف اس جگہ کہیںواں گھوڑوں کی رسولی کی تھیں باتیں چل رہیںکہنے لگا کہ ایک نظر مجھ کو بھی دکھاؤیہ چشم ہے خدا سے کہ اس کا اثر نہ پاؤاس گھوڑے کے سوار کے پھر جی میں آگیاکھلوا منگایا تھان سے وہ اسپ انکھ مندالاگا سئیس سامنے اس کے پھر آونےاور آنکھ اپنے گھوڑے کی اس کو دکھاونےہرچند انکھیاں پھاڑ کے دیکھے یہ ہر کہیںاس کو تو پھوٹی آنکھوں سے پر سوجھتا نہیںیک چشم دیکھ کہنے لگا نوچ نوچ حلقگھوڑے کے موتھرا ہے رسولی کہے ہے خلقپھر اس نظرپہ طرفہ تو یہ ہے کہ رو کے خوبکہنے لگا کہ تب تو جہاں میں پڑی ہے ڈوبشوخی کرے ہے ابلق ایام نابکارورنہ پیادے مجھ سے پھریں ایسے ہوں سوارجو جو ہوئے ہیں چرخ سے مجھ پر ستم مدامجیتا رہا تو میرؔ کروں گا گلے تماماپنی تو بدزبانی نہ تھی خامے کا شعارپر یہ بھی ہے جریدۂ عالم میں یادگار

در ہجو اکول

اک ہے پرخور آشنا بے پیرسینہ سوراخ جس سے ہے کف گیرصدمنی دیگ ہے شکم اس کانفس اژدہا ہے دم اس کاآنت شیطان کی ہے اس کی آنتدانت اس کا ہے ہاتھی کا سا دانتخستۂ جوع وہ جو آوے نہارمنھ ہے گویا کہ زخم دامن دارشکل مت پوچھ کھانے کا ہے بلیمنھ ہے چھیپوں سے جیسے روٹی جلیگال کلچے سے پھر توے سے سیاہکاسۂ سر ہے جیسے اوندھا کڑاہتوند کالی جو کھول جاوے لیٹآہنیں ہے تنور اس کا پیٹراہ مطبخ میں پاوے ہے جو کبھیچاٹ جاتا ہے دیگچوں تک بھیکھینچے باورچیوں کے کیا کیا نازکتری گئی اس کے چوتڑوں پر پیازکھانا نکلے پر آوے ہے کیسےچیل ٹوٹے ہے گوشت پر جیسےوقت کھانے کے ہاتھ سے اس کاقاب پر نان پنجہ کش گویاکیا وہ دوپیازہ کھا کے ہو تازہاک نوالہ ہے ملا دوپیازہگوشت ہانڈی بھرا ہے ختک میںہنڈیاں گویا تھیں اس کی خشتک میںخام طمعی سے اک کرے ہے آہدیکھ کر شب کو نان ہالۂ ماہنہ ٹلے دیکھ کر وہ قاب پلاؤمنھ ہے منھ بیٹھا گرچہ کھاوے گھاؤکھانے پر جب وہ جی چلاتا ہےلاٹھی پاٹھی بھی کھائے جاتا ہےنہیں پہنچے جو کھانا کھانے لگہڈیوں پر لڑے ہے جیسے سگبھوکھ کا باولا جو آتا ہےلوگوں کو کاٹ کاٹ کھاتا ہےدہوں میں دشمنوں سے بھی وہ لئیمجائے گھل مل اگر سنے ہے حلیمآش بغرا پہ مار بھی کھاوےاس میں گو بوغرا نکل جاوےکسی مفلس کے گھر جو جاتا ہےکچھ نہیں خفتیں ہی کھاتا ہےبھوکھ سے جب کہ غصے میں آوےبز کوہی کی طرح جھنجھلاوےٹھڈیوں کو نگہ سے کھا جاوےچنے لوہے کے بھی چبا جاوےدہر کا جلنا آگ سے مانوںبھوکھ اس کی جلے تو میں جانوںنکلے بازار میں وہ جب چربوزسر ہی پھوڑے ہے دیکھ کر تربوزگھاس پات اور کانس کھاتا ہےنیشکر پر وہ بانس کھاتا ہےاس کے آنے کی سن کے بازاریکرتے ہیں سودوں کی خریداریکوئی تختہ کرے ہے دوکاں کوکوئی لاوے بلا گزرباں کوکنجڑے ڈھانکے ہیں ساگ پات اپناتکتے ہیں بنیے داؤ گھات اپناکہ مبادا ادھر کو آجاوےسودے یک سو ہمیں نہ کھا جاوےاینٹ پتھر بھی کھا گذر جاوےالغرض پیٹ اپنا بھر جاوےکیا کیا جینے کے کہیے چکھتا ہےلیک پیٹ اس کو مارے رکھتا ہےپیٹ اپنا بڑا جو پاتا ہےگوہ تک کا بھی جیفہ کھاتا ہےوہ قضارا ہوا مرا مہمانکھا گئی اس کی میزبانی جانگھر میں جو کچھ تھا بیچ منگوایاکھانا اس کے لیے میں پکوایاکتنا کھانا بیاں کروں تجھ سےجس پہ سو میہماں کروں تجھ سےمجھ سے تھی روزگار سے ان بنخوب کھانا جو تجھ پہ ہے روشنچار من گاجروں کا قلیہ تھادہ منی دیگ بیچ دلیہ تھاروٹیاں کس قدر بتاؤں میںجس کو دوچار سال کھاؤں میںچاہ کرکے گرا جو وہ بلاعمدد روح اشعب طماعکہنے لاگا میں ہوکے بجوالاکیا ہوا یاں سے قلیے کا پیالہتھی ابھی روٹیوں کی جیٹ کی جیٹمیں رہا کہتا کھا گیا وہ سمیٹکھانا کوئی اور کیا کہے اس کاسارے منھ دیکھتے رہے اس کاجب مرے گا وہ بھوکھ کا روگیروح توشے کی روٹی میں ہوگیکھانے کی بو جو ناک میں پیٹھےمر گیا ہووے تو بھی اٹھ بیٹھےعقل باور اگرچہ کرتی نہیںوہ مرے بھوکھ اس کی مرتی نہیںبھوکھے اس کا جو جی نکل جاوےگور میں بھی کفن نگل جاوے

در مذمت برشگال کہ باراں دراں سال بسیار شدہ بود

کیا کہوں اب کی کیسی ہے برساتجوش باراں سے بہہ گئی ہے باتبوند تھمتی نہیں ہے اب کی سالچرخ گویا ہے آب در غربالوہی یکساں اندھیر برسے ہےآسماں چشم وا کو ترسے ہےماہ و خورشید اب نکلتے نہیںتارے ڈوبے ہوئے اچھلتے نہیںآب بن کوئی بولتا ہی نہیںآسماں دیدہ کھولتا ہی نہیںچرخ تک ہوگیا ہے پانی جوماہ و ماہی ہیں ایک جا ہر دولے زمیں سے ہے تا فلک غرقابچشمۂ آفتاب ہیں گردابخشک بن اب کی بار سبز ہوئےموش دشتی کے خار سبز ہوئےابر کس کس سیاہ مستی سےہوتے جا ہیں بلند پستی سےلڑکوں نے کی زمانہ سازی ہےخاک بازی اب آب بازی ہےابر کرتا ہے قطرہ افشانیپانی پانی رہے ہے بارانیتنک آبی سے جان مت اغراقڈوبنے پر ہے کشتی آفاقعقل مینہوں نے سب کی کھوئی ہےبات باراں نے یاں ڈبوئی ہےکیسا طوفان مینھ چھایا ہےزخم دل نے بھی آب اٹھایا ہےبیٹھے اٹھتے نہیں ہیں بام و دریہ خرابی ہے شہر کے اندرسقف آماج بوند پیکاں ہےمینھ ہے یاکہ تیر باراں ہےجیسے دریا ابلتے دیکھے ہیںیاں سو پرنالے چلتے دیکھے ہیںابر رحمت ہے یاکہ زحمت ہےایک عالم غریق رحمت ہےلے گئے ہیں جہان کو سیلابنقشہ عالم کا نقش تھا برآبنہ ہے جلسہ نہ ربط یاراں ہےشہر میں ہے تو باد و باراں ہےروز و شب یاں ہمیشہ جھمکا ہےان دنوں رنگ برق چمکا ہےبڑی بوندوں کی چوٹ سے ڈریےسنگ باراں جہاں ہو واں مریےپڑھتے ہیں یار درس حیرانیآرسی کے بھی گھر میں ہے پانیآدمی ہیں سو کب نکلتے ہیںمردم آبی پھرتے چلتے ہیںکتے ڈوبے گئے کہاں ہیں ابسگ آبی ہی ہیں جہاں ہیں ابوسعت آب پوچھ مت کچھ یارکوچے موجوں کے ہوگئے بازارمعبد اب سارے گرتے آتے ہیںزاہد خشک ڈوبے جاتے ہیںتھا ٹھہرنا برابر ان کے شاقمسجدوں میں کیا ہے استغراقمینھ تو یاں لگے ہی رہتے ہیںسارے عالم کے کان بہتے ہیںغرق ہے چڑیا اور گلہری ہےخشکی کا جانور بھی بہری ہےمینھ ازبسکہ بہبہا ہے گااک جہاں کو ڈبو رہا ہے گاتر ہیں جو خشک اور تروں میں ہیںجانیں اک سوکھتی گھروں میں ہیںشعر کی بحر میں بھی ہے پانیبہتی پھرتی ہے اب غزل خوانیلائی بارندگی کی چالاکیآب خشک گہر پہ نمناکیہے زراعت جو پانی نے ماریہوگئی آبخست ترکاریآب ہے گا جہاں کے سر تا سرخوف سے سوکھتا ہے میوۂ ترمست ہو ہوگئے ہیں مست شرابغوطے کھاتے پھرے ہیں عالم آبمستی ہے اب جو چاہیں سیر آبیبط مے تو ہوئی ہے مرغابیجتنی قحبائیں خشک تھیں مشہوران کی فرجوں سے سیل ہیں محشوربھینگ خشتک انھوں کی تھیلا ہےیہ خرابہ برے میں پھیلا ہےدست غم اس قدر بہ طغیاں ہےکہ ہر اک گوشہ بیچ طوفاں ہےسیل دیکھے ہیں کوہساراں کےلیے کشتی گدا ہیں باراں کےجزر و مد جس کا تا فلک جا ہےجو ہے تالاب قہر دریا ہےہر طرف ہیں نظر میں ابر سیاہپانی ہے جس طرف کو کریے نگاہسیل ہا در رکاب دیدۂ ماستچشم تا کار می کند دریاستپانی عالم کے تا بہ سر ہے گاخشک مغزوں کا مغز تر ہے گاخضر کیوں کرکے زیست کرتا ہےآب حیواں میں پانی مرتا ہےلکھے کیا میرؔ مینھ کی طغیانیہوگئی ہے سیاہی بھی پانی

در مذمت آئینہ دار

آج سے مجھ کو نہیں رنج و نکالجب سے نکلے بال تب سے ہے یہ حالموشگافوں کا نہیں ہے نام ابمدعی شعر ہیں حجام ابان سے کیں اک مو برابر بھی نہیںجلف اشرافوں کے ہمسر بھی نہیںپر ہوئے سر چڑھ کے یہ موے دماغدود ہو جانے لگے سوے دماغہوگئے گرم سخن تب تو قلمورنہ یوں بیہودہ کب نکلا ہے دمایسے مونڈے میں نے کتنے بے شعورہے حجامت اس بھی فرقے کی ضروریاں نہ سید کچھ ہے نے نائی ہے شرطہو کسو کسوت میں دانائی ہے شرطسگ کو نجم الدیں کے سرداری ہوئینوح کے بیٹے کی وہ خواری ہوئیمیرؔ و مرزاؔ میں حکم ہو ذی خردنے کہ نائی جن پہ سب کا دست ردسمجھے مرزاؔ میرؔ کو مرزاؔ کو میرؔنے وہ رگ زن جو نہ سمجھے سیر شیرمجھ میں مرزاؔ میں تفاوت ہے بہتیاں تانی واں عجالت ہے بہتجس جگہ میں نے رکھی منھ میں زباںہوتے اس جاگہ جو مرزاؔ بے گماںاسترے کانوں میں اپنے باندھ کرکب کے اب تک گھس گئے ہوتے ادھران کمینوں کا گلہ کیا کیجیےایسے دس پیدا ہوں گر نہ لیجیےکہتے ہیں سرگرم بے باکی ہے یہہوں تو ہوں ناپاک کیا پاکی ہے یہلکھیے اس فرقے کے اب تاچند ذمخط بناویں ایسا کریے کف قلمگرچہ ان کو کہتے ہیں آئینہ دارلیک ان کا منھ نہ دیکھیں کاش یارصاف قینچی پر انھیں چڑھوایئےگر نمدمو اس میں پھر ہوجایئےچاہو ہو اس قوم کی کیا شرح حالآگے ہی آویں گے جتنے ہوں گے بالاک سفید ان کو نہیں چننے کے تکہوتے ہیں دشمن یہ کالے بال تککیا کہوں کیسے ہیں اوندھے یہ لچرکیجیے اصلاح عائد ہووے شرکھرچیں ایسا سر کہ کردیں پائمالسیدھیاں جب سن لیں تب لیں الٹے بالمعتبر ان کے جو حمامی ہیں ابہند میں وہ تیرہ رو شامی ہیں ابکوئی لے جائے جو حاجت غسل کیچلو چلو پانی پر دیتے ہیں جیلعنتیں کرتے ہی گذرے اس کو واںغسل میں فرصت تشہد کی کہاںبیٹھے جامہ خانے میں کیا غسل کرجیب شاگردوں نے واں رکھی کترلیک پھر اجرت کے اوپر جنگ ہےلات ہے گالی ہے پھر سرچنگ ہےاس سقاوے میں گیا تھا اک حریفاس کی فی الجملہ طبیعت تھی ظریفدھوکے پاجامہ نہانے بھی گیایک طرف پھر پائے خانے بھی گیاغسل کے پیچھے جو منھ گھر کو کیاہاتھ نائی کے سوا پیسہ دیانائی نے پوچھا کہ پیسہ یا ٹکادمڑی یہ کیسی ہے میں قرباں گیاہنس کے بولا تو نہ بد لے جائیویاں ہگا بھی ہے اسے اٹھوائیوچوہڑے نائی ہیں سارے ایک ذاتان میں ہے بدذات جو ہو نیک ذاتآیا اک نائی زنانہ سا نظرہاتھ میں نلوا لیے بے پا و سرمیں کہا آتا ہے نلوا کام کیابولتا ہے آگے سے بدنام کیاآلت اس میں لوطیوں کی ڈال کرمونڈتے ہیں جھانٹیں اک اک بال کرہاتھ میں رکھیے تو شہوت ہو انھیںضبط کی شاید نہ طاقت ہو انھیںعذر اگرچہ واں تلک بھی یاں نہیںلیک اک دن اس میں اپنی جاں نہیںدھکے چڑھ جاویں نہ جانے کیسے کےجی بھی جاوے واسطے دو پیسے کےسن کے اس سے ایسی اچرج بات کومیں کہا لعنت تری اوقات کوکاٹیے ان کے تئیں مثل گزرپنڈے کے ہلکے ہیں اکثر پاچہ خربعضے بعضے ان میں سے جراح ہیںبحر خون و ریم کے ملاح ہیںزرد و زنگاری کوئی ڈبہ ہے ساتھحیض کے سے ایک دو لتے ہیں ہاتھموم ڈالیں تیل میں مرہم کریںپھر مسیحائی کا دم اس پر بھریںپھیر پگڑی بیٹھیں ایسی شان سےآئے ہیں گویا ابھی ایران سےباپ سے اپنے اگر پیسے نہ پائیںداغ کو اس کے جراحت کر دکھائیںبعضے بعضے ان میں رعنا ہیں اگرسو مشعلچی ہیں بھگت کے بیش تررنڈی گت ناچے یہ اس کا منھ دکھائیںپا بہ پا مشعل لیے مجلس میں جائیںروشنی لے دوڑتے ہیں وقت شامگھورتے ہیں کرکے اندھیارا مدامتیل کی کپی لیے خوش ہیں کھڑےایک بھڑوے ہوتے ہیں چکنے گھڑےلگ چلیں تو ہیں گے جیسے موچنےکھائیں جب سر میں لگیں تب سوچنےچھیڑیو تو مغز بھی لے جائیں گےسر کے تیں سہلا کے بھیجا کھائیں گےبے حقیقت ہیں نہیں شایان کارصحبت ان سے بگڑی ہے پایان کار

در حال مسافر جواں

خدا ایک فرقے میں مانا ہے عشقکہ نظم کل ان سب نے جانا ہے عشقنہ ہو عشق تو انس باہم نہ ہونہ ہو درمیاں یہ تو عالم نہ ہویہ آفت زمانے کی معروف ہےزمانے میں جو ہے سو ماؤف ہےنہیں اس سے خالی جہاں میں بشرسبھوں میں ہے ساری یہی فتنہ گرکہیں داغ ہوکر جگر پر جلاکہیں زخم سینہ ہوا برملامزہ ہے یہ عاشق جہاں ہوگیاعزا ہے جو ان دونوں پر رو گیاکسو دل میں جاکر ہوا درد یہکسو چہرے کو کر گیا زرد یہکسو کے لیے ہے بیاباں نوردکسو کی رہ دور کا ہے یہ گردکسو جان میں ہے تمناے وصلکسو دل سے اٹھا مہیاے فصلکہیں سبزے میں چشمک گل ہواکہیں نالۂ زار بلبل ہواکہیں سرو برچیدہ دامن ہے یہکہیں قمری کا طوق گردن ہے یہکہیں پھول لالے کا ہے داغ دارکہیں اس سے ہے مضطرب لالہ زارکہیں عشق و عاشق ہے معشوق ہےکہیں خالق و خلق مخلوق ہےیہی عشق خلوت میں وحدت کے ہےیہی عشق پردے میں کثرت کے ہےعجب عشق یہ شعبدہ باز ہےموافق گہے گاہ ناساز ہےغرض طرفہ ہنگامہ آرا ہے عشقتماشائی عشق و تماشا ہے عشقمساعد نہ تھا ایک سے روزگارکیا ان نے ترک وطن اختیارپریشانی لائی کہیں سے کہیںبجز بیکسی ساتھ کوئی نہیںسرا ایک تھی شہر کے درمیاںفرود آیا واں یہ مسافرجواںہوا آب گردش سے بیمار یہرہا اس سبب کوئی دن اس جگہکھنچا طول کو رفتہ رفتہ مرضدواے طبیباں سے آئے عرضمراعات اسباب کی چند روزدوا سے بڑھا اور کچھ دل کا سوزکیا ترک نومید ہوکر علاجکہا لوگوں سے خوش ہے میرا مزاجمجھے حال ہی پر مرے چھوڑ دونہ لکھ پڑھ کے دل کو مرے توڑ دودوا چھوڑی غیرت سے وحشت ہوئیجنوں کرنے کی اس پہ تہمت ہوئیخیال اس کا لوگوں نے چھوڑا ندانتعرض نہ کرتے تھے دیوانہ جانپھرا کرتا تھا ایدھر اودھر خموشنہ کچھ دل میں طاقت نہ کچھ سر میں ہوششب و روز اپنے بسر یوں کرےمعیشت زمانے میں جوں توں کرےیکایک ہوا قافلہ اک نمودقریب اس کے حجروں میں آیا فرودتھی ساتھ اس کے اک دختر بے مثالگلستان خوبی کی تازہ نہالپری شرم گیں اس کے رخسار سےغشی حور کو اس کی رفتار سےقیامت ادا فتنہ در سر تھی وہعجب طرح کی آہ دلبر تھی وہنکلتی نہ پلکوں سے کم راہ تھینگہ لیک تا قتل ہمراہ تھینظرگاہ کا جوکہ مفتون ہوگریباں کرے چاک مجنون ہوقنات آگے حجروں کے لی کھینچ سبلگی رہنے وہ رشک مہ روز و شبپدر مادر اس کے نہ تھے درمیاںقبیلے کے کچھ لوگ لائے تھے یاںکہ شادی کہیں اس کی کر دیجیےگئے لوگوں کا چندے غم کیجیےسو نسبت ہوئی ہے کسی سے درستاہم کتخدائی ہے اس کی نخستعروس اور داماد بعد از فراغوطن ان کو لے جائیں گے خوش دماغمعونت کو دونوں کے ملک و معاشکفایت ہے بے کوشش و بے تلاشمسافر ہوا اس پری سے دوچارہوا اس پہ سو جان و دل سے نثارپری دار سا آنے جانے لگاجنوں کرتے شور اک اٹھانے لگاکبھی بات کرتے جو اس کو سنابڑی دیر تک ان نے سر کو دھناکبھی چلتے پھرتے جو آئی نظرروش سے ہوئی اس کی حسرت دگربہت نازک اندام و شیریں کلامقد و قامت اس کا قیامت تمامنگہ دل زدے کو مسل ڈالتیطرح سے جگر جان مل ڈالتیادا اک غضب ناز اک قہر تھاکرشمہ خرابی کن شہر تھاسخن عشوہ غمزے سے کیا کوئی کرےکہ آنکھ اس کی اک پل پڑے تو مرےبلا زیر سر فتنہ گر ناز تھاچمک برق خاطف کی انداز تھامژہ اس کے برگشتہ جی میں کھبےنگہ اس کی سرتیز دل میں چبےکشیدہ بھویں دو کمانیں تھیں پاکجھکیں جب حریفاں بہت ہوں ہلاکصفا سے وہ رخسار آئینہ واردکھائی دے منھ ان میں ہوتے دوچاردہن غنچہ لب اس کے گل برگ تردل آویز گیسو و عنبر نظرگل اندام گل پیرہن گل بدندل آرام و دلچسپ دلکش سخنسراپا سے اس کے یہ حیرت رہےکھڑی اس کی ہر جاے صورت رہےمسافر بھی حیران رفتار تھابکا جاتا تھا جو خریدار تھالپک کر جو چلتی دل آویز تھیکفک پاؤں کی کیا بلاخیز تھیاس آفت نے اک روز مہندی لگاسر پا سے فتنے ہزاروں جگادیے چھاپ شوخی سے دیوار و دررہا نازک ان انگلیوں کا اثراٹھے نقش پنجوں کے اس ڈھنگ سےکہ چھاپے کے گل کب ہوں اس رنگ سےجو نقاش وہ نقش کرتا نظرتو رہ جاتا ہاتھوں کو بھی کھینچ کرکئی دن میں شادی قریب آ رہیسرا میں سے اٹھ شہر میں جا رہییہ افسانہ یھاں کا یہیں رہ گیامسافر سے عشق اس کا کیا کہہ گیاپریشاں دلی اس کی اس حد ہوئیکہ طبع خوش اس سے بہت بد ہوئیپھرے تو پھرے جیسے آفت زدہرہے تو رہے جیسے محنت زدہچلے تو پریشاں پری دار ساگرے فرش پر سست بیمار ساجو سونے کو ہو تو کہاں اس کو خوابپری یاد آوے ہوں آنکھیں پرآبنہ سایہ خوش آوے نہ دھوپ اس کو بھائےجہاں جائے وحشت لیے ساتھ جائےکبھو جیسے دیوانہ رووے ہنسےکبھو شہر سے دشت میں جا بسےکھڑا ہے کہیں ہو پریشان ساکہیں دیکھتا ہے تو حیران ساکسی سے کرے بات تو دل کہیںنہ ہرگز کہے دل کی مشکل کہیںجو آنکھیں تھیں اس کی نظر میں سو تھیںجو پلکیں چبھی تھیں جگر میں سو تھیںشب و روز اس کو یہی تھا خیالکہ کیا خوب صورت ہیں کیا لمبے بالکہوں خوبی کب تک کہ ہر جا سے خوبتکلف نہیں کچھ سراپا سے خوبقیامت ہے اس کی کمر کی لچکسرکتی تھی دھچکے سے سر کی لچکنظر سیمیں ساعد پہ کیا جا پڑےکہ بجلی سی ایدھر چمک آ پڑےکف دست سینے پہ رکھے نہاںتو راحت اٹھاوے گی صد رنگ جاںقیامت کا ٹکڑا تھا وہ قد راستیہ حرف و سخن ہیں مرے راست راستخرام اس کا دل ہاتھ سے لے گیاکلام اس کا مردوں کو جی دے گیاسخن کرنے لگتی وہ محبوب جبتو دلکش قیامت تھی تحریک لباگر ہنستی آئے ہے وہ کامنیتو یوں دانت چمکے ہیں جوں دامنینہال قد اس کا تھا گلبن مثالکف پا تھے گلبرگ پاے نہالسرا میں مسافر جو شب آرہاوہیں مہترانی نے جاکر کہاکہ اے نوسفر عشق کی راہ کےجدائی کش اس غیرت ماہ کےتو اس حجرے میں جو رہا چند ماہسو گلخن سا ہے حال حجرہ تباہنہ لیپا گیا ہے نہ جھاڑا گیاخرابہ سا ہے وہ اکھاڑا گیاہوا مزبلہ سا خس و خار سےکہ صحبت رہی تجھ سے بیمار سےتو اس حجرے میں چار دن جاکے رہرہی تھی جہاں آکے وہ رشک مہکروں سیم کل جھاڑ خاشاک و خاکیہ گھر بھی ہو پرنور و صاف اور پاکپھر آرہیو اس میں ترا ہے مکاںکوئی کھینچ کر لے گیا اس کی جاںمسافر اسی گھر میں اٹھ جا رہاسکونت کو ان نے جہاں تھا کہامنقش نظر آئے دیوار و درحنائی انھیں پنجوں کا تھا اثرنشاں اس کے ہاتھوں کا دل لے گیاہر اک نقش صدرنگ غم دے گیاکہیں حیرتی نقش دیوار ساکہیں عشق سے سست بیمار سااکیلا جو اس حجرے میں پا گیاغم عشق اسے زندہ ہی کھا گیااٹھا اونٹ کر خوں ز جوش جنوںیہ ہوتا چلا زرد و زار و زبوںہوا فرش خواب اس کا فرش مرضکہ تھی عشق کو مرگ اس کی غرضبڑھی ناتوانی نہ طاقت رہینہ اک بات کرنے کی فرصت رہیکئی دن رہا بس طلب چشم واوہیں شوق کش جی عدم کو گیامسافر سرا سے نہ واں اٹھ گیایہ جی اس سرا ہی میں اس کا اٹھاگیا چھوڑ پایاں سرا نوسفرلیے ساتھ ہجراں میں داغ جگرنہ وارث تھا کوئی کہ اس کو اٹھائےرکھے نعش کاندھے پہ تا گور جائےکچھ اس مہترانی نے تزئین کیمروت سے تجہیز و تکفین کیجنازہ نکالا بڑی شان سےنماز اس کی کی سو مسلمان سےکیا اس سرا ہی میں مدفوں اسےکیا تھا محبت نے مجنوں اسےسیوم کرکے اس کا نہ ماتم کیاتمام اس سفرکردہ کا غم کیانہ وارث تھا کوئی جو لے تعزیہکیا کچھ تو للہ سب نے کیاسنا جب کہ یہ واقعہ ہوچکاتو شادی سے وہ جمع فارغ ہوازن و شو وطن کے تئیں جائیں گےکوئی روز رہ کر یہاں آئیں گےسرا کے ہے سب لوگوں کو انتظارکہ کب آوے گی رشک باغ و بہارسرا اس کے رہنے سے گلزار تھیکرم خصلت و لطف کردار تھیکہا شو نے منزل کریں گے جہاںکوئی دن رہیں گے ضرورت کو وھاںپھر اس میں سرا ہو مکاں ہو کوئیبیاباں ہو یا گلستاں ہو کوئیہمیں اس سرا میں نہ جانا ہے خوبجہاں سے اٹھے پر نہ آنا ہے خوبمبارک نہیں رجعت قہقریٰخدا جانے پیش آوے ہم سب کو کیازن اصرار کر اس ہی جا میں گئیکشش عشق کی لے سرا میں گئیاترتے دگرگوں ہوا حال دلوہی کوٹھری میں تھی پتھر کی سلکھنچا عشق کے جذب سے یہ تعبکہ مطلق نہ ملتے تھے وہ لعل لبوہ آنکھیں کہ تھیں رشک چشم غزالٹھٹھک رہ گئیں آئینے کی مثالوہ گوندھے ہوئے بال الجھے کیےپریشاں ہوئے پھر نہ سلجھے کیےگل سرخ رخسار مرجھا چلےشکن کھا بہار اس کی لٹوا چلےگیا طائر رنگ پرواز کرملامت رہی عشق کی سازگرلگی رونے آزردہ ہو زار زارگیا جذب الفت سے صبر و قرارجگر چھن گیا عشق سے سو طرفندان ایسی آفت میں ہوگئی تلفطرح اس کی جینے کی سی اب نہیںکوئی دم نہیں دل کی تسکیں کہیںوہی مضطرب ہے وہی بے حواسوہی جذب سے عشق کے ہے اداسسفرکردہ کا حال پرساں ہوئیبہت سی بہت دل پریشاں ہوئیکہا سو کہا مہترانی سے یہکہ وہ یھاں جو رہتا تھا کیدھر ہے کہہخیال اس کا جاں سے مجھے لے گیامسافر عجب داغ اک دے گیاسرا میں فرود آئی میں کس گھڑیمسافر کی صورت تھی آکے کھڑیجہاں دیکھتی ہوں پلک میں اٹھااسی کی ہے ترکیب جلوہ نماادھر دیکھے ہے ایک حسرت کے ساتھکھڑا ہے خموش ایک حیرت کے ساتھجدھر جاؤں وہ بھی چلا جاوے ہےمرے ساتھ پرچھائیں سا جاوے ہےجگر جان و دل میں نہیں رہتی تابنہ ہے چین دن کو نہ ہے شب کو خوابجو میں جانتی اس سرا کے یہ ڈھنگتو کیوں آ اترتی مسافر کے رنگنہ جا سکتی ہوں اب نہ رہ سکتی ہوںپشیمانی سے کچھ نہ کہہ سکتی ہوںمگر شو سے مجھ کو ندامت ہوئیمری جان پر یھاں قیامت ہوئیکیا عشق سو دنگ ہوں میں بہتکہ اس جینے سے تنگ ہوں میں بہتنشاں دے ترے پاس رہتا تھا وہسدا درد دل تجھ سے کہتا تھا وہگیا یھاں سے اٹھ کر تو کیدھر گیاکہیں جا کے جیتا ہے یا مر گیاکہا مہترانی نے بے تاب دیکھکہ قربان میں اب نہ یہ خواب دیکھمسافر سرا میں رہا مر گیاجدا تجھ سے کام اپنا وہ کر گیاکیا تیری فرقت نے اس کو ہلاکہوا میرے ہاتھوں سے وہ زیر خاکتو ضائع نہ کر آپ کو صبر کرغم و غصے سے جی پہ مت جبر کرسن اس واقعے کو بہت غم کیاعزا میں بہت حال درہم کیاکہا حیف صد حیف بیکس مواگڑھاگور پھر یوں میسر ہواچپ اب عشق کا راز رسوا نہ ہوخدا جانے ظاہر جو کیا کیا نہ ہوترے چپکے رہنے سے ممنون ہوںمیں اس منت احساں کی مرہون ہوںمبادا سنے شوے ناساز کچھلگاویں اسے اور غماز کچھسن اس زشت کاری کو ناچار ہومجھے ذبح کرنے کو تیار ہوشفاعت سے کوئی نہ پھر پیش آئےعبث جان پرآرزو میری جائےشتاب اس کی تربت پہ لے چل مجھےکشش اس کی رکھتی ہے بے کل مجھےمخاطب چلی لے کے غافل اسےکہ جاذب ہے وہ جذب کامل اسےکمیں میں ہے مالوف کش اشتیاقہوئی زندگی مردہ ساں اس کو شاقجنازے پہ آئی نہ تھی وہ پریہوئی گور پر اس کی جلوہ گریبرابر گئے شق ہوئی اس کی قبرگیا اس کے دل سے سکوں اور صبرشتابی گئی ساتھ والی کو چھوڑلیا مردہ عاشق نے گویا مروڑکھنچی جو گئی گرد اس گور سےمسافر بھی آیا بہت دور سےبغل گیر عاشق ہوئی زیر خاکہوئی ہمکناری میں آخر ہلاکزمیں مل گئی جب یہ آخر ہوئیمسافر سے مل کر مسافر ہوئیگیا ہوش اس کا جو ہمراہ تھیزباں پر فغاں تھی بلب آہ تھیاچنبھا سا یہ سانحہ ہوگیاعجب طور کا واقعہ ہوگیاحواس اڑ گئے اس کے جن نے سناٹھٹھک ہی گیا دیر تک سر دھناسرا میں گئی شور سے غم کیابہت حال کو اپنے درہم کیاخبر شوے ناساز کو بھی ہوئیکہ وہ نازنیں جا سرا میں موئیگریباں دراں خاک افشاں گیالب گور خاطرپریشاں گیاکہا گور کھولیں پھر اب بیلدارکہ بن آنکھوں دیکھے نہیں ہے قرارکھلی گور دیکھا تو چسپاں تھی وہگلے لگ رہی تھی پہ بے جاں تھی وہجدا کرتے مشکل جدا وہ ہوئیکمال اشتیاق اس کو تھا جو موئینئی گور کر دفن اس دم کیانہ غیرت سے شوہر نے ماتم کیابنا ایک روضہ پئے صالحہموافق کیا رسم کے فاتحہگیا شو گیا شہر سے بھی گیاکہ ہمسر کے یوں مرنے کے تھا جیایہ ہے میرؔ وہ عشق خانہ خرابکہ جی جن نے مارے ہیں یھاں بے حسابمحابا کسو کا اسے کچھ نہیںرہا بے محابا سدا ہر کہیں

در حال عشق

ہے غبار وادی وحدت جہاںکثرت اعیان ہوگی اب عیاںپرفشاں تھا ٹک جو طاؤس قدمآسماں پر آسماں پہنچے بہمعشق اپنا آپ ہی شیدا ہواتھا جو پنہاں پردے میں پیدا ہوانظم کل کا ڈول ڈالا عشق نےانس سے انساں نکالا عشق نےوہ حقیقت سب میں یاں ساری ہوئیہے گی ہر شے عشق کی ماری ہوئیچار سو ہنگامہ آرا عشق ہےعشق کیا کہیے کہ کیا کیا عشق ہےعشق ہی کا ہے جہاں میں سب ظہورنور و ظلمت ہو کہ ہو ظل و حرورعشق گل ہے عشق بلبل عشق بوعشق ہے سرو چمن عشق آبجوہے کہیں بندہ کہیں ہے یہ خداعشق کی ہے ہر جگہ شان جداعشق ہر کشور میں لاتا ہے کتابعشق کے لوگوں سے ہیں کیا کیا خطابیاں سے پیغمبر ہے لایا عشق کاعشق کو پیغام آیا عشق کامسجد و منبر کیے تازہ بناواں امام پاک خود آکر بناعشق کے آغاز دیکھے رنگ رنگموم وے دل ہوگئے جو دل تھے سنگسنگ سے پھر لعل نکلا بے بہایعنی وہ دل جملگی خوں ہوگیاکچھ بہا یاقوت سیلانی ہوابستہ قطرہ لعل رمانی ہواعاشق و معشوق رفتہ عشق کےیعنی دونوں سینہ تفتہ عشق کےبھڑکی آتش عشق کی دونوں جلےڈوبے دریا میں ہوں گو پانی تلےیا جلایا ایک ہندستاں کے طورجا جلے ہے زن بھی اس بے جاں کے طورجل چکے کو ہندی کہتے ہیں ستیست بمعنی استقامت واقعیآگ میں جا بیٹھے زن کا ظرف کیاعشق ہی کا جاذبہ دے ہے جلاگرمی ہنگامہ اس کا قہر ہےپھونک دیوے گر دیار و شہر ہےعشق پردہ در نہ ہو رسوا کرےپھر تماشا ہے جو کچھ پردہ کرےعشق کو ہے خون کرنے کا مزہمار ہی رکھتا ہے اپنے ڈھب چڑھامارگیری اس کی سیکھے اژدہےعشق نے معشوق و عاشق چٹ کیےعشق و دل میں ہے قدیمی دشمنیعشق سے ہے دل گدازی جاں کنیعشق کا پا درمیاں آیا جہاںدل ٹھہرتا واں نہیں ہرگز نہ جاںعشق دشمن ہے بلاے جان و دلعشق ہے ہم دل شکن ہم جاں گسلہے سلوک عشق کا مارا جہاںخاک میں ان نے ملایا آسماںکون راہ عشق کو کرتا ہے سرہر طرف ہے جان کو اس میں خطرعشق زورآور سے سب ہیں ترس ناککشتی اس کی ہوگئی عالم سے پاکعشق کا ہے بادیہ مشکل گذردیکھے اودھر مر ہی جاتے ہیں نمرروبہ اس جنگل میں ہے شیر دلیروہ کوئی واں جائے جو ہو جی سے سیردژ کہ ہاتھی کم کرے ہے کوئی میلبچ کے نکلے ہے ادھر سے تند سیلبالا بالا دیوقد گینڈا گیااینڈا اینڈا راہ واں اس پر چلایوز ہیں گے فکر ترک گشت میںکب گیا کفتار ایسے دشت میںعشق کے جنگل میں ہیبت سے طیورپرفشاں ہوتے نہیں ہیں دور دورقو نہیں پر مارتا ازبس ہراسکب اڑا سیمرغ اس کے آس پاسکیا درندہ کیا چرندے کیا پرنددل ہے جن کے عشق ہے ان کا کشندآدمی سے خاص اس کو لاگ ہےبہر انساں عشق کی تیز آگ ہےدل بڑا ہے اس کا ہر کار کلاںیک بیک کرنا قبول اس کو بجاںہمت عاشق جو ہے ازبس بلندکار باطل ہی ہیں اس کے حق پسند

در حال افغاں پسر

چمن سے عنایت کے بادام وارالٰہی زباں دے مجھے مغزدارصفت عشق کی تا کروں میں بیاںرہوں عشق کہنے سے میں تر زباںعجب عشق ہے مرد کارآمدجہاں دونوں اس کے ہیں برہم زدہجہاں جنگ صف کی یہ ظالم لڑاصف الٹی جہاں ایک مارا پڑااگر لوگ مارے گئے سر بسرولے فتح اس کی ہے یہ طرفہ ترکوئی کشتنی جو طرف ہوگیاتہ تیغ اس کے تلف گیاجہاں جس کسو سے اسے چاہ ہےوہیں اس کے تا قتل ہمراہ ہےکسو سے اگر ہوگئی لاگ سیدرونے میں اس کے لگی آگ سیہوا ملتفت یہ کسو سے کہیںتو نام و نشاں اس کا پھر داں نہیںوفاق اس کا نکلا سراسر نفاقپڑا عاشقوں میں عجب اتفاقجواں کیسے کیسے موئے عشق میںبہت گھر خرابے ہوئے عشق میںبہت عشق میں لوگ روگی ہوئےبہت خاک مل منہ پہ جوگی ہوئےگئے دشت میں کچھ نمد مو ہوئےکچھ اک شہر میں پھر کے یکسو ہوئےنہ مرغہی ہے نالاں و زارگئے داغ کہسار سے لالہ وارکسو کا جگر غم سے خوں ہوگیاکسو کوہکن کو جنوں ہوگیاکوئی زار باراں بہت رو چکاکوئی برق سا جل بجھا ہوچکاغرض عشق کا ہر طرف شور ہےنئی روز شہروں میں اک گور ہےبہت جان ناکام دیتے گئےتمناے دل ساتھ لیتے گئےبہت اہل اسلام کافر ہوئےبہت اول عشق آخر ہوئےبہت جرم الفت پہ مارے گئےجوا عشق بازی کا ہارے گئےہوئے خانداں کیسے کیسے خرابجواں جوں جوانی گئے کیا شتابکیا عشق جس دن سے مرتے رہےجیوں ہی کا اندیشہ کرتے رہےکسے عشق نے جی سے مارا نہیںیہی درد ہے درد چارہ نہیںدوا عشق کی سخت نایاب ہےسر عاشقاں سنگ کا باب ہےجو ہو عشق عارض تو پھر یاس ہےعبث کوئی دن جینے کا پاس ہےمحبت ہے نیرنگ ساز عجیبفسانے ہیں اس کے عجیب و غریبکوئی عشق کرنا دھرا تھا درےگئے مے کدے سے بھی صوفی پرےنہ واں مکرو نے شیدو طامات ہےخرابات جانا کرامات ہےکہیں عشق نے آرزو کش کیےگئے خوش جو عاشق سو ناخوش کیےکہیں سہل تر یار مرنے لگےکہیں لوگ دشوار مرنے لگےکہیں کام ان نے کیے ہیں عجبفسانہ ہوئی بزم عیش وطربکہیں بادشہ اس سے درویش ہیںکہیں اس سے درویش دل ریش ہیںلیا کاہ کا کوہ سے کیں کہیںملائے کہیں آسماں و زمیںکہیں پڑگئے اس سے فتنے فسادرہے زیر شمشیر حد سے زیادیہ عالم کا آشوب ہے دہر سےمراد خطرگہ ہے اس شہر سےہوئے عشق میں زہد کیشاں خرابرہے دل شکستہ پریشاں خراباٹھا عشق سے مجلس حال دہرتواجد لگے کرنے شیخان شہرکیا عشق میں ترک صوم و صلوٰۃگئے اہل مسجد سوے سومناتمسلماں ہوئے عشق میں برہمنگئے کعبہ کو چھوڑ دین کہننہ سبحہ نہ زنار نے کفر و دیںجہاں سب ہے عشق اور کچھ بھی نہیںمحبت کے ساغرکش اہل صلاحیہ بے ہوش دارو ہے ان کی فلاحکوئی ہوش میں اپنے رہتا نہیںہر اک چپ ہے کچھ کوئی کہتا نہیںرباطی ہیں خانہ سیہ عشق میںمصلے ہوئے ان کے تہ عشق میںہمہ خاندان تفاوت خرابخرابے سے ہیں بے تفاوت خرابیہی عشق جس کے کہ حاصل ہے کامیہی عشق ہے جس سے نکلا ہے ناماسی عشق جس سے کہ حاصل ہے کامیہی عشق ہے جس سے نکلا ہے ناماسی عشق ہے عقدۂ دل ہے یہیہی عشق حلال مشکل ہے یہکہیں اس کو لڑنے سے پایا معافکہیں ان نے میدان مارے ہیں صافکہیں مومنانہ اسے درد دیںکہیں کافرانہ ہوا بے یقیںغرض عشق ہے طرفہ نیرنگ سازکہیں ناز یکسر کہیں ہے نیاز

در جشن ہولی و کتخدائی

آؤ ساقی شراب نوش کریںشور سا ہے جہاں میں گوش کریںآؤ ساقی بہار پھر آئیہولی میں کتنی شادیاں لائیشادیاں بے شگوں سراسر ہیںکوچے سو شہر کے برابر ہیںدست دستور ہے جو زرافشاںپھر جہان کہن ہوا ہے جواںدونوں رستے عمارت خوش ہےتازہ کاری شہر دلکش ہےاور بازاری رنگ لائے ہیںسارے رنگیں ستوں لگائے ہیںجس طرف دیکھو معرکہ سا ہےشہر ہے یا کوئی تماشا ہےچشم بد دور ایسی بستی سےیہی مقصد ہے ملک ہستی سےلکھنؤ دلی سے بھی بہتر ہےکہ کسو دل کی لاگ ایدھر ہےآئیں بستہ ہوا ہے سارا شہرکاغذیں گل سے گلستاں ہے دہرایسے گل پھول ہیں جو صرف کارراہ رستے ہوئے ہیں باغ و بہاربستہ آئیں دکانیں ہیں یکسرجن میں سستی متاع لعل و گہرمیوۂ نورس و رسیدہ بہتگل خوش رنگ و بوے چیدہ بہتشب شادی کو لڑکے ہوں جو سوارلیں صغیر و کبیر بہر نثارتخت بہر زنان رقص کناںچنے رستوں میں بے چنیں و چناںگل کاغذ سے شہر ہے گلزارتوکہے آئی ہے بہار اے یارساقیا عیش کا ہو بزم آراسارے لوگوں میں جام مے کو پھراجس میں تہ پاوے اس پری کو دےورنہ شیشے کی شیشے میں رکھ لےہوگی مجلس جو مست آسائشکون دیکھے گا لطف آرائشآؤ ساقی قرار ہے باہمکہ تماشاکناں پھریں خرمزن رقاص پر نگاہ کریںکسو سادے سے چل کے راہ کریںکسو دلبر کے کھینچ لیویں ہاتھکسو محبوب کو اٹھالیں ساتھکسو خوش رو کے منھ پہ منھ رکھ لیںکنج لب کا کہیں مزہ چکھ لیںخوش تنوں سے کریں ہم آغوشیکسو نازک بدن سے ہم دوشیکہیں دو جام مے سے ہوں سرمستجائیں گے تھوڑی دور دست بہ دستمچلے بن جائیں گے کسو کو دیکھپھر منیں گے کسو کے رو کو دیکھاب گلابی کو لیں گے بھر بھر ہمباقی ساقی پئیں گے پھر کر ہمکہیں آرائش آ کے دیکھیں گےکاغذیں باغ جا کے دیکھیں گےکسو مہوش سے ہوویں گے گل بازکھینچیں گے ایک دو دم اس کے نازآؤ ساقی مئے دوآتشہ دےاسی مے کا بغل میں شیشہ لےگرم ہو جو دماغ انساں کالطف آوے نظر چراغاں کاجس طرف دیکھیے چراغاں ہےشیشہ و شمع ہی نمایاں ہےباغ سے روشنی ہوئی ہے زیادہے یہ ہنگامہ تا جلال آبادشمع و فانوس کا بہت ہے ہجومشمعی رنگوں نے کر رکھی ہے دھوملوٹیے ان گلوں کی اب تو بہارگو کسو کے گلے کا ہوجیے ہاراب تو اودھم ہی مچ گیا ہر سودارو پی کر پھریں چلیں ہم توتارے سے ہیں چراغ چار طرفآسماں پر زمیں رکھے ہے شرفغنچہ غنچہ دیوں کو دیکھیں جہاںکسو نوگل سے رکھیں صحبت واںکہیں نوبت کو چل کے سنیے گانے کے بجنے پہ سر کو دھنیے گانوبتی خوش سلیقے سارے ہیںنے نوازوں نے جان مارے ہیںآج نوبت کے بجنے پر ہے رنگعقل ہوتی ہے سن ٹکورے دنگجھانجھ کے سننے کی رہی ہے جھانجھصبح جوں توں کے ہم کریں ہیں سانجھبیچ میں ہولی آئی ہے ساقیپھیرے سرخوش ہیں تابکے ساقیشیشہ شیشہ شراب اب پیجےبلکہ خم منھ لگا کے سب پیجےسیر کریے کنار نہر و گشتلالہ و گل کھلے ہیں تا سر دشتانھیں پھولوں کے انعکاس سے آبتوکہے لالہ رنگ سب ہے شرابسبد گل ہوئی ہے ہر کیاریایک ہے گل زمیں زمیں ساریدرمیاں اک شجر نہیں بدبرگہے ہزارہ کہ لالۂ صدبرگجوش لالہ سے تا النگ و سنگشفقی ہوگیا ہوا کا رنگتخت کیونکر نہ ہو دماغ خاکدشت در دشت ہے گل تریاکپھر لبالب ہیں آب گیر رنگاور اڑے ہے گلال کس کس ڈھنگپاس آتے ہیں مرغ گلشن بھولتھے وے دلبر گلاب کے سے پھولزعفرانی لباس تھے سب کےرسمسے آئے صبح کو شب کےپگڑیاں جامے بھیگے سو سو ہیںان کو گل ہاے تر کہیں تو ہیںچھڑیاں پھولوں کی دلبروں کے ہاتھسیکڑوں پھولوں کی چھڑی سے ساتھقمقمے جو گلال کے مارےمہوشاں لالہ رخ ہوئے سارےخوان بھر بھر عبیر لاتے ہیںگل کی پتی ملا اڑاتے ہیںجشن نوروز ہند ہولی ہےراگ رنگ اور بولی ٹھولی ہےعشق ہے اے گروہ آتش زندونوں رستے چراغ ہیں روشنٹھاٹھ کیا روشنی کے باندھ دیےشہر میں نام روشن اپنے کیےدوردو تھے خیال و سوانگ آئےگھوڑے دامن سوار کیا لائےروشنی وار سے ہے پار تلکگل کا کاغذ ہے فرق خار تلکدر دولت سے لے کے تا سر آبہے چراغ اور شمع ہی کی تابپھر سر پل سے تا عمارت نوجلتے ہیں مجتمع دیے سو سوہاتھی رنگے گئے پڑی ہے دھومجیسے ابر سیاہ آئے جھومخیمہ استادہ کرچکے شب بازپتلیوں نے کیا خرام نازیاں کی صحبت کا تھا نمونہ سبشاہ دستور حکم و کار ادبآئے شکلیں بنا کے صورت بازڈوم ڈھاڑی بنے بجا کر سازنقل معقول کی سو حاجی بنےسج کے عمامے سر پہ کتنے جنےکوئی جوگی کوئی فقیر بناکوئی ڈاڑھی لگا کے پیر بناکوئی بنیا بنا کوئی اوباشنقل کرنی تھی ان سبھوں کی معاشکوئی شاعر بنا نہ جس کی نظیرجیسے مستغرق خیال تھا میرؔکچھ سپاہی بنے تھے کچھ تجارکوئی زاہد ہوا کوئی خمارجس کی تقلید کی سو ویسی طرحاصل ہوتی نہیں ہے ایسی طرحکرکے سعی و تلاش چاروں دانگخوب دیکھا تو ہے یہ عالم سوانگآؤ ساقی نہ رکھ خراب احوالدیے جا جام بادہ مالامالچل سواری کا سیر بھی ہے بڑاایک عالم ہے دونوں رستہ کھڑاجل زربفت پوش فیل نشاںکوہ زر سا ہے پیش پیش رواںکدخدا ہونے کو چلا دولہیال گوپال عظم سے جوں شہگل کی پاکھر پڑی ہوئی یک بارہاتھی آیا بہ رنگ ابر بہارزری پوشوں کا پیش و پس انبوہاللہ اللہ ری ان کی شان و شکوہقور میں کتنے سونے کے سے پہاڑآگے روپے کے روشنی کے جھاڑموتی کرتے تھے ہر طرف سے نثارتھا مگر فیل ابر گوہربارہیں جلو میں زمینیاں حاضرجاہ کے آسمانیاں حاضرعمدہ سب ساتھ ہیں وزیر سمیتشاعراں مدح خواں ہیں میرؔ سمیتتازی ترکی عراقی و عربیکوتل آگے تھے خوش جلو میں سبھیرہ میں رکھ لو جہاں کہ منھ کے نرمچھیڑے باد سموم سے ہوں گرمآؤ ساقی پلا شراب ہمیںروشنی کی نہیں ہے تاب ہمیںروشنی بھی ہے کوئی ہنگامہسیر میں گرم ہوگیا جامہگرمی سے مشعلوں کی آئے تنگدود مشعل ہے جاے کاہی رنگدو طرف سیم بندی کردی ہےسونے روپے سے راہ بھر دی ہےشمعیں لاکھوں کنول میں ہیں روشنزور پھولا ہے کاغذیں گلشنواہ آتش زنان آتش دستدارو پی کر پھرو ہو کیسے مستتوپیں کیا ڈھالیں ہیں ستاروں کیکھوئی رونق فلک کے تاروں کیتارے موقوف کچھ سما پہ نہیںتوپیں چھوٹیں مگر ہوا پہ نہیںماہ بھی چشم روشنی کے لیےہے چراغاں ستارگاں سے کیےگنج چھوٹے ہیں یاکہ باڑ جھڑییا ہوائی ہے جگنیوں کی چھڑیگل فشاں ہیں پڑی جو پھل جھڑیاںکھلتیاں ہیں دلوں کی گل جھڑیاںچھوٹتے ہیں انار و مہتابیرنگ ہیں دلبروں کے مہتابیباؤ سے دو دیے ہوئے گر مانددغیں مہتابیاں کہ نکلے چاندآؤ اے مطربان سیرآہنگساتھ اپنے لیے رباب و چنگہو غزل خوان بزم عیش و طربپر نہ کریو خیال ترک ادبمنعقد مجلس شہانہ ہےادب آصف زمانہ ہےآؤ ساقی مجھے قرابہ دےدر بغل شیشہ ساتھ اپنے لےبحر بخشش کی لہریں اب آئیںزر و گوہر کی کشتیاں لائیںہے بلند اس کرم کا کیا پایہدیتے ہیں خلعت گراں مایہطرہ ہاے زری و بادلہ تاستختہ ہاے دوشالہ تحفہ لباسبہت ان میں سیے بہت نہ سیےایک دم میں سبھوں کو بخش دیےخاص ملبوس نوع نوع تماملے گئے شاد بھر کے مردم عامکیا بچھا ہے فراخ دسترخوانجس پہ ہے خلق یک جہاں مہمانتورہ بندی ہوئی تکلف سےکھانے نکلے نئے تصرف سےلطف کے ساتھ نعمتوں کا وفورزیر ہر جعبہ قاب ہے پرنورعام تھا ان لطافتوں سے طعامدیتے لیتے تھے ہر سحر ہر شامکس کو اسباب یہ میسر ہیںظرف سیمین جعبۂ زر ہیںہیں جو مہمان پادشاہ و گداحرص دونوں کی سیر ہے یکجاعمر و دولت ہو اس کی حد سے زیادہے اسی سے جہاں نشاط آبادآؤ ساقی غزل سرا بھی ہولذت شعر سے مزہ بھی ہو

غزل

اب کی بہار کیا کیا دریا پہ رنگ لائییک شہر نکلے لالہ پھر اس میں ہولی آئی

کی فکر سال تاریخ آواز غیب آئیہم نے کبھو ندیکھی اس رنگ کدخدائی

آنکھوں کی روشنی تھی اپنی ہوئی دوچنداںطالع نے چاندنی میں کیا روشنی دکھائی

ہو باد جس طرف کی آنکھیں ادھر ہیں اس کینرگس کا اس ہوا میں دیدہ بھی ہے ہوائی

بے گل رہے نہ یک دم بلبل کے آہ و نالےمحبوب سے کسو کو یارب نہ ہو جدائی

گل تک ہنسا نہ مجھ سے بلبل نہ بولی ہرگزکس کس کی بے دماغی بے یار میں اٹھائی

ہم بھی رہے ہوا وہ جب تک جوان جاہلکی عمر رفتنی نے بارے نہ بے وفائی

اخواں زمانہ کے تو کیا جانیں دل لگی کولگتی ہے جس کے دل کو وہ جانتا ہے بھائی

ہے دام گاہ دنیا ہر جا فریب اس میںدیتی نہیں دکھائی اپنی مجھے رہائی

گذری جو کچھ سو گذری یاری میں دلبروں کیمیرؔ اب کسو سے تم تو کریو نہ آشنائی

در تہنیت کدخدائی بشن سنگھ

آؤ ساقی کہ بزم عشرت ہےچشم بد دور خوب صحبت ہےازسرنو جواں ہوا ہے جہاںکدخدائی بشن سنگھ ہے یھاںفرط شادی سے دل ہے جشن آبادہر طرف ہے بہم مبارک بادباؤ کرتی پھرے ہے پھول نثارگلشن دہر میں ہے تازہ بہارآؤ مطرب لیے رباب اور چنگکاڑھ منھ سے نواے سیرآہنگشادمانی سے ہو نواپردازاہل مجلس ہیں گوش بر آوازیاں سوا دل خوشی کے کام نہیںچپکے رہنے کا یہ مقام نہیںآؤ ساقی کہ جمع ہیں احبابسب مہیا ہیں عیش کے اسبابلا وہ جوں آفتاب ساغر زرآب گل رنگ سے لبالب کرآج جھوما ہے ابر بخشش زورکچھ نظر ہے تجھے ہوا کی اوردست راجا ہیں ابر نیسانیمتصل کرتے ہیں درافشانیکر چمن زار و دشت دلکش سیرہیں نہال آج آشنا و غیرگل نمط دل شگفتہ سب کے کیےخلعت فاخرہ سبھوں کو دیےزر و گوہر دیے زبس ساقیکچھ نہیں بحر و کان میں باقیلا کہاں ہے وہ لالہ رنگ شرابجس سے مست گزارہ ہوں احبابآ مغنی غزل سرائی کرکچھ مزہ سے بھی آشنائی کرپڑھ غزل میرؔ کی جو ہووے یاداس کو اس فن میں کہتے ہیں استاد

غزل

ساقیا موسم جوانی ہےگرو بادہ کامرانی ہے

دے پیالہ کہ نقل مجلس عیشخوب رویاں کی بدزبانی ہے

لاؤ آب کشادہ دل کو گھولعین الطاف و مہربانی ہے

روے خوباں سے بزم کا ہے فروغشمع خجلت سے پانی پانی ہے

رشک گلزار ہے یہ صحبت عیششش جہت جوش گل فشانی ہے

آؤ مطرب ہوں زمزمہ پردازدے بہار گذشتہ کو آوازگل و لالہ پہ چشم باز کرےرنگ صحبت کو دیکھ ناز کرےچھیڑ ساز طرب نوا کے تئیںباندھ آواز سے ہوا کے تئیںوجد میں لاؤ مے پرستوں کویاد دے ٹک سرودمستوں کوآؤ ساقی کہ روشنی ہے خوبگرم عشرت ہیں ہر طرف محبوبنار مشعل نے نائرہ کھینچانور کو مہ نے دائرہ کھینچاکثرت روشنی سے شب ہے روزخشت سیمیں ہے ماہ دل افروزصبح صادق کے منھ پہ کب ہے فروغاس کو دعویٰ جو تھا وہ سب ہے دروغاب تو شیشہ شراب لا ساقیصحبت عیش کو چھکا ساقیلاؤ رنگ رخ نکویاں کومایۂ ناز خوب رویاں کوچاہیے ہے گلابی مئے نابجام ہے چشم روشنی کا باباس پری کو نکال شیشہ سےرنگ مجلس میں ڈال شیشہ سےلطف کر ٹک وہ دل کی آسائشتا نظر آوے لطف آرائشآؤ ساقی کہ ہوں تماشائیگرم خدمت ہے چرخ مینائیچل ہوائی سے شعلہ خیزی دیکھآسماں کی ستارہ ریزی دیکھمتصل چھوٹتے جو ہیں گے انارراہ و رستے ہوئے ہیں باغ و بہارعشق ہے تازہ کار آتش بازپھول گل میں ہے رنگ رنگ اعجازدیکھ صنعت گری صنعت گرگل کاغذ ہے غیرت گل تردیکھ ساقی تزک سواری کاچھوڑ آئین بردباری کاچل گلابی کو ہاتھ میں لے لےایک دو جام متصل دے لےفیل یوں ہیں گے جھومتے جاتےجیسے آویں جوان مدھ ماتےنوبتی اپنی اپنی نوبت ہےصرف کر جو ہنر کی طاقت ہےدور ہے اب سپہر کا دلخواہہیں وضیع و شریف سب ہمراہآ سواری کا ٹک اصول بجاؤطبع موزون اہتزاز میں لاؤساتھ راجا سوار ہوتا ہےشہر باغ و بہار ہوتا ہےجل زربفت سے ہے فیل و نشاںآگے مانند کوہ زر کے رواںزور گوہر نثار کرتے ہیںخلق کو مایہ دار کرتے ہیںدیوے راجا تو کیا لیا چاہےخوشہ خوشہ گہر دیا چاہےپھینکتے ہیں جو دستہ دستہ گلرہگذر میں ہیں رستہ رستہ گلبرق پارہ جو جستہ جستہ ہیںسینکڑوں ویسے بال بستہ ہیںگردنوں میں پڑیں حمائل گلہیں جلو میں بصد شمائل گللاؤ ساقی گل گلاب شرابدے مجھے اب کہیں شتاب شرابہے شگفتہ دماغ دل وا ہےنشہ اس عیش کا دوبالا ہےرائے صاحب لباس زر در برنشۂ عیش و دلکشی در سرزیر راں ایک اسپ خوش رفتارگرم رفتن ہو تو ہے برق شعارخوش سواری و خوش جلو خوش راہچھیڑ دیجے تو پھر نہ ٹھہرے نگاہکسمسانے میں ران کے اڑ جائےہاتھ ہلتے میں جیسے کل مڑ جائےہے تو گلگوں بہار کا خوش رنگکام ہے اس پہ اس کے حسن سے تنگدوردو ہے اگرچہ اسپ خیالبھول جاتا ہے اس کے آگے چالہیں مرصع جو اس کی زین و لگامچشم کرتی ہے خیرگی ہر گامباگ اس کی جو ٹک اچک جائےپارۂ برق سا چمک جائےدے نہ وہ شیشہ اب جو باقی ہےحسن ایسا بھی اتفاقی ہےجب سے ہے اس جہاں کی آبادیتب سے ایسی نہیں ہوئی شادیہو مبارک یہ جشن خوش انجامدور گردوں بہ کام عیش مدامآؤ ساقی پڑھیں غزل کوئیدرمیاں اب نہیں خلل کوئی

غزل

موسم ابر ہے سبو بھی ہوگل ہو گلشن ہو ایک تو بھی ہو

کب تک آئینہ کا یہ حسن قبولمنھ ترا اس طرف کبھو بھی ہو

کس کو بلبل ہے دم کشی کا دماغہو تو گل ہی کی گفتگو بھی ہو

ہے غرض عشق صرف ہے لیکنشرط ہے یہ کہ جستجو بھی ہو

ہو جو تیرا سا رنگ گل گاہےریجھیں ہم تب جب ایسی بو بھی ہو

دل تمناکدہ تو ہے پر یھاںہو تو تیری ہی آرزو بھی ہو

سرکشی گل کی خوش نہیں آتیناز کرنے کو ویسا رو بھی ہو

پا سکے اس کمر کو دست شوقجو نمایاں بقدر مو بھی ہو

رو کش میرؔ ہوتے ناشاعرجب انھیں ویسی آبرو بھی ہو

در تعریف سگ و گربہ کہ در خانۂ فقیر بودند و باہم ربط داشتند

سگ و گربہ ہیں دو ہمارے ہاںدو ہیں قالب اور ان کی ایک ہے جاںرنگ گربہ سے شیر نر ہے داغآنکھیں اس کی اندھیرے گھر کا چراغکھائے نہ جو نہ ہو وہ مادۂ سگبھوکا بیٹھا رہے قیامت لگکب مروت سے جائے کھانا چکھلڑے بھی ہے تو منھ پہ پنجہ رکھسارے ہمسایوں پر ہے یہ معلومموش کی نسل ہوگئی معدومچوہا کیا ہے جو سامنے آوےگھونسوں سے بھی یہ شیر بھڑ جاوےان نے جو ماریاں ہیں گھونسیں دھونسموش دشتی ہوا ہے کونے گھونسگھونس جب فکر ہی میں مرتی ہوموش دشتی پہ کیا گذرتی ہوکوئی چھچھوندر جو بستی میں یاں ہےسو وہ چوہوں کی مرثیہ خواں ہےایک دن گھر میں ایک گھونس آئیاپنے پاؤں اجل اسے لائیگھونس کیسی بتاؤں غیرت سونسطاق ہے جس کے آگے طاقت سونسیا کوئی مادہ خوک آبستنیا کسو کچھوے کی برادر زنپھرتی پھرتی جو صحن میں خوش حالپاے دیوار بیٹھی سر کو نکالکہیں اودھر یہ شیر جاتا تھاپھیرتا منھ پہ پنجے آتا تھاپڑ گئی اس کی اس پہ چشم کبودنیلاپیلا ہو تاؤ کھا جوں دودپنجہ جھنجھلا کے ان نے گزرانابارے کچھ گھونس نے اسے جاناپر اسے خوف جاں نہ آیا کچھغالب آیا نہ اس کا سایہ کچھٹھک ٹھکایا پھر ان نے جانا توکیونکے تھا یہ تو شیر کا خالوپھر تو بگڑی ہے دونوں میں آکرچوٹ ہوتی تھی داؤ پا پا کرغصہ خرموش کو بھی آن چڑھااتفاق اس جگہ تھا ایک گڑھادونوں لڑتے ہوئے گرے اس میںکیچ کا گاہتے پھرے اس میںناخن اس شیر کا کچھ ایک گڑاشور محشر گڑھے کے بیچ پڑاشور کیسا محلے چونک اٹھےسگ بازاری بھونک بھونک اٹھےیاں تو گھر بیچ کیا ہے کیا ہے پڑیگھونس بلی نے چھیچھڑے کردیکھڑے مونچھوں کے بال انگڑاتاشیر نکلا گڑھے سے گھبراتالیک جی سے تھا سب بدن خالیکیوں کہ سر سے بلا بڑی ٹالیگھونس کے وارثوں کی کیا ہے تابکہ قدم کو رکھیں وے حتی البابکوئی چھچھوندر اب اس پہ روتی ہےکہ تری لاش خوار ہوتی ہےتو جو تھی ساری قوم کی سردارسو اٹھایا ہے زخم دامن دارہم بہت غم میں تیرے روویں گےبل کے بل اب خراب ہوویں گےفخر ہے اپنی نسل کا یہ شیرجن نے گھونسوں کے کر دکھائے ڈھیرسنا ہے موش گربہ کا قصہوہ جو ہے گا عبید کا حصہجس کو باندھا عبید زاکانیلگتی تھی اس کی وہ سگی نانیگربہ تا بود فاسق و فاجرق صید او یک بدے بہ سالانہایں زماں پنج پنج می گیرد

کہ شدہ مومن و مسلمانا

در تعریف مادۂ سگ

ہے جو وہ مادہ سگ تماشا ہےدوڑ پڑنے کے وقت باشا ہےکسی کے لقمے پر نہ منھ ڈالاسگ اصحاب کہف کی خالہنہیں کتوں سی خوار یاں کے یہہے سگوں میں عزیز خاں کے یہدے ہرن کو بھی جلدی میں بتاہے گا یاں سگ لوند کیا کتااڑتی چڑیا انھیں نے ماری ہےاستخوان سگ شکاری ہےیہ جو غصے میں آوے تو ہے غضباس کے مارے ہوئے ہیں ہارے سبمنھ میں دیتے ہیں اس کے جب مشعلطرفہ دم لابہ کرتی ہے اچپلمنھ میں اپنے لیے فتیلے سےسگ لیلیٰ کے ہے قبیلے سےباہم اس کتے بلی کا یہ ربطکوئی دیکھے نہ ہووے اس سے ضبطکبھو جاتا جو ہے یہ کوٹھے پرلگی رہتی ہے اس کی چھت سے نظراور سے دشمنی جانی ہےاس کی یہ باؤلی دوانی ہےدونوں شوخی سے مار سہتے ہیںسگ و گربہ کی چال رہتے ہیں

در تعریف آغا رشید کہ خطاط بود و بہ فرمائش میاں اعزالدین کہ فقیر و خوشنویس بودند

میرؔ خطاط یک قلم دیکھےلیکن آغا سے لوگ کم دیکھےیعنی عبدالرشید تھا استادخوشنویسی کی جن نے دی ہے دادخط کی خوبی کا اس کے اب تک ڈھنگصفحۂ روزگار پر ہے رنگوہ تصرف کہیں جو کرتا ہےشکل نقاش رنگ بھرتا ہےحیرت افزا ہے حسن ہر تحریرمشقی اس کی ہے قطعۂ تصویرخط شیریں جو اس کا پاتے ہیںہم حلاوت بہت اٹھاتے ہیںلگ گئی ہے قلم تو جادو ہےمد جہاں ہے کسو کی ابرو ہےسطر لکھتا نہیں خفی کی وہخط ہے خوباں کی پشت لب کا وہایسا لکھنا کسو کی طاقت ہےہے جلی بھی تو ایک بابت ہےخط میں کیسا ہی کوئی کامل ہواس کا کب نقطۂ مقابل ہوحرف کس کس ادا سے لکھتا ہےکون ایسی صفا سے لکھتا ہےہے الف قامت نکورویاںلام ہے زلف سلسلہ مویاںدال کا خم رہے ہے ایسا خوبجیسے جھکتے ہیں مست ہو محبوبمیم جس لطف سے لبالب ہےدہن تنگ مہوشاں کب ہےہے کشش فاژۂ تن خوباںدائرہ دور دامن خوباںدائرہ نوں کا اس نمط کھینچاکہ خط دلبراں پہ خط کھینچامدعی کو جو خط دکھادیں ہمجیسے حرف غلط اٹھادیں ہم

در بیان کذب

اے جھوٹھ آج شہر میں تیرا ہی دور ہےشیوہ یہی سبھوں کا یہی سب کا طور ہےاے جھوٹھ تو شعار ہوا ساری خلق کاکیا شہ کا کیا وزیر کا کیا اہل دلق کااے جھوٹھ تجھ سے ایک خرابی میں شہر ہےاے جھوٹھ تو غضب ہے قیامت ہے قہر ہےاے جھوٹھ رفتہ رفتہ ترا ہوگیا رواجتیری متاع باب ہے ہر چار سو میں آجاے جھوٹھ کیا کہوں کہ بلازیر سر ہے تواے جھوٹھ سچ یہ ہے کہ عجب فتنہ گر ہے تواے جھوٹھ کب ہے عرصہ میں تجھ سا حریف ابتیرے ہی حکم کش ہیں وضیع و شریف اباے جھوٹھ تیرے شہر میں ہیں تابعیں سبھیمر جائے کیوں نہ کوئی وے سچ بولیں نے کبھیکہنے سے آج ان کے کوئی دل نہ شاد ہوفردا کہیں تو اس سے قیامت مراد ہووعدے گھڑی کے پہروں کے سب آزماچکےبرسوں تک انتظار کیا جی ہی جاچکےاے جھوٹھ رنگ تیرے کرے کوئی کیا بیاںرکھتا ہے جیسے غنچہ زباں تو تہ زباںیوسف کہ تھا نبی و صداقت شعار تھاپھر حسن ظاہری سے بھی باغ و بہار تھاپایان کار تیرے سبب چاک پیرہنزنداں میں جا کے برسوں رہا چھوڑ کر وطناے جھوٹھ تو تو ایک دل آویز ہے بلاآشوب گاہ تجھ سے زمانہ رہا سداکس جاں کنی سے کوہ کنی کوہ کن نے کیتصویر کھود شیریں کی پیش نظر رکھینزدیک جب ہوا کہ وہ مطلوب سے ملےاب صبح و شام غنچۂ مقصود دل کھلےدلالہ کے تو پردے میں آ کام کر گیادو باتوں میں وہ عاشق دل خستہ مر گیااے جھوٹھ تجھ سے فتنے ہزاروں اٹھا کیےہنگامہ و فساد ہی ہر سو رہا کیےاے جھوٹھ راستی سے نہیں گفتگو کہیںکہنے کو ہاں کہیں ہیں حقیقت میں ہے نہیںاے جھوٹھ اس طرح ہیں بہت جی سے جاچکےوعدوں میں آہ لوگوں کے وعدے ہی آچکےاے جھوٹھ اس زمانے میں کیونکر چلے معاشہے تنگ جھوٹھ بولنے سے عرصۂ تلاشسردار جس سے سب متعلق ہے کاروبارسچ بولنا ہے اس کے تئیں سخت ننگ و عارپھر سب مدار کار دروغی و مفتریصدق و صفا و راستی کے عیب سے بریجھوٹا سوار دولت ابھی کا ہے یہ امیرورنہ قسم کسو کی بھی تھی حرف بارگیرمشکل حصول کام ہے یاں حاصل کلامباتوں ہی باتوں کام ہوا خلق کا تماماے جھوٹھ دل مرا بھی بہت دردناک ہےان کاذبوں سے صبح نمط جیب چاک ہےاک فرد دستخطی تھی مری ایک شخص پاسدیکھا جو خوب اس کو تو مطلق نہیں حواستھا میں فقیر پر نہ گیا شاہ کے حضوراتنے لیے کہ رتبۂ عزت مرا ہے دورآداب سلطنت سے نہیں مجھ کو رابطہحرکت نہ ہوئے مجھ سے کوئی غیر ضابطہمرزائی مجھ سے کھنچتی نہیں ہر عزیز کیپھر شعر و شاعری بھی نہیں ہے تمیز کیصحبت خدا ہی جانے پڑے کیسی اتفاقکیا بات آوے بیچ میں بے رتبگی ہے شاقمیں مضطرب گھر اس کے گیا اٹھ کے پانچ بارکہنے لگا زباں سے یہ ہوتے ہی وہ دوچارتقصیر میری اس میں نہ کریے گا کچھ خیالصاحب کہیں خموشی کروں میں یہ کیا مجاللیکن یہ حرف اس بھی سیہ رو کا رکھیے یادانداز سے یہ لوگ سخن کرتے ہیں زیادبہتیری ایسی فردیں یہ رکھتے ہیں جیب میںرکھتے ہیں یوں ہی لوگوں کو برسوں فریب میںدکھلاؤں گا چلا ہوں سوال آپ کا لیےمیں نے کہا فقیر کہو کس طرح جیےبولا نہ ہوگا سعی میں ایدھر سے کچھ قصورپھر دیکھیے کہ پردے سے کرتا ہے کیا ظہوراک آدھ ایسی بات بناکر کھسک گیادل اس خبر کے سننے سے میرا دھڑک گیایہ عرضیاں حضور کو بھیجیں میں صبح و شامدستخط جو ہوکے آئے کوئی سو اسی کے نامیعنی وہ اب کی آن کے کچھ دیوے گا شتابدل جمع رکھیں کاہے کو کرتے ہیں اضطرابدو چار بار آیا بھی وہ پر نہ کچھ ہوامجھ کو جو اضطرار تھا میں بے اجل موامدت مدید گذری مجھے کرتے انتظارخجلت ہوئی جو حال لکھا میں نے بار باراس فرد دستخطی کو ہے یہ ماہ ہفتمیںتنخواہ کا نہیں ہے ٹھکانہ ابھی کہیںآیا جو وہ لطیفۂ غیبی اب اپنے گھرمیں مضطرب ہو آپ گیا ملنے اس کے گھربارے نہ اتفاق ہوا یہ کہ ہو ملاپکھویا تھا اضطرار سے عز و وقار آپگھر آ کے ایک بھائی کو بھیجا پیام دےآئے وے اس کے پاس سے جو کچھ جواب لےحضرت سے کہیو پہلے بہت بندگی مریپھر کہیو اب اترتی ہے شرمندگی مریدو چار دن میں بھیجے گا کچھ گھر ہی آپ کےدرپے نہ اتنے ہوجیے میرے ملاپ کےتب سے وے بھائی جاتے ہیں ہر روز صبح و شاماب تک تو ملتوی ہے زمانے زدے کا کامدن دیکھتے ہیں وعدے کے بھی ہیں بہت قریبپھر ترک شہر کیجیے گا کہہ کے یانصیببرسوں ہوئے مہینوں کے وعدے ہوئے وعیدسچ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ان جھوٹھوں سے بعید

در بیان کدخدائی نواب آصف الدولہ بہادر

ہے جہان کہن تماشاگاہآصف الدولہ کا رچا ہے بیاہآؤ ساقی کہ کدخدائی ہےطبع نواب ادھر کو آئی ہےدل خوش احباب و شاد بہر دہربستہ آئیں دو راستہ ہے شہرنئے سر سے جواں ہوا ہے جہاںعیش و عشرت کے محو خرد و کلاںہر طرف شہر میں ہے آرائشرہرواں کی نہیں ہے گنجائششیشہ باز فلک ہے آتش بازکہکشاں سے ہوا ہوائی سازماہ سے ماہتاب کی ہے طرحکس سے ہو لطف روشنی کی شرحنہیں رستوں میں روشنی کے دیےنجم ہیں چشم روشنی کے لیےکیا ستاروں کا چھوٹنا کہیےآسماں کی طرف ہی تک رہیےشب شادی کی دھوم کی کیا باتروز روشن تھی روشنی سے راتدو طرف چھوٹتے جو ہیں گے انارراہ و رستے ہوئے ہیں باغ و بہارآؤ ساقی کہ جمع ہیں احبابسب مہیا ہیں عیش کے اسبابلا وہ جوں آفتاب ساغر زرآب گل رنگ سے لبالب کرآج جھوما ہے ابر بخشش زورکچھ نظر ہے تجھے ہوا کی اوردست دستور ابر نیساں ہےیعنی یک دست گوہرافشاں ہےکر چمن زار دست و دل کی سیرہیں نہال آج آشنا و غیرگل نمط دل شگفتہ سب کے کیےخلعت فاخرہ سبھوں کو دیےلا کہاں ہے وہ لالہ رنگ شرابجس سے مست گذارہ ہوں احبابآؤ مطرب لیے رباب و چنگکاڑھ منھ سے نواے سیرآہنگہر طرف رقص میں ہیں گل رویاںپاے کوباں ہیں سلسلہ مویاںشادمانی سے ہو نواپردازدے بہار گذشتہ کو آوازگل و لالہ سے چشم باز کرےرنگ صحبت کو دیکھ ناز کرےچھیڑ ساز طرب نوا کے تئیںباندھ آواز سے ہوا کے تئیںوجد میں لاؤ مے پرستوں کویاد دے ٹک سرود مستوں کوآؤ ساقی کہ روشنی ہے خوبمحو آرائش آج ہیں محبوبکاغذیں باغ کیا تماشا ہےپھول کترا کہ گل تراشا ہےبکّے سی مشعلوں کا ہوں بندہنور کا ماہ نے کیا چندہشیشہ شیشہ شراب ہے درکارصحبت عیش کو چھکا یک بارلالہ رنگ رخ نکویاں کومایۂ ناز خوب رویاں کواس پری کو نکال شیشے سےرنگ مجلس میں ڈال شیشے سےہوئے سرمست ہو تماشائیحکم کش ہے سپہر مینائیچھوڑ آئین بردباری کاسیر کرلے تزک سواری کاچل گلابی کو ہاتھ میں لے لےایک دم جام متصل دے لےہے سواری کے فیل کی وہ دھومجیسے ابر بہار آوے جھومآئے دولت سرا سے ہو کے سوارلعل ناب و گہر ہیں صرف نثاراک مہابت کے ساتھ فیل نشاںآگے مانند کوہ زر کے رواںاور ہاتھی ہیں جھومتے جاتےجیسے آویں جوان مدھ ماتےجل زربفت کی ہے ساری شبروکش انجم فلک ہیں سبپلٹنیں جاتی ہیں برابر یوںصف ہو مژگان دلبروں کی جوںبال بستہ رکاب میں ہیں سرنگجن کے دیکھے کمیت چرخ ہے دنگخوش سواری و خوش جلو خوش راہباگ اچکی تو پھر نہ ٹھہری نگاہگردنوں میں پڑی حمائل گلہے جلو میں بصد شمائل گلتھا بہت تیزگام اسپ خیالرہ گیا دیکھ کر انھوں کی چالتھے پری زاد چھیڑے اڑ جاویںآنکھ پھیرو تو کل سے مڑ جاویںکسمسانے میں باؤ سے آگےہاں کہے جیسے وہم جا لاگےنوبتی اب طبیعتوں کو رجھاؤچل سواری کا ٹک اصول بجاؤچوب نقارے پر لگا اس ڈھبکہ رکھیں گوش اس صدا پر سبایک دو دم بجائے جاؤ یوں ہیدل کش آواز گائے جاؤ یوں ہیپھینکتے ہیں جو دستہ دستہ گلرہگذر میں ہیں رستہ رستہ گلوہ جو دیوے تو کیا لیا جاوےخوشہ خوشہ گہر دیا جاوےساقیا دے وہ مے جو باقی ہےشادی ایسی بھی اتفاقی ہےہو مبارک یہ جشن خوش انجامدور گردوں بہ کام عیش مدامآ مغنی غزل سرائی کرکچھ مزے سے بھی آشنائی کرپڑھ غزل میرؔ کی جو ہووے یادان کو تو اس میں کہتے ہیں استاد

غزل

موسم ابر ہو سبو بھی ہوگل ہو گلشن ہو اور تو بھی ہو

کب تک آئینے کا یہ حسن قبولمنھ ترا اس طرف کبھو بھی ہو

ہو جو تیرا سا رنگ گل گاہےریجھیں ہم تب جب ایسی بو بھی ہو

ہے غرض عشق صرف ہے لیکنشرط یہ ہے کہ جستجو بھی ہو

سرکشی گل کی خوش نہیں آتیناز کرنے کو ویسا رو بھی ہو

کس کو بلبل ہے دم کشی کا دماغہو تو گل ہی کی گفتگو بھی ہو

دل تمناکدہ تو ہے پر میرؔہو تو اس کی ہی آرزو بھی ہو

در بیان مرغ بازاں

دلی سے ہم جو لکھنؤ آئےگرم پرخاش مرغ یاں پائےپر و پرزہ درست و یکساں ہےمرغ تصویر کا بھی حیراں ہےمرغ ہے ایک ایک جیسے کلنگقاز و سارس سے جنگ جس کا ننگحوصلہ کس قدر حواصل کاذکر کیا کرگس شتردل کالات کی گھات کر جو مڑ جاوےنسر طائر کا رنگ اڑ جاوےزہرہ ققنس کا اس خطر سے آبشب نہ سووے ہراس سے سرخاببکری سا فیل مرغ کو ماراکب شتر مرغ سے ہوا چارہآدمی جو بڑے کہاتے ہیںمرغ مارے بغل میں آتے ہیںسرخہ و سبزوار کے سب مرغہیں ثناگستر ایسے تھے کب مرغہو جو کیں مرغ خانگی کے تئیںمت سن اس ہرزہ چانگی کے تئیںلات ماری جو کاٹ کر حلقومحیدرآباد تک پڑی ہے دھومکھا کے سینے کی مدعی سووےنسر واقع کا واقعہ ہووےنے ثنا سے بطیں ہی ہیں تر لبمرغ عیسیٰ ہیں مدح خواں ہر شبٹینی کے سر پہ آج ٹیکا ہےاس کے آگے کنیل پھیکا ہےکیا عجب ان کی رہگذر کا فرشہوں پرافشاں تو ہو خروس عرشاڑ گیا حلق کا جو لڑتے پوستکی صدا مرغ دوست نے ہے دوستکیس اس رنگ ہوتے ہیں محسوسجوں گلستاں میں ہوویں تاج خروسشور جنگ آوری کا تاکہسارکبک کا گھر خروس پر ہے بارکب ہیں پہلے سے مرغ زریں بالحسن لاکھے کا سمجھے مرغ خیالکرسکے وصف مرغ کیا کوئیمرغ آمین کو دعاگوئیوقر اتنا کہ دیر بچے لیںجان دے کوئی تخم مرغ نہ دیںمرغ بازوں سے ساز کر دیکھادر الطاف باز کر دیکھاربط رکھا بہت انھوں کے ساتھایک پر مرغ کا نہ آیا ہاتھمرغ کا مرغ ہووے مرغ اندازمرغ ایسا ہو تو بجا ہے نازیعنی اپنا حریف جب پاوےپر ہلانے نہ دیوے کھا جاوےسینہ کیا سینہ بال کیا پر و بالجیسے چشم خروس آنکھیں لالبازی بدبد کے جب لڑاتے ہیںکانٹے لوہے کے باندھ لاتے ہیںآیا حلقوم کے کہ حلق کے پارپھوٹا چھاتی میں ایک لگ کے دوسارہاتھ جس مرغ باز کے تھا وہپانی کرنے لگا ترارا وہکچھ جو ٹھہرا تو دم دیا ان نےتعبیہ کرکے رکھ لیا ان نےاور جو سست ہو ہوا تھیلادونوں بازو کے پر دیے پھیلاہوچکا ہوچکا ہوا یہ شورڈھلکی گردن گیا وہ سارا زورپھیلا پانی میں وہ غم جاں سوزدل زدہ پھر ہیں مرغ دست آموزجانور رنگ باختہ سب ہیںیعنی حیران فاختہ سب ہیںمرغ قبلہ نما کو وحشت ہےبال کھولے ہیں پر نہ طاقت ہےورنہ اڑ کر کہیں چلا جاتادیر اپنے مقام پر آتاجمعے منگل کو پالی کی ہے دھومگلیوں میں روز حشر کا ہے ہجوممرغ بازوں کو ہے قیامت جوشجس کو دیکھو تو مرغ در آغوشمرغ لڑتے ہیں ایک دو لاتیںسیکڑوں ان سفیہوں کی باتیںان نے پر جھاڑے یہ پھڑکنے لگےان نے کی نوک یہ کڑکنے لگےوہ جو سیدھا ہوا تو یہ ہیں کجساتھ اس کے بدلتے ہیں سج دھجمرغ کی ایک پرفشانی ہےان کی صد رنگ بدزبانی ہےایک بولے کہ کاری آئی چوٹایک کہتا ہے بس گیا اب لوٹجھکتے ہیں آپ کو تڑاتے ہیںلاتیں گویاکہ یہ ہی کھاتے ہیںایک کے منھ میں مرغ کی منقارایک کے لب پہ ناسزا گفتارمنھ پہ آیا جو کچھ وہ بکنے لگےتیکھی نظروں سے سب کو تکنے لگےطرفہ ہنگامہ طرفہ صحبت ہےبعد نصف النہار رخصت ہےکھانچے سر پر بغل میں مارے مرغلے گئے جیتے ہارے سارے مرغپھر جو روز معین آوے گانالہ مرغ سحر سناوے گاعالم آوے گا گرد ویسا ہیگرم ہنگامہ ہوگا ایسا ہیمیرؔ ان کا نہ ہووے گو قائلمرغ معنی پہ وہ بھی ہے مائل

در بیان دنیا

سنو اے عزیزان ذی ہوش و عقلکہ اس کارواں گہ سے کرنا ہے نقلپیمبر ہے شہ ہے کہ درویش ہےسبھوں کو یہی راہ درپیش ہےکہوگے کہ آگے تھا کہتا کوئینہیں اس سرا بیچ رہتا کوئیبجا ہی کیا کوس رحلت مدامکنھوں نے نہ بجتا سنا یاں مقامیہ بیٹھے جو ہیں سامنے ہیں کہاںجہاں جملہ ہے ایک بزم رواںجسے دیکھو چلنے کا گرم تلاشیہ منزل نہیں جاے بود اور باشگدا ہو کہ ہو شاہ عالی تبارتہ خاک سب کا ہے دارالقرارنہ یک بوے خوش ہی ہوا ہوگئیوہ رنگینی باغ کیا ہوگئیملے خاک میں جھڑکے گل ہاے ترپریشاں ہوئے مرغ گلشن کے پرپتنگوں نے گر خاک مسکن کیاچراغوں نے بھی خانہ روشن کیاگئی خاک دامن فشانی کے ساتھرہا آب سو بھی روانی کے ساتھرہی راکھ ہوکر اگر آگ تھیرکن ہے جہاں باد کی لاگ تھینہ جدول رہے گی نہ سرو رواںگلستاں کو پاویں گے ہو کا مکاںزمیں کا رہے گا یہی کیا سبھاؤلپٹ جائیں گے آسماں جیسے تاؤسکوں یاں کا دیکھا سراسر شتابچلے جاتے ہیں کوہ جیسے سحابجہاں ایک ماتم سرا ہے عجبنہیں جاے باش اور جا ہے عجببھلا جی کے جانے کا کیا ہے بیاںعیاں ہے کہ کہتے ہیں جاں کو رواںجوانی گئی موسم شیب ہےشہود ایک دو روز کو غیب ہےہنسوں کیونکے ہستی میں دنداں نماکہ ہے جاے دنداں ہی دنداں نماگیا شور سر سے جھکا ہے بہتگئی واشد اب دل رکا ہے بہتنہ وہ ذائقہ ہے نہ وہ ہے مشاممزہ کچھ نہیں ہوچکی صبح شامکریں لمس کیا ہر گھڑی ہے صداعنہیں لذت اکل و شرب و وقاعبلا ارتعاش تن زار ہےہر اک عضو چلنے کو تیار ہےہوا حافظہ بسکہ نسیاں کا صرفنہیں یاد آتا ہے دوشینہ حرفہوئے شعر کیا کیا فراموش ہائےکہوں کیا گذرتی ہے خاموش ہائےنہ پوچھو لب و لہجہ بے طور ہےسخن کرنے کا ڈھنگ ہی اور ہےنہیں گور کے کام سے کچھ فراغکسے ذوق صحبت کہاں ہے دماغنہ کچھ یوں ہی عینک نظر چڑھ گئیبصارت کی بے طاقتی بڑھ گئینہ رکھیے جو عینک نہ آوے نظرکہے تو کہ اعمیٰ ہیں ہم بے بصررہیں دیکھ بھو حرف زن ہو حریفرہا سننے کے گوں نہ سمع شریفصد افسوس لطف سماعت نہیںصدا دور سے جیسے آوے کہیںشباب آہ داغ جگر دے گیاقد خم زمیں کی طرف لے گیانہ کچھ زور بازو بہت کم ہواجھکا سر سو زانو کا ہمدم ہواجوانی کی شب کیا بسر ہوگئیسفیدی مو سے سحر ہوگئیبدن زار اعضا سبھی رعشہ دارکرے کون خوباں سے بوس و کنارجو یہ چال ہے جا رہے ہیں ہم ابدموں پر غرض آرہے ہیں ہم ابکھڑے ہوں تو تھرائے ران اور ساقجئیں بیٹھیں کیوں کر کہ جینا ہے شاقجو یوں پاؤں چلتے بچلتے رہےتو دیکھوگے ہم یاں سے چلتے رہےاگر ضعف سے چپ ہی رہتے ہیں ہمیہ سوچو تو کیا کیا نہ کہتے ہیں ہمکہے میں نہیں اپنے ٹک پا و دستکیا خاک میں مجھ کو پیری نے سختجو بازو ہیں اپنے وہ بازو نہیںاگر منھ کو دیکھو تو وہ رو نہیںبدن کی ہوئی میرے صورت ہی اوروے آنکھیں نہیں وے نہ چتون کے طورجسد ناتواں جاے مہمان تنگسخن منھ پہ آوے وداعی کے رنگلبوں پر نہایت ضعیف ایک آہدر و بام پر حسرتوں سے نگاہشکن جلد میں دل کو پژمردگیغریزی حرارت میں افسردگیبرودت بہت جسم میں آگئیمزاجی تھی گرمی سو ٹھٹھرا گئیچھڑکتا رہوں منھ پہ میں آب کاشکہ ہوتا رہے روح کا انتعاشوگرنہ دیا سا بجھا جائے ہےپھر اٹھ بیٹھوں تو جی چلا جائے ہےسیہ روے شیب اک ستم کر گیالکھوں کیا کہ میں جیتے جی مر گیاقلم رکھ دے کر میرؔ ختم کلامتمام اپنی صحبت ہوئی والسلام

در بیان بز

کہتے ہیں جو غم نداری بز بخرسو ہی لی میں ایک بکری ڈھونڈھ کرشعر زور طبع سے کہتا ہوں چاردزدی بزگیری نہیں اپنا شعاردزد ہے شائستہ خوں ریزی کا یاںبلکہ بابت ہے بزآویزی کا یاںمیں پڑھوں ہوں اس کے آگے شعر گہاپنے ہاں گویا بز اخفش ہے یہبکروں کی داڑھی کے تیں جانے ہیں سبتکہ ریشی بکری کی ہے بوالعجبرنگ سر سے پاؤں تک اس کا سیاہچکنی ایسی جس پہ کم ٹھہرے نگاہچار پستاں اس کے آئے دید میںدو جہاں ہوتے ہیں دو ہیں جید میںایک میں ان میں سے تھا مطلق نہ شیرایک کو کہتے ہیں اندھے خرد و پیراس پہ کالے بکرے دو خیلا جنےنازنخرے سے رہے پھر انمنےچارہ بیٹھے کھاتے اک انداز سےدیتی پٹھ تو ہوتے خوش اس ناز سےدودھ ہو چوچی میں تو بچہ پیےبیٹھا دیکھے اس طرف منھ کو کیےبھوک سے گرم تظلم وے ہوئےاپنے شایان ترحم وے ہوئےدودھ منگوایا کیے بازار سےپھوہوں سے دینا کیا انفار سےگھاس دانہ بارے کچھ کھانے لگےگرتے پڑتے پاس بھی آنے لگےپرورش سے حق کی بارے جی گئےآب و دانہ دوڑ کر کھا پی گئےاب جوانی پر جو ہیں وہ شیر مستکودتے ہیں ہر زماں ہر دم ہیں جستمستی اپنی ماں پہ کرتے شاد ہیںعاقبت بکرے ہی کی اولاد ہیںزور و قوت سے حریفوں کے ہیں ڈھینگآہوے جنگی کو دکھلاتے ہیں سینگٹکر ان کی کیا جگر مینڈھا اٹھائےقوچ سرزن سامنے ہرگز نہ آئےسرزنی میں شہرۂ آفاق ہیںلوگ بزگیری کے سب مشتاق ہیںرنگ کو اس جنگ کا کیا ڈھنگ ہےدھنستے ہی میداں کا عرصہ تنگ ہےہوتے ہی استادہ طاری ہو غشیکیا بز کوہی سے ہو میداں کشیتیس ان کی دھاک سن کر مر گیاغم گوزنوں کو انھوں کا چر گیاگووہ ٹکر کھا جو ڈکراتا رہابزدلی سے گرگ بھی جاتا رہامارے پانی پانی کر بکرے اصیللکھنؤ سے غل ہے تا بکرے کی جھیلپاس جانا ان کے اب مسدود ہےذبح کرنے کو ہر اک موجود ہےاس ادا سے جائیں گے چھریوں تلےکاشکے ہوتے نہ ہاتھوں میں پلے

خواب و خیال

خوشا حال اس کا جو معدوم ہےکہ احوال اپنا تو معلوم ہےرہیں جان غمناک کو کاہشیںگئیں دل سے نومید سو خواہشیںزمانے نے رکھا مجھے متصلپراگندہ روزی پراگندہ دلگئی کب پریشانی روزگاررہا میں تو ہم طالع زلف یاروطن میں نہ اک صبح میں شام کینہ پہنچی خبر مجھ کو آرام کیاٹھاتے ہی سر یہ پڑا اتفاقکہ دشمن ہوئے سارے اہل وفاقجلاتے تھے مجھ پر جو اپنا دماغدکھانے لگے داغ بالاے داغزمانے نے آوارہ چاہا مجھےمری بیکسی نے نباہا مجھےرفیقوں سے دیکھی بہت کوتہیغریبی نے اک عمر کی ہمسریمجھے یہ زمانہ جدھر لے گیاغریبانہ چندے بسر لے گیابندھا اس طرح آہ بار سفرکہ نے زاد رہ کچھ نہ یار سفردل اک یار سو بے قرار بتاںغبار سر رہگذار بتاںگرفتار رنج و مصیبت رہاغریب دیار محبت رہاچلا اکبرآباد سے جس گھڑیدر و بام پر چشم حسرت پڑیکہ ترک وطن پہلے کیونکر کروںمگر ہر قدم دل کو پتھر کروںدل مضطرب اشک حسرت ہواجگر رخصتانے میں رخصت ہواکھنچا ساری رہ دامن چاک دلرہا بر قفا روے غمناک دلپس از قطع رہ لائے دلی میں بختبہت کھینچے یاں میں نے آزار سختجگر جور گردوں سے خوں ہوگیامجھے رکتے رکتے جنوں ہوگیاہوا خبط سے مجھ کو ربط تماملگی رہنے وحشت مجھے صبح و شامکبھو کف بہ لب مست رہنے لگاکبھو سنگ در دست رہنے لگاکبھو غرق بحر تحیر رہوںکبھو سر بہ جیب تفکر رہوںیہ وہم غلط کار یاں تک کھنچاکہ کار جنوں آسماں تک کھنچانظر رات کو چاند پر گر پڑیتو گویا کہ بجلی سی دل پر پڑیمہ چاردہ کار آتش کرےڈروں یاں تلک میں کہ جی غش کرےتوہم کا بیٹھا جو نقش درستلگی ہونے وسواس سے جان سستنظر آئی اک شکل مہتاب میںکمی آئی جس سے خور و خواب میںاگرچند پرتو سے مہ کے ڈروںولیکن نظر اس طرف ہی کروںڈروں دیکھ مائل اسے اس طرفبحدے کہ آجائیں ہونٹوں پہ کفپڑی فکر جاں میرے احباب کواڑا دیویں سب گھر کے اسباب کوکوئی پاس کوئی تفاوت سے ہوسراسیمہ کوئی محبت سے ہوکوئی فرط اندوہ سے گریہ ناکگریباں کسو کا مرے غم سے چاکجو دیکھوں تو آنکھوں سے لوہو بہےنہ دیکھوں تو جی پر قیامت رہےکہے چشم بندی کو ہر یار و غیرولے منزل دل میں اس مہ کی سیروہی جلوہ ہر آن کے ساتھ تھاتصور مری جان کے ساتھ تھااگر ہوش میں ہوں وگر بے خبروہ صورت رہے میرے پیش نظراسے دیکھوں جیدھر کروں میں نگہوہی ایک صورت ہزاروں جگہنگہ گردش چشم سے فتنہ سازمژہ آفت روزگار درازعجب رنگ پر سطح رخسار کامگر وہ تھا آئینہ گلزار کاجو آنکھ اس کی بینی سے جاکر لڑےدم تیغ پر راہ چلنی پڑےمکاں کنج لب خواہش جان کاتبسم سبب کاہش جان کادہن دیکھ کر کچھ نہ کہیے کہ آہسخن کی نکلتی تھی مشکل سے راہسزا ہے جگر اس کسو کے لیےجو سیب ذقن اس کا بوکر جیےگل تازہ شرمندہ اس رو سے ہوخجل مشک ناب اس کے گیسو سے ہوسراپا میں جس جا نظر کیجیےوہیں عمر اپنی بسر کیجیےکہیں مہ کا آئینہ در دست ہےکہیں بادۂ حسن سے مست ہےکہیں نقش دیوار دیکھا اسےکہیں گرم رفتار دیکھا اسےکہیں دلبری اس کو درپیش ہےکہیں مائل خوبی خویش ہےکہیں جملہ تن مہر صرف سلوککہیں مجھ سے سرگرم حرف سلوکلطافت سے یک جان ہووے تمیزسبک سیر مانند عمر عزیزکہیں جلوہ پرداز وہ عشوہ سازکہیں ایستادہ بصد رنگ نازہر اک جاے لے ناز سے وہ سبقدر و بام تصویر کا سا ورقرہے سامنے اس طرح پر کبھورکھے وضع سے پاؤں باہر کبھوبغل میں کبھو آرمیدہ رہےکبھو اپنے برخویش چیدہ رہےکبھو صورت دلکش اپنی دکھائےکبھو اپنے بالوں میں منھ کو چھپائےکبھو گرم کینہ کبھو مہرباںکبھو دوست نکلے کبھو خصم جاںکبھو یک بہ یک یار ہو جائے وہکبھو دست بردار ہو جائے وہگلے میں مرے ہاتھ ڈالے کبھوطرح دشمنی کی نکالے کبھوکبھو چیں بہ ابرو کبھو ہنس کے باتکبھو بے وفائی کبھو التفاتجو میں ہاتھ ڈالوں وہاں کچھ نہیںبجز شکل وہمی عیاں کچھ نہیںہر اک رات چندے یہ صورت رہیاسی شکل وہمی سے صحبت رہیدم صبح ہو گرم رہ سوے ماہکہ درپیش آوے یہ روز سیاہکہ جھوما کروں بید مجنوں کی طرزرہے یاد اس سرو موزوں کی طرزرہوں زرد میں گاہ بیمار ساپریشاں سخن گہ پری دار ساپری خواں کو لا کوئی افسوں پڑھائےکسو سے کوئی جاکے تعویذ لائےطبیبوں کو آخر دکھایا مجھےنہ پینا جو کچھ تھا پلایا مجھےدوا جو لکھی سو خلاف مزاجکھنچا اس خرابی سے کار علاجکہ سررشتہ تدبیر کا گم ہوادل اوپر ہجوم توہم ہوادروں خودبخود بے حواسی رہیپریشاں دلی اور اداسی رہیکروں بے کلی جاؤں تا ہر کہیںنہ گھر میں لگے جی نہ باہر کہیںقیامت جنوں کا رہے سر میں شورکھنچا جائے دل کوہ و صحرا کی اوررہے شوق سر در گریبان دلہوا کھینچے صحرا کو دامان دلسر آشفتہ زلف گرہ گیر کاقدم حلقہ در گوش زنجیر کاجنوں آہ در پے ہوا جان کےمجوز ہوئے یار زندان کےکیا بند اک کوٹھری میں مجھےکہ آتش جنوں کی مگر واں بجھےلب نان اک بار دینے لگےدم آب دشوار دینے لگےکہاں علم کا کسب فرصت نہ آہہوا کا بھی واں گشت روزن کی راہنہ آوے کوئی ڈر سے میرے کنےکہ کیا جانیے کیسی صحبت بنےوہ آشفتہ سر ہوش مندی سے دورنہیں رابطہ مقتضاے شعوروہ حجرہ جو تھا گور سے تنگ تردر اس کا نہ کھلتا تھا دو دو پہرجو اس میں کبھو میں سنبھل بیٹھتاتو باہر بھی اک دم نکل بیٹھتاسر شام بیٹھا تھا میں ایک روزافاقت نہ آئی تھی مجھ کو ہنوزکہ یاروں نے برجستہ تدبیر کیمرے خون میں کچھ نہ تقصیر کیاگرچند کہنے کو خوں کم کیالیا لوہو اتنا کہ بے دم کیابڑی دیر تک خون جاری رہامیں بے ہوش وہ رات ساری رہاجگایا سحر مجھ کو اک شور سےکھلی آنکھ میری بڑے زور سےوہی دست فصاد میں نیشتروہی رنگ صحبت کا پیش نظروہی لوہو لینے کا ہنگامہ پھروہی تر لہو میں مرا جامہ پھرلگے نشتر ایسے کہ لگتے نہیںچبھے جیسے مژگاں کسو کے تئیںہوا خون سے دامن و جیب تررگ جاں تلک زخم پہنچا مگرٹپکتا رہا دیر تک خون نابمجھے لے گئی بے خودی کی شرابسخن ضعف سے سخت دشوار تھاپلک کا اٹھانا بھی اک بار تھاکئی روز بالیں پہ یہ سر رہاخمار ایک مدت تلک پھر رہاکھڑا ہوں اگر پاؤں لغزاں رہےبدن بید کی طرح لرزاں رہےچلا جائے سر پاؤں تھرتھر کرےنسیم سحر کار صرصر کرےجفا ضعف سے مجھ کو کیا کیا نہ تھیافاقت گئی یوں کہ گویا نہ تھیپس از چند آنکھیں ٹھہرنے لگیںنگاہیں بھی کچھ کام کرنے لگیںبندھا ناتوانی کا رخت سفرکیا طاقت رفتہ نے منھ ادھرکسے تھا مری زندگانی کا دھیانولیکن نہایت تھا میں سخت جانلگی جان سی آنے اعضا کے بیچکوئی روز رہنا تھا دنیا کے بیچپھرا ناتواں میں بہت دور سےکہ نزدیک تھا عالم گور سےغلط کاری وہم کچھ کم ہوئیوہ صحبت جو رہتی تھی برہم ہوئیوہ صورت کا وہم اور دیوانگیلگی کرنے درپردہ بیگانگیپس از دیر آنکھوں میں آنے لگینہ دو دو پہر منھ لگانے لگینہ دیکھے مری اور اس پیار سےغریبانہ سر مارے دیوار سےکہیں ٹک تسلی کہیں بے قرارکہیں شوق سے میرے بے اختیارکہیں واسطے میرے روتی ہے خونکہیں دست زیر زنخ ہے ستونکہیں دل کو اپنے دکھاوے مجھےمری بے وفائی جتاوے مجھےکہیں دست بر دل وہ رشک قمرکہیں حسرت آلودہ مجھ پر نظرکہیں بے دماغانہ سرگرم نازکہیں آتش شوق سے جاں گدازکہیں چشم گریاں سے دامان پاککہیں سو جگہ سے گریبان چاککہیں کام دل کی شکایت سے ہےکہیں نقش دیوار حیرت سے ہےکہیں مجھ سے کہتی ہے رخصت مجھےکہ مطلق نہیں غم کی طاقت مجھےکہیں لب پہ وہ شکوۂ خوں چکاںکہ ٹپکا کرے جس سے آزار جاںکہیں وہ نگہ جس سے یہ پایئےکہ یہ درد دل ہے تو مر جایئےکہیں وہ روش جس سے نکلے عتابکہیں وہ طرح جس سے رہیے خرابکہیں حرف زن اس طرح ناز سےکہ دیکھا گیا دل کس انداز سےکہیں وہ ادا جس سے معلوم ہوکہ جیسے وہ عاشق کہ محروم ہوکہیں وہ سخن جو جگر خوں کرےکہیں طرز ایسی کہ مفتوں کرےکہیں وضع ایسی کہ بیگانہ ہےکہیں آشنا ہے تو دیوانہ ہےکسو جا ہے جلوے میں اس آن سےکہے تو کہ بیزار ہے جان سےکسو وقت اس کا یہ اسلوب ہےکہ شرم محبت سے محجوب ہےکبھو بے قراری ہے اس رنگ سےکہ پھرتی ہے سر مارتی سنگ سےکبھو بے ادائی و دشنام ہےکبھو باؤ کے ہاتھ پیغام ہےکہ اے بے وفا آہ دل نرم کرمحبت کے منھ سے بھی کچھ شرم کرکبھو وہ تبختر کہ پروا نہیںکبھو کیونکے کہیے کہ سودا نہیںکبھو یہ سخن جس سے ہو مستفادکہ اے بے وفا حرف من یاد بادکہ ظاہر میں میرؔ اب تو آنا گیاکہ وہ دوستی کا زمانہ گیاغرض ناامیدانہ کر اک نگاہوہ نقش توہم گیا سوے ماہنہ آیا کبھو پھر نظر اس طرحنہ دیکھا اسے جلوہ گر اس طرحمگر گاہ سایہ سا مہتاب میںکبھو وہم سا عالم خواب میںدل خوپذیر وصال دوامرہے خواب میں روز و شب صبح و شاماگر وصل خواب فراموش تھاولیکن وہی خواب کا جوش تھاپلک سے پلک آشنا ہے وہیزخود رفتگی کی ادا ہے وہیکھڑا ہوں تو سوتا ہوں اک ذوق میںرگ خواب دل ہے کف شوق میںجو بیٹھا ہوں خواب گراں ہے مجھےوہ غفلت جہاں در جہاں ہے مجھےخیال اس کا آوے کہ سن ہو رہوںتلے سر کے پتھر رکھوں سو رہوںمجھے آپ کو یوں ہی کھوتے گئیجوانی تمام اپنی سوتے گئیدکھایا نہ اس مہ نے رو خواب میںنہ دیکھا پھر اس کو کبھو خواب میںبہت بے خود و بے خبر ہوچکاہم آغوش طالع بہت سوچکانہ دیکھا کبھو میرؔ پھر وہ جمالوہ صحبت تھی گویا کہ خواب و خیال

جوش عشق

ضبط کروں میں کب تک آہ ابچل اے خامے بسم اللہ ابکر ٹک دل کا راز نہانیثبت جریدہ میری زبانییعنی میرؔ اک خستۂ غم تھاسر تا پا اندوہ و الم تھاآنکھ لڑی اس کی اک جاگہبے خود ہوگئی جان آگہصبر نے چاہی دل سے رخصتتاب نے ڈھونڈھی اک دم فرصتتاب و توان و شکیب و تحملرخصت اس سے ہوگئے بالکلسینہ فگاری سامنے آئیبے تابی نے طاقت پائیکرتے آئے داغ سیاہیکام جگر کا کرنے تباہیخون جگر ہو بہنے لاگاپلکوں ہی پر رہنے لاگاخواب و خورش کا نام نہ آیاایک گھڑی آرام نہ پایاچاک جگر سے محبت ٹپکیآنسو کی جاگہ حسرت ٹپکیسوز سے چھاتی تابہ گویااور پلک خونابہ گویاآہ سے اس کی مشکل جینادرد فقط تھا سارا سینہدل میں تمنا داغ جگر میںشیون لب پر یاس نظر میںنالے شب کو اس کے سن کرمر گئے کتنے سر کو دھن کرآہ و فغاں ہے اس کے لب پرروز ہے اب تک آفت سب پرروے و جبیں پہ خراش ناخنداغوں سے خوں کے قیامت گلبنزخم سینہ دل تک پہنچاکوئی نہ اس گھائل تک پہنچاآبلہ دل کا جب کوئی پھوٹافوارہ لوہو کا چھوٹاغم نے تو دل میں کیا ہے چھوڑابر میں تھا اک پکا پھوڑاسو نہ گیا یک دم وہ بے کلبخت نہ جاگے اس کے اک پلکام رہا ناکامی ہی سےتسکیں بے آرامی ہی سےرخساروں پر خون رواں ہودل میں ہو سو منھ پہ عیاں ہودشنۂ غم سے سینہ کوچاناخن سے منھ سارا نوچادل آماجگہ غمناکیاور نفس اک تیر خاکینے طاقت نے یارا اس کوضعف دلی نے مارا اس کونالۂ دل میں حزینی اس کےخاطر میں غمگینی اس کےرنگ اڑے چہرے کا ہر دمتھا گویا گل آخر موسمدست بہ دل ہر آن رہے وہبے طاقت بے جان رہے وہرنگ شکستہ بس کہ فسردہکہنے کو زندہ لیکن مردہخوں باری سے چہرہ گل گوںحلق بسمل دیدۂ پرخوںجدول جاری چاک گریباںگوشۂ دامن وقف مژگاںدیدۂ تر کے دریا قائلساحل خشک لبی کے سائلہر دم ہو ہر سمت کو جاریخوں باری سے سیل بہاریتشنہ لبی اک منھ پر پیدالب چش جس کا ہووے نہ دریاخاک بسر آشفتہ سری سےشور قیامت نوحہ گری سےسر تا پا آشفتہ دماغیداغ جنوں دے جس کو چراغیغم سے گرچہ دم بھی کہیں تھاجامے میں اک تار نہیں تھاوادی پر جب اپنے آوےصحرا صحرا خاک اڑاوےکلفت دل جب خاک فشاں ہواشک کی جاگہ ریگ رواں ہوگل ان نے ازبسکہ کھائےپھولوں کی چھڑیاں ہاتھ بنائےدل کے غبار نے راہ جو پائیشہر میں گویا آندھی آئیسر پر اس کے سنگ ہمیشہجی پر عرصہ تنگ ہمیشہآہ سرد کرے وہ عریاںبید سا کانپے موے پریشاںگرد کی تہ اس کا پیراہندامن صحرا جس کا دامنبار دامن تار گریباںدامن قرب و جوار گریباںپامالی میں مثل جادہنقش قدم سا خاک افتادہدشت تلک گئی آبلہ پائیدور کھنچی اس کی رسوائیاس کے جو پامال ہوئے سبخار بیاباں لال ہوئے سبجن نے دیکھا اس کو یک دمان نے کہا یہ بھول کے سب غمچندے یہ ناشاد رہے گاپر مدت تک یاد رہے گاجلنا اس سے کرے نہ کنارہجیسے چراغ وقف بچارالوہو ٹپکے آہ سحر سےنالہ گتھواں لخت جگر سےرکھتا سدا تھا وہ دیوانہورد زباں یہ شعر داناصارَ فوادی شقاً شقاًحقاً حقاً حقاً حقاًہوش و خرد ناشاد گئے سبدین و دل برباد گئے سبدرد دل سے کچھ نہ کہے وہہر اک کا منھ دیکھ رہے وہحسرت اس کی ایک اعجوبہآب دہن کی موج میں ڈوباغیر سے بولے نہ یاروں ہی سےبات کہے تو اشاروں ہی سےسمجھو تو کوئی داد کو پہنچوعاشق کی فریاد کو پہنچوورنہ رہے من مار کر اپناسر دے مارے ہار کر اپناکیوں کر غم سے ہو آزادیجان کے ساتھ اس کی ناشادیکوئی نہ اس پر سایہ گستراپنا ہاتھ اپنے ہی سر پرنے کعبے نے دیر کے قابلمذہب اس کا سیر کے قابلکیسا کہیے کیسا کچھ تھاالقصہ وہ ایسا کچھ تھا

در صفت دلبرے کہ با او علاقۂ دل بود

وہ کیسا تھا جس پر عاشقجی سے تھا وہ عاشق صادقدیدۂ گل میں جاگہ اس کینکہت گل گرد رہ اس کیچشم برہ سارا چمن اس کانقش قدم تھا یاسمن اس کاآگے اس کے کبھو نہ آیایہ رو گل نے کہاں سے پایاگل آشفتہ اس کے رو کاسنبل اک زنجیری مو کاجب وہ چہرہ تابندہ ہوماہ دو ہفتہ شرمندہ ہوزلف اس چہرے پر تابندہکاکل صبح سے خوش آئندہدیکھ اس گل کی نورافشانیشمع مجلس پانی پانیہو ہر چند یہ بدر کاملاس چہرے کے ہو نہ مقابلحوصلہ کتنا اس بے تہ کامنھ دیکھو آئینہ مہ کارکھتی تھی دعویٰ خوش چشمی پرلیکن اس کی چشم نظر کربہتوں کی جب جانیں گھل گئیںنرگس کی بھی آنکھیں کھل گئیںدور چشم ہے اس کا جب سےفتنہ اک سوتا نہیں تب سےرخ لب سے جاں بخش عالمبلکہ سراپا جان مجسمعیسیٰ کو گر لب دکھلاوےہرگز اس کو بات نہ آوےکوئی مرو انداز حیا پرچشم اس کی تھی پشت پا پرکچھ مت پوچھو تنگی دہن کیمشکل تھی واں جاے سخن کیکرکے شمیم زلف گذارہپھیلاوے ہے عنبر ساراخط آیا ہے گرد اس لب کےشاید شکر تنگ ہو اب کےدونوں لب اس کے لعل بدخشاںدست حنائی پنجۂ مرجاںتھا دیکھا یک رہ پردے میںبرق خرمن مہ پردے میںجس دم برقع منھ سے اٹھاتاخورشید اس دم ڈوبا جاتاپار دلوں کے خدنگ مژہ کاکاوش کم کم تنگ مژہ کابھوں کی کشش کا دوانہ عالمتیر نگہ کا نشانہ عالمتیغ و تبر تھی ابرو اس کیآتش تھی سرکش جو اس کیناز کی مے سے مست رہے وہاکثر دست بدست رہے وہزلفوں کے سب تار پریشاںسر اوپر دستار پریشاںسائے سے اس کے سرو بنایاخاک رہ سے تدرو بنایاہووے خراماں جب وہ کافرکبک کی ہووے جان مسافرچشم کرشمہ جان تغافلشایاں اس کے شان تغافلکیا جانے وہ حال کسو کاپتھر دل اس آئینہ رو کاپاتے ہی ابرو کا اشارہغمزے نے اک خنجر ماراجب وہ خرام ناز کرے ہےجی کو جور نیاز کرے ہےرخصت دے گر عشوہ گری کوایک ہی جلوہ بس ہے پری کوہنسنے میں وہ صفاے دنداںبرق خرمن عالم امکاںرشک سحر کو صافی تن پرخون صراحی اس گردن پرآہ صفائی اس سینے کیغیرت افزا آئینے کیشکل چیں میں یہ ناز کہاں ہےصورت ہے انداز کہاں ہےایسا خوب جہاں میں کہیں ہےرحم ہے اس پر اب جو نہیں ہےجب وہ شکل نظر آتی تھیکلفت دل کی نکل جاتی تھیرنگیں اس کے اس کف پا سےجائیں نکویاں اپنی جا سےچشم کرو انصاف کی گر وایوسف و شیریں لیلیٰ عذراکون ہوا اس محبوبی سےخوبی تو تھی پر اس خوبی سےبار نزاکت کیونکے اٹھاوےشاخ گل سا لہکا جاوےہے گی رگ گل یا رگ جاں ہےپر نازک اسرار میاں ہےصید ملک قربانی اس کایوسف اک زندانی اس کااور جو خوباں پاویں اس کویک دیگر دکھلاویں اس کوجاویں اس پر جان سبھوں کےتیغ رہے درمیان سبھوں کےتھانبا جائے کس کے کنے وہغصے ہو تو پھر نہ منے وہکیا کوئی شوخی اس کی بتاوےکچھ ٹھہرے تو کہنے میں آوےکیا ہے اس کے آب و گل میںآرزو اس کی سب کے دل میںسب کو میل اس بت کی ادا کابندہ کون رہا ہے خدا کادیکھے نہ عاشق زار کو اپنےپوچھے نہ بیمار کو اپنےعاشق ظلم و جور و جفا کادشمن جانی اہل وفا کاکوچہ رشک فزاے کعبہواں پہنچے نہ دعاے کعبہہر شب اک فریاد و تظلماٹھ گئی واں سے رسم ترحمآہیں جن کی درود و وظائفسو دل خستے وھاں کے طائف

رخصت شدہ رفتن یار وبے تاب شدن عاشق بے قرار

کر اے خامہ وہ تحریر ابآوے زباں پر جو تقریر ابیعنی میرؔ اس خستۂ غم کاسر تا پا اندوہ و الم کایار سفر کا مائل ہوکرحب وطن کو جی سے دھوکررخصت کو اس پاس بھی آیاجلتے کے تیں اور جلایاوقت وداع قیامت گذراسر سے آب حسرت گذرااک دم بے خود ہوکے رہا وہاس سے آگے آپ گیا وہآنکھیں لگیں ناسور ہو بہنےدیکھ کے اس کو لگا یہ کہنےظلم ہے لوہو پیتے رہیےجان گئے پر جیتے رہیےعمر عزیز چلی یوں جاوےاور فلک آنکھوں سے دکھاوےآخر کرکے خدا کے حوالہآئینے پر پانی ڈالاتاکہ وہ منھ دکھلاوے شتابیراہ دور سے آوے شتابییار گئے پر میرؔ جو اب ہےجان سے خالی اک قالب ہےراقم غم ہے وہ دل تفتہنامہ بر اس کا رنگ رفتہغم سے فرصت اس کو کہاں ہےقاصد اشک ہمیشہ رواں ہےخط لکھتا ہے اس مضموں سےتر ہو بال کبوتر خوں سےخط سے ایک آتش سر ہووےجس سے کباب کبوتر ہووےجب درد دل ان نے لکھا ہےشعلہ خط میں لپیٹ دیا ہےسوز کے آوے جب وہ بیاں پرشعلہ اک جوں شمع زباں پرجب کرے خون جگر سے انشایار کا اپنے شوق کف پاہو انگشت بریدہ خامہاور حنائی کاغذ نامہراہ یہ بیٹھا وہ سرگشتہدیکھے راہ عمر گذشتہآگے تھا کب ہجراں دیدہآہ وہ تازہ ظلم رسیدہکیا کیا بے طاقت ہوتا ہےہر دم جی رخصت ہوتا ہےحال عجب ہے رنجوری سےمرنے قریب ہے وہ دوری سےجب وہ درد دل کو جتاوےباتوں پہ اس کے رونا آوےدستہ دستہ داغ بسر ہےپرکالہ پرکالہ جگر ہےاشک نہیں آنکھوں سے ٹپکتاہے یہ گرہ اک دل کی تمناداغ دروں ہے گلشن گلشنگل یہ چنے وہ دامن دامنچھوڑے نہ راہ و رسم وفا کودے پیغام ہمیشہ صبا کوپاس اس کے گر تیرا ہو جانابھولے ہوؤں کو یاد دلانازیر لب اس کے بات یہی ہےشام و سحر دن رات یہی ہےکھینچیں گے کب تک یہ سختی ہمپھر بھی ملیں گے جیتے جی ہمبس اے خامہ رکھ لے زباں کوتاب نہیں ہے اہل جہاں کوقصۂ غم کو نہایت کب ہےاس سے خموشی اب انسب ہے

جنگ نامہ

اب کے نواب رام پور آیاناگہاں اس طرف خدا لایاآگے آتا تھا بہر سیر و شکاربازی یکسر روہیلی ہے اس بارگرد تھی فوج کی سپہر تلکبن گیا اور ایک تازہ فلکجمع افغاں پسر تھے اس جاگہلیک سارے تھے جنگ نا آگہیہ نہ سمجھے وزیر کوہ وقارہے تحمل سے رہ میں دیرگذاریعنی تخریب ایک آن میں ہےروکشی اس کی کسر شان میں ہےبے تہی سے وہ پیش جنگی کردانتے دے دے گرے ہراول پردیکھ کر لوگ تھوڑے ٹوٹ پڑےپکے پھوڑے کے رنگ پھوٹ پڑےچتھے تلواروں میں فرنگی سےمرے مارے بہت کڈھنگی سےتھا تہور نہ یہ شجاعت تھیساعت جنگ یا قیامت تھیتھے تلنگے روہیلے محو جنگلوتھوں سے ہوگیا تھا عرصہ تنگگورے کالے جدا جدا کیا تھےدونوں مردم گیا سے یکجا تھےدیو کا بھی نہ ٹھہرے پا اس جاتھا انھوں کا جہاں ثبات پاسہل سردار سمجھا یہ مرنااللہ اللہ ترا جگر کرناتوپ پر آن کر چلی تلوارجھیل کر زخم لڑ موا سردارصاحب اک اور اس کی جا آیاجن نے ایسی ہلاکو چنوایاجنگ مغلوبہ تھی گتھے باہممرتے تھے دونوں اور کے رستمصاحب انگریز کے گرے اکثرتھک گئے لڑتے مرتے ہم دیگرتاک کر باڑھ پہلو سے ماریصف الٹ دی حریف کی ساریلشکری سب سراں سمیت رہےسبز جو کچھ ہوئے تھے کھیت رہےنعش پر نعش گر کے ڈھیر ہوئےبھوکے مرتے کہ جی سے سیر ہوئےپیچھے سردار تھا پٹھانوں کادیکھا جانا جو ان نے جانوں کاخواب غفلت سے چونک اٹھا جاگادست پاچہ ہوا گیا بھاگامارے بھاگوں کو فوج نے لوٹامرگیوں میں سے بھی نہ اک چھوٹاغارت ازبسکہ لشکری لائےنعشوں سے اشرفی روپئے پائےوہ جو بھاگا تھا معرکہ سے رئیسبھاگا یوں جیسے پیش اسپ سئیسہوتے جو ہیں روہیلے ظلم شعارلٹتے جاتے تھے شہر راہگذاررام پور میں بھی آکے رہ نہ سکاوہ خداگیر بات کہہ نہ سکابھاگا واں سے ہے لے کے کچھ اسبابکہ لگا آیا لشکر نوابلی پناہ ان نے جا کے زیر کوہواں بھی تھا ساتھ کوہ کوہ انبوہتھا پہاڑی کے آگے جنگل بھیوہیں ناکہ پہ تھا یہ دنگل بھیوھاں روہیلے ہوئے اکٹھے سببعد دو چار پنج روز و شبعجز کی راہ سے کیا پیغامہم ہیں نواب کے کمینے غلامبندے رہتے ہیں باوجود خطاتم سے صاحب امیدوار عطالطف کریے امیدواروں پررحم کریے گناہگاروں پرہم غلامی میں ہوتے ہیں حاضراب نہ خدمت سے ہوویں گے قاصرکسو صاحب کو ہو حضور سے حکمموجب طوع وہ ہے دور سے حکمکہ مجھے اپنے ہاتھ لے جاوےپاؤں کتنے کے عاجز آ پاوےذات نواب ہے کرم سیرتکہا صاحب کو تم بصد عزتمعرفت اپنے جا کے لاؤ اسےپاس خیمے میں لا بٹھاؤ اسےیاکہ خیمہ جدا کرو استادہم اسے وقت پر کریں گے یادلایا صاحب چنانچہ خود جاکرپاس کرنا ہے تا نفر چاکرسر میں اس کے خیال باطل تھاآپ بھی وہ جوان جاہل تھاگفتگو میں کجی لگا کرنےہوا موجود مارنے مرنےچاہتا تھا کہ آپ کو مارےبارے ہتھیار چھن گئے سارےرفقا کے تئیں نکال دیارنجہ کر ٹہلوؤں کو ٹال دیااٹھ گئے جو حرام زادے تھےہو چکے دل میں جو ارادے تھےعاقبت اس کو باندھ کر بھیجاکہا پلٹن سے لکھنؤ لے جاجمع تھے لوگ سو پریشاں ہیںرہ گئے ہیں سو عجز کیشاں ہیںجنگ کی صبح کے تئیں ہے نہ شامآشتی کے ہیں اب پیام و سلامغالباً صبح آج کل ہووےبرطرف جملگی خلل ہووےلے کے اب ملک و مال سب نوابراہ لیتے ہیں لکھنؤ کی شتابسال تاریخ کا تھا مجھ کو خیاللطف کے رو سے کی ملک نے مقالکاے سخن گستر و جہاں استادفتح نواب سے کر اب دل شادمیرؔ کوئی غزل کہو اب تملذت شعر میں رہو خود گم

غزل

گرد سر پھر کے کرتے پہروں پاسسو تو ہم لوگ اس کے آس نہ پاس

خط پہ خط بھیجتا تھا لکھوا کرجب تلک یار تھا نہ حرف شناس

دل نہ باہم ملے تو ہجراں ہےہم وے رہتے ہیں گو کہ پاس ہی پاس

عرش و دل میں رہے مگر برسوںوہم ہے پر کہیں کہیں ہے قیاس

ہے چلا جب سے وہ پریشاں ربطجمع اک دم رہے نہ میرے حواس

ناامیدی بھی حد رکھتی ہےجیتا کب تک رہے گا کوئی نراس

جز خدا ہم کسو سے ڈرتے نہیںگھر ہمارا ہے واں جہاں ہے ہراس

میں تو حیران کار ہوں بے ہوشکیونکے نکلے گی میرے دل کی بھڑاس

میرؔ وحشی کا دل ہے بے طاقتچلتا پھرتا ہے پر اداس اداس

غزل

رہے عمر بھر دیکھتے سادگاں کویہ جینے نہیں دیتے دل دادگاں کو

خبر قاصدوں کو نہیں اپنی شایدبہت دور بھیجا فرستادگاں کو

عجب سادگاں میں ہے قشقوں کی خوبینہ ہو عجب کیوں برہمن زادگاں کو

نہال اور سرو اس کے حیراں کھڑے ہیںکیا پاے گیر ان نے آزادگاں کو

رہے زیر دیوار ہم میرؔ برسوںنہ پوچھا کبھی خاک افتادگاں کو

تنبیہ الجہال

صحبتیں جب تھیں تو یہ فن شریفکسب کرتے جن کی طبعیں تھیں لطیفتھے ممیز درمیاں انصاف تھاخار و خس سے کیا یہ عرصہ صاف تھادخل اس فن میں نہ تھا اجلاف کوکچھ بتاتے تھے بھی سو اشراف کوتھے جو اس ایام میں استاد فنناکسوں سے وے نہ کرتے تھے سخنپھر حصول اس سے نہ دنیا ہے نہ دیںکوئی حاجت اس سے وابستہ نہیںگر چمار اس کارخانے میں نہ ہوٹوٹے جوتے کو کہاں لے کر پھروچار ناچار اس کنے جانا پڑےکوڑیاں دے جوتی گٹھوانا پڑےحاجت اس فرقے سے مطلق یاں نہیںجو نہ ہو شاعر تو کچھ نقصاں نہیںیہ تو دنیا میں ہے اس فن کو کمالدین کا اس فرقے کے پوچھو نہ حالکذب ہو جس جاے رونق بخش سمعواں کی دینداری رکھو اور دل کو جمعجھوٹ آوے اس قدر جب درمیاںتو یقیں ایمان کیسا دیں کہاںہم تلک تھی بھی وہی رسم قدیمیعنی جن کے ہوتے تھے ذہن سلیمپیار کرتے تھے انھیں استاد فنان کے ہوتے رہبر راہ سخنجلف واں زنہار پاتے تھے نہ بارشاعری کاہے کو تھی ان کا شعارنکتہ پردازی سے اجلافوں کو کیاشعر سے بزازوں ندافوں کو کیاالغرض یاروں نے قیدیں دیں اٹھاجو کوئی آیا اسے دی پاس جاٹک نہ استعداد سے کی گفتگوکچھ نہ رکھی شاعری کی آبروچار سکھیاں کہہ کے دیں ناکس کے ہاتھپھر اسے مجلس میں لائے اپنے ساتھآپ بیٹھے صدر میں وہ دست چپکرنے لاگے شاعری سے حرف گپبولے ان کو آج کل سے ہے خیالذہن ان کا تیزی رکھتا ہے کمالہو رہیں گے کچھ اگر صحبت رہیاور ہم سے بھی انھیں الفت رہیجو ہوا ثابت وہ ان کا مستفیدسب نے جانا اس کو شاگرد رشیدکی اشارت تاکہ وہ کھولے دہنآگے استادوں کے ہو گرم سخنان کے ایما سے وہ کچھ پڑھنے لگاصاحبان فن کے منھ چڑھنے لگانیم قد اٹھ اٹھ کے یہ سننے لگےجا و بیجا سر کے تیں دھننے لگےوہ سراپا جہل ناگہ وقت کارہم سے تم سے کرنے لاگا اعتذارسر میں رکھ کر دعوی طبع لطیفمیرؔ و مرزاؔ کا ہوا آخر حریفکیسی کیسی یوں گئیں طبعیں بہ بادآفریں شاگرد و رحمت اوستادجب تلک یاں تھی تمیز زشت و نیککاہے کو یوں شعر کہتا تھا ہر ایکاہل فن کی رہتی تھی سب کو تلاشان کے ہاں کرتے تھے جاکر بودوباشجوکہ خودسر رکھتے استادوں سے عاران کے تیں ہرگز نہ ہوتا اعتبارزندگی بلکہ انھوں پر شاق تھیہاتھ گر لگ جاتی تھی شلاق تھی

حکایت

شائق فن تھا وزیر اصفہاںایک دن آیا ہلالی اس کے ہاںحاجبان در سے ہو آگاہ کارکی اشارت تا اسے دیں گھر میں بارعزت و تعظیم کی حد سے زیادپاس لے مسند پہ بیٹھا شاد شادان نے کھینچی اس کی مرزائی بہتبیٹھے بیٹھے رات جب آئی بہتشعر کی تقریب لاکر درمیاںکرنے لاگا شاعری کا امتحاںشعرخوانی کی پڑھا سو تھا غلطسنتے ہی بھڑکا وہ شعلہ کی نمطغصہ ہو بولا کہ ہاں فراش و چوبکھینچ لا میداں میں کی شلاق خوباس قدر مارا کہ بے دم ہوگیاسوج دست و پا ہر اک تھم ہوگیاکھینچ کر ڈلوا دیا دربار میںیہ خبر پہنچی جو ہر بازار میںوارث اس کے لے گئے آ رات کوجب بخود آیا تو پایا بات کویعنی دستور زماں دشمن نہ تھایا وہ کچھ ناآشناے فن نہ تھاغالباً پایا غلط اشعار کوخوش نہ آیا اس کرم کردار کوورنہ شیوہ اس کا ہے لطف و کرمجائزے میں دے ہے دینار و درممجھ کو کیوں شلاق کرتا اتنی شبکاہے کو بدنام ہوتا بے سببپس مجھے ہے تربیت اپنی ضرورجا کے بیٹھوں اک سرآمد کے حضورصحبت اکثر رکھوں اس استاد سےشاید اس کی دولت ارشاد سےپہنچے اک رتبے کو میری قیل و قالہو مجھے اس فن میں یک گونہ کمالاٹھ کے آیا مولوی جامی کنےمشق کی یک چند اس نامی کنےجب ہوا کچھ شعر کا رتبہ بلنداور مولانا لگے کرنے پسندپھر گیا اک دن در دستور پرحاجب درگاہ نے کی جا خبرکاے امیر اس روز کا شلاق خوارآج در اوپر ہے پھر خواہان بارکی اشارت سد رہ کوئی نہ ہوقصد ہے برخورد کا تو آنے دوسامنے آیا تو کی نیچی نظردھوپ میں جلتا رہا دو اک پہربعد ازاں ایماے ابرو کی کہ ہاںصحن ہی میں سے ہوا وہ مدح خواںپھر وہیں سے دے صلہ رخصت کیااک مصاحب نے جگر کر کر کہااگلی صحبت کی تھی عزت اس قدرسو ہوئی شلاق حد سے بیشتراب کی اس کو جائزہ دے کر گراںتونے فرمایا مرخص واں سے واںمیں نہ سمجھا یہ کہ وہ کیا تھا یہ کیادر جواب اس برگزیدہ نے کہاایسی ہی ہوتی ہیں تضحیک سلفدست ہو تو ان کے تیں کریے تلفاس قدر اس کا تنبہ تھا ضرورتاکہ پہنچے یہ خبر نزدیک و دورجو سنے سو خودسری سے باز آئےتربیت ہونے کو استادوں کے جائےورنہ کرتا پوچ گوئی ہر دبنگرفتہ رفتہ شاعری ہوجاتی ننگتب جو میں شلاق کی یہ خام تھااب جو آیا لائق انعام تھاقصہ کوتہ تھے ممیز درمیاںکاہے کو تھے گلہ گلہ شاعراںاب جو دیکھو ہر طرف ہے ازدحامننگ ہے کرم مزابل پر بھی کامبے تمیزی سے ہے رائج ابتریجس کو دیکھو خودنمائی خودسرینے بیاں کا ہے سلیقہ نے زباںاس پہ ہے ہر ایک سحبان زماںبس قلم وقت زباں بازی نہیںچپ کہ دوران سخن سازی نہیںکون حرف خوب کو کرتا ہے گوشبات کی فہمید کا ہے کس کو ہوشبے تمیزوں سے بھرا ہے سب جہاںاب دماغ حرف ہم کو بھی کہاں

تسنگ نامہ

پاؤ توفیق ٹک تو سر کو دھنویہ بھی اک سانحہ ہے میرؔ سنوہم کو درپیش تب سفر آیاجب کہ برسات سر ہی پر آیاابر ہونے لگے سپید و سیاہپانی رستوں میں کیچ ساری راہبیچ میں ہوتے کچھ اگر اسبابمنھ اٹھانے کی جی میں ہوتی تابسو تو کمل نہ پٹو نے لوئیسایہ گستر نہ ابر بن کوئیابر ہی بیکسی پہ روتا تھاابر ہی سر کا سایہ ہوتا تھاکیچ پانی میں کپڑے خوار ہوئےووہیں گاڑی میں جا سوار ہوئےرہروی کا کیا جو ہم نے میلبھینس چہلے کے تھے بہل کے بیلآسماں آب سب زمیں سب کیچخاک ہے ایسی زندگی کے بیچشب کہ دریا پہ ہوکے راہ پڑیپانی کے سطح پر نگاہ پڑیلجے لطمے کا کیا کہوں میں اوجباتیں کرتی ہے آسماں سے موجدامن ابر پاٹ دریا کادے گرہ توکہے کہ باندھا تھاہوش جاتا تھا دیکھ جوش آبگوش کرتا تھا کر خروش آبآب تہ دار اور تیرہ بہتلہر اٹھتی جو تھی سو خیرہ بہتپانی پانی تھا شور سے طوفاندیکھ دریا کو سوکھتے تھے جانہمرہ موج سیکڑوں گردابساتھ تھی صد تری کے چشم حبابناؤ میں پاؤں ہم نے بارے رکھاخوف کو جان کے کنارے رکھاجزر و مد سب حواس کھوتا تھاخضر کا رنگ سبز ہوتا تھاجب کہ کشتی رواں ہوئی واں سےجسم گویا کہ تھا نہ تھی جاں سےموجہ اٹھنے لگا جو طوفاں زالجہ آیا نظر سو عماں زاکیا کہیں ڈوب ہی چلے تھے ہمناخدائی خدا نے کی اس دمبلی لگتی نہ تھی نہ کچھ تھی تھاہعقل گم کردہ لوگ تھے ہمراہریلا پانی کا جب کہ آتا تھاخوف سے جی بھی ڈوبا جاتا تھاخطر غرق سے تھی طاقت طاقبے خودی سے ہوا تھا استغراقبہتا پھرتا تھا خضر کشتی پاسغوطے کھاتے تھے حضرت الیاسبدبلا سے تھے ہم کنار ہوئےتھا خدا ہی تو پلے پار ہوئےکسو درویش کا تھا یمن قدمجا کے پہنچے جو اس کنارے ہمورنہ اعمال نے ڈبویا تھاگوہر جاں سے ہاتھ دھویا تھااس کنارے کا جو اثر پایاہم تلاطم کشوں میں جی آیااس طرف اترے آب کے جاکرمیرؔ اور پیر صاحب و چاکرشکر لب پر دلوں سے محو گلہکس و ناکس سبھوں سے خضر ملاپار کا گنج تھا جو شاہدرہسب نے رہنا وہیں کا جی میں دھرافاصلہ ایک کوس کا تھا بیچراہ یاں سے تھی واں تلک سب کیچتھے بہت بیچ میں نشیب و فرازپہنچے واں شام کھینچ رنج درازسو نہ جاگہ تھی نہ مکان مبیتچار دوکانیں ایک پھوٹی مسیتجاکے حیراں ہوئے کدھر جاویںسر گھسیڑیں جو ٹک جگہ پاویںتگ و دو ہر طرف لگے کرنےتس پہ پڑتے تھے مینھ کے بھرنےکوئی میداں میں کوئی چھپر میںکوئی در میں کوئی کسو گھر میںگھر ملا صاحبوں کو ایسا تنگجس سے بیت الخلا کو آوے ننگبیٹھنے دیں نہ جب کہ صاحب کوکون پوچھے نفر مصاحب کوڈھونڈھتے ڈھونڈھتے سرا پائیویسے گھر چھوٹے ویسی جا پائیرہنا بھٹیاری کے غنیمت جانجو کہا ان نے ہم گئے سب مانکچھ پکانے کا جب سوال کیامیں نے اظہار اپنا حال کیایاں جو لائے ہیں مجھ کو اپنے ساتھزندگانی مری ہے ان کے ہاتھپہنچے ہے ان کے روبرو سے طعامصبح کا صبح مجھ کو شام کا شاماور پکوایئے تو زائد ہوخامی سے اپنے اور عائد ہوجو کچھ آیا سو کھا لیا میں نےکچھ رہا سو اٹھا دیا میں نےسن کے اک دل سے کھینچی ان نے آہاور بولی کہ واہ صاحب واہہم تو جانا تھا آدمی ہو بڑےچار پانچ آدمی ہیں پاس کھڑےکچھ یہ کھاویں گے کچھ کھلاویں گےہم کچھ ان کے سبب سے پاویں گےسو تو نکلے ہو کورے بالم تمہو گدا جیسے شاہ عالم تمکھانے پینے کی کچھ نہیں ہے باتدیکھیے کس طرح سے گذرے راتصدقے ہیں ایسے بھی اتارے کےسوگئے بخت گھر ہمارے کےمیں کہا مہترانی جی کچھ لومجھ سے آزردہ دل نہ اتنی ہوبعضے کھاتے ہیں کچھ کھلاتے ہیںبعضے مجھ سے بھی آتے جاتے ہیںبارے جوں توں ہوئی وہ رات تمامصبح کو صاحبوں کا ٹھہرا مقامیہ بھی دن شب ہوا سحر تھا کوچغازی آباد کو گئے سب پوچراہ طے کر سرا میں جا اترےکچھ ستم دیدہ پاس آ اترےصاحب اترے حویلی میں آکرباغ میں اس کے سب نفر چاکربارور تھے درخت و سایہ بھیپھل ولیکن کنھوں نے پایا بھیاس بھی منزل میں ایک روز رہےگذرے جس طور کوئی کس سے کہےلوگ جس دم سوار ہونے لگےاور اسباب بار ہونے لگےسوہنی اس روا روی میں گئیلوگ تھے مضطرب جگہ تھی نئیوحشت اس کو زبس کہ طاری ہوئیسر پٹک کر کسو طرف کو موئیایدھر اودھر تلاش کر دیکھاگمشدہ کو نہ بھر نظر دیکھاساری بستی میں جست و جو کو گیادیر تک یہ خیال سب کو رہاجن کی آتی ہے ایسے جاتے ہیںکہ نہ پھر کھوج ان کا پاتے ہیںمرگ تھی اس کی اس جگہ تقدیربلی تھی یاکہ گربۂ تصویررنگ جیسے کہ وقت گرگ و میشیعنی سرخی تھی کم سیاہی بیشجن سے مالوف تھی وہیں رہتیان سے کچھ کچھ نگاہوں میں کہتیکیا نفاست مزاج کی کہیےستھری اتنی کہ دیکھ ہی رہیےخال جوں پھول گل کترتے ہیںیاکہ نقشوں میں رنگ بھرتے ہیںچوہے چڑیا پہ ان نے کب کی نظرحج کا کرنا نہ فرض تھا اس پرموہنی بھی تو تھی بہن اس کینسبت اس کی تھی وہ بہت گھسکیپاوے جو کچھ سو مار کھاوے یہایک کیا چار چار کھاوے یہجانور مارنا تو ہے یکسوتیز پنجہ کیا نہ ان نے کبھویہ نزاکت اسی کو بن آوےموش دشتی کو دیکھ ڈر جاوےان نے مارے ہیں ایسے کتنے ڈھونسگھونس دیکھی تو ہووے کوئی گھونسیہ چھچھوندر کے بولتے بھاگےوہ پڑی سوتی بھی ہو تو جاگےچھپکلی سے یہ پھیر منھ کو لےوہ جفاکار جیفہ پر جی دےیہ پری سی تھی جو خرام کرےوہ جو اچھلے تو دھوم دھام کرےکبک اس کی خرام کے عاشقجانور اس کے نام کے عاشقغرض افسوس کی جگہ بلیاب کہاں گوکہ چھانیے دلیایسی بیگم مزاج بلی کھوبیگم آباد ہم گئے یاروواں سے میرٹھ سبھوں نے کی منزلکیچ پانی اگرچہ تھا حائلگرتے پڑتے پہنچ گئے سارےہم جفاے سپہر کے مارےواں سے لاوڑ تسنگ پھر واں سےجاکے واں تنگ آگئے جاں سےاک گڑھی باش و بود کو پائیکچھ نہ کھانے کو جس میں نے کھائیپھوٹی پھاٹی سی چاردیواریاور میدان تھی گڑھی ساریپھر نہ میدان بھی برابر تھاہر قدم ایک غار و چقر تھاکھنڈر سے اس میں تین چار مکانجن کا گرنے پہ سخت ہے میلانوہ گڑھے سارے کھتے ناج کے تھےبرسوں سے تھے پڑے نہ آج کے تھےخاک مٹی سے ان گڑھوں کو بھرابنگلا اک لا کے اس کے بیچ دھراخشتی پائے اگر نہ بنواتےباؤ میں اس سمیت اڑ جاتےباؤ جنگل کی تند کچھ نہ رکاؤمینھ میں چل پڑے تو کانپے جاؤاک گڑھی جس کی سیکڑوں راہیںواں ٹھہرنے کو چاہیے باہیںوہ رہے جو رکھے بہت سے لوگیا کوئی جوگی جو کرے واں جوگورنہ مشکل بہت ثبات قدمدل میں اک ہول ہی رہے ہر دمباؤ سی دن کو سائیں سائیں کرےرات ہووے تو بھائیں بھائیں کرےگر شکستہ ہوئی کہیں دیواربے زری سے بنانا ہے دشوارہفتہ ہفتہ تلک پڑی ہے خرابپردہ کاہے کا پھر ہے رفع حجابکارپردازوں کو تقید ہےشور ہے گالی ہے تشدد ہےوے بچارے بہانے کرتے ہیںرات دن لوگ چوکی بھرتے ہیںکہتے ان سے تو یہ ملے ہے جوابکس کے گھر سے بناویں لاکے شتابہم کو کھانے ہی کا تردد ہےصبح بقال کا تشدد ہےبنیا منھ کو چھپائے جاتا ہےروٹی کا فکر کھائے جاتا ہےحال کب پوچھنے کے ہے قابلہم فقیروں کے رنگ ہیں سائلسوچیں ہیں جب تو جھول جاتے ہیںبات کہتے ہیں بھول جاتے ہیںتم کو دیوار پاکھے ہیں گے یادہم کو کرتا نہیں خدا آزادکس کو موسیں کہاں سے کچھ لاویںدال آٹا جو تم کو پہنچاویںتم کہو دال ماش کی ہے زبوںیاں بہم پہنچے ہے جگر ہو خوںتم کہو آٹا کسکسا کھایایاں کلیجہ چھنا تو ہاتھ آیااور دوچار روز یہ بھی ہےایک غم سینہ سوز یہ بھی ہےفصل ہونے ابھی نہیں پائیپیشگی سب سے قرض لے کھائیجس سے جھوٹے ہوئے ہیں ہم دس بارچوٹٹا وہ کہے ہے ساہوکارماش کی دال کا نہ کریے گلہگوشت یاں ہے کبھو کسو کو ملاچاہتے ہو تو مول لو اک بزورنہ بیٹھے رہو بنے جزبزبکری لینے کو پیسے ہیں کس پاسکھاؤ دال اور پادو بے وسواسجی اگر چاہے کوئی ترکاریگول کدو ملے بصد خواریبھنڈی بیگن کے ناؤں ڈھینڈس تھااروی توری بغیر جی بس تھاجز کدو پاوے کلو مدھو کیایعنی کچھ اور واں تھا کدو کیادارو گولی کے کچھ نہ تھے اسبابماش کی دال کھاتے تھے احبابجو گڑھی میں نہ چھوٹتے یوں گوزبجتی رہتی تپک کہاں سے روزگھاس ہی گھاس اس مکاں میں تمامتس میں لساع جانور اقسامجیسے زنبور زرد ایسے ڈانسکاٹ کھاویں تو اچھلو دو دو بانسپشہ و کیک اور کھٹی تھیجن کے کاٹے اچھلتی پتی تھیہاتھ پنڈوں پہ سب چلے جاتےشب گزوں سے بدن جلے جاتےان کے کاٹے بدن پہ دانہ ہےمرچ جدوار پھر لگانا ہےایک دو دن جلا فراغ ہوااس کی جاگہ سیاہ داغ ہوانہ کھجاتے کھجاتے سارے گھسےچٹھے چٹھے ہوئے جو دانے پسےدن کو وہ صورت طعام ہوئیرات کو نیند یوں حرام ہوئیکتوں کے چاروں اور رستے تھےکتے ہی واں کہے تو بستے تھےدو کہیں ہیں کھڑے کہیں بیٹھےچار لوگوں کے گھر میں ہیں پیٹھےایک نے پھوڑے باسن ایکو نےکھود مارے گھروں کے سب کونےکوئی گھورا کرے کوئی بھونکےخفتہ خفتہ بھی شور سے چونکےسانجھ ہوتے قیامت آئی ایکشور عف عف سے آفت آئی ایکگلہ گلہ گھروں میں پھرنے لگےروٹی ٹکڑے کی بو پہ گرنے لگےایک نے آکے دیگچہ چاٹاایک آیا سو کھا گیا آٹاایک نے دوڑ کر دیا پھوڑاپھر پیا آکے تیل اگر چھوڑاگھورنے اک لگا اندھیرا کرایک نے اور ایک پھیرا کرگھر میں چھینکے اگر تھے توڑ دیےہانڈی باسن گرا کے پھوڑ دیےلوگ سوتے ہیں کتے پھرتے ہیںلڑتے ہیں دوڑتے ہیں گرتے ہیںجب کہ ہڈی پہ چار چار لڑیںگوشت پر بھیڑیے سے دوڑ پڑیںایک کے پیچھے ایک روز و شبلینڈھے سے واں نہ بندھ رہے تھے کبکتے ہی واں دوچار رہتے ہیںدو گئے بھی تو چار رہتے ہیںجاگتے ہو تو دوبدو کتےسو کر اٹھو تو روبرو کتےسر پہ دربان کے بلا ہی رہےکتا ایک آدھ گھر میں جا ہی رہےمنھ میں کف دور دور کرنے سےحال بے حال شور کرنے سےتوکہے سن کے وہ گلا پھاٹاباولے کتے نے اسے کاٹاکتوں کی کیا سماجتوں کو کہیںچچڑی سے رات دن لگے ہی رہیںباہر اندر کہاں کہاں کتےبام و در چھت جہاں تہاں کتےجھڑجھڑاوے ہے کان کو کوئیرووے ہے اپنی جان کو کوئییک طرف ہے چپڑچپڑ کی صدایعنی کتا ہے چکی چاٹ رہاایک چھنے کو منھ میں لے آیاایک چولھے کو کھودتا پایاایک کے منھ میں ہانڈی ہے کالیایک نے چلنی چاٹ ہے ڈالیتیل کی کپی ایک لے بھاگاایک چکنے گھڑے سے جا لاگاکتے یارو کہ جان کا تھا روگجاں بلب ہوں نہ کس طرح سے لوگآدمی کی معاش ہو کیوں کرکتوں میں بود و باش ہو کیوں کربستی دیکھی سو ایسی تھی آبادکہ بیابان سخت سے دے یادچار چھپر کہیں چماروں کےسو بھی ٹوٹے گرے بچاروں کےپھر چلو آگے تو نہیں ہے کچھڈھنڈھ سا اور جو کہیں ہے کچھپھوٹی ٹوٹی کوئی حویلی ہےسو بھی میدان میں اکیلی ہےایک دو مردے سے پڑے ہیں واںزرد ہو ہوگئے ہیں بے لب ناںلوگ ایسے مکان سب ایسےایسی جاگہ سے اچٹیں دل کیسےاور جو چار گھر نظر آئےان کی خوبی کھلے وہیں جائےوہ بھی کولی چمار تھے کوئیفاقوں کے زیر بار تھے کوئیصورتیں کالی سوکھے سوکھے سےسارے کنگال اور بھوکھے سےچار دانوں کے واسطے جی دیںجان کھا جائیں کچھ نہ جب تک لیںاس سے آگے بڑھے تو دھینور تھےاجڑے پجڑے انھوں کے کچھ گھر تھےاور آگے گئے تو تھا بازاراس میں بنیوں کی تھیں دکانیں چارایک کے پاس دال کچھ آٹاتس کو بھی مکھیوں نے تھا چاٹاایک کے سانواں اور تھوڑے چنےچھبڑوں میں خاک دھول ایک کنےجو تھا باقی رہا سو تھا کنگالناؤں کو کہتے تھے اسے بقالاس کا عامل کے یاں اٹھا مایہان نے جیسا کیا تھا سو پایاایک کنجڑے کے چار گٹھی پیازتس پہ اس کو ہزار فخر و نازکیا کہوں مرچ تھی نہ ادرک تھیاس مچھندر میں کچھ بھی بھدرک تھیایک دوکان تھی پساری کیان نے ہم لوگوں سے بھی یاری کیاس سے جاکر جو مانگیے ہلدیزرد مٹی کو باندھ دے جلدیدیکھ کر کچھ کہو تو وہ یہ کہےبس تم اس بستی میں میاں جی رہےیاں جو کچھ ہے چلن سو دیتا ہوںمیں بھی پیسے لگا کے لیتا ہوںمانگو اس سے جو مرچ یا دھنیادیوے لچا وہی بتا دھنیاان میں دو دانے اور سب کنکردیے کاغذ میں ہاتھ لنباکرلونگ چورا نفر سے منگوایالال مرچیں کٹی ہوئی لایااور اشیا یہیں سے کریے قیاسآگے جاتا نہیں کہا مجھ پاساور دس بیس گھر گنواروں کےاور دو چار فاقہ ماروں کےپھوٹی مسجد خطیب تھا نہ اذاںیہی خانہ خطیب کا تھا واںنہ تھی قید صلوٰۃ و رسم صوماس پہ سید امام واں کے قومبندے سب جن کا تھا خدا نہ کوئیاس طریقے سے آشنا نہ کوئیراہ و رسم و طریق سب بے ڈھبپہلے گالی تھی پیچھے حرف بہ لبکوسوں بھاگا اگر ملا کوئیصحبت ایسوں سے رکھے کیا کوئیایک تکیہ نہ جس میں فرش کاہحال درویش قابل صد آہٹکڑے ٹکڑے کی احتیاج اس کومرض جوع لاعلاج اس کوبرسوں چلا کے ناامید ہواچپکی سادھی جگر میں چھید ہواآتے جاتے سے ان نے جو پایااسی پر رہ گیا وہی کھایاگرد جو چار خاک کے سے ڈھیرجن کو کہتے تھے لیٹے ہیں یاں شیراپنا تو اعتقاد تھا ہی کمپر کبھو بلی بھی نہ دیکھی ہمکچھ نہ دیکھا ہم ان بھی گوروں سےکام نکلا سو اپنے زوروں سےکی توجہ جو ٹک دروں کی اوردل جگر پر مرے پڑا کچھ زورجس سے چھاتی میں درد ہونے لگارنگ چہرے کا زرد ہونے لگاپھر زمیں داروں میں نفاق ہوایہ عجب اور اتفاق ہوادونوں کا اک جدا ہی مطلب ہےیہ کہے روز وہ کہے شب ہےآس پاس اس گڑھی کے آئی جھیلگم تھے برسات میں طریق و سبیلایدھر اودھر اتر کے پانی جاؤقہر ہے پھر جو ٹک بھی ہووے چڑھاؤاس سے واں کی ہوا بہت مرطوبہووے نزلہ زکام بے اسلوبکتنے زوروں میں ہوتی ہے کھانسیایسی جیسے گلے میں دیں پھانسیپھر وہ درجہ ہے جس میں ہووے دقیہ کوئی نکلی ایک ثالث شقپڑی آفت خطر تھا سکھوں کاکیونکہ وہ ملک گھر تھا سکھوں کااس میں آجاتے تو قیامت تھیمال و جاں غرض سب کی رخصت تھینہ کوئی دادرس نہ وقت دادمفت ہی ہم گئے تھے سب بربادکیا کڈھب چرخ کج نے پھینکا تھاپر خدا کچھ ہمارا سیدھا تھاجس نے قدرت نمائی کی اپنیاس بلا سے رہائی کی اپنیبس قلم ہے صریر تیری تندشور سے تو پڑا جہاں میں دندبدزبانی کا مجھ کو کب ہے دماغایسی باتوں سے میں کیا ہے فراغہوچکی صاحبوں کی فرمائشچپ رہ اب ہے زمان آسائش

اعجاز عشق

ثناے جہاں آفریں ہے محالزباں اس میں جنبش کرے کیا مجالکمالات اس کے ہیں سب پر عیاںکرے کوئی حمد اس کی سو کیا بیاںکہوں کیا میں اس کی صفات کمالکہ ہے عقل کل یاں پریشاں خیالخرد کنہ میں اس کی حیران ہےگماں یاں پریشاں پشیمان ہےزمین و فلک سب ہیں اس کے حضورمہ و خور ہیں اس سے ہی لبریز نوریہ صنعت گری اس ہی صانع سے آئےکف خاک کو آدمی کر دکھائےنہ آوے کسی کے جو ادراک میںسو رکھ جائے وہ اس کف خاک میںبری ہے گا تمثیل و تشبیہ سےمنزہ ہے وہ بلکہ تنزیہ سےوہی حاصل مزرع آسماںکیے ان نے دانے میں خرمن نہاںسفید و سیہ کو نہیں اس کی بارورے ہے زمانے کی لیل و نہار

در توحید انشا طراز حسینے کہ فقرۂ یکتائی او بہ عالم دویدہ

سوا اس کے نقصاں ہے گر دیکھیےکمال اس کے ہی ہیں جدھر دیکھیےسر رشتہ ہے خلق کا اس کے ہاتھوہ شب باز ان پتلیوں کے ہے ساتھسبھوں میں نمود اس کی ہی شان ہےیہ قالب ہیں سارے وہی جان ہےگل و غنچہ و رنگ و بو و بہاریہ سب رنگ اللہ ہی کے ہیں یاراگرچہ ہیں یاں سب کی طرحیں جدایہ سب طرحیں ہیں ایک نام خداسما ارض و خورشید یا ماہ ہےجدھر دیکھو اللہ ہی اللہ ہےنظر کرکے ٹک دیکھ ہر جا ہے وہنہان و عیاں سب میں پیدا ہے وہبہرصورت آئینہ ہے گا جہاںیہ سب عکس اس کے ہی پڑتے ہیں یاںملک جن و حیواں جماد و نباتجو اس بن ہیں تو حیف ہے کائناتوجود و عدم اس سے دونوں ہیں شادوہی ہے گا مبدا وہی ہے معادمجھے ساقی دے کوئی جام عقیقولیکن لبالب ہو اس میں رحیقرکھے آپ میں جس کی آمد مجھےکہ درپیش ہے نعت احمدؐ مجھےدر نعت سید المرسلینثنا جان پاک محمدؐ کے تیںدرود و تحیات احمدؐ کے تیںرسول خدا و سر انبیازہے حشمت و جاہ صل علےٰدیا مجلس کبریا کا ہے وہشرف دودمان قضا کا ہے وہسب اس صفحے میں ہیں ظہور خداپر اس سے عبارت ہے نور خداجہاں وہ ہے واں جبرئیل امیںاڑے حشر تک تو پہنچتا نہیںکروں اس کی قربت کا کیا میں بیاںکہ تھا قاب قوسین ادنیٰ مکاںمرا زیر پا اس کے فرق نیازکیا جس کی خلقت پہ صانع نے نازبہ صورت اگر عبد مشہود ہےحقیقت کو پہنچو تو معبود ہےنہیں پاشکستوں کا اب دست گیرمحمدؐ بن اور آل بن اس کے میرؔگنہگار ہوں چشم لیک اس سے ہےتوقع شفاعت کی ایک اس سے ہےدرود آل پر اس کے ہر صبح و شاموہ ہے شافع حشر و خیر انامپلا ساقیا بادۂ لعل گوںکہ ہوجائیں سرخ آنکھیں مانند خوںہے اب حرف مستانہ کا دل میں جوشکر آویزۂ گوش گر کچھ ہے ہوش

مناجات بہ طور عاشقان زار در بلاے جدائی گرفتار

مرا زخم یارب نمایاں رہےپس از مرگ صد سال خنداں رہےرہے دشمنی جیب سے چاک کوصبا دوست رکھے مری خاک کومژہ اشک خونیں سے سازش کرےغم دل بھی مجھ پر نوازش کرےجگر سے طپیدن موافق رہےمرا درد دل مجھ پہ عاشق رہےجو نالہ ہو شب گیر کا روشناسوہ آٹھوں پہر ہی رہے میرے پاسمژہ گرم افسوس و نم ناک ہوکہ سیلاب آتش پہ خاشاک ہوکرے نیزہ بازی یہ آہ سحرکہ خورشید کی پھوٹ جاوے سپرخموشی سے مجھ کو رہے گفتگواڑے پر لگاکر مرا رنگ رونہ مرہم سے افسردہ ہو داغ دلشگفتہ رہے یہ گل باغ دلسدا چشم حیرت سے نسبت رہےمجھے دیکھ رہنے کی فرصت رہےاگر ضعف ٹک کسب طاقت کرےمری ناتوانی قیامت کرےمری بیکسی ناز بردار ہومروں میں تو مرنے کو تیار ہوبیاباں میں آشفتہ حالی کروںکہیں تو دل پر کو خالی کروںکریں دونوں عالم ملامت مجھےڈبو دیوے اشک ندامت مجھےمرا ہاتھ ہو چاک کا دستیارکہ تا جیب و دامن ہو قرب و جوارجنوں میرے سر پر سلامت رہےبیاباں میں مجھ سے قیامت رہےبہکنے سے مجھ کو نہ ہو وارہیبھلا دے خضر کو مری گمرہیجو ہو گرم رہ پاے پرآبلہتو ہوجائے سرد آتش قافلہارے ساقی اے غیرت آفتابکہاں تک ہمیں خون دل کی شرابکبھو ساغر بادہ کا دید ہومحرم ہمارا کبھو عید ہو

در تعریف عشق خانماں آباد و آزادگان برنا نہاد

زہے عشق نیرنگ سازی تریکہ ہے کھیلنا جی پہ بازی تریتجھی سے ہے آب رخ زرد زردتجھی سے مرے دل میں اٹھتا ہے دردتجھے ربط کفار و دیں دار سےتجھے رشتہ تسبیح و زنار سےتجھی سے ہے بلبل کو نوحہ گریتجھی پر ہے قمری بھی خاکستریترا جذب دریا کو بہنے نہ دےترا شور صحرا کو رہنے نہ دےتجھی سے دل شاد غم ناک ہےتجھی سے مرا سینہ صد چاک ہےتمنا کو تونے کیا ہے شہیدتجھی سے نہ برآئی میری امیدتجھی سے ہے مجنون صحرانوردتجھی سے ہے فرہاد کوہوں پہ مردتجھی سے گلوبند ہے خستگیتجھی سے ہے وابستہ دل بستگیتجھی سے دل عاشقاں ہے کبابتجھی سے ہے پروانہ آتش کا بابترا کام دینا ہے بدنامیاںتری ریجھ دیکھے ہے ناکامیاںتجھی سے سراسیمہ ہیں یار لوگتری تیغ سے قیمہ ہیں یار لوگتجھی میں ہیں یہ کارپردازیاںتجھی پر ہیں موقوف جانبازیاںمجھے اس کے چھپنے کا سودا رہاولیکن ترا راز رسوا رہالہو اپنا عاشق پیا ہی کیےترے جرم پر جی دیا ہی کیےترا ہی نمک خوار ہے زخم دلکہ مرہم سے بیزار ہے زخم دلتجھے اک ہے مژگاں سے یہ ربط اشککہ مشکل ہوا ہے مجھے ضبط اشککدھر ہے تو اے ساقی لالہ فامنہ لغزش ہے تجھ بن نہ بہکا کلامکہاں تک کوئی خون دل کو پیےکوئی کیونکے اس رنگ ظالم جیے

زبانی درویش جگر ریش کہ ایں بلا در سفر آمدش پیش

کسو معتبر سے روایت ہے ایککہ درویش سے یہ حکایت ہے ایککہ اک ملک میں میں قضارا گیاجواں ایک واں مفت مارا گیاوہ جس طور مارا گیا اب کہوںتعجب میں اس کے کہاں تک رہوںسن اب آ جو کچھ اس کے جی پر ہوامصیبت زدہ بن اجل ہی موااٹھا سیر کرنے کو میں ایک روزپشیمانی اس کی ہے مجھ کو ہنوزنظر جا پڑی جو مری ایک سوسر راہ بیٹھا تھا اک خوب روفقیروں کی سی جھولی ایک اس کے پاسگلے میں نہایت مکلف لباسسر اوپر تھا ہنگامہ اک اس کے جمعپتنگے اکٹھے ہوں جوں گرد شمعلقب اس کا دیوانۂ عشق تھاکہ شہرت میں افسانۂ عشق تھاجوانی کے گلشن کا وہ تازہ گلکرے جس کی خاک قدم غازہ گلاسی کی سی مقدور تک سب کہیںسدا اس کا منھ دیکھتے ہی رہیںوہ اک دودماں کا تھا روشن چراغجلاتے تھے سارے اسی پر دماغولے اس کے دل میں اک آتش نہاںکہ دیجے جلا اس سے سارا جہاںسب آرام چاہیں اسے اضطرارسراپا تلک ایک دل بے قرارنہ کچھ ہوش گھر جانے کا اس کو تھاتشتت نہ مرجانے کا اس کو تھانہ طاقت تھی تن میں نہ کچھ جی میں تابنہ دل پاس نے صبر و آرام و خوابسر راہ دل قیمہ قیمہ لیےیہ کہتا تھا مرجایئے بس جیےسن اس نوگل عشق کی بے کلیرہا کرتی ماتم سرا وہ گلیدل و صبر و ہوش و توان و حواسرہیں اس کی وحشت سے سارے اداسنہ ناموس کا ننگ نے نام کابلا دوست دشمن تھا آرام کاشب و روز فریاد کرنا اسےکئی بار اک دم میں مرنا اسےتماشے کا دیوانہ پیدا ہوازمانے کو چندے تماشا ہواجو دم لے طپش تو شتابی کرےتسلی دل کی خرابی کرےکرے طرح داغوں سے وہ باغ کوروائی اسی سے زر داغ کودل غم زدہ سے محبت اسےقیامت خوشی سے عداوت اسےوہ بے تابیوں سے بہت کم فراغکہاں صبر کرنے کا اس کو دماغاٹھے اس کے جی سے فغاں کے شرررہے برچھیاں سہتی آہ سحروہ ہرچند ہر صبح کو ہو ملولولیکن دعا اس کی کیا ہو قبولنہ آنسو کو اس کے تھی اس پر نظرنہ آہ سحر میں تھا اس کے اثرکہے رنگ رو کیوں مرا زرد ہےرکھے ہاتھ دل پر کہ کچھ درد ہےکرے دیدۂ اشک افشاں پہ نازبدے لخت دل رونے کی کچھ نیازوہ کاندھے پہ نعش تمنا کے تیںکرے تعزیت خانہ دنیا کے تیںسنے نہ کسو کی نہ اپنی کہےبیاں اس کا کچھ گو مگو ہی رہےلے آ ساقی گر بادۂ شوق ہےسیہ مستی کا ہم کو بھی ذوق ہےکھلا چاہتا ہے گل راز عشقکہ پردے میں کب تک بجے ساز عشق

رفتن درویش پیش آں جوان رفتہ از خویش و دل دہی کردن او بیش از بیش

یہ قصہ جہاں میں فسانہ ہوامجھے بھی سخن کا بہانہ ہواولے گاہ وہ شمع مجلس فروزکئی بیتیں پڑھتا تھا وہ سینہ سوزکہ جن کا یہ مضمون تھا دوستاںجلے ہے گی تقریر کرتے زباںبڑی آتش عشق سرکش ہے یاںجگر کیوں نہ جل جائے آتش ہے یاںنظر آ کہیں جارہا ہے یہ جیکہ آنکھوں میں اب آرہا ہے یہ جیزن و مرد کی ہوں زباں سے بتنگہوا ہوں میں سارے قبیلے کا ننگسدا خون دل میں طپیدہ ہوں میںکہ آہ بہ لب نارسیدہ ہوں میںتری دوری میں پہنچی ہے اے حبیبوداع دم واپسیں بھی قریبجگر تو ہو پانی بہا غم کے بیچیہ دم بھی ہوا ہے کوئی دم کے بیچسمجھنا یہ بھی اے مرے سر پہ خاککس امید پر میں ہوا ہوں ہلاکتو جب سے در اوپر نظر آگئیرہیں آفتیں میرے سر پر نئینہ نامہ نہ پیغام نے رسم و راہیونہی ہوتی جاتی ہے حالت تباہدل و دیدہ سب مدعی ہوگئےتماشائی مجھ پر بہت رو گئےکئی بار جاں لب پر آ پھر گئیکہاں ہے تو اے گل ہوا پھر گئییہ حیران ہوں صبر آتا نہیںتصور ترا جی سے جاتا نہیںخراش جگر سے ہے چھاتی میں دردکہ جس سے ہوا جائے ہے رنگ زردرہا کرتی ہے داد بیداد یاںدل شب سے گذرے ہے فریاد یاںسر رہ تک آ دیکھ یہ خستہ حالکہ ہے نقش پا کی طرح پائمالترے دور غم میں تو جوں کیمیاسنا ہی گیا نام مہر و وفانہ آنا نظر ہی ادا ہے ولیکنہ اتنا کہ جاتا رہے جی سے ایکترے غم میں اے آفت روزگارہزاروں بلائیں ہیں یاں روبکارکہاں ہے تو محمل نشین حیاسر راہ نالاں ہوں مثل دراکہہ اس طرز سے حال دل کا تمامخموشی کو پھر اس نے فرمایا کامکہاں ہے تو اے ساقی گل عذارکہ دے مجھ کو جام مئے خوش گوارکہوں قصۂ عشق بے کیف و کمقلم بے خودانہ کرے کچھ رقممجھے آہ اک اس کے دل کی لگیکہے تو کہ سینے میں برچھی لگیگیا زہرۂ تاب دل آب ہوکہا آگے جاکر میں بے تاب ہوکہ اے نازپرورد مہر و وفاکوئی اپنے جی پر کرے ہے جفامثل ہے کہ جی ہے تو ہے گا جہاںوگرنہ موئے پر ہے کیا میری جاںتلف یوں نہیں جان کرتا کوئینہیں اس سلیقے سے مرتا کوئیتہ دل ہو معلوم تا بول ٹکتو مژگان خوں بستہ کو کھول ٹکسخن حسرت آلود کہنے پہ آکچھ اک دل کی باتیں زباں پر بھی لاوگرنہ تو رک رک کے مرجائے گایہ ہے عشق کام اپنا کر جائے گاتو ہے صرصر غم سے آتش بجاںدیا سا نہ بجھ جائیو اے جواںتو اے شمع خامش زباں ٹک ہلاکہ کس مجلس افروز سے تو جلاتو کس آتش تند پر ہے سپندترا دود دل یہ ہوا ہے بلندجلاتی ہے آتش تری میرے تیںکیا داغ کس شعلے نے تیرے تیںگھٹا پاتے ہیں تجھ کو ہر صبح و شامنہ کاہیدہ ہو تو ہے ماہ تمامترا درد پنہاں ہے گو آشکاریہ مجھ سے بیاں کر کہ ہوں رازدارکہیں دل لگا ہو تو یہ مجھ سے کہہکہوں اس سے جاکر غمیں تو نہ رہجہاں کو تو بھیجے وہاں جاؤں میںکہے کام جو تو بجا لاؤں میںجو حور بہشتی بھی ہو تیری یارکروں میں ملک کی طرح واں گذارخدا جانے کیا جی میں بات آگئیکہ یہ میری دل جوئی ہی بھا گئییہ سن کر جوان زخود رفتہ نےجگر سوختہ اور دل تفتہ نےکیا سوز دل کو لبوں پر نمودزباں تاب کھانے لگی جیسے دودسخن ہونے لاگے نمودار کچھلگا کرنے پیچیدہ گفتار کچھکہ جس سے یہ معنی ہوئے مستفادکہ اے غم گسار دل نامرادجو دل جوئی میری ہے مدنظرتو یاں اک محلہ ہے ٹک قصد کرنہیں اس کو درکار کچھ جستجوسرا ایک ترسا کی ہے قبلہ روزبانی مری در پہ یہ جا کے کہہکہ احوال سے میرے غافل نہ رہترے واسطے خوب رسوا ہوامرے سر پہ ہنگامہ برپا ہواتسلی شکیبائی مطلق نہیںپر اب تاب تنہائی مطلق نہیںرہی جب تلک تن میں تاب و تواںاٹھایا تحمل کا بار گراںشتابی سے دے ساقیا جام عشقکہ لکھنے لگا ہوں میں پیغام عشقہوا آخر اب دل کا سب خون نابپیوں کب تلک اک گلابی شرابکہے سے جواں کے غرض قصد کرگیا بندہ ترسا کے دروازے پرسن آواز دستک کی اک رشک حورمہ چاردہ سی نپٹ باشعوردوچار آکے مجھ سے ہوئی ایک بارگیا جس کے دیکھے سے صبر و قرارہوئی دیکھے سے جب حقیقت عیاںکہا میں کہ تاجر پسر تھا جہاںبشر کیا ہے دیکھ ایسی آفت کے تیںفرشتہ بھی رو بیٹھے عصمت کے تیںکہا میں نے پیغام جو آیا بنپہ خوبی سے اس کی کروں کیا سخنمژہ بخت عاشق کی برگشتگینگہ ایک عالم کی سرگشتگیقد و قامت اس کا کروں کیا بیاںقیامت کا ٹکڑا ہوا تھا عیاںوہ نازاں جدھر آتی تھی اچپلیقیامت بھی آتی جلو میں چلیمیں سودائی اس زلف تاریک کاہر اک مو سبب رنج باریک کاشکن اس کی کاکل کا دام بلاہر اک حلقۂ زلف کام بلابھووں کی کمانوں سے لگ زلف تارالٹتے تھے اڑ اڑ کے جوں تیرماراگر ابرو اس کی جھمک جاتی تھیمہ نو کی گردن ڈھلک جاتی تھیہلے اس کے ابرو جدھر کرکے نازکرے اس طرف ایک عالم نمازکمان اس کے ابرو کی عاشق کمیںخدنگ اس کی مژگاں کے سب دل نشیںنہ آنکھوں کی مستی کی اس کو خبرخرابی نہ عاشق کی مدنظرنگہدار تھی سرخی چشم کیطرفدار تھی اپنے ہی خشم کیشہید اس کی چشمک کے دل خستگاںنشانے نگاہوں کے دل بستگاںمژہ موجب قتل جمع کثیرغرض سب تھے یہ ایک ترکش کے تیرچھپیں اس کے غمزے میں کتنی سناںنمایاں ہوئی سب پہ مرگ جہاںجبیں کھول دی اس پری زاد نےکہ چیں مانی خوبان نوشاد نےرواں اس شب افروز سے اشک شمعیہیں سے ہے روشن کہ تھی رشک شمعوہ مردوں کو زندہ دوبارہ کرےمسیحا جہاں سے کنارہ کرےپری منفعل رنگ رخسار سےخجل کبک انداز رفتار سےخضر تشنہ اس کے ہے دیدار کامسیحا شہید اس کے بیمار کاسوا اس کی باتوں کے سب باتیں ہیںجسے سن کے مردے بھی جی جاتے ہیںغرض اور سب یونہی کہنے کو ہیںمسیحا کے لب یونہی کہنے کو ہیںلب سرخ اس کے وہ گل برگ ترچھپیں جن میں دنداں کے سلک گہرتبسم میں اپنے وہ برق بہاردم حرف ہوتے گئے آبداردہن غنچۂ ناشگفتہ سے کمسخن رہرو راہ تنگ عدمتبسم ٹک اک گر وہ دلکش کرےتو گلشن میں گل صد چمن غش کرےنہ دیکھا کسی نے جو تن اس کا صافنظر گر نہ ٹھہرے تو کیجے معافکمر اس کی ممکن نہیں ہاتھ آئےمگر صاحب دست غیب اس کو پائےنہ رنگ صفا ہی فقط تن پہ تھاکہ مینا کا خون اس کی گردن پہ تھاکیا ان نے پامال فتنوں کا خوںحنا اس کے ہاتھوں میں کتنوں کا خوںادا اس کی عاشق کے جی کی بلانہ میری تمھاری سبھی کی بلااگر جلوہ گر ہو وہ محشر خرامتو معلوم ہے پھر جہاں کا قیامخراماں خراماں جدھر آگئیقیامت ہی گویا ادھر آگئیاسے لغزش پا مئے ناز سےوہ مست سر انداز انداز سےنہ ہووے وہ دن جس میں ہووے نقابچلا جائے پردے ہی میں آفتاباسی بت کا ہر اک تئیں ذکر ہےخدا کو خدائی کا اب فکر ہےچڑھاوے اگر ہاتھ سے آستیںتو پھر دست موسیٰ بھی کچھ ہے نہیںہوئیں طرح اس سے جفاکاریاںنکالی ہیں ان نے دل آزاریاںترحم کو پاؤں تلے وہ ملےستم اس کے کوچے سے بچ کر چلےجو آمد ہو اس کی نصیب چمنکرے ترک گل عندلیب چمنگلی اس کی فردوس کا تھی شرفبہشت اک گنہگار سی اک طرفزمیں اس کی یک دست گلزار تھینسیم چمن واں گرفتار تھیگلی اس کی وہ قتل گاہ عجیبشہادت وہاں خضر کو ہو نصیبوہی جاے باش دل عاشقاںاسی پر معاش دل عاشقاںصبا گر اڑا دے تنک واں کی خاکتو نکلے زمیں سے دل چاک چاککئی نعرہ کش واں کئی نعرہ زنکئی خوں گرفتہ کئی بے کفنکئی بے وطن واں سفر کر گئےسسکتے ہیں کتنے کئی مر گئےہر اک جان ہر شخص ناکام کیہوادار اس کے لب بام کیپھروں گرد ساقی نشے میں ترےگلابی ہی منھ کو لگادے مرےمجھے مست آب سیہ دے کے کرچلوں جوں قلم پھر میں مطلب اپرسنا وہ جگرسوز پیغام جبکیے آشنا حرف سے لعل لبپڑھی اک رباعی نہ کر اعتناکہ مضمون جس کا یہ موزوں ہواکہ ہجراں میں جو بے قراری کرےسر راہ فریاد و زاری کرےنہ سونے دے نالوں سے ہمسایہ کوبھلی مرگ ایسے فرومایہ کومحبت کی رہ میں یہ پہلا ہے کامکہ سر سے گذر جائیے شاد کامنہیں شرط الفت میں چین جبیںاگر پیش آوے دم واپسیںجو پھوٹا ہی پڑتا ہو جوں آبلہوہ ہے دم میں واماندۂ قافلہنہ جو ہوسکے ہجر کا پائمالتو بہتر ہے ہونا ہی اس کا وصالگیا میں جواب اس سے لے کر ادھرسر رہ تھا پامال غم وہ جدھرحقیقت بیاں کی سب اس جاے کیجواں نے یہ سنتے ہی اک ہائے کیگئی ساتھ اس ہائے کے اس کی جاںگرا خاک پر ہوکے بے دم جواںتکے تھا مگر رہ سفر کر گیاکہ اک بات کی بات میں مر گیانہ دیر اس کو ہوتے ہوئے جی سے سیرمجھے بات کے کہتے لاگی بھی دیرمری بات میں خون بلبل ہوادیا سا وہ جلتا جو تھا گل ہوامیں یہ واقعہ دیکھ گھبرا گیاکہ یوں یہ گل تازہ مرجھا گیانہ سوجھا مجھے اور کچھ اس سواکہ کریے بیاں طرف ثانی سے جاملامت کروں اس کو میں یک جہاںکہ اے بے حقیقت گئی اس کی جاںترے ناز بیجا کا تو کیا گیاپر اک بے گنہ اس میں مارا گیارہی گھر میں خوبی پہ تجھ کو نظرسر رہ گیا ایک جی سے گذرہے اب مشت خاک اس کی ذلت کا بابترے آستاں بن ہے مٹی خرابیہ ٹھہرا میں اودھر روانہ ہواادھر مرنا اس کا فسانہ ہواپلا ساقی ماہ وش ایک جامگیا کاستن ہی میں ماہ تمامکہاں ہے وہ خون کبوتر سی مےکہ پی کر فغاں کیجیے مثل نےغرض جوں توں کر قطع میں راہ کیگیا تھی جہاں منزل اس ماہ کیکی آواز دستک کہ بار دگرہوئی گھر میں القصہ میری خبردر خانہ پر آئی اک پیر زنلگی کرنے عشق جواں سے سخنکہ کیوں دوسری بار آیا ہے توشگوفہ مگر اور لایا ہے توکوئی رہ گیا تھا پیام جواںجو تو پھر شتابی سے آیا یہاںبیاں کر جو کہنا ہو تجھ کو شتابکہ ہے منتظر غیرت آفتابکہا میں نے اے پیر زن کیا کہوںعزادار اس نوجواں کا میں ہوںپیام اس کا لایا تھا میں اس لیےکہ وہ بے اجل مرتا ہے ٹک جیےسو یاں سے گیا لے کر ایسا جوابکہ جس سے نکلتا تھا ناز و عتابنہ تھی تاب حرف درشت اس کے تیںکیا غم نے تھا نیم کشت اس کے تیںنہ مشغول یوں ہی وہ زاری سے تھاوہ بے تاب بے اختیاری سے تھانہ سمجھی یہ رشک پری اس کے تیںدکھائی دی عشوہ گری اس کے تیںچڑھا ان نے تیوری اک انداز سےکہا بے مزہ ہو کے یوں ناز سےکہ جس کو نہ ہو تاب لانے کی تابشتابی سے مرنا ہے اس کا صوابہوا سامنے اس کے میں حرف زنیہ اس کی زباں سے کہا میں سخنجواں سنتے ہی کرکے ایدھر نگاہسفر کر گیا جان سے بھر کر آہیہی ماجرا کہنے آیا ہوں یاںخبر اس کے مرنے کی لایا ہوں یاںکہہ اس سے کہ اے کشتۂ غم کی جاںگیا آخرالامر جی سے جواںیہ کہہ دس قدم واں سے میں تھا چلاکہ اک شور کانوں میں میرے پڑاگذرنے لگی دل سے آواز آہلگا ہونے آنکھوں میں عالم سیاہصدا ایک نوحے کی آنے لگیکہ یعنی وہ دختر ٹھکانے لگیمحبت نے کام اپنا پورا کیاکہ ان دونوں لعلوں کو چورا کیافقیر آن کر سخت نادم ہواکہ میرے سبب دونوں کا جی گیایہ بھی جاے گریہ ہے ساقی سناکہ بدلے گزک کے ہے یاں دل بھناتھوڑی دارو دے سایۂ تاک میںبہ رنگ گل اب لوٹیے خاک میں

مقولۂ شاعر

عجب کی نہیں جا نہ کھا پیچ و تابیہ اے میرؔ ہے عشق خانہ خرابسنا ہے کہ فرہاد پر کیا ہواپھر اس عشق نے شیریں سے کیا کیاعزا کا ہے مجنوں کی نوحہ پڑاسیہ خیمہ لیلیٰ کا بھی ہے کھڑاگئی جان وامق کی کس رنگ سےہوا چاک عذرا کا سر سنگ سےگئی آہ نل کی فلک سے ادھردمن ہے بگولہ زمیں کے اپربہت عشق کی آگ میں جل گئےبہت اٹھتے جاتے ہیں شعلے نئےگئی جل کے آخر پتنگوں کی جاںچراغوں سے اک دود دل ہے کشاںہے بے تاب ذرہ اسی سے کبابجلے ہے اسی آگ میں آفتابدل اس داغ سے مہ کا بھنتا ہی ہےکتاں کا جگر چاک سنتا ہی ہےسیہ رنگ اگتا ہے سرو سہیوہی رنگ قمری ہے خاکستریبھنور کے بھی جی پر پڑے گل کئیکنول کی کھلی آنکھ پھر مند گئیکوئی نالہ بلبل سے ہے یادگارخزاں اس چمن میں ہے گل کی بہارکہیں ساقی دے آب گل رنگ کوکشادہ بھی کر اس دل تنگ کوگلے لگ کے مینا کے ٹک رویئےفسانہ بھی آخر ہے اب سویئے

اژدرنامہ

یہ موذی کئی ناخبردار فننئی ناگنیں جن کے ٹیکوں پہ پھننہیں جانتیں میں ہوں مار سیاہزبانہ ہے آتش کا میری نگاہنفس ہے مرا افعی پیچ دارگیا جس سے خصم قوی من کو مارجدھر پھر نظر دیکھوں لگ جائے آگدم دم کشی لب پہ کھیلیں ہیں ناگجہاں میں ہوں وہ جا ہے پرشر و شورعصا سے چلے راہ واں مار و مورمری آنکھ سے زہر ٹپکا کیاجلا آگے میرے کبھو کب دیاسن اس ماجرے کو سبھوں نے کہاکہاں کیچوے یہ کہاں اژدہانہ خصمی مری اژدروں سے ہوئیطرف مجھ سے ہو جونک کیا ادھ موئیاگر شور زاغاں سے ڈر جائے مارتو کیا اجگروں کا رہے اعتبارنہ کس طور اژدر کو تلواسہ ہوحریف اس کی سوکھی سی چلپاسہ ہوکہاں چھپکلی اژدہے سے لڑیکس اژدر پہ ایسی قیامت پڑیہزار اجگر اندوہ سے جائے لٹولے ایسے کیڑے مکوڑے ہیں چٹجہاں شور اژدر سے ہے دھوم دھامکوئی کنسلائی سے نکلے ہے کامبظاہر یہ لائے تو ہیں پر نکالولے ہوں گے ان کے جیوں کے وبالحریفی انھوں سے ہو اژدر کی کبوہ کھینچے جو یک دم تو پھنکا ہیں سبحکایت بعینہ یہ دل سے ہے میرؔسر راہ کہتا تھا جو اک فقیرکہ تھا دشت میں ایک اژدر مقیمدرندوں کے بھی دل تھے اس سے دو نیمنکلتے نہ تھے اس طرف ہو کے شیرپلنگ و نمر واں نہ رہتے تھے دیرجہاں شیر کا زہرہ ہوتا ہو آبشغال اور روبہ کا واں کیا حسابوہ صحرا تھا اس کے سبب ہولناکدم اس کے نے واں کی اڑا دی تھی خاکنکلتا تھا جب بہر برگ و نواشجر کے شجر ہوتے تھے تب ہواکہاں سایہ اس جا و سبزہ کہاںدرخت اس کے چاٹے رہے تھے نہ واںصدا جب مہیب اس کی ہوتی بلندجگر چاک کرتے ہوا سے پرنددرندوں کے برجا نہ رہتے حواسچرندے مکانوں سے ہوتے اداسوحوش اس بیاباں میں جاتے نہ تھےطیور آشیانوں میں آتے نہ تھےکبھو اس کی رہ میں جو اٹھتا غبارتو وہ دشت تھا ایک تاریک غارپہنچتا تھا گردوں تلک شور و شرہوا صاف ہوتی نہ دو دو پہررہا کرتی کوسوں تلک اس کی دھومنہ اس راہ آتا کوئی جز سمومہوئے ساکنان بیاباں بتنگاٹھے کوہ و وادی سے شیر و پلنگگئے جان لے لے وحوش و طیورکوئی رہ گیا موش و مینڈھک سا دورگئی لومڑی ایک سوکھی ہوئیکسو اور جنگل میں بھوکی ہوئیگلے میں جو یاں کے کھلے اس کے لبہوئے واں کے اعیان گرم غضبخراطین و خرموش و موش و شغالاس اژدر کو کر جنس اپنی خیالرواں ساتھ اس کے شبانہ ہوئےکئی گرگٹ آگے روانہ ہوئےرعونت سے مینڈھک اچھلتے چلےبلوں میں سے چوہے نکلتے چلےقریب اس بیاباں کے جس دم گئےانھوں میں سے آگے بہت کم گئےقضارا وہ آفت تھی سرگرم سیرچلے آتے تھے بھاگتے وحش و طیراس آشوب سے دست و پا گم کیےفراموش سب نے سر و دم کیےلگا ڈرنے خرموش سا پہلواںہوا مضطرب کیچوا سا جواںوہ گرگٹ کہ جس کو تھی گردن کشیہوئی خوف سے اس پہ طاری غشیقدم غوک سے گرد کا جل گیابھروسا تھا گیدڑ پہ سو ٹل گیاجہاں پہلواں موش رستم معاشلگا کرنے میدان میں بل تلاشکہ سوراخ پاوے تو روپوش ہویہ تشویش یک دم فراموش ہوولے چھوڑتا کب ہے خصم قویکہ ہو خوف جاں سے کوئی منزویپراگندگی تھی اس انبوہ میںکہ گونجی بلاے سیہ کوہ میںاس آواز سے جی نکل ہی گئےجو ثابت قدم تھے بچل ہی گئےسیہ جب ہوا ہوگئے منھ سفیدہوئے مدعی جان سے ناامیدبھرا ایک دم ان نے وا کر دہاںکہ پایا اس انبوہ کو نیم جاںدم دیگر ان سے نہ کوئی رہاوہی دشت خالی وہی اژدہازبانہ وہی آگ کا چار اورہوا گرم ویسی ہی ویسا ہی شوروہی دم کشی شام سے تا سحراسی ہولناکی سے وہ دشت و درگئی یہ خبر جس بیابان میںرہی سدھ نہ کچھ واں کے سکان میںکنھوں نے کبھو منھ نہ ایدھر کیانہ پھر نام اس اژدہے کا لیامری ان گزندوں کی صحبت ہے یہطرف ہوں مرے ان کی طاقت ہے یہجو مجھ کو ہو کچھ بھی انھوں کا خیالتو یہ مارگیری کریں کیا مجالتو کیا ہو انھوں سے بہت دور میںہوں اپنی جگہ شاد و مسرور میںمری قدر کیا ان کے کچھ ہاتھ ہےجو رتبہ ہے میرا مرے ساتھ ہےکہاں پہنچیں مجھ تک یہ کیڑے حقیرگیا سانپ پیٹا کریں اب لکیر

در بیان ہولی

ہولی کھیلا آصف الدولہ وزیررنگ صحبت سے عجب ہیں خرد و پیرجشن نوروزی اہل ہند سبہے یہی تب محو عشرت ہیں گے ابشیشہ شیشہ رنگ صرف دوستاںصحن دولت خانہ رشک بوستاںاس چمن میں باغ پر گل سرخ و زردنکہت گل جھاڑیں گے واں آکے گردپھول گل آویں نظر دیکھو جدھرلالہ و صدبرگ سب باغ نظردستہ دستہ رنگ میں بھیگے جواںجیسے گلدستہ تھے جوؤں پر رواںزعفرانی رنگ سے رنگیں لباسعطرمالی سے سبھوں میں گل کی باسرنگ افشانی سے پڑتی ہے پھوہاررنگ باراں تھا مگر ابر بہارمرغ گلشن گل رخاں کو جان پھولبیٹھتے ہیں پاس آکر پھول پھولقمقمے جو مارتے بھر کر گلالجس کے لگتا آن کر پھر منھ ہے لالبرگ گل ملواں اڑاتے تھے عبیرتھی ہوا میں گرد تا چرخ اثیرروشن الدولہ نے کی تھی روشنیکب ہوئی تھی لیکن ایسی روشنیوہ چراغاں گرچہ تھے درگاہ تکتھے تماشائی گدا و شاہ تکراہ میں ترپولیے مینار تھےروشنی کے کوچہ و بازار تھےگرم کچھ ہنگامہ یہ بھی کم نہ تھااس روش کی دھوم کا اودھم نہ تھااب تو ہفت اقلیم کا عالم ہے یاںدیکھو تو ہر جنس کا آدم ہے یاںٹٹیاں دریا کے باندھیں دو طرفکیا چراغاں آسماں کی ہو طرفتھا جہاں تک آب دریا کا بہاؤواں تلک تھا اس چراغاں کا دکھاؤایک عالم دیکھتا تھا دور سےرات دن تھی روشنی کے نور سےکوچہ و بازار بام و در بنےروشنی کے دونوں رستے گھر بنےسوانگ کیا کیا بن کے آئے درمیاںپیکھنے کا سوانگ تھا سارا جہاںآئے کس کس رنگ سے دامن سوارباد کے رنگوں جنھوں کا تھا گذارہاتھی آئے کوہ پیکر کیا بنےجیسے مدھ ماتے جواں ہوں انمنےکیسی کیسی دیکھیں شکلیں تازیاںسحر کرتے تھے کہ صورت بازیاںان دیوں کے عکس سے دریا کا آبآئینے کے سطح کی رکھتا تھا تابکشتیوں میں جو دیے بھر کر جلےپانی میں شعلوں کے ریلے ہی چلےمنعکس تھے جو چراغاں تہ تلکآب کی وسعت تھی بر نجم فلککیا ہوائی چھوٹنے کا ہے بیاںذو ذنب جیسے ستارے ہوں عیاںجاہی جو ہی چھوڑنا ہے یاد بودروشنان ذو ذوانب تھے نمودگنج چھوٹے ایک سے روشن تھے جھاڑدو طرف جس طرح سے جھڑتی ہے باڑاس روش سے تھے ستارے چھوٹتےناگہاں جو ہوویں تارے ٹوٹتےدیکھے جاتے تھے چراغاں آب میںشعلے تھے لہروں کے پیچ و تاب میںہر دو جانب چن گئے ناری انارگل فشانی سے انھوں کی تھی بہارماہتابی اک طرف سے جو دغیچاند سا نکلا ہوئے حیراں سبھیآفریں صناع لوگو آفریںکیا لگایا باغ آکر کاغذیںگل کتر کر پھول گل ہی کردیےرنگ تازے کاغذوں میں بھر دیےمتصل توپیں ستاروں کی دغیںلوگوں کی آنکھیں فلک سے جا لگیںدیکھیاں کیا کیا نہ شعلہ خیزیاںتھیں ہوا میں سے ستارہ ریزیاںنذر کو نواب کی اہل فرنگلے کے آتش بازی آئے رنگ رنگعرصہ گل ریزی سے گلشن ہوگیاچرخ ان تاروں سے روشن ہوگیاداغیاں توپیں ہوائی ایک بارپھیلے تارے آسماں پر بے شمارکیا ہوائی باد میں لہرا گئیتاری سانپوں کے سے من پھیلا گئیکیا ہی آتش دستیاں دے کر گئےشعلوں سے پانی کی لہریں بھر گئےرحمت اے آتش زناں کیا لاگ ہےتہ بساط آب دریا آگ ہےلکھ غزل اب میرؔ رنگیں تر کوئیسن کے ہو محظوظ جس کو ہر کوئی

غزل

لالہ کنار دریا نکلا ہے کیا زمیں سےاٹھتی نہیں ہیں آنکھیں دیکھو ادھر کہیں سے

بالیدگی سے پہنچے گل آدمی کے سر تکہو واں تو رنگ ٹپکے جیب اور آستیں سے

خوش رنگ تر ہے ہر گل رخسار سے پری کےصدبرگ واں طرف ہے خورشید کی جبیں سے

منھ پر عبیر عاشق اصرار سے ملے ہیںکب ہاتھ کھینچتے ہیں معشوق کی نہیں سے

صندل بھری جبیں سے کیا صبح چہرہ ہووےاس قطعۂ چمن کے محبوب خوش نشیں سے

یک سو گلال منھ پر خوباں کے مل رہے ہیںالجھے ہیں ہاتھ یک سو گیسوے نازنیں سے

جب میرؔ جان دینا بوسے کے بدلے ٹھہراتب خوف کیجیے کیا پیشانیوں کی چیں سے