راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھِیے ہوتا ہے کیا
قافلے میں صبح کے اِک شور ہےیعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا
سبز ہوتی ہی نہیں یے سرزمیںتخم خواھش دِل میں تُو بوتا ہے کیا
یے نشان عشق ہیں جاتے نہیںداغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
غیرت یوسف ہے یے وقت عزیزمیر اِس کو رایگاں کھوتا ہے کیا
ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اُس کے لب کی کیا کہئیےپنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوںحالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آوازاُسی خانہ خراب کی سی ہے
میر اُن نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےجانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیںکب موجود خدا کو وہ مغرور خودآرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میںجی کے زیاں کو عشق میں اس کے، اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماریء دل کی رسمِ شہرِ حسن نہیںورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارا جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیںاور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارا جانے ہے
عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسےیار کے آ جانے کو یکا یک عمر دوبارا جانے ہے
تشنہء خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کشدم دار آبِ تیغ کو اس کے آبِ گوارا جانے ہے
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانہء دل سے زنہار نہ جاکوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میراشور ایک آسماں سے اٹھتا ہے
لڑتی ہے اُس کی چشمِ شوخ جہاںایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
سدھ لے گھر کی بھی شعلہء آوازدود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کوجو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اُٹھے آہ اس گلی سے ہمجیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق میر اک بھاری پتھر ہےکب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیمارئ دل نے ، آخر کام تمام کیا
عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موندیعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کیہم سے جو پہلے کہہ بھیجا ، سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ، ہم کو عبث بدنام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیںبانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئیکوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کا کعبہ ،کیسا قبلہ، کون حرم ہے ، کیا احرامکوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا میخانے میںجبہ، خرقہ ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منہ سے اٹھاوے ورنہ پھر کیا حاصل ہےآنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کی، یا دن کو جوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھیرخ سے گل کو مول لیا ، قامت سے سرو غلام کیا
ساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیےبھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سےاستغنا کی چوگنی ان نے ،جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھیسحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ، ان نے توقشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا ، کب کا ترک اسلام کیا
جس سر کو غرور آج ہےياں تاج وري کاکل اس پر يہيں شور ہے پھر نوحہ گري کا
شرمندہ ترے رخ ہے رخسار پري کاچلتا نہيں کچھ آگے ترے کبک وري کا
آفاق کي منزل سے گيا کون سلامتاسباب لٹا راہ ميں ياں سر سفري کا
زنداں ميں بھي شورش نہ گئي اپنے جنوں کياب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سري کا
اپني تو جہاں آنکھ لڑي پھر وہيں ديکھوآسينے کو لپکا ہے پريشاں نظري کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہي گزرےمقدمہ ورنہ ديکھا کبھو بے بال و پري کا
اس رنگ سے چمکے ہے پلک پر کہ کہے توٹکڑا ہے بڑا اشک عقيق جگري کا
کل سير کا ہم نے سمندر کو بھي جاکرتحادست نگر پنجہ مثر گاں کي تري کا
لے سانس بھي آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کي اس کار گہ شيشہ گري کا
ٹک ميرے جگر سوختہ کي جلد خبر لےکيا يار بھروسا بے چراغ سحري کا
فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہمسو اس عہد کو اب وفا کر چلے
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھیکہ مقدور تک تو دوا کر چلے
پڑے ایسے اسباب پایان کارکہ ناچار یوں جی جلا کر چلے
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیےہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہسو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تریسو یاں سے لہو میں نہا کر چلے
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیاہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئیحق بندگی ہم ادا کر چلے
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھےنظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوںچمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے
نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہےہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے
گئی عمر در بند فکر غزلسو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔجہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتالوہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا لیکنجب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
صبر تھا ایک مونس ہجراںسو وہ مدت سے اب نہیں آتا
دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہشگریہ کچھ بے سبب نہیں آتا
عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہبات کا کس کو ڈھب نہیں آتا
جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدمپر سخن تا بلب نہیں آتا
دور بیٹھا غبار میرؔ اس سےعشق بن یہ ادب نہیں آتا
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوںاب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دوجام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچجو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مےیا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑےتم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھچلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جیجوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشقجان کا روگ ہے بلا ہے عشق
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھوسارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیںکہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
عشق معشوق عشق عاشق ہےیعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
گر پرستش خدا کی ثابت کیکسو صورت میں ہو بھلا ہے عشق
دل کش ایسا کہاں ہے دشمن جاںمدعی ہے پہ مدعا ہے عشق
ہے ہمارے بھی طور کا عاشقجس کسی کو کہیں ہوا ہے عشق
کوئی خواہاں نہیں محبت کاتو کہے جنس ناروا ہے عشق
میرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہوکیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق
آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میںپیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں
نازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبرجان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں
سینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایتسوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں
آئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گےمطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں
بے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میںآتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں
سیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورتہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں
ہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہاک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں
اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوےرہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں
عالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہوگااسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہادل کے جانے کا نہایت غم رہا
حسن تھا تیرا بہت عالم فریبخط کے آنے پر بھی اک عالم رہا
دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلکقطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا
سنتے ہیں لیلیٰ کے خیمے کو سیاہاس میں مجنوں کا مگر ماتم رہا
جامۂ احرام زاہد پر نہ جاتھا حرم میں لیک نامحرم رہا
زلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظرعمر بھر یاں کام دل برہم رہا
اس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہےاپنے حق میں آب حیواں سم رہا
میرے رونے کی حقیقت جس میں تھیایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
صبح پیری شام ہونے آئی میرؔتو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہتدل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیےہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹکہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھےپر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے توروویں گے سونے کو ہم سایے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتابرشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تمہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہوایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
عشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہےلطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہےدشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہےداد بیداد رہو شب کو کہ فریاد رہو
میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارےاس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کاحیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیکشیخ مے خانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حبابکاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھاآج دامن وسیع ہے اس کا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنےحال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کیعزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے مے خانےنگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھینہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیادگر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔپہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
بارہا گور دل جھنکا لایااب کے شرط وفا بجا لایا
قدر رکھتی نہ تھی متاع دلسارے عالم میں میں دکھا لایا
دل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیشایک عالم کے سر بلا لایا
سب پہ جس بار نے گرانی کیاس کو یہ ناتواں اٹھا لایا
دل مجھے اس گلی میں لے جا کراور بھی خاک میں ملا لایا
ابتدا ہی میں مر گئے سب یارعشق کی کون انتہا لایا
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔپھر ملیں گے اگر خدا لایا
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیںتو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تودل کو بے قرار رکھتے ہیں
غیر ہی مورد عنایت ہےہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں
نہ نگہ نے پیام نے وعدہنام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں
ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تولب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں
چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہوربس یہی اعتبار رکھتے ہیں
پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشقہیں جواں اختیار رکھتے ہیں
آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاںمہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں
یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیںیعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں
حاصل ہے کیا سواے ترائی کے دہر میںاٹھ آسماں تلے سے کہ شبنم بہت ہے یاں
مائل بہ غیر ہونا تجھ ابرو کا عیب ہےتھی زور یہ کماں ولے خم چم بہت ہے یاں
ہم رہروان راہ فنا دیر رہ چکےوقفہ بسان صبح کوئی دم بہت ہے یاں
اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوالآدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہے یاں
عالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہےہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں
ویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئیرنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں
اعجاز عیسوی سے نہیں بحث عشق میںتیری ہی بات جان مجسم بہت ہے یاں
میرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمہیںتم شاد زندگانی کرو غم بہت ہے یاں
دل مت لگا رخ عرق آلود یار سےآئینے کو اٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں
شاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میرؔاحوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشقحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق
دل لگا ہو تو جی جہاں سے اٹھاموت کا نام پیار کا ہے عشق
اور تدبیر کو نہیں کچھ دخلعشق کے درد کی دوا ہے عشق
کیا ڈبایا محیط میں غم کےہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق
عشق سے جا نہیں کوئی خالیدل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق
کوہ کن کیا پہاڑ کاٹے گاپردے میں زور آزما ہے عشق
عشق ہے عشق کرنے والوں کوکیسا کیسا بہم کیا ہے عشق
کون مقصد کو عشق بن پہنچاآرزو عشق مدعا ہے عشق
میرؔ مرنا پڑے ہے خوباں پرعشق مت کر کہ بد بلا ہے عشق
عمر بھر ہم رہے شرابی سےدل پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھا جائے ہے سحر سے آہرات گزرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہےاس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
برقعہ اٹھتے ہی چاند سا نکلاداغ ہوں اس کی بے حجابی سے
کام تھے عشق میں بہت پر میرؔہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوںجسے ابر ہر سال روتا رہے گا
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصحتو کب تک مرے منہ کو دھوتا رہے گا
بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیںکہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہےجرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا
تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دےہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا
بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کوتو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا
آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آجشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج
واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملےکھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج
جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیںہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج
ساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج
تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میرؔپر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہےعرش پر برچھیاں چلاتی ہے
ناز بردار لب ہے جاں جب سےتیرے خط کی خبر کو پاتی ہے
اے شب ہجر راست کہہ تجھ کوبات کچھ صبح کی بھی آتی ہے
چشم بددور چشم تر اے میرؔآنکھیں طوفان کو دکھاتی ہے
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیںاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھےجس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارےدیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سےیا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہشاب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کروے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہےبرسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیںجب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیںاپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارااس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانےاہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارےناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھےاس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کاراہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباںبد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کامجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہجی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
اب جو اک حسرت جوانی ہےعمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
رشک یوسف ہے آہ وقت عزیزعمر اک بار کاروانی ہے
گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچدل میں کوئی غم نہانی ہے
ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہتا چمن ایک پرفشانی ہے
اس کی شمشیر تیز ہے ہمدممر رہیں گے جو زندگانی ہے
غم و رنج و الم نکو یاں سےسب تمہاری ہی مہربانی ہے
خاک تھی موجزن جہاں میں اورہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے
یاں ہوئے میرؔ تم برابر خاکواں وہی ناز و سرگرانی ہے
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعدابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد
جینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے نا سمجھکھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد
شمع مزار اور یہ سوز جگر مراہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد
حسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاساغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد
کرتا ہوں میں جو نالے سرانجام باغ میںمنہ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد
بن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیوصحن چمن میں اے پر پرواز میرے بعد
بیٹھا ہوں میرؔ مرنے کو اپنے میں مستعدپیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہےپات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیںآگے ہو مے خانے کے نکلو عہد بادہ گساراں ہے
عشق کے میداں داروں میں بھی مرنے کا ہے وصف بہتیعنی مصیبت ایسی اٹھانا کار کار گزاراں ہے
دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئےلوہو پانی ایک کرے یہ عشق لالہ عذاراں ہے
کوہ کن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئےعشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاس عزت داراں ہے
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہےرومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے
آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سےخورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے
آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سےآنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے
ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سےاب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے
آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کیپر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنےخون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کوتب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے
آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گےبرسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے
میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کرکوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئیآخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی
عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبحدن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی
لوح سینہ پر مری سو نیزۂ خطی لگےخستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی
کھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیںدید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی
پاؤں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیںرفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی
مر گیا آوارہ ہو کر میں تو جیسے گرد بادپر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی
شاد و خوش طالع کوئی ہوگا کسو کو چاہ کرمیں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی
دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوںگزرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی
شوق دل ہم نا توانوں کا لکھا جاتا ہے کباب تلک آپ ہی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی
کیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کاجان سے جب اس میں گزرے تب ہمیں راحت ہوئی
یوں تو ہم عاجز ترین خلق عالم ہیں ولےدیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی
گوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہواکس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی
بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گےمعرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی
ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہلچاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی
اس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھاپھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی
کم کسو کو میرؔ کی میت کی ہاتھ آئی نمازنعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی
عام حکم شراب کرتا ہوںمحتسب کو کباب کرتا ہوں
ٹک تو رہ اے بنائے ہستی توتجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں
بحث کرتا ہوں ہو کے ابجد خواںکس قدر بے حساب کرتا ہوں
کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبثتشنگی پر عتاب کرتا ہوں
سر تلک آب تیغ میں ہوں غرقاب تئیں آب آب کرتا ہوں
جی میں پھرتا ہے میرؔ وہ میرےجاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گاپڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کیصحبت میں علما فضلا کی جا کر پڑھیے گنیے گا
دل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کیآگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا
گرم اشعار میرؔ درونہ داغوں سے یہ بھر دیں گےزرد رو شہر میں پھریے گا گلیوں میں نے گل چنیے گا
کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئیشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھےجو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
مغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پرسو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی
گل بار کرے ہے گا اسباب سفر شایدغنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی
اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یاروکچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیااس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ باد صبح کہ آ کر اٹھا دیااس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا
پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آجبے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہپانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نےدونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شور ما و من کو لیے سر میں مر گئےیاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاںمشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہہ گئےآخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ تالا جو تھے درستہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کااس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلکجلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاںدل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا
بوئی کباب سوختہ آئی دماغ میںشاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا
تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کیدرد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میرؔہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھاپیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیںمعلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیمیک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پرتوے بغیرکیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوادیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیااس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبرمیں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیاجی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا
عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیادل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا
کس کس اپنی کل کو رووے ہجراں میں بے کل اس کاخواب گئی ہے تاب گئی ہے چین گیا آرام گیا
آیا یاں سے جانا ہی تو جی کا چھپانا کیا حاصلآج گیا یا کل جاوے گا صبح گیا یا شام گیا
ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھےاب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا
گالی جھڑکی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیںلطف گیا احسان گیا انعام گیا اکرام گیا
لکھنا کہنا ترک ہوا تھا آپس میں تو مدت سےاب جو قرار کیا ہے دل سے خط بھی گیا پیغام گیا
نالۂ میرؔ سواد میں ہم تک دوشیں شب سے نہیں آیاشاید شہر سے اس ظالم کے عاشق وہ بدنام گیا
برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتےکہ ہم راہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کووگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہمغبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے
الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خواہشہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے
تو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوںترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے
اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچےجو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے
کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میرؔ کیا جانیںانہیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنیسو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میںہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیںان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کےگوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہےنے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
ایک دم تھی نمود بود اپنییا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
یعنی مانند صبح دنیا میںہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سےمیرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوےاس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالمیہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے
مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخدیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے
کیا جانیں وے مرغان گرفتار چمن کوجن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے
تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہکس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے
ہر سو سر تسلیم رکھے صید حرم ہیںوہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے
دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقتاب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے
واعظ نہیں کیفیت مے خانہ سے آگاہیک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے
صناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھیہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے
اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سر راہ پہ زنہارکہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے
مت دشت محبت میں قدم رکھ کہ خضر کوہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیااس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا
کاو کاو مژۂ یار و دل زار و نزارگتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا
وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہاہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا
گرم رو راہ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگاس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا
پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاسبے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا
خاک تک کوچۂ دل دار کی چھانی ہم نےجستجو کی پہ دل گم شدہ پایا نہ گیا
آتش تیز جدائی میں یکایک اس بندل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا
مہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسےپھر وہ تا صبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا
زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیساسر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا
جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجےدرد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سےکرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے
پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دورکر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے
ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھاکوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے
مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلےجی اپنا کیوں کہ اچٹے نہ روزے نماز سے
کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تماموہ دیکھنا ترا مژۂ نیم باز سے
دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشقپرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے
آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشتکرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے
مانع ہوں کیوں کہ گریۂ خونیں کے عشق میںہے ربط خاص چشم کو افشائے راز سے
شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میرؔکھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیاقسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناکمژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سےواعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوشآیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیارویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا
احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحمجس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا
منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئےشب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا
بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعدسو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد
جدائی کے حالات میں کیا کہوںقیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد
موا کوہ کن بے ستوں کھود کریہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد
لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تویہ گرمی تری اس شرارت کے بعد
کہے کو ہمارے کب ان نے سناکوئی بات مانی سو منت کے بعد
سخن کی نہ تکلیف ہم سے کرولہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد
نظر میرؔ نے کیسی حسرت سے کیبہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد
آگے جمال یار کے معذور ہو گیاگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا
اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہجوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تبدروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا
پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبولجو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہو گیا
دیکھا یہ ناؤ نوش کہ نیش فراق سےسینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا
اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہاب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا
شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹمیری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا
لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہواجب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا
دیکھا جو میں نے یار تو وہ میرؔ ہی نہیںتیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیاجمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کربرنگ سبزۂ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقیسو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدمنہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کوچمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلفکسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نےجو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
امیروں تک رسائی ہو چکی بسمری بخت آزمائی ہو چکی بس
بہار اب کے بھی جو گزری قفس میںتو پھر اپنی رہائی ہو چکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شببہت باہم لڑائی ہو چکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سےیہیں تک آشنائی ہو چکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگیغموں کی اب سمائی ہو چکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایافلک بس بے ادائی ہو چکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولتہمارے ہاتھ آئی ہو چکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایاتری قدرت نمائی ہو چکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمرجہاں دے ٹک دکھائی ہو چکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میرؔتمہاری میرزائی ہو چکی بس
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلاآ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغہو سکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوںبیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پر کالے سے رکھے چشم تبجب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کیکاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیابجھ ہی جاتے ہیں دیئے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سےدوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔدے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا
ہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جاناخاتم کو سلیماں کی انگشتر پا جانا
یہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارےمنہ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا
کب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئیجانے ہے خدا اس کو میں تجھ کو خدا جانا
تھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھیآخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا
گردن کشی کیا حاصل مانند بگولے کیاس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جانا
اس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہےاچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کوعاشق کے حقوق آ کر ناحق بھی مٹا جانا
ڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمہارا تھاجاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا
اس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سےاک زخم زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا
اے شور قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویںاس راہ سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا
کیا پانی کے مول آ کر مالک نے گہر بیچاہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا
ہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سیکب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا
جاتی ہے گزر جی پر اس وقت قیامت سییاد آوے ہے جب تیرا یکبارگی آ جانا
برسوں سے مرے اس کی رہتی ہے یہی صحبتتیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا
کب میرؔ بسر آئے تم ویسے فریبی سےدل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا
ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشادیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا
ہر چند شور محشر اب بھی ہے در پہ لیکننکلے گا یار گھر سے ہووے گا جب تماشا
بھڑکے ہے آتش غم منظور ہے جو تجھ کوجلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا
طالع جو میرؔ خواری محبوب کو خوش آئیپرغم یہ ہے مخالف دیکھیں گے سب تماشا
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئےاکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے
ہوتا نہیں ہے اس لب نوخط پہ کوئی سبزعیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے
یوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہسر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے
صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیںگویا متاع دل کے خریدار مر گئے
مجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میںتھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے
گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیرتو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے
افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میںلگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے
تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلاجب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے
گھبرا نہ میرؔ عشق میں اس سہل زیست پرجب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے
اب نہیں سینے میں میرے جائے داغسوز دل سے داغ ہے بالائے داغ
دل جلا آنکھیں جلیں جی جل گیاعشق نے کیا کیا ہمیں دکھلائے داغ
دل جگر جل کر ہوئے ہیں دونوں ایکدرمیاں آیا ہے جب سے پائے داغ
منفعل ہیں لالہ و شمع و چراغہم نے بھی کیا عاشقی میں کھائے داغ
وہ نہیں اب میرؔ جو چھاتی جلےکھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی باتپر ہم سے تو تھنبے نہ کبھو منہ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کرتس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سےرفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیکوہ آ گیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشناواں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرےپوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھےکچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شبیہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقارسو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کروجاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواںافراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہتمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غشدرد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار ماردلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کاظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
میرؔ گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہےجب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
دل بیتاب آفت ہے بلا ہےجگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے
ہمارا تو ہے اصل مدعا توخدا جانے ترا کیا مدعا ہے
محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاسہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے
حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیباگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے
نہیں ملتا سخن اپنا کسو سےہمارا گفتگو کا ڈھب جدا ہے
کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھرفضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جاؤں جیتایہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
صبا اودھر گل اودھر سرو اودھراسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے
تماشا کردنی ہے داغ سینہیہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے
ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیںقیامت جیسے اک اس کی ادا ہے
جگہ افسوس کی ہے بعد چندےابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے
جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تمکہو جو کچھ تمہارا مدعا ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوںبس اب منہ موند لے میں نے سنا ہے
کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالماگرچہ یار عالم آشنا ہے
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہرپہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولاتمہارا میرؔ صاحب سرپھرا ہے
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شبمجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیںیعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تککی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کیتھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بیٹھے ہی گزری وعدے کی شب وہ نہ آ پھراایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
سناہٹے سے دل سے گزر جائیں سو کہاںبلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کےدیتے رہے ہیں میرؔ دکھائی تمام شب
تا بہ مقدور انتظار کیادل نے اب زور بے قرار کیا
دشمنی ہم سے کی زمانے نےکہ جفاکار تجھ سا یار کیا
یہ توہم کا کارخانہ ہےیاں وہی ہے جو اعتبار کیا
ایک ناوک نے اس کی مژگاں کےطائر سدرہ تک شکار کیا
صد رگ جاں کو تاب دے باہمتیری زلفوں کا ایک تار کیا
ہم فقیروں سے بے ادائی کیاآن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
سخت کافر تھا جن نے پہلے میرؔمذہب عشق اختیار کیا
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفعکڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع
کب تلک ان بتوں سے چشم رہےہو رہے گا بس اب خدا سے نفع
میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع
مغتنم جان گر کسو کے تئیںپہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع
اب فقیروں سے کہہ حقیقت دلمیرؔ شاید کہ ہو دعا سے نفع
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گااے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یارسر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہروان راہ فنا ہیں برنگ عمرجاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دلتو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھردیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاکپھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
ہم بے خود ان محفل تصویر اب گئےآئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کنسنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کرپر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آنادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
آج کل بے قرار ہیں ہم بھیبیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی
آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیںتحفۂ روزگار ہیں ہم بھی
منا گریہ نہ کر تو اے ناصحاس میں بے اختیار ہیں ہم بھی
درپئے جان ہے قراول مرگکسو کے تو شکار ہیں ہم بھی
نالے کریو سمجھ کے اے بلبلباغ میں یک کنار ہیں ہم بھی
مدعی کو شراب ہم کو زہرعاقبت دوست دار ہیں ہم بھی
مضطرب گریہ ناک ہے یہ گلبرق ابر بہار ہیں ہم بھی
گر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیکاپنے تو یادگار ہیں ہم بھی
میرؔ نام اک جواں سنا ہوگااسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلےآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیںکچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجلاے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پرکیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کرجاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکےپچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
یا رب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرےتسکین دے کہ بیٹھ رہوں پاؤں گاڑ کر
منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہےآئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر
غالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کوتنکے کو جو دکھاوے ہے پل میں پہاڑ کر
نکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سےکچھ ڈھیر کر چکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر
اس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میرؔبہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر
کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کیدھوم ہے پھر بہار آنے کی
دل کا اس کنج لب سے دے ہے نشاںبات لگتی تو ہے ٹھکانے کی
وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دورہے یہ تقریب جی کے جانے کی
تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوقتھی خبر گرم اس کے آنے کی
خضر اس خط سبز پر تو موادھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی
دل صد چاک باب زلف ہے لیکباؤ سی بندھ رہی ہے شانے کی
کسو کم ظرف نے لگائی آہتجھ سے مے خانے کے جلانے کی
ورنہ اے شیخ شہر واجب تھیجام داری شراب خانے کی
جو ہے سو پائمال غم ہے میرؔچال بے ڈول ہے زمانے کی
گل کو محبوب ہم قیاس کیافرق نکلا بہت جو پاس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بنشوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانےقیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکےضعف نے ہم کو مورطاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہیکیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیںسو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباںمیرؔ کو تم عبث اداس کیا
بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہےدکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے
اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیںہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہو رہا ہے
اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنیآئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے
گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہےیعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے
حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا توسنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہو رہا ہے
ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہیایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہو رہا ہے
قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سودشوار جان دینا آسان ہو رہا ہے
ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تماک روز میرؔ صاحب طوفان ہو رہا ہے
آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھیدیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی
بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائےایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی
کب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھادل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی
وہ اور کوئی ہوگی سحر جب ہوئی قبولشرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہ تھی
آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنجلیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی
دیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہتلیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی
آئی پری سی پردۂ مینا سے جام تکآنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی
اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقفمخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی
پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میرؔتن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی
مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیاجیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا
دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوںخود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوںمانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا
جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میںیک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا
وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سےجوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا
جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہتمیں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا
دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسےپھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا
بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔصف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا
عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایااس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہعالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا
غیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دست نگاریںکب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا
جاتی ہے نظر خس پہ گہہ چشم پریدنیاں ہم نے پر کاہ بھی بے کار نہ پایا
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزریمجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا
سوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سےکس دل کے طرح تیر نگہ پار نہ پایا
مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہلاس باغ میں ہم نے گل بے خار نہ پایا
دم بعد جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنیجامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا
آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہمپر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا
وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو میرؔخوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا
یار نے ہم سے بے ادائی کیوصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھاب توقع نہیں رہائی کی
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئیمیں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سبدھوم ہے اس کی رہ گرائی کی
خندۂ یار سے طرف ہو کربرق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میںدیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچاشب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منہ لگایا نہ دختر رز کومیں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچےعمر نے سخت بے وفائی کی
کوہ کن کیا پہاڑ توڑے گاعشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہےدیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارےساحری کی کہ دل ربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئیبرسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
میرؔ کی بندگی میں جاں بازیسیر سی ہو گئی خدائی کی
آہ اور اشک ہی سدا ہے یاںروز برسات کی ہوا ہے یاں
جس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھکہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں
گو کدورت سے وہ نہ دیوے روآرسی کی طرح صفا ہے یاں
ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھرایسا کہ تم نے آ نکلا ہے یاں
رند مفلس جگر میں آہ نہیںجان محزوں ہے اور کیا ہے یاں
کیسے کیسے مکان ہیں ستھرےاک ازاں جملہ کربلا ہے یاں
اک سسکتا ہے ایک مرتا ہےہر طرف ظلم ہو رہا ہے یاں
صد تمنا شہید ہیں یکجاسینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں
دیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخروز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں
خانۂ عاشقاں ہے جاے خوبجائے رونے کی جا بہ جا ہے یاں
کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باشآج تک کوئی بھی رہا ہے یاں
ہے خبر شرط میرؔ سنتا ہےتجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں
موت مجنوں کو بھی یہیں آئیکوہ کن کل ہی مر گیا ہے یاں
ہو گئی شہر شہر رسوائیاے مری موت تو بھلی آئی
یک بیاباں برنگ صوت جرسمجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی
نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاشاس کی تصویر وہ ہے ہرجائی
سر رکھوں اس کے پاؤں پر لیکندست قدرت یہ میں کہاں پائی
میرؔ جب سے گیا ہے دل تب سےمیں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
شاید اس سادہ نے رکھا ہے خطکہ ہمیں متصل لکھا ہے خط
شوق سے بات بڑھ گئی تھی بہتدفتر اس کو لکھیں ہیں کیا ہے خط
نامہ کب یار نے پڑھا سارانہ کہا یہ بھی آشنا ہے خط
ساتھ ہم بھی گئے ہیں دور تلکجب ادھر کے تئیں چلا ہے خط
کچھ خلل راہ میں ہوا اے میرؔنامہ بر کب سے لے گیا ہے خط
غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیںکہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں
زباں سے ہماری ہے صیاد خوشہمیں اب امید رہائی نہیں
کتابت گئی کب کہ اس شوخ نےبنا اس کی گڈی اڑائی نہیں
نسیم آئی میرے قفس میں عبثگلستاں سے دو پھول لائی نہیں
مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہےگل تر سے کچھ آشنائی نہیں
نوشتے کی خوبی لکھی کب گئیکتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں
جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکہ یہکنایہ نہیں بے ادائی نہیں
گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگاہمارے تمہارے جدائی نہیں
سیہ طالعی میری ظاہر ہے ابنہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں
رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیںساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں
شمع ہی سر نہ دے گئی بربادکشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں
ہم کو مجنوں کو عشق میں مت بوجھننگ اس خانداں کے ہم بھی ہیں
جس چمن زار کا ہے تو گل تربلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں
نہیں مجنوں سے دل قوی لیکنیار اس ناتواں کے ہم بھی ہیں
بوسہ مت دے کسو کے در پہ نسیمخاک اس آستاں کے ہم بھی ہیں
گو شب اس در سے دور پہروں پھریںپاس تو پاسباں کے ہم بھی ہیں
وجہ بیگانگی نہیں معلومتم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
مر گئے مر گئے نہیں تو نہیںخاک سے منہ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں
اپنا شیوہ نہیں کجی یوں تویار جی ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں
اس سرے کی ہے پارسائی میرؔمعتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیںنہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصدہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
گہے داغ رہتا ہے دل گا جگر خوںان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہمابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں
لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم توگہے کاغذ و گہہ قلم دیکھتے ہیں
وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھاب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں
کہاں تک بھلا روؤ گے میرؔ صاحباب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں
میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کیاللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیںخاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاجاپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینہ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نےاسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھاپر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کر کے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہےوہ نظر پاؤں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمہارا یہ غرور خوبیمنتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہاررقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگزشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھاسو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیئے لوگوں کوشہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمہاری تلوارکیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہےدردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصلحیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہاآخر اب دوری میں جی جاتا رہا
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیںچہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا
دل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیلمیں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا
منہ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیںچاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا
کچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میںدیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا
داغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساںپاؤں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا
کیسے کیسے رک گئے ہیں میرؔ ہممدتوں منہ تک جگر آتا رہا
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہےہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
مصائب اور تھے پر دل کا جاناعجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
مقامر خانۂ آفاق وہ ہےکہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے
کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیشمزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے
سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولوابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھےدل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہکتنے آنسو پلک تک آئے تھے
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے توزخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیںیاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نےکس توقع پہ دل لگائے تھے
فرصت زندگی سے مت پوچھوسانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
میرؔ صاحب رلا گئے سب کوکل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگاتو جینا ہمیں اپنا دشوار ہوگا
غم ہجر رکھے گا بے تاب دل کوہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہوگا
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشقکوئی دن میں برسوں کا بیمار ہوگا
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گیکبھو تو تہ دل سے بھی یار ہوگا
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جاناکہ اس سنگ دل سے ہمیں پیار ہوگا
لگا کرنے ہجران سختی سے سختیخدا جانے کیا آخر کار ہوگا
یہی ہوگا کیا ہوگا میرؔ ہی نہ ہوں گےجو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا
دل جو زیر غبار اکثر تھاکچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا
اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکنرات دن ہم تھے اور بستر تھا
سرسری تم جہاں سے گزرےورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تمیہ ہمارا بھی ناز پرور تھا
بعد یک عمر جو ہوا معلومدل اس آئینہ رو کا پتھر تھا
بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغکب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا
کیوں نہ ابر سیہ سفید ہواجب تلک عہد دیدۂ تر تھا
اب خرابہ ہوا جہان آبادورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا
بے زری کا نہ کر گلا غافلرہ تسلی کہ یوں مقدر تھا
اتنے منعم جہان میں گزرےوقت رحلت کے کس کنے زر تھا
صاحب جاہ و شوکت و اقبالاک ازاں جملہ اب سکندر تھا
تھی یہ سب کائنات زیر نگیںساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا
لعل و یاقوت ہم زر و گوہرچاہیے جس قدر میسر تھا
آخر کار جب جہاں سے گیاہاتھ خالی کفن سے باہر تھا
عیب طول کلام مت کریوکیا کروں میں سخن سے خوگر تھا
خوش رہا جب تلک رہا جیتامیرؔ معلوم ہے قلندر تھا
پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیےاب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سوئیے
رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہمآتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے
اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میںبے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھوئیے
کس طور آنسوؤں میں نہاتے ہیں غم کشاںاس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبوئیے
مطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طورہم مارتے پھرے ہیں یو نہیں ٹپے ٹویئے
اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہتکب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
آلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میرؔآب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھوئیے
شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہےاس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے
سر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیافرہاد کے جہان سے جانے کو عشق ہے
اٹھیو سمجھ کے جا سے کہ مانند گرد بادآوارگی سے تیری زمانے کو عشق ہے
بس اے سپہر سعی سے تیری تو روز و شبیاں غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے
بیٹھی جو تیغ یار تو سب تجھ کو کھا گئیاے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے
اک دم میں تو نے پھونک دیا دو جہاں کے تیںاے عشق تیرے آگ لگانے کو عشق ہے
سودا ہو تب ہو میرؔ کو تو کریے کچھ علاجاس تیرے دیکھنے کے دوانے کو عشق ہے
رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میرینہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہاخبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاسہزار جائے گئی طبع بدگماں میری
وہ نقش پئے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میںنہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہ رواں میری
شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پرکہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری
اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھاگئی یہ عمر عزیز آہ رائیگاں میری
ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کاگئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری
نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہکہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری
رہا میں در پس دیوار باغ مدت لیکگئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری
ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیرنہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری
دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میرؔپڑی جہان میں جا کر نظر جہاں میری
کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیاقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا
بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پرجو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا
کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیںکھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا
مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیںایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا
میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغجب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگادشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا
اب اشک حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاںوہ تجھ کف رنگیں کا مارا نہ ہوا ہوگا
ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میںان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا
بے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواریامروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا
ہے قاعدہ کلی یہ کوئے محبت میںدل غم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا
اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعمیک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا
آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووےجو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا
جز مرتبۂ کل کو حاصل کرے ہے آخریک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہوگا
صد نشتر مژگاں کے لگنے سے نہ نکلا خوںآگے تجھے میرؔ ایسا سودا نہ ہوا ہوگا
بزم میں جو ترا ظہور نہیںشمع روشن کے منہ پہ نور نہیں
کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایکیاد رہتی ترے حضور نہیں
خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیںاتنا بھی تو میں بے شعور نہیں
قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہےلازم اس کام میں مرور نہیں
فکر مت کر ہمارے جینے کاتیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں
پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخشایسا جینا ہمیں ضرور نہیں
عام ہے یار کی تجلی میرؔخاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھوآرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو
عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہےآہ تم بھی تو اک نظر دیکھو
یوں عرق جلوہ گر ہے اس منہ پرجس طرح اوس پھول پر دیکھو
ہر خراش جبیں جراحت ہےناخن شوق کا ہنر دیکھو
تھی ہمیں آرزو لب خنداںسو عوض اس کے چشم تر دیکھو
رنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہےایک شب اور یاں سحر دیکھو
دل ہوا ہے طرف محبت کاخون کے قطرے کا جگر دیکھو
پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کےیعنی جاتے ہیں دور اگر دیکھو
لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔدیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو
کوفت سے جان لب پہ آئی ہےہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفترشوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کیکیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کیکیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لبیعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دورکس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہ کن کیساعشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہےدلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہمواں وہی ناز و خود نمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندۂ جاویدرفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔکیا دوانے نے موت پائی ہے
کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ
جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہاکی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہرمنہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاںشعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ
جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسنپڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ
عاشقی و بے کسی و رفتگیجی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ
جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شبوہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ
اس کے آتش ناک رخساروں بغیرلوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ
بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یارپھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ
یارو مت اس کا فریب مہر کھاؤمیرؔ بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ
جس جگہ دور جام ہوتا ہےواں یہ عاجز مدام ہوتا ہے
ہم تو اک حرف کے نہیں ممنونکیسا خط و پیام ہوتا ہے
تیغ ناکاموں پہ نہ ہر دم کھینچاک کرشمے میں کام ہوتا ہے
پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاشروز ان کا بھی شام ہوتا ہے
زخم بن غم بن اور غصہ بناپنا کھانا حرام ہوتا ہے
شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطانجس پہ شب احتلام ہوتا ہے
قتل کو میں کہا تو اٹھ بولاآج کل صبح و شام ہوتا ہے
آخر آؤں گا نعش پر اب آہکہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے پرجیسے کوئی غلام ہوتا ہے
جو دیکھو مرے شعر تر کی طرفتو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف
کوئی داد دل آہ کس سے کرےہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف
محبت نے شاید کہ دی دل کو آگدھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف
لگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھراک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف
بہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھوہماری طرف سے سحر کی طرف
بہ خود کس کو اس تاب رخ نے رکھاکرے کون شمس و قمر کی طرف
نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کرہوا تھا مری چشم تر کی طرف
ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصلنہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
مناسب نہیں حال عاشق سے صبررکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف
کسے منزل دل کش دہر میںنہیں میل خاطر سفر کی طرف
رگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میرؔگئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف
دل گئے آفت آئی جانوں پریہ فسانہ رہا زبانوں پر
عشق میں ہوش و صبر سنتے تھےرکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر
گرچہ انسان ہیں زمیں سے ولےہیں دماغ ان کے آسمانوں پر
شہر کے شوخ سادہ رو لڑکےظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر
عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلندسیر رہتی ہے ان مکانوں پر
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاعبھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر
لوگ سر دینے جاتے ہیں کب سےیار کے پاؤں کے نشانوں پر
کجی اوباش کی ہے وہ دربندڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر
کوئی بولا نہ قتل میں میرےمہر کی تھی مگر دہانوں پر
یاد میں اس کے ساق سیمیں کیدے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر
تھے زمانے میں خرچی جن کی روپےپھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر
غم و غصہ ہے حصے میں میرےاب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر
قصے دنیا میں میرؔ بہت سنےنہ رکھو گوش ان فسانوں پر
چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیادیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا
دہر میں میں خاک بسر ہی رہاعمر کو اس طور بسر کر گیا
دل نہیں ہے منزل سینہ میں ابیاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا
حیف جو وہ نسخۂ دل کے اپرسرسری سی ایک نظر کر گیا
کس کو مرے حال سے تھی آگہینالۂ شب سب کو خبر کر گیا
گو نہ چلا تا مژۂ تیر نگہاپنے جگر سے تو گزر کر گیا
مجلس آفاق میں پروانہ ساںمیرؔ بھی شام اپنی سحر کر گیا
چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبتمایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت
امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزادمر جائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت
تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرمتھا دشمن جانی مرا اقرار محبت
ہر جنس کے خواہاں ملے بازار جہاں میںلیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت
اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرازنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت
ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشقٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت
کچھ مست ہیں ہم دیدۂ پر خون جگر سےآیا یہی ہے ساغر سرشار محبت
بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگزیہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت
مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقلہر سر نہیں اے میرؔ سزاوار محبت
گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سےیہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے
وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاںمرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کےیہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے
پشیمان توبہ سے ہوگا عدم میںکہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے
نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میںکدورت مجھے ہے نہایت صبا سے
جگر سوئی مژگاں کھنچا جائے ہے کچھمگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہےتعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے
طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھاہوا درد عشق آہ دونا دوا سے
ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کرکہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایتکہو میرؔ جی آج کیوں ہو خفا سے
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھاآیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی تپشکوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشقجس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
دیکھا ہے صید گا میں ترے صید کا جگربا آنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا
دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیفیہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا
مت کر عجب جو میرؔ ترے غم میں مر گیاجینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا
کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گاجیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا
یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبتزخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا
تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہےجی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا
میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہیآیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا
غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سےبھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا
مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کیگو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا
عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزریبیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا
دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کربیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا
کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہےقید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا
جو کہو تم سو ہے بجا صاحبہم برے ہی سہی بھلا صاحب
سادہ ذہنی میں نکتہ چیں تھے تماب تو ہیں حرف آشنا صاحب
نہ دیا رحم ٹک بتوں کے تئیںکیا کیا ہائے یہ خدا صاحب
بندگی ایک اپنی کیا کم ہےاور کچھ تم سے کہیے کیا صاحب
مہر افزا ہے منہ تمہارا ہیکچھ غضب تو نہیں ہوا صاحب
خط کے پھٹنے کا تم سے کیا شکوہاپنے طالع کا یہ لکھا صاحب
پھر گئیں آنکھیں تم نہ آن پھرےدیکھا تم کو بھی واہ وا صاحب
شوق رخ یاد لب غم دیدارجی میں کیا کیا مرے رہا صاحب
بھول جانا نہیں غلام کا خوبیاد خاطر رہے مرا صاحب
کن نے سن شعر میرؔ یہ نہ کہاکہیو پھر ہائے کیا کہا صاحب
کیا کروں شرح خستہ جانی کیمیں نے مر مر کے زندگانی کی
حال بد گفتنی نہیں میراتم نے پوچھا تو مہربانی کی
سب کو جانا ہے یوں تو پر اے صبرآتی ہے اک تری جوانی کی
تشنہ لب مر گئے ترے عاشقنہ ملی ایک بوند پانی کی
بیت بحثی سمجھ کے کر بلبلدھوم ہے میری خوش زبانی کی
جس سے کھوئی تھی نیند میرؔ نے کلابتدا پھر وہی کہانی کی
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیاکہ کارواں کا کنعاں کے جی نکال لیا
رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بل ہم بھیشکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نےگلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا
بتاں کی میرؔ ستم وہ نگاہ ہے جس نےخدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کےبو گئی کچھ دماغ میں گل کے
جائے روغن دیا کرے ہے عشقخون بلبل چراغ میں گل کے
دل تسلی نہیں صبا ورنہجلوے سب ہیں گے داغ میں گل کے
اس حدیقے کے عیش پر مت جامے نہیں ہے ایاغ میں گل کے
سیر کر میرؔ اس چمن کی شتابہے خزاں بھی سراغ میں گل کے
میرے سنگ مزار پر فرہادرکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملالجان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کربس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعمزندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیںکس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعدنہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیمخاک کس دل جلے کی برباد
بھولا جائے ہے غم بتاں میں جیغرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہنالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آوازباغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیںاپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبحجانا سو جائے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کایوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کیچاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میرؔتو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہوہ جلاتا پھرے چراغ مراد
نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیابس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تابشمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
ایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کیدیدۂ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا
گل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیممدتیں گزریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا
دور تجھ سے میرؔ نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخکل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا
تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارابوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
گر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میںدو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا
ہیں اس خراب دل سے مشہور شہر خوباںاس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا
مشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنایوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا
ادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائےان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا
ہم وے ہیں سن رکھو تم مر جائیں رک کے یکجاکیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا
ہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکےکہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا
کرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہددیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا
خورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گایعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا
ماہیت دو عالم کھاتی پھرے ہے غوطےیک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا
نالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاںغافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا
کیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدسروح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوےگھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا
جی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھکس منہ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا
بنجر زمین دل کی ہے میرؔ ملک اپنیپر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوایا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا
ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بارمیں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا
خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوںدل دے کے اس کے ہاتھ بکا تو کیا ہوا
اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئےاس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا
مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاددل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا
میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یادظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا
کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوںظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا
وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیامناصح جو تو نے جامہ سلایا تو کیا ہوا
جیتے تو میرؔ ان نے مجھے داغ ہی رکھاپھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کوہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
شوق ہی شوق ہے نہیں معلوماس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو
خط سے نکلے ہے بے وفائی حسناس قدر تو سواد ہے ہم کو
آہ کس ڈھب سے روئیے کم کمشوق حد سے زیاد ہے ہم کو
شیخ و پیر مغاں کی خدمت میںدل سے اک اعتقاد ہے ہم کو
سادگی دیکھ عشق میں اس کےخواہش جان شاد ہے ہم کو
بد گمانی ہے جس سے تس سے آہقصد شور و فساد ہے ہم کو
دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیںاور سب سے عناد ہے ہم کو
نامرادانہ زیست کرتا تھامیرؔ کا طور یاد ہے ہم کو
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوںاک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہرمیں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پرصد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
پنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبحمیں شانہ صفت سایۂ رو زلف بتاں ہوں
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرامیں باعث آشفتگیٔ طبع جہال ہوں
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کیمیں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سےاس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاںدرپئے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
اک وہم نہیں بیش مری ہستئ موہوماس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
خوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میرؔاسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
سحر گہہ عید میں دور سبو تھاپر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
غلط تھا آپ سے غافل گزرنانہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغکہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا
گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیاجدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا
کرو گے یاد باتیں تو کہو گےکہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا
جہاں پر ہے فسانے سے ہمارےدماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا
مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کاکہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا
کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھےکہ جھونکا باؤ کا کچھ مشکبو تھا
نہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکنغبار اک ناتواں سا کو بہ کو تھا
ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگاہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا
کیا ان نے نشے میں مجھ کو مارااتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا
دھوکا ہے تمام بحر دنیادیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہوگا
آئی جو شکست آئینے پرروئے دل یار ادھر نہ ہوگا
دشنوں سے کسی کا اتنا ظالمٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا
اب دل کے تئیں دیا تو سمجھامحنت زدوں کے جگر نہ ہوگا
دنیا کی نہ کر تو خواست گاریاس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا
آ خانہ خرابی اپنی مت کرقحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا
ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھینالے میں مرے اثر نہ ہوگا
پھر نوحہ گری کہاں جہاں میںماتم زدہ میرؔ اگر نہ ہوگا
ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کیہم نے بھی طبع آزمائی کی
اس کے ایفائے عہد تک نہ جیےعمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہیشب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہےمنتیں ہیں شکستہ پائی کی
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیرآہ نے آہ نارسائی کی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگسہم نے دیدار کی گدائی کی
زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔکس بھروسے پر آشنائی کی
مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کےہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے
مرتا ہے کیوں تو ناحق یاری برادری پردنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تلک کے
کہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاریجاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے
لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کوہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
کل اک مژہ نچوڑے طوفان نوح آیافکر فشار میں ہوں میرؔ آج ہر پلک کے
کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہےدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے
رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پربارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے
ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جانعمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے
یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چالاور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے
روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوفعمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہیہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے
خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیںشیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے
ہے مؤذن جو بڑا مرغ مصلی اس کیمستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے
پاؤں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھیمرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے
ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میرؔیوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے
جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیںبھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں
تری گلی سے سدا اے کشندۂ عالمہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
گیا نظر سے جو وہ گرم طفل آتش بازہم اپنے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھیں
ترے وصال کے ہم شوق میں ہوں آوارہعزیز دوست سبھوں کی جدائیاں دیکھیں
ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایاجو دیکھیں ہم نے یہی خود نمائیاں دیکھیں
شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کیانہیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
بنی نہ اپنی تو اس جنگ جو سے ہرگز میرؔلڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہےاک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے
میں اور تو ہیں دونوں مجبور طور اپنےپیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے
روئے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یا ربسب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے
کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاںدل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے
حسن ان بھی معینوں کا تھا آپ ہی صورتوں میںاس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے
شادی سے غم جہاں میں وہ چند ہم نے پایاہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے
ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکنہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے
ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے
نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساںجی ڈوبتا ہے اس کا جو تہہ سے آشنا ہے
مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبرجس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے
تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کرجوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے
ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکنجس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے
پھرتے ہو میرؔ صاحب سب سے جدے جدے تمشاید کہیں تمہارا دل ان دنوں لگا ہے
دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئیصحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی
واشد کچھ آگے آہ سی ہوتی تھی دل کے تئیںاقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی
گرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیاشاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی
خط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیئےصورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی
باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرمکاہے کو میرؔ کوئی دبے جب بگڑ گئی
یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھیہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہہم نے نہ رکھی منہ پر اے ابر آستیں بھی
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سےگزرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
ہوں اہتزار میں میں آئینہ رو شتاب آجاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلاپر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہےآگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشےآئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کاہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گےرنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
کس کس کا داغ دیکھیں یا رب غم بتاں میںرخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میرؔ ہوتےایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسارحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا
شاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نےنامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا
وحشی مزاج از بس مانوس بادیہ ہیںان کے جنوں میں جنگل اپنا ہوا ہے گھر سا
جس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہاس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا
سب پیچ کی یہ باتیں ہیں شاعروں کی ورنہباریک اور نازک مو کب ہے اس کمر سا
طرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کےکیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا
تم واقف طریق بے طاقتی نہیں ہویاں راہ دو قدم ہے اب دور کا سفر سا
کچھ بھی معاش ہے یہ کی ان نے ایک چشمکجب مدتوں ہمارا جی دیکھنے کو ترسا
ٹک ترک عشق کریے لاغر بہت ہوئے ہمآدھا نہیں رہا ہے اب جسم رنج فرسا
واعظ کو یہ جلن ہے شاید کہ فربہی سےرہتا ہے حوض ہی میں اکثر پڑا مگر سا
انداز سے ہے پیدا سب کچھ خبر ہے اس کوگو میرؔ بے سر و پا ظاہر ہے بے خبر سا
دل دماغ و جگر یہ سب اک بارکام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پرمر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنونہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیںدیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میںپر کہاں پائیے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشنغنچے ہو ہو رہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کیایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبلپہلے پیدا تو کر لب گفتار
شکر کر داغ دل کا اے غافلکس کو دیتے ہیں دیدۂ بے دار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سیعاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیماے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گےجو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوںکہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرےلاؤ میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پراک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگسیعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میرؔ صاحب زمانہ نازک ہےدونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیںاپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سبسب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیںیہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہےقدر ہفت آسماں ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہےنہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تمکہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارےلیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہاں ہے یک حرفہو مری جان آگے تم مختار
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرحکرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح
میں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیںمارے گئے ہیں سب یہ گنہ گار ایک طرح
منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاںکس سے ہوا دو چار وہ عیار ایک طرح
سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیںپر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح
گھر اس کے جا کے آتے ہیں پامال ہو کے ہمکریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح
گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بوآتا نہیں نظر وہ طرح دار ایک طرح
نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشناممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہاصحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح
سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہمتسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح
بن جی دئیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیںگر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میرؔ کوہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح
فلک کرنے کے قابل آسماں ہےکہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے
گئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گردہماری خاک کیا جانیں کہاں ہے
بہت نا مہرباں رہتا ہے یعنیہمارے حال پر کچھ مہرباں ہے
ہمیں جس جائے کل غش آ گیا تھاوہیں شاید کہ اس کا آستاں ہے
مژہ ہر اک ہے اس کی تیز ناوکخمیدہ بھوں جو ہے زوریں کماں ہے
اسے جب تک ہے تیر اندازی کا شوقزبونی پر مری خاطر نشاں ہے
چلی جاتی ہے دھڑکوں ہی میں جاں بھییہیں سے کہتے ہیں جاں کو رواں ہے
اسی کا دم بھرا کرتے رہیں گےبدن میں اپنے جب تک نیم جاں ہے
پڑا ہے پھول گھر میں کاہے کو میرؔجھمک ہے گل کی برق آشیاں ہے
لب ترے لعل ناب ہیں دونوںپر تمامی عتاب ہیں دونوں
رونا آنکھوں کا روئیے کب تکپھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں
ہے تکلف نقاب وے رخسارکیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں
تن کے معمورے میں یہی دل و چشمگھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں
کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سےجگر و دل کباب ہیں دونوں
سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیںجیسے مست شراب ہیں دونوں
پاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیںاب تو سرمست خواب ہیں دونوں
ایک سب آگ ایک سب پانیدیدہ و دل عذاب ہیں دونوں
بحث کاہے کو لعل و مرجاں سےاس کے لب ہی جواب ہیں دونوں
آگے دریا تھے دیدۂ تر میرؔاب جو دیکھو سراب ہیں دونوں
برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کادیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا
مت مانیو کہ ہوگا یہ بے درد اہل دیںگر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا
خوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتابہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا
ابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاںاس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا
کچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرودشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا
تسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگیمت پوچھ کچھ سلوک مرے بد زبان کا
یاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھولگل گشت سرسری نہیں اس گلستان کا
گل یادگار چہرۂ خوباں ہے بے خبرمرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا
تو برسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میرؔ سےیاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھجی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ
رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکےجیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنیکون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ
شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثالچشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ
راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتیجان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ
وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گزرےجن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ
ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نےدل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغدل کو اک ربط سا ہے دیدۂ خوں بار کے ساتھ
میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسیجیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ
دیکھیے کس کو شہادت سے سرافراز کریںلاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ
بیکلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبلدم کش میرؔ ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ
سخن مشتاق ہے عالم ہمارابہت عالم کرے گا غم ہمارا
پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھےرہے گا دیر تک ماتم ہمارا
نہیں ہے مرجع آدم اگر خاککدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
زمین و آسماں زیر و زبر ہےنہیں کم حشر سے اودھم ہمارا
کسو کے بال درہم دیکھتے میرؔہوا ہے کام دل برہم ہمارا
غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائےیہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے
ہے طرفہ مفتن نگہ اس آئنہ رو کیاک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے
نے بت کدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہجو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے
ہر صبح تو خورشید ترے منہ پہ چڑھے ہےایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے
یاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گلبرگٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے
ہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاںدامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے
گریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہراک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے
مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میںنالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے
اس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارےتو میرؔ وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے
کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئی چشمک انجمآنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکنہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھجو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میںکل میرے تصرف میں یہی قطعۂ زمیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کاجن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سےکل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا
لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شایدبگڑے تھے کچھ سنور گئے شاید
سب پریشاں دلی میں شب گزریبال اس کے بکھر گئے شاید
کچھ خبر ہوتی تو نہ ہوتی خبرصوفیاں بے خبر گئے شاید
ہیں مکان و سرا و جا خالییار سب کوچ کر گئے شاید
آنکھ آئینہ رو چھپاتے ہیںدل کو لے کر مکر گئے شاید
لوہو آنکھوں میں اب نہیں آتازخم اب دل کے بھر گئے شاید
اب کہیں جنگلوں میں ملتے نہیںحضرت خضر مر گئے شاید
بے کلی بھی قفس میں ہے دشوارکام سے بال و پر گئے شاید
شور بازار سے نہیں اٹھتارات کو میرؔ گھر گئے شاید
اے گل نو دمیدہ کے مانندہے تو کس آفریدہ کے مانند
ہم امید وفا پہ تیری ہوئےغنچۂ دیر چیدہ کے مانند
خاک کو میری سیر کر کے پھراوہ غزال رمیدہ کے مانند
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامالسبزۂ نو دمیدہ کے مانند
نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہونالہ تیغ کشیدہ کے مانند
ہم گرفتار حال ہیں اپنےطائر پر بریدہ کے مانند
دل تڑپتا ہے اشک خونیں میںصید در خوں تپیدہ کے مانند
تجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیںکب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیکبندۂ زر خریدہ کے مانند
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گلچھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پائے گل
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراشجی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگیہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہوائے گل
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاںبلبل ستم ہوا نہ جو تو نے بھی کھائے گل
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہےاے گل فروش کریو سمجھ کر بہائے گل
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہقابل درود بھیجنے کے ہے صفائے گل
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کوبستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہو چکیلے اے زباں دراز تو سب کچھ سوائے گل
گلچیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میرؔ کےلخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہائے گل
آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپامیں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا
تیرے کوچے میں مری خاک بھی پامال ہوئیتھا وہ بے درد مجھے جن نے وفا کو سونپا
اب تو جاتا ہی ہے کعبے کو تو بت خانے سےجلد پھر پہنچیو اے میرؔ خدا کو سونپا
پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیادل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا
کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوںگلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا
کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کشاس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا
انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حدروز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا
اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھوجل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا
افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلقکہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا
پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارےگزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا
آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پرتب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا
کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میرؔ جی کوکرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا
جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہترونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت
دست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتابے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت
ایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدامسر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت
دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانیہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت
رہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت
پھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہغالباً زیر زمیں میرؔ ہے آرام بہت
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گےخمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے
رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دمیہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے
ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباںجیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے
درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصتگوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے
آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھیترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے
کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہاس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے
عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامتتیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے
دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سےجنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے
لائی تری گلی تک آوارگی ہماریذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے
احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میںاک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے
اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہکیا پوچھتے ہو الحمدللہ
مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہےکتنا ہے مغرور اللہ اللہ
پیر مغاں سے بے اعتقادیاستغفر اللہ استغفر اللہ
کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گاہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ
حضرت سے اس کی جانا کہاں ہےاب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ
سب عقل کھوئے ہے راہ محبتہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ
مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہکس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ
کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیںاچھا رجھایا اے مہرباں آہ
گزرے ہے دیکھیں کیوں کر ہماریاس بے وفا سے نے رسم نے راہ
تھی خواہش دل رکھنا حمائلگردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ
اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقربہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ
ہے ماسوا کیا جو میرؔ کہیےآگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ
جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کیکیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ
ظاہر کہ باطن اول کہ آخراللہ اللہ اللہ اللہ
عشق میں نے خوف و خطر چاہیےجان کے دینے کو جگر چاہیے
قابل آغوش ستم دیدگاںاشک سا پاکیزہ گہر چاہیے
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سےاٹھتے پلک ایک پہر چاہیے
کم ہے شناسائے زر داغ دلاس کے پرکھنے کو نظر چاہیے
سینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاںواقعہ اک شام و سحر چاہیے
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوسداغ بہ دل دست بسر چاہیے
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میںعیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
جیسے جرس پارہ گلو کیا کروںنالہ و افغاں میں اثر چاہیے
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میرؔہم کو جیا بار دگر چاہیے
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کایاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کاحسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیےحسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میںسیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیاتنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیںہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوبہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا
اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوںنقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیںمعتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کاالقصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شایدخوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتےجاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کویاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہےپیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئیہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنااب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہےوہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھواحوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کوسید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
نا حق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابرطاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارےویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منہ سے برقع اٹھے گا سنیواس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
نا حق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارےہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پاسر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہےاوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گزریکیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کیگلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہےچہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیںہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں
اب ایک سی بے ہوشی رہتی نہیں ہے ہم کوکچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں
وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہےاب دیدۂ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں
ان پاؤں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیساافسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں
کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنےہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں
کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کیتب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں
گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹکجی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں
ہیں نرم صنم گو نہ کہنے کے تئیں ورنہپتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں
اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہےجو رہ سکو رہ جاؤ اب میرؔ بھی چلتے ہیں
کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہشیک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہش
لے ہاتھ میں قفس ٹک صیاد چل چمن تکمدت سے ہے ہمیں بھی سیر بہار خواہش
نے کچھ گنہ ہے دل کا نے جرم چشم اس میںرکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش
حالانکہ عمر ساری مایوس گزری تس پرکیا کیا رکھیں ہیں اس کے امیدوار خواہش
غیرت سے دوستی کی کس کس سے ہو جے دشمنرکھتا ہے یاری ہی کی سارا دیار خواہش
ہم مہر و رز کیوں کر خالی ہوں آرزو سےشیوہ یہی تمنا فن و شعار خواہش
اٹھتی ہے موج ہر یک آغوش ہی کی صورتدریا کو ہے یہ کس کا بوس و کنار خواہش
صد رنگ جلوہ گر ہے ہر جادہ غیرت گلعاشق کی ایک پاوے کیوں کر قرار خواہش
یک بار بر نہ آئے اس سے امید دل کیاظہار کرتے کب تک یوں بار بار خواہش
کرتے ہیں سب تمنا پر میرؔ جی نہ اتنیرکھے گی مار تم کو پایان کار خواہش
اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہیاپنی جگہ بہار میں کنج قفس رہی
میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلکآتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی
لطف قبائے تنگ پہ گل کا بجا ہے نازدیکھی نہیں ہے ان نے تری چولی چس رہی
دن رات میری آنکھوں سے آنسو چلے گئےبرسات اب کے شہر میں سارے برس رہی
خالی شگفتگی سے جراحت نہیں کوئیہر زخم یاں ہے جیسے کلی ہو بکس رہی
دیوانگی کہاں کہ گریباں سے تنگ ہوںگردن مری ہے طوق میں گویا کہ پھنس رہی
جوں صبح اس چمن میں نہ ہم کھل کے ہنس سکےفرصت رہی جو میرؔ بھی سو یک نفس رہی
یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھاانداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا
جادو کی پڑی پرچۂ ابیات تھا اس کامنہ تکیے غزل پڑھتے عجب سحر بیاں تھا
جس راہ سے وہ دل زدہ دلی میں نکلتاساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ رواں تھا
افسردہ نہ تھا ایسا کہ جوں آب زدہ خاکآندھی تھی بلا تھا کوئی آشوب جہاں تھا
کس مرتبہ تھی حسرت دیدار مرے ساتھجو پھول مری خاک سے نکلا نگراں تھا
مجنوں کو عبث دعوی وحشت ہے مجھی سےجس دن کہ جنوں مجھ کو ہوا تھا وہ کہاں تھا
غافل تھے ہم احوال دل خستہ سے اپنےوہ گنج اسی کنج خرابی میں نہاں تھا
کس زور سے فرہاد نے خارا شکنی کیہر چند کہ وہ بیکس و بے تاب و تواں تھا
گو میرؔ جہاں میں کنھوں نے تجھ کو نہ جاناموجود نہ تھا تو تو کہاں نام و نشاں تھا
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گاوابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکناس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایاپر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلادتا حشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغمحشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگزتا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کیجب تک جئے گا میرؔ پشیمان رہے گا
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیںچھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں
گوہر گوش کسو کا نہیں جی سے جاتاآنسو موتی سے مرے منہ پہ ڈھلے جاتے ہیں
یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہمسب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں
بار حرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھشجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں
حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہےایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انہیں سے پوچھودل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں
یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیںگر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں
دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیلہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں
پر غبارئ جہاں سے نہیں سدھ میرؔ ہمیںگرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں
اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھےپیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھے
آزردہ دل الفت ہم چپکے ہی بہتر ہیںسب رو اٹھے گی مجلس جو کر کے سخن بیٹھے
عریان پھریں کب تک اے کاش کہیں آ کرتا گرد بیاباں کی بالائے بدن بیٹھے
پیکان خدنگ اس کا یوں سینے کے اودھر ہےجوں مار سیہ کوئی کاڑھے ہوئے پھن بیٹھے
جز خط کے خیال اس کے کچھ کام نہیں ہم کوسبزی پیے ہم اکثر رہتے ہیں مگن بیٹھے
شمشیر ستم اس کی اب گو کا چلے ہر دمشوریدہ سر اپنے سے ہم باندھ کفن بیٹھے
بس ہو تو ادھر اودھر یوں پھرنے نہ دیں تجھ کوناچار ترے ہم یہ دیکھیں ہیں چلن بیٹھے
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سےآئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہمجی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے
جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاںرکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے
کیا خوبی اس کے منہ کی اے غنچہ نقل کریےتو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے
آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہوحیران ہوں یہ شوخی آئی تمہیں کہاں سے
سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنےدلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے
کی شست و شوبدن کی جس دن بہت سی ان نےدھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے
خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت ابہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے
اتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کوالجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکااک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا
افسوس میرے مردے پر اتنا نہ کر کہ ابپچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا
لگتی نہیں پلک سے پلک انتظار میںآنکھیں اگر یہی ہیں تو بھر نیند سو چکا
یک چشمک پیالہ ہے ساقی بہار عمرجھپکی لگی کہ دور یہ آخر ہی ہو چکا
ممکن نہیں کہ گل کرے ویسی شگفتگیاس سرزمیں میں تخم محبت میں بو چکا
پایا نہ دل بہایا ہوا سیل اشک کامیں پنجۂ مژہ سے سمندر بلو چکا
ہر صبح حادثے سے یہ کہتا ہے آسماںدے جام خون میرؔ کو گر منہ وہ دھو چکا
گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سابرقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا
گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہےدیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا
وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیامیں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا
دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیںاب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا
سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھااسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا
ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلےاب سجدے ہی میں گزرے ہے قد جو ہوا محراب سا
تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھواب دیدۂ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
بہکے جو ہم مست آ گئے سو بار مسجد سے اٹھاواعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا
رکھ ہاتھ دل پر میرؔ کے دریافت کر کیا حال ہےرہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا
مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہےقرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے
عریانیٔ آشفتہ کہاں جائے پس از مرگکشتہ ہے ترا اور یہی بے کفنی ہے
سمجھے ہے نہ پروانہ نہ تھامے ہے زباں شمعوہ سوختنی ہے تو یہ گردن زدنی ہے
لیتا ہی نکلتا ہے مرا لخت جگر اشکآنسو نہیں گویا کہ یہ ہیرے کی کنی ہے
بلبل کی کف خاک بھی اب ہوگی پریشاںجامے کا ترے رنگ ستم گر چمنی ہے
کچھ تو ابھر اے صورت شیریں کہ دکھاؤںفرہاد کے ذمے بھی عجب کوہ کنی ہے
ہوں گرم سفر شام غریباں سے خوشی ہوںاے صبح وطن تو تو مجھے بے وطنی ہے
ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکنان بو الہوسوں میں کوئی مجھ سا بھی غنی ہے
ہر اشک مرا ہے در شہوار سے بہترہر لخت جگر رشک عقیق یمنی ہے
بگڑی ہے نپٹ میرؔ تپش اور جگر میںشاید کہ مرے جی ہی پر اب آن بنی ہے
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برساس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبااک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
مژگاں بھی بہہ گئیں مرے رونے سے چشم کیسیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جداتنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیاروتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس
اس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوںکہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
حیراں ہوں میرؔ نزع میں اب کیا کروں بھلااحوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
ادھر آ کر شکار افگن ہمارامشبک کر گیا ہے تن ہمارا
گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہےہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا
گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنےسبھوں پر حال ہے روشن ہمارا
بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردموہ ہے عین بلا مسکن ہمارا
ہوا رونے سے راز دوستی فاشہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا
بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکننہ منت کش ہوا گلشن ہمارا
چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیںسنا ہوگا کبھو شیون ہمارا
کیا تھا ریختہ پردہ سخن کاسو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
نہ بہکے میکدے میں میرؔ کیوں کرگرو سو جا ہے پیراہن ہمارا
کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھاشام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یکجا نہ تھا
شہرۂ عالم اسے یمن محبت نے کیاورنہ مجنوں ایک خاک افتادۂ ویرانہ تھا
منزل اس مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشیںاب وہ دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خانہ تھا
اک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیںوا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزۂ بیگانہ تھا
روز و شب گزرے ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھےاے دل صد چاک کس کی زلف کا تو شانہ تھا
یاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جائے باشیا در باز بیاباں یا درمے خانہ تھا
جس کو دیکھا ہم نے اس وحشت کدے میں دہر کےیا سڑی یا خبطی یا مجنون یا دیوانہ تھا
بعد خوں ریزی کے مدت بے حنا رنگیں رہاہاتھ اس کا جو مرے لوہو میں گستاخانہ تھا
غیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہیہ نہ سمجھا وہ کہ واقع میں بھی کچھ تھا یا نہ تھا
صبح ہوتے وہ بناگوش آج یاد آیا مجھےجو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دانہ تھا
شب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوستشمع کا جلوہ غبار دیدۂ پروانہ تھا
رات اس کی چشم میگوں خواب میں دیکھی تھی میںصبح سوتے سے اٹھا تو سامنے پیمانہ تھا
رحم کچھ پیدا کیا شاید کہ اس بے رحم نےگوش اس کا شب ادھر تا آخر افسانہ تھا
میرؔ بھی کیا مست طافح تھا شراب عشق کالب پہ عاشق کے ہمیشہ نعرۂ مستانہ تھا
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوںرنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوں
جس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوںپھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں
بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئیکیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں
اپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر راتوہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں
خار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایااس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں
لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفااتنا عالم ہے بھرا جاؤ نہ کیا میں ہی ہوں
رک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیاتن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں
اس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرووہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں
میں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہیک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں
جب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگاکیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں
سنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھاجن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں
میرؔ آوارۂ عالم جو سنا ہے تو نےخاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں
کاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرےمیرؔ وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں
جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میںگرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں
ضبط گریہ نے جلایا ہے درونہ سارادل اچنبھا ہے کہ ہے سوختہ تر پانی میں
آب شمشیر قیامت ہے برندہ اس کییہ گوارائی نہیں پاتے ہیں ہر پانی میں
طبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہےآہ بالوں کو پراگندہ نہ کر پانی میں
غرق آب اشک سے ہوں لیک اڑا جاتا ہوںجوں سمک گو کہ مرے ڈوبے ہیں پر پانی میں
مردم دیدۂ تر مردم آبی ہیں مگررہتے ہیں روز و شب و شام و سحر پانی میں
ہیئت آنکھوں کی نہیں وہ رہی روتے روتےاب تو گرداب سے آتے ہیں نظر پانی میں
گریۂ شب سے بہت آنکھ ڈرے ہے میریپاؤں رکتے ہی نہیں بار دگر پانی میں
فرط گریہ سے ہوا میرؔ تباہ اپنا جہازتختہ پارے گئے کیا جانوں کدھر پانی میں
وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تکسر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
مرتے ہی سنا ان کو جنہیں دل لگی کچھ تھیاچھا ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیںسوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
آیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کےبستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
بد عہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچاوعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالمکرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
کچھ رنج دلی میرؔ جوانی میں کھنچا تھازردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کرکس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
تھی جملہ تن لطافت عالم میں جاں کے ہم تومٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاکداں میں آ کر
سعی و طلب بہت کی مطلب کے تئیں نہ پہنچےناچار اب جہاں سے بیٹھے ہیں ہاتھ اٹھا کر
غیرت یہ تھی کہ آیا اس سے جو میں خفا ہومرتے موا پہ ہرگز اودھر پھرا نہ جا کر
قدرت خدا کی سب میں خلع العذار آؤبیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منہ چھپا کر
ارمان ہے جنہوں کو وے اب کریں محبتہم تو ہوئے پشیماں دل کے تئیں لگا کر
میں میرؔ ترک لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھایادرویش تو بھی تو ہے حق میں مرے دعا کر
وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیاسو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا
گلشن کے طائروں نے کیا بے مروتی کییک برگ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا
بے ہیچ اس کا غصہ یارو بلائے جاں ہےہرگز منا نہ ہم سے بہتیرا ہی منایا
قد بلند اگرچہ بے لطف بھی نہیں ہےسرو چمن میں لیکن اندازہ وہ نہ پایا
نقشہ عجب ہے اس کا نقاش نے ازل کےمطبوع ایسا چہرہ کوئی نہ پھر بنایا
شب کو نشے میں باہم تھی گفتگوئے درہماس مست نے جھنکایا یعنی بہت جھکایا
دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھابخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا
عاشق جہاں ہوا ہے بے ڈھنگیاں ہی کی ہیںاس میرؔ بے خرد نے کب ڈھب سے دل لگایا
ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کانکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا
بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پرورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا
در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگرصورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا
ہیں مستحیل خاک سے اجزائے نو خطاںکیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا
مستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگعیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا
اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحارلکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نورشمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا
ہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہمصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا
ہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگومذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلٰوۃ کا
کیا میرؔ تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہےختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا
دل سے شوق رخ نکو نہ گیاجھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیکسر سے سودائے جستجو نہ گیا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواںلیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا
دل میں کتنے مسودے تھے ولےایک پیش اس کے رو بہ رو نہ گیا
سبحہ گرداں ہی میرؔ ہم تو رہےدست کوتاہ تا سبو نہ گیا
جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگاتا خاک بھی خاک آرام ہوگا
مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتےکہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا
نہ ہوگا وہ دیکھا جسے کبک تو نےوہ اک باغ کا سرو اندام ہوگا
نہ نکلا کر اتنا بھی بے پردہ گھر سےبہت اس میں ظالم تو بدنام ہوگا
ہزاروں کی یاں لگ گئیں چھت سے آنکھیںتو اے ماہ کس شب لب بام ہوگا
وہ کچھ جانتا ہوگا زلفوں میں پھنسناجو کوئی اسیر تا دام ہوگا
جگر چاکی ناکامی دنیا ہے آخرنہیں آئے جو میرؔ کچھ کام ہوگا
تیر جو اس کمان سے نکلاجگر مرغ جان سے نکلا
نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کیمیں ہی اک امتحان سے نکلا
گو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمعاب تو میری زبان سے نکلا
آگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤںبس تو نہ آسمان سے نکلا
چشم و دل سے جو نکلا ہجراں میںنہ کبھو بحر و کان سے نکلا
مر گیا جو اسیر قید حیاتتنگنائے جہان سے نکلا
دل سے مت جا کہ حیف اس کا وقتجو کوئی اس مکان سے نکلا
اس کی شیریں لبی کی حسرت میںشہد پانی ہو شان سے نکلا
نا مرادی کی رسم میرؔ سے ہےطور یہ اس جوان سے نکلا
ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہوہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہماب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
بود آدم نمود شبنم ہےایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ
شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکادل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ
شور سے اپنے حشر ہے پردہیوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ
بس ہوا ناز ہو چکا اغماضہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ
نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کیآن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ
دیکھ بے دم مجھے لگا کہنےہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ
میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہےکیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ
ہے رے بیگانگی کبھو ان نےنہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ
تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تکاک لگا چک کہ مدعا ہے یہ
میرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانےاگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ
مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میریمیں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہاک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا توپرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میںواں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا
وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہآنکھوں کو غزالوں کی پاؤں تلے مل جاتا
بے تاب و تواں یوں میں کاہے کو تلف ہوتایاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا
اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنیوہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا
مارا گیا تب گزرا بوسے سے ترے لب کےکیا میرؔ بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سےوقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
داغ فراق و حسرت وصل آرزوئے دیدکیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میںنکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے
آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگرکیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے
جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہماس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
آنے کا اس چمن میں سبب بیکلی ہوئیجوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیںالقصہ خوش گزرتی ہے اس بد گمان سے
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی دادمیں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
داغوں سے ہے چمن جگر میرؔ دہر میںان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے
کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھاکون سے درد و ستم کا یہ طرف دار نہ تھا
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہآئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا
دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیںتیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا
صد گلستاں تا یک بال تھے اس کے جب تکطائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا
حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہبے گنہ مارنے قابل یہ گنہ گار نہ تھا
عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہیوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا
نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضاسنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا
رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میرؔدرد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا
رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کالگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا
نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمامفلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا
گلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جالباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا
تمام زلف کے کوچے ہیں مار پیچ اس کیتجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا
اسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میںتو حرف کن نے کیا گوش دادخواہوں کا
تمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کیجو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا
کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حالکہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا
حساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سےشمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا
تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھرفریب خوردہ ہے تو میرؔ کن نگاہوں کا
کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹدل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ
ہم عاشقوں کو مرتے کیا دیر کچھ لگے ہےچٹ جن نے دل پہ کھائی وہ ہو گیا ہے چٹ پٹ
دل ہے جدھر کو اودھر کچھ آگ سی لگی تھیاس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ
کلیوں کو تو نے چٹ چٹ اے باغباں جو توڑابلبل کے دل جگر کو ظالم لگی ہے کیا چٹ
جی ہی ہٹے نہ میرا تو اس کو کیا کروں میںہر چند بیٹھتا ہوں مجلس میں اس سے ہٹ ہٹ
دیتی ہے طول بلبل کیا نالہ و فغاں کودل کے الجھنے سے ہیں یہ عاشقوں کی پھٹ پھٹ
مردے نہ تھے ہم ایسے دریا پہ جب تھا تکیہاس گھاٹ گاہ و بیگہ رہنے لگا تھا جمگھٹ
رک رک کے دل ہمارا بے تاب کیوں نہ ہووےکثرت سے درد و غم کی رہتا ہے اس پہ جھرمٹ
شب میرؔ سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہےاس کے خیال مو میں اب تو گیا بہت لٹ
کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئےچپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے
اٹھے نقاب جہاں سے یا رب جس سے تکلف بیچ میں ہےجب نکلے اس راہ سے ہو کر منہ تم ہم سے چھپائے گئے
کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کیتم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو وہ ہیں لگائے گئے
صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوسکیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے
اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہمآنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے
آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سایعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے
ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہےکشتے اس کی تیغ ستم کے گور تئیں کب لائے گئے
خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیںکھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے
مرنے سے کیا میرؔ جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریےجی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے
گل و بلبل بہار میں دیکھاایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیںیہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
جیسا مضطر تھا زندگی میں دلووہیں میں نے قرار میں دیکھا
آبلے کا بھی ہونا دامن گیرتیرے کوچے کے خار میں دیکھا
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہاپنے دل کے غبار میں دیکھا
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوںدم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
جن بلاؤں کو میرؔ سنتے تھےان کو اس روزگار میں دیکھا
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہےکیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے
سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہتسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے
دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑواترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے
ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارےپر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے
عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتیچپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے
دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالمکچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے
ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختر رز آفتکیا پیر مغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے
خوں ریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیںکب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھیجوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے
ان مغبچوں میں زاہد پھر سر زدہ مت آنامندیل تری اب کے ہم نے تو بچا لی ہے
کیا میرؔ تو روتا ہے پامالیٔ دل ہی کوان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے
جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیاآئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا
اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیمکیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا
اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پرگو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا
جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کیدل ریزۂ خزف کی طرح میں اٹھا دیا
تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کیجب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا
گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میںاب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا
وہ آگ ہو رہا ہے خدا جانے غیر نےمیری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا
اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاشسو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا
اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہیٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا
تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑیکڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا
کی چشم تو نے باز کہ کھولا در ستمکس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا
کیا کیا زیان میرؔ نے کھینچے ہیں عشق میںدل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا
دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہماراہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا
پلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھیان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا
دنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیےکیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا
ہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھواس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا
جوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصتقصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا
کوچے میں اس کے جا کر بنتا نہیں پھر آناخون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا
ہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سےاس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا
سیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میںجوں ابر روتے ہوگا جس دم گزر ہمارا
نشوونما ہے اپنی جوں گرد باد انوکھیبالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا
یوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونادامن سے باندھ دامن اے ابر تر ہمارا
جب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کاتھمتا نہیں ہے رونا دو دوپہر ہمارا
اس کارواں سرا میں کیا میرؔ بار کھولیںیاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا
بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگامآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہوگا
تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہوگاوہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہوگا
کسو کو شوق یا رب بیش اس سے اور کیا ہوگاقلم ہاتھ آ گئی ہوگی تو سو سو خط لکھا ہوگا
دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گیجو تو بازار میں ہوگا تو یوسف کب بکا ہوگا
معیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کرکوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہوگا
خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھاگماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہوگا
قیامت کر کے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقتوہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہوگا
عجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کےمحبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہوگا
نہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانےلہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہوگا
بہت ہم سایے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میںکبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہوگا
نہیں جز عرش جاگا راہ میں لینے کو دم اس کےقفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہوگا
کہیں ہیں میرؔ کو مارا گیا شب اس کے کوچے میںکہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہوگا
یار میرا بہت ہے یار فریبمکر ہے عہد سب قرار فریب
راہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صیدہے بلا کوئی وہ شکار فریب
عہدے سے نکلیں کس طرح عاشقایک ادا اس کی ہے ہزار فریب
التفات زمانہ پر مت جامیرؔ دیتا ہے روزگار فریب
واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلایاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا
آیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگیہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا
دیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخرگل کا وہ روئے خنداں چشم پر آب نکلا
پردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتراک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا
کچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتےاس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا
ہر حرف غم نے میرے مجلس کے تئیں رلایاگویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا
روئے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہواس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا
مطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارےنامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا
شان تغافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہمقاصد موا تب اس کے منہ سے جواب نکلا
کس کی نگہ کی گردش تھی میرؔ رو بہ مسجدمحراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا
نالۂ عجز نقص الفت ہےرنج و محنت کمال راحت ہے
عشق ہی گریۂ ندامت ہےورنہ عاشق کو چشم خفت ہے
تا دم مرگ غم خوشی کا نہیںدل آزردہ گر سلامت ہے
دل میں ناسور پھر جدھر چاہےہر طرف کوچۂ جراحت ہے
رونا آتا ہے دم بدم شایدکسو حسرت کی دل سے رخصت ہے
فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میںقد و قامت ترا قیامت ہے
نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبردل پہ میرے عجب مصیبت ہے
تو تو نادان ہے نپٹ ناصحکب مؤثر تری نصیحت ہے
دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہراکہ مجھے خوش دلی اذیت ہے
رنج و محنت سے باز کیونکے رہوںوقت جاتا رہے تو حسرت ہے
کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانودم غنیمت میاں جو فرصت ہے
تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھےچاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے
تجھ کو مسجد ہے مجھ کو مے خانہواعظا اپنی اپنی قسمت ہے
ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہشمع مجلس کی رونی صورت ہے
باطل السحر دیکھ باطل تھےتیری آنکھوں کا سحر آفت ہے
ابر تر کے حضور پھوٹ بہادیدۂ تر کو میرے رحمت ہے
گاہ نالاں تپاں گہے بے دمدل کی میرے عجب ہی حالت ہے
کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئیعاقبت قصۂ محبت ہے
تربت میرؔ پر ہیں اہل سخنہر طرف حرف ہے حکایت ہے
تو بھی تقریب فاتحہ سے چلبخدا واجب الزیارت ہے
تاب دل صرف جدائی ہو چکییعنی طاقت آزمائی ہو چکی
چھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباںجیتے جی اپنی رہائی ہو چکی
آگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہشیخ سے اب پارسائی ہو چکی
درمیاں ایسا نہیں اب آئینہمیرے اس کے اب صفائی ہو چکی
ایک بوسہ مانگتے لڑنے لگےاتنے ہی میں آشنائی ہو چکی
بیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیارحم کر اب بے وفائی ہو چکی
آج پھر تھا بے حمیت میرؔ واںکل لڑائی سی لڑائی ہو چکی
ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہےٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے
گر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب و دہاں ہےلیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منہ کہاں ہے
ہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہناچتون ہے دل کی آفت چشمک بلائے جاں ہے
پتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی توپر کیا کریں کہ پیارے منہ تیرا درمیاں ہے
باغ و بہار ہے وہ میں کشت زعفراں ہوںجو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے
ہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئیگزرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے
اس فن میں کوئی بے تہہ کیا ہو مرا معارضاول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے
عالم میں آب و گل کا ٹھہراؤ کس طرح ہوگر خاک ہے اڑے ہے ور آب ہے رواں ہے
چرچا رہے گا اس کا تا حشر مے کشاں میںخوں ریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے
از خویش رفتہ اس بن رہتا ہے میرؔ اکثررہتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کاٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا
سبزان ان رو کی جہاں جلوہ گاہ تھیاب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا
جوں برگ ہائے لالہ پریشان ہو گیامذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیںتھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میرؔسایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا
غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کارواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا
زمیں اک صفحۂ تصویر بیہوشاں سے مانا ہےیہ مجلس جب سے ہے اچھا نہیں کچھ رنگ صحبت کا
جہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہےنظر پیدا کر اول پھر تماشا دیکھ قدرت کا
ہنوز آوارۂ لیلیٰ ہے جان رفتہ مجنوں کیموئے پر بھی رہا ہوتا نہیں وابستہ الفت کا
حریف بے جگر ہے صبر ورنہ کل کی صحبت میںنیاز و ناز کا جھگڑا گرو تھا ایک جرأت کا
نگاہ یاس بھی اس صید افگن پر غنیمت ہےنہایت تنگ ہے اے صید بسمل وقت فرصت کا
خرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتاکہ آبادی بھی یاں تھی یا کہ ویرانہ تھا مدت کا
نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساریپڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا
قدم ٹک دیکھ کر رکھ میرؔ سر دل سے نکالے گاپلک سے شوخ تر کانٹا ہے صحرائے محبت کا
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلاموم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتابکس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا
جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھراجو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا
دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھجانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا
اشک تر قطرۂ خوں لخت جگر پارۂ دلایک سے ایک عدد آنکھ سے بہہ کر نکلا
کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نےاس دفینے میں سے اقسام جواہر نکلا
ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میرؔپر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھااب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہکس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیںواں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیادل بھی مرا جریدۂ عالم میں فرد تھا
تھا پشتہ ریگ باد یہ اک وقت کارواںیہ گرد باد کوئی بیاباں نورد تھا
گزری مدام اس کی جوانان مست میںپیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
عاشق ہیں ہم تو میرؔ کے بھی ضبط عشق کےدل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوںتمہارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں
سرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دملہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں
اگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیکبرنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں
مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاکمیں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں
ہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کرپھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں
ترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میںوگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں
بلا ہوئی ہے مری گو کا طبع روشن میرؔہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں
محبت کا جب روز بازار ہوگابکیں گے سر اور کم خریدار ہوگا
تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بنکبھی یہ قیامت طرحدار ہوگا
صبا موئے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہےکہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہوگا
مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھکہوں گا تو لڑنے کو تیار ہوگا
نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میںنہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہوگا
یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھاقیامت کو کس کس سے خوں دار ہوگا
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائلملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا
نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوںابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہوگا
کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانبکبھو تو قیامت طرحدار ہوگا
زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دنیہ دیوار کا سایہ دیوار ہوگا
نہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گاترے دام میں جو گرفتار ہوگا
نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاںجو ہوگا تو جیسے گنہ گار ہوگا
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میںکپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں
گل پھول سے کب اس بن لگتی ہیں اپنی آنکھیںلائی بہار ہم کو زورآوری چمن میں
اب لعل نو خط اس کے کم بخشتے ہیں فرحتقوت کہاں رہے ہے یاقوتی کہن میں
یوسف عزیز دلا جا مصر میں ہوا تھاپاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن میں
دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلاہنگامہ ہو رہا ہے اب شیخ و برہمن میں
آ جاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئیکیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
ہیں گھاؤ دل پر اپنے تیغ زباں سے سب کیتب درد ہے ہمارے اے میرؔ ہر سخن میں
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کاجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفاجس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہارہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دلگیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیاکام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا
رہ گزر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہراس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے درد سرکام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہمقد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسےتشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیکمفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولےفائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نواعیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیںرنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
جب جنوں سے ہمیں توسل تھااپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا
بسترہ تھا چمن میں جوں بلبلنالہ سرمایۂ توکل تھا
یک نگہ کو وفا نہ کی گویاموسم گل صفیر بلبل تھا
ان نے پہچان کر ہمیں مارامنہ نہ کرنا ادھر تجاہل تھا
شہر میں جو نظر پڑا اس کاکشتۂ ناز یا تغافل تھا
اب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قراریاد ایام جب تحمل تھا
جا پھنسا دام زلف میں آخردل نہایت ہی بے تامل تھا
یوں گئی قد کے خم ہوئے جیسےعمر اک رہرو سر پل تھا
خوب دریافت جو کیا ہم نےوقت خوش میرؔ نکہت گل تھا
نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہمگئے گزرے ہیں آخر ایسے کیا ہم
کھنچے گی کب وہ تیغ ناز یا ربرہے ہیں دیر سے سر کو جھکا ہم
نہ جانا یہ کہ کہتے ہیں کسے پیاررہیں بے لطفیاں ہی یاں تو باہم
بنے کیا خال و زلف و خط سے دیکھیںہوئے ہیں کتنے یہ کافر فراہم
مرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھبہت کرتے ہیں اپنی سی دوا ہم
کہیں پیوند ہوں یا رب زمیں کےپھریں گے اس سے یوں کب تک جدا ہم
ہوس تھی عشق کرنے میں ولیکنبہت نادم ہوئے دل کو لگا ہم
کب آگے کوئی مرتا تھا کسی پرجہاں میں کر گئے رسم وفا ہم
تعارف کیا رہا اہل چمن سےہوئے اک عمر کے پیچھے رہا ہم
موا جس کے لئے اس کو نہ دیکھانہ سمجھے میرؔ کا کچھ مدعا ہم
کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میںالٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہو کر خاک سے سرزدیکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہےسخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہتسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگاپڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خوردسالی میں
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتانہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھناملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہےبھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس مینائے خالی میں
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہےیہی تو میرؔ اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیںرہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں
ہے اب کام دل جس پہ موقوف تووہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں
ہوا مائل اس سرو کا دل مرابجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں
نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغگئے گزرے بس اب خبر کچھ نہیں
تری ہو چکی خشک مژگاں کی سبلہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں
حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشممرا حال مد نظر کچھ نہیں
کروں کیونکے انکار عشق آہ میںیہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں
کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میرؔغرض اس سے باریک تر کچھ نہیں
بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہااک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا
پنجۂ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کوگر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا
شمع ساں جلتے رہے لیکن نہ توڑا یار سےرشتۂ الفت تمامی عمر گردن میں رہا
ڈر سے اس شمشیر زن کے جوہر آئینہ ساںسر سے لے کر پاؤں تک میں غرق آہن میں رہا
ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چلاب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا
درپئے دل ہی رہے اس چہرے کے خال سیاہڈر ہمیں ان چونٹوں کا روز روشن میں رہا
آہ کس انداز سے گزرا بیاباں سے کہ میرؔجی ہر اک نخچیر کا اس صید افگن میں رہا
یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووےمر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائےپر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سردیہ باؤ کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے
صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سےکوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے
پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہماراشرمندۂ یک گوشۂ دستار نہ ہووے
مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالمیا رب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے
کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہیصورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے
ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمنبہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے
خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکوروبے جرم کہیں ان کا گنہ گار نہ ہووے
باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کویہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے
چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے توپر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے
صحرائے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میرؔیہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے
دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کاجو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا
اگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموشسخن رہے گا سدا میری کم زبانی کا
سبک ہے آوے جو مندیل رکھ نماز کو شیخرہا ہے کون سا اب وقت سرگرانی کا
ہزار جان سے قربان بے پری کے ہیںخیال بھی کبھو گزرا نہ پرفشانی کا
پھرے ہے کھینچے ہی تلوار مجھ پہ ہر دم توکہ صید ہوں میں تری دشمنی جانی کا
نمود کر کے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیاکہے تو میرؔ بھی اک بلبلا تھا پانی کا
سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کاہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا
ہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہدکہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا
ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاںنکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا
عرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوںبھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا
علاج کرتے ہیں سودائے عشق کا میرےخلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا
تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گےجو کوئی مانگے گا نامہ سیاہ کاروں کا
خراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائےعجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا
نگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخنہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا
کریں ہیں دعویٰ خوش چشمی آہوان دشتٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا
تڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسےجہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا
تڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلیجلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا
تمہیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرورخدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہ گاروں کا
اٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کیغبار میرؔ بھی عاشق ہے نے سواروں کا
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیارات کو سینہ بہت کوٹا گیا
طائر رنگ حنا کی سی طرحدل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا
میں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اوراب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہےیہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
میرؔ کس کو اب دماغ گفتگوعمر گزری ریختہ چھوٹا گیا
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آجدشتی وحش و طیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
بر افروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میںپی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا بحر حسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہےشوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سررات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آؤ بیٹھو لطف کروکیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہےکل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیاان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محو جلوۂ یار ہے آج
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کایعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیںشاید میرؔ جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوںہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں
نہ کچھ کاغذ میں ہے تانے قلم کو درد نالوں کالکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں
لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کوجراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں
کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیےہمارے دیدۂ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں
لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کواگرچہ آب حیواں ہیں و لیکن سم ہیں یہ دونوں
نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ادھرہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں
کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسوچمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں
کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہےغم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میںمکاں تو میرؔ صاحب شہرۂ عالم ہیں یہ دونوں
ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھتو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کچھ
دل جگر جان یہ بھسمنت ہوئے سینے میںگھر کو آتش دی محبت نے جلا کیا کیا کچھ
کیا کہوں تجھ سے کہ کیا دیکھا ہے تجھ میں میں نےعشوہ و غمزہ و انداز و ادا کیا کیا کچھ
دل گیا ہوش گیا صبر گیا جی بھی گیاشغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ
آہ مت پوچھ ستم گار کہ تجھ سے تھی ہمیںچشم لطف و کرم و مہر و وفا کیا کیا کچھ
نام ہیں خستہ و آوارہ و بدنام مرےایک عالم نے غرض مجھ کو کہا کیا کیا کچھ
طرفہ صحبت ہے کہ سنتا نہیں تو ایک مریواسطے تیرے سنا میں نے سنا کیا کیا کچھ
حسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوستمر گیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ
درد دل زخم جگر کلفت غم داغ فراقآہ عالم سے مرے ساتھ چلا کیا کیا کچھ
چشم نمناک و دل پر جگر صد پارہدولت عشق سے ہم پاس بھی تھا کیا کیا کچھ
تجھ کو کیا بننے بگڑنے سے زمانے کے کہ یاںخاک کن کن کی ہوئی صرف بنا کیا کیا کچھ
قبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفقمضطرب ہو کے اسے میں نے لکھا کیا کیا کچھ
پر کہوں کیا رقم شوق کی اپنے تاثیرہر سر حرف پہ وہ کہنے لگا کیا کیا کچھ
ایک محروم چلے میرؔ ہمیں عالم سےورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیاراتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج ترتیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا
گرمئ عشق مانع نشوونما ہوئیمیں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا
مستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میںلغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا
ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شرابچل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا
ہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قراریاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا
عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میرؔمجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا
رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہےدل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے
مری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کبمرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے
جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منہ میں ترے نہاںتری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے
رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلاسو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے
کہیں گے کہو تمہیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدانہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منہ سے حجاب ہے
چلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیںلب نا توواں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے
نہیں کھلتیں آنکھیں تمہاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرویہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے
گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سبتجھے کرنا ہووے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے
کبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیایہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے
تو جہاں کے بحر عمیق میں سر پر ہوا نہ بلند کرکہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے
رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کیکہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے
مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیاجسے میرؔ کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے
پلکوں پہ تھے پارۂ جگر راتہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات
اک دن تو وفا بھی کرتے وعدہگزری ہے امیدوار ہر رات
مکھڑے سے اٹھائیں ان نے زلفیںجانا بھی نہ ہم گئی کدھر رات
تو پاس نہیں ہوا تو روتےرہ رہ گئی ہے پہر پہر رات
کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میںرو اٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات
واں تم تو بناتے ہی رہے زلفعاشق کی بھی یاں گئی گزر رات
ساقی کے جو آنے کی خبر تھیگزری ہمیں ساری بے خبر رات
کیا سوز جگر کہوں میں ہمدمآیا جو سخن زبان پر رات
صحبت یہ رہی کہ شمع رویلے شام سے تا دم سحر رات
کھلتی ہے جب آنکھ شب کو تجھ بنکٹتی نہیں آتی پھر نظر رات
دن وصل کا یوں کٹا کہے توکاٹی ہے جدائی کی مگر رات
کل تھی شب وصل اک ادا پراس کی گئے ہوتے ہم تو مر رات
جاگے تھے ہمارے بخت خفتہپہنچا تھا بہم وہ اپنے گھر رات
کرنے لگا پشت چشم نازکسوتے سے اٹھا جو چونک کر رات
تھی صبح جو منہ کو کھول دیتاہر چند کہ تب تھی اک پہر رات
پر زلفوں میں منہ چھپا کے پوچھااب ہووے گی میرؔ کس قدر رات
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کونکالا سر سے میرے جائے مو خار مغیلاں کو
وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کوکہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نےبنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو
ہوئے تھے جیسے مر جاتے پر اب تو سخت حسرت ہےکیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میںکہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سےتماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہےنہیں پروئے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہوائے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقیدم افسردہ کر دے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوؤں کی گرم جوشی سےاس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تکسدا زنار ہی تسبیح ہے اس نا مسلماں کو
غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جو نےملا پاؤں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سےکہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کرنہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو
بنے نا واقف شادی اگر ہم بزم عشرت میںدہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روئے خنداں کو
نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نےکیا ہے مضطرب ہر ذرۂ گرد بیاباں کو
کسی کے واسطے رسوائے عالم ہو پہ جی میں رکھکہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پرٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھےچلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سر سبزی نہ کی حاصلملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو
ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بننہ دے برباد حسرت کشتۂ سر در گریباں کو
غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماںکہوں اے ہم نشیں تا چند غم ہاے فراواں کو
گل و سرو و سمن گر جائیں گے مت سیر گلشن کرملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منہ پہ اے بجلینہ چشم کم سے دیکھ اس یادگار چشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائلکہ بے فکر سخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو
اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گامگئے گزرے خضر علیہ السلام
دہن یار کا دیکھ چپ لگ گئیسخن یاں ہوا ختم حاصل کلام
مجھے دیکھ منہ پر پریشاں کی زلفغرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام
سر شام سے رہتی ہیں کاہشیںہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام
قیامت ہی یاں چشم و دل سے رہیچلے بس تو واں جا کے کریے قیام
نہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اورنہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام
جہاں میرؔ زیر و زبر ہو گیاخراماں ہوا تھا وہ محشر خرام
کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیاکبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا
لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائےآنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا
گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہےجی گیا پر نہ ہمارا سر پر شور گیا
چشم خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکاہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا
ناتواں ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی اس کیاب تو بے طاقتی سے دل کا بھی مقدور گیا
لے کہیں منہ پہ نقاب اپنے کہ اے غیرت صبحشمع کے چہرۂ رخشاں سے تو اب نور گیا
نالۂ میرؔ نہیں رات سے سنتے ہم لوگکیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا
تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گےبھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے
اب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جاکسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے
معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کاپہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے
ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھوہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے
جا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کیوقت کے وقت یہ سب منہ کو چھپا بیٹھیں گے
دیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہےاب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے
بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کےگردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے
کب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیےدل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے
شعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میرؔگھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے
گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کاجگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا
سمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامالوہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا
ستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کےاتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا
الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کماگر خیال تمہیں ہووے نیزہ بازی کا
بتاؤ ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑینہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکنرہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
چلو ہو راہ موافق کہے مخالف کےطریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا
کسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگدلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا
بسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میرؔرکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا
میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جادل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا
پند گویوں نے بہت سینے کی تدبیریں لیںآہ ثابت بھی نہ نکلا یہ گریباں یک جا
تیرا کوچہ ہے ستم گار وہ کافر جاگہکہ جہاں مارے گئے کتنے مسلماں یک جا
سر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یعنیجمع ہم نے بھی کیا ہے سر و ساماں یک جا
کیونکے پڑتے ہیں ترے پاؤں نسیم سحریاس کے کوچے میں ہے صد گنج شہیداں یک جا
تو بھی رونے کو ملا دل ہے ہمارا بھی بھراہوجے اے ابر بیابان میں گریاں یک جا
بیٹھ کر میرؔ جہاں خوب نہ رویا ہووےایسی کوچے میں نہیں ہے ترے جاناں یک جا
سیر کر عندلیب کا احوالہیں پریشاں چمن میں کچھ پر و بال
طبع غم تو گئی طبیب ولےپھر نہ آیا کبھو مزاج بحال
سبزہ نو رستہ رہ گزار کا ہوںسر اٹھایا کہ ہو گیا پامال
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سےآشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
سرد مہری کی بسکہ گل رو نےاوڑھی ابر بہار نے بھی شال
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپاکہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
ہم تو سہہ گزرے کج روی تیرینہ نبھے پر اے فلک یہ چال
دیدۂ تر پہ شب رکھا تھا میرؔلکۂ ابر ہے مرا رومال
گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئیرشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی
کب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کومر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی
وے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیںاب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی
خوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفرہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی
اضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوںجان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی
کیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرےتیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی
اپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامنیادگار مژۂ میرؔ ہیں واں خار کئی
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کرغیرت سے رہ گئے ہم یکسو کباب ہو کر
اس روئے آتشیں سے برقع سرک گیا تھاگل بہہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہو کر
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سےدیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہو کر
پردہ رہے گا کیوں کر خورشید خاوری کانکلے ہے وہ بھی اب بے نقاب ہو کر
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہےنکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہو کر
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میںشکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہو کر
شرم و حیا کہاں تک ہیں میرؔ کوئی دن کےاب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہو کر
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نےاس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے
حسرت لطف عزیزان چمن جی میں رہیسر پہ دیکھا نہ گل و سرو کا سایہ ہم نے
جی میں تھا عرش پہ جا باندھئے تکیہ لیکنبسترہ خاک ہی میں اب تو بچھایا ہم نے
بعد یک عمر کہیں تم کو جو تنہا پایاڈرتے ڈرتے ہی کچھ احوال سنایا ہم نے
یاں فقط ریختہ ہی کہنے نہ آئے تھے ہمچار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے
بارے کل باغ میں جا مرغ چمن سے مل کرخوبی گل کا مزہ خوب اڑایا ہم نے
تازگی داغ کی ہر شام کو بے ہیچ نہیںآہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے
دشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بنقیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے
بیکلی سے دل بیتاب کی مر گزرے تھےسو تہ خاک بھی آرام نہ پایا ہم نے
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میرؔدل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے
مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاںجاتی ہیں لا مکاں کو دل شب کی زاریاں
چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراشاب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں
سو بار ہم نے گل کے گئے پر چمن کے بیچبھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں
کشتے کی اس کے خاک بھرے جسم زار پرخالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں
تربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبارجی سے گئے ولے نہ گئیں راز داریاں
اب کس کس اپنی خواہش مردہ کو روئیےتھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگمدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
کیا جانتے تھے ایسے دن آ جائیں گے شتابروتے گذرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں
گل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولےدل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں
جاؤ گے بھول عہد کو فرہاد و قیس کےگر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں
بچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میرؔکاٹیں تھیں کوہ کن نے بہت راتیں بھاریاں
کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوےالٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوے
رکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سےبلا سے چاک ہی ہو جاوے سینہ ٹک ہوا آوے
ترا آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دم آخریہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے
یہ رسم آمد و رفت دیار عشق تازہ ہےہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے
اسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالاوگرنہ برق جا کر آشیاں میرا جلا آوے
امید رحم ان سے سخت نافہمی ہے عاشق کییہ بت سنگیں دلی اپنی نہ چھوڑیں گر خدا آوے
یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہوتو زاہد پیر نا بالغ ہے بے تہ تجھ کو کیا آوے
ہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بے جا ہےیہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے
برنگ بوئے غنچہ عمر اک ہی رنگ میں گزرےمیسر میرؔ صاحب گر دل بے مدعا آوے
شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیکدوری رہ ہے راہ بر نزدیک
آہ کرنے میں دم کو سادھے رہکہتے ہیں دل سے ہے جگر نزدیک
دور والوں کو بھی نہ پہنچے ہمیہی نہ تم سے ہیں مگر نزدیک
ڈوبیں دریا و کوہ و شہر و دشتتجھ سے سب کچھ ہے چشم تر نزدیک
حرف دوری ہے گرچہ انشا لیکدیجو خط جا کے نامہ بر نزدیک
دور اب بیٹھتے ہیں مجلس میںہم جو تم سے تھے بیشتر نزدیک
خبر آتی ہے سو بھی دور سے یاںآؤ یک بار بے خبر نزدیک
توشۂ آخرت کا فکر رہےجی سے جانے کا ہے سفر نزدیک
دور پھرنے کا ہم سے وقت گیاپوچھ کچھ حال بیٹھ کر نزدیک
مر بھی رہ میرؔ شب بہت رویاہے مری جان اب سحر نزدیک
کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہےزمیں سخت ہے آسماں دور ہے
جرس راہ میں جملہ تن شور ہےمگر قافلے سے کوئی دور ہے
تمنائے دل کے لیے جان دیسلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
نہ ہو کس طرح فکر انجام کاربھروسہ ہے جس پر سو مغرور ہے
پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہکسو کا مگر خون منظور ہے
دل اپنا نہایت ہے نازک مزاجگرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے
کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دلوہی بے قراری بدستور ہے
نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھومگر چشم خوں بار ناسور ہے
تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھنہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے
بہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔبس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے
کیا میں نے رو کر فشار گریباںرگ ابر تھا تار تار گریباں
کہیں دست چالاک ناخن نہ لاگےکہ سینہ ہے قرب و جوار گریباں
نشاں اشک خونیں کے اڑتے چلے ہیںخزاں ہو چلی ہے بہار گریباں
جنوں تیری منت ہے مجھ پر کہ تو نےنہ رکھا مرے سر پہ بار گریباں
زیارت کروں دل سے خستہ جگر کیکہاں ہوگی یا رب مزار گریباں
کہیں جائے یہ دور دامن بھی جلدیکہ آخر ہوا روزگار گریباں
پھروں میرؔ عریاں نہ دامن کا غم ہونہ باقی رہے خار خار گریباں
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیادوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میںبھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا
خاطر نشاں اے صید فگن ہوگی کب تریتیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا
یادش بخیر دشت میں مانند عنکبوتدامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا
مارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھےجس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا
آئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صباہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میرؔیہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کیاس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی
رکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تاملسیر اس جہاں کی رہرو پر تو نے سرسری کی
شبہا بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہےمت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی
پائے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سےسر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی
پیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکنمجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی
گریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارےیہ کشت خشک تو نے اے چشم پھر ہری کی
یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر ابرکھیے بنائے تازہ اس چرخ چنبری کی
خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریےہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی
ہم سے جو میرؔ اڑ کر افلاک چرخ میں ہیںان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی
کب تلک جی رکے خفا ہووےآہ کریے کہ ٹک ہوا ہووے
جی ٹھہر جائے یا ہوا ہووےدیکھیے ہوتے ہوتے کیا ہووے
کر نمک سود سینۂ مجروحجی میں گر ہے کہ کچھ مزہ ہووے
کاہش دل کی کیجیے تدبیرجان میں کچھ بھی جو رہا ہووے
چپ کا باعث ہے بے تمنائیکہیے کچھ بھی تو مدعا ہووے
بیکلی مارے ڈالتی ہے نسیمدیکھیے اب کے سال کیا ہووے
مر گئے ہم تو مر گئے تو جیدل گرفتہ تری بلا ہووے
عشق کیا ہے درست اے ناصحجانے وہ جس کا دل لگا ہووے
پھر نہ شیطاں سجود آدم سےشاید اس پردے میں خدا ہووے
نہ سنا رات ہم نے اک نالہغالباً میرؔ مر رہا ہووے
رات پیاسا تھا میرے لوہو کاہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کوفکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشککشتہ ہوں سبزۂ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوفہے وظیفہ یہی دعا گو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارےعشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانعریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگرکھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوںکارخانہ ہے واں تو جادو کا
میرؔ ہر چند میں نے چاہا لیکنہ چھپا عشق طفل بد خو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھراڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرویعنی سایۂ سر و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو
پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہےمیں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو
کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہتاس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو
پھیر دئیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرفتم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو
آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سبحرف رنجش بیچ میں لا کر اور نہ اب دلگیر کرو
شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دلروویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میرؔ کرو
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئیبے قراری کو جانے تب کوئی
ہاں خدا مغفرت کرے اس کوصبر مرحوم تھا عجب کوئی
جان دے گو مسیح پر اس سےبات کہتے ہیں تیرے لب کوئی
بعد میرے ہی ہو گیا سنسانسونے پایا تھا ورنہ کب کوئی
اس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تکآہ و نالہ کرے نہ اب کوئی
ایک غم میں ہوں میں ہی عالم میںیوں تو شاداں ہے اور سب کوئی
نا سمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہےمجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی
اور محزوں بھی ہم سنے تھے ولےمیرؔ سا ہو سکے ہے کب کوئی
کہ تلفظ طرب کا سن کے کہےشخص ہوگا کہیں طرب کوئی
خوش قداں جب سوار ہوتے ہیںسرو و قمری شکار ہوتے ہیں
تیرے بالوں کے وصف میں میرےشعر سب پیچ دار ہوتے ہیں
آؤ یاد بتاں پہ بھول نہ جاؤیہ تغافل شعار ہوتے ہیں
دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاسصحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں
صدقے ہو لیویں ایک دم تیرےپھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں
تو کرے ہے قرار ملنے کاہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں
ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیںدلی سے بھی دیار ہوتے ہیں
رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہرفتنۂ روزگار ہوتے ہیں
اس کے نزدیک کچھ نہیں عزتمیرؔ جی یوں ہی خوار ہوتے ہیں
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد ساسو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا
بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میںپھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا
قصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیسلیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا
حاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیںمعشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا
کیا میرؔ ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑانمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا
دست و پا مارے وقت بسمل تکہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تک
کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخسعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک
درپئے محمل اس کے جیسے جرسمیں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک
بجھ گئے ہم چراغ سے باہرکہیو اے باد شمع محفل تک
نہ گیا میرؔ اپنی کشتی سےایک بھی تختہ پارہ ساحل تک
دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھامانند آئنے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو توجانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہمصحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیںجس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات ز خود رفتگی میں میرؔگہہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
موے سہتے سہتے جفا کاریاںکوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
ہماری تو گزری اسی طور عمریہی نالہ کرنا یہی زاریاں
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھامری آہ نے برچھیاں ماریاں
گیا جان سے اک جہاں لے کے شوخنہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
کہاں تک یہ تکلیف ما لا یطاقہوئیں مدتوں ناز برداریاں
خط و کاکل و زلف و انداز و نازہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں
کیا درد و غم نے مجھے ناامیدکہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
تری آشنائی سے ہی حد ہوئیبہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیںکھنچیں میرؔ تجھ سے ہی یہ خواریاں
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کینظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
سحر پائے گل بے خودی ہم کو آئیکہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میںبرنگ صبا جستجو تھی کسو کی
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کوکہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشنبہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
دم مرگ دشوار دی جان ان نےمگر میرؔ کو آرزو تھی کسو کی
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایاالقصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرےافسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
جیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کےسینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میںآخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتےجیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھاجس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شبواں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کیکسو سے کام نہیں رکھتی جنس آدم کی
کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوںکہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی
ہمیں تو باغ کی تکلیف سے معاف رکھوکہ سیر و گشت نہیں رسم اہل ماتم کی
تنک تو لطف سے کچھ کہہ کہ جاں بہ لب ہوں میںرہی ہے بات مری جان اب کوئی دم کی
گزرنے کو تو کج و واکج اپنی گزرے ہےجفا جو ان نے بہت کی تو کچھ وفا کم کی
گھرے ہیں درد و الم میں فراق کے ایسےکہ صبح عید بھی یاں شام ہے محرم کی
قفس میں میرؔ نہیں جوش داغ سینے پرہوس نکالی ہے ہم نے بھی گل کے موسم کی
یار عجب طرح نگہ کر گیادیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا
تنگ قبائی کا سماں یار کیپیرہن غنچہ کو تہ کر گیا
جانا ہے اس بزم سے آیا تو کیاکوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا
وصف خط و خال میں خوباں کے میرؔنامۂ اعمال سیہ کر گیا
پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچانالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا
اس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھاوےکام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا
جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کیآوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا
لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرےکار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا
لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئیوقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا
یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سےپژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا
مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویںخوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا
یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا شمعیہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا
افسوس میرؔ وے جو ہونے شہید آئےپھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا
سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہواپھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا
آئے برنگ ابر عرق ناک تم ادھرحیران ہوں کہ آج کدھر کو کرم ہوا
تجھ بن شراب پی کے موئے سب ترے خرابساقی بغیر تیرے انہیں جام سم ہوا
کافر ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے عشق میںبیت الحرام تھا سو وہ بیت الصنم ہوا
خانہ خراب کس کا کیا تیری چشم نےتھا کون یوں جسے تو نصیب ایک دم ہوا
تلوار کس کے خون میں سر ڈوب ہے ترییہ کس اجل رسیدہ کے گھر پر ستم ہوا
آئی نظر جو گور سلیماں کی ایک روزکوچے پر اس مزار کے تھا یہ رقم ہوا
کاے سرکشاں جہان میں کھینچا تھا میں بھی سرپایان کار مور کی خاک قدم ہوا
افسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلاف عقلبار علاقہ سے تو عبث پشت خم ہوا
اہل جہاں ہیں سارے ترے جیتے جی تلکپوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو عدم ہوا
کیا کیا عزیز دوست ملے میرؔ خاک میںنادان یاں کسو کا کسو کو بھی غم ہوا
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیںوقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہننگ ہستی ہوں مری جائے بجز نام نہیں
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچاعمر گزری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبطسو تو بے تابئ دل بن مجھے آرام نہیں
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہےکچھ تو ہے میرؔ کہ اک دم تجھے آرام نہیں
ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہےپھر چاہ جس کی مطلق ہے ہی نہیں ہنر ہے
ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاںیہ کار گاہ ساری دکان شیشہ گر ہے
ڈھایا جنوں نے اس کو ان پر خرابی آئیجانا گیا اسی سے دل بھی کسو کا گھر ہے
تجھ بن شکیب کب تک بے فائدہ ہوں نالاںمجھ نالہ کش کے تو اے فریاد رس کدھر ہے
صید افگنو ہمارے دل کو جگر کو دیکھواک تیر کا ہدف ہے اک تیغ کا سپر ہے
اہل زمانہ رہتے اک طور پر نہیں ہیںہر آن مرتبے سے اپنے انہیں سفر ہے
کافی ہے مہر قاتل محضر پہ خوں کے میرےپھر جس جگہ یہ جاوے اس جا ہی معتبر ہے
تیری گلی سے بچ کر کیوں مہر و مہ نہ نکلیںہر کوئی جانتا ہے اس راہ میں خطر ہے
وے دن گئے کہ آنسو روتے تھے میرؔ اب توآنکھوں میں لخت دل ہے یا پارۂ جگر ہے
رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتےآنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے
کھول کر آنکھ اڑا دید جہاں کا غافلخواب ہو جائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے
داغ اگتے رہے دل میں مری نومیدی سےہارا میں تخم تمنا کو بھی بوتے بوتے
جی چلا تھا کہ ترے ہونٹ مجھے یاد آئےلعل پائیں ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے
جم گیا خوں کف قاتل پہ طرح میرؔ زبسان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوںعمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوں
اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحاپند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں
سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخمے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں
نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھےایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں
جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیںاس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں
جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کاردیہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں
کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعیگرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں
یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریےمنصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں
اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جیباز آؤ ورنہ اپنے نام کو میں میرؔ ہوں
زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میںبندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں
نہ کھول اے یار میرا گور میں منہکہ حسرت ہے مری جاگا کفن میں
رکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتےنہیں رہتا چراغ ایسی پون میں
جلے دل کی مصیبت اپنے سن کرلگی ہے آگ سارے تن بدن میں
نہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقیمسافر ہی رہے اکثر وطن میں
خرد مندی ہوئی زنجیر ورنہگزرتی خوب تھی دیوانہ پن میں
کہاں کے شمع و پروانے گئے مربہت آتش بجاں تھے اس چمن میں
کہاں عاجز سخن قادر سخن ہوںہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں
گداز عشق میں بہ بھی گیا میرؔیہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں
خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیاگل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا
کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدرمیں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا
میں نو دمیدہ بال چمن زاد طیر تھاپر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا
ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کاسینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا
ہے اس کے حرف زیر لبی کا سبھوں میں ذکرکیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا
تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھوہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا
کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کیدل دار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا
آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمہارے ساتھکچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا
کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میرؔناکردہ جرم میں تو گنہ گار ہو گیا
ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سےچھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے
مند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاکروشنی ہے سو یاں مرے دم سے
تم جو دل خواہ خلق ہو ہم کودشمنی ہے تمام عالم سے
درہمی آ گئی مزاجوں میںآخر ان گیسوان درہم سے
سب نے جانا کہیں یہ عاشق ہےبہہ گئے اشک دیدۂ نم سے
مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کوکہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے
اکثر آلات جور اس سے ہوئےآفتیں آئیں اس کے مقدم سے
دیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاںتیغ نکلی اس ابروئے خم سے
کوئی بیگانہ گر نہیں موجودمنہ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے
وجہ پردے کی پوچھیے بارےملیے اس کے کسو جو محرم سے
درپئے خون میرؔ ہی نہ رہوہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے
کب تلک یہ ستم اٹھائیے گاایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا
شکل تصویر بے خودی کب تککسو دن آپ میں بھی آئیے گا
سب سے مل چل کہ حادثے سے پھرکہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پائیے گا
نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیمکوئی دن اور باؤ کھائیے گا
کہیے گا اس سے قصۂ مجنوںیعنی پردے میں غم سنایئے گا
اس کے پابوس کی توقع پراپنے تیں خاک میں ملایئے گا
اس کے پاؤں کو جا لگی ہے حناخوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا
شرکت شیخ و برہمن سے میرؔکعبہ و دیر سے بھی جائیے گا
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجدکسی ویرانے میں بنایئے گا
کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سےکیا کیا نہ ابر آ کر یاں زور زور برسے
وحشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیوپھر آوے یا نہ آوے نو پر اٹھا جو گھر سے
اب جوں سرشک ان سے پھرنے کی چشم مت رکھجو خاک میں ملے ہیں گر کر تری نظر سے
دیدار خواہ اس کے کم ہوں تو شور کم ہوہر صبح اک قیامت اٹھتی ہے اس کے در سے
داغ ایک ہو جلا بھی خوں ایک ہو بہا بھیاب بحث کیا ہے دل سے کیا گفتگو جگر سے
دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختے کےبہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے
انجام کار بلبل دیکھا ہم اپنی آنکھوںآوارہ تھے چمن میں دو چار ٹوٹے پر سے
بے طاقتی نے دل کی آخر کو مار رکھاآفت ہمارے جی کی آئی ہمارے گھر سے
دل کش یہ منزل آخر دیکھا تو آہ نکلیسب یار جا چکے تھے آئے جو ہم سفر سے
آوارہ میرؔ شاید واں خاک ہو گیا ہےیک گرد اٹھ چلے ہے گاہ اس کی رہ گزر سے
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کردستۂ داغ و فوج غم لے کر
دست کش نالہ پیش رو گریہآہ چلتی ہے یاں علم لے کر
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہےیعنی آگے چلیں گے دم لے کر
اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیکغم دوری چلے ہیں ہم لے کر
تیری وضع ستم سے اے بے دردایک عالم گیا الم لے کر
بارہا صید گہ سے اس کی گئےداغ یاس آہوئے حرم لے کر
ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گررہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر
دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشقجائے گا جان بھی یہ غم لے کر
شوق اگر ہے یہی تو اے قاصدہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر
میرؔ صاحب ہی چوکے اے بد عہدورنہ دینا تھا دل قسم لے کر
دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالالے یار مرے سلمہ اللہ تعالی
کچھ میں نہیں اس دل کی پریشانی کا باعثبرہم ہی مرے ہاتھ لگا تھا یہ رسالا
معمور شرابوں سے کبابوں سے ہے سب دیرمسجد میں ہے کیا شیخ پیالہ نہ نوالا
گزرے ہے لہو واں سر ہر خار سے اب تکجس دشت میں پھوٹا ہے مرے پاؤں کا چھالا
گر قصد ادھر کا ہے تو ٹک دیکھ کے آنایہ دیر ہے زہاد نہ ہو خانۂ خالا
جس گھر میں ترے جلوے سے ہو چاندنی کا فرشواں چادر مہتاب ہے مکڑی کا سا جالا
دشمن نہ کدورت سے مرے سامنے ہو جوتلوار کے لڑنے کو مرے کیجو حوالہ
ناموس مجھے صافی طینت کی ہے ورنہرستم نے مری تیغ کا حملہ نہ سنبھالا
دیکھے ہے مجھے دیدۂ پر خشم سے وہ میرؔمیرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالا
ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تواوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو
چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سبحاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو
جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہر سحر کےیا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو
آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبتکڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو
تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہےدس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو
تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیےگل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو
دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائیدریائے حسن وہ مہ کشتی بکف گدا تو
ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کاہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو
عالم ہے شوق کشتۂ خلقت ہے تیری رفتہجانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو
منہ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہےپر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو
آتی بہ خود نہیں ہے باد بہار اب تکدو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو
کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملاناکرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو
گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہےظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو
کہہ سانجھ کے موئے کو اے میرؔ روئیں کب تکجیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو
تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہواشکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا
قاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرورجاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا
وہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سےنکلے ہے کوئی لخت دل اب سو جلا ہوا
حیران رنگ باغ جہاں تھا بہت رکاتصویر کی کلی کی طرح دل نہ وا ہوا
عالم کی بے فضائی سے تنگ آ گئے تھے ہمجاگا سے دل گیا جو ہمارا بجا ہوا
در پے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیےانجام کار مدعی کا مدعا ہوا
اس کے گئے پہ دل کی خرابی نہ پوچھیےجیسے کسو کا کوئی نگر ہو لٹا ہوا
بد تر ہے زیست مرگ سے ہجران یار میںبیمار دل بھلا نہ ہوا تو بھلا ہوا
کہتا تھا میرؔ حال تو جب تک تو تھا بھلاکچھ ضبط کرتے کرتے ترا حال کیا ہوا
ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنےپر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے
میں نے اس اس صناع سے سر کھینچا ہےکہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے
کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نےہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے
آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہارآتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے
دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستیہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے
کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیےاس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے
عمر گزری کہ نہیں دو آدم سے کوئیجس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے
تو ہے بیچارہ گدا میرؔ ترا کیا مذکورمل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والےگلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
وہ کالا چور ہے خال رخ یارکہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرا لے
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتمخدا ہی اس مصیبت سے نکالے
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیےکبھو تو پاس ہم کو بھی بلا لے
دلا بازی نہ کر ان گیسوؤں سےنہیں آساں کھلانے سانپ کالے
تپش نے دل جگر کی مار ڈالابغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
نہ مہکے بوئے گل اے کاش یک چندابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
کسے قید قفس میں یاد گل کیپڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
ستایا میرؔ غم کش کو کنھوں نےکہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیالپرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال
مشکل ہے مٹ گئے ہوئے نقشوں کی پھر نمودجو صورتیں بگڑ گئیں ان کا نہ کر خیال
مو کو عبث ہے تاب کلی یوں ہی تنگ ہےاس کا دہن ہے وہم و گمان و کمر خیال
رخسار پر ہمارے ڈھلکنے کو اشک کےدیکھے ہے جو کوئی سو کرے ہے گہر خیال
کس کو دماغ شعر و سخن ضعف میں کہ میرؔاپنا رہے ہے اب تو ہمیں بیشتر خیال
دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہوآئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو
عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہووہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو
مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوکعاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو
رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہےجس کو شعور ہو تو گنہ گار کیوں نہ ہو
دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاںدر کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو
آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائناتانکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو
ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوںہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو
موئے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاںاب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو
نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہلپھر میرؔ اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہواتپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایاہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شایدسرکش یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سےہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میرؔسمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیںاس ریختے کو ورنہ ہم خوب کر چکے ہیں
مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیواس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کر چکے ہیں
حسن کلام کھینچے کیوں کر نہ دامن دلاس کام کو ہم آخر محبوب کر چکے ہیں
ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہوگاہم اس طرح کے کتنے آشوب کر چکے ہیں
رنگ پریدہ قاصد باد سحر کبوترکس کس کے ہم حوالے مکتوب کر چکے ہیں
تنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریےآگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کر چکے ہیں
ہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کاغالب کہ طبع دل کو مغلوب کر چکے ہیں
کیا جانیے کہ کیا ہے اے میرؔ وجہ ضد کیسو بار ہم تو اس کو محجوب کر چکے ہیں
حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سناشب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیںہمرا خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گزرے ہے ترے غم میں مریگاہ تو نے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میرؔبے خبر دیکھا انہیں میں جنہیں آگاہ سنا
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تکسوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک
رنگینیٔ عشق اس کے ملے پر ہوئی معلومصحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک
کب سے متحمل ہے جفاؤں کا دل زارزنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک
ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھراؤ کیے ہیںمارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک
وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہپر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک
مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتےواقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک
برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیکاک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک
کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسےپوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک
اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہویوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک
خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہماراجاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک
نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میںسو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک
دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میںہیں میرؔ جی آوارہ پری دار سے اب تک
خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیاچاہ یوسف تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا
سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہونے میں رہیحق بہ جانب تھا ہمارے سخت ماتم ہو گیا
ایک سا عالم نہیں رہتا ہے اس عالم کے بیچاب جہاں کوئی نہیں یاں ایک عالم ہو گیا
آنکھ کے لڑتے تری آشوب سا برپا ہوازلف کے درہم ہوئے اک جمع برہم ہو گیا
اس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سےآب حیواں یمن طالع سے مرے سم ہو گیا
وقت تب تک تھا تو سجدہ مسجدوں میں کفر تھافائدہ اب جب کہ قد محراب سا خم ہو گیا
عشق ان شہری غزالوں کا جنوں کو اب کھنچاوحشت دل بڑھ گئی آرام جاں رم ہو گیا
جی کھنچے جاتے ہیں فرط شوق سے آنکھوں کی اورجن نے دیکھا ایک دم اس کو سو بے دم ہو گیا
ہم نے جو کچھ اس سے دیکھا سو خلاف چشم داشتاپنا عزرائیل وہ جان مجسم ہو گیا
کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میرؔتھا گرہ جو درد چھاتی میں سو اب غم ہو گیا
دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھیاس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی
پامالی عاشق کو منظور رکھے جاناپھر چال کڈھب چلنا ٹھوکر نہ لگانا بھی
برقع کو اٹھا دینا پر آدھے ہی چہرے سےکیا منہ کو چھپانا بھی کچھ جھمکی دکھانا بھی
دیکھ آنکھیں مری نیچی اک مارنا پتھر بھیظاہر میں ستانا بھی پردے میں جتانا بھی
صحبت ہے یہ ویسی ہی اے جان کی آسائشساتھ آن کے سونا بھی پھر منہ کو چھپانا بھی
حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہےسماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے
موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یاروکسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے
اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیرصنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے
یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلبلگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے
ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوںنگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے
جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکےجراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے
کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیےہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے
ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکنکہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے
غم فراق ہے دنبالۂ گرد عیش وصالفقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے
قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دیناجو کچھ بھی پائیے تجھ کو تو آشنا بھی ہے
جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑوکسو کے زخم کو تو نے کبھو سیا بھی ہے
گزار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوںکہ اس دیار میں میرؔ شکستہ پا بھی ہے
شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کروجنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو
فرش مستاں کرو سجادۂ بے تہ کے تئیںمے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو
دامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سےآپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو
نیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہودین و دل پیش کش سادۂ خود کام کرو
ننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرحپر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو
خوب اگر جرعہ مے نوش نہیں کر سکتےخاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو
اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن مینائے شرابخدمت بادہ گساراں ہی سرانجام کرو
مطرب آ کر جو کرے چنگ نوازی تو تمپیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو
خنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میںپاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو
سایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھوہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو
آہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میںایک تو صبح گلستاں میں بھی شام کرو
رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئیمیرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہےتیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سبکارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئےیہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاکحال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میںجادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگایک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا
وہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگاخون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا
لعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیاتاب تو کوئی کوئی ان ہونٹھوں پہ مر جانے لگا
حیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کویوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا
حبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کےیہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا
گرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہوچاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا
عاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہےیعنی وہ محشر خرام اب پاؤں پھیلانے لگا
چشمک اس مہ کی سی دل کش دید میں آئی نہیںگو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا
کیونکر اس آئینہ رو سے میرؔ ملیے بے حجابوہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا
دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویااک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا
پڑتا نہ تھا بھروسا عہد وفاے گل پرمرغ چمن نہ سمجھا میں تو ہزار رویا
ہر گل زمین یاں کی رونے ہی کی جگہ تھیمانند ابر ہر جا میں زار زار رویا
تھی مصلحت کہ رک کر ہجراں میں جان دیجےدل کھول کر نہ غم میں میں ایک بار رویا
اک عجز عشق اس کا اسباب صد الم تھاکل میرؔ سے بہت میں ہو کر دو چار رویا
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہےیاں سلیماں کے مقابل مور ہے
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کیچشم شیر اپنا چراغ گور ہے
جب سے کاغذ باد کا ہے شوق اسےایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھوائے وہ جس کا عصا کش کور ہے
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑاصبح کی بھی باؤ بادی چور ہے
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرفکیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
تھا بلا ہنگامہ آرا میرؔ بھیاب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھاپر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھییہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرےگلی میں تری کل تماشا ہوا تھا
گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیربڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا
گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نےمری اور داماں صحرا ہوا تھا
زہے طالع اے میرؔ ان نے یہ پوچھاکہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا
نہ اک یعقوب رویا اس الم میںکنواں اندھا ہوا یوسف کے غم میں
کہوں کب تک دم آنکھوں میں ہے میرینظر آوے ہی گا اب کوئی دم میں
دیا عاشق نے جی تو عیب کیا ہےیہی میرؔ اک ہنر ہوتا ہے ہم میں
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھااشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا
دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیاٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا
اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولتورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا
مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراںکل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا
اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشتمیں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا
بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیاپر تو نے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا
روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھومیں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا
شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کوناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا
سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میںسینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا
سو بخت تیرہ سے ہوں پامالیٔ صبا میںاس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا
یہ سر گذشت میری افسانہ جو ہوئی ہےمذکور اس کا اس کے کوچے میں جا بجا تھا
سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھبے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا
کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاںاحوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا
آنکھیں مری کھلیں جب جی میرؔ کا گیا تبدیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا
بے روی و زلف یار ہے رونے سے کام یاںدامن ہے منہ پہ ابر نمط صبح و شام یاں
آوازہ ہی جہاں میں ہمارا سنا کروعنقا کے طور زیست ہے اپنی بہ نام یاں
وصف دہن سے اس کے نہ آگے قلم چلےیعنی کیا ہے خامے نے ختم کلام یاں
غالب یہ ہے کہ موسم خط واں قریب ہےآنے لگا ہے متصل اس کا پیام یاں
مت کھا فریب عجز عزیزان حال کاپنہاں کیے ہیں خاک میں یاروں نے دام یاں
کوئی ہوا نہ دست بسر شہر حسن میںشاید نہیں ہے رسم جواب سلام یاں
ناکام رہنے ہی کا تمہیں غم ہے آج میرؔبہتوں کے کام ہو گئے ہیں کل تمام یاں
جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تمپر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم
ہم اپنی چاک جیب کو سی رہتے یا نہیںپھاٹے میں پاؤں دینے کو آئے کہاں سے تم
اب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیںکیا کیا وگرنہ کہتے تھے اپنی زباں سے تم
تنکے بھی تم ٹھہرتے کہیں دیکھے ہیں تنکچشم وفا رکھو نہ خسان جہاں سے تم
جاؤ نہ دل سے منظر تن میں ہے جا یہیپچھتاؤ گے اٹھوگے اگر اس مکاں سے تم
قصہ مرا سنو گے تو جاتی رہے گی نیندآرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم
کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئیآتے نہیں ہو باز مرے امتحاں سے تم
جتنے تھے کل تم آج نہیں پاتے اتنا ہمہر دم چلے ہی جاتے ہو آب رواں سے تم
رہتے نہیں ہو بن گئے میرؔ اس گلی میں راتکچھ راہ بھی نکالو سگ و پاسباں سے تم
رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگاکچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا
غافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہےگر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا
دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیابھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا
مہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرےمیں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا
اب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلقدریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا
ہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیکوہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا
مجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھودروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منہ بگڑ گیاکیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا
عالم کی سیر میرؔ کی صحبت میں ہو گئیطالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا
کیا کہیں اپنی اس کی شب کی باتکہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات
اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سےپھر کھلے گی زبان جب کی بات
نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہوبات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
کس کا روئے سخن نہیں ہے ادھرہے نظر میں ہماری سب کی بات
ظلم ہے قہر ہے قیامت ہےغصے میں اس کے زیر لب کی بات
کہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحمہے خدا جانیے یہ کب کی بات
گو کہ آتش زباں تھے آگے میرؔاب کی کہیے گئی وہ تب کی بات
ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیںورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں
شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہممفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں
داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکنضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں
کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخیہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں
بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوئے شیرتھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں
کیا کہوں میرؔ فراموش کیا ان نے تجھےمیں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں
ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کاروئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونتاب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
اس آستاں سے کس دن پر شور سر نہ پٹکااس کی گلی میں جا کر کس رات میں نہ کوکا
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاںکچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کر لوںتب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھیپھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
یہ عیش گا نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہےہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کرسب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سےمت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیںدینا نہ تھا دل اس کو میں میرؔ آہ چوکا
ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہارہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا
کب اس کا نام لیے غش نہ آ گیا مجھ کودل ستم زدہ کس وقت اس میں جا نہ رہا
ملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھاپھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا
موئے تو ہم پہ دل پر کو خوب خالی کرہزار شکر کسو سے ہمیں گلہ نہ رہا
ادھر کھلی مری چھاتی ادھر نمک چھڑکاجراحت اس کو دکھانے کا اب مزہ نہ رہا
ہوا ہوں تنگ بہت کوئی دن میں سن لیجوکہ جی سے ہاتھ اٹھا کر وہ اٹھ گیا نہ رہا
ستم کا اس کے بہت میں نزار ہوں ممنونجگر تمام ہوا خون و دل بجا نہ رہا
اگرچہ رہ گئے تھے استخوان و پوست ولےلگائی ایسی کہ تسمہ بھی پھر لگا نہ رہا
حمیت اس کے تئیں کہتے ہیں جو میرؔ میں تھیگیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ نہ رہا
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تککہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک
کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیاخذف سے لے کے دیکھا در تر تک
جسے شب آگ سا دیکھا سلگتےاسے پھر خاک ہی پایا سحر تک
ترا منہ چاند سا دیکھا ہے شایدکہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک
جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پرگیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک
ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارکپر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک
کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوارولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک
گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوقکہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک
یہی درد جدائی ہے جو اس شبتو آتا ہے جگر مژگان تر تک
دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوںاگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک
کہاں پھر شور شیون جب گیا میرؔیہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک
دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہےجو ہے سو کوئی دم کو فیصل ہے
کثرت غم سے دل لگا رکنےحضرت دل میں آج دنگل ہے
روز کہتے ہیں چلنے کو خوباںلیکن اب تک تو روز اول ہے
چھوڑ مت نقد وقت نسیہ پرآج جو کچھ ہے سو کہاں کل ہے
بند ہو تجھ سے یہ کھلا نہ کبھودل ہے یا خانۂ مقفل ہے
سینہ چاکی بھی کام رکھتی ہےیہی کر جب تلک معطل ہے
اب کے ہاتھوں میں شوق کے تیرےدامن بادیہ کا آنچل ہے
ٹک گریباں میں سر کو ڈال کے دیکھدل بھی کیا لق و دق جنگل ہے
ہجر باعث ہے بد گمانی کاغیرت عشق ہے تو کب کل ہے
مر گیا کوہ کن اسی غم میںآنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے
اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیںتا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں
متصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دلایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں
وقت خوش ان کا جو ہم بزم ہیں تیرے ہم تودر و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں
جائے گی طاقت پا آہ تو کریے گا کیااب تو ہم حال کبھو تم کو دکھا جاتے ہیں
ایک بیمار جدائی ہوں میں آپھی تس پرپوچھنے والے جدا جان کو کھا جاتے ہیں
غیر کی تیغ زباں سے تری مجلس میں تو ہمآ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں
عرض وحشت نہ دیا کر تو بگولے اتنیاپنی وادی پہ کبھو یار بھی آ جاتے ہیں
میرؔ صاحب بھی ترے کوچے میں شب آتے ہیں لیکجیسے دریوزہ گری کرنے گدا جاتے ہیں
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیاگھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا
دل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تکایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا
کبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراشخط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا
کیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا
دل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھااس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا
میں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچآپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا
شہر دل آہ عجب جائے تھی پر اس کے گئےایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا
آج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معافحرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا
تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنےمیں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے
نہ پوچھو کہ احوال ناگفتہ بہ ہےمصیبت کے مارے ہوئے دل کا اپنے
دل زخم خوردہ کے اور اک لگائیمداوا کیا خوب گھائل کا اپنے
جو خوشہ تھا صد خرمن برق تھا یاںجلایا ہوا ہوں میں حاصل کا اپنے
ٹک ابرو کو میری طرف کیجے مائلکبھو دل بھی رکھ لیجے مائل کا اپنے
ہوا دفتر قیس آخر ابھی یاںسخن ہے جنوں کے اوائل کا اپنے
بنائیں رکھیں میں نے عالم میں کیا کیاہوں بندہ خیالات باطل کا اپنے
مقام فنا واقعے میں جو دیکھااثر بھی نہ تھا گور منزل کا اپنے
دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہشیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ
شیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کیہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ
رو سفیدی ہے نقاب رخ شور مستیریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ
منزل مستی کو پہنچے ہے انہیں سے عالمنشۂ مے بلد و سنگ نشاں ے شیشہ
درمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھیدور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ
جا کے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میںدل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ
کہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مستہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ
دل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کر کے گدازشکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ
جھک گیا دیکھ کے میں میرؔ اسے مجلس میںچشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ
خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیںیوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہوکبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصوداور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نےدس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبالحلقہ حلقہ تمہارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریےیاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتےنہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویشکون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچیے رنجیاں سے یا رب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اببس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میرؔ منہ پہ ترےنظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
کل چمن میں گل و سمن دیکھاآج دیکھا تو باغ بن دیکھا
کیا ہے گلشن میں جو قفس میں نہیںعاشقوں کا جلا وطن دیکھا
ذوق پیکان تیر میں تیرےمدتوں تک جگر نے چھن دیکھا
گھر کے گھر جلتے تھے پڑے تیرےداغ دل دیکھے بس چمن دیکھا
ایک چشمک دو صد سنان مژہاس نکیلے کا بانکپن دیکھا
شکر زاہد کا اپنی آنکھوں میںمے عوض خرقہ مرتہن دیکھا
حسرت اس کی جگہ تھی خوابیدہمیرؔ کا کھول کر کفن دیکھا
نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میںیہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں
جاتا ہے اک ہجوم غم عشق جی کے ساتھہنگامہ لے چلے ہیں ہم اس بھی جہان میں
یا رب کوئی تو واسطہ سرگشتگی کا ہےیک عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں
ہم اس سے آہ سوز دل اپنا نہ کہہ سکےتھے آتش دروں سے پھپھولے زبان میں
غم کھینچنے کو کچھ تو توانائی چاہیےسویاں نہ دل میں تاب نہ طاقت ہے جان میں
غافل نہ رہیو ہم سے کہ ہم وے نہیں رہےہوتا ہے اب تو حال عجب ایک آن میں
وے دن گئے کہ آتش غم دل میں تھی نہاںسوزش رہے ہے اب تو ہر اک استخوان میں
دل نذر و دیدہ پیشکش اے باعث حیاتسچ کہہ کہ جی لگے ہے ترا کس مکان میں
کھینچا نہ کر تو تیغ کہ اک دن نہیں ہیں ہمظالم قباحتیں ہیں بہت امتحان میں
پھاڑا ہزار جا سے گریبان صبر میرؔکیا کہہ گئی نسیم سحر گل کے کان میں
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگتب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ
بات عمل کی چلی ہی جاتی ہےہے مگر اوج بن عنق کی ٹانگ
بن جو کچھ بن سکے جوانی میںرات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ
عشق کا شور کوئی چھپتا ہےنالۂ عندلیب ہے گلبانگ
اس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کیدیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ
کس طرح ان سے کوئی گرم ملےسیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ
چلی جاتی ہے حسب قدر بلنددور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ
تفرہ باطل تھا طور پر اپنےورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ
میں نے کیا اس غزل کو سہل کیاقافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ
میرؔ بندوں سے کام کب نکلامانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
سوزش دل سے مفت گلتے ہیںداغ جیسے چراغ جلتے ہیں
اس طرح دل گیا کہ اب تک ہمبیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں
بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیںجیسے دریا کہیں ابلتے ہیں
دم آخر ہے بیٹھ جا مت جاصبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں
تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیںایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں
فتنہ درسر بتان حشر خرامہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں
نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباںسوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں
اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑسانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں
تھے جو اغیار سنگ سینے کےاب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں
شمع رو موم کے بنے ہیں مگرگرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں
میرؔ صاحب کو دیکھیے جو بنےاب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں
غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیااس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا
رنگ اڑ چلا چمن میں گلوں کا تو کیا نسیمہم کو تو روزگار نے بے بال و پر کیا
نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میںآخر انہیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا
مرتا ہوں جان دیں ہیں وطن داریوں پہ لوگاور سنتے جاتے ہیں کہ ہر اک نے سفر کیا
کیا جانوں بزم عیش کہ ساقی کی چشم دیکھمیں صحبت شراب سے آگے سفر کیا
جس دم کہ تیغ عشق کھنچی بوالہوس کہاںسن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا
دل زخمی ہو کے تجھ تئیں پہنچا تو کم نہیںاس نیم کشتہ نے بھی قیامت جگر کیا
ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست نازذوق خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا
وہ دشت خوف ناک رہا ہے مرا وطنسن کر جسے خضر نے سفر سے حذر کیا
کچھ کم نہیں ہیں شعبدہ بازوں سے میگساردارو پلا کے شیخ کو آدم سے خر کیا
ہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گرد باد کےکیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا
لکنت تری زبان کی ہے سحر جس سے شوخیک حرف نیم گفتہ نے دل پر اثر کیا
بے شرم محض ہے وہ گنہ گار جن نے میرؔابر کرم کے سامنے داماں تر کیا
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کےگل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم توگرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہودل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکیمیں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئیرخساروں کو گو تو نے برقع سے چھپا رکھا
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیںجھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نےسو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کیمیں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
قطعی ہے دلیل اے میرؔ اس تیغ کی بے آبیرحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہےکیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے
جیب اور آستیں سے رونے کا کام گزراسارا نچوڑ اب تو دامن پر آ رہا ہے
اب چیت گر نہیں کچھ تازہ ہوا ہوں بیکلآیا ہوں جب بہ خود میں جی اس میں جا رہا ہے
کاہے کا پاس اب تو رسوائی دور پہنچیراز محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے
گرد رہ اس کی یا رب کس اور سے اٹھے گیسو سو غزال ہر سو آنکھیں لگا رہا ہے
بندے تو طرحدار وہیں طرح کش تمہارےپھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے
دیکھ اس دہن کو ہر دم اے آرسی کہ یوں ہیخوبی کا در کسو کے منہ پر بھی وا رہا ہے
وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سبکس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے
اتنا خزاں کرے ہے کب زرد رنگ پر یاںتو بھی کسو نگہ سے اے گل جدا رہا ہے
رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطرجینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے
اب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سےجینے سے میرؔ شاید کچھ دل اٹھا رہا ہے
کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئیدو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی
کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجرسو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی
گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیامسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی
ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہےآیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی
خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیاپیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی
کتنا خلاف وعدہ ہوا ہوگا وہ کہ یاںنومیدی و امید مساوات ہو گئی
آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جامستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی
ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کرگویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی
دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھاک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی
اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرورنجش کی وجہ میرؔ وہ کیا بات ہو گئی
گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کیجلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی
پڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخرمرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی
کوئی بات نکلے ہے دشوار منہ سےٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بہ لب کی
تو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی
یکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کےبہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی
دماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیںہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی
تجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گزریتری راہ میں اپنے پیے طلب کی
دل عرش سے گزرے ہے ضعف میں بھییہ زور آوری دیکھو زاری شب کی
عجب کچھ ہے گر میرؔ آوے میسرگلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی
کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کاشاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا
ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کےمیخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا
بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہےکیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا
مر جائے گا باتوں میں کوئی غم زدہ یوں ہیہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا
تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہمعلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا
ہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیوں کربالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا
آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتیحیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا
برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئیتب دیدۂ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا
آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کیجس خاک پہ ہوگا اثر اس کی کف پا کا
تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میرؔکس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا
موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہااس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیفخبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا
بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلفسر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا
کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرحتمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا
شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شبپھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا
بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالاوہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھاوہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا
تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیںوہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا
ستم میں غم میں سرانجام اس کا کیا کہیےہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا
بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہہ نکلارہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا
سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئےکہ اس سے قطرۂ خوں بھی نہ یادگار رہا
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھرمیں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیںآرزوئے جہان ہوتے ہیں
گوشۂ دیوار تک تو جا نالےاس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں
کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بنگھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں
دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جاروضے سب گلستاں ہوتے ہیں
حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرضخوبرو بد زبان ہوتے ہیں
غمزۂ چشم خوش قدان زمیںفتنۂ آسمان ہوتے ہیں
کیا رہا ہے مشاعرے میں ابلوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
میرؔ و مرزا رفیعؔ و خواجہ میرؔکتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کیاس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی
ان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کوکیا نقل کروں خوبی اس چہرہ کتابی کی
بھنتے ہیں دل اک جانب سکتے ہیں جگر یکسوہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی
تلخ اس لب میگوں سے سب سنتے ہیں کس خاطرتہہ دار نہیں ہوتی گفتار شرابی کی
یک بو کشی بلبل ہے موجب صد مستیپر زور ہے کیا دارو غنچے کی گلابی کی
اب سوز محبت سے سارے جو پھپھولے ہیںہے شکل مرے دل کی سب شیشہ حبابی کی
نش مردہ مرے منہ سے یاں حرف نہیں نکلاجو بات کہ میں نے کی سو میرؔ حسابی کی
ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئیطرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھامری خاک بدلی سی سب چھا گئی
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھگل و برگ بے درد پھیلا گئی
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کےہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
جگر منہ تک آتے نہیں بولتےغرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
نہ ہم رہ کوئی نا کسی سے گیامری لاش تا گور تنہا گئی
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جاؤں چلاطبع غم جگر کو مرے کھا گئی
کوئی رہنے والی ہے جان عزیزگئی گر نہ امروز فردا گئی
کیے دست و پا گم جو میرؔ آ گیاوفا پیشہ مجلس اسے پا گئی
یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریںتو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں
تمہیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کاہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں
رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہسیاہ کر دیں زمانے کو ہم جو آہ کریں
جو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیفہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں
ہوائے مے کدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلمنماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں
ہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کاگزار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو توجو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں
بری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہمجو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں
اگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میرؔادھر کو یار تأمل سے گر نگاہ کریں
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیںسر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں
جویں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدتسائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں
لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیںرو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں
پچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کریہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں
قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایتوے میرؔ جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں
کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا
پائمال صد جفا نا حق نہ ہو اے عندلیبسبزۂ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا
کون سے یہ بحر خوبی کی پریشاں زلف ہےآتی ہے آنکھوں میں میری موج دریا آشنا
رونا ہی آتا ہے ہم کو دل ہوا جب سے جداجائے رونے ہی کی ہے جاوے جب ایسا آشنا
نا سمجھ ہے تو جو میری قدر نئیں کرتا کہ شوخکم بہت ملتا ہے پھر دل خواہ اتنا آشنا
بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکےیک مژہ رنگ فراری اس چمن کا آشنا
کو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترنخاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا
کیا کروں کس سے کہوں اتنا ہی بیگانہ ہے یارسارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آشنا
جس سے میں چاہی وساطت ان نے یہ مجھ سے کہاہم تو کہتے گر میاں ہم سے وہ ہوتا آشنا
یوں سنا جا ہے کہ کرتا ہے سفر کا عزم جزمساتھ اب بیگانہ وضعوں کے ہمارا آشنا
شعر صائبؔ کا مناسب ہے ہماری اور سےسامنے اس کے پڑھے گر یہ کوئی جا آشنا
تا بجاں ما ہمرہیم و تا بہ منزل دیگراںفرق باشد جان ما از آشنا تا آشنا
داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرؔہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا
گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کاخانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیںمرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا
صد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفنکشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا
یک قطرہ خون ہو کے پلک سے ٹپک پڑاقصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا
تلوار مارنا تو تمہیں کھیل ہے ولےجاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا
بدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حالاحوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا
ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چلہوگا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا
اے تاج شہ نہ سر کو فرو لاؤں تیرے پاسہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا
ہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئےدیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا
بیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میرؔسونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا
نہیں وسواس جی گنوانے کےہائے رے ذوق دل لگانے کے
میرے تغییر حال پر مت جااتفاقات ہیں زمانے کے
دم آخر ہی کیا نہ آنا تھااور بھی وقت تھے بہانے کے
اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیںڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے
بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبانہیں بھوکے ہم آب و دانے کے
مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحببندے ہیں اپنے جی چلانے کے
اب گریباں کہاں کہ اے ناصحچڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے
چشم نجم سپہر جھپکے ہےصدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے
دل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئےآگے آگے تمہارے آنے کے
کب تو سوتا تھا گھر مرے آ کرجاگے تالا غریب خانے کے
مژہ ابرو نگہ سے اس کی میرؔکشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے
تیر و تلوار و سیل یکجا ہیںسارے اسباب مار جانے کے
نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچااس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا
رسم قلمرو عشق مت پوچھ کچھ کہ ناحقایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
تھا بد شراب ساقی کتنا کہ رات مے سےمیں نے جو ہاتھ کھینچا ان نے کٹار کھینچا
مستی میں شکل ساری نقاش سے کھنچی پرآنکھوں کو دیکھ اس کی آخر خمار کھینچا
جی کھنچ رہے ہیں اودھر عالم کا ہوگا بلوہگر شانے تو نے اس کی زلفوں کا تار کھینچا
تھا شب کسے کسائے تیغ کشیدہ کف میںپر میں نے بھی بغل بغل بے اختیار کھینچا
پھرتا ہے میرؔ تو جو پھاڑے ہوئے گریباںکس کس ستم زدے نے داماں یار کھینچا
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہےاس کتے نے کر کے دلیری صید حرم کو مارا ہے
باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نےہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے
جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سےہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے
راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھرروئے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے
کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میںچشم کو میری آ کر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے
بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھاآئی نسیم صبح جو ادھر پھیلا عنبر سارا ہے
کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیامدت گزری دیکھتے ہم کو میرؔ بھی اک ناکارہ ہے
فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کیہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی
کہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگنامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی
کیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمعکہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی
اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبالمیں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی
پھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہطرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی
ان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کودھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی
عشق میں تیرے گزرتی نہیں بن سر پٹکےصورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی
کاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میرؔرہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی
خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھےغم زدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھے
دشمنی جانی ہے اب تو ہم سے غیروں کے لیےاک سماں سا ہو گیا وہ بھی کہ ہم یاروں میں تھے
مت تبختر سے گزر قمری ہماری خاک پرہم بھی اک سرو رواں کے ناز برداروں میں تھے
مر گئے لیکن نہ دیکھا تو نے اودھر آنکھ اٹھاآہ کیا کیا لوگ ظالم تیرے بیماروں میں تھے
شیخ جی مندیل کچھ بگڑی سی ہے کیا آپ بھیرندوں بانکوں میکشوں آشفتہ دستاروں میں تھے
گرچہ جرم عشق غیروں پر بھی ثابت تھا ولےقتل کرنا تھا ہمیں ہم ہی گنہ گاروں میں تھے
اک رہا مژگاں کی صف میں ایک کے ٹکڑے ہوئےدل جگر جو میرؔ دونوں اپنے غم خواروں میں تھے
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوںہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں
آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشقرونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں
اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میںہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں
ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشکاز بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں
آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہوگیآزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں
دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گرہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں
دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراںمیں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں
گو طاقت و آرام و خور و خواب گئے سببارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں
اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیزمعلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں
بہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراںمت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں
تب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمرجوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں
سینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاکہے وقت دعا میرؔ کہ اب دل کو لگا ہوں
نہ گیا خیال زلف سیہ جفا شعاراںنہ ہوا کہ صبح ہووے شب تیرہ روزگاراں
نہ کہا تھا اے رفوگر ترے ٹانکے ہوں گے ڈھیلےنہ سیا گیا یہ آخر دل چاک بے قراراں
ہوئی عید سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامےنہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سوگواراں
خطر عظیم میں ہیں مری آہ و اشک سے سبکہ جہان رہ چکا پھر جو یہی ہے باد و باراں
کہیں خاک کو کو اس کی تو صبا نہ دیجو جنبشکہ بھرے ہیں اس زمیں میں جگر جگر فگاراں
رکھے تاج زر کو سر پر چمن زمانہ میں گلنہ شگفتہ ہو تو اتنا کہ خزاں ہے یہ بہاراں
نہیں تجھ کو چشم عبرت یہ نمود میں ہے ورنہکہ گئے ہیں خاک میں مل کئی تجھ سے تاجداراں
تو جہاں سے دل اٹھا یاں نہیں رسم دردمندیکسی نے بھی یوں نہ پوچھا ہوئے خاک یاں ہزاراں
یہ اجل سے جی چھپانا مرا آشکار ہے گاکہ خراب ہوگا مجھ بن غم عشق گل غداراں
یہ سنا تھا میرؔ ہم نے کہ فسانہ خواب لا ہےتری سر گذشت سن کر گئے اور خواب یاراں
رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہےہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے
نہ اٹھ تو گھر سے اگر چاہتا ہے ہوں مشہورنگیں جو بیٹھا ہے گڑ کر تو کیسا نامی ہے
ہوئی ہیں فکریں پریشان میرؔ یاروں کیحواس خمسہ کرے جمع سو نظامیؔ ہے
خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہوہم تو ہوں بد گمان جو قاصد رسول ہو
چاہوں تو بھر کے کولی اٹھا لوں ابھی تمہیںکیسے ہی بھاری ہو مرے آگے تو پھول ہو
سرمہ جو نور بخشے ہے آنکھوں کو خلق کیشاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہو
جاویں نثار ہونے کو ہم کس بساط پراک نیم جاں رکھیں ہیں سو وہ جب قبول ہو
ہم ان دنوں میں لگ نہیں پڑتے ہیں صبح و شامورنہ دعا کریں تو جو چاہیں حصول ہو
دل لے کے لونڈے دلی کے کب کا پچا گئےاب ان سے کھائی پی ہوئی شے کیا وصول ہو
ناکام اس لیے ہو کہ چاہو ہو سب کچھ آجتم بھی تو میرؔ صاحب و قبلہ عجول ہو
نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کاننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا
داد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میںدل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا
تو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوںاپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا
شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جیمر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیررو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہےمعتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابیآخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابی
جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہویہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی
کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہواب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی
دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میںکیا اور نہ تھی جاگا یہ آگ جو یاں دابی
سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جاجی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی
خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میریجاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی
جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرےکوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی
تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میںہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی
کل میرؔ جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایاوہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروشکس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش
ابروئے کج ہے موج کوئی چشم ہے حبابموتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلامکیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش
حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہتو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیااک سادہ گل فروش کا آ کر سبد بہ دوش
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہارآج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش
شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مےبیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کوعبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہواوے نصیحتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناؤ نوش
جز لالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاںہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بہ دوش
جھومے ہے بید جائے جوانان میگساربالائے خم ہے خشت سر پیر مے فروش
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نےپر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہےملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے
جس سے اسے لگاؤں روکھا ہی ہو ملے ہےسینے میں جل کر از بس دل خاک ہو گیا ہے
کیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کییہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے
صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہوگااس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے
دیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائےاٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے
شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیراب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے
ہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارےقاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے
زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میرؔکس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے
شب تھا نالاں عزیز کوئی تھامرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا
تھی تمہارے ستم کی تاب اس تکصبر جو یاں عزیز کوئی تھا
شب کو اس کا خیال تھا دل میںگھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
چاہ بے جا نہ تھی زلیخا کیماہ کنعاں عزیز کوئی تھا
اب تو اس کی گلی میں خار ہے لیکمیرؔ بے جاں عزیز کوئی تھا
بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہےباؤ سے اک دماغ نکلے ہے
ہے جو اندھیر شہر میں خورشیددن کو لے کر چراغ نکلے ہے
چوب کاری ہی سے رہے گا شیخاب تو لے کر چماغ نکلے ہے
دے ہے جنبش جو واں کی خاک کو باؤجگر داغ داغ نکلے ہے
ہر سحر حادثہ مری خاطربھر کے خوں کا ایاغ نکلے ہے
اس گلی کی زمین تفتہ سےدل جلوں کا سراغ نکلے ہے
شاید اس زلف سے لگی ہے میرؔباؤ میں اک دماغ نکلے ہے
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہےٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے
اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہےکل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے
اب کی ہوائے گل میں سیرابی ہے نہایتجوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے
اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہمدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے
شمع اخیر شب ہوں سن سر گذشت میریپھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے
اب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تونے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے
تو ہی زمام اپنی ناکے تڑا کہ مجنوںمدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے
ہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیںغافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے
اب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہےدیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف داد گر ہے
آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میںجوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے
کر میرؔ اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوںہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے
کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاںتم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں
کیا آگ دے کے طور کو کی ترک سرکشیاس شعلے کی وہی ہیں شرارت کی بانیاں
صحبت رکھا کیا وہ سفیہ و ضلال سےدل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں
ہم سے تو کینے ہی کی ادائیں چلی گئیںبے لطفیاں یہی یہی نا مہربانیاں
تلوار کے تلے ہی گیا عہد انبساطمر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیاں
گالی سوائے مجھ سے سخن مت کیا کرواچھی لگے ہیں مجھ کو تری بد زبانیاں
غیروں ہی کے سخن کی طرف گوش یار تھےاس حرف ناشنو نے ہماری نہ مانیاں
یہ بے قراریاں نہ کبھو ان نے دیکھیاںجاں کاہیاں ہماری بہت سہل جانیاں
مارا مجھے بھی سان کے غیروں میں ان نے میرؔکیا خاک میں ملائیں مری جاں فشانیاں
نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھاگلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا
ترے اس خاک اڑانے کی دھمک سے اے مری وحشتکلیجا ریگ صحرا کا بھی دس دس گز تھلکتا تھا
گئی تسبیح اس کی نزع میں کب میرؔ کے دل سےاسی کے نام کی سمرن تھی جب منکا ڈھلکتا تھا
جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہےدل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے
رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گلآنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے
بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشقبعد ازاں اے کوہ کن سر ہے ترا اور سنگ ہے
آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لائیےجن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصۂ تنگ ہے
عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایکنا خلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے
چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹکآہ بھی سرد گلستاں شکست رنگ ہے
ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واںدو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے
ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنجتجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے
پاؤں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دےپیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذر لنگ ہے
فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یارورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے
سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئےشعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے
صبر بھی کریے بلا پر میرؔ صاحب جی کبھوجب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہےٹک آپ بھی تو آئیے یاں زور باؤ ہے
اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سےناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھاؤ ہے
باغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاںٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھاؤ ہے
تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی ابجو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی داؤ ہے
ٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شبچہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھاؤ ہے
ضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہواب دل کی طرف لوہو کا سارا بہاؤ ہے
اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئیلاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بناؤ ہے
چھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخمپردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپاؤ ہے
عاشق کہیں جو ہو گے تو جانو گے قدر میرؔاب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چاؤ ہے
میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئیسر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روی
آتی ہے شمع شب کو آگے ترے یہ کہہ کرمنہ کی گئی جو لوئی تو کیا کرے گا کوئی
بے طاقتی سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سورونے نے ہر گھڑی کے وہ بات ہی ڈبوئی
بلبل کی بیکلی نے شب بے دماغ رکھاسونے دیا نہ ہم کو ظالم نہ آپ سوئی
اس ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گیغیروں پہ مہربانی یاروں سے کینہःجوئی
نوبت جو ہم سے گاہے آتی ہے گفتگو کیمنہ میں زباں نہیں ہے اس بد زباں کے گوئی
اس مہ کے جلوے سے کچھ تا میرؔ یاد دیوےاب کے گھروں میں ہم نے سب چاندنی ہے بوئی
خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کیغموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی
نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کیحلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی
سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کاپڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی
جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دماسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی
نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میںگیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی
نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھےحقیقت کچھ نہ پوچھو پیر کنعاں کی بصارت کی
ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھابیاباں میں غبار میرؔ کی ہم نے زیارت کی
کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھاکبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباںکہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا
دل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلککبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا
دل مضطرب سے گزر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میںنہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا
جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہاکہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا
یہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاںوہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا
نہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگیاسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا
کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفامگر ایک میرؔ شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا
دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیےایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے
عشق و مے خواری نبھے ہے کوئی درویشی کے بیچاس طرح کے خرج لا حاصل کو دولت چاہیے
عاقبت فرہاد مر کر کام اپنا کر گیاآدمی ہووے کسی پیشہ میں جرأت چاہیے
ہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخنسامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیے
عشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگوقرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیے
نازکی کو عشق میں کیا دخل ہے اے بوالہوسیاں صعوبت کھینچنے کو جی میں طاقت چاہیے
تنگ مت ہو ابتداے عاشقی میں اس قدرخیریت ہے میرؔ صاحب دل سلامت چاہیے
جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیںیہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں
جنوں میں خشک ہو رگ ہائے گردنگریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں
سنا جاتا ہے شہر عشق کے گردمزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں
اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوقکہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں
انہیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میرؔکئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں
کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہمگل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم
خورشید صبح نکلے ہے اس نور سے کہ توشبنم گرہ میں رکھتی ہے یہ چشم تر کہ ہم
جیتے ہیں تو دکھا دیں گے دعواے عندلیبگل بن خزاں میں اب کے وہ رہتی ہے مر کہ ہم
یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ ہم ہیں کشتنیکھیلے ہے کون ایسی طرح جان پر کہ ہم
تلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخوددنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگزر کہ ہم
اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیںاتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم
جب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یاں ہوئی خبررکھتا ہے کون دل تری اتنی خبر کہ ہم
جیتے ہیں اور روتے ہیں لخت جگر ہے میرؔکرتے سنا ہے یوں کوئی قیمہ جگر کہ ہم
کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہےزاہد جو صفت تجھ میں ہے سوزن جلبی ہے
اس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے
ہر اک سے کہا نیند میں پر کوئی نہ سمجھاشاید کہ مرے حال کا قصہ عربی ہے
عزلت سے نکل شیخ کہ تیرے لیے تیارکوئی ہفت گزی میخ کوئی دہ وجبی ہے
اے چرخ نہ تو روز سیہ میرؔ پہ لانابیچارہ وہ اک نعرہ زن نیم شبی ہے
مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہےشمع مزار میر بجز آہ کون ہے
بیکس ہوں مضطرب ہوں مسافر ہوں بے وطندوری راہ بن مرے ہم راہ کون ہے
لبریز جس کے حسن سے مسجد ہے اور دیرایسا بتوں کے بیچ وہ اللہ کون ہے
رکھیو قدم سنبھل کے کہ تو جانتا نہیںمانند نقش پا یہ سر راہ کون ہے
ایسا اسیر خستہ جگر میں سنا نہیںہر آہ میرؔ جس کی ہے جانکاہ کون ہے
قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگےہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے
اٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کیجنہوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے
ہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازارہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے
رہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرقکہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے
کیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میرؔہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے
یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئےپامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے
دیکھی نہ ایک چشمک گل بھی چمن میں آہہم آخر بہار قفس سے رہا ہوئے
پچھتاؤ گے بہت جو گئے ہم جہاں سےآدم کی قدر ہوتی ہے ظاہر جدا ہوئے
تجھ بن دماغ صحبت اہل چمن نہ تھاگل وا ہوئے ہزار ولے ہم نہ وا ہوئے
سر دے کے میرؔ ہم نے فراغت کی عشق میںذمے ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے
کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سےپردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے
صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے توکھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے
سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کےجلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے
طاعت کا وقت گزرا مستی میں آب رز کیاب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے
کڑھیے نہ روئیے تو اوقات کیونکے گزرےرہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے
مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسیپر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے
بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کوبالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے
کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھےتب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے
ہستی میں ہم نے آ کر آسودگی نہ دیکھیکھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے
پامال کر کے ہم کو پچھتاؤ گے بہت تمکم یاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے
دل دو ہو میرؔ صاحب اس بد معاش کو تمخاطر تو جمع کر لو ٹک قول سے قسم سے
پشت پا ماری بسکہ دنیا پرزخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر
ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوزکہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر
گرو مے ہوں آؤ شیخ شہرابر جھوما ہی جاہے صحرا پر
دل پر خوں تو تھا گلابی شرابجی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر
یاں جہاں میں کہ شہر گوراں ہےسات پردے ہیں چشم بینا پر
فرصت عیش اپنی یوں گزریکہ مصیبت پڑی تمنا پر
طارم تاک سے لہو ٹپکاسنگ باراں ہوا ہے مینا پر
میرؔ کیا بات اس کے ہونٹوں کیجینا دوبھر ہوا مسیحا پر
رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیاپہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا
ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشتکرتے ہو قہر لطف کی جاگا غضب ہے کیا
عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہےمجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا
آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئےاس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا
حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیںیہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا
آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھےعالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا
اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیںگر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا
تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیےاپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا
کیوں کر تمہاری بات کرے کوئی اعتبارظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا
اس مہ بغیر میرؔ کا مرنا عجب ہواہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہےسنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے
ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگاالٰہی چشم یا زخم کہن ہے
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آجنپٹ آوارہ بوئے پیرہن ہے
نہیں دامن میں لالہ بے ستوں کےکوئی دل داغ خون کوہ کن ہے
شہادت گاہ ہے باغ زمانہکہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے
کروں کیا حسرت گل کو وگرنہدل پر داغ بھی اپنا چمن ہے
جو دے آرام ٹک آوارگی میرؔتو شام غربت اک صبح وطن ہے
جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیںوے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں
اس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکنخمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں
ناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنیجیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں
سہل اس قدر نہیں ہے مشکل پسندی میریجو تجھ کو دیکھتے ہیں مجھ کو سراہتے ہیں
وے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھےبے ڈول میرؔ صاحب اب کچھ کراہتے ہیں
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوامیرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا
جی تو ایسے کئی صدقے کیے تجھ پر لیکنحیف یہ ہے کہ تنک تو بھی پشیماں نہ ہوا
آہ میں کب کی کہ سرمایۂ دوزخ نہ ہوئیکون سا اشک مرا منبع طوفاں نہ ہوا
گو توجہ سے زمانے کی جہاں میں مجھ کوجاہ و ثروت کا میسر سر و ساماں نہ ہوا
شکر صد شکر کہ میں ذلت و خواری کے سببکسی عنوان میں ہم چشم عزیزاں نہ ہوا
برق مت خوشے کی اور اپنی بیاں کر صحبتشکر کر یہ کہ مرا واں دل سوزاں نہ ہوا
دل بے رحم گیا شیخ لیے زیر زمیںمر گیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا
کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میرؔسینۂ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا
کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھارو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا
قاصد جو واں سے آیا تو شرمندہ میں ہوابیچارہ گریہ ناک گریباں دریدہ تھا
اک وقت ہم کو تھا سر گریہ کہ دشت میںجو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدہ تھا
جس صید گاہ عشق میں یاروں کا جی گیامرگ اس شکار گہ کا شکار رمیدہ تھا
کوری چشم کیوں نہ زیارت کو اس کی آئےیوسف سا جس کو مد نظر نوردیدہ تھا
افسوس مرگ صبر ہے اس واسطے کہ وہگل ہائے باغ عشرت دنیا نچیدہ تھا
مت پوچھ کس طرح سے کٹی رات ہجر کیہر نالہ میری جان کو تیغ کشیدہ تھا
حاصل نہ پوچھ گلشن مشہد کا بوالہوسیاں پھل ہر اک درخت کا حلق بریدہ تھا
دل بے قرار گریۂ خونیں تھا رات میرؔآیا نظر تو بسمل در خوں تپیدہ تھا
گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میںان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میں
رکھتا ہے سوز عشق سے دوزخ میں روز و شبلے جائے گا یہ سوختہ دل کیا بہشت میں
آسودہ کیونکے ہوں میں کہ مانند گرد بادآوارگی تمام ہے میری سرشت میں
کب تک خراب سعی طواف حرم رہوںدل کو اٹھا کے بیٹھ رہوں گا کنشت میں
ماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا عجبہوتا ہے نیل چرخ کی اس سبز کشت میں
سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کیکب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت میں
رندوں کے تئیں ہمیشہ ملامت کرے ہے توآجائیو نہ شیخ کہیں ہشت بہشت میں
نامے کو چاک کر کے کرے نامہ بر کو قتلکیا یہ لکھا تھا میرؔ مری سرنوشت میں
جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کوکوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو
نہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میںجو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو
نہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئےکہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو
جو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنیدماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو
وہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کرپکارے آپ اجل احتراز کرنے کو
جو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہبلا ہے چشم تر افشائے راز کرنے کو
سمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگتنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو
بسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرداثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو
ہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانوشعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو
اگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہےولیک چاہیے ہے منہ بھی ناز کرنے کو
زیادہ حد سے تھی تابوت میرؔ پر کثرتہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سےنہ نکلا کبھو عہدۂ مور سے
بہت دور کوئی رہا ہے مگرکہ فریاد میں ہے جرس شور سے
مری خاک تفتہ پر اے ابر ترقسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑیدھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میںہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیںبغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
جو ہو میرؔ بھی اس گلی میں صبابہت پوچھیو تو مری اور سے
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میںگتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرفہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گزرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھےبرچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگیان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھےاے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہآنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیںگر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگکیوں کر نہ جاؤں مجھ کو تو مرنا ہے خوا مخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشقجاتا تھا میرؔ میں تو چلا اپنی راہ راہ
جب سے اس بے وفا نے بال رکھےصید بندوں نے جال ڈال رکھے
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچیوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
رہرو راہ خوفناک عشقچاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرےوہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے ابملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلکمجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
سمجھے انداز شعر کو میرےمیرؔ کا سا اگر کمال رکھے
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہےپھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے
مارا ہے کس کو ظالم اس بے سلیقگی سےدامن تمام تیرا لوہو میں بھر رہا ہے
پہنچا تھا تیغ کھینچے مجھ تک جو بولے دشمنکیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے
آنے کہا ہے میرے خوش قد نے رات گزرےہنگامۂ قیامت اب صبح پر رہا ہے
چل ہم نشیں کہ دیکھیں آوارہ میرؔ کو ٹکخانہ خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریںفریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سےشاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں
دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیرآنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں
کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میںجب ہم گئے دو چار نئی دیکھیں مزاریں
جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیںیاں ہم نے انہیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں
کیوں کر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں
وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کیدم لیویں نہ دو چار کو تا جی سے نہ ماریں
منظور ہے کب سے سر شوریدہ کا دیناچڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں
بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کاجو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں
ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسیسو گز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں
ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولامیں کیا کروں جو میرؔ جی جاتے ہیں سدھاریں
یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھاہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا
اتنی گزری جو ترے ہجر میں سو اس کے سببصبر مرحوم عجب مونس تنہائی تھا
تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میںنرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا
یہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کیمیرؔ کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا
سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہےتس پہ یہ جان بہ لب آمدہ بھی محزوں ہے
اس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیوں کر تابچشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے
آہ یہ رسم وفا ہووے بر افتاد کہیںاس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے
کبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنکگرد نمناک پریشاں شدۂ مجنوں ہے
کیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیےعکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے
پار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبلمصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے
شہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہورو کش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے
خون ہر یک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولےوہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے
میرؔ کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کرسڑی ہے خبطی ہے وہ شیفتہ ہے مجنوں ہے