وقت کی مساعدت
اے وقت بگاڑ کا ہے سب کے چارہپر تجھ سے بگڑنے کا نہیں ہے یاراہو جائے گر ایک تو ہمارا ساتھیپھر غم نہیں پھر جائے زمانہ سارا
توحید
کانٹا ہے ہر اک جگر میں اٹکا تیراحلقہ ہے ہر اک گوش میں لٹکا تیرامانا نہیں جس نے تجھ کو جانا ہے ضروربھٹکے ہوئے دل میں بھی ہے کھٹکا تیرا
تقاضائے سن
حالیؔ کو جو کل فسردہ خاطر پایاپوچھا باعث تو ہنس کے یہ فرمایارکھو نہ اب اگلی صحبتوں کی امیدوہ وقت گئے اب اور موسم آیا
سکوت درویش جاہل
مصروف جو یوں وظیفہ خوانی میں ہیں آپخیر اپنی سمجھتے بے زبانی میں ہیں آپبولیں کچھ منہ سے یا نہ بولیں حضرتمعلوم ہے ہم کو جتنے پانی میں ہیں آپ
سختی کا جواب نرمی ہے
فتنہ کو جہاں تلک ہو دیجے تسکیںزہر اگلے کوئی تو کیجے باتیں شیریںغصہ غصے کو اور بھڑکاتا ہےاس عارضہ کا علاج بالمثل نہیں
ریفارم کی حد
دھونے کی ہے اے رفارمر جا باقیکپڑے پہ ہے جب تلک کہ دھبا باقی ہےدھو شوق سے دھبے کو پہ اتنا نہ رگڑدھبا رہے کپڑے پہ نہ کپڑا باقی
نعت
زہاد کو تو نے محو تمجید کیاعشاق کو مست لذت دید کیاطاعت میں رہا نہ حق کی ساجھی کوئیتوحید کو تو نے آ کے توحید کیا
مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیں
حق بول کے اہل شر سے اڑنا نہ کہیںبھڑکے گی مدافعت سے اور آتش کیںگر چاہتے ہو کہ چپ رہیں اہل خلافجز ترک خلاف کوئی تدبیر نہیں
موجودہ ترقی کا انجام
پوچھا جو کل انجام ترقیٔ بشریاروں سے کہا پیر مغاں نے ہنس کرباقی نہ رہے گا کوئی انسان میں عیبہو جائیں گے چھل چھلا کے سب عیب و ہنر
مرض پیری لا علاج ہے
اب ضعف کے پنجہ سے نکلنا معلومپیری کا جوانی سے بدلنا معلومکھوئی ہے وہ چیز جس کا پانا ہے محالآتا ہے وہ وقت جس کا ٹلنا معلوم
مکر و ریا
حالیؔ رہ راست جو کہ چلتے ہیں سداخطرہ انہیں گرگ کا نہ ڈر شیروں کالیکن ان بھیڑیوں سے واجب ہے حذربھیڑوں کے لباس میں ہیں جو جلوہ نما
جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہے
جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہےدشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہےممکن ہے کہ سکھ میں بھول جائیں اطفاللیکن انہیں دکھ میں ماں ہی یاد آتی ہے
عشق
اے عشق کیا تو نے گھرانوں کو تباہپیروں کو خرف اور جوانوں کو تباہدیکھا ہے سدا سلامتی میں تیریقوموں کو ذلیل خاندانوں کو تباہ
انقلاب روزگار
بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیںگڑ گڑ کے علم لاکھوں اکھڑ جاتے ہیںآج اس کی ہے نوبت تو کل اس کی باریبن بن کے یونہی کھیل بگڑ جاتے ہیں
گدائی کی ترغیب
اک مرد توانا کو جو سائل پایاکی میں نے ملامت اور بہت شرمایابولا کہ ہے اس کا ان کی گردن پہ وبالدے دے کے جنہوں نے مانگنا سکھلایا
اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیا
اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیاسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیاویراں کیا تو نے نینواؔ اور بابلؔبغداد کو 'قرطبہ' کو تاراج کیا
آثار زوال
آبا کو زمین و ملک پر اطمیناناولاد کو سستی یہ قناعت کا گمانبچے آوارہ اور بے کار جوانہیں ایسے گھرانے کوئی دن کے مہمان
عالم و جاہل میں کیا فرق ہے
ہیں جہل میں سب عالم و جاہل ہمسرآتا نہیں فرق اس کے سوا ان میں نظرعالم کو ہے علم اپنی نادانی کاجاہل کو نہیں جہل کی کچھ اپنے خبر