وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے
قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکرشکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے
قوت دست خدائی ہے شکیبائی میںوقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے
ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہےہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے
نشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوںپند یہ پیر خرابات نے فرمائی ہے
نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئیبعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے
بات سچی کہی اور انگلیاں اٹھیں سب کیسچ میں حالیؔ کوئی رسوائی سی رسوائی ہے
واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیامنہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیا
دل میں ہے باقی وہی حرص گناہپھر کیے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا
آؤ لیں اس کو ہمیں جا کر منااس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا
دل کو مسجد سے نہ مندر سے ہے انسایسے وحشی کو کہیں بہلائیں کیا
جانتا دنیا کو ہے اک کھیل توکھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
عمر کی منزل تو جوں توں کٹ گئیمرحلے اب دیکھیے پیش آئیں کیا
دل کو سب باتوں کی ہے ناصح خبرسمجھے سمجھائے کو بس سمجھائیں کیا
مان لیجے شیخ جو دعویٰ کرےاک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا
ہو چکے حالیؔ غزل خوانی کے دنراگنی بے وقت کی اب گائیں کیا
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبلکل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصلہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیاراک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
دیکھیے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچےصورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو آتش دوزخ سے جہاں کو تم نےیہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرصاس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت
میں بچا تیر حوادث سے نشانہ بن کرآڑے آئی مری تسلیم سپر کی صورت
شوق میں اس کے مزا درد میں اس کے لذتناصحو اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت
حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضروررہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت
رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطاراہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت
یوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سو بارپر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماںدیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت
رنج اور رنج بھی تنہائی کاوقت پہنچا مری رسوائی کا
عمر شاید نہ کرے آج وفاکاٹنا ہے شب تنہائی کا
تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلاکس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا
ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہمشوق تھا بادیہ پیمائی کا
اس سے نادان ہی بن کر ملئےکچھ اجارہ نہیں دانائی کا
سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھحوصلہ کیا ہے تماشائی کا
درمیاں پائے نظر ہے جب تکہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا
کچھ تو ہے قدر تماشائی کیہے جو یہ شوق خود آرائی کا
اس کو چھوڑا تو ہے لیکن اے دلمجھ کو ڈر ہے تری خود رائی کا
بزم دشمن میں نہ جی سے اتراپوچھنا کیا تری زیبائی کا
یہی انجام تھا اے فصل خزاںگل و بلبل کی شناسائی کا
مدد اے جذبۂ توفیق کہ یاںہو چکا کام توانائی کا
محتسب عذر بہت ہیں لیکناذن ہم کو نہیں گویائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہگھر ابھی دور ہے رسوائی کا
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیںاک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں
کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نےجب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں
چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھغیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں
ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمامللہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں
مدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیادل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں
اصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتاورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں
بات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔسخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں
کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میںمجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں
قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرحلگا دو آگ کوئی آشیاں میں
کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیںدھرا کیا ہے اشارات نہاں میں
کہیں انجام آ پہنچا وفا کاگھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں
نیا ہے لیجئے جب نام اس کابہت وسعت ہے میری داستاں میں
دل پر درد سے کچھ کام لوں گااگر فرصت ملی مجھ کو جہاں میں
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کرابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہم
خوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میںگو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں ہم
کرتے ہیں طاعت تو کچھ خواہاں نمائش کے نہیںپر گنہ چھپ چھپ کے کرنے میں مزا پاتے ہیں ہم
دیدہ و دل کو خیانت سے نہیں رکھ سکتے بازگرچہ دست و پا کو اکثر بے خطا پاتے ہیں ہم
دل میں درد عشق نے مدت سے کر رکھا ہے گھرپر اسے آلودۂ حرص و ہوا پاتے ہیں ہم
ہو کے نادم جرم سے پھر جرم کرتے ہیں وہیجرم سے گو آپ کو نادم سدا پاتے ہیں ہم
ہیں فدا ان دوستوں پر جن میں ہو صدق و صفاپر بہت کم آپ میں صدق و صفا پاتے ہیں ہم
گو کسی کو آپ سے ہونے نہیں دیتے خفااک جہاں سے آپ کو لیکن خفا پاتے ہیں ہم
جانتے اپنے سوا سب کو ہیں بے مہر و وفااپنے میں گر شمۂ مہر و وفا پاتے ہیں ہم
بخل سے منسوب کرتے ہیں زمانہ کو سداگر کبھی توفیق ایثار و عطا پاتے ہیں ہم
ہو اگر مقصد میں ناکامی تو کر سکتے ہیں صبردرد خودکامی کو لیکن بے دوا پاتے ہیں ہم
ٹھہرتے جاتے ہیں جتنے چشم عالم میں بھلےحال نفس دوں کا اتنا ہی برا پاتے ہیں ہم
جس قدر جھک جھک کے ملتے ہیں بزرگ و خورد سےکبر و ناز اتنا ہی اپنے میں سوا پاتے ہیں ہم
گو بھلائی کرکے ہم جنسوں سے خوش ہوتا ہے جیتہہ نشیں اس میں مگر درد ریا پاتے ہیں ہم
ہے ردائے نیک نامی دوش پر اپنے مگرداغ رسوائی کے کچھ زیر ردا پاتے ہیں ہم
راہ کے طالب ہیں پر بے راہ پڑتے ہیں قدمدیکھیے کیا ڈھونڈھتے ہیں اور کیا پاتے ہیں ہم
نور کے ہم نے گلے دیکھے ہیں اے حالیؔ مگررنگ کچھ تیری الاپوں میں نیا پاتے ہیں ہم
کر کے بیمار دی دوا تو نےجان سے پہلے دل لیا تو نے
رہرو تشنہ لب نہ گھبرانااب لیا چشمۂ بقا تو نے
شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگاآ کے مسجد سے کیا لیا تو نے
دور ہو اے دل مآل اندیشکھو دیا عمر کا مزا تو نے
ایک بیگانہ وار کر کے نگاہکیا کیا چشم آشنا تو نے
دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے دیریاں بھی سب کچھ دیا خدا تو نے
خوش ہے امید خلد پر حالیؔکوئی پوچھے کہ کیا کیا تو نے
کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے
جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایتقاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے
دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکندیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے
ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباںیاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں پیاسے
پیاسے ترے سرگشتہ ہیں جو راہ طلب میںہونٹوں کو وہ کرتے نہیں تر آب بقا سے
در گزرے دوا سے تو بھروسے پہ دعا کےدر گزریں دعا سے بھی دعا ہے یہ خدا سے
اک درد ہو بس آٹھ پہر دل میں کہ جس کوتخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے
حالیؔ دل انساں میں ہے گم دولت کونینشرمندہ ہوں کیوں غیر کے احسان و عطا سے
جب وقت پڑے دیجیے دستک در دل پرجھکئے فقرا سے نہ جھمکیے امرا سے
کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہےکل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہے
فیصلہ گردش دوراں نے کیا ہے سو بارمرو کس کا ہے بدخشان و ختن کس کا ہے
دم سے یوسف کے جب آباد تھا یعقوب کا گھرچرخ کہتا تھا کہ یہ بیت حزن کس کا ہے
مطمئن اس سے مسلماں نہ مسیحی نہ یہوددوست کیا جانئے یہ چرخ کہن کس کا ہے
واعظ اک عیب سے تو پاک ہے یا ذات خداورنہ بے عیب زمانہ میں چلن کس کا ہے
آج کچھ اور دنوں سے ہے سوا استغراقعزم تسخیر پھر اے شیخ زمن کس کا ہے
آنکھ پڑتی ہے ہر اک اہل نظر کی تم پرتم میں روپ اے گل و نسرین و سمن کس کا ہے
عشق ادھر عقل ادھر دھن میں چلے ہیں تیریرستہ اب دیکھیے دونوں میں کٹھن کس کا ہے
شان دیکھی نہیں گر تو نے چمن میں اس کیولولہ تجھ میں یہ اے مرغ چمن کس کا ہے
ہیں فصاحت میں مثل واعظ و حالیؔ دونوںدیکھنا یہ ہے کہ بے لاگ سخن کس کا ہے
جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہےقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے
دم گریہ کس کا تصور ہے دل میںکہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے
خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کےملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے
بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کووہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے
ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میںاجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے
مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصتکوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے
فزوں تر ہے کچھ ان دنوں ذوق عصیاںدر رحمت اب وا ہوا چاہتا ہے
قلق گر یہی ہے تو راز نہانیکوئی دن میں رسوا ہوا چاہتا ہے
وفا شرط الفت ہے لیکن کہاں تک؟دل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے
بہت حظ اٹھاتا ہے دل تجھ سے مل کرقلق دیکھیے کیا ہوا چاہتا ہے
غم رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدمسو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے
بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔکوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے
جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگزدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز
عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کیدیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز
ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سےتو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز
جتنے رستے تھے ترے ہو گئے ویراں اے عشقآ کے ویرانوں میں اب گھر نہ بسانا ہرگز
کوچ سب کر گئے دلی سے ترے قدر شناسقدر یاں رہ کے اب اپنی نہ گنوانا ہرگز
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز
ڈھونڈتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز
صحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز
لے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز
چپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا کہیں اتنا نہ خزانہ ہرگز
مٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز
وہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئےایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانہ ہرگز
ہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز
آخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقیبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگز
بخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماںنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگز
کبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز
شاعری مر چکی اب زندہ نہ ہوگی یارویاد کر کر کے اسے جی نہ کڑھانا ہرگز
غالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانا ہرگز
مومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنوںؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز
کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کوورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز
داغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھوگے کبھی لطف شبانہ ہرگز
بزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
عشق کو ترک جنوں سے کیا غرضچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرض
دل میں ہے اے خضر گر صدق طلبراہرو کو رہنموں سے کیا غرض
حاجیو ہے ہم کو گھر والے سے کامگھر کے محراب و ستوں سے کیا غرض
گنگنا کر آپ رو پڑتے ہیں جوان کو چنگ و ارغنوں سے کیا غرض
نیک کہنا نیک جس کو دیکھناہم کو تفتیش دروں سے کیا غرض
دوست ہیں جب زخم دل سے بے خبران کو اپنے اشک خوں سے کیا غرض
عشق سے ہے مجتنب زاہد عبثشیر کو صید زبوں سے کیا غرض
کر چکا جب شیخ تسخیر قلوباب اسے دنیائے دوں سے کیا غرض
آئے ہو حالیؔ پئے تسلیم یاںآپ کو چون و چگوں سے کیا غرض
حشر تک یاں دل شکیبا چاہئےکب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئے
ہے تجلی بھی نقاب روئے یاراس کو کن آنکھوں سے دیکھا چاہئے
غیرممکن ہے نہ ہو تاثیر غمحال دل پھر اس کو لکھا چاہئے
ہے دل افگاروں کی دل داری ضرورگر نہیں الفت مدارا چاہئے
ہے کچھ اک باقی خلش امید کییہ بھی مٹ جائے تو پھر کیا چاہئے
دوستوں کی بھی نہ ہو پروا جسےبے نیازی اس کی دیکھا چاہئے
بھا گئے ہیں آپ کے انداز و نازکیجئے اغماض جتنا چاہئے
شیخ ہے ان کی نگہ جادو بھریصحبت رنداں سے بچنا چاہئے
لگ گئی چپ حالیؔ رنجور کوحال اس کا کس سے پوچھا چاہئے
حقیقت محرم اسرار سے پوچھمزا انگور کا مے خوار سے پوچھ
وفا اغیار کی اغیار سے سنمری الفت در و دیوار سے پوچھ
ہماری آہ بے تاثیر کا حالکچھ اپنے دل سے کچھ اغیار سے پوچھ
دلوں میں ڈالنا ذوق اسیریکمند گیسوئے خم دار سے پوچھ
دل مہجور سے سن لذت وصلنشاط عافیت بیمار سے پوچھ
نہیں جز گریۂ غم حاصل عشقہماری چشم دریا بار سے پوچھ
نہیں آب بقا جز جلوۂ دوستکسی لب تشنۂ دیدار سے پوچھ
فریب وعدۂ دل دار کی قدرشہید خنجر انکار سے پوچھ
فغان شوق کو مانع نہیں وصلیہ نکتہ عندلیب زار سے پوچھ
تصور میں کیا کرتے ہیں جو ہموہ تصویر خیال یار سے پوچھ
متاع بے بہا ہے شعر حالیؔمری قیمت مری گفتار سے پوچھ
حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے
تھا یہاں دل میں طعن وصل عدوعذر ان کی زباں پہ آنے لگے
ہم کو جینا پڑے گا فرقت میںوہ اگر ہمت آزمانے لگے
ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائےاب وہ باتیں بہت بنانے لگے
جان بچتی نظر نہیں آتیغیر الفت بہت جتانے لگے
تم کو کرنا پڑے گا عذر جفاہم اگر درد دل سنانے لگے
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیمہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
جی میں ہے لوں رضائے پیر مغاںقافلے پھر حرم کو جانے لگے
سر باطن کو فاش کر یا رباہل ظاہر بہت ستانے لگے
وقت رخصت تھا سخت حالیؔ پرہم بھی بیٹھے تھے جب وہ جانے لگے
ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پر
رہیں نا آشنا زمانہ سےحق ہے تیرا یہ آشناؤں پر
رہروو با خبر رہو کہ گماںرہزنی کا ہے رہنماؤں پر
ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیامرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر
اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بالاڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر
شہسواروں پہ بند ہے جو راہوقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر
نہیں منعم کو اس کی بوند نصیبمینہ برستا ہے جو گداؤں پر
نہیں محدود بخششیں تیریزاہدوں پر نہ پارساؤں پر
حق سے درخواست عفو کی حالیؔکیجے کس منہ سے ان خطاؤں پر
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دورہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیرتھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشقرکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں
بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کاخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں
کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیراس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
حالیؔ نشاط نغمہ و مے ڈھونڈھتے ہو ابآئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں
گو جوانی میں تھی کج رائی بہتپر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیاجمع ہیں ہر سو تماشائی بہت
ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دلراس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت
سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیںدل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت
چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دلراحت اس تکلیف میں پائی بہت
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدادوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئےمینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت
جاں نثاری پر وہ بول اٹھے مریہیں فدائی کم تماشائی بہت
ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیاخاکساری اپنی کام آئی بہت
کر دیا چپ واقعات دہر نےتھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت
گھٹ گئیں خود تلخیاں ایام کییا گئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت
ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہوراست گوئی میں ہے رسوائی بہت
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
آج تک قصر عمل ہے ناتمامبندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محالاے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکارپر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ
دل نہیں روشن تو ہیں کس کام کےسو شبستاں میں اگر روشن ہیں جھاڑ
عید اور نوروز ہے سب دل کے ساتھدل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
کھیت رستے پر ہے اور رہرو سوارکشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ
بات واعظ کی کوئی پکڑی گئیان دنوں کمتر ہے کچھ ہم پر لتاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباںکر لیا ساری خدائی سے بگاڑ
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیںشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں
خوبروئی کے لیے زشتی خو بھی ہے ضرورسچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں
قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکارہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں
کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدادل میں سب کچھ ہے مگر رخصت گفتار نہیں
حق ہوا کس سے ادا اس کی وفاداری کاجس کے نزدیک جفا باعث آزار نہیں
دیکھتے ہیں کہ پہنچتی ہے وہاں کون سی راہکعبہ و دیر سے کچھ ہم کو سروکار نہیں
ہوں گے قائل وہ ابھی مطلع ثانی سن کرجو تجلی میں یہ کہتے ہیں کہ تکرار نہیں
دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گاسینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا
تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبطالفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا
اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوستزنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا
دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاںاب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا
مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا
راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگردشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا
کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کےپوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا
بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا
ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پرکس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا
مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدریعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا
جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپقصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا
دل کو درد آشنا کیا تو نےدرد دل کو دوا کیا تو نے
طبع انساں کو دی سرشت وفاخاک کو کیمیا کیا تو نے
وصل جاناں محال ٹھہرایاقتل عاشق روا کیا تو نے
تھا نہ جز غم بساط عاشق میںغم کو راحت فزا کیا تو نے
جان تھی اک وبال فرقت میںشوق کو جاں گزا کیا تو نے
تھی محبت میں ننگ منت غیرجذب دل کو رسا کیا تو نے
راہ زاہد کو جب کہیں نہ ملیدرمے خانہ وا کیا تو نے
قطع ہونے ہی جب لگا پیوندغیر کو آشنا کیا تو نے
تھی جہاں کارواں کو دینی راہعشق کو رہنما کیا تو نے
ناؤ بھر کر جہاں ڈبونی تھیعقل کو ناخدا کیا تو نے
بڑھ گئی جب پدر کو مہر پسراس کو اس سے جدا کیا تو نے
جب ہوا ملک و مال رہزن ہوشبادشہ کو گدا کیا تو نے
جب ملی کام جاں کو لذت درددرد کو بے دوا کیا تو نے
جب دیا راہرو کو ذوق طلبسعی کو نارسا کیا تو نے
پردۂ چشم تھے حجاب بہتحسن کو خود نما کیا تو نے
عشق کو تاب انتظار نہ تھیغرفہ اک دل میں وا کیا تو نے
حرم آباد اور دیر خرابجو کیا سب بجا کیا تو نے
سخت افسردہ طبع تھی احبابہم کو جادو نوا کیا تو نے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہ تھا یا ربکون پوچھے کہ کیا کیا تو نے
حالیؔ اٹھا ہلا کے محفل کوآخر اپنا کہا کیا تو نے
دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کی
کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہتہم کو طاقت نہیں جدائی کی
منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سےتم کو عادت ہے خود نمائی کی
لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیںصلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی
ملتے غیروں سے ہو ملو لیکنہم سے باتیں کرو صفائی کی
دل رہا پائے بند الفت دامتھی عبث آرزو رہائی کی
دل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سےرکھئے امید دل ربائی کی
شہر و دریا سے باغ و صحرا سےبو نہیں آتی آشنائی کی
نہ ملا کوئی غارت ایماںرہ گئی شرم پارسائی کی
بخت ہم داستانی شیداتو نے آخر کو نارسائی کی
صحبت گاہ گاہی رشکیتو نے بھی ہم سے بے وفائی کی
موت کی طرح جس سے ڈرتے تھےساعت آ پہنچی اس جدائی کی
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔانتہا ہے یہ بے حیائی کی
بری اور بھلی سب گزر جائے گییہ کشتی یونہیں پار اتر جائے گی
ملے گا نہ گلچیں کو گل کا پتاہر اک پنکھڑی یوں بکھر جائے گی
رہیں گے نہ ملاح یہ دن سداکوئی دن میں گنگا اتر جائے گی
ادھر ایک ہم اور زمانہ ادھریہ بازی تو سو بسوے ہر جائے گی
بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخیہ عزت تو جائے گی پر جائے گی
نہ پوری ہوئی ہیں امیدیں نہ ہوںیونہیں عمر ساری گزر جائے گی
سنیں گے نہ حالیؔ کی کب تک صدایہی ایک دن کام کر جائے گی
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آجبول کر ہم نے منہ کی کھائی آج
چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھبات بگڑی بنی بنائی آج
شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنیپر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج
بزم ساقی نے دی الٹ ساریخوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج
معصیت پر ہے دیر سے یا ربنفس اور شرع میں لڑائی آج
غالب آتا ہے نفس دوں یا شرعدیکھنی ہے تری خدائی آج
چور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارونیند پھر رات بھر نہ آئی آج
زد سے الفت کی بچ کے چلنا تھامفت حالیؔ نے چوٹ کھائی آج
اب وہ اگلا سا التفات نہیںجس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں
مجھ کو تم سے اعتماد وفاتم کو مجھ سے پر التفات نہیں
رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھزندگی موت ہے حیات نہیں
یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکنفرصت غم کو بھی ثبات نہیں
کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاںسرسری دل کی واردات نہیں
ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشیدجاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔعاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہمسب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم
اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہمکچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم
ہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پربھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم
اب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کروکچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ہم
جنت میں تو نہیں اگر یہ زخم تیغ عشقبدلیں گے تجھ کو زندگیٔ جاوداں سے ہم