تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوایا نبی خوب ہوا ، خوب ہوا ، خوب ہوا
حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھابخشوانا تجھے مرغوب ہوا ، خوب ہوا
حسن یوسف میں ترا نور تھا، اے نور خداچارہ دیدہ یعقوب ہوا، خوب ہوا
فخر آدم کو نہ ہوتا، جو فرشتہ ہوتابنی آدم سے جو منسوب ہوا ، خوب ہوا
داغ ہے روز قیامت، مری شرم اس کے ہاتھمیں گناہوں سے جو محجوب ہوا ، خوب ہوا