انتخابِ کلامِ داغ · داغ دہلوی

Chapter 3: متفرقات

تو جو اللہ کا محبوب ہوا ، خوب ہوایا نبی خوب ہوا ، خوب ہوا ، خوب ہوا

حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھابخشوانا تجھے مرغوب ہوا ، خوب ہوا

حسن یوسف میں ترا نور تھا، اے نور خداچارہ دیدہ یعقوب ہوا، خوب ہوا

فخر آدم کو نہ ہوتا، جو فرشتہ ہوتابنی آدم سے جو منسوب ہوا ، خوب ہوا

داغ ہے روز قیامت، مری شرم اس کے ہاتھمیں گناہوں سے جو محجوب ہوا ، خوب ہوا

The end.