انتخابِ کلامِ اکبر · اکبر الہ آبادی

Chapter 4: رباعیات

اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیںجو ایک کرے ادھر طبیعت ہی نہیںاکبر کہتا ہے میل رکھو باہموہ کہتے ہیں میل کی ضرورت ہی نہیں

علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیمسرکار کی نوکری کو ہرگز نہ کر ایمشادی نہ کر اپنی قبل تحصیل علومبت ہو کہ پری ہو خواہ وہ ہو کوئی میم

بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئےرکئے نہ کسی کے واسطے بڑھ چلئےجس فن کا ہو درس ہو جائیے اس میں شریکجو پیش ہے سبق اسے پڑھ چلئے

مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہبیماری و موت سے کہاں کس کو پناہآ ہی جاتا ہے زندگی میں اک وقتکرنا پڑتا ہے سب کو اللہ اللہ

غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھاافعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھااکبرؔ نے سنا ہے اہل غیرت سے یہیجینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا

ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیلغیرت نہیں میری بزم دانش میں دخیلہیں نفس کی خواہشیں بہت مجھ کو عزیزجب چاہیں کریں خوشی سے مجھ کو وہ ذلیل

جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیںجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیںیہ بھی ہے بہت کہ دل سنبھالے رہئےقومی حالت یہاں سنبھلنے کی نہیں

افسوس سفید ہو گئے بال ترےلیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترےتو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تکدنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے

ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہےہمسایہ بھی ہو شریک تب شادی ہےتسکین ہے جبکہ ہو خدا پر تکیہقانون بنا سکیں تب آزادی ہے

کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوشبجلی چمکاؤں اور کروں بھاپ کو خوشسیکھوں ہر علم و فن مگر فرض یہ ہےہر حال میں رکھوں اپنے ماں باپ کو خوش

اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑیناحق تجھے ہم نشیں ہے فکر اس کی پڑیانگریز کے ملک میں لڑائی کیسییہ ہند ہے یہاں خوش انتظامی ہے بڑی

سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعورکہتا نہیں تم سے میں کہ ہوں اس سے نفورسوتوں کو جگا دیا انہوں نے لیکناللہ کا نام لے کے اٹھنا ہے ضرور

دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیںرونق نہیں اس کی جس کا دل گرم نہیںسختی میں بھی گداز طینت ہو جو صافپگھلی ہے برف گو کہ وہ نرم نہیں

لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیںبے ساختہ قافیے بھی مل جاتے ہیںدل کو مطلق نہیں ترقی ہوتیتعریف میں سر اگرچہ ہل جاتے ہیں

روزی مل جائے مال و دولت نہ سہیراحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہیگھر بار میں خوش رہیں عزیزوں کے ساتھدربار میں باہمی رقابت نہ سہی

تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہوتقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہوالقصہ عجیب ضیق میں ہیں ہندییورپ کا خدا کہاں پر جو حامی ہو

اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاںاگلے سے خیالات ہند میں اب وہ کہاںسید بننا ہو تو بنو سر سیدہونا ہو جو خاں تو بنو انگریز خواں

افسوس ہے بد گماں کی آزادی پرخالق کبھی خوش نہ ہوگا بربادی پرطاعون سے کیوں ہے اتنی وحشت اکبرؔیہ تو اک ٹیکس ہے اس آبادی پر

لذت چاہو تو وصل معشوق کہاںشوکت چاہو تو زر کا صندوق کہاںکہتا ہے یہ دل کہ خودکشی کی ٹھہرےخیر اس کو بھی مان لیں تو بندوق کہاں

شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہےدشوار انساں کو ضبط ہو جاتا ہےحد سے جو سوا ہو حرص یا خود بینیاکثر ہے یہی کہ خبط ہو جاتا ہے

بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھالائے جو راہ پر وہی ڈھنگ اچھاقرآن و نماز سے اگر دل نہ ہو گرمہنگامۂ رقص و مطرب و چنگ اچھا

رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہےحیراں ہیں ملک بشر بچارا کیا ہےتسکیں کے لیے مگر ہے کافی یہ خیالجو کچھ ہے خدا کا ہے ہمارا کیا ہے

وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاںاغیار ان پر گزرتے ہیں اب خندہ زناںجھگڑا کبھی گائے کا زباں کی کبھی بحثہے سخت مضر یہ نسخۂ گاؤ زباں

جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقیبے شک پردے کی ہے ضرورت باقیچالیس برس کی بات ہے یہ شایدبعد اس کے رہے گی پھر نہ حجت باقی

الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہیمرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہیبگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکورونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی

ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کیہر باغ میں یہ کلی نہیں کھلنے کیکچھ پڑھ کے تو صنعت و زراعت کو دیکھعزت کے لیے کافی ہے اے دل نیکی

پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہولائل سبجیکٹ تم برٹش کے رہوقانون سے فائدہ اٹھانا ہے اگرحامی نہ کسی خراب سازش کے رہو

دنیا کرتی ہے آدمی کو بربادافکار سے رہتی ہے طبیعت ناشاددو چیزیں ہیں بس محافظ دل کیعقبیٰ کا تصور اور اللہ کی یاد

ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلببیگانوں کے واسطے ہے اک حد ادبممکن ہو اگر تو اس کو قائم رکھوعزت کے نشاں اور تو مٹ گئے سب

تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروفنیچر کی جو طاقتوں کو کر دیں مکشوفلیکن تم سے امید کیا ہو کہ تمہیںعہدہ مطلوب ہے وطن ہے مالوف

حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہےکر صبر کہ خود وہ کار بد کرتا ہےاپنی پستی کو کر رہا ہے محسوساور تیری بلندیوں سے کد کرتا ہے

اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میںاور تیرے بیان کی دلآویزی میںشیطاں عربی سے ہند میں ہے بے خوفلاحول کا ترجمہ کر انگریزی میں

رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوالپکا جو سایہ پر وہ دیوانہ ہواانگلینڈ سے اپنا دل جو لایا نہ درستمحروم ادھر ادھر سے بیگانہ ہوا

طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہےاس جا ہے چمک جہاں زر افشانی ہےتعلیم وہ خوب ہے جو سکھلائے ہنراچھی ہے وہ تربیت جو روحانی ہے

لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلےہر سمت سے بیسیوں رسالے نکلےافسوس کہ مفلسی نے چھاپہ ماراآخر احباب کے دوالے نکلے

دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیںمجھ کو اس کھیل کی ضرورت ہی نہیںدرپیش ہے منزل عدم اے اکبرؔاس راہ میں ریل کی ضرورت ہی نہیں

کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایاغفلت ہی میں آدمی کو ڈوبا پایاآنکھیں تو بے شمار دیکھیں لیکنکم تھیں بخدا کہ جن کو بینا پایا

رکھو جو مقابل اس کے سارا عالمدنیا بخدا ہے اک ذرے سے بھی کماس اک ذرے میں ہے ہماری کیا اصلنافہم ہیں کر رہے ہیں ناحق ہم ہم

سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سواکہتا نہیں کوئی کچھ پڑھ پڑھ کے سواپڑھنے کا نہ ٹھیک اصول بڑھنے کی نہ راہاور قبلہ کوئی نہیں علی گڑھ کے سوا

کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہےخاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہےدنیا طلبی ضرور ہے انساں کولیکن ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے

بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کوبس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کوبرق گر جائے گی اک دن اور اڑ جائے گی بھاپدیکھنا اکبرؔ بچائے رکھنا اپنے آپ کو

در پر مظلوم اک پڑا روتا ہےبچارا بلا میں مبتلا روتا ہےکہتا ہے وہ شوخ تال سم ٹھیک نہیںکیا اس کی سنوں کہ بے سرا روتا ہے

افسوس ان پر فلک نے پایا قابومطلق نہیں ان میں رنگ ڈھونڈو یا بوشیخی کو چھوڑ میرزا پہلے بنےبنتے جاتے ہیں اب یہ مسلم بابو

اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھادل ہونا برا ہے پیٹ ہونا اچھاپنڈت ہو کہ مولوی ہو دونوں بے کارانساں کو گریجویٹ ہونا اچھا

سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہےہم لوگوں سے کمپ کو پرے رکھا ہےلیکن ہے ادائے شکر ہم پر لازمکھانے بھر کو ہمیں بھی دے رکھا ہے

یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہندیہ جھوٹ کہ ملک لچھمنؔ و رامؔ ہے ہندہم سب ہیں مطیع و خیر خواہ انگلشیورپ کے لیے بس ایک گودام ہے ہند

ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نےدیکھا دنیا میں ایک زمانہ ہم نےاول یہ تھا کہ واقفیت پہ تھا نازآخر یہ کھلا کہ کچھ نہ جانا ہم نے

دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہےلطف حسن بتان دل خواہ بھی ہےسب سے قطع نظر ہے مشکل لیکناتنا سمجھ رہو کہ اللہ بھی ہے

عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاشہونے نہیں دیتا حسن کے راز کو فاشکیوں وصل میں جستجو کمر کی وہ کرےحاضر میں نہ حجت اور نہ غائب کی تلاش