تعجب سے کہنے لگے بابو صاحبگورنمنٹ سید پہ کیوں مہرباں ہےاسے کیوں ہوئی اس قدر کامیابیکہ ہر بزم میں بس یہی داستاں ہےکبھی لاٹ صاحب ہیں مہمان اس کےکبھی لاٹ صاحب کا وہ میہماں ہےنہیں ہے ہمارے برابر وہ ہرگزدیا ہم نے ہر صیغے کا امتحاں ہےوہ انگریزی سے کچھ بھی واقف نہیں ہےیہاں جتنی انگلش ہے سب بر زباں ہےکہا ہنس کے اکبر نے اے بابو صاحبسنو مجھ سے جو رمز اس میں نہیں ہےنہیں ہے تمہیں کچھ بھی سید سے نسبتتم انگریزی داں ہو وہ انگریز داں ہے
دیکھتا ہے اک عمر سے بندہبس یہی باتیں اور یہی فنڈہہوتا ہے کچھ کام نہ دھندہلاؤ چندہ لاؤ چندہ
قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبرتو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلاجدید طرز اگر اختیار کرتا ہوںخود اپنی قوم مچاتی ہے شور و واویلا
اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئےتا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئےہے یہی بہتر علی گڑھ جا کے سید سے کہوںمجھ سے چندہ لیجئے مجھ کو مسلماں کیجئے
واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنایہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہناقوم کے عشق میں پر سوز جگر کیا کہناایک ہی دھن میں ہوئی عمر بسر کیا کہنا
جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھےتہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گالاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارےاس کو تو میں دنیا کی ترقی نہ کہوں گا
نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہےمگر یوں ہی کہ گویا آب زمزم مے میں داخل ہےکہاں تک داد دوں تیری بلاغت کی میں اے اکبرؔیہ تیرا ایک مطلع لاکھ مضمونوں کا حاصل ہے
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جاشیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جاچار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہکھا ڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا
میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتاہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیزکتے نے کہا ہو یہ جہالت کہ تعصبلیکن مرے نزدیک وفا بھی ہے کوئی چیز
کونسل میں نکتہ چینوں کی ٹولی بہت پٹیاچھا ہوا سنبھل گئی اب یونیورسٹیبیکار کالجوں سے بھرے گی نہ ہر سٹیاس بل سے یہ شکایت احباب بھی مٹیالجھا ہوا ہے چندہ و اسکول میں ہر ایک
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہےنہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میںکہا جو چاہے کوئی میں تو کہتا ہوں کہ اے اکبرؔخدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
جو لوگ طرف دار علی گڑھ کے رہیں گےاس دور میں بے شک وہی بڑھ چڑھ کے رہیں گےمفلس رہیں بے نام رہیں خیر جو کچھ ہوکالج کے یہ سب علم تو ہم پڑھ کے رہیں گے
اک برگ ضمحل نے یہ اسپیچ میں کہاموسم کی کچھ خبر نہیں اے ڈالیو تمہیںاچھا جواب خشک یہ اک شاخ نے دیاموسم سے با خبر ہوں تو کیا جڑ کو چھوڑ دیں
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاںاکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیاپوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہواکہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
کہے کوئی شیخ سے یہ جا کرکہ دیکھیے آ کے بزم سیدیہ رونق اور چہل پہل ہوتو کیا برا ہے گناہ کرنا
فضل خدا سے عزت پائیآج ہوئے ہم سی ایس آئیشیخ نہ سمجھے لفظ انگریزیبولے ہوئے ہیں عیسائی