بلادِ اسلامیہ
(۱۹۰۸ء سے )
سرزمیں دلّی کی مسجودِ دلِ غم دیدہ ہےذرّے ذرّے میں لہُو اسلاف کا خوابیدہ ہےپاک اس اُجڑے گُلستاں کی نہ ہو کیونکر زمیںخانقاہِ عظمتِ اسلام ہے یہ سرزمیںسوتے ہیں اس خاک میں خیرالامم کے تاجدارنظمِ عالم کا رہا جن کی حکومت پر مداردل کو تڑپاتی ہے اب تک گرمیِ محفل کی یادجل چُکا حاصل مگر محفوظ ہے حاصل کی یاد
ہے زیارت گاہِ مسلم گو جہان آباد بھیاس کرامت کا مگر حق دار ہے بغداد بھییہ چمن وہ ہے کہ تھا جس کے لیے سامانِ نازلالۂ صحرا جسے کہتے ہیں تہذیبِ حجازخاک اس بستی کی ہو کیونکر نہ ہمدوشِ اِرمجس نے دیکھے جانشینانِ پیمبرؐ کے قدمجس کے غُنچے تھے چمن ساماں، وہ گلشن ہے یہیکانپتا تھا جن سے روما، اُن کا مدفن ہے یہی
ہے زمینِ قُرطُبہ بھی دیدۂ مسلم کا نورظلمتِ مغرب میں جو روشن تھی مثلِ شمعِ طُوربُجھ کے بزمِ ملّتِ بیضا پریشاں کر گئیاور دِیا تہذیبِ حاضر کا فروزاں کر گئیقبر اُس تہذیب کی یہ سر زمینِ پاک ہےجس سے تاکِ گلشنِ یورپ کی رگ نم ناک ہے
خطّۂ قُسطنطنیّہ یعنی قیصر کا دیارمہدیِ اُمّت کی سَطوت کا نشانِ پائدارصورتِ خاکِ حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہےآستانِ مسند آرائے شہِ لولاکؐ ہےنکہتِ گُل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہواتُربتِ ایّوب انصاریؓ سے آتی ہے صدااے مسلماں! ملّتِ اسلام کا دل ہے یہ شہرسینکڑوں صدیوں کی کُشت و خُوں کا حاصل ہے یہ شہر
وہ زمیں ہے تُو مگر اے خواب گاہِ مُصطفیٰؐدید ہے کعبے کو تیری حجِّ اکبر سے سواخاتمِ ہستی میں تُو تاباں ہے مانندِ نگیںاپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری زمیںتُجھ میں راحت اُس شہنشاہِ معظّمؐ کو مِلیجس کے دامن میں اماں اقوامِ عالم کو مِلینام لیوا جس کے شاہنشاہ عالم کے ہوئےجانشیں قیصر کے، وارث مسندِ جم کے ہوئےہے اگر قومیّتِ اسلام پابندِ مقامہند ہی بنیاد ہے اس کی، نہ فارس ہے، نہ شامآہ یثرِب! دیس ہے مسلم کا تُو، املاء ہے تُونُقطۂ جاذب تاثّر کی شعاعوں کا ہے تُوجب تلک باقی ہے تُو دنیا میں، باقی ہم بھی ہیںصُبح ہے تو اِس چمن میں گوہرِ شبنم بھی ہیں
ستارہ
قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحَر تجھ کومآلِ حُسن کی کیا مِل گئی خبر تجھ کو؟متاعِ نُور کے لُٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کوہے کیا ہراسِ فنا صورتِ شرر تجھ کو؟زمیں سے دُور دیا آسماں نے گھر تجھ کومثالِ ماہ اُڑھائی قبائے زر تجھ کوغضب ہے پھر تری ننھّی سی جان ڈرتی ہے!تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے
چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہےجو اوج ایک کا ہے، دوسرے کی پستی ہےاجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادتِ مہرفنا کی نیند مئے زندگی کی مستی ہےوداعِ غنچہ میں ہے رازِ آفرینشِ گُلعدم، عدم ہے کہ آئینہ دارِ ہستی ہے!سکُوں محال ہے قدرت کے کارخانے میںثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں
دوستارے
آئے جو قِراں میں دو ستارےکہنے لگا ایک، دوسرے سےیہ وصل مدام ہو تو کیا خوبانجامِ خرام ہو تو کیا خوبتھوڑا سا جو مہرباں فلک ہوہم دونوں کی ایک ہی چمک ہو
لیکن یہ وصال کی تمنّاپیغامِ فراق تھی سراپاگردش تاروں کا ہے مقدّرہر ایک کی راہ ہے مقرّرہے خواب ثباتِ آشنائیآئین جہاں کا ہے جُدائی
گورستانِ شاہی
آسماں، بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہےکچھ مکدّر سا جبینِ ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظّارۂ خاموش میںصُبحِ صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشیبربطِ قُدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشیباطنِ ہر ذرّۂ عالم سراپا درد ہےاور خاموشی لبِ ہستی پہ آہِ سرد ہے
آہ! جولاں گاہِ عالم گیر یعنی وہ حصاردوش پر اپنے اُٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بارزندگی سے تھا کبھی معمور، اب سنسان ہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستان ہےاپنے سُکاّنِ کُہن کی خاک کا دلدادہ ہےکوہ کے سر پر مثالِ پاسباں اِستادہ ہے
ابر کے روزن سے وہ بالائے بامِ آسماںناظرِ عالم ہے نجمِ سبز فامِ آسماںخاک بازی وسعتِ دنیا کا ہے منظر اسےداستاں ناکامیِ انساں کی ہے ازبر اسےہے ازل سے یہ مسافر سُوئے منزل جا رہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتاگو سکُوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیےرنگ و آبِ زندگی سے گل بدامن ہے زمیںسینکڑوں خُوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیں
خواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزلِ حسرت فزادیدۂ عبرت! خراجِ اشکِ گُلگُوں کر اداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردُوں پایہ ہےآہ! اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدرجنبشِ مِژگاں سے ہے چشمِ تماشا کو حذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میںجو اُتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میں
سوتے ہیں خاموش، آبادی کے ہنگاموں سے دُورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبورقبر کی ظُلمت میں ہے اُن آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا تھا جبیں گستر فلککیا یہی ہے اُن شہنشاہوں کی عظمت کا مآلجن کی تدبیرِ جہاں بانی سے ڈرتا تھا زوالرعبِ فغفوری ہو دنیا میں کہ شانِ قیصریٹل نہیں سکتی غنیمِ موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشتِ عمر کا حاصل ہے گورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گور
شورشِ بزمِ طرب کیا، عُود کی تقریر کیادرد مندانِ جہاں کا نالۂ شب گیر کیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیاخُون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیںسینۂ ویراں میں جانِ رفتہ آ سکتی نہیں
روح، مُشتِ خاک میں زحمت کشِ بیداد ہےکوچہ گردِ نَے ہُوا جس دم نفَس، فریاد ہےزندگی انساں کی ہے مانندِ مرغِ خوش نواشاخ پر بیٹھا، کوئی دم چہچہایا، اُڑ گیاآہ! کیا آئے ریاضِ دہر میں ہم، کیا گئے!زندگی کی شاخ سے پھُوٹے، کھِلے، مُرجھا گئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہے
سلسلہ ہستی کا ہے اک بحرِ نا پیدا کناراور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں مزاراے ہوَس! خُوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتباریہ شرارے کا تبسّم، یہ خسِ آتش سوارچاند، جو صورت گرِ ہستی کا اک اعجاز ہےپہنے سیمابی قبا محوِ خرامِ ناز ہےچرخِ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگربے کسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقتِ سحَراک ذرا سا ابر کا ٹُکڑا ہے، جو مہتاب تھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنا
زندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہاراس زیاں خانے میں کوئی ملّتِ گردُوں وقاررہ نہیں سکتی ابد تک بارِ دوشِ روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خُوگر جہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرارذوقِ جدّت سے ہے ترکیبِ مزاجِ روزگارہے نگینِ دہر کی زینت ہمیشہ نامِ نومادرِ گیتی رہی آبستنِ اقوامِ نو
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزرچشمِ کوہِ نُور نے دیکھے ہیں کتنے تاجورمصر و بابِل مٹ گئے، باقی نشاں تک بھی نہیںدفترِ ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیںآ دبایا مہرِ ایراں کو اجل کی شام نےعظمتِ یُونان و روما لُوٹ لی ایّام نےآہ! مسلم بھی زمانے سے یونہی رخصت ہواآسماں سے ابرِ آذاری اُٹھا، برسا، گیا
ہے رگِ گُل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑیکوئی سُورج کی کرن شبنم میں ہے اُلجھی ہوئیسینۂ دریا شُعاعوں کے لیے گہوارہ ہےکس قدر پیارا لبِ جُو مہر کا نظّارہ ہےمحوِ زینت ہے صنوبر، جوئبار آئینہ ہےغنچۂ گُل کے لیے بادِ بہار آئینہ ہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشمِ انساں سے نہاں، پتّوں کے عُزلت خانے میںاور بُلبل، مطربِ رنگیں نوائے گُلِستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گُلِستاںعشق کے ہنگاموں کی اُڑتی ہوئی تصویر ہےخامۂ قُدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہےباغ میں خاموش جلسے گُلِستاں زادوں کے ہیںوادیِ کُہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیںزندگی سے یہ پُرانا خاکداں معمور ہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہےپتّیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرحدستِ طفلِ خُفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہےایک غم، یعنی غمِ ملّت ہمیشہ تازہ ہے
دل ہمارے یادِ عہدِ رفتہ سے خالی نہیںاپنے شاہوں کو یہ اُمّت بھولنے والی نہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اُجڑے بام و درگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشمِ تردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صدہا گُہر اس ابر کی آغوش میںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادیِ گُل، خاکِ صحرا کو بنا سکتا ہے یہخواب سے اُمّیدِ دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چُکا گو قوم کی شانِ جلالی کا ظہورہے مگر باقی ابھی شانِ جمالی کا ظہور
نمودِ صبح
ہو رہی ہے زیرِ دامانِ اُفُق سے آشکارصبح یعنی دخترِ دوشیزۂ لیل و نہار
پا چُکا فرصت درُودِ فصلِ انجم سے سپہرکشتِ خاور میں ہُوا ہے آفتاب آئینہ کار
آسماں نے آمدِ خورشید کی پا کر خبرمحملِ پروازِ شب باندھا سرِ دوشِ غبار
شعلۂ خورشید گویا حاصل اس کھیتی کا ہےبوئے تھے دہقانِ گردُوں نے جو تاروں کے شرار
ہے رواں نجمِ سحَر، جیسے عبادت خانے سےسب سے پیچھے جائے کوئی عابدِ شب زندہ دار
کیا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئیکھینچتا ہو میان کی ظلمت سے تیغِ آب دار
مطلعِ خورشید میں مُضمر ہے یوں مضمونِ صبحجیسے خلوت گاہِ مینا میں شرابِ خوش گوار
ہے تہِ دامانِ بادِ اختلاط انگیزِ صبحشورشِ ناقوس، آوازِ اذاں سے ہمکنار
جاگے کوئل کی اذاں سے طائرانِ نغمہ سنجہے ترنّم ریز قانونِ سحَر کا تار تار
تضمین بر شعرِ انیسی شاملوؔ
ہمیشہ صورتِ بادِ سحَر آوارہ رہتا ہوںمحبّت میں ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پیمائی
دلِ بے تاب جا پہنچا دیارِ پیرِ سنجر میںمیسّر ہے جہاں درمانِ دردِ ناشکیبائی
ابھی ناآشنائے لب تھا حرفِ آرزو میرازباں ہونے کو تھی منّت پذیرِ تابِ گویائی
یہ مرقد سے صدا آئی، حرم کے رہنے والوں کوشکایت تجھ سے ہے اے تارکِ آئینِ آبائی!
ترا اے قیس کیونکر ہوگیا سوزِ درُوں ٹھنڈاکہ لیلیٰ میں تو ہیں اب تک وہی اندازِ لیلائی
نہ تخمِ ’لا الہ‘ تیری زمینِ شور سے پھُوٹازمانے بھر میں رُسوا ہے تری فطرت کی نازائی
تجھے معلوم ہے غافل کہ تیری زندگی کیا ہےکُنِشتی ساز، معمورِ نوا ہائے کلیسائی
ہُوئی ہے تربیت آغوشِ بیت اللہ میں تیریدلِ شوریدہ ہے لیکن صنم خانے کا سودائی
“وفا آموختی از ما، بکارِ دیگراں کر دیربودی گوہرے از ما نثارِ دیگراں کر دی”
فلسفۂ غم
(میاں فضل حسین صاحب بیرسٹرایٹ لاء لاہور کے نام)
گو سراپا کیفِ عشرت ہے شرابِ زندگیاشک بھی رکھتا ہے دامن میں سحابِ زندگیموجِ غم پر رقص کرتا ہے حبابِ زندگیہے ’الم‘ کا سُورہ بھی جُزوِ کتابِ زندگیایک بھی پتّی اگر کم ہو تو وہ گُل ہی نہیںجو خزاں نادیدہ ہو بُلبل، وہ بُلبل ہی نہیں
آرزو کے خُون سے رنگیں ہے دل کی داستاںنغمۂ انسانیت کامل نہیں غیر از فغاںدیدۂ بینا میں داغِ غم چراغِ سینہ ہےروح کو سامانِ زینت آہ کا آئینہ ہےحادثاتِ غم سے ہے انساں کی فطرت کو کمالغازہ ہے آئینۂ دل کے لیے گردِ ملالغم جوانی کو جگا دیتا ہے لُطفِ خواب سےساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سےطائرِ دل کے لیے غم شہپرِ پرواز ہےراز ہے انساں کا دل، غم انکشافِ راز ہےغم نہیں غم، رُوح کا اک نغمۂ خاموش ہےجو سرودِ بربطِ ہستی سے ہم آغوش ہے
شام جس کی آشنائے نالۂ ’یا رب‘ نہیںجلوہ پیرا جس کی شب میں اشک کے کوکب نہیںجس کا جامِ دل شکستِ غم سے ہے ناآشناجو سدا مستِ شرابِ عیش و عشرت ہی رہاہاتھ جس گُلچیں کا ہے محفوظ نوکِ خار سےعشق جس کا بے خبر ہے ہجر کے آزار سےکُلفتِ غم گرچہ اُس کے روز و شب سے دُور ہےزندگی کا راز اُس کی آنکھ سے مستُور ہےاے کہ نظمِ دہر کا ادراک ہے حاصل تجھےکیوں نہ آساں ہو غم و اندوہ کی منزل تجھے
ہے ابد کے نسخۂ دیرینہ کی تمہید عشقعقلِ انسانی ہے فانی، زندۂ جاوید عشقعشق کے خورشید سے شامِ اجل شرمندہ ہےعشق سوزِ زندگی ہے، تا ابد پائندہ ہےرخصتِ محبوب کا مقصد فنا ہوتا اگرجوشِ اُلفت بھی دلِ عاشق سے کر جاتا سفرعشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیںروح میں غم بن کے رہتا ہے، مگر جاتا نہیںہے بقائے عشق سے پیدا بقا محبوب کیزندگانی ہے عدم ناآشنا محبوب کی
آتی ہے ندّی جبینِ کوہ سے گاتی ہوئیآسماں کے طائروں کو نغمہ سِکھلاتی ہوئیآئنہ روشن ہے اُس کا صورتِ رخسار حُورگِر کے وادی کی چٹانوں پر یہ ہو جاتا ہے چُورنہر جو تھی، اُس کے گوہر پیارے پیارے بن گئےیعنی اس اُفتاد سے پانی کے تارے بن گئےجُوئے سیمابِ رواں پھٹ کر پریشاں ہو گئیمضطرب بوندوں کی اک دنیا نمایاں ہو گئیہجر، ان قطروں کو لیکن وصل کی تعلیم ہےدو قدم پر پھر وہی جُو مثلِ تارِ سیم ہےایک اصلیّت میں ہے نہرِ روانِ زندگیگِر کے رفعت سے ہجومِ نوعِ انساں بن گئیپستیِ عالم میں ملنے کو جُدا ہوتے ہیں ہمعارضی فُرقت کو دائم جان کر روتے ہیں ہم
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیںیہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیںعقل جس دم دہر کی آفات میں محصور ہویا جوانی کی اندھیری رات میں مستور ہودامنِ دل بن گیا ہو رزم گاہِ خیر و شرراہ کی ظلمت سے ہو مشکل سوئے منزل سفرخضرِ ہمّت ہو گیا ہو آرزو سے گوشہ گیرفکر جب عاجز ہو اور خاموش آوازِ ضمیروادیِ ہستی میں کوئی ہم سفر تک بھی نہ ہوجادہ دکھلانے کو جُگنو کا شرر تک بھی نہ ہومرنے والوں کی جبیں روشن ہے اس ظلمات میںجس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
پھُول کا تحفہ عطا ہونے پر
وہ مستِ ناز جو گُلشن میں جا نکلتی ہےکلی کلی کی زباں سے دُعا نکلتی ہے“الٰہی! پھُولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرےکلی سے رشکِ گُلِ آفتاب مجھ کو کرے”
تجھے وہ شاخ سے توڑیں! زہے نصیب ترےتڑپتے رہ گئے گُلزار میں رقیب ترےاُٹھا کے صدمۂ فُرقت وصال تک پہنچاتری حیات کا جوہر کمال تک پہنچامرا کنول کہ تصدّق ہیں جس پہ اہلِ نظرمرے شباب کے گُلشن کو ناز ہے جس پرکبھی یہ پھُول ہم آغوشِ مدّعا نہ ہواکسی کے دامنِ رنگیں سے آشنا نہ ہواشگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسےفسُردہ رکھتا ہے گُلچیں کا انتظار اسے
ترانۂ ملی
چِین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
دنیا کے بُتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اُس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا
تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسَو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا
اے گلِستانِ اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا
اے موجِ دجلہ! تُو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا
اے ارضِ پاک! تیری حُرمت پہ کٹ مرے ہمہے خُوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنااس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا
اقبالؔ کا ترانہ بانگِ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
وطنیّت
(یعنی وطن بحیثیّت ایک سیاسی تصوّر کے)
اس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اورساقی نے بِنا کی روِشِ لُطف و ستم اورمسلم نے بھی تعمیر کِیا اپنا حرم اورتہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اوران تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بُت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہےغارت گرِ کاشانۂ دینِ نبَوی ہےبازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہےاسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہےنظّارۂ دیرینہ زمانے کو دِکھا دےاے مصطفَوی خاک میں اس بُت کو ملا دے!
ہو قیدِ مقامی تو نتیجہ ہے تباہیرہ بحر میں آزادِ وطن صُورتِ ماہیہے ترکِ وطن سُنّتِ محبوبؐ الٰہیدے تُو بھی نبوّت کی صداقت پہ گواہیگُفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہےارشادِ نبوّت میں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سےتسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سےخالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سےکمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سےاقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیّتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
ایک حاجی مدینے کے راستے میں
قافلہ لُوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے دُوراس بیاباں یعنی بحرِ خشک کا ساحل ہے دُور
ہم سفر میرے شکارِ دشنۂ رہزن ہوئےبچ گئے جو، ہو کے بے دل سُوئے بیت اللہ پھرے
اُس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی!موت کے زہراب میں پائی ہے اُس نے زندگی
خنجرِ رہزن اُسے گویا ہلالِ عید تھا’ہائے یثرِب‘ دل میں، لب پر نعرۂ توحید تھا
خوف کہتا ہے کہ یثرِب کی طرف تنہا نہ چلشوق کہتا ہے کہ تُو مسلم ہے، بے باکانہ چل
بے زیارت سُوئے بیت اللہ پھر جاؤں گا کیاعاشقوں کو روزِ محشر منہ نہ دِکھلاؤں گا کیا
خوفِ جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجازہجرتِ مدفونِ یثرِبؐ میں یہی مخفی ہے راز
گو سلامت محملِ شامی کی ہمراہی میں ہےعشق کی لذّت مگر خطروں کی جاں کاہی میں ہے
آہ! یہ عقلِ زیاں اندیش کیا چالاک ہےاور تاثّر آدمی کا کس قدر بے باک ہے
قطعہ
کل ایک شوریدہ خواب گاہِ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھاکہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بِنائے ملّت مِٹا رہے ہیں
یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارےہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں
غضب ہیں یہ ’مُرشدانِ خود بیں، خُدا تری قوم کو بچائے!بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزّت بنا رہے ہیں
سُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہےنئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!
شکوہ
کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوںفکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوںنالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوںجُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے، خاکمِ بدہن ہے مجھ کو
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش میں، فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لےخوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے
تھی توموجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیمپُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیمشرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیمبوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو نہ ہوتی نسیمہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھیورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظرکہیں مسجود تھے پتّھر، کہیں معبود شجرخُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظرمانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھیاہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھیاِسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میںدِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لیے؟قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتیبُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھےتجھ سے سر کش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نےزیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے
تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نےشہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نےتوڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نےکاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟
کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئیکِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمُنہ کے بَل گر کے "ھُوَ اللہُ اَحَد"کہتے تھے
آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نمازقبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ هي کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرےکوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
صفحۂ دۃر سے باطل سے کومٹایا ہم نےنوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں!
اُمتیں اور بھی ہیں، اُن میں گناہگار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیںسینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشنوں پربرق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
بُت صنم خانوں مین کہتے ہیں مسلماں گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئیاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن ہے کُفر،احساس تجھے ہے کے نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
یہ شکایت نہیں، ہیں اُن کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصوراور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں
کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سرابطعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے،ناداری ہےکیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟
بنی اغیار کی چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے حالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟
تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے، اپنی صِلا لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئےآئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کراب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
دردِ لیلیٰ بھی وہی، قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رَمِ آہو بھہ وہیعشق کا دل بھی وہی، خسن کا جادو بھی وہیاُمّتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تُو بھی وہیپھر یہ آزردگیِ غیر سبب کا معنیاپنے شیداؤں یہ چشمِ غضب کیا معنی
تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟بُت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟رسمِ سلمانؓو اویس قرنیؓ کو چھوڑا؟آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثلِ بلال حبشی رکھتے ہیں
عشق کی خیر وہ پہلے سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہیمُضطِرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں،تُو بھی تو ہرجائی ہے!
سرِ فاران کیا دین کو کامل تُو نےاِک اشارے میں پزروں کے لیے دل تُو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نےپُھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تُو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر بار نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟
وادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظّارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے، دل نہ رہاگھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہااے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سُوئے محفلِ ما باز آئی
بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جُو بیٹھےسُنتے ہیں جام بکف نغمۂ کُو کُو بیٹےدور ہنگامۂ گُلزار سے یک سُو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظر "ھُو" بیٹھےاپنے پروانوں کی پھر ذوقِ خُود افروزی دےبرقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے
قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجازلے اُرا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے، بُوئے نیازتُو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لیےطُور مضطر ہے اُسی آگ میں جلنے کے لیے
مُشکلیں اُمّتِ مرحوم کی آساں کر دےمُورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دےجنس نایابِ محبّت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دَیر نشینوں کو مسلماں کر دےجُوئے خوں می چکدا از حسرتِ دیرینہ مامی تپد نالۂ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما
بُوئے گُل لے گئی بیرون چمن رازِ چمنکیا قیامت ہے کہ خود کہ خود پُھول ہیں غمّازِ چمن!عہدِ گُل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمناُڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بُلبل ہے کہ محو ترنّم ہے اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک
قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتّیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیںقیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گُلشن سمجھتا کوئی فریاد اس کی!
لُطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میںکچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلواے تڑپ رہے ہیں مرے سینے میںاس گُلستان میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتا ہوں، وہ لالے ہی نہیں
چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوںپھر اِسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خُم ہے تو کیا،مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا،لَے تو حجازی ہے مری
چاند
اے چاند! حُسن تیرا فطرت کی آبرو ہےطوفِ حریمِ خاکی تیری قدیم خو ہےیہ داغ سا جو تیرے سینے میں ہے نمایاںعاشق ہے تُو کسی کا، یہ داغِ آرزو ہے؟میں مضطرب زمیں پر، بے تاب تُو فلَک پرتُجھ کو بھی جُستجو ہے، مجھ کو بھی جُستجو ہےانساں ہے شمع جس کی، محفل وہی ہے تیری؟میں جس طرف رواں ہوں، منزل وہی ہے تیری؟
تُو ڈھُونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامشی میںپوشیدہ ہے وہ شاید غوغائے زندگی میںاِستادہ سرْو میں ہے، سبزے میں سو رہا ہےبُلبل میں نغمہ زن ہے، خاموش ہے کلی میںآ! میں تجھے دِکھاؤں رُخسارِ روشن اس کانہروں کے آئنے میں، شبنم کی آرسی میںصحرا و دشت و در میں، کُہسار میں وہی ہےانساں کے دل میں، تیرے رُخسار میں وہی ہے
رات اور شاعر
راتکیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تُو پریشاںخاموش صورتِ گُل، مانندِ بُو پریشاںتاروں کے موتیوں کا شاید ہے جوہری تُومچھلی ہے کوئی میرے دریائے نور کی تُویا تُو مری جبیں کا تارا گرا ہُوا ہےرفعت کو چھوڑ کر جو بستی میں جا بسا ہےخاموش ہو گیا ہے تارِ ربابِ ہستیہے میرے آئنے میں تصویرِ خوابِ ہستیدریا کی تہ میں چشمِ گرادب سو گئی ہےساحل سے لگ کے موجِ بے تاب سو گئی ہےبستی زمیں کی کیسی ہنگامہ آفریں ہےیوں سو گئی ہے جیسے آباد ہی نہیں ہےشاعر کا دل ہے لیکن ناآشنا سکُوں سےآزاد رہ گیا تُو کیونکر مرے فسوں سے؟
شاعرمَیں ترے چاند کی کھیتی میں گُہر بوتا ہوںچھُپ کے انسانوں سے مانندِ سحَر روتا ہوںدن کی شورش میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہیںعُزلتِ شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیںمجھ میں فریاد جو پنہاں ہے، سُناؤں کس کوتپشِ شوق کا نظّارہ دِکھاؤں کس کوبرقِ ایمن مرے سینے پہ پڑی روتی ہےدیکھنے والی ہے جو آنکھ، کہاں سوتی ہے!صفَتِ شمعِ لحد مُردہ ہے محفل میریآہ، اے رات! بڑی دُور ہے منزل میریعہدِ حاضر کی ہوا راس نہیں ہے اس کواپنے نقصان کا احساس نہیں ہے اس کوضبطِ پیغامِ محبّت سے جو گھبراتا ہوںتیرے تابندہ ستاروں کو سُنا جاتا ہوں
بزمِ انجم
سُورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کوطشتِ اُفُق سے لے کر لالے کے پھُول مارےپہنا دیا شفَق نے سونے کا سارا زیورقُدرت نے اپنے گہنے چاندی کے سب اُتارےمحمل میں خامشی کے لیلائے ظُلمت آئیچمکے عروسِ شب کے موتی وہ پیارے پیارےوہ دُور رہنے والے ہنگامۂ جہاں سےکہتا ہے جن کو انساں اپنی زباں میں ’تارے‘محوِ فلک فروزی تھی انجمن فلک کیعرشِ بریں سے آئی آواز اک ملَک کی
اے شب کے پاسانو، اے آسماں کے تارو!تابندہ قوم ساری گردُوں نشیں تمھاریچھیڑو سرود ایسا، جاگ اٹھّیں سونے والےرہبر ہے قافلوں کی تابِ جبیں تمھاریآئینے قسمتوں کے تم کو یہ جانتے ہیںشاید سُنیں صدائیں اہلِ زمیں تمھاریرُخصت ہوئی خموشی تاروں بھری فضا سےوسعت تھی آسماں کی معمور اس نوا سے
“حُسنِ ازل ہے پیدا تاروں کی دلبری میںجس طرح عکسِ گُل ہو شبنم کی آرسی میںآئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اَڑنامنزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میںیہ کاروانِ ہستی ہے تیز گام ایساقومیں کُچل گئی ہیں جس کی رواروی میںآنکھوں سے ہیں ہماری غائب ہزاروں انجمداخل ہیں وہ بھی لیکن اپنی برادری میںاک عمر میں نہ سمجھے اس کو زمین والےجو بات پا گئے ہم تھوڑی سی زندگی میںہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارےپوشیدہ ہے یہ نُکتہ تاروں کی زندگی میں”
سیرِ فلک
تھا تخیُّل جو ہم سفر میراآسماں پر ہُوا گزر میرااُڑتا جاتا تھا اور نہ تھا کوئیجاننے والا چرخ پر میراتارے حیرت سے دیکھتے تھے مجھےرازِ سر بستہ تھا سفر میراحلقۂ صُبح و شام سے نکلااس پُرانے نظام سے نکلا
کیا سُناؤں تمھیں اِرم کیا ہےخاتمِ آرزُوئے دیدہ و گوششاخِ طُوبیٰ پہ نغمہ ریز طُیوربے حجابانہ حُور جلوہ فروشساقیانِ جمیل جام بدستپینے والوں میں شورِ نوشانوشدُور جنّت سے آنکھ نے دیکھاایک تاریک خانہ، سرد و خموشطالعِ قیس و گیسوئے لیلیٰاُس کی تاریکیوں سے دوش بدوشخُنک ایسا کہ جس سے شرما کرکُرۂ زمہریر ہو رُوپوشمَیں نے پوچھی جو کیفیت اُس کیحیرت انگیز تھا جوابِ سروشیہ مقامِ خُنک جہنّم ہےنار سے، نُور سے تہی آغوششعلے ہوتے ہیں مُستعار اس کےجن سے لرزاں ہیں مردِ عبرت کوشاہلِ دنیا یہاں جو آتے ہیںاپنے انگار ساتھ لاتے ہیں
نصیحت
میں نے اقبالؔ سے از راہِ نصیحت یہ کہاعاملِ روزہ ہے تُو اور نہ پابند نماز
تُو بھی ہے شیوۂ اربابِ ریا میں کاملدل میں لندن کی ہوَس، لب پہ ترے ذکرِ حجاز
جھُوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہےتیرا اندازِ تملُّق بھی سراپا اعجاز
ختم تقریر تری مدحتِ سرکار پہ ہےفکرِ روشن ہے ترا مُوجدِ آئینِ نیاز
درِ حکّام بھی ہے تجھ کو مقامِ محمودپالِسی بھی تری پیچیدہ تر از زلفِ ایاز
اور لوگوں کی طرح تُو بھی چھُپا سکتا ہےپردۂ خدمتِ دیں میں ہوَسِ جاہ کا راز
نظر آجاتا ہے مسجد میں بھی تُو عید کے دناثرِ وعظ سے ہوتی ہے طبیعت بھی گداز
دست پرورد ترے مُلک کے اخبار بھی ہیںچھیڑنا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز
اس پہ طُرّہ ہے کہ تُو شعر بھی کہہ سکتا ہےتیری مِینائے سخن میں ہے شرابِ شیراز
جتنے اوصاف ہیں لیڈر کے، وہ ہیں تجھ میں سبھیتجھ کو لازم ہے کہ ہو اُٹھ کے شریکِ تگ و تاز
غمِ صیّاد نہیں، اور پر و بال بھی ہیںپھر سبب کیا ہے، نہیں تجھ کو دماغِ پرواز
“عاقبت منزلِ ما وادیِ خاموشان استحالیا غُلغلہ در گنبدِ افلاک انداز”
رام
لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہندسب فلسفی ہیں خطّۂ مغرب کے رامِ ہند
یہ ہندیوں کے فکرِ فلک رس کا ہے اثررفعت میں آسماں سے بھی اُونچا ہے بامِ ہند
اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں مَلَک سرشتمشہور جن کے دَم سے ہے دُنیا میں نامِ ہند
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو نازاہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند
اعجاز اُس چراغِ ہدایت کا ہے یہیروشن تر از سحَر ہے زمانے میں شامِ ہند
تلوار کا دھنی تھا، شجاعت میں فرد تھاپاکیزگی میں، جوشِ محبّت میں فرد تھا
موٹر
کیسی پتے کی بات جُگندر نے کل کہیموٹر ہے ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش
ہنگامہ آفریں نہیں اس کا خرامِ نازمانندِ برق تیز، مثالِ ہوا خموش
میں نے کہا، نہیں ہے یہ موٹر پہ منحصرہے جادۂ حیات میں ہر تیزپا خموش
ہے پا شکستہ شیوۂ فریاد سے جرَسنکہت کا کارواں ہے مثالِ صبا خموش
مِینا مدام شورشِ قُلقُل سے پا بَہ گللیکن مزاجِ جامِ خرام آشنا خموش
شاعر کے فکر کو پرِ پرواز خامشیسرمایہ دارِ گرمیِ آواز خامشی!
انسان
منظر چَمنِستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبامحرومِ عمل نرگس مجبورِ تماشا ہے
رفتار کی لذّت کا احساس نہیں اس کوفطرت ہی صنوبر کی محرومِ تمنّا ہے
تسلیم کی خُوگر ہے جو چیز ہے دُنیا میںانسان کی ہر قوّت سرگرمِ تقاضا ہے
اس ذرّے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دمیہ ذرّہ نہیں، شاید سِمٹا ہُوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چَمنِستاں کییہ ہستیِ دانا ہے، بِینا ہے، توانا ہے
خطاب بہ جوانانِ اسلام
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نےوہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میںکُچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا
تمدّن آفریں، خلاّقِ آئینِ جہاں داریوہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا
سماں ’الفُقْرَ و فَخرْی‘ کا رہا شانِ امارت میں“بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت رُوے زیبا را”
گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنےکہ مُنعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
غرض مَیں کیا کہُوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھےجہاںگیر و جہاںدار و جہاںبان و جہاںآرا
اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوںمگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتیکہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھیثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھینہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کیجو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
“غنیؔ! روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشا کُنکہ نُورِ دیدہ اش روشن کُند چشمِ زلیخا را”
غرّۂ شوّال یا ہلالِ عید
غرّۂ شوّال! اے نُورِ نگاہِ روزہدارآ کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظارتیری پیشانی پہ تحریرِ پیامِ عید ہےشام تیری کیا ہے، صُبحِ عیش کی تمہید ہےسرگزشتِ ملّتِ بیضا کا تُو آئینہ ہےاے مہِ نو! ہم کو تجھ سے اُلفتِ دیرینہ ہےجس علَم کے سائے میں تیغ آزما ہوتے تھے ہمدُشمنوں کے خُون سے رنگیں قبا ہوتے تھے ہمتیری قسمت میں ہم آغوشی اُسی رایت کی ہےحُسنِ روز افزوں سے تیرے آبرو ملّت کی ہےآشنا پرور ہے قوم اپنی، وفا آئِیں تراہے محبّت خیز یہ پیراہنِ سیمیں ترااَوجِ گردُوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لےاپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے!
قافلے دیکھ اور اُن کی برق رفتاری بھی دیکھرہروِ درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھدیکھ کر تجھ کو اُفُق پر ہم لُٹاتے تھے گُہراے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھفرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیراپنی آزادی بھی دیکھ، ان کی گرفتاری بھی دیکھدیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخبُت کدے میں برہمن کی پختہ زُنّاری بھی دیکھکافروں کی مسلم آئینی کا بھی نظّارہ کراور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھبارشِ سنگِ حوادث کا تماشائی بھی ہواُمّتِ مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھہاں، تملُّق پیشگی دیکھ آبُرو والوں کی تُواور جو بے آبُرو تھے، اُن کی خود داری بھی دیکھجس کو ہم نے آشنا لُطفِ تکلّم سے کِیااُس حریفِ بے زباں کی گرم گُفتاری بھی دیکھسازِ عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں میں سُناور ایراں میں ذرا ماتم کی تیّاری بھی دیکھچاک کر دی تُرکِ ناداں نے خلافت کی قباسادگی مسلم کی دیکھ، اَوروں کی عیّاری بھی دیکھصُورتِ آئینہ سب کچھ دیکھ اور خاموش رہشورشِ امروز میں محوِ سرودِ دوش رہ
شمع اور شاعر
(فروری ۱۹۱۲ء)
شاعردوش می گُفتم بہ شمعِ منزلِ ویرانِ خویشگیسوے تو از پرِ پروانہ دارد شانہ اےدر جہاں مثلِ چراغِ لالۂ صحرا ستمنے نصیبِ محفلے نے قسمتِ کاشانہ اےمدّتے مانندِ تو من ہم نفَس می سوختمدر طوافِ شعلہ ام بالے نہ زد پروانہ اےمی تپد صد جلوہ در جانِ اَمل فرسُودِ منبر نمی خیزد ازیں محفل دلِ دیوانہ اےاز کُجا ایں آتشِ عالم فروز اندوختیکرمکِ بے مایہ را سوزِ کلیم آموختی
شمعمجھ کو جو موجِ نفَس دیتی ہے پیغامِ اجللب اسی موجِ نفَس سے ہے نوا پیرا ترامیں تو جلتی ہوں کہ ہے مضمر مری فطرت میں سوزتُو فروزاں ہے کہ پروانوں کو ہو سودا تراگِریہ ساماں مَیں کہ میرے دل میں ہے طوفانِ اشکشبنم افشاں تُو کہ بزمِ گُل میں ہو چرچا تراگُل بہ دامن ہے مری شب کے لہُو سے میری صبحہے ترے امروز سے ناآشنا فردا ترایوں تو روشن ہے مگر سوزِ درُوں رکھتا نہیںشُعلہ ہے مثلِ چراغِ لالۂ صحرا تراسوچ تو دل میں، لقب ساقی کا ہے زیبا تجھے؟انجمن پیاسی ہے اور پیمانہ بے صہبا ترا!اور ہے تیرا شعار، آئینِ ملّت اور ہےزِشت رُوئی سے تری آئینہ ہے رُسوا تراکعبہ پہلو میں ہے اور سودائیِ بُت خانہ ہےکس قدر شوریدہ سر ہے شوقِ بے پروا تراقیس پیدا ہوں تری محفل میں! یہ ممکن نہیںتنگ ہے صحرا ترا، محمل ہے بے لیلا ترااے دُرِ تابندہ، اے پروَردۂ آغوشِ موج!لذّتِ طوفاں سے ہے ناآشنا دریا ترااب نوا پیرا ہے کیا، گُلشن ہُوا برہم ترابے محل تیرا ترنّم، نغمہ بے موسم ترا
تھا جنھیں ذوقِ تماشا، وہ تو رخصت ہو گئےلے کے اب تُو وعدۂ دیدارِ عام آیا تو کیاانجمن سے وہ پُرانے شعلہ آشام اُٹھ گئےساقیا! محفل میں تُو آتش بجام آیا تو کیاآہ، جب گُلشن کی جمعیّت پریشاں ہو چکیپھُول کو بادِ بہاری کا پیام آیا تو کیاآخرِ شب دید کے قابل تھی بِسمل کی تڑپصبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیابُجھ گیا وہ شعلہ جو مقصودِ ہر پروانہ تھااب کوئی سودائیِ سوزِ تمام آیا تو کیاپھُول بے پروا ہیں، تُو گرمِ نوا ہو یا نہ ہوکارواں بے حِس ہے، آوازِ درا ہو یا نہ ہو
شمعِ محفل ہو کے تُو جب سوز سے خالی رہاتیرے پروانے بھی اس لذّت سے بیگانے رہےرشتۂ اُلفت میں جب ان کو پرو سکتا تھا تُوپھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہےشوقِ بے پروا گیا، فکرِ فلک پیما گیاتیری محفل میں نہ دیوانے نہ فرزانے رہےوہ جگر سوزی نہیں، وہ شعلہ آشامی نہیںفائدہ پھر کیا جو گِردِ شمع پروانے رہےخیر، تُو ساقی سہی لیکن پِلائے گا کسےاب نہ وہ مے کش رہے باقی نہ مےخانے رہےرو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہُوئی مِینا اُسےکل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہےآج ہیں خاموش وہ دشتِ جُنوں پروَر جہاںرقص میں لیلیٰ رہی، لیلیٰ کے دیوانے رہےوائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہاکارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھیشہر اُن کے مِٹ گئے آبادیاں بَن ہو گئیںسطوَتِ توحید قائم جن نمازوں سے ہوئیوہ نمازیں ہند میں نذرِ برہمن ہو گئیںدہر میں عیشِ دوام آئِیں کی پابندی سے ہےموج کو آزادیاں سامانِ شیون ہو گئیںخود تجلّی کو تمنّا جن کے نظّاروں کی تھیوہ نگاہیں نا اُمیدِ نُورِ ایمن ہوگئیںاُڑتی پھرتی تھیں ہزاروں بُلبلیں گُلزار میںدل میں کیا آئی کہ پابندِ نشیمن ہو گئیںوسعتِ گردُوں میں تھی ان کی تڑپ نظّارہ سوزبجلیاں آسودۂ دامانِ خرمن ہو گئیںدیدۂ خُونبار ہو منّت کشِ گُلزار کیوںاشکِ پیہم سے نگاہیں گُل بہ دامن ہو گئیںشامِ غم لیکن خبر دیتی ہے صبحِ عید کیظُلمتِ شب میں نظر آئی کرن اُمّید کی
مُژدہ اے پیمانہ بردارِ خُمِستانِ حجاز!بعد مُدّت کے ترے رِندوں کو پھر آیا ہے ہوشنقدِ خودداری بہائے بادۂ اغیار تھیپھر دکاں تیری ہے لبریزِ صدائے ناؤ نوشٹُوٹنے کو ہے طلسمِ ماہ سیمایانِ ہندپھر سلیمیٰ کی نظر دیتی ہے پیغامِ خروشپھر یہ غوغا ہے کہ لاساقی شرابِ خانہ سازدل کے ہنگامے مئے مغرب نے کر ڈالے خموشنغمہ پیرا ہو کہ یہ ہنگامِ خاموشی نہیںہے سحَر کا آسماں خورشید سے مینا بدوشدر غمِ دیگر بسوز و دیگراں را ہم بسوزگُفتمت روشن حدیثے گر توانی دار گوش!کہہ گئے ہیں شاعری جُزویست از پیغمبریہاں سُنا دے محفلِ ملّت کو پیغامِ سروشآنکھ کو بیدار کر دے وعدۂ دیدار سےزندہ کر دے دل کو سوزِ جوہرِ گفتار سے
رہزنِ ہمّت ہُوا ذوقِ تن آسانی ترابحر تھا صحرا میں تُو، گلشن میں مثلِ جُو ہوااپنی اصلیّت پہ قائم تھا تو جمعیّت بھی تھیچھوڑ کر گُل کو پریشاں کاروانِ بُو ہوازندگی قطرے کی سِکھلاتی ہے اسرارِ حیاتیہ کبھی گوہر، کبھی شبنم، کبھی آنسو ہُواپھر کہیں سے اس کو پیدا کر، بڑی دولت ہے یہزندگی کیسی جو دل بیگانۂ پہلو ہواآبرو باقی تری مِلّت کی جمعیّت سے تھیجب یہ جمعیّت گئی، دنیا میں رُسوا تُو ہوافرد قائم ربطِ مِلّت سے ہے، تنہا کچھ نہیںموج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
پردۂ دل میں محبّت کو ابھی مستور رکھیعنی اپنی مے کو رُسوا صُورتِ مِینا نہ کرخیمہ زن ہو وادیِ سِینا میں مانندِ کلیمشُعلۂ تحقیق کو غارت گرِ کاشانہ کرشمع کو بھی ہو ذرا معلوم انجامِ ستمصَرفِ تعمیرِ سحَر خاکسترِ پروانہ کرتُو اگر خود دار ہے، منّت کشِ ساقی نہ ہوعین دریا میں حبابآسا نگُوں پیمانہ کرکیفیت باقی پُرانے کوہ و صحرا میں نہیںہے جُنوں تیرا نیا، پیدا نیا ویرانہ کرخاک میں تجھ کو مُقدّر نے مِلایا ہے اگرتو عصا اُفتاد سے پیدا مثالِ دانہ کرہاں، اسی شاخِ کُہن پر پھر بنا لے آشیاںاہلِ گُلشن کو شہیدِ نغمۂ مستانہ کراس چمن میں پیروِ بُلبل ہو یا تلمیذِ گُلیا سراپا نالہ بن جا یا نوا پیدا نہ کرکیوں چمن میں بے صدا مثلِ رمِ شبنم ہے تُولب کُشا ہو جا، سرودِ بربطِ عالم ہے تُو
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُوآہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھےراہ تُو، رہرو بھی تُو، رہبر بھی تُو، منزل بھی تُوکانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیاناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تُودیکھ آ کر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھیقیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تُووائے نادانی کہ تُو محتاجِ ساقی ہو گیامے بھی تو، مِینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تُوشُعلہ بن کر پھُونک دے خاشاکِ غیر اللہ کوخوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تُوبے خبر! تُو جوہرِ آئینۂ ایّام ہےتُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
اپنی اصلیّت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تُوقطرہ ہے، لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہےکیوں گرفتارِ طلسمِ ہیچ مقداری ہے تُودیکھ تو پوشیدہ تجھ میں شوکتِ طوفاں بھی ہےسینہ ہے تیرا امِیں اُس کے پیامِ ناز کاجو نظامِ دہر میں پیدا بھی ہے، پنہاں بھی ہےہفت کِشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگتُو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہےاب تلک شاہد ہے جس پر کوہِ فاراں کا سکُوتاے تغافل پیشہ! تجھ کو یاد وہ پیماں بھی ہے؟تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیاورنہ گُلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہےدل کی کیفیّت ہے پیدا پردۂ تقریر میںکِسوتِ مِینا میں مے مستُور بھی، عُریاں بھی ہےپھُونک ڈالا ہے مری آتش نوائی نے مجھےاور میری زندگانی کا یہی ساماں بھی ہےراز اس آتش نوائی کا مرے سینے میں دیکھجلوۂ تقدیر میرے دل کے آئینے میں دیکھ!
آسماں ہوگا سحَر کے نور سے آئینہ پوشاور ظُلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گیاس قدر ہوگی ترنّم آفریں بادِ بہارنکہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گیآ ملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاکبزمِ گُل کی ہم نفَس بادِ صبا ہو جائے گیشبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و سازاس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گیدیکھ لو گے سطوَتِ رفتارِ دریا کا مآلموجِ مضطر ہی اسے زنجیرِ پا ہو جائے گیپھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجودپھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گینالۂ صیّاد سے ہوں گے نوا ساماں طیورخُونِ گُلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گیآنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیںمحوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گیشب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سےیہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
مسلم
(جون۱۹۱۲ء)
ہر نفَس اقبالؔ تیرا آہ میں مستور ہےسینۂ سوزاں ترا فریاد سے معمور ہےنغمۂ اُمّید تیری بربطِ دل میں نہیںہم سمجھتے ہیں یہ لیلیٰ تیرے محمل میں نہیںگوش آوازِ سرودِ رفتہ کا جویا ترااور دل ہنگامۂ حاضر سے بے پروا تراقصّۂ گُل ہم نوایانِ چمن سُنتے نہیںاہلِ محفل تیرا پیغامِ کُہن سُنتے نہیںاے درائے کاروانِ خُفتہ پا! خاموش رہہے بہت یاس آفریں تیری صدا خاموش رہزندہ پھر وہ محفلِ دیرینہ ہو سکتی نہیںشمع سے روشن شبِ دوشینہ ہوسکتی نہیں
ہم نشیں! مسلم ہوں مَیں، توحید کا حامل ہوں مَیںاس صداقت پر ازل سے شاہدِ عادل ہوں مَیںنبضِ موجودات میں پیدا حرارت اس سے ہےاور مسلم کے تخیّل میں جسارت اس سے ہےحق نے عالم اس صداقت کے لیے پیدا کیااور مجھے اس کی حفاظت کے لیے پیدا کیادہر میں غارت گرِ باطل پرستی مَیں ہُواحق تو یہ ہے حافظِ ناموسِ ہستی مَیں ہُوامیری ہستی پیرہن عُریانیِ عالم کی ہےمیرے مِٹ جانے سے رُسوائی بنی آدم کی ہےقسمتِ عالم کا مسلم کوکبِ تابندہ ہےجس کی تابانی سے افسونِ سحَر شرمندہ ہےآشکارا ہیں مری آنکھوں پہ اسرارِ حیاتکہہ نہیں سکتے مجھے نومیدِ پیکارِ حیاتکب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھےہے بھروسا اپنی ملّت کے مقّدر پر مجھےیاس کے عُنصر سے ہے آزاد میرا روزگارفتحِ کامل کی خبر دتیا ہے جوشِ کارزارہاں یہ سچ ہے چشم بر عہدِ کُہن رہتا ہوں مَیںاہلِ محفل سے پُرانی داستاں کہتا ہوں مَیںیادِ عہدِ رفتہ میری خاک کو اِکسیر ہےمیرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہےسامنے رکھتا ہوں اُس دورِ نشاط افزا کو مَیںدیکھتا ہوں دوش کے آئینے میں فردا کو مَیں
حضورِ رسالت مآبؐ میں
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہُواجہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہُواقیودِ شام و سحَر میں بسر تو کی لیکننظامِ کُہنۂ عالم سے آشنا نہ ہُوافرشتے بزمِ رسالتؐ میں لے گئے مجھ کوحضورِ آیۂ رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو
کہا حضورؐ نے، اے عندلیبِ باغِ حجاز!کلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گُدازہمیشہ سرخوشِ جامِ وِلا ہے دل تیرافتادگی ہے تری غیرتِ سجودِ نیازاُڑا جو پستیِ دنیا سے تُو سُوئے گردُوںسِکھائی تجھ کو ملائک نے رفعتِ پروازنکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بُو آیاہمارے واسطے کیا تُحفہ لے کے تُو آیا؟
“حضورؐ! دہر میں آسُودگی نہیں مِلتیتلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں مِلتیہزاروں لالہ و گُل ہیں ریاضِ ہستی میںوفا کی جس میں ہو بُو، وہ کلی نہیں مِلتیمگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوںجو چیز اس میں ہے، جنّت میں بھی نہیں ملتیجھلکتی ہے تری اُمّت کی آبرو اس میںطرابلس کے شہیدوں کا ہے لہُو اس میں”
شفاخانۂ حجاز
اک پیشوائے قوم نے اقبالؔ سے کہاکھُلنے کو جدّہ میں ہے شفاخانۂ حجازہوتا ہے تیری خاک کا ہر ذرّہ بے قرارسُنتا ہے تُو کسی سے جو افسانۂ حجازدستِ جُنوں کو اپنے بڑھا جیب کی طرفمشہور تُو جہاں میں ہے دیوانۂ حجازدارالشّفا حوالیِ بطحا میں چاہیےنبضِ مریض پنجۂ عیسیٰ میں چاہیے
مَیں نے کہا کہ موت کے پردے میں ہے حیاتپوشیدہ جس طرح ہو حقیقت مجاز میںتلخابۂ اجل میں جو عاشق کو مِل گیاپایا نہ خِضر نے مئے عمرِ دراز میںاوروں کو دیں حضور! یہ پیغامِ زندگیمَیں موت ڈھُونڈتا ہوں زمینِ حجاز میںآئے ہیں آپ لے کے شفا کا پیام کیارکھتے ہیں اہلِ درد مسیحا سے کام کیا!
جوابِ شکوَہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہےقُدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اُٹھتی ہے، گردُوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چِیر گیا نالۂ بے باک مرا
پیرِ گردُوں نے کہا سُن کے، کہیں ہے کوئیبولے سیّارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رِضواں سمجھامجھے جنّت سے نکالا ہوا انساں سمجھا
تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھُلتا نہیں یہ راز ہے کیا!تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!غافل آداب سے سُکّانِ زمیں کیسے ہیںشوخ و گُستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!
اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے!عالِمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
آئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترااشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہُوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ تراشُکر شکوے کو کِیا حُسنِ ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیںراہ دِکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیںڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیںاُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیںبُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیںبادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئےحَرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تُم بھی نئے
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازشِ موسمِ گُل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمھارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لوملّتِ احمدِؐ مرسَل کو مقامی کر لو!
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے! ہاں نیند تمھیں پیاری ہےطبعِ آزاد پہ قیدِ رمَضاں بھاری ہےتمھی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیںجذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسُودہ، وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہوہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کرکےکیا نہ بیچو گے جو مِل جائیں صنَم پتھّر کے
صفحۂ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟نوعِ انساں کو غلامی سے چھُڑایا کس نے؟میرے کعبے کو جبِینوں سے بسایا کس نے؟میرے قُرآن کو سِینوں سے لگایا کس نے؟تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!
کیا کہا! بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستورمُسلم آئِیں ہُوا کافر تو مِلے حور و قصورتم میں حُوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طُور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایکحرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں
کون ہے تارکِ آئینِ رسُولِ مختارؐ؟مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ہوگئی کس کی نِگہ طرزِ سلَف سے بیزار؟قلب میں سوز نہیں، رُوح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغامِ محمّدؐ کا تمھیں پاس نہیں
جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریبزحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریباُمَرا نشّۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے مِلّتِ بیضا غُرَبا کے دم سے
واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنودیہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!
دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باکعدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاکشجَرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراکخود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بودخالی از خویش شُدن صورتِ مینایش بود
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھااُس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اُسے قوّتِ بازو پر تھاہے تمھیں موت کا ڈر، اُس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا عِلم نہ بیٹے کو اگر اَزبر ہوپھر پِسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو!
ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہےتم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر
تم ہو آپس میں غضب ناک، وہ آپس میں رحیمتم خطاکار و خطابیں، وہ خطاپوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریّا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیمتختِ فغفور بھی اُن کا تھا، سریرِ کَے بھییونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیّت ہے بھی؟
خودکُشی شیوہ تمھارا، وہ غیور و خود دارتم اخوّت سے گُریزاں، وہ اخوّت پہ نثارتم ہو گُفتار سراپا، وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو، وہ گُلستاں بہ کناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت اُن کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت اُن کی
مثلِ انجم اُفُقِ قوم پہ روشن بھی ہوئےبُت ہندی کی محبت میں بَرہمن بھی ہوئےشوقِ پرواز میں مہجورِ نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں، دِین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنَم خانے میں آباد کیا
قیس زحمت کشِ تنہائیِ صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیما نہ رہے!وہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجابِ رُخِ لیلا نہ رہے!گلۂ جَور نہ ہو، شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے، کیوں حُسن بھی آزاد نہ ہو!
عہدِ نَو برق ہے، آتش زنِ ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گُلشن ہےاس نئی آگ کا اقوامِ کُہن ایندھن ہےملّتِ ختمِ رُسُلؐ شُعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے اندازِ گُلستاں پیدا
دیکھ کر رنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکبِ غُنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گُلستاں خالیگُل بر انداز ہے خُونِ شُہَدا کی لالیرنگ گردُوں کا ذرا دیکھ تو عُنّابی ہےیہ نِکلتے ہوئے سُورج کی اُفُق تابی ہے
اُمّتیں گُلشنِ ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محرومِ ثمر بھی ہیں، خزاں دیدہ بھی ہیںسینکڑوں نخل ہیں، کاہیدہ بھی، بالیدہ بھی ہیںسینکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخلِ اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا
پاک ہے گردِ وطن سے سرِ داماں تیراتُو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیرِ یک بانگِ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخلِ شمع استی و درشعلہ دوَد ریشۂ توعاقبت سوز بوَد سایۂ اندیشۂ تو
تُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سےنشّۂ مے کو تعلّق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سےپاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سےکشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہےعصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے
ہے جو ہنگامہ بپا یورشِ بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتُو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا، خودداری کاکیوں ہراساں ہے صَہیِلِ فرَسِ اعدا سےنُورِ حق بُجھ نہ سکے گا نفَسِ اعدا سے
چشمِ اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکبِ قسمتِ امکاں ہے خلافت تیریوقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہےنُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
مثلِ بُو قید ہے غُنچے میں، پریشاں ہوجارخت بردوش ہوائے چَمنِستاں ہوجاہے تنک مایہ تو ذرّے سے بیاباں ہوجانغمۂ موج سے ہنگامۂ طُوفاں ہوجا!قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے
ہو نہ یہ پھُول تو بُلبل کا ترنُّم بھی نہ ہوچَمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہوبزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہےنبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
دشت میں، دامنِ کُہسار میں، میدان میں ہےبحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہےچین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھےرفعتِ شانِ ’رَفَعْنَالَکَ ذِکرَْک‘ دیکھے
مَردمِ چشمِ زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمھارے شُہَدا پالنے والی دنیاگرمیِ مہر کی پروَردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بِلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہزن نُور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح
عقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شمشیر تریمرے درویش! خلافت ہے جہاںگیر تریماسِوَی اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
ساقی
نشہ پِلا کے گِرانا تو سب کو آتا ہےمزا تو جب ہے کہ گِرتوں کو تھام لے ساقی
جو بادہ کش تھے پُرانے، وہ اُٹھتے جاتے ہیںکہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی!
کٹی ہے رات تو ہنگامہ گُستری میں تریسحَر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی!
تعلیم اور اس کے نتائج
( تضمین بر شعرِ مُلّا عرشیؔ)
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگرلبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیمکیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نُمالے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ
“تخمِ دیگر بکف آریم و بکاریم ز نوکانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو”
قُربِ سُلطان
تمیزِ حاکم و محکوم مِٹ نہیں سکتیمجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش
جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندگی کا کمالرضائے خواجہ طلب کُن قباے رنگیں پوش
مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہوخطاب مِلتا ہے منصب پرست و قوم فروش
پُرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہےنئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش
مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسماں رہیے“ہزار گُونہ سخن در دہان و لب خاموش”
یہی اصول ہے سرمایۂ سکُونِ حیات“گداے گوشہ نشینی تو حافظاؔ مخروش”
مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ“بگیر بادۂ صافی، ببانگِ چنگ بنوش”
شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سُلطاں ہولڑا کے توڑ دے سنگِ ہوَس سے شیشۂ ہوش
پیامِ مُرشدِ شِیراز بھی مگر سُن لےکہ ہے یہ سِرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سروش
“محلِّ نورِ تجلّی ست راے انور شاہچو قُربِ او طلَبی درصفاے نیّت کوش”
شاعر
جُوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سےپی کے شرابِ لالہ گُوں مے کدۂ بہار سےمستِ مئے خرام کا سُن تو ذرا پیام تُوزندہ وہی ہے کام کچھ جس کو نہیں قرار سےپھرتی ہے وادیوں میں کیا دُخترِ خوش خرامِ ابرکرتی ہے عشق بازیاں سبزۂ مَرغزار سےجامِ شراب کوہ کے خُم کدے سے اُڑاتی ہے
پست و بلند کرکے طے کھیتوں کو جا پلاتی ہےشاعرِ دل نواز بھی بات اگر کہے کھریہوتی ہے اُس کے فیض سے مزرعِ زندگی ہریشانِ خلیل ہوتی ہے اُس کے کلام سے عیاںکرتی ہے اُس کی قوم جب اپنا شِعار آزریاہلِ زمیں کو نُسخۂ زندگیِ دوام ہےخونِ جگر سے تربیت پاتی ہے جو سخنوریگُلشنِ دہر میں اگر جُوئے مئے سخن نہ ہوپھُول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
نویدِ صبح
۱۹۱۲ء
آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحَرمنزلِ ہستی سے کر جاتی ہے خاموشی سفرمحفلِ قُدرت کا آخر ٹُوٹ جاتا ہے سکُوتدیتی ہے ہر چیز اپنی زندگانی کا ثبوتچہچہاتے ہیں پرندے پا کے پیغامِ حیاتباندھتے ہیں پھُول بھی گُلشن میں احرامِ حیاتمسلمِ خوابیدہ اُٹھ، ہنگامہ آرا تُو بھی ہووہ چمک اُٹھّا اُفُق، گرمِ تقاضا تُو بھی ہو
وسعتِ عالم میں رہ پیما ہو مثلِ آفتابدامنِ گردُوں سے ناپیدا ہوں یہ داغِ سحابکھینچ کر خنجر کرن کا، پھر ہو سرگرمِ ستیزپھر سِکھا تاریکیِ باطل کو آدابِ گریزتُو سراپا نور ہے، خوشتر ہے عُریانی تُجھےاور عُریاں ہو کے لازم ہے خود افشانی تجھےہاں، نمایاں ہو کے برقِ دیدۂ خفّاش ہواے دلِ کون ومکاں کے رازِ مضمر! فاش ہو
دُعا
یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دےجو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے
پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دےپھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے
محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دےدیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے
بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حرم لے چلاس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کراس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے
اس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کووہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے
رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریّا کرخودداریِ ساحل دے، آزادیِ دریا دے
بے لَوث محبّت ہو، بے باک صداقت ہوسینوں میں اُجالا کر، دل صورتِ مینا دے
احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کاامروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے
مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کاتاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!
عید پر شعر لِکھنے کی فرمائش کے جواب میں
یہ شالامار میں اک برگِ زرد کہتا تھاگیا وہ موسمِ گُل جس کا رازدار ہوں میں
نہ پائمال کریں مجھ کو زائرانِ چمنانھی کی شاخِ نشیمن کی یادگار ہوں میں
ذرا سے پتّے نے بیتاب کر دیا دل کوچمن میں آ کے سراپا غمِ بہار ہوں میں
خزاں میں مجھ کو رُلاتی ہے یادِ فصلِ بہارخوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں میں
اُجاڑ ہوگئے عہدِ کُہن کے میخانےگزشتہ بادہ پرستوں کی یادگار ہوں میں
پیامِ عیش و مسرّت ہمیں سُناتا ہےہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
فاطمہ بنت عبداللہ
عرب لڑکی جو طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پِلاتی ہوئی شہید ہُوئی۱۹۱۲ء
فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہےذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہےیہ سعادت، حُورِ صحرائی! تری قسمت میں تھیغازیانِ دیں کی سقّائی تری قسمت میں تھییہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سِپَرہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدریہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھیایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیںبجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں!
فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہےنغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہےرقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہےذرّہ ذرّہ زندگی کے سوز سے لبریز ہےہے کوئی ہنگامہ تیری تُربتِ خاموش میںپل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میںبے خبر ہوں گرچہ اُن کی وسعتِ مقصد سے میںآفرینش دیکھتا ہوں اُن کی اس مرقد سے میںتازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہوردیدۂ انساں سے نامحرم ہے جن کی موجِ نورجو ابھی اُبھرے ہیں ظُلمت خانۂ ایّام سےجن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سےجن کی تابانی میں اندازِ کُہن بھی، نَو بھی ہےاور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتَو بھی ہے
شبنم اور ستارے
اک رات یہ کہنے لگے شبنم سے ستارےہر صبح نئے تجھ کو میّسر ہیں نظارےکیا جانیے، تُو کتنے جہاں دیکھ چُکی ہےجو بن کے مِٹے، اُن کے نشاں دیکھ چُکی ہےزُہرہ نے سُنی ہے یہ خبر ایک مَلک سےانسانوں کی بستی ہے بہت دُور فلَک سےکہہ ہم سے بھی اُس کشورِ دلکش کا فسانہگاتا ہے قمر جس کی محبت کا ترانہ
اے تارو نہ پُوچھو چمَنِستانِ جہاں کیگُلشن نہیں، اک بستی ہے وہ آہ و فغاں کیآتی ہے صبا واں سے پلٹ جانے کی خاطربے چاری کلی کھِلتی ہے مُرجھانے کی خاطرکیا تم سے کہوں کیا چمن افروز کلی ہےننھّا سا کوئی شُعلۂ بے سوز کلی ہےگُل نالۂ بُلبل کی صدا سُن نہیں سکتادامن سے مرے موتیوں کو چُن نہیں سکتاہیں مُرغِ نواریز گرفتار، غضب ہےاُگتے ہیں تہِ سایۂ گُل خار، غضب ہےرہتی ہے سدا نرگسِ بیمار کی تَر آنکھدل طالبِ نظّارہ ہے، محرومِ نظر آنکھدل سوختۂ گرمیِ فریاد ہے شمشادزندانی ہے اور نام کو آزاد ہے شمشادتارے شررِ آہ ہیں انساں کی زباں میںمیں گریۂ گردُوں ہوں گُلستاں کی زباں میںنادانی ہے یہ گِردِ زمیں طوف قمر کاسمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ جگر کابنیاد ہے کاشانۂ عالم کی ہوا پرفریاد کی تصویر ہے قرطاسِ فضا پر
مُحاصرۂ ادَرنہ
یورپ میں جس گھڑی حق و باطل کی چھِڑ گئیحق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گیا
گَردِ صلیب، گِردِ قمر حلقہ زن ہوئیشکری حصارِ دَرنہ میں محصور ہو گیا
مُسلم سپاہیوں کے ذخیرے ہوئے تمامرُوئے اُمید آنکھ سے مستور ہو گیا
آخر امیرِ عسکرِ تُرکی کے حکم سےآئینِ جنگ شہر کا دستور ہوگیا
ہر شے ہوئی ذخیرۂ لشکر میں منتقلشاہیں گدائے دانۂ عُصفور ہو گیا
لیکن فقیہِ شہر نے جس دم سُنی یہ باتگرما کے مثلِ صاعقۂ طُور ہو گیا
’ذِمّی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام‘فتویٰ تمام شہر میں مشہور ہو گیا
چھُوتی نہ تھی یہود و نصاریٰ کا مال فوجمسلم، خدا کے حکم سے مجبور ہوگیا
غلام قادر رُہیلہ
رُہیلہ کس قدر ظالم، جفاجُو، کینہپرور تھانکالِیں شاہِ تیموری کی آنکھیں نوکِ خنجر سے
دیا اہلِ حرم کو رقص کا فرماں ستمگر نےیہ اندازِ ستم کچھ کم نہ تھا آثارِ محشر سے
بھلا تعمیل اس فرمانِ غیرت کُش کی ممکن تھی!شہنشاہی حرم کی نازنینانِ سمن بر سے
بنایا آہ! سامانِ طرب بیدرد نے اُن کونہاں تھا حُسن جن کا چشمِ مہر و ماہ و اختر سے
لرزتے تھے دلِ نازک، قدم مجبورِ جُنبش تھےرواں دریائے خُوں، شہزادیوں کے دیدۂ تر سے
یونہی کچھ دیر تک محوِ نظر آنکھیں رہیں اُس کیکِیا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بارِ مِغفَر سے
کمر سے، اُٹھ کے تیغِ جاںستاں، آتشفشاں کھولیسبق آموز تابانی ہوں انجم جس کے جوہر سے
رکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر لیٹاتقاضا کر رہی تھی نیند گویا چشمِ احمر سے
بُجھائے خواب کے پانی نے اخگر اُس کی آنکھوں کےنظر شرما گئی ظالم کی درد انگیز منظر سے
پھر اُٹھّا اور تیموری حرم سے یوں لگا کہنےشکایت چاہیے تم کو نہ کچھ اپنے مقّدر سے
مرا مَسند پہ سو جانا بناوٹ تھی، تکلّف تھاکہ غفلت دُور ہے شانِ صف آرایانِ لشکر سے
یہ مقصد تھا مرا اس سے، کوئی تیمور کی بیٹیمجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے
مگر یہ راز آخر کھُل گیا سارے زمانے پرحِمیّت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے
ایک مکالمہ
اک مُرغِ سرا نے یہ کہا مُرغِ ہوا سےپَردار اگر تُو ہے تو کیا مَیں نہیں پَردار!
گر تُو ہے ہوا گیر تو ہُوں مَیں بھی ہوا گیرآزاد اگر تُو ہے، نہیں مَیں بھی گرفتار
پرواز، خصوصیّتِ ہر صاحبِ پَر ہےکیوں رہتے ہیں مُرغانِ ہوا مائلِ پندار؟
مجروح حمیّت جو ہوئی مُرغِ ہوا کییوں کہنے لگا سُن کے یہ گُفتارِ دل آزار
کچھ شک نہیں پرواز میں آزاد ہے تُو بھیحد ہے تری پرواز کی لیکن سرِ دیوار
واقف نہیں تُو ہمّتِ مُرغانِ ہوا سےتُو خاک نشیمن، اُنھیں گردُوں سے سروکار
تُو مُرغِ سرائی، خورش از خاک بُجوئیما در صدَدِ دانہ بہ انجم زدہ منقار
مَیں اور توُ
مذاقِ دید سے ناآشنا نظر ہے مریتری نگاہ ہے فطرت کی راز داں، پھر کیا
رہینِ شکوۂ ایّام ہے زبان مریتری مراد پہ ہے دَورِ آسماں، پھر کیا
رکھا مجھے چمن آوارہ مثلِ موجِ نسیمعطا فلک نے کِیا تجھ کو آشیاں، پھر کیا
فزوں ہے سُود سے سرمایۂ حیات ترامرے نصیب میں ہے کاوشِ زیاں، پھر کیا
ہوا میں تیرتے پھرتے ہیں تیرے طیّارےمرا جہاز ہے محرومِ بادباں، پھر کیا
قوی شدیم چہ شد، ناتواں شدیم چہ شدچنیں شدیم چہ شد یا چناں شدیم چہ شد
بہیچ گونہ دریں گلستاں قرارے نیستتوگر بہار شدی، ما خزاں شدیم، چہ شد
تضمین بر شعرِ ابوطالب کلیمؔ
خوب ہے تجھ کو شعارِ صاحبِ یثرِبؐ کا پاسکہہ رہی ہے زندگی تیری کہ تُو مسلم نہیں
جس سے تیرے حلقۂ خاتم میں گردُوں تھا اسیراے سلیماں! تیری غفلت نے گنوایا وہ نگیں
وہ نشانِ سجدہ جو روشن تھا کوکب کی طرحہوگئی ہے اُس سے اب ناآشنا تیری جبیں
دیکھ تو اپنا عمل، تجھ کو نظر آتی ہے کیاوہ صداقت جس کی بےباکی تھی حیرت آفریں
تیرے آبا کی نِگہ بجلی تھی جس کے واسطےہے وہی باطل ترے کاشانۂ دل میں مکیں
غافل! اپنے آشیاں کو آ کے پھر آباد کرنغمہ زن ہے طُورِ معنی پر کلیمِ نکتہ بیں
“سرکشی باہر کہ کردی رامِ او باید شدنشعلہ ساں از ہر کجا برخاستی، آنجانشیں"
شبلیؔ وحالیؔ
مسلم سے ایک روز یہ اقبالؔ نے کہادیوانِ جُزو و کُل میں ہے تیرا وجود فرد
تیرے سرودِ رفتہ کے نغمے علومِ نَوتہذیب تیرے قافلہ ہائے کُہن کی گرد
پتھّر ہے اس کے واسطے موجِ نسیم بھینازک بہت ہے آئنۂ آبرُوئے مرد
مردانِ کار، ڈھُونڈ کے اسبابِ حادثاتکرتے ہیں چارۂ ستَمِ چرخِ لاجورد
پُوچھ اُن سے جو چمن کے ہیں دیرینہ رازدارکیونکر ہوئی خزاں ترے گُلشن سے ہم نبرد
مسلم مرے کلام سے بے تاب ہوگیاغمّاز ہوگئی غمِ پنہاں کی آہِ سرد
کہنے لگا کہ دیکھ تو کیفیّتِ خزاںاوراق ہو گئے شجَرِ زندگی کے زرد
خاموش ہو گئے چمَنِستاں کے رازدارسرمایۂ گداز تھی جن کی نوائے درد
شبلیؔ کو رو رہے تھے ابھی اہلِ گلستاںحالیؔ بھی ہوگیا سوئے فردوس رہ نورد
“اکنوں کرا دماغ کہ پُرسد زباغباںبُلبل چہ گفت و گُل چہ شنید و صبا چہ کرد”
اِرتقا
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروزچراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی
حیات شُعلہ مزاج و غیور و شور انگیزسرِشت اس کی ہے مشکل کشی، جفا طلبی
سکُوتِ شام سے تا نغمۂ سحَرگاہیہزار مرحلہ ہائے فعانِ نیم شبی
کشا کشِ زم و گرما، تپ و تراش و خراشز خاکِ تِیرہ درُوں تا بہ شیشۂ حلبی
مقامِ بست و شکست و فشار و سوز و کشیدمیانِ قطرۂ نیسان و آتشِ عِنبی
اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوامیہی ہے رازِ تب و تابِ مِلّتِ عربی
“مغاں کہ دانۂ انگور آب می سازندستارہ می شکنند، آفتاب می سازند”
صِدّیقؓ
اک دن رسُولِ پاکؐ نے اصحابؓ سے کہادیں مال راہِ حق میں جو ہوں تم میں مالدارارشاد سُن کے فرطِ طرب سے عمَرؓ اُٹھےاُس روز اُن کے پاس تھے درہم کئی ہزاردل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صِدّیقؓ سے ضروربڑھ کر رکھے گا آج قدم میرا راہوارلائے غَرضکہ مال رُسولِ امیںؐ کے پاسایثار کی ہے دست نِگر ابتدائے کارپُوچھا حضور سروَرِ عالمؐ نے، اے عمَرؓ!اے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قراررَکھّا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تُو نے کیا؟مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزارکی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حقباقی جو ہے وہ ملّتِ بیضا پہ ہے نثار
اتنے میں وہ رفیقِ نبوّت بھی آگیاجس سے بِنائے عشق و محبّت ہے اُستوارلے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وفا سرِشتہر چیز، جس سے چشمِ جہاں میں ہو اعتبارمِلکِ یمین و درہم و دینار و رخت و جِنساسپِ قمر سم و شُتر و قاطر و حماربولے حضورؐ، چاہیے فکرِ عیال بھیکہنے لگا وہ عشق و محبّت کا راز داراے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر!اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار!پروانے کو چراغ ہے، بُلبل کو پھُول بسصِدّیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس
تہذیبِ حاضر
حرارت ہے بلا کی بادۂ تہذیبِ حاضر میںبھڑک اُٹھّا بھبُوکا بن کے مُسلم کا تنِ خاکی
کِیا ذرّے کو جُگنو دے کے تابِ مُستعار اس نےکوئی دیکھے تو شوخی آفتابِ جلوہ فرما کی
نئے انداز پائے نوجوانوں کی طبیعت نےیہ رعنائی، یہ بیداری، یہ آزادی، یہ بے باکی
تغیّر آگیا ایسا تدبّر میں، تخیّل میںہنسی سمجھی گئی گُلشن میں غُنچوں کی جگر چاکی
کِیا گُم تازہ پروازوں نے اپنا آشیاں لیکنمناظر دِلکُشا دِکھلا گئی ساحر کی چالاکی
حیاتِ تازہ اپنے ساتھ لائی لذّتیں کیا کیارقابت، خودفروشی، ناشکیبائی، ہوسناکی
فروغِ شمعِ نَو سے بزمِ مسلم جگمگا اُٹھّیمگر کہتی ہے پروانوں سے میری کُہنہ اِدراکی
“تو اے پروانہ! ایں گرمی ز شمع محفلے داریچو من در آتشِ خود سوز اگر سوزِ دلے داری”
والدہ مرحومہ کی یاد میں
ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانیِ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے، شمس و قمر مجبور ہیںانجمِ سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبُو گلزار میںسبزہ و گُل بھی ہیں مجبورِ نمُو گلزار میںنغمۂ بُلبل ہو یا آوازِ خاموشِ ضمیرہے اسی زنجیرِ عالم گیر میں ہر شے اسیر
آنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سِرِّ مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیلِ رواںقلبِ انسانی میں رقصِ عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے، لُطفِ زیر و بم رہتا نہیںعلم و حِکمت رہزنِ سامانِ اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹُکڑا دلِ آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہدارِ اشکِ عُنّابی نہیںجانتا ہوں آہ، مَیں آلامِ انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصّۂ نیرنگیِ دَوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں، خنداں نہیں، گِریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ! یہ تردید میری حکمتِ مُحکم کی ہے
گریۂ سرشار سے بنیادِ جاں پائندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقلِ سنگدل شرمندہ ہےموجِ دُودِ آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنجِ آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارُخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بپا اس نے کِیاعہدِ طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کِیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جانِ ناتواںبات سے اچھّی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخیِ گُفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشمِ گوہربار کے
عِلم کی سنجیدہ گُفتاری، بُڑھاپے کا شعوردُنیوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرورزندگی کی اَوجگاہوں سے اُتر آتے ہیں ہمصُحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلّف خندہ زن ہیں، فکر سے آزاد ہیںپھر اُسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں
کس کو اب ہوگا وطن میں آہ! میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بےقرارخاکِ مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دُعائے نیم شب میں کس کو مَیں یاد آؤں گا!تربیت سے تیری مَیں انجم کا ہم قسمت ہُواگھر مِرے اجداد کا سرمایۂ عزّت ہُوادفترِ ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دُنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبّت میری خدمت گر رہیمَیں تری خدمت کے قابل جب ہُوا تُو چل بسیوہ جواں، قامت میں ہے جو صُورتِ سروِ بلندتیری خدمت سے ہُوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبارِ زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبّت میں تری تصویر، وہ بازو مراتجھ کو مثلِ طفلکِ بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہتُخم جس کا تُو ہماری کِشتِ جاں میں بو گئیشرکتِ غم سے وہ اُلفت اور محکم ہوگئی
آہ! یہ دُنیا، یہ ماتم خانۂ برنا و پِیرآدمی ہے کس طلسمِ دوش و فردا میں اسِیر!کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موتگُلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیںکیسی کیسی دُخترانِ مادرِ ایّام ہیں!کُلبۂ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں، شہر میں، گُلشن میں، ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قُلزُمِ خاموش میںڈُوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنَے مجالِ شکوَہ ہے، نَے طاقتِ گفتار ہےزندگانی کیا ہے، اک طوقِ گُلو افشار ہے!قافلے میں غیرِ فریادِ درا کچھ بھی نہیںاک متاعِ دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیں
ختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دَور بھیہیں پسِ نُہ پردۂ گردُوں ابھی دَور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گُل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بُلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں، جن کے قفَس میں قید ہے آہِ خزاںسبز کر دے گی اُنھیں بادِ بہارِ جاوِداںخُفتہ خاکِ پے سِپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مُشتِ غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹُوٹنا جس کا مقّدر ہو یہ وہ گوہر نہیں
زندگی محبوب ایسی دیدۂ قُدرت میں ہےذوقِ حفظِ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مِٹ سکتا اگر نقشِ حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظامِ کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل! موت کا رازِ نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائداری سے عیاں کچھ اور ہےجنّتِ نظّارہ ہے نقشِ ہوا بالائے آبموجِ مُضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اُس کو چھُپا دیتی ہے یہکتنی بیدردی سے نقش اپنا مِٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اُس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روِش کا کیا اثر ہے ہیئتِ تعمیر پریہ تو حُجّت ہے ہَوا کی قُوّتِ تعمیر پرفطرتِ ہستی شہیدِ آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جُستجو رہتی نہ ہو
آہ سیمابِ پریشاں، انجمِ گردُوں فروزشوخ یہ چنگاریاں، ممنونِ شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدّت ان کی ہےسرگزشتِ نوعِ انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں، آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقُدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثالِ شمع روشن محفلِ قُدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعتِ فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن سازِ ہستی کے لیے مِضراب ہےشُعلہ یہ کمتر ہے گردُوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیا
تُخمِ گُل کی آنکھ زیرِ خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونَما کے واسطے بے تاب ہےزندگی کا شُعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نُمائی، خودفزائی کے لیے مجبور ہےسردیِ مرقد سے بھی افسُردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھُول بن کر اپنی تُربت سے نِکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اُس قُوّتِ آشُفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردنِ گردُوں میں جو اپنی کمندموت، تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخُوگرِ پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گُلشن میں جُز سنجیدنِ پَر کچھ نہیں
کہتے ہیں اہلِ جہاں دردِ اجل ہے لا دوازخمِ فُرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر، غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیرِ صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسُوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخمِ تیغِ فُرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آجاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشکِ پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخُونِ دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تابِ شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساسِ نامعلوم ہے
جوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرختِ ہستی خاک، غم کی شُعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ، یہ ضبطِ فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلآسائی، فراموشی نہیں
پردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامنِ آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسُردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمستِ نوا کرتی ہے یہسینۂ بُلبل کے زِنداں سے سرود آزاد ہےسینکڑوں نغموں سے بادِ صج دم آباد ہےخُفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رُود بارہوتے ہیں آخر عروسِ زندگی سے ہمکناریہ اگر آئینِ ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقدِ انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبح
دامِ سیمینِ تخیّل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو مَیں نے اسیریاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دُعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہگاہیں اُس کی ہیں لاکھوں جہانِ بے ثباتمختلف ہر منزلِ ہستی کی رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جَولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کِشتِ اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تُخمِ عمل کے واسطےنُورِ فطرت ظُلمتِ پیکر کا زِندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکارِ انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترانُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
شُعاعِ آفتاب
صبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھیآسماں پر اک شُعاعِ آفتاب آوارہ تھیمَیں نے پُوچھا اُس کرن سے “اے سراپا اضطراب!تیری جانِ ناشکیبا میں ہے کیسا اضطرابتُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماںکر رہا ہے خرمنِ اقوام کی خاطر جواںیہ تڑپ ہے یا ازل سے تیری خُو ہے، کیا ہے یہرقص ہے، آوارگی ہے، جُستجو ہے، کیا ہے یہ؟”
“خُفتہ ہنگامے ہیں میری ہستیِ خاموش میںپرورش پائی ہے مَیں نے صُبح کی آغوش میںمُضطرب ہر دَم مری تقدیر رکھتی ہے مجھےجُستجو میں لذّتِ تنویر رکھتی ہے مجھےبرقِ آتش خُو نہیں، فطرت میں گو ناری ہوں مَیںمہرِ عالم تاب کا پیغامِ بیداری ہوں مَیںسُرمہ بن کر چشمِ انساں میں سما جاؤں گی مَیںرات نے جو کچھ چھُپا رکھّا تھا، دِکھلاؤں گی مَیںتیرے مستوں میں کوئی جویائے ہشیاری بھی ہےسونے والوں میں کسی کو ذوقِ بیداری بھی ہے؟”
عُرفیؔ
محل ایسا کِیا تعمیر عُرفیؔ کے تخیّل نےتَصدّق جس پہ حیرت خانۂ سیناؔ و فارابیؔفضائے عشق پر تحریر کی اُس نے نوا ایسیمیّسر جس سے ہیں آنکھوں کو اب تک اشکِ عُنّابیمرے دل نے یہ اک دن اُس کی تُربت سے شکایت کینہیں ہنگامۂ عالم میں اب سامانِ بیتابیمزاجِ اہلِ عالم میں تغیّر آگیا ایساکہ رخصت ہوگئی دنیا سے کیفیّت وہ سیمابیفغانِ نیم شب شاعر کی بارِ گوش ہوتی ہےنہ ہو جب چشمِ محفل آشنائے لُطفِ بے خوابیکسی کا شُعلۂ فریاد ہو ظُلمت رُبا کیونکرگراں ہے شب پرستوں پر سحَر کی آسماں تابیصدا تُربت سے آئی “شکوۂ اہلِ جہاں کم گونوارا تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابیحُدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی”
ایک خط کے جواب میں
ہوَس بھی ہو تو نہیں مجھ میں ہمّتِ تگ و تازحصولِ جاہ ہے وابستۂ مذاقِ تلاش
ہزار شُکر، طبیعت ہے ریزہ کار مریہزار شُکر، نہیں ہے دماغ فِتنہ تراش
مرے سخن سے دلوں کی ہیں کھیتیاں سرسبزجہاں میں ہوں مَیں مثالِ سحاب دریا پاش
یہ عُقدہ ہائے سیاست تجھے مبارک ہوںکہ فیضِ عشق سے ناخن مرا ہے سینہ خراش
ہوائے بزمِ سلاطیں دلیلِ مُردہ دِلیکِیا ہے حافظِؔ رنگیں نوا نے راز یہ فاش
“گرت ہوا ست کہ با خِضر ہم نشیں باشینہاں ز چشمِ سکندر چو آبِ حیواں باش”
نانک
قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی
آہ! بد قسمت رہے آوازِ حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر
آشکار اُس نے کِیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفے پر ناز تھا
شمعِ حق سے جو منّور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارشِ رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی
آہ! شُودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہےدردِ انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
برہَمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میںشمعِ گوتم جل رہی ہے محفلِ اغیار میں
بُت کدہ پھر بعد مُدّت کے مگر روشن ہُوانُورِ ابراہیمؑ سے آزر کا گھر روشن ہُوا
پھر اُٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
کُفر و اسلام
تضمین بر شعرِ میرؔرضی دانش
ایک دن اقبالؔ نے پُوچھا کلیمِ طُور سےاے کہ تیرے نقشِ پا سے وادیِ سِینا چمن
آتشِ نمرود ہے اب تک جہاں میں شُعلہ ریزہوگیا آنکھوں سے پنہاں کیوں ترا سوزِ کُہن
تھا جوابِ صاحبِ سینا کہ مسلم ہے اگرچھوڑ کر غائب کو تُو حاضر کا شیدائی نہ بن
ذوقِ حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمانِ خلیلؑورنہ خاکستر ہے تیری زندگی کا پیرہن
ہے اگر دیوانۂ غائب تو کچھ پروا نہ کرمنتظر رہ وادیِ فاراں میں ہو کر خیمہ زن
عارضی ہے شانِ حاضر، سطوَتِ غائب مداماس صداقت کو محبّت سے ہے ربطِ جان و تن
شُعلۂ نمرود ہے روشن زمانے میں تو کیا“شمع خود را می گدازد درمیانِ انجمننُورِ ما چوں آتشِ سنگ از نظر پنہاں خوش است”
بلالؓ
لِکھّا ہے ایک مغربیِ حق شناس نےاہلِ قلم میں جس کا بہت احترام تھاجولاں گہِ سکندرِ رومی تھا ایشیاگردُوں سے بھی بلند تر اُس کا مقام تھاتاریخ کہہ رہی ہے کہ رومی کے سامنےدعویٰ کِیا جو پورس و دارا نے، خام تھادنیا کے اُس شہنشہِ انجم سپاہ کوحیرت سے دیکھتا فلکِ نیل فام تھاآج ایشیا میں اُس کو کوئی جانتا نہیںتاریخ دان بھی اُسے پہچانتا نہیں
لیکن بِلالؓ، وہ حبَشی زادۂ حقیرفطرت تھی جس کی نُورِ نبوّت سے مُستنیرجس کا امیں ازل سے ہُوا سینۂ بِلالؓمحکوم اُس صدا کے ہیں شاہنشہ و فقیرہوتا ہے جس سے اسوَد و احمر میں اختلاطکرتی ہے جو غریب کو ہم پہلوئے امیرہے تازہ آج تک وہ نوائے جگر گدازصدیوں سے سُن رہا ہے جسے گوشِ چرخِ پیراقبالؔ! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہےرومی فنا ہُوا، حبَشی کو دوام ہے
مسلمان اور تعلیمِ جدید
تضمین بر شعرِ ملک قُمیؔ
مُرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سرلازم ہے رہرو کے لیے دُنیا میں سامانِ سفر
بدلی زمانے کی ہوا، ایسا تغیّر آگیاتھے جو گراں قیمت کبھی، اب ہیں متاعِ کس مخر
وہ شُعلۂ روشن ترا، ظُلمت گریزاں جس سے تھیگھَٹ کر ہُوا مثلِ شرر تارے سے بھی کم نُور تر
شیدائیِ غائب نہ رہ، دیوانۂ موجود ہوغالب ہے اب اقوام پر معبودِ حاضر کا اثر
ممکن نہیں اس باغ میں کوشِش ہو بارآور تریفرسُودہ ہے پھندا ترا، زِیرک ہے مُرغِ تیز پر
اس دَور میں تعلیم ہے امراضِ مِلّت کی دواہے خُونِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر
رہبر کے ایما سے ہُوا تعلیم کا سودا مجھےواجب ہے صحراگرد پر تعمیل فرمانِ خضَر
لیکن نگاہِ نُکتہبیں دیکھے زبُوں بختی مری“رفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظریک لحظ غافل گشتم و صد سالہ را ہم دُور شد”
پُھولوں کی شہزادی
کلی سے کہہ رہی تھی ایک دن شبنم گُلستاں میںرہی مَیں ایک مدّت غنچہ ہائے باغِ رضواں میںتمھارے گُلستاں کی کیفیت سرشار ہے ایسینِگہ فردوس در دامن ہے میری چشمِ حیراں میںسُنا ہے کوئی شہزادی ہے حاکم اس گُلستاں کیکہ جس کے نقشِ پا سے پھُول ہوں پیدا بیاباں میںکبھی ساتھ اپنے اُس کے آستاں تک مجھ کو تُو لے چلچھُپا کر اپنے دامن میں برنگِ موجِ بُو لے چل
کلی بولی، سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادیدرخشاں جس کی ٹھوکر سے ہوں پتھّر بھی نگیں بن کرمگر فطرت تری اُفتندہ اور بیگم کی شان اونچینہیں ممکن کہ تُو پہنچے ہماری ہمنشیں بن کرپہنچ سکتی ہے تُو لیکن ہماری شاہزادی تککسی دُکھ درد کے مارے کا اشکِ آتشیں بن کرنظر اُس کی پیامِ عید ہے اہلِ مُحرّم کوبنا دیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو
تضمین بر شعرِ صائبؔ
کہاں اقبالؔ تُو نے آ بنایا آشیاں اپنانوا اس باغ میں بُلبل کو ہے سامانِ رُسوائی
شرارے وادیِ ایمن کے تُو بوتا تو ہے لیکننہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تُخمِ سِینائی
کلی زورِ نفَس سے بھی وہاں گُل ہو نہیں سکتیجہاں ہر شے ہو محرومِ تقاضائے خود افزائی
قیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہلِ گلستاں کینہ ہے بیدار دل پِیری، نہ ہمّت خواہ برنائی
دلِ آگاہ جب خوابیدہ ہو جاتے ہیں سینوں میںنوا گر کے لیے زہراب ہوتی ہے شکرخائی
نہیں ضبطِ نوا ممکن تو اُڑ جا اس گُلستاں سےکہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی
“ہماں بہتر کہ لیلیٰ در بیاباں جلوہ گر باشدندارد تنگناے شہر تابِ حُسنِ صحرائی”
فردوس میں ایک مکالمہ
ہاتِف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روزحالیؔ سے مخاطب ہوئے یوں سعدیِؔ شیراز
اے آنکہ ز نورِ گُہرِ نظمِ فلک تابدامن بہ چراغِ مہ و اخترزدہ ای باز!
کچھ کیفیتِ مسلمِ ہندی تو بیاں کرواماندۂ منزل ہے کہ مصروفِ تگ و تاز
مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمیِ آواز
باتوں سے ہُوا شیخ کی حالیؔ متاَثّررو رو کے لگا کہنے کہ “اے صاحبِ اعجاز
جب پیرِ فلک نے وَرق ایّام کا اُلٹاآئی یہ صدا، پاؤگے تعلیم سے اعزاز
آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزلدنیا تو ملی، طائرِ دیں کر گیا پرواز
دِیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندیفطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز
مذہب سے ہم آہنگیِ افراد ہے باقیدِیں زخمہ ہے، جمعیّتِ مِلّت ہے اگر ساز
بنیاد لرَز جائے جو دیوارِ چمن کیظاہر ہے کہ انجامِ گُلستاں کا ہے آغاز
پانی نہ مِلا زمزمِ ملّت سے جو اس کوپیدا ہیں نئی پَود میں الحاد کے انداز
یہ ذکر حضورِ شہِ یثرِبؐ میں نہ کرناسمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غمّاز
“خُرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیمدیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم”
(سعدیؔ)
مذہب
تضمین بر شعرِ میرزا بیدلؔ
تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش
پیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیاہے شیخ بھی مثالِ بَرہمن صنَم تراش
محسوس پر بِنا ہے علومِ جدید کیاس دَور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش
مذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک جنُونِ خامہے جس سے آدمی کے تخیّل کو انتعاش
کہتا مگر ہے فلسفۂ زندگی کچھ اورمجھ پر کِیا یہ مُرشدِ کامل نے راز فاش
“باہر کمال اند کے آشفتگی خوش استہر چند عقلِ کُل شدہ ای بے جُنوں مباش”
جنگِ یرموک کا ایک واقعہ
صف بستہ تھے عرب کے جوانانِ تیغ بندتھی منتظر حِنا کی عروسِ زمینِ شام
اک نوجوان صُورتِ سیماب مُضطربآ کر ہُوا امیرِ عساکر سے ہم کلام
اے بُوعبیدہ رُخصتِ پیکار دے مجھےلبریز ہو گیا مرے صبر و سکُوں کا جام
بے تاب ہو رہا ہوں فراقِ رسُولؐ میںاک دم کی زندگی بھی محبّت میں ہے حرام
جاتا ہوں مَیں حضورِ رسالت پناہؐ میںلے جاؤں گا خوشی سے اگر ہو کوئی پیام
یہ ذوق و شوق دیکھ کے پُرنم ہوئی وہ آنکھجس کی نگاہ تھی صفَتِ تیغِ بے نیام
بولا امیرِ فوج کہ “وہ نوجواں ہے تُوپِیروں پہ تیرے عشق کا واجب ہے احترام
پُوری کرے خدائے محمدؐ تری مرادکتنا بلند تیری محبّت کا ہے مقام!
پہنچے جو بارگاہِ رسُولِ امیںؐ میں تُوکرنا یہ عرض میری طرف سے پس از سلام
ہم پر کرم کِیا ہے خدائے غیور نےپُورے ہوئے جو وعدے کیے تھے حضورؐ نے”
مذہب
اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی
اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصارقوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاںاور جمعیّت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی
پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ
ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹمُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے
ہے لازوال عہدِ خزاں اُس کے واسطےکچھ واسطہ نہیں ہے اُسے برگ و بار سے
ہے تیرے گُلِستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دَورخالی ہے جیبِ گُل زرِ کامل عیار سے
جو نغمہزن تھے خَلوتِ اوراق میں طیوررُخصت ہوئے ترے شجَرِ سایہدار سے
شاخِ بُریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تُوناآشنا ہے قاعدۂ روزگار سے
مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھپیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ!
شبِ معراج
اخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آوازسجدہ کرتی ہے سحَر جس کو، وہ ہے آج کی رات
رہِ یک گام ہے ہمّت کے لیے عرشِ بریںکہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات
پھُول
تجھے کیوں فکر ہے اے گُل دلِ صد چاکِ بُلبل کیتُو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میںتو کانٹوں میں اُلجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گِل بھی ہےاِنھی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تُو کر لے
تنک بخشی کو اِستغنا سے پیغامِ خجالت دےنہ رہ منّت کشِ شبنم، نِگُوں جام و سبو کر لے
نہیں یہ شانِ خودداری، چمن سے توڑ کر تجھ کوکوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زیبِ گلو کر لے
چمن میں غنچۂ گُل سے یہ کہہ کر اُڑ گئی شبنممذاقِ جَورِ گُلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے
اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہناجہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے
اسی میں دیکھ، مُضمر ہے کمالِ زندگی تیراجو تجھ کو زینتِ دامن کوئی آئینہ رُو کر لے
شیکسپیئر
شفَقِ صبح کو دریا کا خرام آئینہنغمۂ شام کو خاموشیِ شام آئینہبرگِ گُل آئنۂ عارضِ زیبائے بہارشاہدِ مے کے لیے حجلۂ جام آئینہحُسن آئینۂ حق اور دل آئینۂ حُسندلِ انساں کو ترا حُسنِ کلام آئینہہے ترے فکرِ فلک رس سے کمالِ ہستیکیا تری فطرتِ روشن تھی مآلِ ہستی
تجھ کو جب دیدۂ دیدار طلب نے ڈھُونڈاتابِ خورشید میں خورشید کو پنہاں دیکھاچشمِ عالَم سے تو ہستی رہی مستور تریاور عالَم کو تری آنکھ نے عُریاں دیکھاحِفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسارازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا
میں اورتُو
نہ سلیقہ مجھ میں کلیِم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کامیں ہلاکِ جادوئے سامری، تُو قتیلِ شیوۂ آزری
میں نوائے سوختہ در گُلو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بُومیں حکایتِ غمِ آرزو، تُو حدیثِ ماتمِ دلبری
مرا عیش غم، مرا شہد سم، مری بود ہم نفَسِ عدمترا دل حرم، گِرَوِ عجم، ترا دیں خریدۂ کافری
دمِ زندگی رمِ زندگی، غمِ زندگی سمِ زندگیغمِ رم نہ کر، سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری
تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کرکہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری
کوئی ایسی طرزِ طواف تُو مجھے اے چراغِ حرم بتا!کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشتِ سمندری
گِلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہےکسی بُت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ’ہَری ہَری‘
نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئےوہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری
کرم اے شہِؐ عَرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظرِ کرموہ گدا کہ تُو نے عطا کِیا ہے جنھیں دماغِ سکندری
اسِیری
ہے اسِیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلندقطرۂ نیساں ہے زندانِ صدَف سے ارجمند
مُشکِ اَذفر چیز کیا ہے، اک لہُو کی بوند ہےمُشک بن جاتی ہے ہو کر نافۂ آہُو میں بند
ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قُدرت، مگرکم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام و قفَس سے بہرہ مند
“شہپر زاغ و زغن در بندِ قید و صید نیستایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند”
دریُوزۂ خلافت
اگر مُلک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائےتُو احکامِ حق سے نہ کر بےوفائی
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیاخلافت کی کرنے لگا تُو گدائی
خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہُو سےمسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی
“مرا از شکستن چُناں عار نایدکہ از دیگراں خواستن مومیائی”
ہمایوں
(مسٹر جسٹسں شاہ دین مرحوم)
اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھیتیری چنگاری چراغِ انجمن افروز تھی
گرچہ تھا تیرا تنِ خاکی نزار و دردمندتھی ستارے کی طرح روشن تری طبعِ بلند
کس قدر بے باک دل اس ناتواں پیکر میں تھاشعلۂ گردُوں نَورد اک مُشتِ خاکستر میں تھا
موت کی لیکن دلِ دانا کو کچھ پروا نہیںشب کی خاموشی میں جُز ہنگامۂ فردا نہیں
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگیہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی
خِضرِ راہ
شاعرساحلِ دریا پہ مَیں اک رات تھا محوِ نظرگوشۂ دل میں چھُپائے اک جہانِ اضطرابشب سکُوت افزا، ہَوا آسودہ، دریا نرم سَیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویرِ آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شِیرخوارموجِ مُضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجمِ کمضَو گرفتارِ طلسمِ ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیکِ جہاںپیما خضَرجس کی پِیری میں ہے مانندِ سحَر رنگِ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے، اے جویائے اسرارِ ازل!چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیرِ عالم بے حجابدل میں یہ سُن کر بَپا ہنگامۂ محشر ہُوامَیں شہیدِ جُستجو تھا، یوں سخن گستر ہُوا
اے تری چشمِ جہاںبیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش’کشتیِ مسکین‘ و ’جانِ پاک‘ و ’دیوارِ یتیم‘علمِ مُوسیٰؑ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تُو صحرا نَوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوامِ نَو دولت کے ہیں پَیرایہ پوشگرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگیفطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ ناؤنوشبیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفیؐخاک و خُوں میں مِل رہا ہے ترکمانِ سخت کوشآگ ہے، اولادِ ابراہیمؑ ہے، نمرُود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصُود ہے!
جوابِ خِضرصحرا نَوردیکیوں تعجّب ہے مری صحرا نَوردی پر تجھےیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہینِ خانہ تُو نے وہ سماں دیکھا نہیںگُونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگِ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہُو کا بے پروا خراموہ حضَر بے برگ و ساماں، وہ سفر بے سنگ و مِیلوہ نمودِ اخترِ سیماب پا ہنگامِ صُبحیا نمایاں بامِ گردُوں سے جبینِ جبرئیلؑوہ سکُوتِ شامِ صحرا میں غروبِ آفتابجس سے روشن تر ہُوئی چشمِ جہاں بینِ خلیلؑاور وہ پانی کے چشمے پر مقامِ کارواںاہلِ ایماں جس طرح جنّت میں گِردِ سلسبیلتازہ ویرانے کی سودائے محبّت کو تلاشاور آبادی میں تُو زنجیریِ کِشت و نخیلپُختہ تر ہے گردشِ پیہم سے جامِ زندگیہے یہی اے بےخبر رازِ دوامِ زندگی
زندگیبرتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگیہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگیتُو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپجاوداں، پیہمدواں، ہر دم جواں ہے زندگیاپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہےسرِّ آدم ہے، ضمیر کُن فکاں ہے زندگیزندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پُوچھجُوئے شِیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگیبندگی میں گھَٹ کے رہ جاتی ہے اک جُوئے کم آباور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگیآشکارا ہے یہ اپنی قُوّتِ تسخیر سےگرچہ اک مٹّی کے پیکر میں نہاں ہے زندگیقلزمِ ہستی سے تُو اُبھرا ہے مانندِ حباباس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگیخام ہے جب تک تو ہے مٹّی کا اک انبار تُوپُختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھُونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قُوّتِ پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیدا کرےخاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرےسُوئے گردُوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیررات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!
سلطنتآ بتاؤں تُجھ کو رمز آیۂ اِنَّ الْمُلُوْکسلطنت اقوامِ غالب کی ہے اک جادُوگریخواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگرپھر سُلا دیتی ہے اُس کو حُکمراں کی ساحریجادوئے محمود کی تاثیر سے چشمِ ایازدیکھتی ہے حلقۂ گردن میں سازِ دلبریخُونِ اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میںتوڑ دیتا ہے کوئی مُوسیٰ طلسمِ سامریسروَری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہےحُکمراں ہے اک وہی، باقی بُتانِ آزریاز غلامی فطرتِ آزاد را رُسوا مکُنتا تراشی خواجۂ از برہَمن کافر تریہے وہی سازِ کُہن مغرب کا جمہوری نظامجس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصریدیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوبتُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پریمجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوقطِبِّ مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوریگرمیِ گفتارِ اعضائے مجالس، الاماں!یہ بھی اک سرمایہداروں کی ہے جنگِ زرگریاس سرابِ رنگ و بو کو گُلِستاں سمجھا ہے تُوآہ اے ناداں! قفَس کو آشیاں سمجھا ہے تُو
سرمایہ و محنتبندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دےخِضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائناتاے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہدارِ حیلہ گرشاخِ آہُو پر رہی صدیوں تلک تیری براتدستِ دولت آفریں کو مزد یوں مِلتی رہیاہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکاتساحرِ المُوط نے تجھ کو دیا برگِ حشیشاور تُو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نباتنسل، قومیّت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگخواجگی نے خوب چُن چُن کے بنائے مُسکِراتکَٹ مَرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیےسُکرکی لذّت میں تُو لُٹوا گیا نقدِ حیاتمکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہدارانتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور ماتاُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے
ہمّتِ عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبولغُنچہساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلکنغمۂ بیداریِ جمہور ہے سامانِ عیشقِصّۂ خوابآورِ اسکندر و جم کب تلکآفتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہُواآسماں! ڈُوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلکتوڑ ڈالیں فطرتِ انساں نے زنجیریں تمامدُوریِ جنّت سے روتی چشمِ آدم کب تلکباغبانِ چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہارزخمِ گُل کے واسطے تدبیرِ مرہم کب تلککرمکِ ناداں! طوافِ شمع سے آزاد ہواپنی فطرت کے تجلّی زار میں آباد ہو
دُنیائے اِسلامکیا سُناتا ہے مجھے تُرک و عرب کی داستاںمجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و سازلے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیلؑخشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجازہوگئی رُسوا زمانے میں کُلاہِ لالہ رنگجو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبورِ نیازلے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارسوہ مئے سرکش حرارت جس کی ہے مِینا گدازحکمتِ مغرب سے مِلّت کی یہ کیفیّت ہوئیٹُکڑے ٹُکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گازہوگیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہُومُضطرب ہے تُو کہ تیرا دل نہیں دانائے رازگُفت رومیؔ “ہر بِناے کُہنہ کآباداں کنند”می ندانی “اوّل آں بنیاد را ویراں کنند”
“مُلک ہاتھوں سے گیا مِلّت کی آنکھیں کھُل گئیں”حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگرمومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکستمُورِ بے پر! حاجتے پیشِ سلیمانے مبرربط و ضبطِ مِلّتِ بیضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبرپھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہومُلک و دولت ہے فقط حِفظِ حرم کا اک ثمرایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیےنِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغرجو کرے گا امتیازِ رنگ و خُوں، مِٹ جائے گاتُرکِ خرگاہی ہو یا اعرابیِ والا گُہرنسل اگر مسلم کی مذہب پر مُقّدم ہوگئیاُڑ گیا دُنیا سے تُو مانندِ خاکِ رہ گزرتا خلافت کی بِنا دُنیا میں ہو پھر اُستوارلا کہیں سے ڈھُونڈ کر اسلاف کا قلب و جگراے کہ نشناسی خفی را از جلی ہُشیار باشاے گرفتارِ ابُوبکرؓ و علیؓ ہُشیار باش
عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چُکیاب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھتُو نے دیکھا سطوَتِ رفتارِ دریا کا عروجموجِ مُضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھعام حُریّت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نےاے مسلماں آج تُو اُس خواب کی تعبیر دیکھاپنی خاکستر سمندر کو ہے سامانِ وجودمر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پِیر، دیکھکھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میںآنے والے دَور کی دھُندلی سی اک تصویر دیکھآزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردُوں کے پاسسامنے تقدیر کے رُسوائیِ تدبیر دیکھمسلم استی سینہ را از آرزو آباد دارہر زماں پیشِ نظر، ’لاَیُخْلِفُ المِیعَاد‘ دار
طلوعِ اِسلام
دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابیاُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابیعُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہےشکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابیاثر کچھ خواب کا غُنچوں میں باقی ہے تو اے بُلبل!“نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی”تڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میںجُدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیرِ سیمابیوہ چشمِ پاکبیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابیضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دےچمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جُستجو کر دے
سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیداکتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہمسفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہےکہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیداجہاں بانی سے ہے دُشوار تر کارِ جہاں بینیجگر خُوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہوَر پیدانوا پیرا ہو اے بُلبل کہ ہو تیرے ترنّم سےکبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہےپرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہےمکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تُو، جاوداں تو ہےحنا بندِ عروسِ لالہ ہے خُونِ جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے، معمارِ جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کیجہاں کے جوہرِ مُضمَر کا گویا امتحاں تو ہےجہانِ آب و گِل سے عالَمِ جاوید کی خاطرنبوّت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سرگزشتِ مِلّتِ بیضا سے ہے پیداکہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہےسبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانیاُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانیبُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جانہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانیمیانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک!ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانیگمان آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کابیاباں کی شبِ تاریک میں قِندیلِ رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓہُوئے احرارِ مِلّت جادہ پیما کس تجمّل سےتماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زِندانیثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور بازو کا!نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت، پادشاہی، علمِ اشیا کی جہاںگیرییہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہَوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہےحذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نُوری ہولہُو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چِیریںیقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالمجہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبعِ بلندے، مشربِ نابےدلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جانِ بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو، بے بال و پر نکلےستارے شام کے خُونِ شفَق میں ڈُوب کر نکلےہُوئے مدفونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو، بن کر گُہر نکلےغبارِ رہ گزر ہیں، کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو، اِکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیامِ زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سےجوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نُوریانِ آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلےجہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیںاِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہےیہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے
تُو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کواُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جایہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانیتُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نَسب ہیں بال و پر تیرےتُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جامَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کرشبستانِ محبّت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جُوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی
ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہےنظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کییہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کوہوَس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہےتدبّر کی فسُوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدّن کی بِنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہےخروش آموزِ بُلبل ہو، گِرہ غنچے کی وا کر دےکہ تُو اس گُلِستاں کے واسطے بادِ بہاری ہےپھر اُٹھّی ایشیا کے دل سے چنگاری محبّت کیزمیں جولاں گہِ اطلس قبایانِ تتاری ہےبیا پیدا خریدارست جانِ ناتوانے را“پس از مدّت گذار افتاد بر ما کاروانے را”
بیا ساقی نواے مرغِ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد، نگار آمد قرار آمدکشید ابرِ بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصداے آبشاراں از فرازِ کوہسار آمدسرت گردم تو ہم قانونِ پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیلِ نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بےباکانہ ساغر کشپس از مدّت ازیں شاخِ کہن بانگِ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیثِ خواجۂؐ بدر و حنین آورتصرّف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمددگر شاخِ خلیلؑ از خُونِ ما نم ناک می گرددببازارِ محبّت نقدِ ما کامل عیار آمدسرِ خاکِ شہیدے برگہاے لالہ می پاشمکہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد“بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم”