بانگِ درا · علامہ محمد اقبال

Chapter 4: غزلیات — حصہ دوم

زندگی انساں کی اک دَم کے سوا کچھ بھی نہیںدَم ہوا کی موج ہے، رم کے سوا کچھ بھی نہیں

گُل تبسّم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگرشمع بولی، گِریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

رازِ ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہوکھُل گیا جس دَم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں

زائرانِ کعبہ سے اقبالؔ یہ پُوچھے کوئیکیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں


الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سِکھا دےاسے ہے سودائے بخیہ کاری، مجھے سرِ پیرہن نہیں ہے

مِلا محبّت کا سوز مجھ کو تو بولے صبحِ ازل فرشتےمثالِ شمعِ مزار ہے تُو، تری کوئی انجمن نہیں ہے

یہاں کہاں ہم نفَس میسّر، یہ دیس ناآشنا ہے اے دل!وہ چیز تُو مانگتا ہے مجھ سے کہ زیرِ چرخِ کُہن نہیں ہے

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمارؐ نے بنایابِنا ہمارے حصارِ ملّت کی اتّحادِ وطن نہیں ہے

کہاں کا آنا، کہاں کا جانا، فریب ہے امتیازِ عقبیٰنمُود ہر شے میں ہے ہماری، کہیں ہمارا وطن نہیں ہے

مُدیرِ ’مخزن‘ سے کوئی اقبالؔ جا کے میرا پیام کہہ دےجو کام کچھ کر رہی ہیں قومیں، اُنھیں مذاقِ سخن نہیں ہے


زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اُٹھّے گا گفتگو کامری خموشی نہیں ہے، گویا مزار ہے حرفِ آرزو کا

جو موجِ دریا لگی یہ کہنے، سفر سے قائم ہے شان میریگُہر یہ بولا صدف نشینی ہے مجھ کو سامان آبرو کا

نہ ہو طبیعت ہی جن کی قابل، وہ تربیت سے نہیں سنورتےہُوا نہ سرسبز رہ کے پانی میں عکس سروِ کنارِ جُو کا

کوئی دل ایسا نظر نہ آیا نہ جس میں خوابیدہ ہو تمنّاالٰہی تیرا جہان کیا ہے، نگار خانہ ہے آرزو کا

کھُلا یہ مر کر کہ زندگی اپنی تھی طلسمِ ہوَس سراپاجسے سمجھتے تھے جسمِ خاکی، غُبار تھا کُوئے آرزو کا

اگر کوئی شے نہیں ہے پنہاں تو کیوں سراپا تلاش ہوں میںنِگہ کو نظّارے کی تمنا ہے، دل کو سودا ہے جُستجو کا

چمن میں گُلچیں سے غنچہ کہتا تھا، اتنا بیدرد کیوں ہے انساںتری نگاہوں میں ہے تبسّم شکستہ ہونا مرے سبو کا

ریاضِ ہستی کے ذرّے ذرّے سے ہے محبّت کا جلوہ پیداحقیقتِ گُل کو تُو جو سمجھے تو یہ بھی پیماں ہے رنگ و بو کا

تمام مضموں مرے پرانے، کلام میرا خطا سراپاہُنر کوئی دیکھتا ہے مجھ میں تو عیب ہے میرے عیب جُو کا

سپاس شرطِ ادب ہے ورنہ کرم ترا ہے ستم سے بڑھ کرذرا سا اک دل دیا ہے، وہ بھی فریب خوردہ ہے آرزو کا

کمالِ وحدت عیاں ہے ایسا کہ نوکِ نشتر سے تُو جو چھیڑےیقیں ہے مجھ کو گرے رگِ گُل سے قطرہ انسان کے لہُو کا

گیا ہے تقلید کا زمانہ، مجاز رختِ سفر اُٹھائےہوئی حقیقت ہی جب نمایاں تو کس کو یارا ہے گفتگو کا

جو گھر سے اقبالؔ دور ہُوں میں، تو ہوں نہ مُحزوں عزیز میرےمثالِ گوہر وطن کی فرقت کمال ہے میری آبرو کا


چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میںجھلک تیری ہویدا چاند میں، سُورج میں، تارے میں

بلندی آسمانوں میں، زمینوں میں تری پستیروانی بحر میں، اُفتادگی تیری کنارے میں

شریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوقِ تکلّم کیچھُپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں

جو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیند سوتا ہےشجر میں، پھول میں، حیواں میں، پتھّر میں، ستارے میں

مجھے پھُونکا ہے سوزِ قطرۂ اشکِ محبّت نےغضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے میں

نہیں جنسِ ثوابِ آخرت کی آرزو مجھ کووہ سوداگر ہُوں، مَیں نے نفع دیکھا ہے خسارے میں

سکوں ناآشنا رہنا اسے سامانِ ہستی ہےتڑپ کس دل کی یا رب چھُپ کے آ بیٹھی ہے پارے میں

صدائے لن ترانی سُن کے اے اقبالؔ میں چُپ ہوںتقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فُرقت کے مارے میں


یوں تو اے بزمِ جہاں! دِلکش تھے ہنگامے ترےاک ذرا افسردگی تیرے تماشاؤں میں تھی

پا گئی آسودگی کُوئے محبّت میں وہ خاکمُدّتوں آوارہ جو حکمت کے صحراؤں میں تھی

کس قدر اے مے! تجھے رسمِ حجاب آئی پسندپردۂ انگور سے نکلی تو مِیناؤں میں تھی

حُسن کی تاثیر پر غالب نہ آ سکتا تھا علماتنی نادانی جہاں کے سارے داناؤں میں تھی

میں نے اے اقبالؔ یورپ میں اُسے ڈھونڈا عبثبات جو ہندوستاں کے ماہ سیماؤں میں تھی


مثالِ پرتوِ مے طوفِ جام کرتے ہیںیہی نماز ادا صبح و شام کرتے ہیں

خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تریشجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

نیا جہاں کوئی اے شمع! ڈھونڈیے کہ یہاںستم کشِ تپشِ ناتمام کرتے ہیں

بھلی ہے ہم نفَسو اِس چمن میں خاموشیکہ خوشنواؤں کو پابندِ دام کرتے ہیں

غرض نشاط ہے شغلِ شراب سے جن کیحلال چیز کو گویا حرام کرتے ہیں

بھلا نِبھے گی تری ہم سے کیونکر اے واعظ!کہ ہم تو رسمِ محبّت کو عام کرتے ہیں

الٰہی سِحر ہے پیرانِ خرقہ پوش میں کیا!کہ اک نظر سے جوانوں کو رام کرتے ہیں

میں اُن کی محفلِ عشرت سے کانپ جاتا ہُوںجو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں

ہرے رہو وطنِ مازنی کے میدانو!جہاز پر سے تمھیں ہم سلام کرتے ہیں

جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔبُلا کے دَیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں


مارچ ۱۹۰۷ء

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گاسکُوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دَور ساقی کہ چھُپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے‌خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارۂ جُنوں تھے، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی، مگر نیا خارزار ہو گا

سُنا دیا گوشِ منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر اُستوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھاسُنا ہے یہ قُدسیوں سے مَیں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

کِیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیرِ میخانہ سُن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے، خوار ہو گا

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گیجوشاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

سفینۂ برگِ گُل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

چمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تُو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا

کہا جو قُمری سے مَیں نے اک دن، یہاں کے آزاد پا بہ گِل ہیںتو غُنچے کہنے لگے، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھِرتے ہیں مارے مارےمیں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسمِ بزمِ فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبشِ نظر بھیرہے گی کیا آبرُو ہماری جو تُو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کوشررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدّعا تیری زندگی کاتو اک نفَس میں جہاں سے مِٹنا تجھے مثالِ شرار ہو گا

نہ پُوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا، ابھی وہی کیفیت ہے اُس کیکہیں سرِ رہ گزار بیٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا