بانگِ درا · علامہ محمد اقبال

Chapter 3: حصہ دوم — ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک

محبّت

عروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سےستارے آسماں کے بے خبر تھے لذّتِ رم سے

قمر اپنے لباسِ نَو میں بیگانہ سا لگتا تھانہ تھا واقف ابھی گردش کے آئینِ مسلّم سے

ابھی امکاں کے ظُلمت خانے سے اُبھری ہی تھی دنیامذاقِ زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے

کمالِ نظمِ ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہوَیدا تھی نگینے کی تمنّا چشمِ خاتم سے

سُنا ہے عالمِ بالا میں کوئی کیمیاگر تھاصفا تھی جس کی خاکِ پا میں بڑھ کر ساغرِ جم سے

لِکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اِکسیر کا نسخہچھُپاتے تھے فرشتے جس کو چشمِ رُوحِ آدم سے

نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیاگر کیوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسمِ اعظم سے

بڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانبتمنّائے دلی آخر بر آئی سعیِ پیہم سے

پھرایا فکرِ اجزا نے اُسے میدانِ امکاں میںچھُپے گی کیا کوئی شے بارگاہِ حق کے مَحرم سے

چمک تارے سے مانگی، چاند سے داغِ جگر مانگااُڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زُلفِ برہم سے

تڑپ بجلی سے پائی، حُور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفَسہائے مسیحِ ابنِ مریمؑ سے

ذرا سی پھر ربوبِیّت سے شانِ بے نیازی لیمَلک سے عاجزی، اُفتادگی تقدیرِ شبنم سے

پھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میںمرکّب نے محبّت نام پایا عرشِ اعظم سے

مُہوّس نے یہ پانی ہستیِ نوخیز پر چھِڑکاگرہ کھولی ہُنر نے اُس کے گویا کارِ عالم سے

ہوئی جُنبش عیاں، ذرّوں نے لُطفِ خواب کو چھوڑاگلے ملنے لگے اُٹھ اُٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے

خرامِ ناز پایا آفتابوں نے، ستاروں نےچٹک غُنچوں نے پائی، داغ پائے لالہ زاروں نے

حقیقتِ حُسن

خدا سے حُسن نے اک روز یہ سوال کیاجہاں میں کیوں نہ مجھے تُو نے لازوال کیا

مِلا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیاشبِ درازِ عدم کا فسانہ ہے دنیا

ہوئی ہے رنگِ تغیّر سے جب نمود اس کیوُہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی

کہیں قریب تھا، یہ گُفتگو قمر نے سُنیفلک پہ عام ہوئی، اخترِ سحر نے سُنی

سحَر نے تارے سے سُن کر سُنائی شبنم کوفلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو

بھر آئے پھُول کے آنسو پیامِ شبنم سےکلی کا ننھّا سا دل خون ہو گیا غم سے

چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیاشباب سیر کو آیا تھا، سوگوار گیا

پیام

عشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنابزم کو مثلِ شمعِ بزم حاصلِ سوز و ساز دے

شانِ کرم پہ ہے مدار عشقِ گرہ کشاے کادَیر و حرم کی قید کیا! جس کو وہ بے نیاز دے

صورتِ شمع نُور کی مِلتی نہیں قبا اُسےجس کو خدا نہ دہر میں گریۂ جاں گداز دے

تارے میں وہ، قمر میں وہ، جلوہ گہِ سحَر میں وہچشمِ نظارہ میں نہ تُو سُرمۂ امتیاز دے

عشق بلند بال ہے رسم و رہِ نیاز سےحُسن ہے مستِ ناز اگر تُو بھی جوابِ ناز دے

پیرِ مغاں! فرنگ کی مے کا نشاط ہے اثراس میں وہ کیفِ غم نہیں، مجھ کو تو خانہ ساز دے

تجھ کو خبر نہیں ہے کیا! بزم کُہن بدل گئیاب نہ خدا کے واسطے ان کو مئے مجاز دے

سوامی رام تیرتھ

ہم بغَل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب توپہلے گوہر تھا، بنا اب گوہرِ نایاب تو

آہ! کھولا کس ادا سے تو نے رازِ رنگ و بومیں ابھی تک ہوں اسیرِ امتیازِ رنگ و بو

مِٹ کے غوغا زندگی کا شورشِ محشر بنایہ شرارہ بُجھ کے آتش خانۂ آزر بنا

نفیِ ہستی اک کرشمہ ہے دلِ آگاہ کا’لا‘ کے دریا میں نہاں موتی ہے ’الاّاللہ‘ کا

چشمِ نابینا سے مخفی معنیِ انجام ہےتھم گئی جس دم تڑپ، سیماب سیمِ خام ہے

توڑ دیتا ہے بُتِ ہستی کو ابراہیمِ عشقہوش کا دارُو ہے گویا مستیِ تسنیمِ عشق

طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام

اَوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہےعشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے

طائرِ زیرِ دام کے نالے تو سُن چُکے ہو تمیہ بھی سُنو کہ نالۂ طائرِ بام اور ہے

آتی تھی کوہ سے صدا رازِ حیات ہے سکُوںکہتا تھا مورِ ناتواں لُطفِ خرام اور ہے

جذبِ حرم سے ہے فروغ انجمنِ حجاز کااس کا مقام اور ہے، اس کا نظام اور ہے

موت ہے عیشِ جاوداں، ذوقِ طلب اگر نہ ہوگردشِ آدمی ہے اور، گردشِ جام اور ہے

شمعِ سحَر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا سازغم کدۂ نمود میں شرطِ دوام اور ہے

بادہ ہے نیم رس ابھی، شوق ہے نارسا ابھیرہنے دو خُم کے سر پہ تم خشتِ کلیسیا ابھی

اخترِ صُبح

ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھامِلی نگاہ مگر فرصتِ نظر نہ ملیہوئی ہے زندہ دمِ آفتاب سے ہر شےاماں مجھی کو تہِ دامنِ سحَر نہ ملیبساط کیا ہے بھلا صبح کے ستارے کینفَس حباب کا، تابندگی شرارے کی

کہا یہ میں نے کہ اے زیورِ جبینِ سحَر!غمِ فنا ہے تجھے! گُنبدِ فلک سے اُترٹپک بلندیِ گردُوں سے ہمرہِ شبنممرے ریاضِ سخن کی فضا ہے جاں پرورمیں باغباں ہوں، محبّت بہار ہے اس کیبِنا مثالِ ابد پائدار ہے اس کی

حُسن و عشق

جس طرح ڈُوبتی ہے کشتیِ سیمینِ قمرنورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سحَرجیسے ہو جاتا ہے گُم نور کا لے کر آنچلچاندنی رات میں مہتاب کا ہم رنگ کنولجلوۂ طُور میں جیسے یدِ بیضائے کلیمموجۂ نکہتِ گُلزار میں غنچے کی شمیمہے ترے سیلِ محبّت میں یونہی دل میرا

تُو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں میںحُسن کی برق ہے تُو، عشق کا حاصل ہوں میںتُو سحَر ہے تو مرے اشک ہیں شبنم تیریشامِ غربت ہوں اگر مَیں تو شفَق تُو میریمرے دل میں تری زُلفوں کی پریشانی ہےتری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہےحُسن کامل ہے ترا، عشق ہے کامل میرا

ہے مرے باغِ سخن کے لیے تُو بادِ بہارمیرے بیتاب تخیّل کو دیا تُو نے قرارجب سے آباد ترا عشق ہوا سینے میںنئے جوہر ہوئے پیدا مرے آئینے میںحُسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحریکِ کمالتجھ سے سر سبز ہوئے میری اُمیدوں کے نہالقافلہ ہو گیا آسُودۂ منزل میرا

کسی کی گود میں بلّی دیکھ کر

تجھ کو دُزدیدہ نگاہی یہ سِکھا دی کس نےرمز آغازِ محبّت کی بتا دی کس نے

ہر ادا سے تری پیدا ہے محبّت کیسینیلی آنکھوں سے ٹپکتی ہے ذکاوت کیسی

دیکھتی ہے کبھی ان کو، کبھی شرماتی ہےکبھی اُٹھتی ہے، کبھی لیٹ کے سو جاتی ہے

آنکھ تیری صفَتِ آئنہ حیران ہے کیانُورِ آگاہی سے روشن تری پہچان ہے کیا

مارتی ہے انھیں پونہچوں سے، عجب ناز ہے یہچھیڑ ہے، غُصّہ ہے یا پیار کا انداز ہے یہ؟

شوخ تُو ہوگی تو گودی سے اُتاریں گے تجھےگِر گیا پھُول جو سینے کا تو ماریں گے تجھے

کیا تجسّس ہے تجھے، کس کی تمنّائی ہےآہ! کیا تُو بھی اسی چیز کی سودائی ہے

خاص انسان سے کچھ حُسن کا احساس نہیںصُورتِ دل ہے یہ ہر چیز کے باطن میں مکیں

شیشۂ دہر میں مانندِ مئے ناب ہے عشقرُوح خورشید ہے، خونِ رگِ مہتاب ہے عشق

دلِ ہر ذرّہ میں پوشیدہ کسک ہے اس کینور یہ وہ ہے کہ ہر شے میں جھلک ہے اس کی

کہیں سامانِ مسرّت، کہیں سازِ غم ہےکہیں گوہر ہے، کہیں اشک، کہیں شبنم ہے

کلی

جب دِکھاتی ہے سحَر عارضِ رنگیں اپناکھول دیتی ہے کلی سینۂ زرّیں اپناجلوہ آشام ہے صبح کے مے خانے میںزندگی اس کی ہے خورشید کے پیمانے میںسامنے مہر کے دل چیر کے رکھ دیتی ہےکس قدر سینہ شگافی کے مزے لیتی ہے

مرے خورشید! کبھی تو بھی اُٹھا اپنی نقاببہرِ نظّارہ تڑپتی ہے نگاہِ بے تابتیرے جلوے کا نشیمن ہو مرے سینے میںعکس آباد ہو تیرا مرے آئینے میںزندگی ہو ترا نظّارہ مرے دل کے لیےروشنی ہو تری گہوارہ مرے دل کے لیےذرّہ ذرّہ ہو مرا پھر طرب اندوزِ حیاتہو عیاں جوہرِ اندیشہ میں پھر سوزِ حیاتاپنے خورشید کا نظّارہ کروں دُور سے میںصفَتِ غُنچہ ہم آغوش رہوں نُور سے میںجانِ مضطر کی حقیقت کو نمایاں کر دوںدل کے پوشیدہ خیالوں کو بھی عُریاں کر دوں

چاند اور تارے

ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سےتارے کہنے لگے قمر سےنظّارے رہے وہی فلک پرہم تھک بھی گئے چمک چمک کرکام اپنا ہے صبح و شام چلناچلنا، چلنا، مدام چلنابے تاب ہے اس جہاں کی ہر شےکہتے ہیں جسے سکُوں، نہیں ہےرہتے ہیں ستم کشِ سفر سبتارے، انساں، شجر، حجر سبہوگا کبھی ختم یہ سفر کیامنزل کبھی آئے گی نظر کیا

کہنے لگا چاند، ہم نشینواے مزرعِ شب کے خوشہ چینو!جُنبش سے ہے زندگی جہاں کییہ رسم قدیم ہے یہاں کیہے دوڑتا اشہبِ زمانہکھا کھا کے طلب کا تازیانہاس رہ میں مقام بے محل ہےپوشیدہ قرار میں اجل ہےچلنے والے نِکل گئے ہیںجو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیںانجام ہے اس خرام کا حُسنآغاز ہے عشق، انتہا حُسن

وِصال

جُستجو جس گُل کی تڑپاتی تھی اے بُلبل مجھےخوبیِ قسمت سے آخر مِل گیا وہ گُل مجھےخود تڑپتا تھا، چمن والوں کو تڑپاتا تھا میںتجھ کو جب رنگیں نوا پاتا تھا، شرماتا تھا میںمیرے پہلو میں دلِ مضطر نہ تھا، سیماب تھاارتکابِ جُرمِ الفت کے لیے بے تاب تھانامرادی محفلِ گُل میں مری مشہور تھیصُبح میری آئنہ دارِ شبِ دیجور تھیاز نفَس در سینۂ خوں گشتہ نشتر داشتمزیرِ خاموشی نہاں غوغائے محشر داشتم

اب تاثّر کے جہاں میں وہ پریشانی نہیںاہلِ گُلشن پر گراں میری غزل خوانی نہیںعشق کی گرمی سے شُعلے بن گئے چھالے مرےکھیلتے ہیں بجلیوں کے ساتھ اب نالے مرےغازۂ اُلفت سے یہ خاکِ سیہ آئینہ ہےاور آئینے میں عکسِ ہمدمِ دیرینہ ہےقید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئیدل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئیضَو سے اس خورشید کی اختر مرا تابندہ ہےچاندنی جس کے غبارِ راہ سے شرمندہ ہےیک نظر کردی و آدابِ فنا آموختیاے خُنک روزے کہ خاشاکِ مرا واسوختی

سُلَیمیٰ

جس کی نمود دیکھی چشمِ ستارہ بیں نےخورشید میں، قمر میں، تاروں کی انجمن میں

صُوفی نے جس کو دل کے ظُلمت کدے میں پایاشاعر نے جس کو دیکھا قُدرت کے بانکپن میں

جس کی چمک ہے پیدا، جس کی مہک ہویداشبنم کے موتیوں میں، پھُولوں کے پیرہن میں

صحرا کو ہے بسایا جس نے سکُوت بن کرہنگامہ جس کے دم سے کاشانۂ چمن میں

ہر شے میں ہے نمایاں یوں تو جمال اس کاآنکھوں میں ہے سُلَیمیٰ! تیری کمال اس کا

عاشقِ ہرجائی

ہے عجب مجموعۂ اضداد اے اقبالؔ تورونقِ ہنگامۂ محفل بھی ہے، تنہا بھی ہے

تیرے ہنگاموں سے اے دیوانۂ رنگیں نوا!زینتِ گُلشن بھی ہے، آرائشِ صحرا بھی ہے

ہم‌نشیں تاروں کا ہے تُو رفعتِ پرواز سےاے زمیں فرسا، قدم تیرا فلک پیما بھی ہے

عین شغلِ مے میں پیشانی ہے تیری سجدہ ریزکچھ ترے مسلک میں رنگِ مشربِ مینا بھی ہے

مثلِ بُوئے گُل لباسِ رنگ سے عُریاں ہے توہے تو حکمت آفریں، لیکن تجھے سَودا بھی ہے

جانبِ منزل رواں بے نقشِ پا مانندِ موجاور پھر اُفتادہ مثلِ ساحلِ دریا بھی ہے

حُسنِ نسوانی ہے بجلی تیری فطرت کے لیےپھر عجب یہ ہے کہ تیرا عشق بے پروا بھی ہے

تیری ہستی کا ہے آئینِ تفنّن پر مدارتُو کبھی ایک آستانے پر جبیں فرسا بھی ہے؟

ہے حسینوں میں وفا ناآشنا تیرا خطاباے تلوّن کیش! تُو مشہور بھی، رُسوا بھی ہے

لے کے آیا ہے جہاں میں عادتِ سیماب توتیری بے تابی کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو

عشق کی آشفتگی نے کر دیا صحرا جسےمُشتِ خاک ایسی نہاں زیرِ قبا رکھتا ہوں میں

ہیں ہزاروں اس کے پہلو، رنگ ہر پہلو کا اورسینے میں ہیرا کوئی ترشا ہوا رکھتا ہوں میں

دل نہیں شاعر کا، ہے کیفیّتوں کی رستخیزکیا خبر تجھ کو، دُرونِ سینہ کیا رکھتا ہوں میں

آرزو ہر کیفیَت میں اک نئے جلوے کی ہےمضطرب ہوں، دل سکُوں ناآشنا رکھتا ہوں میں

گو حسینِ تازہ ہے ہر لحظہ مقصودِ نظرحُسن سے مضبوط پیمانِ وفا رکھتا ہوں میں

بے نیازی سے ہے پیدا میری فطرت کا نیازسوز و سازِ جُستجو مثلِ صبا رکھتا ہوں میں

موجبِ تسکیں تماشائے شرارِ جستہ اےہو نہیں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں میں

ہر تقاضا عشق کی فطرت کا ہو جس سے خموشآہ! وہ کامل تجلّی مُدّعا رکھتا ہوں میں

جُستجو کُل کی لیے پھِرتی ہے اجزا میں مجھےحُسن بے پایاں ہے، دردِ لادوا رکھتا ہوں میں

زندگی اُلفت کی درد انجامیوں سے ہے مریعشق کو آزادِ دستورِ وفا رکھتا ہوں میں

سچ اگر پُوچھے تو افلاسِ تخیّل ہے وفادل میں ہر دم اک نیا محشر بپا رکھتا ہوں میں

فیضِ ساقی شبنم آسا، ظرفِ دل دریا طلبتشنۂ دائم ہوں آتش زیرِ پا رکھتا ہوں میں

مجھ کو پیدا کر کے اپنا نُکتہ چیں پیدا کیانقش ہوں، اپنے مصوّر سے گِلا رکھتا ہوں میں

محفلِ ہستی میں جب ایسا تنک جلوہ تھا حُسنپھر تخیّل کس لیے لا انتہا رکھتا ہوں میں

در بیابانِ طلب پیوستہ می کوشیم ماموجِ بحریم و شکستِ خویش بر دوشیم ما

کوششِ نا تمام

فُرقتِ آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صُبحچشمِ شفَق ہے خوں فشاں اخترِ شام کے لیے

رہتی ہے قیسِ روز کو لیلیِ شام کی ہوساخترِ صبح مضطرب تابِ دوام کے لیے

کہتا تھا قطبِ آسماں قافلۂ نجوم سےہمرہو، میں ترس گیا لُطفِ خرام کے لیے

سوتوں کو ندّیوں کا شوق، بحر کا ندّیوں کو عشقموجۂ بحر کو تپش ماہِ تمام کے لیے

حُسنِ ازل کہ پردۂ لالہ و گُل میں ہے نہاںکہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے

رازِ حیات پُوچھ لے خِضرِ خجستہ گام سےزندہ ہر ایک چیز ہے کوششِ نا تمام سے

نوائے غم

زندگانی ہے مری مثلِ ربابِ خاموشجس کی ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبریز آغوشبربطِ کون و مکاں جس کی خموشی پہ نثارجس کے ہر تار میں ہیں سینکڑوں نغموں کے مزارمحشرستانِ نوا کا ہے امیں جس کا سکُوتاور منّت کشِ ہنگامہ نہیں جس کا سکُوتآہ! اُمیّد محبت کی بر آئی نہ کبھیچوٹ مضراب کی اس ساز نے کھائی نہ کبھی

مگر آتی ہے نسیمِ چمنِ طُور کبھیسمتِ گردُوں سے ہوائے نفَسِ حُور کبھیچھیڑ آہستہ سے دیتی ہے مرا تارِ حیاتجس سے ہوتی ہے رِہا رُوحِ گرفتارِ حیاتنغمۂ یاس کی دھیمی سی صدا اُٹھتی ہےاشک کے قافلے کو بانگِ درا اُٹھتی ہےجس طرح رفعتِ شبنم ہے مذاقِ رم سےمیری فطرت کی بلندی ہے نوائے غم سے

عشرتِ امروز

نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پیامِ عیش و سرورنہ کھینچ نقشۂ کیفیّتِ شرابِ طہور

فراقِ حُور میں ہو غم سے ہمکنار نہ توپری کو شیشۂ الفاظ میں اُتار نہ تو

مجھے فریفتۂ ساقیِ جمیل نہ کربیانِ حُور نہ کر، ذکرِ سلسبیل نہ کر

مقامِ امن ہے جنّت، مجھے کلام نہیںشباب کے لیے موزُوں ترا پیام نہیں

شباب، آہ! کہاں تک اُمیدوار رہےوہ عیش، عیش نہیں، جس کا انتظار رہے

وہ حُسن کیا جو محتاجِ چشمِ بینا ہونموُد کے لیے منّت پذیرِ فردا ہو

عجیب چیز ہے احساس زندگانی کاعقیدہ ’عشرتِ امروز‘ ہے جوانی کا

انسان

قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!انسان کو راز جو بنایاراز اس کی نگاہ سے چھُپایابے تاب ہے ذوق آگہی کاکھُلتا نہیں بھید زندگی کاحیرت آغاز و انتہا ہےآئینے کے گھر میں اور کیا ہے

ہے گرمِ خرام موجِ دریادریا سوئے بحر جادہ پیمابادل کو ہوا اُڑا رہی ہےشانوں پہ اُٹھائے لا رہی ہےتارے مستِ شرابِ تقدیرزندانِ فلک میں پا بہ زنجیرخورشید، وہ عابدِ سحَر خیزلانے والا پیامِ ’برخیز‘مغرب کی پہاڑیوں میں چھُپ کرپیتا ہے مئے شفَق کا ساغرلذّت گیرِ وجود ہر شےسر مستِ مئے نمود ہر شےکوئی نہیں غم گُسارِ انساںکیا تلخ ہے روزگارِ انساں!

جلوۂ حُسن

جلوۂ حُسن کہ ہے جس سے تمنّا بے تابپالتا ہے جسے آغوشِ تخیّل میں شباب

ابَدی بنتا ہے یہ عالمِ فانی جس سےایک افسانۂ رنگیں ہے جوانی جس سے

جو سِکھاتا ہے ہمیں سر بہ گریباں ہونامنظرِ عالمِ حاضر سے گُریزاں ہونا

دُور ہو جاتی ہے ادراک کی خامی جس سےعقل کرتی ہے تاثّر کی غلامی جس سے

آہ! موجود بھی وہ حُسن کہیں ہے کہ نہیںخاتَمِ دہر میں یا رب وہ نگیں ہے کہ نہیں

ایک شام

( دریائے نیکر ’ہائیڈل برگ ‘ کے کنارے پر )

خاموش ہے چاندنی قمر کیشاخیں ہیں خموش ہر شجر کی

وادی کے نوا فروش خاموشکُہسار کے سبز پوش خاموش

فطرت بے ہوش ہو گئی ہےآغوش میں شب کے سو گئی ہے

کچھ ایسا سکُوت کا فُسوں ہےنیکر کا خرام بھی سکُوں ہے

تاروں کا خموش کارواں ہےیہ قافلہ بے درا رواں ہے

خاموش ہیں کوہ و دشت و دریاقُدرت ہے مُراقبے میں گویا

اے دِل! تُو بھی خموش ہو جاآغوش میں غم کو لے کے سو جا

تنہائی

تنہائیِ شب میں ہے حزیں کیاانجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا؟

یہ رفعتِ آسمانِ خاموشخوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش

یہ چاند، یہ دشت و در، یہ کُہسارفطرت ہے تمام نسترن زار

موتی خوش رنگ، پیارے پیارےیعنی ترے آنسوؤں کے تارے

کس شے کی تجھے ہوَس ہے اے دل!قُدرت تری ہم نفَس ہے اے دل!

پیامِ عشق

سُن اے طلب گارِ دردِ پہلو! میں ناز ہُوں، تُو نیاز ہو جامیں غزنوی سومناتِ دل کا ہوں تُو سراپا ایاز ہو جا

نہیں ہے وابستہ زیرِ گردُوں کمال شانِ سکندری سےتمام ساماں ہے تیرے سینے میں، تُو بھی آئینہ ساز ہو جا

غرض ہے پیکار زندگی سے کمال پائے ہلال تیراجہاں کا فرضِ قدیم ہے تُو، ادا مثالِ نماز ہو جا

نہ ہو قناعت شعار گُلچیں! اسی سے قائم ہے شان تیریوفورِ گُل ہے اگر چمن میں تو اور دامن دراز ہو جا

گئے وہ ایّام، اب زمانہ نہیں ہے صحرانوَردیوں کاجہاں میں مانندِ شمعِ سوزاں میانِ محفل گداز ہو جا

وُجود افراد کا مجازی ہے، ہستیِ قوم ہے حقیقیفِدا ہو مِلّت پہ یعنی آتش زنِ طلسمِ مجاز ہو جا

یہ ہند کے فرقہ ساز اقبالؔ آزری کر رہے ہیں گویابچا کے دامن بُتوں سے اپنا غُبارِ راہِ حجاز ہو جا

فراق

تلاشِ گوشۂ عُزلت میں پھر رہا ہُوں مَیںیہاں پہاڑ کے دامن میں آ چھُپا ہوں مَیںشکستہ گیت میں چشموں کے دلبری ہے کمالدُعائے طفلکِ گفتار آزما کی مثالہے تختِ لعلِ شفَق پر جلوسِ اخترِ شامبہشتِ دیدۂ بینا ہے حُسنِ منظرِ شامسکُوتِ شامِ جُدائی ہُوا بہانہ مجھےکسی کی یاد نے سِکھلا دیا ترانہ مجھے

یہ کیفیت ہے مری جانِ ناشکیبا کیمری مثال ہے طفلِ صغیرِ تنہا کیاندھیری رات میں کرتا ہے وہ سرود آغازصدا کو اپنی سمجھتا ہے غیر کی آوازیونہی میں دل کو پیامِ شکیب دیتا ہوںشبِ فراق کو گویا فریب دیتا ہوں

عبد القادر کے نام

اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پربزم میں شعلہ نوائی سے اُجالا کر دیں

ایک فریاد ہے مانندِ سپند اپنی بساطاسی ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر دیں

اہلِ محفل کو دِکھا دیں اثرِ صَیقلِ عشقسنگِ امروز کو آئینۂ فردا کر دیں

جلوۂ یوسفِ گُم گشتہ دِکھا کر ان کوتپش آمادہ تر از خُونِ زلیخا کر دیں

اس چمن کو سبق آئینِ نُمو کا دے کرقطرۂ شبنمِ بے مایہ کو دریا کر دیں

رختِ جاں بُت کدۂ چیں سے اُٹھا لیں اپناسب کو محوِ رُخِ سُعدیٰ و سُلیمیٰ کر دیں

دیکھ! یثرِب میں ہُوا ناقۂ لیلیٰ بیکارقیس کو آرزوئے نَو سے شناسا کر دیں

بادہ دیرینہ ہو اور گرم ہو ایسا کہ گدازجگرِ شیشہ و پیمانہ و مِینا کر دیں

گرم رکھتا تھا ہمیں سردیِ مغرب میں جو داغچِیر کر سینہ اُسے وقفِ تماشا کر دیں

شمع کی طرح جیِیں بزم گہِ عالم میںخود جلیں، دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں

“ہر چہ در دل گُذرد وقفِ زباں دارد شمعسوختن نیست خیالے کہ نہاں دارد شمع”

صِقلیہ

( جزیرۂ سِسلی)

رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خُوننابہ باروہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزارتھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھیبحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھیزلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھےبجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھےاک جہانِ تازہ کا پیغام تھا جن کا ظُہورکھا گئی عصرِ کُہن کو جن کی تیغِ نا صبورمُردہ عالَم زندہ جن کی شورشِ قُم سے ہُواآدمی آزاد زنجیرِ توہّم سے ہُواغلغلوں سے جس کے لذّت گیر اب تک گوش ہےکیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟

آہ اے سِسلی! سمندرکی ہے تجھ سے آبرورہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے توزیب تیرے خال سے رُخسارِ دریا کو رہےتیری شمعوں سے تسلّی بحر پیما کو رہےہو سُبک چشمِ مسافر پر ترا منظر مدامموج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدامتُو کبھی اُس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھاحُسنِ عالم سوز جس کا آتشِ نظّارہ تھا

نالہ کش شیراز کا بُلبل ہُوا بغداد پرداغؔ رویا خُون کے آنسو جہان آباد پرآسماں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کیابنِ بدرُوں کے دلِ ناشاد نے فریاد کیغم نصیب اقبالؔ کو بخشا گیا ماتم تراچُن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا

ہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاںتیرے ساحل کی خموشی میں ہے اندازِ بیاںدرد اپنا مجھ سے کہہ، مَیں بھی سراپا درد ہوںجس کی تُو منزل تھا، میں اُس کارواں کی گرد ہوںرنگ تصویرِ کُہن میں بھر کے دِکھلا دے مجھےقصّہ ایّامِ سلَف کا کہہ کے تڑپا دے مجھےمَیں ترا تُحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گاخود یہاں روتا ہوں، اَوروں کو وہاں رُلواؤں گا