بانگِ درا · علامہ محمد اقبال

Chapter 2: غزلیات — حصہ اول

گُلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

آیا ہے تُو جہاں میں مثالِ شرار دیکھدَم دے نہ جائے ہستیِ نا پائدار دیکھ

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںتُو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگرہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ


نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھیمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

تمھارے پیامی نے سب راز کھولاخطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑاتری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی!

تامّل تو تھا اُن کو آنے میں قاصدمگر یہ بتا طرزِ انکار کیا تھی

کھِنچے خود بخود جانبِ طُور موسیٰؑکشش تیری اے شوقِ دیدار کیا تھی!

کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرافسوں تھا کوئی، تیری گُفتار کیا تھی


عجب واعظ کی دیں‌داری ہے یا رب!عداوت ہے اسے سارے جہاں سے

کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساںکہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے

وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہےچمک تارے نے پائی ہے جہاں سے

ہم اپنی دردمندی کا فسانہسُنا کرتے ہیں اپنے رازداں سے

بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیںلَرز جاتا ہے آوازِ اذاں سے


لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیےبجلیاں بے تاب ہوں جن کو جَلانے کے لیے

وائے ناکامی، فلک نے تاک کر توڑا اُسےمیں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے

آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملّت سے تریایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے

دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروںلوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے

جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چُن کے تُوآ ہی نکلے گی کوئی بجلی جلانے کے لیے

پاس تھا ناکامیِ صیّاد کا اے ہم صفیرورنہ مَیں، اور اُڑ کے آتا ایک دانے کے لیے!

اس چمن میں مرغِ دل گائے نہ آزادی کا گیتآہ! یہ گُلشن نہیں ایسے ترانے کے لیے


کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جُدا کیونکر ہوااور اسیرِ حلقۂ دامِ ہَوا کیونکر ہوا

جائے حیرت ہے بُرا سارے زمانے کا ہوں میںمجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا

کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طُور پرکیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا

ہے طلب بے مدّعا ہونے کی بھی اک مدّعامرغِ دل دامِ تمنّا سے رِہا کیونکر ہوا

دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھےپھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا

حُسنِ کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سببوہ جو تھا پردوں میں پنہاں، خود نما کیونکر ہوا

موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے دردِ فراق!چارہ گر دیوانہ ہے، مَیں لا دوا کیونکر ہوا

تُو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گُلہو کے پیدا خاک سے رنگیں قبا کیونکر ہوا

پُرسشِ اعمال سے مقصد تھا رُسوائی مریورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ، کیا ہوا، کیونکر ہوا

میرے مِٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھیکیا بتاؤں اُن کا میرا سامنا کیونکر ہوا


انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیںیہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

علاجِ درد میں بھی درد کی لذّت پہ مرتا ہُوںجو تھے چھالوں میں کانٹے، نوکِ سوزن سے نکالے ہیں

پھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کاجگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں

رُلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کینرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں

نہ پُوچھو مجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کینشیمن سینکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

نہیں بیگانگی اچھّی رفیقِ راہِ منزل سےٹھہر جا اے شرر، ہم بھی تو آخر مِٹنے والے ہیں

اُمیدِ حور نے سب کچھ سِکھا رکھا ہے واعظ کویہ حضرت دیکھنے میںسیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں

مرے اشعار اے اقبالؔ! کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کومرے ٹُوٹے ہُوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں


ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئیہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

منصُور کو ہُوا لبِ گویا پیامِ موتاب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کرہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

میں انتہائے عشق ہوں، تُو انتہائے حُسندیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

عذر آفرینِ جرمِ محبّت ہے حُسنِ دوستمحشر میں عذرِ تازہ نہ پیدا کرے کوئی

چھُپتی نہیں ہے یہ نگہِ شوق ہم نشیں!پھر اور کس طرح اُنھیں دیکھا کرے کوئی

اَڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طُور پر کلیمطاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی

نظّارے کو یہ جُنبشِ مژگاں بھی بار ہےنرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی

کھُل جائیں، کیا مزے ہیں تمنّائے شوق میںدو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی


کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہےمرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے

وہ مے کش ہوں فروغِ مے سے خود گُلزار بن جاؤںہوائے گُل فراقِ ساقیِ نا مہرباں تک ہے

چمن افروز ہے صیّاد میری خوش‌نوائی تکرہی بجلی کی بے تابی، سو میرے آشیاں تک ہے

وہ مُشتِ خاک ہوں، فیضِ پریشانی سے صحرا ہوںنہ پُوچھو میری وسعت کی، زمیں سے آ سماں تک ہے

جرَس ہوں، نالہ خوابیدہ ہے میرے ہر رگ و پے میںیہ خاموشی مری وقتِ رحیلِ کارواں تک ہے

سکُونِ دل سے سامانِ کشودِ کار پیدا کرکہ عقدہ خاطرِ گرداب کا آبِ رواں تک ہے

چمن زارِ محبّت میں خموشی موت ہے بُلبل!یہاں کی زندگی پابندیِ رسمِ فغاں تک ہے

جوانی ہے تو ذوقِ دید بھی، لُطفِ تمنّا بھیہمارے گھر کی آبادی قیامِ میہماں تک ہے

زمانے بھر میں رُسوا ہوں مگر اے وائے نادانی!سمجھتا ہوں کہ میرا عشق میرے رازداں تک ہے


جنھیں مَیں ڈھُونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میںوہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنیمکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں

اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبَہہ سائی سےتو سنگِ آستانِ کعبہ جا مِلتا جبینوں میں

کبھی اپنا بھی نظّارہ کِیا ہے تو نے اے مجنوںکہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں

مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیںمگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں

مجھے روکے گا تُو اے ناخدا کیا غرق ہونے سےکہ جن کو ڈوبنا ہو، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

چھُپایا حُسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نےوہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں

جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کیالٰہی! کیا چھُپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں

تمنّا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کینہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کویدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کووہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں

کسی ایسے شرر سے پھُونک اپنے خرمنِ دل کوکہ خورشیدِ قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں

محبّت کے لیے دل ڈھُونڈ کوئی ٹُوٹنے والایہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

سراپا حُسن بن جاتا ہے جس کے حُسن کا عاشقبھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسیِنوں میں

پھڑک اُٹھّا کوئی تیری ادائے ’مَا عَرَفْنا‘ پرترا رُتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں

نمایاں ہو کے دِکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنابہت مدّت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں

خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّاادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں

بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتاکہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں


ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابیکوئی بات صبرآزما چاہتا ہوں

یہ جنّت مبارک رہے زاہدوں کوکہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتناوہی لن ترانی سُنا چاہتا ہوں

کوئی دَم کا مہماں ہوں اے اہلِ محفلچراغِ سحَر ہوں، بُجھا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دیبڑا بے ادب ہوں، سزا چاہتا ہوں


کُشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرےنیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

بِٹھا کے عرش پہ رکھّا ہے تو نے اے واعظ!خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقیجو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے

مدام گوش بہ دل رہ، یہ ساز ہے ایساجو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے

کوئی یہ پُوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہےجو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

سخن میں سوز، الٰہی کہاں سے آتا ہےیہ چیز وہ ہے کہ پتھّر کو بھی گداز کرے

تمیزِ لالہ و گُل سے ہے نالۂ بُلبلجہاں میں وا نہ کوئی چشمِ امتیاز کرے

غرورِ زُہد نے سِکھلا دیا ہے واعظ کوکہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔاُڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے


سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میںہائے کیا اچھّی کہی ظالم ہوں میں، جاہل ہوں میں

میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھیجو نمودِ حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

علم کے دریا سے نِکلے غوطہ زن گوہر بدستوائے محرومی! خزف چینِ لبِ ساحل ہوں میں

ہے مری ذلّت ہی کچھ میری شرافت کی دلیلجس کی غفلت کو مَلَک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں

بزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تُو نازاں نہ ہوتُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

ڈھُونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ اپنے آپ کوآپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں


مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دےنظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے

واعظ! کمالِ ترک سے مِلتی ہے یاں مراددنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے

تقلید کی روِش سے تو بہتر ہے خودکُشیرستہ بھی ڈھُونڈ، خِضر کا سودا بھی چھوڑ دے

مانندِ خامہ تیری زباں پر ہے حرفِ غیربیگانہ شے پہ نازشِ بے جا بھی چھوڑ دے

لُطفِ کلام کیا جو نہ ہو دل میں دردِ عشقبِسمل نہیں ہے تُو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے

شبنم کی طرح پھُولوں پہ رو، اور چمن سے چلاس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے

ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنابُت خانہ بھی، حرم بھی، کلیسا بھی چھوڑ دے

سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہےاے بے خبر! جزا کی تمنّا بھی چھوڑ دے

اچھّا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقللیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

جینا وہ کیا جو ہو نفَسِ غیر پر مدارشہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے

شوخی سی ہے سوالِ مکرّر میں اے کلیم!شرطِ رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے

واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میںاقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے