پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیمابمُرغانِ سحَر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاباے وادیِ لولاب!
گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محرابدیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواباے وادیِ لولاب!
ہیں ساز پہ موقُوف نوا ہائے جگر سوزڈھِیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مِضراباے وادیِ لولاب!
مُلّا کی نظر نُورِ فراست سے ہے خالیبے سوز ہے میخانۂ صُوفی کی مئے ناباے وادیِ لولاب!
بیدار ہوں دل جس کی فغانِ سَحری سےاس قوم میں مُدّت سے وہ درویش ہے نایاباے وادیِ لولاب!
موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے ناممکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام!شرعِ مُلوکانہ میں جدّتِ احکام دیکھصُور کا غوغا حلال، حشر کی لذّت حرام!اے کہ غلامی سے ہے رُوح تری مُضمحلسینۂ بے سوز میں ڈھُونڈ خودی کا مقام!
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیرکل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیرسینۂ افلاک سے اُٹھتی ہے آہِ سوز ناکمردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سُلطان و امیرکہہ رہا ہے داستاں بیدردیِ ایّام کیکوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقانِ پیرآہ! یہ قومِ نجیب و چرب دست و تر دماغہے کہاں روزِ مکافات اے خُدائے دیر گیر؟
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہُوتھرتھراتا ہے جہانِ چار سوُے و رنگ و بوپاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیرکرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغِ آرزووہ پُرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیںعشق سِیتا ہے اُنھیں بے سوزن و تارِ رَفوضربتِ پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاشحاکمیّت کا بُتِ سنگیں دل و آئینہ رُو
دُرّاج کی پرواز میں ہے شوکتِ شاہیںحیرت میں ہے صیّاد، یہ شاہیں ہے کہ دُرّاج!ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطُممشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آجفطرت کے تقاضوں سے ہُوا حشر پہ مجبوروہ مُردہ کہ تھا بانگِ سرافیل کا محتاج
رِندوں کو بھی معلوم ہیں صُوفی کے کمالاتہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کراماتخود گیری و خودداری و گلبانگِ ’اَنا الحق‘آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقاماتمحکوم ہو سالک تو یہی اس کا ’ہمہ اوست‘خود مُردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّریکہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیریترے دِین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رُہبانییہی ہے مرنے والی اُمّتوں کا عالَمِ پیریشیاطین مُلوکیّت کی آنکھوں میں ہے وہ جادوکہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوقِ نخچیریچہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہِ منکہ بُرد آں شور و مستی از سیہ چشمانِ کشمیری!
سمجھا لہُو کی بوند اگر تُو اسے تو خیردِل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلندگردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسےدل آپ اپنے شام و سحَر کا ہے نقش بندجس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنارممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
کھُلا جب چمن میں کتب خانۂ گُلنہ کام آیا مُلّا کو علمِ کتابیمتانت شکن تھی ہوائے بہاراںغزل خواں ہُوا پیرکِ اندرابیکہا لالۂ آتشیں پیرہن نےکہ اَسرارِ جاں کی ہوں مَیں بے حجابیسمجھتا ہے جو موت خوابِ لَحد کونہاں اُس کی تعمیر میں ہے خرابینہیں زندگی سلسلہ روز و شب کانہیں زندگی مستی و نیم خوابیحیات است در آتشِ خود تپیدنخوش آں دم کہ ایں نکتہ را بازیابیاگر زآتشِ دل شرارے بگیریتواں کرد زیرِ فلک آفتابی
آزاد کی رگ سخت ہے مانندِ رگِ سنگمحکوم کی رگ نرم ہے مانندِ رگِ تاکمحکوم کا دل مُردہ و افسردہ و نومیدآزاد کا دل زندہ و پُرسوز و طرب ناکآزاد کی دولت دلِ روشن، نفسِ گرممحکوم کا سرمایہ فقط دیدۂ نم ناکمحکوم ہے بیگانۂ اخلاص و مروّتہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاکممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوشوہ بندۂ افلاک ہے، یہ خواجۂ افلاک
تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہکوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہیہ راز ہم سے چھُپایا ہے میر واعظ نےکہ خود حرم ہے چراغِ حرم کا پروانہطلسمِ بے خَبری، کافری و دِیں داریحدیثِ شیخ و برہِمن فُسون و افسانہنصیبِ خطّہ ہو یا رب وہ بندۂ درویشکہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہچھُپے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تکگُہر ہیں آبِ وُلر کے تمام یک دانہ
دِگرگُوں جہاں اُن کے زورِ عمل سےبڑے معرکے زندہ قوموں نے مارےمُنجّم کی تقویمِ فردا ہے باطلگرے آسماں سے پُرانے ستارےضمیرِ جہاں اس قدر آتشیں ہےکہ دریا کی موجوں سے ٹُوٹے ستارےزمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سےنُمایاں ہیں فِطرت کے باریک اشارےہمالہ کے چشمے اُبلتے ہیں کب تکخضَر سوچتا ہے وُلر کے کنارے!
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کاکہ صُبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریںکمالِ صدق و مروّت ہے زندگی ان کیمعاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریںقلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلالیہ اُمّتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریںخودی سے مردِ خود آگاہ کا جمال و جلالکہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریںشکوہِ عید کا منکر نہیں ہوں مَیں، لیکنقبولِ حق ہیں فقط مردِ حُر کی تکبیریںحکیم میری نواؤں کا راز کیا جانےورائے عقل ہیں اہلِ جُنوں کی تدبیریں
چہ کافرانہ قِمارِ حیات می بازیکہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازیدِگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بینمدلِ جُنید و نگاہِ غزالی و رازیبحکمِ مفتیِ اعظم کہ فطرتِ ازلیستبدینِ صعوہ حرام است کارِ شہبازیہماں فقیہِ ازَل گُفت جُرّہ شاہیں رابآسماں گرَوی با زمیں نہ پروازیمنم کہ توبہ نہ کردم ز فاش گوئی ہاز بیمِ ایں کہ بسُلطاں کنند غمّازیبدستِ ما نہ سمرقند و نے بخارا ایستدُعا بگو ز فقیراں بہ تُرکِ شیرازی
ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہوہاں دِگرگُوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہکنارِ دریا خضَر نے مجھ سے کہا بہ اندازِ محرمانہسکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہحریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایانِ خانقاہیاُنھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگِ آستانہغلام قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمزِ آشکارازمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردُوں ہے بے کرانہخبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبیعمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہمری اسیری پہ شاخِ گُل نے یہ کہہ کے صیّاد کو رُلایاکہ ایسے پُرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ
حاجت نہیں اے خطّۂ گُل شرح و بیاں کیتصویر ہمارے دلِ پُر خوں کی ہے لالہتقدیر ہے اک نام مکافاتِ عمل کادیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہسرما کی ہواؤں میں ہے عُریاں بدن اس کادیتا ہے ہُنر جس کا امیروں کو دوشالہاُمّید نہ رکھ دولتِ دنیا سے وفا کیرَم اس کی طبیعت میں ہے مانندِ غزالہ
خود آگاہی نے سِکھلا دی ہے جس کو تن فراموشیحرام آئی ہے اُس مردِ مجاہد پر زِرہ پوشی
آں عزمِ بلند آور آں سوزِ جگر آورشمشیرِ پدر خواہی بازوے پدر آور
غریبِ شہر ہوں مَیں، سُن تو لے مری فریادکہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آبادمری نوائے غم آلود ہے متاعِ عزیزجہاں میں عام نہیں دولتِ دلِ ناشادگلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سےسمجھتا ہے مری محنت کو محنت فرہاد“صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر استخبر بگیر کہ آوازِ تیشہ و جگر است”
سر اکبر حیدری، صدرِ اعظم حیدر آباد دکن کے نام
’یوم اقبالؔ‘ کے موقع پر توشہ خانۂ حضور نظام کی طرف سے، جو صاحب صدر اعظم کے ماتحت ہے ایک ہزار روپے کا چیک بطور تواضع وصول ہونے پر
تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہِ پرویزدو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفاتمجھ سے فرمایا کہ لے، اور شہنشاہی کرحُسنِ تدبیر سے دے آنی و فانی کو ثباتمَیں تو اس بارِ امانت کو اُٹھاتا سرِ دوشکامِ درویش میں ہر تلخ ہے مانندِ نباتغیرتِ فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبولجب کہا اُس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات!
حُسین احمد
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں، ورنہز دیوبند حُسین احمد! ایں چہ بوالعجبی استسرود بر سرِ منبر کہ مِلّت از وطن استچہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی استبمصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوستاگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی است
حضرتِ انسان
جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانیکوئی شے چھُپ نہیں سکتی کہ یہ عالَم ہے نورانیکوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنانمایاں ہیں فرشتوں کے تبسّم ہائے پِنہانییہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کوکہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانییہی فرزندِ آدم ہے کہ جس کے اشکِ خُونیں سےکِیا ہے حضرتِ یزداں نے دریاؤں کو طوفانیفلک کو کیا خبر یہ خاکداں کس کا نشیمن ہےغرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کی نگہبانیاگر مقصودِ کُل مَیں ہُوں تو مجھ سے ماورا کیا ہےمرے ہنگامہ ہائے نَو بہ نَو کی انتہا کیا ہے؟