ارمغانِ حجاز (اردو) · علامہ محمد اقبال

Chapter 1: نظمیں

اِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ

اِبلیسیہ عناصِر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوںساکنانِ عرشِ اعظم کی تمنّاؤں کا خوں!اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارسازجس نے اس کا نام رکھّا تھا جہانِ کاف و نوںمیں نے دِکھلایا فرنگی کو مُلوکیّت کا خوابمَیں نے توڑا مسجد و دَیر و کلیِسا کا فسوںمَیں نے ناداروں کو سِکھلایا سبق تقدیر کامَیں نے مُنعِم کو دیا سرمایہ داری کا جُنوںکون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سردجس کے ہنگاموں میں ہو اِبلیس کا سوزِ دروںجس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلندکون کر سکتا ہے اُس نخلِ کُہن کو سرنِگُوں!

پہلا مُشیراس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ اِبلیسی نظامپُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوامہے اَزل سے ان غریبوں کے مقدّر میں سجودان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیامآرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیںہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خامیہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آجصوفی و مُلّا مُلوکیّت کے بندے ہیں تمامطبعِ مشرق کے لیے موزُوں یہی افیون تھیورنہ ’قوّالی‘ سے کچھ کم تر نہیں ’علمِ کلام‘!ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیاکُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیامکس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟’ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماںپر حرام!

دُوسرا مُشیرخیر ہے سُلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شرتُو جہاں کے تازہ فِتنوں سے نہیں ہے با خبر!

پہلا مُشیرہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھےجو ملوکیّت کا اک پردہ ہو، کیا اُس سے خطر!ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہُوری لباسجب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگرکاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہےیہ وجودِ مِیر و سُلطاں پر نہیں ہے منحصَرمجلسِ ملّت ہو یا پرویز کا دربار ہوہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظرتُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظامچہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

تیسرا مُشیرروحِ سُلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطرابہے مگر کیا اُس یہُودی کی شرارت کا جواب؟وہ کلیمِ بے تجلّی، وہ مسیحِ بے صلیبنیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتابکیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوزمشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب!اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فسادتوڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!

چوتھا مُشیرتوڑ اس کا رومۃُالکُبریٰ کے ایوانوں میں دیکھآلِ سیزر کو دِکھایا ہم نے پھر سیزر کا خوابکون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لِپٹا ہُوا’گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب‘

تیسرا مُشیرمَیں تو اُس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیںجس نے افرنگی سیاست کو کِیا یوں بے حجاب

پانچواں مُشیر( اِبلیس کو مخاطَب کرکے)اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم اُستوار!تُو نے جب چاہا، کِیا ہر پردگی کو آشکارآبِ و گِل تیری حرارت سے جہانِ سوز و سازابلہِ جنّت تری تعلیم سے دانائے کارتجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیںسادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگارکام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طوافتیری غیرت سے ابَد تک سرنِگون و شرمسارگرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحِر تماماب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتباروہ یہودی فِتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروزہر قبا ہونے کو ہے اس کے جُنوں سے تار تارزاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغکتنی سُرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگارچھا گئی آشُفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پرجس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مُشتِ غبارفِتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آجکانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جُوئبارمیرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہےجس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

اِبلیس( اپنے مُشیروں سے)ہے مرے دستِ تصرّف میں جہانِ رنگ و بوکیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمانِ تُو بتُودیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرقمَیں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہُوکیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخسب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُوکارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسےتوڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاکمزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفوکب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گردیہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشُفتہ مُوہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہےجس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزوخال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہکرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُوجانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہےمزدکِیّت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

جانتا ہُوں میں یہ اُمّت حاملِ قُرآں نہیںہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیںجانتا ہُوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میںبے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیںعصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوفہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیںالحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذَرحافظِ نامُوسِ زن، مرد آزما، مرد آفریںموت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیےنے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشیںکرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صافمُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیںاس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلابپادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوبیہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیںہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہےیہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہاتہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک راتابن مریم مر گیا یا زندۂ جاوید ہےہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جُدا یا عینِ ذات؟آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہےیا مجدّد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟ہیں کلامُ اللہ کے الفاظ حادث یا قدیماُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دَور میںیہ الٰہیات کے ترشے ہُوئے لات و منات؟تم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سےتا بساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں ماتخیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلامچھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثباتہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب ترجو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیاتہر نفَس ڈرتا ہُوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیںہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائناتمست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسےپختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارااس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخاراجس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چلوادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہماراغیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میںپہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ داراحاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کرکہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خاراافراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارامحروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاصکرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارادِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّتہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارادنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیشتہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارااللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسااِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہاراتقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتامومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارااخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘

تصویر و مُصوّر

تصویرکہا تصویر نے تصویر گر سےنمائش ہے مری تیرے ہُنر سےولیکن کس قدر نا مُنصفی ہےکہ تُو پوشیدہ ہو میری نظر سے!

مُصوّرگراں ہے چشمِ بینا دیدہ وَر پرجہاں بینی سے کیا گُزری شرَر پر!نظر، درد و غم و سوز و تب و تابتُو اے ناداں، قناعت کر خبر پر

تصویرخبر، عقل و خِرد کی ناتوانینظر، دل کی حیاتِ جاودانینہیں ہے اس زمانے کی تگ و تازسزاوارِ حدیثِ ’لن ترانی‘

مُصوّرتو ہے میرے کمالاتِ ہُنر سےنہ ہو نومید اپنے نقش گر سےمرے دیدار کی ہے اک یہی شرطکہ تُو پِنہاں نہ ہو اپنی نظر سے

عالمِ بَرزخ

مُردہ اپنی قبر سےکیا شے ہے، کس امروز کا فردا ہے قیامتاے میرے شبستاںِ کُہن! کیا ہے قیامت؟

قبراے مُردۂ صد سالہ! تجھے کیا نہیں معلوم؟ہر موت کا پوشیدہ تقاضا ہے قیامت!

مُردہجس موت کا پوشیدہ تقاضا ہے قیامتاُس موت کے پھندے میں گرفتار نہیں مَیںہر چند کہ ہوں مُردۂ صد سالہ ولیکنظُلمت کدۂ خاک سے بیزار نہیں مَیںہو رُوح پھر اک بار سوارِ بدنِ زارایسی ہے قیامت تو خریدار نہیں میں

صدائے غیبنے نصیبِ مار و کژدُم، نے نصیبِ دام و دَدہے فقط محکوم قوموں کے لیے مرگِ ابَدبانگِ اسرافیل اُن کو زندہ کر سکتی نہیںرُوح سے تھا زندگی میں بھی تہی جن کا جسَدمر کے جی اُٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کامگرچہ ہر ذی رُوح کی منزل ہے آغوشِ لَحد

قبر( اپنے مُردے سے)آہ، ظالم! تُو جہاں میں بندۂ محکوم تھامَیں نہ سمجھی تھی کہ ہے کیوں خاک میری سوز ناکتیری مَیّت سے مری تاریکیاں تاریک ترتیری مَیّت سے زمیں کا پردۂ نامُوس چاکالحذَر، محکوم کی مَیّت سے سو بار الحذَراے سرافیل! اے خدائے کائنات! اے جانِ پاک!

صدائے غیبگرچہ برہم ہے قیامت سے نظامِ ہست و بودہیں اسی آشوب سے بے پردہ اسرارِ وجودزلزلے سے کوہ و دَر اُڑتے ہیں مانندِ سحابزلزلے سے وادیوں میں تازہ چشموں کی نمودہر نئی تعمیر کو لازم ہے تخریبِ تمامہے اسی میں مشکلاتِ زندگانی کی کشود

زمینآہ یہ مرگِ دوام، آہ یہ رزمِ حیاتختم بھی ہوگی کبھی کشمکشِ کائنات!عقل کو ملتی نہیں اپنے بُتوں سے نجاتعارف و عامی تمام بندۂ لات و مناتخوار ہُوا کس قدر آدمِ یزداں صفاتقلب و نظر پر گراں ایسے جہاں کا ثباتکیوں نہیں ہوتی سحَر حضرتِ انساں کی رات؟

معزول شہنشاہ

ہو مبارک اُس شہنشاہِ نِکو فرجام کوجس کی قربانی سے اسرار ملوکیّت ہیں فاش’شاہ‘ ہے برطانوی مندر میں اک مٹّی کا بُتجس کو کر سکتے ہیں، جب چاہیں پُجاری پاش پاشہے یہ مُشک آمیز افیوں ہم غلاموں کے لیےساحرِ انگلیس! مارا خواجۂ دیگر تراش

دوزخی کی مُناجات

اس دیرِ کُہن میں ہیں غرض مند پُجاریرنجیدہ بُتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یادپوجا بھی ہے بے سُود، نمازیں بھی ہیں بے سُودقسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریادہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوسہر شہر حقیقت میں ہے ویرانۂ آبادتیشے کی کوئی گردشِ تقدیر تو دیکھےسیراب ہے پرویز، جِگر تَشنہ ہے فرہادیہ عِلم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارتجو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ مُلوکانہ کی ایجاداللہ! ترا شکر کہ یہ خطّۂ پُر سوزسوداگرِ یورپ کی غلامی سے ہے آزاد!

مسعود مرحوم

یہ مہر و مہ، یہ ستارے یہ آسمانِ کبودکسے خبر کہ یہ عالم عدَم ہے یا کہ وجودخیالِ جادہ و منزل فسانہ و افسوںکہ زندگی ہے سراپا رحیلِ بے مقصودرہی نہ آہ، زمانے کے ہاتھ سے باقیوہ یادگارِ کمالاتِ احمد و محمودزوالِ علم و ہُنر مرگِ ناگہاں اُس کیوہ کارواں کا متاعِ گراں بہا مسعود!مجھے رُلاتی ہے اہلِ جہاں کی بیدردیفغانِ مُرغِ سحَر خواں کو جانتے ہیں سرودنہ کہہ کہ صبر میں پِنہاں ہے چارۂ غمِ دوستنہ کہہ کہ صبر معمّائے موت کی ہے کشود“دلے کہ عاشق و صابر بود مگر سنگ استز عشق تا بہ صبوری ہزار فرسنگ است”(سعدؔیؒ)

نہ مجھ سے پُوچھ کہ عمرِ گریز پا کیا ہےکسے خبر کہ یہ نیرنگ و سیمیا کیا ہےہُوا جو خاک سے پیدا، وہ خاک میں مستورمگر یہ غَیبتِ صغریٰ ہے یا فنا، کیا ہے!غبار راہ کو بخشا گیا ہے ذوقِ جمالخِرد بتا نہیں سکتی کہ مُدّعا کیا ہےدِل و نظر بھی اسی آب و گِل کے ہیں اعجازنہیں تو حضرتِ انساں کی انتہا کیا ہے؟جہاں کی رُوحِ رواں ’لا اِلٰہَ اِلّا ھُوْ،مسیح و میخ و چلیپا، یہ ماجرا کیا ہے!قصاص خُونِ تمنّا کا مانگیے کس سےگُناہ گار ہے کون، اور خُوں بہا کیا ہےغمیں مشو کہ بہ بندِ جہاں گرفتاریمطلسم ہا شکنَد آں دلے کہ ما داریم

خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقامِ حیاتکہ عشق موت سے کرتا ہے امتحانِ ثباتخودی ہے زندہ تو دریا ہے بے کرانہ تراترے فراق میں مُضطر ہے موجِ نیل و فراتخودی ہے مُردہ تو مانندِ کاہ پیشِ نسیمخودی ہے زندہ تو سلطانِ جملہ موجوداتنگاہ ایک تجلّی سے ہے اگر محرومدو صد ہزار تجلّی تلافیِ مافاتمقام بندۂ مومن کا ہے ورائے سپہرزمیں سے تا بہ ثُریّا تمام لات و مناتحریمِ ذات ہے اس کا نشیمنِ ابدینہ تِیرہ خاکِ لحدَ ہے، نہ جلوہ گاہِ صفاتخود آگہاں کہ ازیں خاک داں بروں جَستندطلسمِ مہر و سِپہر و ستارہ بشکستند

آوازِ غیب

آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سےکھویا گیا کس طرح ترا جوہرِ ادراک!کس طرح ہُوا کُند ترا نشترِ تحقیقہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروںکے جگر چاکتُو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوارکیا شُعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاکمِہر و مہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوںکیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاکاب تک ہے رواں گرچہ لہُو تیری رگوں میںنے گرمیِ افکار، نہ اندیشۂ بے باکروشن تو وہ ہوتی ہے، جہاں بیں نہیں ہوتیجس آنکھ کے پردوں میں نہیں ہے نگَہِ پاکباقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیریاے کُشتۂ سُلطانی و مُلّائی و پیری!